ہمارے دل کی حالت
آج ہمارے گھروں میں ضروریات زندگی کی ہر چیز میسر ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں کے اندر بھی اتنا ہی کینہ اور بغض بڑھ گیا ہے۔
ہمارے بچے گھر اتنا گندہ نہیں کرتے جتنا گند ہمارے دلوں میں بدگمانیوں کی وجہ سے ہوجاتا ہے۔
ہمارے گھر میں مشینیں اتنی جلدی خراب نہیں ہوتیں جتنا کہ ہمارا دل ایک دوسرے کے خلاف خراب ہوجاتاہے۔
جو بغض ،حسد یا کینہ ہمارے دلوں میں دوسروں کے خلاف ہے،اگر وہ سامنے نظر آجاۓ،تو ہم ایک دوسرے کا چہرہ نہ دیکھ پاٸیں۔
آنحضرت کے دور میں سادہ
زندگی،سادہ گھر اور دل اخلاص سے بھرپور تھے۔
دل کو کیسے صاف کریں؟
️دل کو صاف حلال ،پاکیزہ اور ضرورت کے مطابق اشیإ زندگی کے استعمال سے کیجے۔
️بلاوجہ اپنے دلوں کو دنیاوی مصروفیات میں مت الجھاٸیے۔
️sharing is caring
کا تعلق
رکھیے ۔ہمارے صحابہ اکرام ؓ اور اسلافؒ کی زندگیاں ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہیں کہ کیسے انہوں نے محدود وساٸل کے ساتھ اخلاص کے ساتھ زندگی بسر کی۔
️شیطان ہمارا بدترین دشمن ہے۔اس کے وار سے خود کو حتی الامکان بچاٸیں اللہ کی یاد سے اور ازکارسے۔
بلا ضرورت تبصروں سے گریز کریں۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ
خاموشی عین عبادت ہے
️دل کو اللہ کی یاد کی جگہ بناٸیں۔شیاطین اور شیطانی خواہشات کو باہر نکالیں تاکہ فرشتوں کی آمدورفت ہوسکے۔
️کسی دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر اس کو برکت کی دعا دیں۔
اپنا محاسبہ کیجے کیا میں دوسروں کی نعمت پر انکو برکت کی دعا دیتی ہوں؟
دلوں میں وسعت پیدا کیجے۔
️کسی بھی couple کو ایک ساتھ دیکھ کر ان کے لیے اللہ کے فرمانبردار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری کی بھی دعا کیجے۔
کسی کو حقیر نہ جانیۓ کہ یہ فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالی کے اختیار میں ہے کہ اس کی نظر میں کون کہاں کھڑا ہے۔
️کسی کو رستے سے بھٹکا ہوا دیکھیں تو اس کے لیے ہداہت کی دعا کیجے۔
direct attack
کرکے اس کو دین سے مزید متنفر نہ کریں۔
رات کو سونے سے پہلٕے جیسے برش وغیرہ کرتے اور بستر جھاڑتے ہیں ویسے ہی اپنے دلوں کو صاف اور دوسروں کو معاف کرکے سویا کریں۔
اپنی نیکی اور دوسرے کے گناہ کو بہت بڑا سمجھنا چھوڑ دیں ،کہیں روز محشر ہماری عبادات ہمارے منہ پر نہ ماردی جاٸیں۔
دل میں کینہ ہو تو تمام عبادات ضاٸع ہوجاتی ہیں اور جس کے خلاف کینہ ہو اس کے کھاتے میں روز محشر تمام عبادات ڈال دی جاٸیں گے۔
صاف دل والے روز محشر
آخرت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہونگے۔
ان شإ اللہ
