Aitekaaf ki qaza


 *معتکفین حضرات متوجہ ہوں!*

بعض معتکفین حضرات کا سنت اعتکاف کسی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ذمے اس اعتکاف کی قضا لازم ہوجاتی ہے، چوں کہ ماہ رمضان کے آخری ایام ہیں اس لیے ان میں قضا اعتکاف کی ترتیب بنالی جائے تاکہ اعتکاف کا ذمہ باقی نہ رہے۔ ذیل میں قضا اعتکاف سے متعلق چند مسائل ذکر کیے جاتے ہیں۔

 *اعتکاف کی قضا کا حکم اور طریقہ:*
سنت اعتکاف جب ٹوٹ جائے چاہے جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے تو اس کی قضا لازم ہوتی ہے۔
قضا اعتکاف کے لیے روزہ بھی ضروری ہے، اس لیے اگر ماہِ رمضان ہی میں قضا کرنی ہے تو اس صورت میں تو روزہ ہوتا ہی ہے اور اگر رمضان کے علاوہ دیگر دنوں میں اعتکاف کی قضا کرنی ہے تو اس کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے۔
 رمضان کا سنت اعتکاف جب بھی ٹوٹ جائے تو صرف ایک دن کی قضا لازم ہوتی ہے۔
اگر اعتکاف صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے کے درمیان کسی وقت ٹوٹا ہو تو اس صورت میں صرف دن کی قضا لازم ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ صبح صادق کا وقت داخل ہونے سے پہلے قضا اعتکاف کی نیت سے مسجد آجائے، پھر جب سورج غروب ہوجائے تو یہ قضا اعتکاف پورا ہوجاتا ہے۔ اور اگر سورج غروب ہونے سے لے کر صبح صادق تک کسی وقت ٹوٹا ہے تو اس کی قضا کا طریقہ یہ ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے قضا اعتکاف کی نیت سے مسجد آجائے، اور اگلے دن جب سورج غروب ہوجائے تو اس اعتکاف کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (احکامِ اعتکاف از شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دام ظلہم)
وہ حضرات جن کا اعتکاف ٹوٹ جائے اور رمضان کے ایام ابھی باقی ہوں تو وہ گھر جاسکتے ہیں، لیکن اگر وہ گھر نہ جانا چاہیں بلکہ اعتکاف کی نیت سے مسجد ہی میں رہنا چاہیں تو ان کا یہ اعتکاف نفلی کہلائے گا، ان کے ذمّے سنت اعتکاف کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی، البتہ انہیں چاہیے کہ وہ اسی رمضان میں اس اعتکاف کی قضا کرلیں، لیکن اگر وہ فی الحال قضا نہ کرنا چاہے تو بعد میں قضا کرلے، جس کا طریقہ اوپر بیان ہوچکا۔

*وضاحت:* مذکورہ احکام مردوں اور خواتین دونوں کے لیے ہیں البتہ خواتین کا اعتکاف چوں کہ گھر کی مسجد میں ہوتا ہے اسی لیے ان کے اعتکاف کی قضا بھی گھر کی مسجد ہی میں ہوگی۔

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form