🌹بِسْـــــــــمِ ﷲِالرَّحْمنِ الرَّحِيم🌹
*دنیا کی سب سے بـڑی بـحـری جنگ*
➖▪️••••➖🚀➖••••▪️➖
تحریر : خاور نیازی
اس روئے زمین پر جب سے انسانی معاشرہ تشکیل پایا ہے انسانوں میں چھوٹی چھوٹی لڑائیاں جھگڑے ہوتے آئے ہیں۔وقت بدلتا چلا گیا
او ر چھوٹی چھوٹی ان لڑائیوں نے ہوس زر اور ہوس اقتدار تک رسائی حاصل کر لی۔
یہ وہ دور تھا جب اس روئے زمین پر سرحدوں کا تصور نہیں تھا لیکن جونہی معاشرے کی تقسیم میں سرحدوں کی لکیر کھنچی تو ان چھوٹی چھوٹی لڑائیوں نے جنگوں کی شکل اختیار کر لی۔
زمانہ قدیم میں جنگیں زمین کیلئے زمین پر ہی ہوا کرتی تھیں۔ رفتہ رفتہ انسان نے ترقی کی تو یہ جنگیں پانی پر بھی ہونا شروع ہوئیں اور جب زمانے نے اور ترقی کی تو یہ جنگیں فضا میں بھی ہونے لگیں۔اب ملکوں نے اکیلے لڑنے کی بجائے اپنے ساتھی ملکوں کو بھی ساتھ شامل کرنا شروع کر دیا اور یوں یہ لڑائیاں انفرادی کی بجائے اجتماعی طور پر لڑی جانے لگیں۔ آج میں آپ کو اس جنگ عظیم دوئم کی بحری جنگ کا ایک واقعہ سنانے لگا ہوں جسے آج تک کی '' دنیا کی سب بڑی بحری جنگ ‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ 23 اکتوبر 1944ء کا دن تھا جب بحیرہ فلپائن کے ساتھ خلیج لیٹی میں امریکہ اور جاپان کا ٹکراؤ ہوا۔( یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس جنگ سے چار سال قبل جاپان نے فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا)۔ یہ صرف اس لئے ہی دنیا میں آج تک لڑی گئی سب سے بڑی بحری جنگ نہ تھی کہ اپنے وقتوں کی دو سب سے بڑی طاقتوں کے درمیان لڑی گئی جنگ تھی بلکہ یہ سب سے بڑی جنگ یوں تھی کہ اس میں 300 سے زیادہ امریکی بحری جنگی جہازوں کا مقابلہ 70 جاپانی بحری جنگی جہازوں سے تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ امریکیوں کے پاس 34 طیارہ بردار بحری جہاز اس کے علاوہ تھے جن پر لگ بھگ 1500 جنگی مشاق طیارے بھی موجود تھے۔ جنگی سازوسامان کی تعداد کے تناسب سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور پانچ کا تناسب تھا۔
یہ جنگ عملاً دو بڑے بحری محاذوں،خلیج لیٹی اور جزیرہ سمرہ کے قریب لڑی گئی تھی اور اس جنگ کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ کسی وقت بڑے امریکی بیڑے کا مقابلہ چھوٹے جاپانی بیڑے سے ہو جاتا اور کسی وقت ایک چھوٹے امریکی بحری بیڑے کا مقابلہ ایک بڑے جاپانی بیڑے سے ہو جاتا۔یہاں اپنے وقت کی ان دونوں بڑی طاقتوں کا اپنے تئیں یہ دعویٰ تھا کہ ان کے جنگی ہتھیار دشمن کے مقابلے میں جدید ہیں اور ان کی جنگی حکمت عملی دوسرے سے زیادہ بہتر ہے۔ اسی لئے یہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے برسر پیکار تھے۔
اب عملی طور پر یہ جنگ جزیرہ سمرہ اور خلیج لیٹی میں لڑی جا رہی تھی۔دونوں ملکوں نے مختلف حکمت عملیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جنگی چالیں استعمال کرنا شروع کی ہوئی تھیں۔ اگرچہ اس جنگ میں امریکی جنگی بیڑوں کی تعدادجاپان کے مقابلے میں زیادہ تھی لیکن جزیرہ سمرہ پر لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ نے نسبتاً چھوٹا جنگی بیڑہ جاپان کے مدمقابل بھیجا تھا۔جہاں تک جنگی تکنیک کا معاملہ تھا بیشتر محاذوں پر جاپان کو کم نفری کے باوجود امریکہ پر سبقت حاصل تھی۔چنانچہ جزیرہ سمرہ میں امریکہ نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت ایک چھوٹا بحری بیڑا روانہ کیا تھاجبکہ جاپا نی بیڑا امریکہ کے مقابلے میں بہتر ہتھیاروں سے لیس تھا۔چنانچہ امریکہ کو شروع ہی سے سخت مزاحمت کاسامنا رہالیکن جلد ہی امریکی فورسز نے حالات سنبھالنا شروع کئے اور اس چھوٹے امریکی بیڑے نے سخت مشکلات میں بھی جاپان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔یہاں تک کہ اس چھوٹے امریکی بحری بیڑے نے ایک بھرپور وار کر کے جاپانی کمانڈر وائس ایڈمرل تاکیو کریتا کو اپنے بیڑے کارخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا کیونکہ امریکہ کی بھر پور مزاحمت سے لگ رہا تھا جیسے امریکہ کے کسی بہت بڑے بیڑے نے حملہ کر دیا ہے۔
دراصل امریکی جنگی حکمت عملی ہی کچھ ایسی تھی اور وہ جاپانی جنگی جہازوں کے با لکل قریب آ گئے۔جبکہ جاپان نے مقابلے کیلئے لمبی رینج والی توپیں نصب کر رکھی تھیں تاکہ امریکہ کی مزاحمت کو دور سے ہی روکا جائے لیکن اس حکمت عملی کا امریکہ کو یہ فائدہ ہوا کہ جاپانی لمبی رینج والی توپیں دھری کی دھری رہ گئیں۔اس جنگ میں جاپان کے تقریبا ً 30 بحری جہاز ڈوب گئے تھے جبکہ جاپان کے سب سے بڑے اور جدید جنگی جہاز ''یاماتو ‘‘ کو اتنا نقصان ہوا کہ وہ عملا ً ناکارہ ہو کر بندر گاہ تک ہی محدود ہو گیا۔دوسری طرف امریکی بحری بیڑے کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا کیونکہ امریکی مزاحمت کے دوران پانچ امریکی بحری جہاز بھی جاپانی بحریہ کے ہاتھوں تباہ کر دئیے گئے تھے۔
اس جنگ کے اختتام پر مبصرین نے جو جائزے پیش کئے ان کے مطابق یہ جنگ نتائج کے اعتبار سے یوں خلاف توقع تھی کہ ایک طرف تو جاپان جسے اپنی جدید بحری قوت پر گھمنڈ تھا فلپائن پر امریکی حملے کو روک نہ سکا اور امریکہ نے عملا ً جاپان کی بحریہ کو ناکارہ کردیا جبکہ دوسری جانب امریکہ کے اس جدید ترین دیوہیکل بحری جہاز '' یو ایس ایس جانسٹن ‘‘ کو جاپانی بحری جہاز '' یاماتو ‘‘ نے سمندر برد کر دیا جس پر امریکہ کو بہت گھمنڈ تھا۔صرف یہی نہیں بلکہ جاپان کے '' یاماتو ‘‘ بحری جہاز کے حملے کے دوران امریکی جہاز یو ایس ایس جانسٹن پر سوار 327 اہلکاروں میں سے 186 ارکان جان بچاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔
اس جنگ کی جو سب سے دلچسپ بات تھی وہ دو بڑی قوتوں کے جدید ترین بحری جہازوں ''یاماتو ‘‘اور ''جانسٹن‘‘ کے درمیان ٹکراؤ تھا۔جہاں امریکہ نے جاپان کے ''یاماتو‘‘ کو بے بس کردیا وہیں دوسری طرف جاپان نے امریکہ کے یو ایس ایس ''جانسٹن‘‘ کو سمندر برد ہونے پر مجبور کر دیالیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ ''جانسٹن‘‘ جہاز عام جہازوں کے برعکس کسی قریبی ساحل کے ارد گرد ڈوبنے کی بجائے سمندر کی گہری ترین جگہوں میں سے ایک گہری جگہ پر انتہائی تیزی سے ڈوبتا چلا گیا۔ماہرین کے مطابق سمر جزیرہ، جہاں یہ معرکہ وقوع پزیر ہوا وہ وسیع سمندری وادی کے کنارے پر واقع ہے جو '' فلپائن خندق ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ جزیرہ فلپائن اور انڈونیشیا کے ساحل کے ساتھ تقریبا ً 1300 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔سمندری علوم کے ماہرین کے مطابق یہ جگہ انتہائی گہری ہے۔اس کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگر ماؤنٹ ایورسٹ کو فلپائن خندق کے سب سے گہرے مقام ''گالتھیا ڈیپتھ ‘‘ پر رکھیں تو اس کی چوٹی پھر بھی دوکلومیٹر پانی کے اندر ہو گی۔
شروع میں یو ایس ایس ''جانسٹن‘‘ کی باقیات نہ ملنے کی وجہ سے ہی یہ فرض کیا جاتا رہا کہ یہ کسی گہرے مقام میں غرق ہو گیا ہو گامگر حال ہی میں امریکی بحریہ کے ایک سابق افسر ویسکووو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ 78 سال پہلے ڈوبے ہوئے اس بحری جہاز کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ اس نے تباہ شدہ جہاز کی تصاویر بھی لوگوں کے ساتھ شئیر کیں۔
*◈❂•┈•⊰••✿🌻✿••⊱•┈•❂◈*
```ایک بار درود شریف پڑھ لیجئے```
*جَـزَی اللّٰهُ عَـنَّـا مُحَـمَّـداً مَّاھُـوَ اَھٌـلُـہٗ*
*︗︗•︗︗•••🌹•••︗︗•︗︗*
Tags
Islamic Stories
