Son should be like what


* سبق آموز تحریر *

* بیٹے کو کیسا ہونا چاہیئے۔*
اِسلامی تعلیمات سے دور مُعاشَرے جن اَخلاقی پستیوں کا شکار ہیں، ان میں سے ایک ماں باپ کی قدر و تعظیم کا فُقدان بھی ہے۔

پیدا ہوتے ہی بیٹے کے ڈاکٹر، انجینیئر، سرکاری آفیسر وغیرہ بننے کے خیالات اور خواب دیکھنے والے ماں باپ اُس وقت قابلِ رحم ہوتے ہیں، جب ان کے پڑھے لکھے (Well Educated) کہلانے والے بیٹے انہیں ایک کمرے تک محدود رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں، یا پھر اولڈ ہاؤس کی زینت بنا دیتے ہیں۔

توتلی زبان میں آدھی آدھی باتیں کرنے والے بیٹے کی ساری باتیں سمجھ لینے والے ماں باپ جب بڑھاپے میں "آپ چپ رہیں، آپ کو کیا پتا؟" جیسے جملے سنتے ہیں، تو ان کا دل کہتا ہے: ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

قرضداری، تنگ دستی، بےروزگاری جیسی نجانے کتنی آزمائشوں کا سامنا کر کے ایک سے زائد بچوں کی یکساں پرورش کرنے والے ماں باپ کو جب بڑھاپے میں دو وقت کھانا بھی مانگنے پر ملتا ہے تب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

دُنیوی ترقی کی دلدادہ اکثریت اپنے بیٹوں کو فقط دنیا سکھاتی اور علمِ دین سے دُور رکھتی ہے، انہی ماں باپ کو جب بڑھاپے میں یہ بیٹے اپنے لئے بوجھ اور سنبھالنا مصیبت سمجھتے ہیں تو یہی ماں باپ کہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

بیٹے کو علمِ دین سکھایا ہوتا، عالِم بنایا ہوتا تو ماں باپ کو شاید ایسا نہ کہنا پڑتا۔

آخر "بیٹے کو کیسا ہونا چاہئے؟" آئیے اس سوال کا جواب اسلام سے پوچھتے ہیں۔ اسلام نے اچھے بیٹے کی جو خوبیاں اور ذمہ داریاں بیان کی ہیں ان میں سے چند ملاحطہ فرمائیے، چنانچہ

بیٹے کو ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک اور نہایت نرمی سے پیش آنے والا، بوڑھے ماں باپ کو جھڑکنا اور غُصّہ دکھانا تو درکنار اُف تک نہ کہنے والا، شفقت و مہربانی کرتے ہوئے ان کے سامنے عاجزی کرنے والا اور اُن کے لئے اللہ ربُّ الْعِزَّت کی بارگاہ سے رحمت طلب کرنے والا ہونا چاہئے۔
(ماخوذ اَز: قرآن کریم، سورۃ بنی اسرائیل: 23 تا 24)

بیٹے کو ماں باپ کی خدمت کے دوران پیش آنے والی ہر طرح کی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے والا ہونا چاہئے، جیسا کہ ایک صَحابی نے اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھائے، سخت گرم پتھروں والے رستے پر چلتے ہوئے چھ میل کا سفر طے کیا، وہ پتھر اتنے گرم تھے کہ اگر گوشت کا ٹکڑا اُن پر ڈالا جاتا تو کباب ہو جاتا۔
(معجمِ صغیر، ج1، ص92، حدیث: 257، ملخصاً)

بیٹے کو دن رات کی پرواہ کئے بغیر والدین کی خدمت مصروف رہنے والا ہونا چاہئے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ سخت سرد رات میں ماں کے لئے پانی کا پیالہ لئے ساری رات کھڑے رہے، یہاں تک کہ پانی بہہ کر انگلی پر جم گیا اور برتن انگلی سے چمٹ گیا، جب چھڑایا تو انگلی سے جِلد اکھڑنے پر خون بہہ نکلا۔
(نزہۃ المجالس، ج1، ص261، ملخصاً)

بیٹے کو ماں باپ کی ہر ناگوار بات و ناروا سلوک پر صبر کرنے والا اور ہر حال میں ماں باپ کو راضی رکھنے کی کوشش کرنے والا ہونا چاہئے، جیسا کہ ایک بار رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے اِس حال میں شام کی کہ ماں باپ کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے اُس کے لئے صبح ہی کو جہنَّم کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں تو ایک شخص نے عرض کیا: اگرچِہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں۔ فرمایا: اگرچِہ ظلم کریں، اگرچِہ ظلم کریں، اگرچِہ ظلم کریں۔
(شُعَبُ الایمان، ج6، ص206، حدیث: 7916)

بیٹے کو ماں باپ کی وفات کے بعد بھی اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت، ان کے قرض کی ادائیگی اور اُن کی قسمیں پوری کرنے میں کوشش کرنے والا ہونا چاہئے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص اپنے والِدَین کے (انتِقال کے) بعد ان کی قسم سچّی کرے اور ان کا قَرض اُتارے اور کسی کے ماں باپ کو بُرا کہہ کر انہیں بُرا نہ کہلوائے وہ والِدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھا جائے گا اگرچِہ (ان کی زندگی میں) ”نافرمان“ تھا۔
(معجمِ اَوْسَط، ج4، ص232، حدیث: 5819)

بیٹے کو خدمت و ضرورت کی وجہ سے بلانے پر فوراً ماں باپ کے پاس حاضر ہو جانا چاہئے یہاں تک کہ اگر پردیس میں ہو تب بھی، چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: یہ (یعنی بیٹا) پردیس میں ہے، والِدَین اِسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط لکھنا کافی نہیں ہے۔ والِدَین کو اِس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔
(بہارِ شریعت، ج3، ص559)

اللہ تعالیٰ ہر بیٹے کو اِسلامی اوصاف والا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form