سیرت النبی ﷺ
( قسط نمبر 2
)
==========================
اس دور میں عرب کی ایک مشہور ہستی کا
نام تھا قُصَیّ بن کلاب. ایک روایت کے مطابق قُصَیّ بن کلاب کا لقب قریش تھا جس کی
وجہ سے ان کی آل اولاد کو قریشی کہا جانے لگا جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق قُصَیّ
بن کلاب سے چھ پشت پہلے بنی اسمائیل میں "فہر بن مالک" ایک بزرگ تھے جن
کا لقب قریش تھا..
قُصَیّ بن کِلاب بن مُرَّة بن کَعْب مکہ
میں قریش کے پیشوا تھے۔ انہوں نے مکہ کوخزاعہ کے تسلط سے آزاد کرایا اور قریش کو
ذلت کے بعد شرافت بخشی۔ کنواں کھودنا، بیت اللہ الحرام کے زائرین کو خدمت رسانی اور
کعبہ کی تعمیر نو ان کی نمایاں خدمات ہیں.
خانہ کعبہ کی تولیت ایک ایسا شرف تھا جس
کی وجہ قُصَیّ بن کلاب اور ان کی اولاد کو نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرہ نما عرب میں
ایک خصوصی عزت و سیادت حاصل ہوگئی تھی اور پھر اس قریش (آل قصی بن کلاب) نے خود کو
اس کے قابل ثابت بھی کیا..
قصی بن کلاب نے نہ صرف خانہ کعبہ کا
جملہ انتظام و انصرام کا بندوبست کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مکہ کو باقائدہ ایک ریاست
کا روپ دے کر چھ مختلف شعبے قائم کئے اور انہیں قابل لوگوں میں تقسیم کیا جسے ان کی
وفات کے بعد ان کے پوتوں نے باہمی افہام و تفہیم سے چھ شعبوں سے بڑھا کر دس شعبوں
میں تقسیم کرکے آپس میں بانٹ لیا اور یہی نظام بعث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تک بڑی کامیابی سے چلایا گیا..
اس تقسیم کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے جد امجد حضرت ہاشم کو سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانے کا کام) , عمارۃ
البیت (حرم میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور احترام حرم کا خیال رکھنا) اور افاضہ (حج
کی قیادت کرنا) کی خدمات سونپی گئی جو ان کے بعد بنو ہاشم کے خاندان میں نسل در
نسل چلتی رہیں..
حضرت ہاشم بن عبد مناف قصی بن کلاب کے
پوتے تھے.. نہایت ہی جلیل القدر بزرگ تھے.. انہوں نے شاہ حبشہ اور قیصر روم سے بھی
اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرلئے تھے جبکہ مختلف قبائل عرب سے بھی معاہدات
کرلئے.. ان کے اس طریقۀ کار اور کارناموں کی وجہ سے قریش کے باقی قبائل میں بنو
ہاشم کو ایک خصوصی عزت و احترام کا مقام حاصل ہوگیا تھا..
ان کے علاوہ میدان جنگ میں فوج کی قیادت
اور علم برداری کا شعبہ خاندان بنو امیہ کے حصے میں آیا.. لشکر قریش کا سپہ سالار
بنو امیہ سے ہی ہوتا تھا چنانچہ "حرب" جو حضرت ہاشم کے بھتیجے امیہ کے بیٹے
تھے، ان کو اور انکے بیٹے حضرت ابوسفیان کو اسی وجہ سے قریش کے لشکر کی قیادت سونپی
جاتی تھی..
جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے
قبیلے بنو تمیم بن مرہ کو اشناق یعنی دیوانی و فوجداری عدالت، دیت و جرمانے کی
وصولی اور تعین کی ذمہ داری سونپی گئی..
اس کے علاوہ شعبہ سفارت حضرت عمر فاروق
رضی اللہ کے قبیلہ بنو عدی کے حصے میں آیا.. ان کا کام دوسرے قبائل کے ساتھ
مذاکرات , معاہدات اور سفارت کاری تھا..
بنو مخزوم جو حضرت خالد بن ولید رضی
اللہ عنہ کا قبیلہ تھا.. ان کے حصے میں "قبہ و اعنہ" کا شعبہ آیا.. ان
کا کام قومی ضروریات کے لئے مال و اسباب اکٹھا کرنا اور فوجی سازو سامان اور
گھوڑوں کی فراہمی تھا.. قریش کے گھڑسوار دستے کا کمانڈر بھی اسی قبیلے سے ہوتا
تھا.. اپنا وقت آنے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مدتوں شہہ سوار دستوں کی
کمان نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالی..
اسی طرح باقی پانچ شعبوں کی ذمہ داری
مختلف قبائل قریش کے حوالے کردی گئی..
============(باقی آئندہ ان
شآءاللہ)
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس
کاندہلوی..
الرحیق المختوم اردو.. مولانا صفی
الرحمن مبارکپوری..