بسم اللہ الرحمٰن الرّحیم
سیرت النبیﷺ
( قسط نمبر 1
)
==========================
آج سے سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے لیکن آپ ﷺ کی سیرت پاک کے تذکرہ سے
پہلے بہت ضروری ہے کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے
روشناس کرایا جاۓ تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپﷺ کی پیدائش کے وقت
عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے..
ملک عرب ایک جزیرہ نما ھے جس کے جنوب میں بحیرہ عرب , مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان , مغرب میں بحیرہ قلزم ہے.. تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ہے.. مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد بے آب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ہے جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ہیں.. طبعی لحاظ سے اس ملک کے حصے یہ ہیں
..1۔ یمن
:
یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رہا
ہے جس کو پرامن ہونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا.. آب و ہوا معتدل ہے اور اسکے
پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ہیں جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ہوتے ہیں..
قوم "سبا" کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند
(ڈیم) بناۓ جن میں "مارب" نام کا مشھور بند بھی تھا.. اس قوم کی نافرمانی
کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی
وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ہوگئی..
2۔ حجاز
:
یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقغ
ھے.. حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ہے جسے اللہ نے نور ہدایت کی شمع فروزاں کرنے کے لئے
منتخب کیا.. اس خطہ کا مرکزی شہر مکہ مکرمہ ہے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں
پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ہے.. حجاز کا دوسرا اہم شہر یثرب ہے جو بعد میں مدینۃ
النبیﷺ کہلایا جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شہر ہے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں
اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ عرب کے ریگستان میں جنت
ارضی کی مثل ہے.. حجاز میں بدر , احد , بیر معونہ , حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی
قابل ذکر ہیں..
3۔ نجد
:
ملک عرب کا ایک اہم حصہ نجد ہے جو حجاز
کے مشرق میں ہے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت "الریاض" واقع
ہے..
4۔ حضرموت
:
یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ہے..
بظاہر ویران علاقہ ہے.. پرانے زمانے میں یہاں "ظفار" اور "شیبان"
نامی دو شہر تھے..
5۔ مشرقی ساحلی
علاقے (عرب امارات) :
ان میں عمان ' الاحساء اور بحرین کے
علاقے شامل ہیں.. یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے جبکہ آج
کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے..
6۔ وادی سیناء
:
حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج
ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ہے جہاں قوم موسیٰ علیہ سلام چالیس سال تک
صحرا نوردی کرتی رہی.. طور سیناء بھی یہیں واقع ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ سلام کو
تورات کی تختیاں دی گئیں..
نوٹ
:
ایک بات ذہن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں
آج کے سعودی عرب , یمن , بحرین , عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام , عراق اور مصر
جیسے ممالک بعد میں فتح ہوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وہاں نقل مکانی کرکے آباد
ہوئی اور نتیجةًً یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے لیکن اصل عرب علاقہ وہی ہے جو
موجودہ سعودیہ , بحرین , عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ہے اور اس جزیرہ نما کی
شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ہے..
عرب کو "عرب" کا نام کیوں دیا
گیا اس کے متعلق دو آراء ہیں۔ ایک راۓ کے مطابق عرب کے لفظی معنی "فصاحت اور
زبان آوری" کے ہیں۔ عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا
ہم پایہ اور ہم پلہ نہیں سمجھتے تھے اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی
دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے..
دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب
"عربہ" سے نکلا ہے جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ہیں.. چونکہ اس ملک
کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ہے اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا.
============(باقی آئندہ ان
شآءاللہ)
سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی..
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس
کاندہلوی..
الرحیق المختوم اردو.. مولانا صفی
الرحمن مبارکپوری..