#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
گیارھویں_قسط
وقت کے چلتے دھاروں میں۔۔
بہت سے اوقات بہہ گۓ تھے۔۔
لیکن کیا عجب تھا۔۔
کہ وہ ان اوقات میں ۔۔
اب تک زندہ تھا۔۔
جی رہا تھا۔۔ کہ وہ۔۔
ان گزرے لمحات سے نکلنے پر۔۔
قادر نہیں تھا۔۔
وہ قادر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔
کیونکہ اس نے۔۔
بھلادیا تھا۔۔ اپنی ماں کا۔۔
وہ آخری یخ سا لمس۔۔
کہ جس میں نصیحت پنہاں تھی۔۔
خود کو آگ سے بچا کر۔۔
جنت کے راستوں پر گامزن کرنے کی۔۔!
وہ گاڑی میں آ کر بیٹھی تو بے حد خاموش لگ رہی تھی۔ شزا نے یونہی گردن پھیر کر اسے دیکھ لیا۔ اسے رابیل کا چہرہ معمول سے زیادہ سنجیدہ لگ رہا تھا۔
"سب ٹھیک ہے ناں رابیل۔۔؟ معاذ بھاٸ ٹھیک ہیں۔۔؟"
اس نے چند پل تو اس کی بات کا جواب ہی نہ دیا پھر گہرا سانس لے کر پیشانی مسلی۔ اس کا انداز پچھلی والی رابیل سے اب کہ یکسر مختلف تھا۔
"وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔"
بے حد مدھم آواز میں کہا تو شزا نے ٹھٹک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ آنکھوں میں ڈھیروں فکر لیۓ شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی۔
"کیا مطلب۔۔۔؟"
"پھپھو آٸ تھیں صبح تایا کے گھر۔۔"
اور اب کے شزا بری طرح چونکی تھی۔
"وہ کیوں یہاں آٸ تھیں۔۔؟"
"کیوں آٸینگی وہ۔۔ اپنے کڑوے لفظوں سے معاذ کو اذیت دینے آٸ تھیں۔ تم جانتی ہو ناں کہ وہ حبیبہ تاٸ کو لے کر کتنا حساس ہے۔ پھپھو آٸیں اور اس کے ادھڑے زخم کو ایک بار پھر سے اپنی زبان کے کڑے بول سے ادھیڑ دیا۔ تایا بھی بہت اداس لگ رے تھے اور معاذ۔۔ اس کی تو حالت ہی مت پوچھو۔۔"
"تو تمہیں انہیں کمفرٹ کرنا چاہیۓ تھا ناں۔۔"
شزا نے اب تک چہرہ اس کی جانب پھیر رکھا تھا۔
"میں یہی کررہی تھی۔ بہت باتیں کیں میں نے اس سے۔ اسے کمفرٹ کرنے کی کوشش کی۔ پچھلی کسی بھی بات کو نہیں دہرایا لیکن پھر بھی شزا۔۔ کچھ ہے جو مجھے پریشان کررہا ہے۔"
"پریشانی کی بات تو ہے۔۔ پھپھو اب یوں اوچھے ہتھکنڈوں پر اتریں گی تو ظاہر ہے پریشان تو ہونا ہی ہے۔ ان کی عادت سے کون واقف نہیں۔"
"مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ وہ یہ سب کیوں کررہی ہیں۔۔؟ مجھ سے تو کبھی بھی انہیں اتنا لگاٶ نہیں تھا کہ میرے یوں الگ ہونے پر وہ اس طرح کی حرکتوں پر اتر آٸیں۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے وہ کیوں کررہی ہیں ایسے۔۔؟"
اس نے آخر میں استفہامیہ نگاہیں اس پر جماٸیں تو کچھ پل گاڑی میں خاموشی چھا گٸ۔ شزا کے اسٹیرنگ تھامے ہاتھوں میں جانے کیوں پسینہ آگیا تھا۔ کیا اسے ارحم کے پیغامات اور اس کی ذو معنی باتوں کے بارے میں رابیل کو بتادینا چاہیۓ۔۔؟ اوں ہوں۔۔ وہ اور پریشان ہوجاۓ گی۔
"مجھے تو کوٸ وجہ سمجھ نہیں آرہی۔۔ ہوسکتا ہے کہ تایا یا پھر معاذ بھاٸ اس وجہ سے واقف ہوں یا۔۔ یا پھر ہم بابا سے بھی بات کرسکتے ہیں اس بارے میں۔۔؟ بابا کو بتاٸیں اس سب کے بارے میں۔۔ ہوسکتا ہے کوٸ راستہ نکل آۓ۔۔"
لیکن اس نے فوراً نفی میں سر ہلا کر اس کی بات کو رد کردیا تھا۔
"بابا کو بتانے کا مطلب ہے زاہد چچا کو بتانا۔ اور ان کو بتانے کا مطلب ہے بات زرتاشہ چچی کے کان تک پہنچنا۔ جو میں بالکل بھی نہیں چاہتی۔ وہ بات سارے خاندان میں پھیلا دینگی۔۔ میں معاذ یا تایا کو مزید کسی بھی پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتی شزا۔۔ ہمیں کچھ اور سوچنا ہوگا۔۔"
شزا نے بھی اس کی نفی پر سمجھ کر سر ہلایا تھا۔ زرتاشہ چچی کو کون نہیں جانتا تھا۔ جب بھی ایسی کوٸ بات خاندان میں ہوتی تھی تو سب سے پہلے اس کی خبر چچی کے پاس آتی تھی اور پھر بات سارے خاندان میں پھیل جاتی۔
"معاذ بھاٸ نے کچھ بتایا تمہیں کہ پھپھو کیوں کررہی ہیں ایسے۔۔؟"
"نہیں۔۔ اس نے مجھ سے صبح کے واقعے کے بارے میں کوٸ بات نہیں کی۔ یہ بھی میں تایا سے بات کررہی تھی تو مجھے پتا چل گیا۔ اگر ان سے بات نہیں کرتی تو معاذ مجھے کبھی نہ بتاتا۔۔"
"ہم خود چلیں پھپھو کے گھر۔۔؟ ان سے بات کرنے۔۔؟ ہوسکتا ہے کوٸ غلط فہمی ہوگٸ ہو۔۔ ہم ان کی غلط فہمی دور کردیں تو ہوسکتا ہے وہ ہم سب کی جان بخش دیں۔۔"
اس نے بات کا ایک اور رخ سامنے رکھا تو رابیل نے اس کی جانب سوچتی نگاہوں سے دیکھا۔
"کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ یہ بات ایسے ختم نہیں ہوگی۔۔"
اس کے کہنے پر شزا نے ایک بار پھر سے ہونٹ آپس میں مس کیۓ تھے۔ اسے کوٸ بات بے حد بے چین کررہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا وہ کوٸ چوری کررہی ہو۔ رابیل سے یہ بات چھپا کر اس کا دل عجیب ہونے لگا تھا۔
"چلو ٹھیک ہے۔ صبح سوچتے ہیں اس بارے میں کچھ۔ تم پریشان مت ہو۔ کوٸ نہ کوٸ حل تو نکل ہی آۓ گا۔ لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے پھپھو کو صرف معاذ بھاٸ سے مسٸلہ نہیں ہے رابی۔ انہیں کچھ اور بھی چاہیۓ۔ یہ صرف تمہاری بات نہیں ہے اتنا تو میں بتا سکتی ہو تمہیں۔ اب وہ کیا بات ہے جس کے پیچھے وہ یہ سب کررہی ہیں۔ ہمیں صرف اس کو ڈھونڈنا ہے۔"
اس کے کہنے پر رابیل یکدم چونکی تھی۔ پھر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی واضح تھی۔
"ہاں واقعی۔۔ میں نے اس بارے میں کیوں نہیں سوچا پہلے۔۔ انہیں نہ تو مجھ سے کوٸ لگاٶ ہے اور نہ ہی معاذ سے۔۔ پھر وہ کیا بات ہے جس کے پیچھے وہ ہم سب کو اذیت کا شکار کررہی ہیں۔؟"
یوں لگتا تھا گویا بہت سی بند گرہوں میں سے ایک گرہ کھل گٸ ہو۔ اس کے ہاتھ کوٸ سرا آگیا تھا۔
"یہی تو۔۔ پھپھو اپنا وقت بلاوجہ یہاں وہاں برباد کرنے والی عورت نہیں ہیں رابیل۔ اتنا تو خیر ہم انہیں جانتے ہی ہیں۔ یقیناً تمہاری وجہ سے معاذ بھاٸ کو تکلیف دینے کے پیچھے ضرور کوٸ بڑی وجہ ہے۔ اور اگر ہم اس وجہ تک پہنچ گۓ تو ہوسکتا ہے کہ اس سارے تماشے کو ختم کرسکیں۔۔ ہمیں جلد ہی کچھ سوچنا ہوگا اس بارے میں۔۔"
شزا کے حوصلہ افزاء الفاظ نے اس کی ہمت بڑھاٸ تھی۔ کچھ سوچ کر اب اس کا پریشان دل آہستہ آہستہ شانت ہونے لگا تھا۔ جتنی مدد وہ معاذ کی اور اپنے اس نکاح کو بچانے کی کرسکتی تھی اتنی مدد اسے کرنی چاہیۓ تھے۔ وہ یوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ اور تب تو بالکل بھی نہیں جب بات اس کے نکاح پر تھی۔ شزا نے اس کی خاموشی سمجھ کر گاڑی آگے بڑھاٸ اور پھر سارے راستے رابیل یہی سوچتی رہی کہ آخر ایسا کیا تھا جو پھپھو کو اس حد گرا رہا تھا۔ اسے جلد از جلد اس وجہ تک پہنچنا تھا۔
دوسری جانب معاذ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹایا اور بستر سے نکلا۔۔ سنگھار آٸینے پر رکھی پی کیپ اٹھا کر سر پر پہنی۔ ساٸیڈ ٹیبل سے موباٸل اور چابیاں اٹھاتا کمرے سے باہر نکل آیا۔ اگلے ہی لمحے اب وہ گاڑی کو سنسان راستوں پر دوڑاتا آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔ رابیل کو تو اس نے یقین دلا دیا تھا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے لیکن یہ یقین وہ خود کو کیسے دلا سکتا تھا۔۔ کیا وہ اتنی جلدی ٹھیک ہوجانے والوں میں سے تھا۔۔؟ اگر ایسا ہوسکتا تو کیا اس کی پچھلی زندگی اتنے زخموں سے عبارت ہوتی۔۔! لیکن رابیل کو مزید پریشان کیۓ بغیر وہ خاموشی سے اس کی پیروی کرتا رہا۔ ہنستا رہا۔۔ اسے یقین دلاتا رہا کہ وہ ٹھیک ہے۔۔ یہ سب اس کا ماضی تھا۔ یہ سب اس کی تکلیفیں تھیں۔ اس میں رابیل کا کوٸ حصہ نہیں تھا اور ناں ہی وہ تکلیفوں میں اسے اپنا حصہ دار بنانا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف یہی بات پریشان کرنے کے لیۓ کافی تھی کہ وہ لڑکی اب اس کے تاریک خوابوں کا حصہ بننے لگی تھی۔ ان خوابوں کا۔۔ کہ جن سے بچنے کے لیۓ اس نے کٸ راتیں جاگ کر گزاری تھیں۔
سپاٹ چہرہ لیۓ وہ تیزی سے ڈراٸیو کرتا جانے پہنچانے راستوں پر موڑ کاٹ رہا تھا۔ اسے ان راستوں کی عادت تھی۔ ان راستوں نے اسے اس کہف کی اذیتوں میں دھکیلا تھا بھلا وہ ان کو کیسے بھول سکتا تھا۔ کچھ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ اسی حویلی میں ایک بار پھر سے داخل ہورہا تھا کہ جس میں داخل نہ ہونے کا تہیہ اس نے برسوں پہلے سے کر رکھا تھا۔ سردی کے باعث جیبوں میں ہاتھ اڑسے، گردن جھکا کر چلتے بہت سے گارڈز کے سلام کا سر کے خم سے جواب دیتا وہ اپنی ہی سوچوں میں غرق نظر آرہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اب وہ سلطان کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ اپنے بیڈ پر دراز تھا۔ کمزور اور خالی خالی سا۔۔ لیکن اس کی آنکھیں۔۔ اس کی آنکھیں اس سیاہی میں بھی چمک رہی تھیں۔ یہ چمک اس کی ذات کا خاصہ تھی۔۔ معاذ کو اس چمک سے ہمیشہ خوف آتا تھا۔ اب بھی آیا تھا۔
"کیسے آنا ہوا۔۔ وہ بھی رات کے اس پہر۔۔! سب خیریت تو ہے ناں۔۔؟"
وہ اپنے ازلی نرم انداز میں گویا ہوا تھا۔ لیکن یہ نرم انداز کب سمندری چٹانوں کی سی سختی میں بدل جاتا۔۔ کوٸ ادراک کیسے کرسکتا تھا۔!
"تم نے کہا تھا کہ انسان کے گناہوں، اس کی سیاہ کاریوں اور اس کے اعمال کے ساتھ ہی اس کا اندر مردہ ہونے لگتا ہے۔"
اس نے جھکا سر اٹھایا۔ نیم روشن سے کمرے میں اس کا چہرہ واضح ہوا۔ سر پر پی کیپ ہونے کے باعث اسکی آنکھیں واضح نہیں تھیں اور ناں وہ ان آنکھوں کو اب کسی پر واضح کرنا چاہتا تھا۔ لیکن سلطان۔۔ وہ جانتا تھا۔۔ اسے بغیر دیکھے پتا تھا کہ معاذ کی آنکھیں اس سمے کیسا منظر پیش کررہی ہونگی۔
"یہی سچ ہے۔۔"
اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔
"مجھے اس بات سے اختلاف نہیں ہے سلطان۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہوگا۔۔"
"مجھے پتا ہے کہ تمہیں یقین ہے لڑکے اور تم اس بات کے لیۓ یہاں آۓ بھی نہیں ہو۔ تمہیں یہاں کوٸ اور بات کھینچ کر لاٸ ہے۔۔"
وہ واقعی سلطان تھا۔ اسے واقعی انسانوں کو اخبار کی طرح پڑھنا آتا تھا۔ اس نے اگلے ہی لمحے اسے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تھا۔
"میں ٹھیک ہوگیا تھا۔۔"
اس نے بات کا آغاز کیا تو آواز بہت خاموش تھی۔ اتنی خاموش اور تاریک کہ سلطان کو اپنی ساری حسیات اس کی جانب مبذول کرنی پڑیں۔ اسے سمجھنے کے لیۓ ویسے بھی پوری توجہ کی ضرورت پڑتی تھی۔
"مجھے پچھلے مہینے لگا کہ میں بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں۔ میرا نکاح ہوگیا ہے۔۔ ایک اور زندگی میرے ساتھ جڑ گٸ ہے تو اب میں نارمل زندگی کی جانب واپس آرہا ہوں ۔۔"
وہ جو اپنے بستر پر دراز تھا بے یقینی سے سیدھا ہو بیٹھا۔ پتھراٸ نگاہیں اس کے سیاہ وجود پر ہی جمی تھیں۔ اس کے لیۓ یہ انکشاف بالکل غیر متوقع اور نیا تھا۔ اسے معاذ سے یہ امید کبھی بھی نہیں تھی۔
"نکاح۔۔ کیا شادی کرلی ہے تم نے۔۔؟"
اس کے استفسار پر اس نے آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
"صرف نکاح کیا ہے۔ میں ہمیشہ ہی نکاح کرنے یا پھر کسی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانے سے خوفزدہ تھا لیکن سلطان۔۔ وہ میری زندگی میں یوں شامل ہوٸ کہ مجھے پتا ہی نہ چل سکا۔ اس کی معصومیت اور اس کی پاکیزگی نے مجھے میرے اندھیرے بھلادیۓ تھے۔ مجھے لگا میں ٹھیک ہورہا ہوں۔ میں ریکور کررہا ہوں۔ مجھے لگا کہ اب میں وہ خواب کبھی نہیں دیکھونگا۔۔ مجھے لگا تھا کہ اب سب ٹھیک ہوجاۓ گا لیکن جانتے ہو پھر کیا ہوا۔۔؟"
سلطان جو سانس روکے اس کی باتیں سن رہا تھا اس کے سوال پر بھی کوٸ ردعمل نہ دے سکا۔ اس کی باتیں بہت غیر یقین تھیں۔ اسے اس پر اعتبار کرنے میں وقت لگ رہا تھا۔
"پھر ایک عورت اور اس کے بیٹے نے آ کر مجھ سے میری معصوم روشن سی صبح چھین لی۔ ایک عورت اور اس کے بیٹے نے مجھے ایک بار پھر سے تاریکیوں میں دھکیل دیا۔۔ ایک عورت اور اس کے بیٹے نے میری سوٸ تکلیفوں کو پھر سے جگادیا سلطان۔۔ اور اب۔۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میں خود کو نہیں روک پاٶنگا۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میں سب تباہ کردونگا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد میں اس لڑکی کا حقدار نہیں رہونگا کیونکہ وہ۔۔ وہ مجھ جیسے گناہ گار انسان کے ساتھ نہیں رہ سکے گی۔۔"
اس نے گیلی سانس اندر کھینچی تھی۔ ناک اور کان ضبط سے گلابی پڑنے لگے۔ سانسیں طیش سے ابلنے لگی تھیں۔ پتا ہی نہ چلتا تھا کہ کب وہ انسان سے حیوان بن جاۓ۔۔
"کس نے کی ہے ایسی حرکت۔۔؟"
سطان کو بھی یکدم طیش چڑھا تھا۔ گرج کر پوچھا۔ اتنے سالوں بعد تو ان کا پیارا زندگی کی جانب لوٹ رہا تھا اور اسے بھی کسی نامراد نے آ کر اس سے چھین لیا تھا۔ وہ ان میں سے ایک ایک کی گردنیں کاٹ کر پھینک دینا چاہتا تھا۔
"اگر تمہیں بتانا ہوتا تو کیا تمہارے پاس آتا میں۔۔!"
اس نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔ اس کی آنکھیں ناسمجھی سے سکڑیں۔۔
"میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی تاریک راستوں پر چلنے کے بعد پلٹنا ناممکن ہوتا ہے۔۔؟"
اور اس کے ایسے سوال پر سلطان کی پیشانی کا ہر بل ڈھیلا پڑ گیا تھا۔ وہ اس سے مدد مانگنے نہیں آیا تھا۔ وہ اسے آگاہ کرنے آیا تھا کہ وہ خود کو بھلا کر انتہاٸ غیر انسانی سا قدم اٹھانے لگا ہے۔۔
"تم کیا کرنے لگے ہو۔۔؟"
اس نے لاپرواہی سے کندھے جھٹکے تھے۔ پھر گھٹنوں پر کہنیاں رکھتا جھکا۔
"تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں بتادونگا کہ میں کیا کرنے لگا ہوں۔۔"
"معاذ کوٸ ایسا قدم نہ اٹھانا کہ جس کے بعد پلٹنے کا کوٸ راستہ نہ ہو۔"
وہ پریشان ہوگیا تھا۔ جب وہ پہلی دفعہ اس حویلی میں آیا تھا تب ہی سلطان جانتا تھا کہ وہ کیسا بچہ تھا۔ اس کی سوچ اور اس کے محسوسات کیا تھے۔ اسے اندازہ تھا کہ ذرا سی محنت کے بعد یہ چھوٹی سی چھری، تیز دھار تلوار میں تبدیل ہوجاۓ گی۔ اور حقیقت میں ہوا بھی ایسا ہی تھا۔ وہ اب تیز دھار تلوار بن گیا تھا۔ منجھا ہوا اور ظالم۔۔
"اتنے سال میں نے خود پر بند باندھے رکھا کیونکہ انہوں نے کبھی مجھے براہ راست تکلیف دینے کی جرأت نہیں کی تھی۔ انہوں نے میری ماں کو اذیت دے کر مارا تھا۔۔ اور اب وہ اس لڑکی کو تکلیف دینا چاہتے ہیں جو مجھے بے حد عزیز ہے۔ کیا انہیں لگتا ہے کہ میں ہر بار ان کو بخش دونگا۔۔ کیا یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی نہیں ہے سلطان۔۔؟"
آخر میں محظوظ ہو کر پوچھا تھا۔
"معاذ۔۔"
"مجھے ان کی غلط فہمی دور کردینی چاہیۓ ناں سلطان۔۔!"
وہ سوال نہیں تھا۔۔ وہ جواب بھی نہیں تھا۔۔ بلکہ وہ تو اس کا ارادہ تھا۔۔ خوفناک اور سرد سا ارادہ۔۔
"یاد رکھنا کہ پھر وہ لڑکی تمہارے حصے میں نہیں آۓ گی۔ وہ روشن صبح ہوگی اور تم سیاہ رات۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ پھر تم اس کے ساتھ زندہ رہ سکو گے۔۔؟"
اور اب کہ سلطان نے مزید حیران ہونے کے بجاۓ اپنے وجود پر سرد سا خول چڑھا کر اسے دیکھا تھا۔ اب وہ پروفیشنل سلطان لگ رہا تھا۔ وہ سلطان کے جس کے معاملات میں فیلنگز اور احساسات کی کوٸ گنجاٸش نہیں تھی۔
"جانتا ہوں کہ پھر میں اس کا حقدار نہیں رہونگا۔۔"
"جب جانتے ہو تو پھر کیوں کرنا چاہتے ہو یہ سب۔۔؟ کیا انہیں پیچھے دھکیل کر اپنی زندگی دوبارہ سے شروع کرنا اتنا ناممکن ہے۔۔؟"
وہ اس کے سوال پر خاموش رہا تھا۔ کیونکہ اس سوال کا جواب اس کے پاس تھا ہی نہیں۔
"ممکن بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔"
"فرق پڑتا ہے معاذ۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو انہیں پیچھے دھکیل کر اپنی زندگی شروع کردو۔ تمہاری ذات کے اندھیروں کو پناہ مل جاۓ گی۔ تم گلٹ سے آزاد ہوجاٶ گے اور اگر آزاد نہ بھی ہوسکو تو یہ جوبھ ہلکا ہوجاۓ گا۔ تمہارے وہ تاریک خواب تمہیں تکلیف دینا بند کردیں گے۔ اگر ایسا ہوجاۓ تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ ایک بار پھر سوچ لو۔۔ خود کو یوں گہری جہنم میں مت دھکیلو۔"
اس نے بہت سبھاٶ سے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ جو وہ کہہ رہا تھا وہ اتنا ناممکن بھی نہیں تھا۔ لیکن کیا انہیں ایسے بے مہار چھوڑدینا درست فیصلہ ہوگا۔۔؟ کیا بھروسہ تھا کہ وہ دوبارہ پلٹ کر اس پر وار نہیں کریں گے۔۔
"اور اگر اس کے بعد وہ پلٹ کر حملہ کریں تو۔۔"
سلطان کی آواز یکدم برف ہوٸ تھی۔
"تو ایک ایک کی گردنیں کاٹ کر پھینک دینا۔ بلکہ عبرت کا نشان بنا کر چوک پر لٹکادینا۔ سلطان تمہارا ہر طرح سے ساتھ دے گا۔"
"ہر دفعہ ہم ہی کیوں پیچھے ہٹیں سلطان۔۔ ہر دفعہ ہم ہی کیوں درگزر کریں۔۔؟"
اس کی سرمٸ آنکھیں بے حد اداس تھیں۔ وہ اس سمے تیرہ سالہ معاذ لگ رہا تھا کہ جو اپنی ماں سے اکثر پوچھا کرتا تھا کہ ہر دفعہ ہم ہی کیوں معاف کریں۔۔ ہر دفعہ ہم ہی کیوں قربانی دیں۔۔!
"کیونکہ یہی ایک راستہ ہے خود کو بچانے کا معاذ۔ ایک دفعہ بھی اپنے نفس کی، کی گٸ پیروی تمہیں اگلے جہان تک رسوا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ جو بھی کرو سوچ سمجھ کر کرنا۔ یہ فیصلہ سراسر تمہارا ہوگا اور اس کے نتاٸج بھی تمہی کو بھگتنے ہونگے۔ یہ فیصلہ تم نے کرنا ہے کہ تم سیاہی کو چننا چاہتے ہو یا روشنی کو۔۔!"
"کیا پھر میں نارمل ہوجاٶنگا۔۔؟"
ایک یہی یقین دہانی درکار تھی اسے۔۔
"اللہ نے چاہا تو ضرور ایسا ہی ہوگا۔ نا امیدی کفر ہے۔ امید کا راستہ اللہ تک جاتا ہے۔ اس راستے کو تھامو اور خود کو بچاٶ۔ کیونکہ انتقام سیدھی لکیر کی مانند نہیں ہوتا بچے۔ یہ تو گھنا جنگل ہوتا ہے کہ جس میں داخلے کے بعد انسان کے کھو جانے کا خدشہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔"
واپسی کے سارے راستے وہ بے حد خاموش تھا۔ کھلی کھڑکی پر اپنا بازو رکھے ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ تھامے وہ ڈراٸیو کرتا بہت سی سوچوں کا مرکز لگ رہا تھا۔ کیا کرنا چاہیۓ تھا اور کیا نہیں۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ دل و دماغ پر گزرے اوقات کی اس قدر گرد جمع تھی کہ کچھ دکھاٸ ہی نہ دیتا تھا۔ سلطان کے پاس بھی وہ اسی لیۓ گیا تھا کیونکہ وہ خود سے خوفزدہ تھا۔ وہ خود سے ڈر گیا تھا۔ اگر وہ اکیلا رہتا اور ان باتوں کو مزید سچتا تو شاید یہ دن ارحم اور اس کی ماں کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوتا۔ لیکن وہ اس ایک لکیر کو پار کر کے خود کو حیوان ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے سلطان سے بات کرنے کے بعد خود کو ایک بار پھر سے سمجھانا شروع کیا تھا۔ وہ ایک بار پھر سے خود کو راضی کرنے لگا تھا۔ خود کو اپنی ذات میں پھیلے اندھیروں سے نگاہیں ملانے کی ہمت دلا رہا تھا۔ یہ اسے ہی کرنا تھا۔ کوٸ اس کی جگہ آ کر اسے اس سب سے آزادی نہیں دلواسکتا تھا۔
کھلے شیشے سے اندر گرتی سرد ہوا اب کہ اس کے بالوں کو ہولے سے اڑا رہی تھی۔ لیکن وہ کسی اور ہی خیال میں گم ڈراٸیو کررہا تھا۔
صبح وہ فریش ہو کر کمرے سے نکلا اور کسی بھی جانب دیکھے بغیر تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ رات کی سیاہی اس کے چہرے سے چھٹ گٸ تھی اور اب وہاں صرف خاموشی تھی۔ ٹھنڈی سی خاموشی۔ ابھی لاٶنج ہی میں قدم رکھا تھا کہ وقار کی آواز پر ٹھہر گیا۔
"ناشتہ کرلو آ کر معاذ۔۔"
وہ پوری تیاری کے ساتھ کچن میں کھڑے ناشتہ بنا کر اب گول سے ٹیبل پر لگا رہے تھے۔ صبح کی بکھری تازہ روشنی میں الاٸچی والی چاۓ کی مہک نے سارے لاٶنج کو خوشگوار کردیا تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور کسی بھی پس و پیش کے بغیر کچن میں چلا آیا۔ آتے ہی خاموشی سے کرسی کھینچ بیٹھا۔ وقار اپنے مگن انداز میں چہرے پر نرم مسکراہٹ لیۓ اب اس کے سامنے سنہرا سا آملیٹ رکھ رہے تھے۔ اس نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں بہت پیاری چمک تھی۔ وہ اس چمک کا مطلب نہ سمجھ سکا۔
"شروع کرو۔۔"
اس نے ایک بار پھر سے گہرا سانس لے کر ہاتھ ناشتے کی جانب بڑھایا اور چاۓ کپ میں انڈیلنے لگا۔ وہ بھی اپنا ناشتہ لیۓ اب کرسی کھینچ کر اس کے برابر میں بیٹھ رہے تھے۔ اس نے نوالہ چباتے ہوٸ ایک نگاہ بغور انہیں دیکھا تھا۔
"رات خواب میں تمہاری ماں کو دیکھا تھا میں نے۔۔“
اس کا منہ تک جاتا ہاتھ ہوا ہی میں معلق رہ گیا تھا۔ وقار اپنی جگہ بیٹھے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ اس کی سرمٸ آنکھوں کا ساکت ارتکاز دیکھ کر ہولے سے مسکراۓ۔۔
”ہاں۔۔ میں نے اسے رات خواب میں دیکھا تھا۔ شاید اسی لیۓ کہ میں رات اسے یاد کر کے سویا تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ یوں میری جلتی روح کو آرام دینے خواب میں آجاۓ گی۔ جانتے ہو۔۔“
انہوں نے محبت سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ آنکھوں میں باریک سی نمی لیۓ۔ اس کے منہ میں موجود نوالہ اب حلق سے نگلنا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا بہت سے کانٹے حلق میں اگ آۓ ہوں۔۔
”وہ اور میں نہر کے کنارے پر کھڑے تھے لیکن وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر تھی۔ میں نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے منع کردیا۔ میں وہیں رک گیا۔۔ پھر وہ اپنی ایڑیاں اونچی کر کے بولی۔۔“
جانے کیوں ان کی آواز کانپی تھی۔ اس نے ہاتھ میں لیا نوالہ آہستہ سے پلیٹ میں رکھا تھا۔ کچھ تکلیفیں انسان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتیں۔
”وہ کہہ رہی تھی کہ معاذ کو کہے اپنا خیال رکھے۔ وہ اسے کبھی بھی جج نہیں کرے گی۔ وہ اس کا بیٹا تھا، اس کا بیٹا ہے اور اس کا بیٹا رہے گا۔ دنیا کی کوٸ طاقت اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتی۔۔ وہ میرے خواب میں بھی صرف تمہاری ہی بات کررہی تھی معاذ۔۔ اور تم کہتے ہو کہ تم اب ماں کے بیٹے نہیں رہے۔۔“
اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔ پٹی بندھے ہاتھ کو ماتھے پر رکھا ۔۔ پھر گہرا سانس لیا۔۔ یہ باتیں اس کے لیۓ بہت زیادہ تھیں۔
”پھر وہ اس سفید روشنی میں تحلیل ہوگٸ۔ میں اسے ڈھونڈتا رہا لیکن وہ مجھے نہیں ملی۔ میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن شاید وہ صرف تمہاری ہی بات کرنے آٸ تھی۔ نیند سے اٹھ کر مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ اچھا خواب تھا یا اداس۔۔ اس نے میری آنکھوں کو آنسوٶں سے بھردیا تھا لیکن دل سرشار تھا۔۔ کیا یہ اداس خواب تھا معاذ۔۔؟“
ان کے پوچھنے پر اس نے ان کی جانب دیکھا۔ کچھ اس کے اندر بہت آہستگی سے ڈوبنے لگا تھا۔
”ہاں بابا۔۔ یہ اداس خواب تھا۔۔“
اس نے ہولے سے کہا تھا۔ انہوں نے اندر گرتے آنسوٶں سے بوجھل ہوتی سانس خارج کی تھی۔
”اداسیاں اتنی خوبصورت کیسے ہوسکتی ہیں بھلا۔۔؟“
”آپ کو تکلیف ہوٸ ہے ناں۔۔؟“
اس نے اب کہ براہ راست ان سے پوچھا تو وقار نے جلتی آنکھیں ہاتھ کی پشت سے رگڑیں۔ ایک کڑا وقت تو بہر حال انہوں نے بھی گزارا تھا۔۔
”ہاں۔۔“
حلق میں جما ہوتے آنسوٶں کے ساتھ انہوں نے بس اتنا ہی کہا تھا۔ معاذ جانتا تھا کہ وہ اس کے ہر رویے سے ہرٹ ہوتے تھے لیکن وہ بھی کیا کرتا۔ گرد و نواح کی تلخی نے اس کے اندر بسیرا کر رکھا تھا۔ اپنے لفظوں کا بے دردی سے استعمال کرتے اسے بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔
”میں معافی چاہتا ہوں اپنے ہر عمل کے لیۓ بابا۔ جو کچھ ہوا اس میں آپ قصور وار نہیں تھے۔۔“
اس نے کہہ کر اپنی چاۓ اٹھاٸ تھی۔ پھر گرم ابلتا بھورا مایہ حلق سے اتارنے لگا۔
”ہم دونوں اپنی جگہ ٹھیک تھے معاذ۔ جو تم نے کیا اور جو میں کرتا رہا۔ مجھے لگتا ہے جو ہوا وہ ایسے ہی ہونا تھا۔ تمہیں اس تاریک دنیا کا سامنہ کرنا تھا اور مجھے اس ذلت کا۔ شاید ہم خود کو اس بڑے دن میں جسٹفاٸ کرسکیں۔۔ شاید ہم بھی اپنے اعمال کی وضاحت دے سکیں۔ اور مجھے یقین ہے۔۔ کہ تمہاری ماں اس دن ہم سے رخ نہیں پھیرے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ہم دونوں ایسے نہیں تھے۔ ہم ایسے بنا دیۓ گۓ تھے۔۔“
اس نے سر اثبات میں ہلا کر ان کی بات سے اتفاق کیا تھا۔ پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔
”ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنے کی ضرورت ہے بابا۔۔“
”نہیں معاذ۔۔ ایک دوسرے سے پہلے ہمیں خود کو معاف کرنے کی ضرورت ہے۔“
ان کی بات پر اس نے سر جھٹکا تھا۔ پھر چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔
”جانتے ہیں بابا۔۔ انسان ساری دنیا کو معاف کرسکتا ہے لیکن جب بات خود پر آتی ہے تو معافی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔“
”ایسا ہی ہے۔ خود کو قبول کرنا کسی اور کو قبول کرنے سے کہیں زیادہ کٹھن ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کہاں کمزور ہیں۔۔ ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کتنے سیاہ ہیں۔۔ اسی لیۓ تو ہم خود کو قبول نہیں کرپاتے۔ خود کو معاف نہیں کرپاتے۔۔“
”کاش کہ ماں کبھی میرے بھی خواب میں آجاٸیں تو میں بھی تھوڑا سا پرسکون ہوسکوں۔۔“
”تمہیں پرسکون ہونے کے لیۓ خود کی معافی درکار ہے معاذ۔۔ خود کو معاف کردو۔۔“
ان کے نرمی سے کہنے پر اس نے سر ہلایا تھا۔
”میں کوشش کرونگا بابا۔۔ آپ دعا کریں کہ میں خود کو۔۔ اپنے سیاہ اور سفید کے ساتھ قبول کرسکوں۔ شاید پھر میں ایک نارمل زندگی گزارسکتا ہوں۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ سب ۔۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے لیۓ شاید مجھے ساری عمر لگ جاۓ۔۔“
ٹھنڈی سی تازہ روشنی ہر جانب سے چھن کر گھر میں گررہی تھی۔ آملیٹ اور چاۓ کی اشتہا انگیز مہک میں کسی کے خاموش آنسو بھی شامل ہوگۓ تھے۔۔
”ساری عمر لگے یا پھر ایک لمحہ۔۔ تمہیں بس وہ ایک لمحہ تلاش کرنا ہے جس میں تم خود کو معاف کرسکو۔ تمہارا وہ ایک لمحہ تمہاری ہر سیاہ کاری پر بھاری ہوگا بالکل ویسے ہی جیسے عمر بھر کے گناہوں پر سچی توبہ کا ایک آنسو بھاری ہوتا ہے۔۔“
”میں کوشش کرونگا بابا۔۔“
اس نے بہت آہستہ سے کہے تھے یہ لفظ۔۔ اپنے آپ سے نگاہ ملانا اتنا بھی آسان نہیں تھا۔
”کوشش میں اللہ نے برکت رکھی ہے۔۔“
”بس جو میں نے ماں کے ساتھ کیا وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے مجھے اپنی جان سینچ کر بڑا کیا تھا۔ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مجھ پر صرف کیا تھا لیکن بابا میری جوابی کاررواٸ نے سب ختم کردیا۔ میں نے اپنا سب کچھ ان کے ساتھ ہی کھو دیا تھا۔ اس رات جب میں ہاسپٹل سے نکلا تھا تو پہلے والا معاذ نہیں تھا۔ مجھ پر سیاہی بسیرا کرچکی تھی کیونکہ میں مایوس ہوگیا تھا۔“
آج بہت دنوں بعد اس نے وقار کے ساتھ بیٹھ کر یوں بات کی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔ شاید یہی ان کے بیٹے کا بوجھ کچھ کم کرسکتا۔۔
”مایوسی کفر ہے بلاشبہ۔۔“
انہوں نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔۔
”اور میں کافر نہیں بننا چاہتا تھا۔ میں مسلمان رہنا چاہتا تھا۔۔ لیکن بابا۔۔ میں کافر بننے لگا تھا۔۔“
اور یہ کہتے ہوۓ اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ وقار بھی چند لمحے کچھ نہ بولے۔
”لیکن میں یوں پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ میں یوں مایوسیوں میں نہیں گھر سکتا۔ میں حبیبہ کا بیٹا رہنا چاہتا ہوں۔ میں ضرور ان اندھیروں سے نکلنے کی کوشش کرونگا بابا۔۔“
انہوں نے مسکرا کر اس کے زخمی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ پھر اس کا ہاتھ آہستہ سے تھپکا۔
”اللہ تمہارا مددگار ہوگا معاذ۔۔ میں تمہارے لیۓ بہت دعا کرونگا۔۔“
اس نے چاۓ کا آخری گھونٹ لیا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر یونہی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گٸ۔۔
”ویسے مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ مجھ پر چلانے کے علاوہ ناشتہ بھی اچھا بنالیتے ہیں۔۔“
وقار نے اس پر نگاہیں اٹھاٸ تھیں۔
”شرم کر خر۔۔!“
اور وہ بے ساختہ ہی ہنس دیا تھا۔ اسے کسی کا ”جنگلی خر“ کہنا یاد آگیا تھا ۔۔
”ویسے یہ رابیل کو خر کا مطلب آپ نے بتایا تھا۔۔؟“
اس نے چابیاں ہاتھ میں لے کر باہر نکلتے ہوۓ پوچھا تو انہوں نے چاۓ کا کپ لبوں سے لگاۓ ہی اثبات میں سر ہلایا۔ وہ کچھ یاد آنے پر ایک بار پھر سے ان کے سامنے چلا آیا تھا۔
”جانتے ہیں وہ مجھے کیا کہتی ہے۔؟“
”جانتا ہوں۔۔“
اور وہ جو محظوظ ہو کر انہیں تنگ کرنے لگا تھا یکدم رک گیا۔ ابرو حیرت سے سکڑے۔۔
”جنگلی خر بولتی ہے ناں وہ تمہیں۔ اس نے بتایا تھا مجھے۔ اور یقین کرو مجھے یہ نام تمہارے لیۓ پسند بھی بہت آیا تھا۔ جنگلی خر۔۔ واٶ۔۔“
وہ کہہ کر ہنسے تو اس نے خاموشی سے انہیں دیکھا۔
”آپ دونوں کے اس الاٸنس میں پتا نہیں مجھے گھر میں رہنا نصیب ہوگا بھی یا نہیں۔۔“
سر ہلا کر کہتا وہ باہر نکلا تو وقار کے قہقہے نے آخر تک اس کا پیچھا کیا۔
”اگر کچھ الٹا سیدھا کروگے تو ہم تمہیں گھر سے اٹھا کر باہر بھی پھینک دیں گے۔۔“
ان کی ہانک پر اس نے سر ہلایا تھا۔ پھر گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر بیٹھا۔ ہر جانب پھیلی ٹھنڈی سے صبح بہت دنوں بعد آج بے حد شفاف لگ رہی تھی۔
دوسری جانب وہ ناشتے کی ٹیبل پر سب گھر والوں کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کررہی تھی۔ ردا اور شزا اپنے کالج ڈریس میں ملبوس، اونچی پونیاں بناٸیں بابا کے ساتھ کسی بات پر ہنس رہی تھیں۔ رامین انہیں کھانے کے سامنے بیٹھ کر یوں ہنسنے پر ڈانٹ رہی تھیں اور رابیل۔۔ اس نے ہاتھ میں بھاپ اڑاتا چاۓ کا کپ تھام رکھا تھا۔ دور کسی غیر مرٸ نکتے پر نگاہیں جماۓ وہ اس ماحول سے لا تعلق سی بیٹھی تھی۔ عابد کی نظر اس پر پڑی تو غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
"رابیل۔۔ کہاں گم ہو۔۔؟"
ان کے پوچھنے پر وہ اپنے خیالات سے چونکی تھی۔ پھر سنبھل کر مسکراٸ۔ شزا بھی یکدم ہی سنجیدہ ہوگٸ تھی۔
"بابا۔۔ پھپھو سے دوبارہ بات ہوٸ آپ کی۔۔؟"
رابی نے سر اٹھا کر شزا کو دیکھا لیکن وہ اس کی جانب متوجہ نہیں تھی۔ وہ بابا کی جانب دیکھتی پوچھ رہی تھی۔ اس نے بھی نظروں کا رخ ان کی جانب پھیرا تھا۔
"نہیں۔۔ میری تو دوبارہ کوٸ بات نہیں ہوٸ صاٸمہ سے۔۔ کیوں۔۔؟"
"اگر انہوں نے بات نہیں کی تو آپ کرلیں ان سے بات۔ کب تک وہ یوں اس طرح روٹھی رہیں گی ہم سے۔۔؟"
رامین نے ان کے کپ میں گرم چاۓ انڈیلتے کہا تھا۔ عابد نے گہرا سانس لیا۔
"وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے ایک دو بار کوشش کی تھی بات کرنے کی لیکن وہ راضی نہیں ہے بات کرنے پر۔ شاید اس کا دل اب تک نہیں بھرا اپنے عمل کے نتیجے سے۔ "
آخر میں نا چاہتے ہوۓ بھی ان کے لہجے میں ہلکی سی تلخی گھل گٸ تھی۔ رامین نے ان کی جانب فکر مندی سے دیکھا۔
"مجھے تو آپی کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ پہلے انہوں نے اس رشتے کو توڑنے کی باتیں کیں اور اب وہ اس رشتے کے ختم ہوجانے پر ہم ہی سے ناراض ہیں۔ کچھ سمجھ آرہی ہے آپ کو ان کے رویے کی۔۔؟"
"بالکل سمجھ آرہی ہے مجھے اس کے رویے کی۔ ہمیشہ اپنی انا کے جھنڈے کو سر بلند نہیں رکھا جاتا رامین۔ بہت دفعہ خود کو جھکانا پڑتا اور رشتوں میں تو کبھی انا کو نہیں لاتے۔ یہ تو رشتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ لیکن میری بہن کو عادت ہے خود کو سر بلند رکھنے کی۔ وہ ہمیشہ سے یہی کرتی آرہی ہے اور آگے بھی وہ یہی کرے گی۔ میں تو شکر ادا کرتا ہوں اب کہ میری بیٹی بچ گٸ اس سے۔۔"
ان کے کہنے پر رابیل سمیت سب ہی چونکے تھے۔ انہیں بابا سے اس آخری بات کی توقع نہیں تھی۔
"رابیل جیسی لڑکی تو کبھی صاٸمہ کے ساتھ نہیں چل سکتی تھی۔ میں حیران ہوں کہ اس بات کا اندازہ مجھے اتنا بعد میں کیوں ہوا۔۔ لیکن پھر بھی اللہ نے ہمیں بچا لیا۔۔"
اس کے دل پر جما بوجھ اگلے ہی لمحے ہلکا ہوگیا تھا۔ چلو کوٸ تو تھا کہ جسے معاذ کے داماد ہونے پر اعتراض نہیں تھا۔ سب آہستہ آہستہ اسے قبول کررہے تھے۔ سب نارمل ہورہا تھا۔ ایک دن سب اسے اور معاذ کو قبول کر ہی لیں گے اور اگر ان دونوں کو قبول نہ بھی کریں تو اس کے لیۓ اس کے گھر والے کافی تھے۔ اسے بس اپنے گھر والوں کا ساتھ چاہیۓ تھا۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اس نے اپنا بیگ سمیٹا اور گھر سے باہر نکل آٸ۔ بے حد خاموشی سے ٹھنڈی سڑک پر قدم اٹھاتے اسے تازہ صبح میں سانس لینا بہت سکون دے رہا تھا۔ اس کے تنے اعصاب آہستہ سے ڈھیلے پڑنے لگے تھے۔
پیچھے گھر میں شزا جو کالج کا بیگ لینے اپنے کمرے میں آٸ تھی، بجتے موباٸل کی جانب متوجہ ہوٸ۔ آگے بڑھ کر جگمگاتی اسکرین پر غیر شناسا سا نمبر دیکھا۔ پھر کچھ سچ کر فون کان سے لگایا۔۔
"شزا۔۔"
وہ آواز بہت جانی پہچانی تھی۔
"جی معاذ بھاٸ۔۔"
اس کا ڈرتا دل بے اختیار ہی سنبھلا تھا۔
"کیس ہو۔۔؟"
یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی کام میں مصروف ہو۔
"ٹھیک بھاٸ۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔؟"
"ٹھیک۔۔ ارحم تمہیں تنگ کررہا ہے۔۔؟"
اور یہ ٹھک۔۔ اگلے ہی لمحے جیسے اس کا دل حلق میں آگیا تھا۔ اسے اتنے براہ راست سوال کی امید نہیں تھی۔ صبیح پیشانی باریک پسینے سے چمکی تھی۔
"معاذ بھاٸ آپ کو کیسے۔۔"
"شزا ہاں یا نہیں۔۔؟"
اس نے اس کی بات کاٹ کر ایک اور سوال کیا تو شزا نے جلدی سے تھوک نگلا۔ اس کی ہتھیلیاں بے ساختہ ہی پسیج گٸ تھیں۔
"جی۔۔ وہ مجھے ہراساں کررہے ہیں۔۔"
اور آخر کار اس نے بتا ہی دیا۔ آنکھوں میں بہت سے آنسو ایک ساتھ اترے تھے۔
"کب سے۔۔؟"
"اقبال کی شادی سے۔۔"
"ٹھیک ہے۔۔ فارغ ہو کر مجھ سے ریسٹوینٹ میں آ کر ملو۔۔"
"مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے معاذ بھاٸ۔ وہ بہت عجیب طرح سے بات کرتے ہیں مجھ سے۔ اگر کسی کو پتا چل گیا تو بہت بہت برا ہوگا۔۔"
کٸ دنوں سے وہ اس بات کو چھپاۓ اندر ہی اندر گھل رہی تھی لیکن جیسے ہی یہ احساس کے کوٸ اپنا اس سب واقف ہے اور اسے کسی بھی قسم کا الزام بھی نہیں دے رہا۔۔ بس اس ایک بات نے اسے رونے پر مجبور کردیا تھا۔
"روتے نہیں ہیں۔۔ دیکھ لیں گے ارحم کو بھی۔۔"
"لیکن۔۔ لیکن اگر انہوں نے مجھ پر الزام لگا کر خاندان والوں کو یا۔۔ یا پھر بابا کو یہ سب کسی اور طرح سے بتایا تو معاذ بھاٸ۔۔ پھر کیا ہوگا۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔"
اس نے آنکھوں سے گرتے آنسوٶں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا تھا۔ وہ رابیل کی طرح بات بات پر رونے والی نہیں تھی لیکن ارحم نے اسے کچھ اس طرح ہراساں کیا تھا کہ اس کی رگ رگ میں خوف اتر گیا تھا۔ دوسری جانب اپنے ریسٹورینٹ کے کچن میں کھڑے معاذ نے ہاتھ میں پکڑا بل دیکھ کر فیصل کو دیا۔
"کیا ہوگا پھر۔۔ کچھ نہیں ہوگا۔۔ وہ میرے ہاتھوں سے مار کھاۓ گا اور سارے خاندان والوں کے سامنے کھاۓ گا۔۔"
"آپ انہیں ماریں گے۔۔ نہیں نہیں معاذ بھاٸ۔۔ پلیز۔۔ ایسے تو بات اور بھی بڑھ جاۓ گی۔۔"
"نا ماروں خاندان والوں کے سامنے پھر۔۔؟"
"نہیں۔۔"
"اکیلے میں مارلوں۔۔؟"
اور وہ اس کے سوال پر اتنی پریشانی میں بھی ہنس پڑی تھی۔ معاذ نے اسے ہلکا پھلکا کرنے کے لیۓ ہی یہ سوال کیا تھا اس سے۔
"کیا مارے پیٹے بغیر بات نہیں بن سکتی۔۔"
"کچھ لوگ لاتوں کے بھوت ہوتے ہیں۔ انہیں جتنا بھی سمجھالو وہ کبھی نہیں سمجھتے۔ شام میں میرے ریسٹورینٹ آنا پھر دیکھتے ہیں اس مسٸلے کو۔ اور اگر اب دوبارہ اس کا فون آۓ تو تڑاخ سے جواب دینا۔ نظروں کے سامنے آۓ تو گھما کر گال پر جڑ دینا۔ باقی میں دیکھ لونگا۔۔"
اور حسب عادت کوٸ بھی لمبی چوڑی بات کیۓ بغیر اس نے دوسری جانب سے فون رکھ دیا تھا۔
شزا نے بھی آسودگی سے فون کان سے ہٹایا تھا۔ رابیل بہت لکی تھی۔۔ بہت زیادہ۔۔ اگر آپکی زندگی میں کوٸ معاذ جیسا ہو تو آپ لکی ہی ہونگے۔۔ کیونکہ معاذ ہر کسی کو تھوڑی ملتا ہے۔۔ وہ تو کسی کسی کو ملتا ہے۔۔ اس نے بھی آنکھوں سے آنسو صاف کیۓ اور بیگ کندھے پر ڈالتی باہر نکل آٸ۔ اجلی صبح اب کہ کچھ اور اجلی لگنے لگی تھی۔۔
