#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
گیارھویں_قسط کا بقیہ حصہ
مدرسہ میں بھی اس کا دل بوجھل ہی رہا۔ سستی اور دل و دماغ پر جمی بہت سی باتوں کا بوجھ تھا جس نے اسے نڈھال کر رکھا تھا۔ واپسی پر اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوۓ اس نے رخ بجاۓ گھر کی جانب کرنے کے ڈراٸیور کو سلویٰ کے گھر چلنے کو کہا۔ جانے کیوں وہ ان سے ملنا چاہتی تھی۔
دروازے کے عین سامنے کھڑے ہو کر وہ چند لمحے خالی خالی نگاہوں سے اس پرانے طرز کے بنے دروازے کو یکھتی رہی پھر آہستہ سے اندر داخل ہوگٸ۔ باغ میں بہت سی سفید چاندنیاں بچھی تھیں، بچے قرآن پڑھ رہے تھے اور سلویٰ ایک جانب بیٹھیں کسی بچے کو سبق دے رہی تھیں۔ اس نے دور سے اس پیارے منظر کو دیکھ کر اپنی روح کو سیراب کیا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا، اس باغ میں آسمان سے چاندنی اتر آٸ ہو۔ عموماً اس کے مدرسے کی چھٹی مغرب کے بعد ہوا کرتی تھی لیکن جس دن کلاسس کم ہوتیں وہ عصر تک فارغ ہوجاتی۔ سلویٰ نے اسے دور سے دیکھ لیا تھا۔
حیرت سے پھیلی آنکھیں لیۓ وہ جوش سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھیں تو پیچھے قرآن پڑھتے بہت سے بچوں نے گردنیں پھیر کر اسی جانب دیکھا۔ وہ اس قدر توجہ پر لمحے بھر کو گڑبڑاٸ تھی۔ آخرکار وہ تھی تو رابیل ہی۔۔ یو نو۔۔!
"السلام علیکم پیاری لڑکی۔۔ کیسی ہو اور ایسے اچانک کیسے آگٸیں۔۔ مجھے بتادیتیں تو کچھ مزے کا پکا کر کھلاتی تمہیں۔۔ "
اپنے نرم سے انداز میں ہنستے ہوۓ بول کر وہ اس کے گلے لگیں تو وہ بھی مسکرادی۔ کچھ لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں۔۔ اتنے نرم اور اتنے سادہ۔۔ کہ انسان کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔
"وعلیکم سلام۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔؟ اور سوری۔۔ یوں بے وقت آ کر آپ کو پریشان کررہی ہوں میں۔۔ آپ بزی ہیں۔۔"
گلابی رخساروں کے ساتھ کہہ کر اس نے ایک نگاہ پیچھے بیٹھے بچوں پر ڈالی تھی۔ سلویٰ اس کے اس قدر فارمل انداز پر ایک بار پھر ہنس پڑی تھیں۔ پھر اسے اپنے ساتھ لگا کر باغ تک لے کر آٸیں۔
" بچے پڑھتے رہیں گے اور تم کونسا ہم سے الگ ہو۔۔ تم بھی تو ہمارے جیسی ہی ہو۔ قرآن والی۔۔ کسی اور طبیعت کی لڑکی آتی تو شاید میں تھوڑا پریشان ہوجاتی لیکن جب رابیل آٸ ہے تو مجھے کوٸ پریشانی نہیں۔۔"
وہ اسے اپنے ساتھ ہی لیۓ آگے بڑھ رہی تھیں۔ ان کے حوالے پر وہ دل سے مسکراٸ تھی۔
"کب تک فارغ ہوتی ہیں آپ۔۔۔؟"
"میں بس ابھی فارغ ہونے ہی والی ہوں۔ یہ آخری نشست ہے بچوں کی۔ تم بیٹھو ناں۔۔"
وہ جا کر اپنی جگہ پر بیٹھیں تو رابیل بھی ان کے برابر میں بیٹھ گٸ۔ کوٸ تکلف اور کوٸ غیر آرام دہ سا تاثر نہیں تھا۔ بس سادگی اور محبت تھی۔ اسے اسی لمحے احساس ہوا کہ اگر زندگی گزارنے کے لیۓ سادگی اور محبت ہو تو مزید پھر کسی بھی چیز کی تمنا کرنا اسراف ہی ہوگا۔ بچے کو سبق دے کر فارغ کرنے کے بعد وہ اب دوسرے بچے کی جانب متوجہ تھیں۔ بچے شرماٸ لجاٸ سی مسکراہٹوں کے ساتھ اسے گاہے بگاہے دیکھ رہے تھے۔ وہ بھی اسی مسکراہٹ کے ساتھ انکی مسکراہٹوں کا جواب دے رہی تھی کیونکہ ہماری رابیل بھی بچوں سے کم تھوڑی تھی۔ معاذ اسے ایسے کرتے دیکھتا تو بہت مزاق اڑاتا۔۔ اور معاذ۔۔ جانے وہ کیسا ہو۔۔ ؟ کیا کررہا ہوگا ابھی۔۔
"تمہیں کونسی سورت پسند ہے۔۔؟"
سلویٰ کے بہت اچانک سے سوال پر وہ اپنی سوچوں سے یکلخت ہی چونکی تھی۔۔
"سورہ کہف۔۔"
بے اختیار ہی اس کی زبان سے پھسلا تھا۔ وہ مسکراٸیں۔۔ پھر سمجھ کر سر ہلایا۔۔
"معاذ کو بھی یہی سورت پسند ہے۔۔"
"معاذ کو۔۔ معاذ کو سورہ کہف پسند ہے۔۔؟ لیکن وہ تو۔۔"
وہ کچھ کہتے کہتے رکی تو سلویٰ نے اس کی جانب دیکھا۔ وہ بہت نرم سی نگاہ تھی۔۔ نرم اور اداس۔۔
"جانتی ہوں۔۔ وہ اب قرآن نہیں پڑھتا۔۔"
سرسراتی ہوا کے جھونکے کے باعث بہت سے زرد پتے ٹوٹ کر سبز سے باغ پر گرے تھے۔ یوں لگتا تھا گویا آسمان سے زرد پتوں کی بارش ہورہی ہو۔ چند پتے اس کے قدموں کے قریب آ کر بھی گرے تھے۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر ایک زرد پتہ اپنی انگلیوں سے تھام کر نگاہوں کے سامنے کیا تھا۔
"جانے وہ کتنی اذیت سے گزرتا ہوگا سلویٰ۔۔"
اس کی سرگوشی نے سلویٰ کی سماعتوں کو چھو لیا تھا۔ جبھی انہوں نے گہرا سانس خارج کر کے درختوں سے آنسو بن کر گرتے ان زرد پتوں کو دیکھا تھا۔
"مجھے لگتا ہے کہ اگر میں نے یہ قرآن چھوڑ دیا تو میں زندہ نہیں رہ سکونگی۔ اور وہ۔۔ اس نے اسے پا کر کھودیا۔ اس قرآن کو ایک طویل عرصے تک محبت سے پڑھنے کے بعد اس نے اسے گم کردیا۔۔ میں حیران ہوں کہ وہ اس سب کے بعد بھی زندہ کیسے رہ رہا ہے۔ وہ اتنا نارمل ایکٹ کیسے کرسکتا ہے۔۔؟ وہ ایسا کیسے کرسکتا ہے۔۔!"
بچے اب اٹھ اٹھ کر جانے لگے تھے۔ اکا دکا بچے اب باغ میں بیٹھے اپنا سبق ہل ہل کر دہرا رہے تھے۔ دو لڑکیاں اپنے خوبصورت چہروں کے گرد حجاب لپیٹے اس اترتی شام میں زرد پتوں کی بارش تلے بھیگ رہی تھیں۔ ایک لڑکی اداس تھی تو دوسری اس کی اداسی کی ساتھی۔۔
"اسے عادت ہوگٸ ہے رابیل۔ پہلے اسے خود کو نارمل دکھانے کے لیۓ محنت کرنی پڑتی تھی لیکن اب وہ بغیر کسی دقت کے یہ کام سر انجام دیتا ہے۔ وہ اب اس اذیت کا عادی ہوچکا ہے۔"
"کوٸ اذیت کا عادی کیسے ہوسکتا ہے سلویٰ۔۔!"
اس نے بے چینی سے ان کی جانب دیکھا تھا۔ وہ سرسراتی ہوا سے لہراتے پتوں کو دیکھتی ہولے سے مسکراٸ تھیں۔
"معاذ ہوسکتا ہے۔۔"
"کیا کوٸ راستہ نہیں ہے کہ ہم اسے اس کا قرآن لوٹا سکیں۔۔؟ میں اسے اسکا قرآن لوٹانا چاہتی ہوں۔۔ لیکن میرے ہاتھ خالی ہیں۔ میرے ہاتھوں میں محض میرے اباٶ اجداد کی بد اعمالیاں ہیں۔ میں ان اعمال کے ساتھ اس کی مدد کیسے کروں۔۔؟ یہ ایک احساس کے اس کی زندگی برباد کرنے میں میرے گھر والوں کا ہاتھ تھا، یہ ایک احساس مجھے کچوکے لگاتا ہے۔ یہ ایک احساس مجھے بہت تکلیف دیتا ہے سلویٰ۔۔"
اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا۔ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کر کے اس نے سامنے دیکھا۔ اس کا دل بہت دکھا ہوا تھا۔
"میں سمجھ سکتی ہوں رابیل۔ میں تمہاری کیفیت اور تمہاری بے بسی کا اندازہ لگا سکتی ہوں۔ کیونکہ انسان پر صرف اس کے اعمال نہیں بلکہ اس کے پرکھوں کے اعمال کا سایہ بھی ہوتا ہے اور ہم۔۔ ہم اس حقیقت سے نگاہ نہیں چرا سکتے۔ جو تمہارے گھر والوں نے کیا، بھلے ہی وہ اس کی سزا بھگت چکے ہوں لیکن ان سیاہ کاریوں کا ایک حصہ تمہیں ہمیشہ اذیت دیتا رہے گا۔ خون کے رشتوں کی لامتناہی اذیتوں کا شمار بھلا کیا بھی کیسے جاسکتا ہے۔۔!"
اس نے سر جھکا کر گود میں رکھے اپنے ہاتھ دیکھے تھے۔ کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ معاذ کے لیۓ کچھ بھی نہیں کرپاۓ گی۔ شاید وہ اس کے لیۓ صرف ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن کر، اس کی اذیت میں اضافے کا باعث بنتی رہے گی۔ اس کے معصوم سے مسلمان دل پر یہ بات بہت گہرا وار کیا کرتی تھی۔
"لیکن اس سب میں تم کہیں بھی قصور وار نہیں ہو پیاری۔ تمہارا دل تو اتنا صاف ہے کہ تکلیف اسے ہوتی ہے اور روتی تم ہو۔ وہ رونا نہیں جانتا تو اس کے حصے کی کمی کو تم پورا کرتی ہو۔ اسے دعا مانگنے نہیں آتی تو اس کے حصے کی دعاٸیں بھی تم مانگتی ہو۔ وہ قرآن نہیں پڑھتا تو تم اس کے حصے کا قرآن پڑھ کر اسے سناتی ہو۔ کیا تم اب بھی خود کو الزام دوگی۔۔؟"
انہوں نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔ اس کی پلکوں پر بہت سے آنسو لدے تھے۔ وہ آنسو باہر نہیں۔۔ وہ آنسو شاید کہیں اندر گررہے تھے۔ باغ اب بچوں سے مکمل طور پر خالی ہوچکا تھا۔ زرد پتے لہراتی ہوا کے ساتھ لہرا رہے تھے۔ درختوں کی لہلہلاتی ہوا کے جھونکوں پر سرسراتی جنبش روح تک کو سکون بخش رہی تھی۔ اس نے کبھی اتنی خوبصورت شام نہیں دیکھی تھی۔ اتنی اداس اور اتنی زرد۔۔
"میں اس کے لیۓ سب کچھ کرنا چاہتی ہوں سلویٰ۔ لیکن مجھے نہیں پتا کہ کیسے۔۔"
"تم جتنا کررہی ہو، جیسے کررہی ہو اور جو کررہی ہو وہ بہت ہے۔ پتا ہے معاذ نے پچھلے گزرے کٸ سالوں میں مجھ سے کبھی کسی لڑکی کے بارے میں بات نہیں کی۔ لیکن جب تم سے اس کا نکاح ہوا تو وہ گھر آ کر مجھ سے تمہاری باتیں کررہا تھا۔ میں پہلے تو بہت حیران ہوٸ تھی کیونکہ مجھے امید نہیں تھی کہ وہ کسی لڑکی کا ذکر مجھ سے کرے گا۔ مگر پھر اس کی آخری بات نے مجھے حیرت کے سمندر میں غرق کردیا تھا۔۔"
اس نے بھیگی پلکیں ان کی سبز آنکھوں پر جما رکھی تھیں۔
"اس نے کہا تھا کہ وہ ایک بہت معصوم لڑکی ہے۔ بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو جاتی ہے تو لوگ اس کا فاٸدہ اٹھاتے ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ توڑ دوں۔۔"
اس کی کتھٸ آنکھیں لمحے بھر کو پھیل سی گٸی تھیں۔ اسے سلویٰ سے اس انکشاف کی امید نہیں تھی۔
"وہ تمہاری قدرکرتا ہے رابیل۔ وہ تمہیں، تمارے بڑوں کے اعمال کے تناظر میں نہیں تولتا۔ یہ معاذ کا انداز نہیں ہے اسی لیۓ تم بھی اپنے دل کا بوجھ کم کرو اور خود کو اتنی مشکلات میں مت ڈالو۔ دعا مومن کا ہتھیار ہوتی ہے۔ تم اس ہتھیار کو اپنی طاقت بنا لو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہیں قرآن پڑھنے والا معاذ لوٹادے گا۔ دعاٶں کی تڑب راٸیگاں نہیں جاتی بچے۔ دعا کرو۔۔"
وہ اب اٹھ کر باغ میں بچھیں چاندنیاں سمیٹ رہی تھیں۔ اس نے بھی اپنی آنکھیں ہتھیلیوں سے رگڑیں اور سلویٰ کے ساتھ آگے بڑھ کر چاندنیاں اٹھانے لگی۔ انہوں نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا۔ اگلے ہی لمحات میں اب وہ دونوں لاٶنج میں جاۓ نماز بچھاۓ مغرب کی نماز پڑھ رہی تھیں۔ وہی سکینت والا پرانے طرز کا بنا گھر۔۔ طویل ٹیبل پر رکھے قرآنی نسخے اور کھڑکیوں سے اندر گرتی ہلکی ہلکی ہوا۔ اس نے نماز سے سلام پھیر کر دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ اور تب تک دعا مانگتی رہی جب تک اسے سلویٰ نے آواز دے کر متوجہ نہ کیا۔
"آجاٶ رابیل۔۔ اچھی سی چاۓ بناٸ ہے میں نے تمہارے لیۓ۔۔ اور ساتھ کوکیز بھی بیک کیۓ ہیں۔ تم نے میرے ہاتھ کے بیک کیۓ کوکیز ایک بار کھا لیۓ ناں تو تم سارے ذاٸقے بھول جاٶ گی۔۔"
اس نے ہلکے دل کے ساتھ مسکرا کر جاۓ نماز سمیٹا اور صوفوں کی جانب چلی آٸ۔ سینٹرل ٹیبل پر بہت میٹھی سے خوشبو میں بسے کوکیز رکھے تھے۔ وہ اب گردن گھما کر سلویٰ کی پھرتیاں دیکھ رہی تھی۔ چاۓ جلدی سے لا کر درمیانے ٹیبل پر رکھتے اب وہ ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ رہی تھیں۔ اور ایک بار پھر سے اس کا ایک اداس سا دن کسی قرآن والے کی کاوشوں سے خوشگوار ہوگیا تھا۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے لیۓ کہا گیا تھا کہ وہ ہر خسارے سے بچے ہوۓ ہوتے ہیں۔ ہاں وہی۔۔ جو ایک دوسرے کو صبر اور حق کی تلقین کرتے ہیں۔ وہی جو آخر تک صبر اور حق کا دامن ہاتھ سے پھسلنے نہیں دیتے۔۔ !
اسی پہر مغرب کے پھیلے اندھیرے میں ریسٹورینٹ کی سارے زرد قمقمے روشن تھے۔ شیشوں سے ڈھکے اس ریسٹوینٹ کے باہر کا ماحول خاصہ خنک تھا لیکن اندر کا ماحول بے حد نرم گرم سا تھا۔ شزا نے بھی ایک جانب شیشے کے ساتھ لگی کرسی پر بیٹھ کر اپنا پرس ٹیبل پر رکھا اور خاموشی سے آس پاس بیٹھے لوگوں کو دیکھنے لگی۔ جینز پر گلابی رنگ کا سوٸٹر پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ کھلے کتھٸ سے بال کندھوں پر ڈالے، پیر جوگرز میں قید کیۓ۔۔ معاذ کا انتظار بے چینی سے کرتی۔۔
اسی اثناء میں ویٹر اس کے ٹیبل پر کافی رکھنے کے لیۓ جھکا تو وہ چونکی۔ اس نے کافی آرڈر نہیں کی تھی۔ ابھی وہ چونکی ہی تھی کہ کچن سے نکل کر اسی طرف آتے معاذ پر اس کی نگاہ پڑی۔ گھبراتا دل سکون میں آگیا۔ جانے کیوں معاذ بھاٸ کے آس پاس ہونے پر وہ بہت محفوظ محسوس کرتی تھی۔
"السلام علیکم شزا۔۔ کیسی ہو۔۔؟"
اس کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھتا اس نے نرمی سے پوچھا تو وہ ہلکا پھلکا سا مسکراٸ۔۔
" وعلیکم سلام۔۔ میں ٹھیک معاذ بھاٸ۔۔ آپ۔۔؟"
"میں بھی سیٹ۔۔"
"یہ کافی۔۔ میں نے آرڈر نہیں کی ہے۔۔"
"تم پہلی دفعہ آٸ ہو میرے ریسٹورینٹ۔۔ میری طرف سے ٹریٹ سمجھ لو اس کافی کو۔۔"
وہ ہلکا سا مسکرا کر سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ اس نے نگاہیں جھکا کر کافی کو دیکھا۔ پھر یونہی کپ کر کناروں پر انگشت شہادت سے داٸرے بنانے لگی۔ اسے پتا تھا کہ اگلی بات بہت آکورڈ ہونے والی ہے۔
"کسی کو بتایا تم نے اس ہراسمنٹ کے بارے میں۔۔؟"
اس نے جھکا سر ہولے سے نفی میں ہلایا تھا۔ معاذ حتی الامکان نرمی سے بات کررہا تھا لیکن پھر بھی اس کا نروس رویہ وہ سمجھ سکتا تھا۔
"سب سے پہلے جب اپنے ساتھ ہوۓ ظلم کا اعتراف کرتے ہیں ناں تو سر اٹھا کر کرتے ہیں۔ یہ ظالم کے چہرے پر پہلا چانٹا ہوتا ہے۔ کبھی سر جھکا کر اپنے ساتھ ہوۓ ظلم کا اعتراف نہیں کرتے۔ یہ اپنے ساتھ بذات خود بہت بڑا ظلم ہے۔۔"
اور اس نے معاذ کو پہلی بار اتنی لمبی بات کرتے ہوۓ سنا تھا۔ عموماً یا تو وہ خاموش رہتا اور اگر جواب دے بھی دیتا تو اتنا مختصر کے آگے والے کو دوبارہ اس تک پہنچنے کا راستہ ہی نہ ملتا۔ لیکن اسے آج احساس ہوا تھا کہ یہ بندہ بولنا جانتا تھا۔۔ کیا ہوا جو وہ بولتا نہیں تھا تو۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے بولنا نہیں آتا تھا۔
"مجھے ڈر لگ رہا ہے معاذ بھاٸ۔۔"
اس نے آخر کار شکستہ سا سر اٹھا ہی لیا۔ وہ خاموش نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"مجھے پتا ہے کہ میرا سوال اب کہ دوسری نوعیت کا ہوگا لیکن مجھ سے صرف سچ بولنا شزا۔ جب تک تم مجھ سے سچ بولو گی میں صرف تب تک ہی تمہاری مدد کرسکونگا ہوں۔"
اس نے سمجھ کر اثبات میں سرہلایا تھا۔ وہ کہنیاں ٹیبل پر رکھتا ہلکا سا جھکا۔
"کیا تم بھی اس کے ساتھ انوالو ہو۔۔؟"
اور وہ سوال واقعی بہت چبھتا ہوا تھا۔ اگر وہ اسے پہلے ہی آگاہ نہ کردیتا تو اب تک وہ اٹھ کر یہاں سے جا چکی ہوتی۔
"نہیں معاذ بھاٸ۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ وہ ہمیشہ سے میرے لیۓ بڑے بھاٸیوں کی جگہ تھے۔ میں نے کبھی انہیں کوٸ غلط تاثر نہیں دیا۔ مجھے نہیں پتا کہ وہ کیوں اس طرح کر کے مجھے میری ہی نظروں میں گرا رہے ہیں۔۔"
اس کی آنکھوں میں بے ساختہ ہی پانی اترا تھا۔ وہ آہستہ سے پیچھے ہو کر بیٹھا۔ پھر اپنی جیب سے موباٸل نکال کر چند بٹن دباۓ۔ اگلے ہی پل اسکرین اس کے سامنے کی۔ وہاں اس کے اور ارحم کے واٹس ایپ میسجز کے اسکرین شارٹس تھے۔ اس کی آنکھیں تحیر سے پھیلی تھیں۔ کپ کو تھامے ہاتھ اگلے ہی پل لرز سے گۓ۔
"یہ کیا ہے شزا۔۔۔؟"
اس کی آواز سخت نہیں تھی، ناں ہی اس کے تاثرات میں کسی بھی قسم کے تناٶ کا شاٸبہ تھا لیکن اس کی وہ اندر تک اترتی آنکھیں۔۔ شزا کو اپنی گردن کے بال تک کھڑے ہوتے محسوس ہوۓ تھے۔ اس نے تھوک نگلا۔۔
"معاذ بھاٸ یہ بات کا غلط رنگ ہے۔ میں ان سے بات کرتی تھی واٹس ایپ پر مگر میں یہ سب صرف رابیل کے لیۓ کررہی تھی۔ ان دنوں پھپھو اور ارحم بھاٸ۔۔ دونوں ہی رابیل سے بدظن ہورہے تھے۔ بابا اور ماں دونوں بہت پریشان تھے اس رشتے کو لے کر۔ پھر میں نے فیصلہ کیا تھا ارحم بھاٸ سے بات کرنے کا۔۔ لیکن۔۔ لیکن پتا نہیں کیا ہوا۔۔ وہ کچھ دنوں بعد عجیب سے انداز میں بات کرنے لگے۔ مجھے ان کا وہ انداز بہت برا لگا تھا۔۔"
اس نے اس کی بات سن کر سر اثبات میں ہلایا اور پھر موباٸل کی اسکرین سیاہ کر کے فون جیب میں اڑسا۔
"پلیز معاذ بھاٸ مجھے جج مت کیجیۓ گا۔ میرا ارادہ کبھی بھی غلط نہیں تھا۔"
اس کے خاموش سے ردعمل پر اس نے جلدی سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔
"ہمارے یہاں کسی کو بھی جج نہیں کیا جاتا اور جو سوال میں نے تم سے پوچھے ہیں وہ معاملہ سمجھنے کے لۓ تھے۔ میں نے تم سے وہی سوال کیۓ جو کوٸ بھی دوسرا بندہ ان سکرین شارٹس کو دیکھنے کے بعد کرسکتا تھا۔"
"سب میری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔ مجھے انہیں پہلی دفعہ ہی میسج کرنے سے گریز کرنا چاہیۓ تھا۔"
"بالکل۔۔ لیکن ہم اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ اب یہ غلطی تمہارے لیۓ زندگی بھر کا سبق ہوگی کہ تمہیں کبھی بھی کسی لڑکے کو پراٸیوٹ میسج نہیں کرنا۔ یہ لڑکیوں کی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ اور دوسری بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان میسجز کا بلاجھجھک رپلاۓ کررہی ہوتی ہیں۔ اول بات تو یہ ہے کہ چاہے کوٸ لڑکا آپ سے بات کرنے کے لیۓ مر کیوں نہ رہا ہو آپ نے بغیر کسی وجہ کے اور اکیلے میں اس سے بات نہیں کرنی۔ چاہے وہ مررہا ہو۔۔ چاہے خود کو تکلیف پہنچا رہا ہو یا آپ کو اپنی تنہاٸ کا قصور وار ٹھہرا کر خود کو مظلوم ثابت کررہا ہو۔ آپ نے اس پر لعنت بھی نہیں بھیجنی۔ وہ مرے یا جیۓ یہ آپ کا سر درد نہیں ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لڑکیاں کتنے مزے سے چند فضول سے جملوں سے پگھل جاتی ہیں۔ اتنی سرد بنو کہ آگے والا بات کرنے سے پہلے ایک ہزار مرتبہ سوچے۔۔ تمہارا نرم رویہ پہلا زینہ ہے اس ساری کاررواٸ کا۔۔!"
اس نے تیزی سے سر ہلایا تھا۔ معاذ کی کسی بھی بات سے اسے کوٸ اختلاف نہیں تھا۔ وہ جو بھی کہہ رہا تھا ٹھیک کہہ رہا تھا۔
"لڑکے ایسے کیوں کرتے ہیں معاذ بھاٸ۔۔؟ ایسے بلاوجہ کسی کی زندگی کو عذاب کا شکار کر کے کیا مل جاتا ہے انہیں۔۔؟"
اس نے دکھ سے پوچھا تھا۔ وہ کندھے اچکاتا کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔
"سینس آف آنر۔۔ ہمارے یہاں ایک ایسا ماٸنڈ سیٹ بن گیا ہے کہ اگر لڑکے کسی لڑکی سے بات کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یا اسے اپنی باتوں سے بہلا کر کچھ بھی کروانے پر قادر ہیں۔ تو یہ۔۔ یہ ایک احساس لڑکوں کو سرشاری بخشتا ہے۔ میں سارے لڑکوں کی بات نہیں کررہا۔ میں ذہنی بیمار اور فارغ عوام کی بات کررہا ہوں۔ ایسے میں لڑکیوں کو چاہیۓ کہ خود کو محدود رکھیں، خود تک ہر کسی کو رساٸ نہ دیں، ہر ایک سے ہنس ہنس کر بات کرنے کی تو بالکل بھی ضرورت نہیں، جواب دیں لیکن ضرورت کا اور ٹھک کر کے۔ میں دیکھتا ہوں پھر کون سا لڑکا آ کر آپ کے انباکس میں یا پھر کسی شادی بیاہ میں بکواس کرتا ہے۔ پہلی اجازت ہمیشہ ہم دیتے ہیں شزا۔۔ یاد رکھو پہلے قدم سے قبل دوسرا قدم نہیں اٹھ سکتا۔۔"
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں معاذ بھاٸ۔۔ ہمیں خود کی حفاظت ہر حد تک خود ہی کرنی پڑے گی۔۔"
"اور جن لڑکیوں کے ساتھ ظلم ہوجاۓ تو انہیں چاہیۓ کہ آگے بڑھیں اور ظالم کی چمڑیاں ادھیڑ کر ان کے جسموں سے الگ کردیں۔ کسی بھی حالت میں خاموش نہ رہیں بس۔ آپ کی خاموشی آگے والے کو اور شیر بناتی ہے۔۔ ایک دفعہ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں ایسے لوگوں کو۔۔ آٸندہ کوٸ آپ کو غلط بات کرنے سے قبل اپنی شکل شیشے میں ضرور دیکھے گا۔۔“
اس نے بہت سا تھوک حلق سے نگل کر اپنی ٹھنڈی پڑتی کافی کو دیکھا تھا۔ ریسٹورینٹ میں معمول کی گہمی ہورہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر سے سر اٹھا کر معاذ کو دیکھا۔۔
”آپ نے مجھے کیوں بلایا تھا یہاں۔۔؟“
”تمہارا ڈر نکالنے کے لیۓ۔۔“
اس کی بات پر شزا سیدھی ہو بیٹھی۔
”مطلب کچھ کام آسکتی ہوں میں آپ کے۔۔۔؟“
وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی بات پر لمحے بھر کو مسکرایا تھا۔ اگر جو وہ اسے بتادیتا کہ وہ کتنے خطرناک لوگوں کے ساتھ زندہ رہا تھا تو شاید خوف سے اس کا سانس ہی بند ہوجاتا۔
”نہیں۔۔ بس ایک کام کرنا ہے تم نے۔۔“
اس نے سنبھل کر اسے دیکھا۔
”ارحم کے کسی بھی پیغام کا کوٸ جواب نہیں دینا تم نے۔ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔ اور اگر وہ کال کرے تو اپنی امی کو فون دینا۔ خود بات نہیں کرنا۔۔ باقی میں خود دیکھ لونگا اسے۔۔“
اس نے سر اثبات میں ہلا کر اسے بات ماننے کی یقین دہانی کرواٸ لیکن پھر یکدم رک گٸ۔۔
”آپ کیا کریں گے۔۔؟ کہیں مارنے پیٹنے کا تو نہیں سوچ رہے اسے۔۔؟“
”دیکھو شزا۔۔ ہر بندے کی ایک کمزوری ہوتی ہے۔ اور ارحم کی کمزوری جانتی ہو کیا ہے۔۔“
اس نے ایک بار پھر سے کہنیاں ٹیبل پر رکھی تھیں۔۔
”وہ واٸلنس برداشت نہیں کرسکتا۔ زبان کے بول پر اسے عبور حاصل ہے لیکن ہاتھ کی تکنیک میں وہ کہیں میل پیچھے کھڑا ہے۔ اسی لیۓ۔۔ ہم اسے وہیں سے پکڑیں گے جہاں پر وہ سب سے زیادہ کمزور ہے۔ ابھی وہ کچھ نہیں کررہا تو ہم بھی کچھ نہیں کریں گے۔ لیکن اگر وہ دوبارہ تمہاری جانب گھومے تو مجھے بتانا۔۔ میرے پاس بہت سے لوگ ہیں اس کی طبیعت درست کرنے کے لیۓ۔۔“
”اوکے۔۔ ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔۔“
اور اس نے بھی اب کہ سر ہلایا تھا۔ پھر کافی کا آخری گھونٹ لیتی اٹھ کھڑی ہوٸ۔ خدا حافظ کر کے باہر کی جانب بڑھی تو معاذ یونہی گردن پھیرے اسے جاتے ہوۓ دیکھتا رہا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔ کیونکہ کچن میں بہت سے برتن اس کے منتظر تھے۔ لیکن مسٸلہ تو یہ تھا کہ اپنے زخم کی وجہ سے وہ برتن نہیں دھو سکتا تھا۔ کیا مصیبت ہے۔۔!
اسے کوفت ہونے لگی تھی لیکن اگلے ہی لمحے اب وہ اچھے بچوں کی طرح کرسی پر بیٹھا ریسٹورینٹ کا حساب دیکھ رہا تھا۔ پھر پلٹ کر گھڑی کی جانب دیکھا۔ عشاء کی نماز میں بس کچھ ہی دیر تھی۔ اس نے گردن پھیری اور تیزی کے ساتھ کام سمیٹنے لگا۔
فیصل کو ریسٹورینٹ کا کہہ کر اپنی آستینیں کلاٸیوں پر برابر کرتے ہوۓ وہ باہر نکلا تو ایک سرسراتے جھونکے نے اسے چھو لیا۔ اس نے بے اختیار ہی اپنے ہاتھ جیب میں اڑسے تھے۔ آہستگی سے قدم اٹھاتا وہ گردن جھکاۓ سڑک کے کنارے چل رہا تھا۔ بار بار کسی بات پر سر جھٹکتا۔۔
”تیری ماں بدذات ہے۔۔!“
اس نے ان زہریلی آوازوں سے پیچھا چھڑاتے اپنا سارا بچپن گزار دیا تھا لیکن اس کی بد نصیبی تو یہ تھی کہ اپنے دماغ میں ہر آن ان آوازوں کو سنتے ہی وہ بڑا ہوا تھا۔
”میرے گھر میں ایسی بدکردار عورت کے لیۓ کوٸ جگہ نہیں ہوسکتی۔۔“
”کل رات تم کہاں تھیں بھابھی۔۔“
اس نے ایک جانب رک کر گہرے گہرے سانس لیۓ۔ پھر بہت سی گرہیں حلق سے اتار کر تیزی سے مسجد کی جانب بڑھنے لگا۔ اسے لگا وہ مزید اکیلا اس سڑک پر چلتا رہا تو پاگل ہوجاۓ گا۔
”تیری ماں زانیہ عورت ہے معاذ۔۔!“
اس نے عجلت میں مسجد میں داخل ہو کر ایک ہاتھ دروازے پر رکھ کر گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اس سیاہ رات کا دھواں بھرنے لگا تھا۔ اس کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر خود کو آرام دہ کرنے کی کوشش کی اور پھر تھکے قدموں سے آگے بڑھ آیا۔ کبھی کبھی یہ سوچیں اسے ایسے ہی پاگل کردیا کرتی تھیں۔ لیکن کوٸ آواز سی تھی جو اس کی سوچوں کی اس زہریلی سی تان کو توڑ رہی تھی۔ وہ اپنی جگہ ہی جم گیا۔ آنکھیں پتھرا گٸ تھیں اور یوں لگتا تھا کسی نے سانس تک روک دیا ہو۔
”وقالت اولھم لاخرٰھم فما کان لکم علینا من فضل فذوقو العذاب بما کنتم تکسبون“
وہ اپنی جگہ ہی ساکت ہوگیا تھا۔ سامنے دریوں پر ایک بارہ تیرہ سالہ بیٹھا بچہ اپنا حفظ کیا قرآن استاد کو سنا رہا تھا۔ لیکن روانی کے ساتھ سناتے سناتے جانے وہ کیسے اسی آیت پر رک گیا۔ استاد نے نرمی سے اس کی جانب دیکھ کر دوبارہ سے پچھلی آیت پڑھنے کا کہا تو وہ ایک بار پھر سے وہی آیت پڑھنے لگا۔ لیکن معاذ۔۔ اسے کسی اور بات نے جما دیا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا مسجد کے یخ ٹاٸلز نے اس کے قدموں کو برف کردیا ہو۔
”ان الذین کذبو بایتنا استکبرو عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء۔۔“
لیکن اس کی اگلی آیت اس بچے نے نہیں پڑھی تھی۔ نا ہی یہ آیت اس کے استاد نے پڑھی تھی بلکہ یہ تو۔۔ تو بے ساختہ اس کے لبوں سے پھسل گٸ تھی۔ استاد اور بچے دونوں نے اس کی جانب نا سمجھی سے دیکھا۔ وہ میکانکی انداز میں آگے پڑھنے لگا تھا۔۔
”ولا یدخلون الجنتہ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط۔۔“
اور ان لفظوں کے ساتھ ہی وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔ یہ آیات۔۔ یہ سورہ اعراف کی آیات اسے کیسے یاد تھیں۔۔! اس نے تو اپنا قرآن بھلادیا تھا۔۔ اس نے تو اس قرآن کو عرصہ ہوا چھوڑ دیا تھا۔۔ لیکن پھر یہ آیتیں۔۔ یہ اس کی یاد کا حصہ کیسے تھیں۔۔ اس نے کانپتے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔۔ لفظ خود بخود اس کے لبوں سے پھسلتے جارہے تھے۔۔
”وکذالک نجزی المجرمین“
(سورہ اعراف/ 40)
”آپ کیا حافظ ہیں۔۔؟“
استاد مسکرا کر اس سے مصافحہ کرنے اٹھے لیکن وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوا تھا۔ حافظ۔۔ نہیں۔۔ وہ حافظ نہیں تھا۔۔ اس نے اپنا قرآن بھلادیا تھا۔۔ پھر یہ قرآن اسے کیسے یاد تھا۔۔ خشک پڑتے حلق اور سفید ہونٹوں کے ساتھ اس نے اگلی آیت پڑھنے کے لیۓ لب وا کیۓ تو الفاظ ٹوٹ کر ادا ہونے لگے۔۔
”لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش“
اس کی کنپٹی سے پسینہ پھوٹ کر گردن میں لڑھکا تھا۔ بلکہ اس کا تو سارا جسم ہی پسینے میں نہا گیا تھا۔ اسے یہ آیات یاد تھیں۔۔ خدایا۔۔ اسے قرآن یاد تھا۔۔
”وکذالک نجزی الظلمین“
(سورہ اعراف/50)
اس نے اپنے قدم باہر کی جانب پھیرے اور تیزی سے باہر بھاگا۔ اس کے قدم بہت بری طرح لرز رہے تھے۔ سارے جسم سے کوٸ جان سلب کررہا تھا۔ مسجد کا وہ سکون آور سا ماحول اس کے اعصاب پر کوڑے برسانے لگا تو وہ وہاں سے بھاگ آیا۔ اسے قرآن یاد تھا۔۔ اسے اس سے آگے کی آیتیں بھی یاد تھیں۔۔ اس نے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ اس قرآن کے ساتھ گزارا تھا بھلا وہ اسے کیسے بھول سکتا تھا۔ اسی پہر رابیل نے سورہ اعراف کی ان آیات کو پڑھ کر قرآن کو چند لمحے دیکھا اور پھر آہستہ سے اس کا جگمگاتا دروازہ بند کردیا۔ ہر جانب خاموشی چھا گٸ۔ ہر طرف اندھیرا پھیل گیا۔ سڑک کے کنارے، گھٹنوں کے بل جھکا لڑکا اب تیز تیز کچھ پڑھ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم بوجھ سے ٹوٹنے لگا تھا کیونکہ وہ کلام۔۔ وہ کلام بہت بھاری تھا۔۔ اتنا بھاری کہ اس کی روح فنا ہونے لگی تھی۔
”اور اگر تم دیکھو اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل ہوتے، تو وہ اللہ کے خوف سے دب جاۓ گا۔۔!“
(سورہ حشر)
اگر ایک پہاڑ اللہ کے خوف سے دب کر ریزہ ریزہ ہوسکتا تھا تو معاذ تو پھر ایک انسان تھا۔۔ وہ انسان جس نے اسے یاد کر کے بھلادینے جیسے عظیم جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ کیا اسے لگتا تھا کہ یہ قرآن اسے بغیر کسی اذیت کے واپس مل سکتا تھا۔۔! کیا واقعی ایسا ہوسکتا تھا۔۔؟ ہر گز نہیں۔۔!
