Kahaf Episode 12

 #Do_not_copy_paste_without_my_prmission 

کہف 

بقلم_رابعہ_خان 

بارھویں_قسط

رابیل نے قرآن کا دروازہ بند کیا تو ہر جانب خاموشی چھا گٸ۔ گہری اور دبیز خاموشی۔۔ تہہ در تہہ ٹھنڈی آہوں اور بہت سے گزرے اوقات سے بوجھل خاموشی۔۔ بھاری اور بھیانک خاموشی۔۔ 

وہ جو گھٹنوں کے بل جھکا تھا اگلے ہی لمحے گہرے گہرے سانس لیتا سیدھا ہوا۔ دل جیسے بند ہونے لگا تھا۔ سب کچھ اس کے ہاتھ سے پھسل کر ریت کی طرح فضا میں تحلیل ہورہا تھا۔ اس نے مٹھی بند کر کے گھٹتے سینے پر ماری۔ سانس لینے میں جانے کیوں دشواری سی ہونے لگی تھی۔ اس نے ماتھے پر گرتے بال ایک ہاتھ سے پیچھے کیۓ اور چند پل یونہی بالوں کو پیچھے تھامے خالی خالی سا کھڑا رہا۔ اس سڑک پر بہت سے لوگ اب کے اسے دیکھ کر گزرنے لگے تھے۔ اس کی حالت ہی کچھ اس طرح تھی۔ اس نے پانی پانی سی آنکھوں کو دونوں ہتھیلیوں سے رگڑا۔ پھر تھک کر سڑک کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر پہلے گزرا واقعہ بہت بھاری تھا۔ کچھ لمحات بلاشبہ بہت وزنی ہوا کرتے ہیں۔ انسان کی ساری طاقت سینچ لیتے ہیں۔۔ اور اسے یوں۔۔ نڈھال کر کے ایک جانب کو ڈال دیتے ہیں۔ جیسے وہ ابھی اس سڑک کے کنارے تھکا سا بیٹھا تھا۔ 

اس نے دوبارہ ان آیات کو دہرانے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔ وہ ان کو دوبارہ یاد کرکے اپنی زبان سے ادا کرنے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا۔ اسے تو ان چند آیتوں نے ہی اس قدر نڈھال کردیا تھا کہ حد نہیں۔۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ ساری زندگی جسمانی مشقت کرتا رہا ہو۔ اس کے جسم کا ہر عضو تھکن سے چور ہورہا تھا۔ وہ ان چند لمحوں کا وزنی سا تاثر برداشت نہیں کرپایا تھا۔۔ وہ اس پورے قرآن کو جانے کیسے برداشت کرپاۓ گا۔۔! وہ پتا نہیں اس کا بوجھ کیسے اٹھا سکے گا۔۔؟ اکثر اسے خود پر حیرت بھی ہوتی تھی۔۔ کیسے وہ تیرہ سال کی چھوٹی سی عمر میں پورا قرآن حفظ کیۓ ہوۓ تھا۔۔ نا صرف حفظ۔۔ بلکہ اسے اس کی دہراٸ۔۔ اس کے ہر ایک سے دورے لفظ تک رساٸ۔۔ اس کی گردان۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارنا۔۔ یہ سب باتیں اس کے معمول کا حصہ تھیں۔۔ بلکہ یہ باتیں تو اس کی زندگی کا حصہ تھیں لیکن اب۔۔ اس لمحے۔۔ اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اس قرآن کے لیۓ کمزور پڑگیا تھا۔ جسمانی طور پر طاقت ور ہونے کے باوجود بھی وہ روحانی طور پر بہت کمزور تھا۔۔ 

"بہت سے لوگ جسمانی طور پر کمزور ہو کر بھی اس قرآن کو لے لیتے ہیں۔ جانتے ہیں کیوں۔۔؟" 

اس نے گیلی سانس اندر کو کھینچی تھی۔ پھر آہستہ سے لرزتا ہاتھ سڑک کنارے پر رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ اس کی ٹانگیں اب بھی لرزش کے زیر اثر تھیں۔ اس نے لڑکھڑاتے قدم آگے بڑھاۓ۔ روح اس قدر بوجھل ہورہی تھی کہ اس کا جسمانی اثر وہ اب کہ محسوس کرنے لگا تھا۔ اس کے کندھے بے حد بھاری ہورہے تھے۔ قدم آگے بڑھاتے اسے احساس ہورہا تھا کہ وہ جلد یا بدیر کہیں گر کر بے ہوش ہونے والا ہے۔ 

"ایسا اس لیۓ ہوتا ہے کیونکہ ہم اسے ہی بڑا کرتے ہیں جس پر ہم محنت کرتے ہیں۔ جس پر ہم اپنی ساری زندگی صرف کردیتے ہیں۔ جانتے ہیں ناں کہ ہم انسان اچھاٸ اور براٸ کے ساتھ پیدا کیۓ گۓ ہیں۔ انسان تو ہوتا ہی وہ ہے جو سیاہ و سفید تاثرات کے ساتھ پیدا کیا جاۓ۔ بالکل سفید اور جگمگاتا ہوا تو فرشتہ ہوتا ہے، انسان نہیں۔۔ اور بہت سیاہ تو شیطان ہوتا ہے۔۔ انسان نہیں۔۔ لیکن پھر بھی ہم پر وہی رنگ گہرا ہونے لگتا ہے جس کی صحبت میں ہم زندہ رہتے ہیں۔۔!" 

اس کے لرزتے قدم اب بھی آگے بڑھ رہے تھے اور اب اسے اندازہ تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ وہ اس جگہ ضرور جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کا وجود تھکن سے ٹوٹ رہا تھا۔ وہ اس جگہ جا کر سوجانا چاہتا تھا۔۔ ایک لمبی نیند۔۔ جس سے جاگنے کے بعد وہ، وہی تیرہ سالہ معاذ بن جاتا۔۔ کہ جس کا قرآن اس کے پاس تھا۔ وہ اسے پڑھ کر یا سن کر بوجھل نہیں ہوتا تھا۔ 

"جسمانی طور پر کمزور لوگ اکثر اس قرآن کو اتنی آسانی سے خود میں اسی لیۓ اتارلیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اندر موجود اچھاٸ کے فرشتے کے ساتھ زندہ رہنے کو چنتے ہیں۔ وہ اپنا وقت اس فرشتے کے ساتھ گزارتے ہیں۔۔ وہ اپنی طبیعت کو اس فرشتے کی طبیعت کے ساتھ ڈھال لیتے ہیں۔۔ تبھی تو وہ اس قرآن کو پورا کا پورا لینے پر قادر ہوتے ہیں۔۔ لیکن پھر کچھ لوگ۔۔!" 

اس نے ہڈی سر پر ڈالی۔۔ اس سے اس کا چہرہ کافی حد تک ڈھک گیا تھا۔ صرف ہونٹ اور ٹھوڑی واضح تھی۔ باقی کا سارا چہرہ سیاہی کا حصہ لگتا تھا۔ اس کی سپاٹ آنکھیں اب کہ اس سخت سی سڑک پر تھیں کہ جس پر وہ تیز قدموں سے چلتا آنے والا ہر لمحہ روند رہا تھا۔ وہ اپنے قدموں تلے، اپنی ذات تک کو روند دینا چاہتا تھا۔ وہ اس تکلیف دہ چکر کو اب بس ختم کرنا چاہتا تھا۔۔! 

"لیکن پھر کچھ لوگ معاذ جیسے ہوتے ہیں۔۔ جو اپنے فرشتے پر، اندر موجود شیطان کو چن لیتے ہیں۔۔ اور یاد رکھیۓ۔۔ انسان کی پیداٸش کے ساتھ ہی اس کا فرشتہ اور شیطان پیدا کردیا جاتا ہے۔ پھر یہ اس انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس کو اپنا ساتھی بنانا چاہتا ہے۔ فرشتے یا پھر شیطان کو۔۔!" 

اس کی جھکی گردن میں بار بار گلٹی ابھر کر معدوم ہونے لگی تھی۔ خشک پڑتے حلق اور سرخ سی خشک آنکھوں میں جلن سی ہونے لگی۔ جانے یہ جلن کب اس کا پیچھا چھوڑنے والی تھی۔۔ وہ اس سب سے دور جانا چاہتا تھا۔۔ بہت دور۔۔ وہ اپنے آپ سے بھی دور جانا چاہتا تھا۔۔ کسی ایسی دنیا میں جہاں اس سیاہی اور سفیدی کی جنگ کا نام و نشان تک نہ ہوتا۔۔ جہاں وہ اپنے اصل نفس کے ساتھ زندہ رہ سکتا۔۔ کاش کہ وہ ایسی کسی جگہ جاسکتا۔۔ 

"اور جانتے ہیں۔۔ اس نے اپنے فرشتے پر شیطان کو چن لیا تھا۔۔! اس نے اسی شیطان کو بڑا کیا تھا۔۔لیکن عجیب بات تو یہ تھی کہ وہ فرشتہ بھی اس کے اندر ہی سانس لے رہا تھا۔۔" 

اس نے قبرستان کے سنسان راستے کو دیکھا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ اس راستے پر الوٶں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ دور دور تک پھیلی اس وحشت میں اس کا سانس نا ہموار ہونے لگا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی آگے بڑھتا گیا۔۔ ان سیاہ راستوں پر چلتے اس کے اندر کا شیطان دم توڑنے لگا تھا۔۔ سیاہی پر سفیدی غالب آنے لگی تھی۔۔ اچھاٸ، براٸ کا راستہ کاٹ رہی تھی۔ اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ بلاشبہ انسان بہت ہی پچیدہ طرز پر پیدا کیا گیا ہے۔ خدا ہمیں، ہماری ہی الجھنوں سے پناہ میں رکھے۔۔!

اس نے ایک قبر پر رک کر خالی خالی سی نگاہوں سے آس پاس دیکھا۔ دور دور تک پھیلے قبرستان کی سیاہی بھی اسے خوفزدہ نہیں کررہی تھی۔ ہوا کے چلتے جھکڑوں سے زمین پر گرے بہت سے پتے ایک ساتھ لہراۓ تو عجیب سی سرسراہٹ ابھری۔ سویا ہوا قبرستان اس سرسراہٹ پر جھنجھنا اٹھا تھا لیکن وہ اسی خاموشی سے گردن جھکا کر اس قبر کو دیکھے گیا۔۔ اس قبر کو۔۔ کہ جو اس سیاہ قبرستان میں بھی روشن اور پرسکون تھی۔۔ اس سیاہی میں بھی سفیدی کا عکس تھی۔۔ ایک تیز جھونکے سے بہت سے درخت جھومے تھے۔۔ اس نے سر نہیں اٹھایا۔۔ خاموشی سے اس قبر کو دیکھے گیا۔ اس کے اندر کی سیاہی غاٸب ہونے لگی۔ پھر اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھاۓ۔۔ سر سے ہڈی اتار کر پیچھے گردن پر ڈالی۔ اس کے بال اب کہ ہوا سے لہرا کر ماتھے پر گررہے تھے۔ آہستہ سے گھٹنوں کے بل بیٹھتے وہ اس قبر ہی کو دیکھ رہا تھا۔ 

پھر ہولے سے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی خشک مٹی چھوٸ۔ رگوں تک میں ٹھنڈک پھیل گٸ تھی ۔۔ جلتی سانسوں کے درمیان کچھ بہت پرسکون سا تحلیل ہونے لگا تھا۔ 

"آپ میرے لیۓ آنسو ہیں ماں۔ وہ آنسو کہ جس کے گرنے کے بعد انسان کا اندر کچھ اور بوجھل ہوجایا کرتا ہے۔۔" 

سرسراتی ہوا کی خوفناک سرگوشیاں دم توڑنے لگی تھیں۔ 

"آپ میرا خوف ہیں۔۔ وہ خوف جو انسان سے زندگی کا آخری قطرہ بھی سینچ لیتا ہے۔۔" 

اس کی آواز بے حد مدھم تھی۔۔ وہ اس پل ٹوٹ رہا تھا۔ یا یوں کہنا چاہیۓ کہ ٹوٹ کر جڑ رہا تھا۔ سفیدی، سیاہی میں گھلنے لگی تھی۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ عکس کیا ہے اور اصل کیا۔۔! 

"یہ تھکن کیوں ختم نہیں ہوتی ماں۔۔؟ آپ کے جانے کے بعد اس تھکن نے کیوں میرے وجود میں بسیرا کر لیا ہے۔۔؟ میں سوچتا ہوں اور ناکام رہتا ہوں۔۔ میرے لیۓ آپکا وجود بہت اہم تھا۔۔ یہ تو مجھے آپ کے جانے کے بعد پتا چلا کہ میں تو سانس بھی آپکو دیکھ کر لیا کرتا تھا۔۔ اب تو لگتا ہے عرصے سے زندہ تک نہیں ہوں۔" 

پرسکون سی قبر سے خوشبو سی آنے لگی تھی۔ ہاں۔۔ اپنی براٸ پر اچھاٸ کو چننے والوں کی قبریں یونہی روشن رہا کرتی تھیں۔۔ 

"مجھے میری اپنی ہی سیاہی سے خوف آتا ہے ماں۔ میں خود سے ڈرتا ہوں۔ میں اپنا غلام بن گیا ہوں۔۔ میں نے اپنے نفس کو چن لیا ہے۔ میں نے خود کو کھودیا ہے ماں۔۔ وہ معاذ کھو گیا ہے جو آپ کو سورہ کہف سنایا کرتا تھا۔۔" 

اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔ اور پھر وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر رو پڑا۔۔ جیسے چھوٹے بچے روتے ہیں۔۔ روتے روتے وہ اس قبر کے برابر بے دم سا بیٹھ گیا تھا۔ تیرتی ہوا ساکت ہوگٸ تھی۔ بہت س جھکڑ اب کہ مڑ مڑ کر اب کہ اس لڑکے کو دیکھنے لگے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی روتا رہا۔ وہ بہت سارا رونا چاہتا تھا۔ وہ ان گزرے اوقات کا ہر زہریلا لمحہ اپنی ذات سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہتا تھا۔ 

"میں نے اپنا۔۔ قرآن بھلادیا ماں۔۔! میں اب آسمانوں میں بہت برے نام سے یاد کیا جاتا ہوں۔۔ میں اس سب سے کیسے نکلوں۔۔ میں تھک گیا ہوں ماں۔۔ مجھے آپ کی گود میں سر رکھ کر سونا ہے۔ مجھے آپ کی گود میں سر رکھ کر بہت سارا رونا ہے۔۔" 

اس نے آنکھیں رگڑیں لیکن اندر جمع برسوں کی برف گویا پگھل کر اس کی آنکھوں کے راستے باہر گرنے لگی تھی۔ رگوں میں ٹوٹے کانچ سے بکھر کر زخمی سے اذیت دینے لگے تھے۔ وہ کسی کہانی کا بہت سیاہ کردار لگتا تھا۔۔ زخمی اور سیاہ۔۔ 

"بچپن کی الجھنیں زندگی بھر انسان کا ساتھ نہیں چھوڑا کرتیں ماں۔۔ مجھے لگتا ہے کہ میں جسمانی طور پر تو وقت میں سفر کرتا رہا ہوں مگر کہیں اندر۔۔ میری ذات کا ایک حصہ آپ کے ساتھ ہی ٹھہر گیا ہے۔۔ اور اس ایک حصے کی تکلیف میری زندگی کے سارے عرصے کا احاطہ کیۓ ہوۓ ہے۔۔" 

یکایک اسے احساس ہوا کہ کوٸ اس کے ساتھ آکھڑا ہوا ہے۔ اس نے سر نہیں اٹھایا۔۔ وہ اس الوژن (سراب) کا شکار بہت بار ہوا تھا۔۔ وہ ایک بار پھر سے اس تکلیف دہ سے سراب کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا ۔۔ کیونکہ سراب۔۔ 

اس نے جھکا سر اٹھایا۔ وہ بالکل اس سے فاصلے پر کھڑی تھیں۔۔ سفید سے لباس میں ملبوس۔۔ اسی دھویں کا حصہ۔۔ جو ان کے یوں سامنے آجانے پر ہر سو پھیل جایا کرتا تھا۔ وہ میکانکی انداز میں ان کی جانب بڑھا تھا۔ لیکن وہ ہر لمحہ اس سے دور ہوتی جارہی تھیں۔ 

سراب حقیقت سے زیادہ تکلیف دیا کرتے تھے۔۔! 

"معاذ۔۔ شیطان سے پناہ مانگو۔۔" 

کسی نے اس کے بے حد قریب سرگوشی کی تھی۔ وہ یکدم اس جادوٸ سے الوژن سے چونکا تھا۔ حبیبہ اس لباس میں، نرمی سے مسکراتی ہوٸ اسے اپنی جانب بلارہی تھیں۔۔ لیکن وہ مسکراہٹ۔۔ وہ مسکراہٹ ٹھیک نہیں تھی۔۔ وہ مسکراہٹ دھوکے میں ڈالا کرتی تھی۔۔ 

"معاذ۔۔ اللہ سے شیطان کی پناہ طلب کرو۔۔" 

یکدم اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ نظروں کے سامنے پھیلا دھوکہ، کچھ اور نہیں اس کا اپنا نفس ہی تھا۔ جو اسے وہ دکھا رہا تھا جو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ حبیبہ نہیں تھیں۔۔ وہ تو اس کے اندر پنپتی برسوں کی خواہش تھی۔ 

"اللہ سے۔۔ پناہ۔۔ مانگو۔۔ معاذ۔۔" 

اسکی سماعت پر گرتی وہ آواز بہت جانی پہچانی تھی۔ اس کے لب بہت ہولے سے ہلے تھے۔ یاد کے پردوں پر نقش بہت پرانی سی آیت اس کے ذہن میں جگمگاٸ تھی۔ 

"رب اعذوبک من ھمزات الشیاطین۔۔" 

(اے پروردگار میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔) 

حبیبہ کی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ۔ اس کے آیت پڑھنے پر وہ الوژن ناخوش ہوا تھا۔ اس نے اس کی جانب قدم بڑھاۓ لیکن پھر اگلے ہی لمحے ٹھہر گیا۔ وہ دھواں فضا میں تحلیل ہونے لگا تھا۔۔ وہ عکس۔۔ اس آیت پر اپنا وجود سہار نہیں پارہا تھا۔۔ وہ بلاشبہ شیطان کی جانب سے تھا۔۔ اسے دھوکے میں ڈالنے کے لیۓ۔۔ اسے اس سے پناہ طلب کرنی ہی تھی۔ اگر وہ یونہی اس عکس کو تکنے لگتا، تو جلد ہی اپنی بصارت سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ وہ دل سے اندھا ہوجاتا۔ اس کی آنکھیں روشن رہتیں اور دل نابینا ہوجاتا۔ کیونکہ کچھ حلال خواہشات بھی۔۔ اک خاص مقام پر جا کر حرام ہوجاتی ہیں۔۔ ان خواہشات کا وجود بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی انسان کو اللہ سے دور کرنے کا باعث بنتی ہے۔۔ وہ بھی اس سارے عرصے میں صرف اپنی ماں کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ وہ ان کے لیۓ اپنا قرآن دوبارہ یاد کرنا چاہتا تھا، وہ مساجد میں نمازیں انہیں سرخرو کرنے کے لیۓ پڑھانا چاہتا تھا اور بلاشبہ۔۔ بلاشبہ وہ یہاں شرک کا مرتکب ہورہا تھا۔ 

عرصے بعد جیسے اس پر اپنے ہی اعمال کا انکشاف ہوا تھا۔ اور وہ ساکت ہوا اس انکشاف پر آنکھیں پھیلاۓ اس عکس کو دیکھے گیا تھا۔۔ وہ عکس اب بہت آہستگی سے فضا میں گھلنے لگا تھا۔ یہ وہ عکس تھا جس نے اسے بہت پہلے قید میں ڈالا تھا۔۔ کیا تمہیں یاد ہے۔۔ وہ کب اس عکس کا شکار ہوا تھا۔۔؟ ہاں اسی رات۔۔ اسی رات جس رات وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا ساری رات روتا رہا تھا۔ وہ، اس پر شیطان کا پہلا وار تھا۔۔ جبھی تو اس نے معاذ کو کھو دیا تھا۔۔ کیونکہ وہ اس الوژن پر کسی حقیقت کی طرح یقین کرنے لگا تھا۔ اس کے آگے گزرے ایام دھواں دھواں ہونے لگے۔۔ معاذ احمد شعراوی جانتا تھا کہ اس نے کیا کردیا تھا۔۔! 

"واعوذوبک رب ایحضرون " 

(اور اے میرے پروردگار اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ موجود ہوں۔۔) 

اس کے لب بے آواز ہلے تھے۔۔ وہ عکس فضا میں گھل کر غاٸب ہوگیا۔۔ الوژن ختم ہوگیا۔۔ سحر ٹوٹ گیا۔۔ شیطان کمزور پڑنے لگا تھا۔ اس کے قدموں سے جان یکدم ختم ہوٸ تھی۔۔ یوں لگتا تھا ساری ہمت اس سراب کے ساتھ ہی ختم ہوگٸ ہو۔ وہ خود کو بے حد کمزور محسوس کرنے لگا تھا۔ زیر لب تیزی سے ان آیات کی گردان کرتے ہوۓ اب وہ مسلسل اپنا سر نفی میں ہلا رہا تھا۔ بچپن کی الجھنیں زندگی بھر انسان کے ساتھ رہا کرتی ہیں۔ وہ الجھنیں آج بھی اس کے اندر گرہوں کی صورت موجود تھیں۔ اسی لیۓ غلطی کرتے وقت اسے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ وہ کیا کررہا ہے۔۔! وہ اس سارے عرصے میں شرک کا مرتکب ہورہا تھا۔۔ وہ اللہ کو خوش کرنے کے بجاۓ اپنی ماں کو خوش کرنا چاہتا تھا۔۔ اس نے اللہ کی عبادت کرنے نے بجاۓ اپنی ماں کی پرستش کی تھی۔۔ ان کی یاد میں اس نے اپنی زندگی برباد کر لی تھی۔ اس نے اللہ کی جگہ کسی اور کو دینے کی کوشش کی تھی۔ اس نے اپنی تکلیفوں کو اپنا الہٰ بنا لیا تھا۔ معاذ نے بہت بڑی کوتاہی کر ڈالی تھی۔ معاذ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوگٸ تھی۔۔ 

زیر لب وہ آیت مسلسل پڑھتے اسے لگا جیسے اس کے وجود کے گرد بندھی زنجیریں ٹوٹتی جارہی ہیں۔ اس کا وجود آزاد ہونے لگا تھا۔ بہت وقت بعد وہ اپنی ماں کی اس زہریلی یاد سے نکلنے لگا تھا۔ اس کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔۔ بے حد تیزی سے۔۔ رگوں میں تیرتا لہو، دل کے آس پاس جمع ہونے لگا تھا۔ اس کی گردان جاری تھی۔ اسے اس سارے دھوکے سے پناہ طلب کرنی ہی تھی۔ اس نے پہلے ہی بہت دیر کردی تھی۔ پیچھے ایک نظر دیکھے بغیر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس سرسراتے قبرستان سے نکل رہا تھا۔ بہت سی آوازیں اس کا پیچھا کرنے لگی تھیں۔ وہ ان آوازوں اور ان یادوں کو اب زندگی بھر کبھی یوں یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اب ان سے آزادی چاہتا تھا۔ 

"اوعوذبک" 

(میں پناہ طلب کرتا ہوں) 

اس کی لب بہت تیزی سے ہل رہے تھے۔ بال ماتھے پر گر کر اڑ رہے تھے۔ لیکن وہ پیچھے ایک دفعہ بھی دیکھے بغیر اس دنیا اور اس کی بھول بھلیوں سے بہت دور جارہا تھا۔ اب کہ صرف اتنا ہی دکھاٸ دے رہا تھا کہ ایک لڑکا۔۔ ہڈی پہنے۔۔ بازو سے گلابی آنکھیں رگڑتا۔۔ تیز قدم اٹھاتا۔۔ اس تاریکی سے دور ہوتا جارہا تھا۔ اس بات سے یکسر بے خبر ہو کر کہ اس کے تاریک کہف میں وہ گل ہوتی روشنی اب کہ بکھرنے لگی تھی۔۔ وہ روشنی۔۔ جس نے رابیل کا راستہ بھی روک رکھا تھا۔۔ وہ روشنی جس نے اس کو ایک عرصے تک سیاہی میں رکھا تھا۔۔ ہاں وہ ہی روشنی۔۔ جو کنارے پر آہستہ سے ڈوبنے لگی تھی۔۔ ان کے اس سیاہ کہف کی دیواریں واضح ہونے لگی تھی۔۔ قدیم زمانوں کا سحر ٹوٹنے لگا تھا۔۔ 

اس نے بھاگتے ہوۓ وہ سڑک عبور کی اور آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔ اس کا جسم آج ہوا سے بھی زیادہ ہلکا تھا اور کندھے ہر بوجھ سے آزاد تھے۔ اسے آج اس کے اعمال کے بوجھ سے آزادی مل گٸ تھی۔ اس کے گرد پھیلی وہ سیاہی عنقا ہونے لگی تھی۔ 

"معاذ کی ذات سے ہٹ کر میں آپ سب کو ایک بہت اہم بات بتانا چاہتی ہوں۔!"

اس کے بھاگتے قدم سڑک کو روند رہے تھے۔ 

"جب انسان ایک لمبے عرصے تک کسی گناہ کا ارتکاب کرتا رہتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے اندر بچی روشنی کا آخری ذرّہ بھی کھودیتا ہے۔ تب اسے اپنے آس پاس کچھ بھی دکھاٸ نہیں دیتا ہے۔ وہ اس گناہ کی سیاہی میں اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ اسے اپنا غلط بھی ٹھیک لگنے لگتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کے کسی غار میں یونہی بند ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر۔۔ جب عرصے بعد۔۔ انسان کی ذات کے اندر کی۔۔  وہ باریک سی روشنی چمکتی ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ساری زندگی۔۔ سراب کے پیچھے بھاگتا رہا تھا۔۔ وہ اس حقیقت کا پیچھا کرتا رہا تھا کہ جس کا وجود تھا ہی نہیں۔ لیکن جانتے ہیں کہ یہ ادراک انسان کو کب ہوتا ہے۔۔" 

اس نے ایک جانب رک کر ہڈی سر پر ڈالی تھی۔ جیبوں میں ہاتھ اڑسے اور پھر ہموار قدموں کے ساتھ دھیمی چال چلنے لگا۔ اس کے آس پاس اب کہ صرف وہ پاکیزہ سی روشنی تھی۔ وہ ہی روشنی جو اس سے کھو گٸ تھی۔۔ وہ روشنی ایک بار پھر سے اس پر وارد ہورہی تھی۔ 

"انسان کو اپنی زندگی کے سراب ہوجانے کا ادراک تب ہوتا ہے جب وہ اپنی قبر سے اس بڑے دن میں اٹھایا جاتا ہے۔ ایک ایسے دن میں اٹھایا جاتا ہے جس دن۔۔ زندگی شروع ہوجاتی ہے اور موت۔۔" 

اس نے اپنے قدم مسجد کی جانب پھیرے۔ جو نماز اس سے چھوٹ گٸ تھی وہ اس نماز کو پڑھنا چاہتا تھا۔ اس سے بلاشبہ بہت ساری کوتاہیاں سرزد ہوٸ تھیں اور آج۔۔ آج وہ اپنی ہر کوتاہی کی معافی مانگنا چاہتا تھا۔ 

"موت کو ذبح کردیا جاتا ہے۔۔!" 

اس نے مسجد میں داخل ہو کر اس کے ٹھنڈے ماربل پر اپنے برہنہ قدم رکھے تو سارا جسم پل میں برف بن کر پگھل گیا۔ وضو بنا کر پلٹتا اب وہ آہستینیں  اپنی کلاٸیوں پر برابر کررہا تھا۔ مسجد نمازیوں سے خالی پڑی تھی۔ ہر جانب ایک ٹھنڈا سا سکون تحلیل تھا۔ اس نے نیت باندھی اور اپنی عمر بھر کے لیۓ وہ نماز پڑھنے لگا کہ جو پڑھی جانی چاہیۓ تھی۔۔ 

"اسی لیۓ آپ بھی اس دن سے پہلے اٹھ جاٸیں۔۔ اس دن کی ذلت بہت اذیت ناک ہوگی۔۔ کیونکہ اس دن زندگی شروع ہوگی اور موت کا وجود ختم ہوجاۓ گا۔۔ ڈریں اس زندگی سے جو جہنم کا ایندھن بن جاۓ۔۔ اور بچاٸیں خود کو اس آگ کا ایندھن بننے سے۔۔" 

دور سے دیکھنے پر اب ایک بہت پرسکون سا منظر نگاہوں کو بھلا لگ رہا تھا۔ وہ منظر جس کے پار اب صرف ندامت تھی۔۔ جس کے پار اپنی سیاہی کو چننے پر افسوس تھا۔۔ جس کے پار خود کو کھو کر پالینے کا عکس جگمگا رہا تھا۔۔ خالی پڑی مسجد میں اب وہ لڑکا سجدے میں جھکا کچھ بہت دھیمی آواز میں پڑھ رہا تھا۔ جسے صرف وہ سن رہا تھا اور اللہ سن رہا تھا۔۔ بہت دن بعد اس نے اللہ کو پکارا تھا۔ اب وہ اسے پکارتے رہنا چاہتا تھا کیونکہ اللہ کے بغیر تو زندگی اندھیر تھی۔۔ اللہ کے بغیر زندگی سراب تھی۔۔ اللہ کے بغیر۔۔ زندگی عذاب تھی۔۔ اب وہ اس عذاب سے خود کو آزاد کروانے لگا تھا۔۔ اسے یہ کرنا ہی تھا۔۔ کیونکہ اللہ کی جانب جاتا پہلا قدم انسان ہی کو اٹھانا پڑتا ہے اور دوسرا قدم۔۔ دوسرے قدم کی قربت کا وعدہ اللہ کا فیصلہ ہے۔۔! آپ بس ایک قدم اٹھالیں۔۔ باقی کا فاصلہ وہ طے کرتا ہے۔۔! 

وہ ایک بار پھر سے سجدے میں جھکا سرگوشی کررہا تھا۔۔ مسجد کے اندر پھیلی خاموشی گہرے سکون کا غماز تھی اور ہر جانب اب وہ سفید روشنی تحلیل تھی۔ ہاں وہ ہی روشنی۔۔ جس سے اس نے ایک لمبے عرصے تک نگاہیں چراٸ تھیں۔۔! 

رابیل نے اپنی عشاء کی نماز سے سلام پھیرا اور پھر دعا کر کے جاۓ نماز سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوٸ۔ اسی پہر اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر شزا اندر جھانکی تھی۔ اس نے جاۓ نماز تہہ کر کے رکھتے ہوۓ یونہی گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ جانے کیوں۔۔ اسے شزا آج پہلے سے زیادہ خوش لگ رہی تھی۔۔

”باہر زاہد چچا کے گھر والے آۓ ہیں رابیل۔۔ آجاٶ۔۔ ماں بلارہی ہیں۔۔“ 

اس نے سر اثبات میں ہلایا اور پھر یونہی چہرے کے گرد لپٹے حجاب کے ساتھ ہی باہر چلی آٸ۔ لاٶنج میں آج بہت عرصے بعد سب اکھٹے بیٹھے تھے۔ زاہد چچا، عابد کے ساتھ صوفے پر بیٹھے اقبال کی کسی بیوقوفی سے لطف اندوز ہوتے ہنس رہے تھے۔ اسی کے مقابل صوفے پر، زرتاشہ چچی، رامین اور حریم بیٹھی تھی۔ اپنے مساٸل میں الجھے ہونے کی وجہ سے اس نے دوبارہ حریم سے بات ہی نہیں کی تھی۔ پہلا تو اس کا جانچتا رویہ رابیل کو غیر آرام دہ کیا کرتا تھا اور دوسرا۔۔ جانے کیوں وہ ایک ہی بات کو بار بار دہرا کر لطف اندوز ہوتی تھی۔ جس سے رابیل کو تو خیر سے بہت کوفت ہوتی۔۔ ویسے بھی ہمارے دیسی گھرانوں میں کسی کی کمزوری کو بار بار دہرا کر محظوظ ہونے کا رواج بے حد عام تھا۔ ایسے گھٹیا رواج کو اب ختم ہوجانا چاہیۓ تھا۔ 

اس نے گہرا سانس لیا اور پاس چلی آٸ۔ صوفے کے ہتھے پر شزا بیٹھی تھی اور ردا بابا کے برابر میں بیٹھی ان کے موباٸل میں غالباً کوٸ گیم کھیل رہی تھی۔ اپنے موباٸل کی چارجنگ بچانے کے طریقے۔۔! 

”السلام علیکم۔۔۔“ 

اس نے قریب آ کر سلام کیا تھا۔ سب نے مسکرا کر اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ 

”کیسی ہو رابیل۔۔؟اور کہاں ہوتی ہو بھٸ سارا دن۔۔؟ جب دیکھو یا تو اپنے کمرے میں رہتی ہو یا پھر مدرسہ۔۔ کبھی چچی کو بھی یاد کرلیا کرو۔۔“ 

زرتاشہ کی باتیں شروع ہوچکی تھیں۔ وہ اس سے مل بھی لیتی تب بھی ان کے یہ گلے شکوے ختم نہیں ہوا کرتے تھے۔ نارمل تھا اس کے لیۓ ان کا ایسا رویہ۔۔ 

”لو۔۔ تم تو دوسرے گھر میں رہتی ہو۔۔ میں تو ایک گھر میں رہتے ہوٸ اس کی شکل نہیں دیکھ پاتی۔ جانے کونسے کام کرتی رہتی ہے۔۔ کمرے میں جا کر محترمہ کو دعوت دینی پڑتی ہے۔۔ کہ جی ایک عدد گھرانہ بھی ہے آپ کا۔۔ جن کے ساتھ بیٹھنا آپ کی زمہ داری ہے۔۔ تب جا کر کہیں باہر نکلتی ہے یہ کمرے سے۔۔“ 

رامین نے اس کے گم صم سے رویے پر چوٹ کی تو سب ایک ساتھ ہی ہنس پڑے۔ اس نے بھی خجل ہو کر اپنی ہنسی دباٸ تھی۔ ماں بھی ناں۔۔ کچھ بھی بولتی تھیں۔۔ 

”خیال رکھا کرو اپنا۔۔ کام کرو اچھی بات ہے لیکن اتنا بھی کیا خود کو مصروف رکھنا کہ خود کو ہی بھول جاٶ۔۔ اور اب تو ایک عدد شوہر بھی ساتھ ہے۔ اس کو بھی وقت دیا کرو۔۔ ایسے سر جاڑ منہ پھاڑ کاموں میں لگی رہنے والی لڑکیاں آگے بہت مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔۔“ 

اور اب اسے سہی معنوں میں ان کی باتوں سے الجھن ہونے لگی تھی۔ کیا ضروری تھا اس کی شادی کا موضوع اس سب میں گھسیٹنا۔۔ 

”جی چچی میں کرتی ہوں سب کچھ۔۔ خیال بھی رکھتی ہوں اپنا۔ بس کبھی کبھی مدرسہ کا کام بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیۓ کسی کو بھی وقت نہیں دے پاتی۔۔“ 

”اور یہ معاذ کیا کرتا پھر رہا ہے آجکل۔۔؟“ 

یکدم زاہد چچا کے بولنے پر اس نے چونک کر انکی جانب دیکھا تھا۔ اور چونکے تو ان کی بات پر خیر سب ہی تھے۔ 

”کیا کررہا ہے۔۔ ؟ کیا مطلب۔۔۔؟“ 

عابد سیدھے ہو بیٹھے۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔ شزا نے بھی بے چین ہو کر اسے دیکھا تھا۔ چچی اور حریم کے درمیان ذو معنی نگاہوں کا تبادلہ۔۔ افف۔۔ کیا مصیبت ہے آخر۔۔ وہ اپنے ذہن میں اس سب پر کرّاہی تھی۔۔ 

”میرے پاس کل ہی صاٸمہ کا فون آیا تھا۔ کہہ رہی تھی کہ معاذ نے ارحم پر حملہ کیا ہے۔ میں تو کبھی یقین نہیں کرتا لیکن اس نے ساتھ ہی گردن پر آۓ زخم کی تصویریں بھیجی تھیں اور سچ پوچھیں تو بھاٸ صاحب۔۔ ان تصاویر کو دیکھ کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگۓ تھے۔۔“ 

اور ماحول میں بے ساختہ تناٶ آگیا تھا۔ پرسکون سا خوش گپیوں سے سجا ماحول اب کہ عجیب طرح سے خاموش ہوگیا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا سب ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے ہوں۔ معاذ کا رویہ ان سب کے لیۓ غیر انسانی سا رویہ تھا۔۔ اس نے مٹھی بھینچی۔۔ 

”آپ تصویر کا ایک رخ مت دیکھیں زاہد چچا۔۔“ 

اس نے آرام سے کہا تھا۔ اپنے اندر مچی توڑ پھوڑ کے برعکس وہ بہت پرسکون دکھ رہی تھی۔ عابد نے یکدم چونک کر اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں پھیلا وہ بے یقین سا تاثر اسے سرخ کر گیا تھا۔۔ 

”کیا مطلب۔۔؟ کونسا دوسرا رخ ہے اس تصویر کا۔۔؟ اور زاہد اسے کیا پڑی تھی ارحم پر حملہ کرنے کی۔۔؟ خیر اتنا پاگل تو اب میں بھی نہیں ہوں کہ یقین کرلوں کہ اس نے بلاوجہ ایسا کوٸ قدم اٹھایا ہوگا۔۔ یقیناً ارحم کی جانب ہی سے پیش قدمی کی گٸ ہوگی۔۔“ 

اور اب حیران ہونے کی باری زاہد چچا کی تھی۔ حریم بھی دلچسپی سے ذرا آگے ہو کر بیٹھی۔ اس نے آنکھیں میچی تھیں۔ جانے وہ اور معاذ کیوں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بنتے جارہے تھے۔۔ 

”بھاٸ صاحب پیش قدمی کی گٸ ہو یا نہیں۔ سوال یہاں پر یہ نہیں ہے۔بلکہ سوال یہاں پر صرف یہی ہے کہ اس کا جوابی وار اس قدر گرا ہوا کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟ وہ ایسے کیسے کسی کی گردن پر چاقو رکھ سکتا ہے۔۔ کیا آپ کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوتے یہ سب سوچ کر۔۔!“ 

ان کی بات پر حریم اور چچی جھرجھری لے کر پیچھے ہوٸ تھیں جبکہ رامین بے یقینی سے پھیلی آنکھیں لیۓ چچا کو تک رہی تھیں۔ اس نے گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی گھٹن باہر نکالی۔ 

”مجھے اس سے خود بات کرنی پڑے گی۔۔ واقعی۔۔ بات کچھ بھی ہوٸ ہو لیکن اس طرح کا رویہ اختیار کرنا کسی بھی طرح نارمل نہیں ہے۔۔ اور تمہیں کیسے پتا کہ اس نے یہ سب کیوں کیا ہے۔۔؟ کیا تم بھی وہاں موجود تھیں۔۔؟“ 

انہوں نے اتنی تیزی کے ساتھ اس سے استفسار کیا تھا کہ اس کا سانس ہی لمحے بھر کو خشک ہو کر رہ گیا۔

”نہیں بابا میں یہاں اس وقت موجود نہیں تھی۔۔ لیکن بابا۔۔“ 

”تو تمہیں کیسے علم ہوا پھر اس سب کے بارے میں۔۔؟ اور جبھی شزا مجھ سے صبح صاٸمہ کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔! کیا تم دونوں میرے پیچھے کچھ کررہی ہو۔۔؟ میری بغیر اجازت کے۔۔؟“ 

ان کا سوال جانے کیوں آخر میں بہت چبھتا ہوا ہوگیا تھا۔ اس کا گلابی سا رنگ سفید ہوگیا۔ ہاتھ پسینے میں بھیگ گۓ تھے۔ سچویشن بہت عجیب سی ہوگٸ تھی۔ سب اب سر اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ 

”بابا آپ ایک طرف کی کہانی سنے بغیر کسی کو جج نہیں کرسکتے۔۔ آپ یہ کر کے اپنا ہی نقصان کریں گے۔۔“ 

”اچھا۔۔ تو پھر بتاٶ مجھے دوسرے طرف کی کہانی۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کہ وہ کونسی کہانی ہے جو مجھے سناٸ نہیں گٸ۔۔!“ 

ان کا طنز اسکے دل میں بہت بری طرح سے گڑا تھا لیکن پھر بھی وہ جم کر کھڑی رہی۔ ابھی انہیں ان کی باتوں پر مطمٸن کرنے کا وقت تھا۔ وہ اپنی پیٹھ دکھا کر یہاں سے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ یہ سوچ آتے ہیں اس نے پیچھے پڑی کرسی کھینچی اور ان کے سامنے بیٹھی۔ سنجیدگی سے چچا کی جانب دیکھا۔ 

”کوٸ آپ کی ماں کو زانیہ یا بدکار کہے گا تو آپ کا جوابی وار کیا ہوگا چچا۔۔؟“ 

اس کا سوال بہت کڑا تھا۔ یوں جیسے زور سے آگے والے کی روح پر برستا کوڑا ہو۔ 

”رابیل ابھی با۔۔۔“

”چچا میں نے آپ کا جوابی وار پوچھا ہے۔۔ آپ کیا کریں گے ایسی صورتحال میں۔۔ اور وہ بھی جب ظلم بھی آپ کے ساتھ ہوا ہو۔ ماں آپ کی مر چکی ہو۔۔ اور ان کے مردہ وجود کے ساتھ کسی غیر محرم کو جوڑ کر آپ سے بات شروع کی جاۓ۔۔ میں صرف پوچھ رہی ہوں کہ آپ آگے بڑھ کر اس بندے کا منہ توڑ دیں گے یا پھر اسے گود میں بٹھا کر پیار کریں گے۔۔؟“ 

اوکے۔۔ حساب برابر کیا جارہا تھا۔۔ کیا ہوا جو معاذ یہ حساب برابر نہیں کرسکا تھا۔۔ وہ تھی ناں اس کے حصے کی جنگ لڑنے کے لیۓ۔۔ اس کے سوال پر چچا کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔ کنپٹی میں خون جل اٹھا تھا۔ 

”بالکل۔۔ اس نے بھی یہی کیا جو آپ سوچ رہے ہیں۔ بات اس کی ماں کے کردار سے شروع کی گٸ تھی بابا۔۔ اور ایسے میں خاموش رہنا عقل مندی نہیں، بے غیرتی ہوتی ہے۔۔“  

اور یہ پڑا ایک اور چانٹا۔۔ وہ بھی زور سے۔۔ 

”چچا سے کیسے بات کررہی ہو رابیل تم۔۔!“ 

زرتاشہ نے طیش سے ابل کر کہا تھا۔ اس نے خاموشی سے نگاہیں ان کی جانب پھیریں۔ اس کی کتھٸ آنکھیں اس نرم سی رابیل سے بہت مختلف تھیں۔ وہ آنکھیں سنجیدہ تھیں۔۔ سنجیدہ اور کچھ حد تک سرد۔۔ 

”بالکل اسی طرح چچی۔۔ جیسے آپ سب معاذ اور تایا کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ بے حس ہو کر۔۔ میں بھی کچھ لمحات کے لیۓ بے حس ہو کر اس بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں۔۔ میں بھی آپ لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ الفاظ کی تکلیف کیا تکلیف ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان ناں بڑی ہی ڈھیٹ مخلوق ہے۔ اسے جب تک آگ کے سمندر سے نہ گزارو، تب تک کسی آگ کو وہ سنجیدہ لیتا ہی نہیں ہے۔۔“ 

سب کچھ ایک لمحے کے لیۓ گویا رک سا گیا تھا۔ جو ہوچکا تھا وہ نہیں ہونا چاہیۓ تھا لیکن جو اب ہورہا تھا وہ اسے روک سکتی تھی۔۔ وہ اس سب کو اب روکنا چاہتی تھی۔ 

”تو تم یہ کہہ رہی ہو کہ پچھلے اس سارے عرصے میں ہم بے حس رہے تھے۔۔!“ 

زاہد نے براہ راست اس سے سوال کیا تو اس نے ان کی جانب دیکھا۔۔ 

”میں آپ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالونگی چچا۔ بس ایک دفعہ کٸ سالوں پیچھے جا کر اپنا کردار اس سارے تماشے میں دیکھ لیں۔۔ میرے خیال سے آپ کو جواب مل جاۓ گا۔۔“ 

”تمہیں پتا ہے کہ تم انتہاٸ بدتمیز لڑکی ہو۔۔!“ 

اس کی چوٹ پر زاہد کی انا کو بہت بری طرح ٹھیس پہنچی تھی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اس کی بات زرتاشہ کو چبھی تھی۔ جبھی تو وہ اس پر پھنکاری تھیں۔ 

”نہیں چچی۔۔ میں بدتمیز نہیں ہوں۔۔ میں تو آٸینہ ہوں۔۔ آپ سب کا آٸینہ۔۔ میں آپ سب کو عکس دکھارہی ہوں۔۔ دیکھیں۔۔ اور سوچیں۔۔ کہ ہم سب اندر سے کس قدر بدصورت ہیں۔۔ ہمارے سامنے ایک زندہ جان مر جاتی ہے اور ہم۔۔ ہم صرف تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔۔ ہمارے سامنے زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں اور ہم ظالم کے تلوے سے الگ ہونے کو خود پر حرام کر رکھتے ہیں۔۔ ہمارے سامنے لوگ اپنا سب کچھ کھودیتے ہیں اور ہم اپنے بنگلوں میں خواب خوگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔۔ میں بدتمیز نہیں ہوں چچی۔ تلخ حقاٸق کو میری بدتمیزی پر محمول نہ کریں۔ ویسے ہی ہم اپنی استطاعت سے زیادہ ظلم کرچکے ہیں اور عجب تو یہ ہے کہ اس ظلم کا اندازہ تک نہیں ہمیں۔۔“ 

اس کی آنکھیں ضبط سے گلابی ہونے لگی تھیں۔ سینہ اس کی تکلیف یاد کر کے ایک بار پھر سے گھٹنے لگا تھا۔ جانے وہ کیسے اس سب سے گزرا ہوگا۔ جن لمحات کے بارے میں صرف بات کرنا اس قدر اذیت ناک تھا تو ان سے گزر کر سرواٸیو کرنا قیامت کے مصداق ہوگا یقیناً۔۔ 

”تم اس کے عمل کو جسٹفاٸ کررہی ہو۔۔؟“ 

عابد کی جانب سے بے حد خشک سا سوال آیا تھا۔ 

”جی بابا۔۔ میں اسے جسٹفاٸ کررہی ہوں۔۔ میں اس کے اعمال کی وضاحت آپ کے سامنے رکھ رہی ہوں بابا۔۔ آپکو مجھ سے اختلاف ہے تو مجھے جواب دیں اور مجھے قاٸل کریں۔۔ اور اگر آپ لوگ مجھے قاٸل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں تو کوٸ حق نہیں رکھتے آپ معاذ اور تایا کو قصور وار ٹھہرانے کا۔۔“ 

وہ ان کی وکیل تھی۔ وہ ان کے لیۓ لڑ رہی تھی۔ 

”مجھے پتا نہیں تھا کہ گھر والوں سے زیادہ وہ کل کے لوگ تمہارے لیۓ اہم ہوجاٸیں گے۔۔“ 

زرتاشہ نے کہہ کر سر جھٹکا تھا۔ اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا تھا۔۔ 

”اہم تو آپ سب بھی ہیں چچی۔ بس ان پر کی جانے والی بلاوجہ کی تنقید کو اب کسی طرح تو ہینڈل کرنا ہی ہے ناں۔۔“ 

اس کا اندر تھک رہا تھا لیکن وہ پھر بھی ان سب کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔ 

”معاذ جیسا انسان کبھی بھی ایک اچھا آپشن نہیں تھا تمہارے لیۓ۔ کس طرح کی غیر انسانی حرکتیں کرتا ہے وہ دیکھ رکھو بی بی۔۔ اتنا اعتماد عورت کو ہمیشہ ہی لے ڈوبتا ہے۔۔“ 

وہ تڑخ کر بولی تھیں۔ اس نے گود میں رکھی مٹھی زور سے بھینچی۔۔ 

”اچھے انسان کو بھی آپ اکساٸنگی تو چچی وہ بھی اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکے گا۔ کسی کو اس کی آخری حدود تک نہ آزمایا کریں۔ نہیں تو پھر نتاٸج کے زمہ دار آپ خود ہی ہونگے۔ یقیناً ارحم یا پھر پھپھو کی جانب سے کوٸ گھٹیا بات کی گٸ ہوی جبھی تو وہ اس قدر جنونیت پر اترا۔۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں اس نے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔۔ اسے تو مار مار کر ارحم کی شکل بگاڑ دینی چاہیۓ تھی۔ تاکہ آٸندہ پھپھو بھی یاد رکھتیں کہ کسی کے بارے میں یوں منہ اٹھا کر بات نہیں کرنی۔۔ افسوس کہ اس نے محض ایک چھوٹا سا زخم ہی دیا ارحم کو۔۔“ 

اور رابیل کی جانب سے ایسی باتیں بہت غیر متوقع تھیں۔ وہ ایسی طبیعت کی لڑکی ہی نہیں تھی لیکن پھر بھی۔۔ معاذ کا دفاع کرتے ہوۓ وہ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ کمزور نہیں۔ وہ اگر اس کے بارے میں کوٸ غلط بات کریں گے تو وہ چپ نہیں رہے گی۔ وہ ان کی چمڑیاں ادھیڑ دے گی۔ کیونکہ وہ معاذ کی بیوی تھی۔ اسے ظلم برداشت نہیں کرنا تھا۔۔ اسے اس کا جواب دینا تھا۔۔ 

”آپ کیا اس کی بکواس سن رہے ہیں یہاں بیٹھ کر۔۔ چلیں۔۔ بہت عزت کروالی اپنی لاڈلی بھتیجی کے ہاتھوں آپ نے اپنی بھی اور میری بھی۔۔“ 

وہ یکدم اٹھ کھڑی ہوٸ تھیں۔ ان کے ساتھ ہی سب بھی گڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ رابیل نے صرف گردن اٹھا کر انہیں طیش سے ابلتے دیکھا تھا۔ تکلیف ہوٸ تو اٹھ کھڑی ہوٸیں۔ کسی کی عزت روندے جانے کی بات تو بہت چٹخارے لے کر کرتی ہیں۔ اچھا ہوا آپ کے ساتھ بالکل۔۔! 

”مجھے افسوس ہوا تمہاری باتیں سن کر۔۔ سب کہتے تھے کہ معاذ ایک غلط انتخاب ہے رابیل کے لیۓ لیکن میں ان کی بات رد کرتا رہا۔۔ آج اندازہ ہورہا ہے کہ وہ تو واقعی تمہارے لیۓ زہر ثابت ہورہا ہے۔۔ آٸندہ میرے سامنے مت آنا تم کبھی۔۔“ 

زاہد نے کڑوے لہجے میں کہا تو پل بھر کو اس کا دل لرز کر رہ گیا۔ لیکن دروازے کی جانب پلٹتے ہی سب کے سب ساکت ہوگۓ تھے۔ وہاں وہ کھڑا تھا۔۔ سیاہ ہڈی پہنے۔۔ ہمیشہ کی طرح وجیہہ اور خاموش۔۔ لیکن آج اس کے چہرے پر بہت اداس سا تبسم تھا۔ شاید وہ رابیل کی ساری باتیں سن چکا تھا۔ 

”معاذ۔۔ تم کب آۓ۔۔؟“ 

رامین ہی سب سے پہلے جاگی تھیں۔ وہ جو بیٹھی تھی اٹھ کھڑی ہوٸ۔۔ بے یقینی سے دروازے کی جانب دیکھا۔ ہاں۔۔ وہ وہی تو تھا۔۔ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پھر ہولے سے مسکرایا۔ زاہد، زرتاشہ اور حریم تیزی سے اس کے برابر سے نکل کر گزرے تھے۔ لیکن  پیچھے کھڑے لوگ اب تک ساکت تھے۔ اس نے بھی کتھٸ آنکھیں پھیلا رکھی تھیں۔ اسے اس کے یہاں موجود ہونے کی امید نہیں تھی۔ 

”تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا مامی۔۔“ 

وہ اپنی جگہ ہی کھڑا رہا تو عابد نے کھنکھنار کر ماحول میں پھیلی خاموشی کو رفع کرنے کی کوشش کی۔ پھر اس کی جانب دیکھا۔۔ 

”آٶ ناں معاذ۔۔ وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔؟“ 

اور وہ گہرا سانس لیتا آگے بڑھ آیا۔ ہاتھ میں پکڑے بہت سے شاپنگ بیگز شزا کی جانب بڑھاۓ جسے اس نے سرعت سے تھام لیا تھا۔ 

”بابا نے آپ سب کے لیۓ چند دن پہلے ہی کچھ تحاٸف لیۓ تھے۔ کام کی مصروفیت کے باعث میں دے نہیں سکا تھا تو انہوں نے مجھے ابھی بھیج دیا۔ شاید میں غلط وقت پر آگیا۔۔“ 

آرام دہ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ کر اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا تو عابد ایک بار پھر سے کھنکھارے۔ پھر اس کے ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھ گۓ۔ شزا اور ردا جلدی سے کچن کی جانب بڑھی تھیں جبکہ رامین اور رابیل لاٶنج ہی میں خاموشی سے کھڑی رہیں۔ 

”بھاٸ صاحب کیسے ہیں۔۔؟“ 

”ٹھیک ہیں بابا۔۔“ 

اس نے سر ہلا کر جواب دیا اور پھر سرمٸ نگاہوں کے ارتکاز نے رابیل کے خاموش کتھٸ سے کانچ کی جانب دیکھا۔ وہ اب تک بے یقین تھی۔ اس نے ہولے سے مسکرا کر ایک بار پھر سے عابد کی جانب دیکھا تھا۔ 

”کام کیسا جارہا ہے ریسٹورینٹ کا۔۔؟ پیسے وغیرہ کا تو کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔۔؟“ 

بات براۓ بات کرتے عابد اب ماحول میں پھیلی آکورڈ سی خاموشی کو کافی حد تک ختم کرچکے تھے۔ اس نے بھی صوفے سے پشت ٹکاٸ اور مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوا۔ 

”سب اچھا جارہا ہے چچا۔۔ کسی بات کا کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔“ 

”بھاٸ صاحب کیوں نہیں آۓ۔۔؟ انہیں بھی لے آتے ساتھ ہی۔ اقبال کی شادی کے بعد ایک بار بھی وہ ہمارے گھر نہیں آۓ۔۔“ 

رامین کے یکدم کہنے پر اس نے سرہلایا تھا۔ 

”چچی بابا کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے پچھلے کٸ دنوں سے۔ انہی کا ارادہ تھا یہ تحاٸف لے کر آنے کا لیکن پھر انہوں نے مجھے بھیج دیا۔ میں کہہ دونگا ان سے کہ مل لیں آپ لوگوں سے آ کر۔۔“ 

آج وہ پچھلے معاذ سے خاصہ مختلف لگ رہا تھا۔ آج اس کے انداز کا ازلی سا خالی پن اور سپاٹ تاثر زاٸل تھا۔ آج وہ بہت پرسکون دکھ رہا تھا۔ 

”نہیں نہیں۔۔ کہنا نہیں ان سے۔۔ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ہمیں جانا چاہیۓ ان سے ملنے۔۔ ہم ملنے آٸیں گے بھاٸ صاحب سے خود۔۔ اور ان تحاٸف کی بھلا کیا ضرورت تھی۔۔؟ وہ آجاتے۔۔ ان کا آنا ہی بہت تھا۔۔“ 

عابد کے اس قدر نرم لفظوں نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔ 

”اب یہ تو آپ ان ہی سے پوچھیۓ گا کہ یہ تحاٸف لینے کا کیا مقصد تھا۔۔ ویسے انہیں لیتے وقت وہ ایک ہی بات مجھ سے کہہ رہے تھے کہ تحاٸف دینے سے دلوں میں پھیلی رنجشیں زاٸل ہوجاتی ہیں۔ شاید وہ آپ سے اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہوں۔۔“ ĺ

اس نے بے حد سکون سے کہہ کر کندھے اچکاۓ تھے۔ عابد کا چہرہ اس کی صاف گوٸ پر یکدم گلابی ہوا۔ رامین جانے کیوں بہت دل سے مسکراٸ تھیں اس سمے اور رابیل۔۔ تایا کی محبت پر اس کے دل میں بہت سے آنسو گرے تھے۔ آہستہ سے اس کے عین مقابل صوفے پر بیٹھتے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے بدلا ہوا لگ رہا تھا۔  

”اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ بھاٸ صاحب بھی ناں بس کبھی کبھی بچوں والی بات کرتے ہیں۔۔“ 

عابد نے مسکرا کر کہا تو اس نے اتفاق کرتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا تھا۔ اسی اثناء میں ردا نے چاۓ لا کر درمیانے ٹیبل پر رکھی اور ساتھ ہی  شزا بھی لوازمات ٹیبل پر رکھنے لگی۔ 

”صاٸمہ تمہارے گھر آٸ تھی۔۔؟“ 

انہوں نے اس کا چہرہ جانچتے سوال کیا تو اس نے گہرا سانس لے کر اثبات میں سر ہلایا۔۔ 

”جی۔۔“ 

”کیوں آٸ تھی وہ۔۔؟“ 

”گڑے مردے اکھاڑنے آٸ تھیں۔۔“  

”اسے مسٸلہ کیا ہے آخر۔۔؟ چاہتی کیا ہے وہ اب ہم سے۔۔؟“ 

”وہ چاہتی ہیں میں رابیل کو طلاق دے دوں تاکہ وہ ایک بار پھر سے اس کا رشتہ ارحم سے جوڑ سکیں۔“ 

اس کے کہنے پر رامین اور عابد بری طرح چونکے تھے۔ رابیل اور شزا نے ایک ساتھ ہی گہرا سانس لیا۔ کہانیوں میں ہمیشہ ایک کردار سب سے زیادہ ناقابل برداشت کیوں ہوتا تھا۔۔۔!! 

”کیا بکواس ہے یہ۔۔! کیا اسے اندازہ نہیں کہ وہ کیا بات کررہی ہے۔“ 

اس نے عابد کی بات پر کندھے اچکاۓ تھے۔ 

”ان کی بکواس کا جواب بہت اچھے سے جواب دیا ہے میں نے چچا۔ آپ پریشان مت ہوں۔۔“ 

شزا نے چاۓ اس کی جانب بڑھاٸ تو اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر کپ تھام لیا۔ ماحول ایک بار پھر سے بے چین سانسوں کا شکار ہونے لگا تھا۔ 

”مجھے سمجھ نہیں آرہی اس عورت کی۔ یہ ضرور کسی نا کسی دن کوٸ بڑا تماشہ کھڑا کرے گی۔ یوں خاموش ہو کر بیٹھنے والی تو وہ بھی نہیں ہے۔“ 

”جو بھی کریں گی اس کا انجام بھگتیں گی چچا۔۔“ 

اس کا لہجہ بے حد ہموار تھا۔ رابیل کا ماتھا ٹھنکا۔۔ معاذ غیر معمولی طور پر نارمل تھا۔ اور کچھ تھا اس کے انداز میں جو رابیل کو بے چین کررہا تھا۔ 

”اور یہ ارحم۔۔ ذرا شرم نہیں اسے۔ بس جہاں ماں بولے وہاں منہ اٹھا کر چل دیتا ہے۔۔“ 

رامین نے بے اختیار ہی اسے کوسا تو اس نے چاۓ کا کپ خالی کیا اور پھر سیدھا ہو بیٹھا۔ 

”اب چلتا ہوں چچا۔۔ بابا انتظار کررہے ہونگے۔ آپ سے پھپھو کوٸ بھی بات کریں تو مجھے ضرور آگاہ کریں آپ۔ خود اکیلے کوٸ قدم اٹھانے سے گریز کیجیۓ گا۔ میں دیکھ لونگا جو بھی مسٸلہ ہوگا۔۔ اب اجازت۔۔“ 

اور اس کے ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ باہر کی جانب بڑھا تو رابیل اس کے پیچھے دروازے تک آٸ۔ وہ اپنے پیچھے اس کی چاپ سن کر رکا تھا۔ لیکن مڑا نہیں۔ وہ اس کے یوں رکنے پر خود بھی رک گٸ تھی۔ 

”تم ٹھیک ہو معاذ۔۔؟“ 

اور اس کے چہرے پر بے اختیار اک سایہ سا لہرایا تھا۔ وہ ناکام ہورہا تھا۔۔ وہ اس کے سامنے خود کو ڈھکنے میں ناکام ہورہا تھا۔ اس کی فکر مند سی آنکھیں اس کی ذات میں کھبے زخم دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ آہستہ سے اس کی جانب مڑتے ہوۓ اب وہ ایک بار پھر سے ہلکا سا مسکرایا تھا۔ وہی اپناٸیت بھری ہلکی سی مسکراہٹ۔۔ 

”کیا ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔؟“ 

اس کے پوچھنے پر رابیل نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا تھا۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوگٸ۔ ہاتھ اٹھا کر اس کا حجاب میں لپٹا سر دو انگلیوں سے بجایا۔ 

”جانتی ہو دنیا میں سب سے زیادہ خوش لوگ کون ہوتے ہیں۔۔؟“ 

اس نے نرمی سے پوچھا تو اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ 

”خوش وہ ہوتے ہیں جو اللہ کے قریب ہوں۔“ 

اس کے معصوم سے جواب پر وہ اداسی سے مسکرایا تھا۔ پھر اس کی کتھٸ آنکھوں کو اپنی سرمٸ آنکھوں کی قید میں لیا۔ 

”دنیا میں سب زیادہ خوش وہ ہوتے ہیں رابیل جو بیوقوف ہوتے ہیں۔ اللہ سے قریب لوگوں کی تو اکثر 

راتیں آنسوٶں سے تر ہو کر گزرتی ہیں۔۔“ 

اس کے جواب پر وہ لاجواب ہوٸ تھی۔ 

”اور جانتی ہو اس دنیا میں سب سے زیادہ غمگین کون ہوتے ہیں۔۔؟“ 

اب کہ اس نے جواب دینے کے بجاۓ صرف نفی میں سر ہلایا تھا۔ جانے کیوں ہر سو پھیلی رات میں اداسی گھلنے لگی تھی۔ 

”وہ جو عقل مند ہوتے ہیں۔ اسی لیۓ اتنی عقل مند مت بنو کہ تمہاری خوشی تم سے چھن جاۓ۔ بیوقوف رہو گی تو خوش رہو گی۔ ہر بات کو سمجھ کر محسوس کرنے لگو گی تو اچھی بھلی زندگی عذاب ہوجاۓ گی۔ اب تم نے اتنی باریک بینی سے لوگوں کا مطالعہ نہیں کرنا۔۔ ہوں۔۔؟“ 

وہ اسے نصیحت کررہا تھا۔ اور وہ جانتی تھی کہ وہ اسے خود سے باز رکھنے کو کہہ رہا ہے۔ اس کی آنکھیں چمکیں۔۔ بہت سا پانی اس کی پلکیں نم کرگیا تھا۔ 

”تم کیوں تکلیف میں ہو۔۔؟“ 

”میں نے کب کہا کہ میں تکلیف میں ہوں۔ میں ٹھیک ہوں بالکل۔ اسی لیۓ فضولیات سوچنا چھوڑو اور اندر جاٶ ٹھنڈ بہت ہے باہر۔۔“ 

اس نے نرمی سے کہا اور پھر اس کا انتظار کیۓ بغیر تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔ وہ اس کے پیچھے آرہی تھی۔ لیکن وہ نہیں مڑا۔۔ اس کی بھیگی پلکیں اسے کمزور کرنے لگی تھیں۔ وہ اسکی کمزوری بنتی جارہی تھی۔ اگر کچھ دیر اور وہ اس کے ساتھ رہتا تو اپنی بکھری ذات کو نہیں سمیٹ پاتا۔ اسی لیۓ وہ ابھی۔۔ اسی وقت اس سے دور جانا چاہتا تھا۔ گیٹ سے باہر نکل کر اس نے گاڑی کی جانب رخ پھیرا۔ رابیل پیچھے رہ گٸ۔ بہت سے آنسو اپنے اندر ہی اتار لیۓ تھے۔ پھر سر اٹھا کر اس خنک سی رات کو دیکھا جس کے پار بہت سے زخم آج مندمل ہو کر بھی تکلیف دے رہے تھے۔ کیوں ہوتا تھا ایسا کہ زخم بھرجایا کرتے تھے لیکن نشان باقی رہتے تھے۔۔ جانے کیوں انسان ان نشانات کو خود کی ذات سے جدا کرنے پر قادر نہیں تھا۔۔ شاید اسی لیۓ کیونکہ یہ دنیا، دنیا تھی۔۔ یہ دنیا جنت نہیں بن سکتی تھی۔۔ اس دنیا میں زندہ رہنا تھا تو انہی نشانات کے ساتھ رہنا تھا۔۔ اس نے بھی رخ اندر کی جانب پھیر اور خاموشی سے اندر چلی آٸ۔ 

اسی سیاہ رات میں اپنی اسٹڈی میں نیم اندھیرا کیۓ سلطان بیٹھا تھا۔ دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھے، آنکھیں سکیڑ کر کسی اندیکھے سے منظر کو دیکھتا ہوا۔ پھر وہ ساتھ کھڑے عزیر کی جانب پریشانی سے متوجہ ہوا۔ 

”اس کے پیچھے بندے لگادو۔۔“ 

”کیا آپکو لگتا ہے آپ اس کے پیچھے بندے لگواسکتے ہیں۔۔؟“ 

اور اس کا سوال انہیں لمحے بھر کو لاجواب کرگیا تھا۔ پھر انہوں نے گہرا سانس لیا۔ 

”میں اسے یوں نہیں چھوڑسکتا۔ کچھ لوگوں کو اس کے پیچھے لگاٶ اور دھیان رہے۔۔ اسے بھنک نہیں پڑنی چاہیۓ اس سب کی۔۔“ 

”ٹھیک ہے۔۔ لیکن کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں۔۔؟“ 

اس کے سوال پر وہ ہولے سے مسکرایا تھا۔ پھر نگاہیں اندھیرے پر جما کر ہلکے سے بولا۔ 

”وہ معاذ ہے عزیز۔۔ اس سے کچھ بعید نہیں۔۔“ 

اور اس کے اس سرد سے جملے پر عزیز کے جسم میں لہر سی دوڑ گٸ تھی۔ کیونکہ وہ ایک جملہ۔۔ اپنے اندر بہت سے مبھم مفاہیم رکھتا تھا۔ مبھم اور سیاہ۔۔!! 

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form