#do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
تیرھویں_قسط
خاموشی سے گاڑی کو سڑک کی جانب موڑتے وہ دانستہ طور پر اسے خالی پڑی سڑکوں پر دوڑانے لگا تھا۔ رات ابھی اتنی گہری نہیں ہوٸ تھی لیکن باہر برستے کہر کے باعث اب لوگوں کی آمد و رفت سڑک پر نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور در حقیقت اسے بھی یہی خاموشی درکار تھی۔ خود کی خاموشی کو، ماحول میں پھیلی خاموشی سے ہم آہنگ کرنے کا اس سے بہتر کوٸ اور طریقہ بھلا ہو بھی کیا سکتا تھا۔۔!
اس نے اگلے ہی پل گہرا سانس لے کر کھلی کھڑکی پر اپنی کہنی ٹکاٸ اور یونہی بے مقصد گاڑی دوڑاتے وہ ان کتھٸ آنکھوں کو جھٹکنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ کٸ سالوں تک مافیا کے ساتھ کام کرنے کے بعد اسے اندازہ تھا کہ خود کا اصل کہاں ظاہر کرنا ہے اور کہاں مفقود رکھنا ہے۔ انہیں اس بات کی تربیت بہت اچھے سے دی جاتی تھی ۔۔ لیکن ابھی۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے رابیل سے ہوٸ مڈبھیڑ میں وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیۓ امڈتی نمی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ اس نے تو بہت اچھے سے یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ ٹھیک ہے۔ بلکہ وہ جانتا تھا کہ چچا، چچی یہاں تک ردا اور شزا بھی اس کے نرم رویے سے مطمٸن ہوگٸ تھیں لیکن وہ دو آنکھیں۔۔ اس کے وجود میں کھبتی وہ کتھٸ آنکھیں اسے اب تک اپنے اندر اترتی محسوس ہورہی تھیں۔ جب سب کو مطمٸن کر کے وہ ان آنکھوں میں دیکھنے لگتا تو وہ اس سے صرف یہی التجا کررہی ہوتیں کہ معاذ۔۔ یوں خود کو اذیت مت دو۔۔ ایسے خود کے ساتھ مت کر
اس نے ایک بار پھر سے گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی گھٹن کو باہر نکالا تھا۔
کیا وہ لڑکی اس کی زندگی کا حصہ بننے لگی تھی۔۔؟ کیا وہ اس کے اندر اترنے لگی تھی۔۔؟ کیا وہ اسے اپنے اندر تک رساٸ دے رہا تھا۔۔؟ کہیں وہ اس کے ساتھ کوٸ زیادتی تو نہیں کررہا۔۔؟ کہیں وہ کسی پہر میں اس کی تکلیف کا باعث تو نہیں بنے گا۔۔!
بہت سے سوالات سے نگاہیں چرا کر اب وہ پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے گاڑی دوڑانے لگا تھا۔
اس سب کے باوجود بھی ایک بات تو طے تھی کہ اس لڑکی کی موجودگی اسے غیر آرام دہ نہیں کیا کرتی تھی۔ اس کی موجودگی اسے سکون دیا کرتی تھی۔ وہ اس زخم زخم سی دنیا میں مرہم تھی۔ اس کا مرہم۔۔ لیکن ابھی یہ سب باتیں جذباتی ہو کر سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ وہ چند دن اس کی نگاہوں سے اوجھل رہنا چاہتا تھا۔ ارحم اور صاٸمہ کے دیۓ گۓ طعنوں۔۔ اور خاندان والوں کی باتوں کو وہ نۓ سرے سے سوچنا چاہتا تھا۔
کیا وہ واقعی اس کے قابل نہیں تھا۔۔؟ کیونکہ اگر اکھٹے بہت سارے لوگ ایک ہی بات کی جانب اشارہ کریں تو اسے نظر انداز کرنا اسکی نظر میں سراسر بیوقوفی تھی۔ وہ خود کو دور سے کھڑے ہو کر دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے ہر عیب، ہر نشان اور ہر زخم کے ساتھ خود کی بدصورتیوں کو جانچنا چاہتا تھا۔۔ ہاں۔۔ اب وہ خود سے رابیل کی خاطر نظر ملانا چاہتا تھا۔ کیا وہ واقعی ایسا ہی تھا جیسا لوگ اسے کہہ رہے تھے۔۔؟ کیا ایسا ہی تھا۔۔؟ اور اگر ایسا تھا تو وہ رابیل کے قابل نہیں تھا۔۔ رابیل کسی بہت اچھے انسان کو ڈیزرو کرتی تھی۔ اور یقیناً وہ، وہ ایک انسان ہر گز نہیں تھا۔
اس نے ایک پل کو آنکھیں موند کر کھولیں۔ آنسوٶں سے چمکتی پلکیں اور گلابی سی آنکھیں اس کے ہر جانب بکھرنے لگی تھیں۔ وہ ایک لڑکی اسے بے بس کرنے لگی تھی۔ لیکن وہ اس کے معاملے میں کوٸ کوتاہی کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ اگر اسے خود کو رابیل کے لیۓ چننا تھا تو، اسے اس کڑے امتحان سے گزرنا ہی تھا۔ خود سے نگاہیں ملا کر اپنی بدصورتیوں کا سامنہ کرنے والے امتحان سے۔
اور در حقیقت وہ اس کے لیۓ اس سب سے گزرنے کے لیۓ بھی تیار تھا لیکن پھر۔۔ فیصلہ اس کے خلاف جانے کے سلسلے میں وہ اس لڑکی کو کیسے راضی کرے گا۔۔؟ کیا وہ اسے خود سے علیحدہ کرنے پر راضی کرپاۓ گا۔۔؟ کیا وہ اس کی نرمی کے بغیر اب زندہ رہ پاۓ گا۔۔ اسے تو اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ اس کی ذات میں شامل ہونے لگی تھی۔ وہ اس کی عادت بننے لگی تھی۔ وہ اس کے خوابوں کا حصہ بننے لگی تھی۔ وہ اسے بے دخل کرتا بھی تو کہاں کہاں سے۔
اتنی تلخ باتیں سوچتے ہوۓ خود پر ایک لمحے کے لیۓ بھی رحم کے ساتھ پیش آنے کے بجاۓ وہ بہت بے رحمی سے اپنے زخم ادھیڑ رہا تھا۔ اور یہ تو سچ تھا کہ معاذ شعراوی کو زندگی میں محض دو عورتوں نے کمزور کیا تھا۔۔ پہلی حبیبہ اور آخری رابیل۔۔! درحقیقت وہ دونوں ایک دوسرے کا پرتُو تھیں۔۔ وہ ایک دوسرے کا عکس تھیں۔۔ ان دونوں کی نگاہوں سے وہ بچ نہیں پاتا تھا۔ ان کے سامنے اپنی ذات کے ادھڑے بخیوں کو کھولنے سے وہ گھبرایا نہیں کرتا تھا۔۔ ان کے سامنے۔۔ ہاں ان کے سامے کمزور پڑنے سے وہ ڈرا نہیں کرتا تھا۔ وہ ان کے سامنے معاذ بن کر جاسکتا تھا۔ وہ ان کے سامنے اپنی بدصورتیوں کے ساتھ کھڑا ہوسکتا تھا۔۔! اور اب اس سب کے بعد وہ ایک کو کھو چکا تھا لیکن وہ دوسری کو نہیں کھونا چاہتا تھا۔۔
وہ اس کا ساتھ چاہتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ کے لیۓ اکثر راتوں میں تڑپنے لگا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ کبھی اپنی ماں کے لیۓ تڑپا کرتا تھا۔ وہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔ ہاں۔۔ وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔
یکدم خیالات کی بہتی رو سے وہ بری طرح چونکا۔ اسٹیرنگ تھامے ہاتھوں میں پسینہ آگیا تھا۔ بریک پر بے ساختہ پیر جا پڑنے کی وجہ سے گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ گاڑی سے باہر پھیلی سوندھی سی دھند نے ہر شے پر گمان کا ورق چڑھا دیا تھا۔ ہیولے حقیقت لگتے تھے اور حقیقت دھواں بن کر گزرے اوقات میں بکھرنے لگی تھی۔۔
کیا وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا۔۔؟
اور اس سوال نے جیسے اسے ڈنک مارا تھا۔ پھیلی پھیلی آنکھیں لیۓ وہ اس سوال پر یکلخت ہی ساکت ہوا تھا۔ اتنے عرصے میں اس نے خود سے کبھی یہ سوال نہیں کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے ساتھ نکاح جیسے رشتے میں بندھنے کے بعد بھی وہ اس کے لیۓ ایسا کچھ بھی محسوس نہیں کیا کرتا تھا۔ ہاں وہ اس کے لیۓ خاص ضرور تھی مگر محبت۔۔ کیا بات اتنی آگے نکل چکی تھی۔۔! کیا بات اس کے اختیار کی حدود سے نکل کر محبت کی حدود میں داخل ہوگٸ تھی۔۔!
اس نے جلتی آنکھیں موند کر سر بے بسی سے سیٹ کی پشت سے ٹکایا تھا۔ اس کے اندر اس سوال پر پھیلی خاموشی اسے خوفزدہ کررہی تھی۔
”کیا وہ واقعی اسے چاہنے لگا تھا۔۔؟“
اس نے تھک کر آنکھیں کھولیں تو ہر سو وہ فکرمند سا ارتکاز پھیلنے لگا۔ اس کی جانب دیکھتیں وہ دو آنکھیں گویا اس کے دل پر نقش ہوگٸ تھیں۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا تھا۔ اندر پھیلی خاموشی کے درمیان سے کوٸ بہت باریک سی آواز اس کی سماعت کو چیرتی ہوٸ گزرنے لگی تھی۔
”تم کیوں تکلیف میں ہو۔۔؟“
اس نے ماتھے پر گرے بال ہاتھ سے مزید بکھیرے اور خود کو ریلیکس کرنا چاہا لیکن اس کی بوجھل سانسیں سب کچھ تہس نہس کررہی تھیں۔ جانے اس کی ذات کے انکشافات اسے اس قدر تکلیف کا شکار کیوں کیا کرتے تھے۔۔!
اس نے سر اٹھا کر خود کو بیک ویو مرر میں دیکھا۔ ضبط کے باعث گلابی ڈوروں سے سجی سرمٸ آنکھیں اس سمے بے حد خوبصورت لگ رہی تھیں۔ اس نے خود سے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔ گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی کثافت کو باہر نکلتے ہوۓ اس نے اپنے ہاتھ اسٹیرنگ پر جماۓ تھے۔
اگر اسے خود کا سامنہ کرنا ہے تو اسے خود سے سچ بولنا ہوگا۔ خود سے جھوٹ بول کر نگاہیں چرانے کا نتیجہ صرف بے سکونی کی صورت میں نکل سکتا تھا اور سچ بات تو یہ تھی کہ اب وہ بے سکون رہ رہ کر تھک چکا تھا۔ وہ اس بے سکونی اور خالی پن سے اب نجات چاہتا تھا۔ وہ اس دن بدن کی بڑھتی کثافت سے آزادی چاہتا تھا۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر ڈیش بورڈ پر دھرا موباٸل اٹھایا اور پھر اسے چند لمحے خالی خالی نگاہوں سے دیکھنے کے بعد اس کی سرد پڑتی انگلیوں کی جنبش نے بہت سے نمبر ڈاٸل کیۓ۔ اب وہ فون کان سے لگاۓ دوسری جانب جاتی گھٹنی کو خاموشی سے سننے لگا تھا۔ اسے اس کا جواب طلب کرنا ہی تھا۔۔ تو پھر آج کیوں نہیں۔۔ ابھی کیوں نہیں۔۔!!
کسی سے بھی بات کیۓ بغیر وہ اپنے کمرے میں آ کر خاموشی سے لیٹ گٸ تھی۔ کچھ دیر پہلے کا حجاب اب اس کے ساتھ ہی پڑا تھا اور وہ بالوں کو ایک جانب ڈالے، بیڈ پر چت لیٹی، خالی خالی نگاہوں سے چھت کو تک رہی تھی۔ یکایک اس کا فون بجا تو اس طرف کو متوجہ ہوٸ۔ ہاتھ بڑھا کر ساٸیڈ ٹیبل پر دھرا موباٸل اٹھا کر اس نے جگمگاتی اسکرین نگاہوں کے سامنے کی تھی۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ معاذ کا نام دیکھ کر سیدھی ہو بیٹھی تھی۔ بال کندھے سے پھسل کر آگے کی جانب گر پڑے۔ اس نے محتاط ہو کر فون کان سے لگایا۔۔ بے ساختہ بہت سا تھوک بھی نگلا تھا اس نے۔۔
کمرے میں کھڑکی کے راستے گرتی بہت سی چاندنی ہر جانب بکھرنے لگی تھی۔ باہر پھیلی دھند میں بہت سی نمی چمکی تھی۔ انسانی آنسوٶں کا اثر موسم کو بھی نم کردیا کرتا تھا۔ ان کے آس پاس پھیلا موسم بھی اس پاکیزہ سی نمی کا شکار ہونے لگا تھا۔
فون کان سے لگانے کے بعد بھی چند لمحے دونوں میں سے کوٸ کچھ نہ بول سکا تھا۔ شاید وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ خود سے نگاہیں چراتے چراتے وہ اب کہ نگاہیں ملانے لگے تھے۔
دوسری جانب وہ آہستہ سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔ سنسان پڑی سڑک پر دور دور تک پھیلی دھند کے نشان ثبت تھے۔ اس نے اپنی پشت گاڑی سے ٹکاٸ اور ایک ہاتھ جیب میں اڑسا۔ آسمان سے گرتی بہت سی چاندنی اس کے بالوں پر گر کر اسے اپنا نور بخش رہی تھی۔
”رابیل۔۔۔“
اس کی پکار پر جانے کیوں دوسری جانب اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔
”تمہیں ایک بات بتانی تھی میں نے۔۔“
اس کا لہجہ بہت نرم تھا۔ مدھم سا۔۔ دوسری جانب اس کی سماعتوں میں جانے کیوں مٹھاس سی گھلی تھی۔ آنسو اب متواتر بہنے لگے تھے۔ وہ اس کے لیۓ آنسو بہا رہی تھی۔ وہ اس کے حصے کا رو رہی تھی۔ کیونکہ کبھی کبھی تو وہ چاہ کر بھی رو نہیں پاتا تھا۔
”تم ہمیشہ کہتی ہو کہ تم بیوقوف ہو۔ لوگ تمہیں کہتے ہیں کہ تم کم عقل ہو۔۔ تم معاملات کو ٹھیک سے سنبھالنا نہیں جانتیں۔ لیکن میں تمہیں ایک گہری حقیقت بتاٶں رابیل۔۔“
وہی مدھم سا آنچ دیتا لہجہ اب کہ اس کی سماعتوں کے راستے دل میں اتر رہا تھا۔ اس نے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر لرزتی ہچکیاں ابھرنے سے روکی تھیں۔ معاذ نے سر گاڑی سے ٹکا کر دور آسمان پر نگاہیں جماٸیں۔ ماتھے پر گرے سیاہ بال ہولے ہولے لہرا رہے تھے۔ اسکی سرمٸ آنکھیں اس سمے گہری اداسی کی زد میں تھیں۔۔ اور اس کی آواز۔۔ اس کی آواز اس اداسی کے زیر اثر کچھ اور گھمبیر ہوگٸ تھی۔۔
”تم بہت عقل مند ہو۔۔ تم وہ باتیں بھی جان لیتی ہو جو انسان تم سے چھپانے کی سعی کررہا ہوتا ہے۔ تم وہ باتیں بھی سمجھ لیتی ہو جو کبھی کہی ہی نہ گٸ ہوں اور تم۔۔“
وہ لمحے بھر کو ٹھہرا تھا۔ آسمان سے گرتی چاندنی اب دور دور تک پھیلی دھند میں گھلنے لگی تھی۔ وہ بھی اس دھند میں کھڑا اسی دھویں کا حصہ لگ رہا تھا۔
”اور تم اس سب کے ساتھ مجھے اکثر ڈرا دیتی ہو۔۔ ایسے مت کیا کرو۔۔“
اس نے کہہ کر گہرا سانس لیا تو دوسری جانب رابیل نے بھی کھینچ کر سانس لیا تھا۔ آنسوٶں سے بھیگا چہرہ ہاتھ سے رگڑا اور پھر الجھی سانسوں کو بمشکل معمول پر لانے لگی۔ اس نے جیب میں اڑسا ہاتھ باہر نکالا اور پھر آہستہ سے گاڑی کے ساتھ ہی ٹھنڈی سڑک پر بیٹھ گیا۔۔
”رو کیوں رہی ہو۔۔؟“
اس نے آہستہ سے پوچھا تھا۔ دوسری جانب وہ اس کے ایسے پوچھنے پر چونکی تھی۔
”میں نہیں رو رہی۔۔“
اس نے کہا تو آواز آنسوٶں سے بھیگی ہوٸ تھی۔ وہ دوسری جانب ہولے سے مسکرایا تھا۔
”کیوں روتی ہو اتنا۔۔؟“
”کیونکہ جو دنیا میں جتنا زیادہ روتے ہیں وہ آخرت میں اتنا ہی ہلکا بوجھ لے کر اٹھیں گے۔ میں بس اپنے اس بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتی ہوں۔“
اس نے کہہ کر گیلی سانس اندر کو کھینچی تھی۔
”مت رویا کرو اتنا۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔“
”تمہیں کیوں تکلیف ہوتی ہے۔۔؟“
وہ کچھ پل تو اس سوال پر خاموش بیٹھا رہا تھا۔ پھر سر اٹھا کر اپنے اوپر پھیلی دھند کو دیکھا۔ ہوا کے ایک سرسراتے جھونکے نے اسکی ہڈیوں تک کو لمحے بھر کے لیۓ جما دیا تھا۔
”پہلے ماں کے آنسوٶں سے تکلیف ہوتی تھی اور اب تمہارے آنسوٶں سے ہوتی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ کیوں۔۔“
اس نے صاف گوٸ سے کہا تو دوسری جانب وہ خاموش سی ہوگٸ۔ پھر گہرا سانس لے کر بولی۔۔
”تاٸ سے تو محبت کرتے تھے تم۔ جبھی تو ان کے آنسو تکلیف دیا کرتے تھے تمہیں۔۔ پھر میرے آنسو کیوں تکلیف دے رہے ہیں تمہیں۔۔؟“
”شاید میں تم سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔“
آخر میں کندھے اچکا کر آرام سے کہا تو دوسری جانب رابیل کا سانس ہی پل بھر کو رک گیا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا دوپٹہ اس نے مٹھی میں زور سے بھینچا تھا۔ معاذ کے اس ایک جملے نے اس سے اسکے سارے الفاظ کھینچ لیۓ تھے۔
”تم ایسے کیسے۔۔“
”رابیل۔۔“
اس نے اسے پکارا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی کچھ نہ بول پاٸ۔ وہ ابھی اس کے پچھلے انکشاف سے ہی نہ سنبھلی تھی۔ اس میں جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔ اسے لگا اگر اس نے اسے کسی بھی قسم کا جواب دیا تو وہ اس کی آواز کی لرزش سے سب کچھ جان جاۓ گا۔ یہاں تک کہ اس کے اندر پنپتی وہ خاموش محبت بھی۔۔
”مجھے لگتا ہے تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو۔۔“
اور اس کے اگلے جملے پر اس کے رخسار بے ساختہ ہی گلابی ہوۓ تھے۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنی آنکھیں چھپاٸ تھیں۔
”مجھے نیند آرہی ہے۔۔ میں سونے جارہی ہوں۔۔“
”تمہیں لگتا ہے کہ تم اب سو سکوگی۔۔؟“
اس نے برجستگی سے سوال کر کے اسے لاجواب کردیا تھا۔ ہاں ٹھیک کہہ رہا تھا وہ۔۔ اب اسے ساری رات نیند نہیں آنی تھی۔ بدتمیز کو اس کے سارے کمزور لمحات کا علم تھا۔
”تم بہت برے ہو معاذ۔۔“
اس نے جل کر کہا تو وہ دوسری جانب ہنس دیا۔ اس کے ایسے ہنسنے پر اس نے بے ساختہ لب کاٹے تھے۔ اسے پتا تھا کہ وہ ایسے ہنستے ہوۓ کیسا لگتا تھا۔۔ اف۔۔
”بس ایک بات بتادو مجھے۔۔“
”پوچھو۔۔“
”رو کیوں رہی تھیں تم۔۔؟“
”تم نے رلایا تھا۔۔“
”میں نے کب رلایا تمہیں۔۔؟“
”تمہیں پتا ہے کہ میرا دل حساس ہے۔ کچھ بھی تکلیف دہ دیکھے تو اپنے آپ ہی گہری اذیت کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اور تم۔۔ تم نے خود کو تکلیف دے کر مجھے تکلیف پہنچاٸ۔ لیکن اس سب کا نتیجہ کیا نکلا۔۔؟ یہی کہ آخر میں مجھے رونا آگیا۔۔ میں اتنی بھی مضبوط نہیں ہوں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔“
اس نے بے حد سچاٸ سے کہہ کر اپنا سر بیڈ کراٶن سے ٹکایا تھا۔ اسی لمحے معاذ نے بھی اپنا سر گاڑی کی پشت سے ٹکایا۔
”لیکن میں نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ میری تکلیف کو بھانپ لو۔ یہ تو تمہارا اپنا فیصلہ تھا ناں۔۔“
”بات اگر میرے فیصلے اور اختیار کی ہوتی تو تمہیں نہیں لگتا کہ میں خود کو بہت سی اذیتوں کا شکار ہونے سے بچا لیتی۔ لیکن سچ تو یہ ہے معاذ کہ یہ سب بے اختیار ہے۔۔ یہ میرے اختیار سے باہر کی بات ہے۔ ابھی اور مضبوط بننے میں مجھے مزید وقت لگے گا۔۔“
”پھر کیا کرنا چاہیۓ مجھے۔۔؟ تم سے دور ہوجاٶں۔۔؟“
جانے کیوں اس سوال پر رابیل کا دل کہیں اندر تک ڈوب کر ابھرا تھا۔
”اور اگر میں کہوں کہ نہیں تو پھر۔۔ کیا تم میری بات مانو گے۔۔؟“
اور اب خاموش ہونے کی باری معاذ کی تھی۔
”جو بھی فیصلہ کروگی مجھے منظور ہوگا۔ تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا مجھ سے علیحدگی کا فیصلہ کرتی ہو۔ میں تمہارے ہر فیصلے کا احترام کر کے شرافت کے ساتھ پیش آٶنگا۔۔“
اس کی آواز اب کہ بے حد سنجیدہ تھی، جیسے ہمیشہ رہا کرتی تھی۔ وہ اب پرانے والا معاذ لگ رہا تھا۔ صاف گو اور دو ٹوک بات کرنے والا۔
”تمہیں نہیں لگتا کہ فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اب ہمیں صرف اس رشتے کو آگے بڑھانا ہے۔۔؟“
”نہیں رابیل۔۔“
وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ پھر ایک ہاتھ جیب میں اڑسے سڑک پر قدم قدم چلنے لگا۔ سردی کے باعث، فون کو تھامے اس کی انگلیاں سرخ پڑ رہی تھیں۔
”جس وقت فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت سے تم بھی واقف ہو اور میں بھی۔ ہم دونوں میں سے کوٸ بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔ لیکن اب۔۔ تم میری اصلیت سے واقف ہو۔ اب تم میرے سیاہ اور سفید کو جانتی ہو۔ میں کس قسم کا آدمی ہوں اب تمہیں اس بات کا اندازہ ہے تو اب۔۔ فیصلہ بھی تمہارا اسی حساب سے ہونا چاہیۓ۔۔“
وہ بے ساختہ سیدھی ہو بیٹھی تھی۔
”مجھے تمہارے ساتھ پر کوٸ اعتراض نہیں ہے معاذ۔ بلکہ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ مجھے کوٸ اور انسان ہینڈل نہیں کرسکتا۔ میری بیوقوفی، میری حساسیت اور میرے حجاب کو ہینڈل کرنا ہر کسی کے ظرف کی بات نہیں ہے۔ اسے کچھ ہی لوگ سنبھال سکتے ہیں اور تم۔۔ تم ان لوگوں میں شامل ہو۔“
”میرے ساتھ پر راضی ہو تم۔۔؟“
اس نے آخر میں سوال کیا تو اس نے بس ایک پل کا وقت لیا تھا۔
”میں راضی ہوں۔۔“
”سوچ لو۔۔“
اور اب وہ اسے تنگ کررہا تھا۔ ایک جانب سے لب دبا کر اس نے لبوں پر ابھرتی مسکراہٹ روک رکھی تھی۔ جانتا تھا کہ اب رابیل کی جانب سے اسے ڈانٹ پڑنے والی ہے۔۔
”مجھے پتا ہے کہ تمہیں مجھے تنگ کر کے بہت مزہ آتا ہے لیکن میں بھی اب تنگ ہونے والی نہیں ہوں۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم ایک جنگلی خر ہو۔ جو کبھی نہیں سدھر سکتا۔۔“
اس کے جل کر کہنے پر وہ ہنس پڑا تھا۔
”کوٸ اپنے شوہر کو جنگلی خر بولتا ہے۔۔!“
اس نے افسوس سے سر ہلا کر کہا تھا۔ وہ دوسری جانب ہنسی۔۔
”بالکل۔۔ میں اپنے شوہر کو جنگلی خر کہہ سکتی ہوں کیونکہ وہ اسی لاٸق ہے۔ اور مزے کی بات بتاٶں۔۔ اسے خود بھی پتا ہے کہ وہ جنگلی خر کہلانے کے لاٸق ہے۔“
”بالکل بابا کے نقش قدم پر چل رہی ہو تم، دیکھ رہا ہوں میں تمہیں۔۔“
”اگر تم سامنے ہوتے ناں تو اس بات پر تمہیں زبان دکھا کر بھاگ جاتی میں۔۔“
اب کہ وہ اس کی بات پر بے ساختہ ہی ہنس پڑا تھا۔آس پاس پھیلی دھند میں آسمان سے گرتی چاندنی چمکی تھی۔ آسمان پر تیرتی سرمٸ بدلیاں ان کی باتوں پر مسکراٸ تھیں اور چلتی ہوا کے جھکڑوں نے لمحے بھر کو مڑ کر اس لڑکے کو دیکھا تھا۔
”تم مجھے کیسے مل سکتی ہو رابیل۔۔؟ اتنی آسانی سے کیسے۔۔؟“
اس نے مدھم اٹھتے قدموں کے ساتھ سوال کیا تو وہ چپکے سے مسکرادی۔ آنکھیں اب تک پچھلی نمی کے باعث چمک رہی تھیں، آنسوٶں کے نشانات اب بھی اس کے رخساروں پر ثبت تھے مگر لبوں پر کھلتی مسکراہٹ اب ہر اس تاثر کو زاٸل کرنے لگی تھی۔
”جیسے تم مجھے مل سکتے ہو ویسے ہی میں بھی تمہیں مل سکتی ہوں۔۔“
کتنی آسان تھی وہ۔ کتنی آسانی تھی اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں۔ پیچیدہ باتیں کرنے ہی نہیں آتی تھیں اسے۔ لوگوں کی دی گٸ بے جا تکالیف برداشت کرنے کے بعد بھی وہ درشت نہیں ہوٸ تھی۔ اس کا دل آج بھی مہربان تھا۔۔ مہربانی کرنا جانتا تھا۔
”مجھے لگتا تھا کہ میں ساری زندگی اس سیاہ رات سے کبھی آزاد نہیں ہو پاٶنگا۔۔ مجھے لگتا تھا کہ میں خود کو کھو چکا ہوں تو کبھی پا نہیں سکونگا۔ یوں لگتا تھا کہ اگلی ساری زندگی اندھیر ہو کر گزرنے والی ہے لیکن رابیل۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے اس سیاہ کہف میں کوٸ روشنی تھی جو مجھ سے چھپا کر رکھی گٸ تھی۔ وہ روشنی تم تھیں رابیل۔۔ مجھے ایک عرصے تک اس میں تنہا رہنے کے بعد تمہارا ساتھ نصیب ہوگیا۔ کتنی عجیب بات ہے ناں کہ تم میرے اتنے قریب تھیں مگر مجھے اتنے وقت بعد ملیں۔ کچھ نعمتیں اوقات کے ساتھ باندھی گٸ ہوتی ہیں۔ ان کے لیۓ ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ وہ آپ کو کبھی اس وقت سے پہلے یا بعد میں نہیں مل سکتیں۔ ہمیں بس اس وقت کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔۔ صبر کے ساتھ۔۔ اپنی ذات کو امید کی روشنی تھما کر۔۔“
وہ مسلسل اپنی انگلی پر لٹ لپیٹ رہی تھی اور اسے پتا تھا کہ وہ مسکرا رہی ہے۔ کاش کہ وہ اس سمے آٸنیہ دیکھتی تو اسے اندازہ ہوتا کہ وہ کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔
”تو میں تمہاری روشنی ہوں۔ کتنی اچھی ہوں ناں میں۔۔“
بے نیازی سے کہہ کر یونہی آنکھیں گھماٸ تھیں۔ وہ اس کی بات پر مسکرایا۔۔
”میں اتنا کڑوا ہوں۔ رہ لوگی میرے ساتھ۔۔؟“
”ہاں رہ لونگی۔۔“
”بڑی مضبوط ہوگٸ ہو۔۔“
”تمہاری سوچ سے بھی زیادہ۔۔“
”مضبوط ہی رہو۔۔ اور اگر کوٸ رلاۓ تو بتانا۔۔“
”اچھا تم کیا کروگے پھر۔۔؟“
اب کہ ماحول میں پھیلی آنسوٶں کی نمی سمٹنے لگی تھی۔ اب کہ وہاں صرف مسکراہٹوں کی نمی جگمگا رہی تھی۔
”میں۔۔ کچھ نہیں۔۔ مارونگا شاید۔۔“
”ہر وقت مار پیٹ کا سوچتے رہا کرو بس۔ کبھی اس کے علاوہ بھی کچھ سوچ لیا کرو۔ ویسے ڈر نہیں لگتا تمہیں لڑاٸ جھگڑوں سے۔۔؟ میرے سامنے تو کوٸ اونچی آواز سے بول دے تو میرا سانس رک جاتا ہے۔۔“
”نہیں۔۔ مجھے ڈر نہیں لگتا۔۔ عادت ہوگٸ ہے۔۔ اب بہت نارمل بات ہے یہ میرے لیۓ۔۔“
”جھگڑا کرنا کسی کے لیۓ نارمل کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟“
اسے ابھی تک یہی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ دوسری جانب اس نے کندھے اچکاۓ تھے۔۔
”جب ایک ہی چیز کو آپ اپنے سامنے بار بار ہوتے دیکھتے رہوگے تو ایک وقت پر جا کر وہ اپنا اثر کھو دے گی۔۔“
”شاید مجھے بھی لوگوں کے کڑوے رویے کی جلد ہی عادت ہوجاۓ۔۔“
اس کے کہنے پر معاذ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
”ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ لوگ تو اپنی عادتوں سے باز نہیں آتے۔ ایک وقت آۓ گا جب تمہیں یہ سب باتیں تکلیف دینا چھوڑدیں گی کیونکہ یہ باتیں اپنا اثر کھودیں گی۔ ہمیں، ہماری تربیت کے دوران بار بار یہی بتایا جاتا رہتا تھا کہ جو آپ قبول نہ کرسکو اس کا خاموشی سے گزرنے کا انتظار کرو۔ پھر ایک وقت آپ اس کی جانب سے بے حس ہوجاٶ گے اور ایسا ہی ہوتا تھا۔۔“
”اور اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیۓ اتنا بے حس تو بننا ہی پڑتا ہے۔“
”بے حس اور ڈھیٹ۔۔“
اس نے اضافہ کیا تھا۔ رابیل نے دوسری جانب گہرا سانس لیا۔
”تمہاری اور میری دنیا میں فرق ہے معاذ۔ جدھر سے تم آۓ ہو، جہاں تم نے وقت گزارا ہے، اور جہاں تم نے کام کیا ہے وہ دنیا ایک الگ دنیا تھی۔ اور جہاں میں رہتی ہوں، جہاں میں زندگی گزار رہی ہوں، اور جس جگہ میں اپنا وقت گزارتی رہی ہوں وہ دنیا ایک بالکل مختلف دنیا ہے۔ تو ہم ایک دوسرے کے درمیان کھڑی بہت سی دیواروں کو یونہی نہیں پھاند سکتے۔ ہمیں ایک دوسرے کو وقت دینا ہوگا۔“
اس نے کہہ کر ایک بار پھر سے گہرا سانس لیا تو وہ اس کے جواب پر تلخی سے مسکرادیا۔ پھر یونہی گردن گھما کر دھند میں لپٹے راستوں کو دیکھا۔
”دنیا تمہاری ہو یا میری رابیل۔ ڈھٹاٸ اور بے حسی ہر جگہ ضروری ہے۔“
”اور اگر کوٸ ڈھیٹ نہ ہو تو۔۔؟“
”تو کیا۔۔ وہ اپنے آپ کو ہر لمحے کے عذاب کے لیۓ تیار رکھے پھر۔ کیونکہ دنیا تو ظالم ہونا نہیں چھوڑتی۔ ہاں انسان ہی کو مضبوط بننا پڑتا ہے۔۔“
”کیا حساس انسان مضبوط نہیں ہوسکتا۔۔؟“
اب کہ اس کی آواز میں خفگی بے حد واضح تھی۔ وہ اس کی خفگی سے محظوظ ہوا تھا۔
”حساس انسان مضبوط ہوسکتے ہیں لیکن بات گھوم کر وہیں آجاتی ہے کہ ان کی حساسیت انہیں تکلیف دے جاتی ہے۔“
”میرا کچھ نہیں ہوسکتا پھر تو۔۔“
اس نے مایوسی سے کہہ کر اب کہ اپنا سر تکیۓ پر رکھا تھا۔ آنکھوں سے کوسوں دور نیند یونہی اس کی آنکھوں میں لمحے بھر کو جھانکی تو بے ساختہ ہی اس نے اپنی جماٸ روکی۔
”تم مضبوط بنو۔ حساسیت چونکہ تمہاری طبیعت کا حصہ ہے تو یہ تمہارے اندر سے مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ ہاں۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے تم مضبوط ہوتی جاٶگی۔۔ لوگوں کی باتوں کو کم سوچنے لگو گی تب تمہاری اس حد درجہ حساس ہونے والی عادت میں کچھ کمی آجاۓ گی۔۔“
”ہوں۔۔“
اس کی آنکھیں نیند سے بھاری ہونے لگی تھیں۔ آواز بھی بس ایک لمبے سے ”ہوں“ کی صورت نکلی تو معاذ بھی اپنی گاڑی کی جانب چلا آیا۔
”لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی تم جتنی مضبوط بن سکتی ہوں۔۔“
اس کی سست سی آواز پر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ پھر گاڑی کا دروازہ اپنے پیچھے بند کرتا اندر بیٹھا۔
”تمہیں مجھ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں اپنے آپ سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے کل سے اپنے آج کا مقابلہ کرو۔ اور ویسے بھی۔۔ تم جیسی بھی ہو مجھے قبول ہو۔۔“
”بس تو ٹھیک ہے ناں۔۔“
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ایک بار پھر سے جماٸ روکی تو معاذ جانے کیوں ہنس دیا۔
”جب تمہیں کوٸ مسٸلہ نہیں تو میرا کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی رہنے دو مجھے۔۔ اور تم بھی شرافت سے گھر جاٶ۔۔ ہر وقت کی یوں من مانی کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔۔ شریف گھر کے لڑکے ایسی حرکتیں نہیں کرتے سمجھے۔۔ “
کتنی نرم آواز تھی اسکی۔ اور اب یوں نیند کے خمار میں ڈوبی اس کی آواز اور بھی بچوں جیسی لگ رہی تھی۔ اس سخت سی دنیا میں وہ بچوں کی سی معصومیت لیۓ دنیا بھر کے دکھ سمیٹنے کی خود میں طاقت رکھتی تھی۔
”سوجاٶ تم اب۔ اور میرے لیۓ لڑنے کی کوٸ ضرورت نہیں۔۔ کسی کو بھی میرے لیۓ جواب مت دو۔ تم تھک جاٶ گی۔۔ اگنور کیا کرو۔ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا۔۔“
”لیکن جو۔۔۔“
اس نے آنکھیں پٹ سے کھول کر احتجاجً کچھ کہنا چاہا تو اس نے آرام سے اس کی بات کاٹی۔۔
”سوجاٶ چپ کر کے اب۔۔ باقی کی بحث ہم پھر کبھی کر لیں گے۔۔ خیال رکھنا۔۔“
”ویسے بس ایک بات بتادو۔۔“
اور وہ جو فون کان سے ہٹانے ہی لگا تھا یکدم رک گیا۔ اس کی بوجھل آواز میں بے ساختہ ہی کچھ یاد آنے پر جوش سا بھر گیا تھا۔
”میں نے اکثر کپلز کو دیکھا ہے۔ ان میں سے لڑکی کو ہمیشہ بحث ختم کرنے کے لیۓ خاموش ہونا پڑتا ہے۔ یعنی اس کی اپنی کوٸ راۓ ہی نہیں رہتی۔ لیکن تم ایسے نہیں کرتے۔ تم مجھے خاموش نہیں کرواتے۔ تم رعب کیوں نہیں جماتے ہو۔۔؟“
اس کی نیند ایک بار پھر سے اڑنے لگی تھی۔ یوں لگتا تھا گویا اس نے معاذ سے اپنا پسندیدہ سوال پوچھا ہو۔ دوسری جانب اس نے ابرو اکھٹے کر کے سامنے دیکھا۔ پھر کندھے اچکاۓ۔
”سیدھی سی بات ہے۔ میں تمہیں خود سے کم تر نہیں سمجھتا۔ جو مرد ایسے کرتے ہیں وہ اکثر خود کو اپنی بیوی سے زیادہ عقل مند اور قابل شرف و منزلت سجھتے ہیں۔ لیکن میرے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔۔“
ایک پل کو رک کر اس نے کان کی لو مسلی تھی۔
”تمہاری راۓ میرے لیۓ اہم ہے اور دوسری طرف اگر میں مسلسل بحث کررہا ہوں تو ہمیشہ تمہیں ہی کیوں سوچنا پڑے بحث ختم کرنے کے لیۓ۔ یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں ناں۔۔ اس کے لیۓ ہمیشہ تمہیں کیوں الزام دوں میں۔ بحث کیا کرو اور جم کر کیا کرو۔ زچ کردیا کرو آگے والے کو۔۔ آٸندہ پنگا لینے سے پہلے پچھلی عزت افزاٸ کو یاد رکھیں گے۔ اور میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا رابیل۔۔ مرد، عورت سے افضل ہے۔۔ مطلب وہ اس سے ایک درجہ اوپر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جو چاہے گا کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ذمہ داری زیادہ ہے۔ اس کا کام بھاری ہے۔ اس میں فخر سے گردن اکڑا کر چلنے کی بات نہیں ہے۔ جب آپ پر ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے تو آپکو اپنی پھٹی پرانی گھٹیا عادتوں پر محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے اوپر کام کر کے خود کو ذمہ دار بنانے کا بیڑا اٹھانا پڑتا ہے۔ پتا نہیں میرے آس پاس مردوں کو کیوں لگتا ہے کہ وہ اس بھاری ذمہ داری پر فخر اور غرور کرنے کا کوٸ حق رکھتے ہیں۔ آپ اللہ کے آگے جواب دہ ہیں۔ تیار رہیں۔۔“
اس کی بات پر وہ اب کہ اس کی آنکھیں پوری کھل گٸ تھیں۔۔
”مجھے کچھ دیر پہلے ایسا لگا جیسے کوٸ قرآن کا طالب علم بول رہا ہو۔۔“
اور دوسری جانب اس نے نا سمجھی سے مسکرا کر موباٸل ایک کان سے ہٹا کر دوسرے پر جمایا تھا۔
”تم سورہی ہو یا نہیں۔۔؟“
”بس بس میں سونے ہی جارہی ہوں۔ خیال رکھنا۔۔ اللہ حافظ۔۔“
اور اس نے اس کی بات سنے بغیر فون کان سے ہٹا کر سامنے ڈال دیا تھا۔ کیونکہ وہ اس کی نیند میں مخل ہونا نہیں چاہتا تھا۔ گہرا سانس بھر کر اس نے ایگنیشن میں چابی گھماٸ اور گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ جب رابیل ساتھ ہوتی تھی تو لگتا تھا گویا کوٸ دکھ ہی ساتھ نہ تھا لیکن جب۔۔ جب وہ اس سے دور ہوتی۔۔ جب وہ اسے خود سے دور کرنے کا سوچتا یا اپنی زندگی سے نکالنے کے خیالات کو برملا تسلیم کرنے لگتا تو بے چینی اور اندر بڑھتی گھٹن کی کوٸ حد نہ رہتی تھی۔
اس سے بات کرنے کے بعد اس کے لیۓ فیصلہ کرنا آسان ہوگیا تھا۔ اسے بس اب کچھ دن خاموشی کے چاہیۓ تھے۔ خود کو ایک بار پھر سے راضی کرنے کے لیۓ۔۔ کیونکہ کہیں اندر، ایک دل اب بھی اسی بات پر مصر تھا کہ وہ اس کے قابل نہیں اور اسے۔۔ اسی ایک دل کو راضی کرنا تھا۔۔
