#do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
تیرھویں_قسط کا بقیہ حصہ
آج صبح ہی صبح گھر میں خوب چہل پہل ہورہی تھی۔ اس نے کمرے کا دروازہ اپنے پیچھے بند کیا اور بالوں کو ہاتھ سے سمیٹی آگے بڑھ آٸ۔ لاٶنج میں بہت سے تحاٸف رکھے ہوۓ تھے اور ساتھ ہی صوفوں پر آمنے سامنے عابد اور رامین براجمان تھے۔ اس نے یونہی گردن پھیر کر گھڑی کی جانب نگاہ ڈالی۔ وہاں صبح کے دس بج رہے تھے۔
”یہ اتنی صبح صبح آپ لوگ کونسی پکنک منانے جارہے ہیں۔۔؟“
اس نے دوپٹہ شانوں پر درست کیا اور صوفے پر آبیٹھی۔ جھک کر ایک شاپنگ بیگ اٹھایا۔ اندر رکھا چوکور سا بڑا ڈبہ سلور رنگ کی پیکنگ میں جگمگا رہا تھا۔
”بھاٸ صاحب سے ملنے جارہے ہیں ہم لوگ۔۔“
عابد جو چشمہ لگاۓ موباٸل میں کوٸ نمبر تلاش کررہے تھے، مصروف سے بولے۔۔ اس نے سر اثبات میں ہلایا اور مزید شاپنگ پیگز دیکھنے لگی۔۔
”تم نہیں چلوگی۔۔؟ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ہم سب کو ان کی عیادت کے لیۓ جانا چاہیۓ ناں۔۔“
رامین نے جوڑے پر ڈلا دوپٹہ درست کرتے اس سے کہا تو اس نے گہرا سانس لے کر پاٶں اوپر کو چڑھاۓ۔۔
”آپ لوگ چلے جاٸیں ماں۔ میں پرسوں ہی تو مل کر آٸ تھی ان سے۔ اور ویسے بھی میں آج ریسٹ کرنا چاہتی ہوں گھر میں رہ کر۔ یہ پورا ہفتہ ہی بہت مصروف اور تھکا دینے والا گزرا ہے۔“
اس نے کہہ کر کنپٹی کو سہلایا۔۔ رات کی نیند کے بعد وہ اب کہ بہت بہتر محسوس کررہی تھی۔
”چلو مرضی ہے تمہاری۔۔ ناشتہ بنوادوں تمہارے لیۓ۔۔؟“
انہوں نے اٹھتے ہوۓ پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
”بس چاۓ بنوادیں اچھی سی۔۔ ابھی ناشتے کا دل نہیں چاہ رہا۔۔۔“
وہ سر ہلاتی کچن کی جانب بڑھیں تو عابد نے یونہی عینک کے اوپر سے اسے دیکھا۔۔
”مدرسہ کی پڑھاٸ کیسی جارہی ہے تمہاری۔۔؟“
وہ ان کے یوں اچانک پوچھنے پر چونکی تھی۔ پھر صوفے پر ہی ان کے سامنے چوکڑی مار کر بیٹھی۔
”بہترین جارہی ہے۔۔ لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟“
”دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں اپنے حق کے لیۓ بولنا آگیا ہے۔ تم اب پہلے جیسی نہیں رہی ہو۔۔“
ان کا اشارہ غالباً پچھلی رات ہوٸ بحث کی جانب تھا۔ اس نے خجل ہو کر سر کھجایا تھا۔
”آپکے بھاٸ کو ناراض کرچکی ہوں میں۔۔ اس پر ڈانٹیں گے نہیں مجھے۔۔؟“
”ڈانٹتا۔۔ اگر بات ناجاٸز ہوتی تو، ضرور کان کھینچتا تمہارے۔۔ لیکن بات درست تھی۔۔“
”ویسے بھی لوگ وہی بات قبول کرتے ہیں جو وہ قبول کرنا چاہتے ہیں بابا۔ میں اب اس حوالے سے پریشان نہیں ہوتی۔ انسان کا اپنا معاملہ خود کے ساتھ درست ہو تو پھر وہ باہر والوں سے اختلاف کے بعد انتشار کا شکار نہیں ہوتا۔۔“
”ہوں۔۔“
وہ ہنکارا بھرتے سیدھے ہو بیٹھے تھے۔ پھر عینک نگاہوں سے ہٹا کر ہاتھ میں تھامی۔ فون ایک جانب صوفے پر رکھا۔۔
”اچھی بات ہے کہ تم بہت کچھ سیکھ گٸ ہو۔ یہ بہت کام آۓ گا تمہارے آگے زندگی میں۔“
”اب بھی آرہا ہے کام تو۔۔“
مزے سے کندھے اچکا کر کہا تو وہ مسکرادیۓ۔
”ارحم اور معاذ میں کوٸ فرق لگتا ہے تمہیں۔۔؟ یا دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔۔؟“
لیکن اب کہ ان کے سوال پر وہ سٹپٹاٸ تھی۔ اسے ان سے ایسے کسی بھی سوال کی توقع نہیں تھی۔
”آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔؟“
رامین نے اسے چاۓ لا کردی تو اس نے اپنا پسندیدہ کپ تھام لیا۔ نگاہیں اب بھی بابا کی جانب ہی تھیں۔
”ویسے ہی پوچھ رہا ہوں۔۔ جاننا چاہتا ہوں کہ تمہاری نظر میں کتنا فرق ہے ان دونوں میں۔۔“
اس نے چاۓ آگے بڑھ کر درمیانے ٹیبل پر رکھی اور پھر آرام سے عابد کو دیکھا۔
”ارحم ایک بزدل اور گھٹیا انسان ہے اور معاذ۔۔ وہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا کونسا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں۔“
کیا جواب دیا تھا اس نے۔۔ عابد لمحے بھر کو لاجواب ہوۓ تھے۔ پھر مسکرادیۓ۔۔
”تم نے یہ نہیں کہا کہ معاذ اچھا ہے یا برا۔ تم نے تو بات آگے والے پر ڈال دی رابیل۔ کب سے تم اتنی سمجھداری ہوگٸ ہو۔۔؟“
اب وہ محظوظ ہوتے پیچھے کو بیٹھے تو وہ بھی مسکراٸ۔ پھر آگے بڑھ کر اپنا چاۓ سے بھرا کپ اٹھایا۔ اس سے اٹھتی بھاپ لمحہ بہ لمحہ فضا میں تیر کر غاٸب ہونے لگی تھی۔
”جو حقیقت ہے میں آپ کے گوش گزار کر چکی ہوں۔ اسے اچھا اس لیۓ نہیں کہا کیونکہ میں جانتی ہوں وہ اتنا اچھا نہیں ہے اور برا کہہ کر میں اسے جج نہیں کرنا چاہتی۔ میں جانتی ہوں وہ اپنے کاموں کی وجوہات رکھتا ہوگا بابا۔ اور وہ وجوہات۔۔ وہ چھوٹی موٹی نہیں ہونگی۔۔ وہ بہت اٹل ہونگی۔ آپ اور مجھ جیسے گھریلوں لوگ ان وجوہات کو جھٹلا نہیں پاٸیں گے۔“
”جانتا ہوں یہ بات تو میں۔۔ وہ لوگوں کو ٹرک کرنا جانتا ہے۔ اسے پتا ہے کہ کسے باتوں سے قاٸل کرنا ہے اور کسے ہاتھوں سے۔ درمیانہ راستہ تو جانتا ہی نہیں وہ۔۔ہمیشہ انتہاٶں پر کام سرانجام دینا آتا ہے اسے۔۔“
رامین ان دونوں کی باتیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھیں۔ اور ابھی تک جو انہیں سمجھ آیا تھا وہ بس یہی تھا کہ بات معاذ اور ارحم کے متعلق ہورہی تھی۔
”ایسا ہی ہے۔ وہ لوگوں کو سفید اور سیاہ خانوں میں رکھنے کا عادی ہے۔ بہت مشکل سے کسی سرمٸ انسان کو قبول کرپاتا ہے وہ۔ اور جانتے ہیں بابا۔۔ یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔“
انہوں نے اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوۓ سرہلایا تھا۔ پھر ہاتھ میں بندھی گھڑی دیکھ کر اٹھنے ہی لگے تھے کہ دروازے سے اندر داخل ہوتے اقبال پر نگاہ پڑی۔ رابیل نے سرعت سے سر پر دوپٹہ ڈالا تھا۔ لیکن وہ وہیں ٹھہر چکا تھا۔ عابد کے تاثرات اس کے یوں بغیر کسی کھٹکے کے داخل ہونے پر سنجیدہ ہوۓ تھے۔
”آٸندہ اگر آٶ تو پہلے اجازت لیا کرو اقبال۔ رابیل اب پردہ کرتی ہے، جانتے ہو ناں تم۔۔؟“
اور وہ جو دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹ ہی رہی تھی، یکدم چونکی۔ اقبال ان کے غیر متوقع سے ردعمل پر گڑبڑایا تھا۔
”میں وہ۔۔ دراصل۔۔ سوری تایا۔۔ مجھے خیال کرنا چاہیۓ تھا۔۔ آٸندہ خیال رکھونگا۔۔“
اور پھر بات کیۓ بغیر ہی الجھتا ہوا اگلے پل پلٹ بھی گیا۔ رامین نے خفگی سے ان دونوں کی جانب دیکھا تھا۔
”اس بچے کو بات تو کرنے دیتے آپ عابد۔ یونہی بیچارہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ اور تم رابیل۔۔ اگر پردہ کرتی ہو تو یوں بغیر دوپٹے کے نہ بیٹھا کرو۔ تمہاری وجہ سے ہمارے رشتے خراب ہورہے ہیں۔۔“
اور ان کی صلاواتوں پر اس نے مسکرا کر سر جھکا لیا تھا۔ بابا بھلے ہی اس کی حاضر جوابی سے محظوظ ہوۓ ہوں لیکن رامین کو اس کا یوں بات کرنا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے کھو رہے تھے۔ انہیں یہ ہرگز بھی گوارا نہیں تھا۔
”ہمارے رشتے رابیل کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے رشتے داروں ہی کی وجہ سے خراب ہورہے ہیں بیگم۔ اب جبکہ سب کو معلوم ہے کہ اس گھر میں ایک لڑکی پردہ کرنے والی رہتی ہے تو انہیں ہر آن اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ہم نے منہ اٹھا کر اس گھر میں نہیں جانا۔ پہلے گھر والوں کو آگاہ کرنا ہے اور پھر گھر کے اندر داخل ہونا ہے۔ آٸندہ یہ ایسے کبھی بھی نہیں کرے گا۔۔“
انگلی سے دروازے کی جانب اشارہ کیا تو رامین کھلی آنکھوں سے ان کی بے نیازی دیکھتی ہی رہ گٸیں۔ اور دیکھ تو انہیں رابیل بھی رہی تھی۔ وہ اسے ایک لمحے کے لیۓ بالکل معاذ جیسے لگے تھے۔ اس جیسے بے نیاز، اکھڑ اور ذرا ”بھاڑ میں ڈالو“ والے۔ سوچ کر اسے خود ہی اپنے تبصرے پر ہنسی آٸ تھی۔
”آپ لوگوں کی منطق تو دن بہ دن میری سمجھ سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ آپ لوگ معاذ کا اثر لے رہے ہیں یا وہ آپ لوگوں کا۔ خیر اب جو بھی ہے۔۔ اٹھیں۔۔ ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔ بھاٸ صاحب کے گھر جانے کے بعد آپ کو میٹنگ میں جانا ہے اور مجھے زاہد کی جانب۔۔“
وہ عجلت میں کہتیں باہر کی جانب بڑھیں تو عابد نے رابیل کو دیکھ کر کندھے اچکاۓ۔ پھر اٹھ کر اس کے پاس آۓ تو وہ یونہی گردن بچوں کی طرح اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔
”تھینکس بابا۔۔“
اس کی آنکھیں جانے کیوں اس لمحے باریک سے پانی کے زیر اثر چمکی تھیں۔ وہ جو اپنی جنگ خود لڑ رہی تھی، آج کسی ایک کو اپنی طرف کا ساتھ دیتے دیکھ کر اس کی آنکھیں بنا اجازت ہی نم ہوگٸ تھیں۔
”اب کبھی کبھی لگتا ہے کہ تمہارا فیصلہ بالکل درست تھا۔ پردہ کرنے والوں کے گھروں میں کوٸ ایسے ہی داخل نہیں ہوسکتا۔ جیسے شہزادیوں کے محل میں کوٸ منہ اٹھا کر نہیں جاسکتا۔ تم سے ہر کوٸ بات نہیں کرسکتا اور نہ ہی تم ہر کسی سے بات کرتی ہو۔ تمہارا ایک الگ مقام ہے۔۔ ایک الگ درجہ ہے۔ جو ہر پردہ کرنے والی کے نصیب میں آتا ہے۔ مجھے اب سمجھ آیا کہ اسلام لڑکیوں کو کونسی عزت دینا چاہتا تھا۔ خوش رہو۔۔ اور اسی عزت کے ساتھ جیو۔ تو اب۔۔“
وہ ہلکا سا جھکے تو اس کی آنکھوں سے آنسو لڑھکنے کو بے تاب ہونے لگے۔ وہ اب بالکل اس کے عین سامنے تھے۔۔
”اب اس عزت کے علاوہ تم کسی بھی کم تر شے پر راضی نہ ہونا۔ کیونکہ پھر اس عزت سے کم پر راضی ہونے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔۔“
وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے سیدھے ہوۓ تو اسے لمحے بھر کو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ وہی بابا ہیں جنہوں نے اس کے حجاب کو لے کر بہت سختی سے اس رشتے کو بچانے کا کہا تھا۔ اور آج۔۔ اس پہر وہ اس سے کہہ رہے تھے کہ اس عزت سے کسی کم شے پر راضی ہونا، سواۓ خسارے کے اور کچھ نہ ہوگا۔ کتنا سچ کہہ گۓ تھے وہ۔۔ اس نے گردن پھیر کر انہیں دروازے سے باہر نکلتے دیکھا اور پھر مسکرا کر آنکھیں رگڑتی جیسے ہی اٹھنے لگی۔۔ بے ساختہ چونکی۔۔
”اتنا کیوں روتی ہو۔۔؟“
کسی کا جملہ اس کی سماعت کا حصہ بنا تھا۔ ہنس کر سر جھٹکتے اسے اندازہ ہوا کہ وہ واقعی بہت رویا کرتی تھی۔ خیر۔۔ وہ جیسی تھی ویسی ہی تھی۔ یقیناً ایک وقت تو ایسا بھی آنا ہی تھا کہ جب یہ ساری باتیں اسے تکلیف دینا بند کردیں گی۔ اسے بس خاموشی سے ان لمحات کا انتظار کرنا تھا۔ لاٶنج سے اٹھ کر کچن کی طرف بڑھتے اب وہ س پھیلی نرم سی صبح کی مانند دمک رہی تھی۔
”اس سارے تحاٸف کی کیا ضرورت تھی عابد۔۔! تمہارا آنا ہی کافی تھا میرے لیۓ۔ تمہارا آنا ہی سب سے بڑا تحفہ تھا میرے لیۓ۔۔“
انہوں نے فرط جذبات سے کہہ کر بے ساختہ اپنی آنکھیں رگڑیں تو عابد کو ان پر پیار آیا۔ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بھی ان کی معصومیت کسی چھوٹے بچے کی معصومیت کو مات دیا کرتی تھی۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں۔۔ زندگی بھر کی کٹھن راہیں بھی انہیں سختی کی جانب نہیں دھکیلتیں۔ وہ آخر٠ی عمر تک اسی معصومیت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں، جن کے ساتھ پیدا کیۓ جاتے ہیں۔ اور بلاشبہ ۔۔ وقار انہی لوگوں میں سے تھے۔۔
”اور یہ روایت شروع کس نے کی تھی بھاٸ صاحب۔۔؟“
انہوں نے نرمی سے پوچھا تو وہ ہنس پڑے۔ سرخ و سفید، نورانی سا چہرہ اس سمے بے حد کھل رہا تھا۔
”ہاں ٹھیک ہے میں نے ہی کی تھی۔ لیکن دیکھو تو۔۔ ایک چھوٹی سی کاوش کا کس قدر بہترین پھل دیا ہے اللہ نے مجھے۔۔ تم میرے گھر آۓ ہو۔۔ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ تحاٸف دلوں کی رنجشوں کو دور کرتے ہیں۔۔ بیشک وہ سچاٸ کا پیکر تھے۔۔“
انہوں نے کہہ کر عینک نگاہوں پر جماٸ تو دنیا ایک بار پھر سے صاف ستھری نظر آنے لگی۔ ہر گرد سے پاک اور واضح۔۔
”بلاشبہ۔۔“
عابد نے کہہ کر سر ہلایا تھا۔ اسی پل معاذ چاۓ کی ٹرالی گھسیٹتا لاٶنج میں چلا آیا۔ رامین نے سر سے پیر تک اسے دیکھا تھا۔ جینز اور سفید ہاٸ نیک سوٸٹر میں اس کا سراپا بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ صاف ستھرا اور سلجھا ہوا۔ بال ہمیشہ کی طرح ماتھے پر گر رہے تھے اور سوٸٹر کی آستینیں پیچھے لپٹی ہونے کے باعث اس کے مضبوط ہاتھ اور واضح ہونے لگے تھے۔
درمیانے ٹیبل پر چاۓ رکھ کر اب وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا چاۓ بنا رہا تھا۔
”بیٹے میں کرلیتی ہوں یہ۔۔“
ان کے لیۓ اس کا اس طرح سے کام کرنا بہت اچھنبے کی بات تھی۔ وہ ہلکا سا مسکرایا پھر ان کی جانب چاۓ بڑھاٸ۔ عابد اور رامین۔۔ دونوں کی آنکھوں میں جمع حیرت کو دیکھ کر وقار کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔ پھر وہ سیدھے ہو کر بتانے لگے۔۔
”میرے پاس کوٸ بیٹی نہیں تھی سو میں نے اور معاذ نے کام آپس میں بانٹ لیۓ تھے۔ اب یہ وہ سارے کام کرتا ہے جو ایک لڑکی کچن میں کھڑی ہو کر کرسکتی ہے۔۔ اسی لیۓ تم لوگ زیادہ پریشان نہ ہو۔ یہ تمہارے لیۓ ایک اچھا داماد ثابت ہوگا۔۔“
ان کے کہنے پر عابد بے ساختہ ہنس دیۓ تھے۔ رامین اب کہ اس کے ہاتھ سے چاۓ لے کر اسے دیکھ رہی تھیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی لڑکا تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بدتمیز اور جنونی سا تھا۔ اس وقت تو وہ انہیں بے حد خاموش طبع اور سنجیدہ لگ رہا تھا۔ ویسا ہی جیسا ہمیشہ لگا کرتا تھا۔ سب کی جانب چاۓ بڑھا کر وہ واپس پلٹا تو رامین مکمل طور پر عابد کی جانب متوجہ ہوٸیں۔
”آپ مکمل آرام کریں۔۔ آرام نہ کرنے کی وجہ سے آپکا بی پی ہاٸ رہتا ہے۔ ریسٹورینٹ سے چند دن چھٹی لیں اور گھر پر ریسٹ کریں۔۔“
”فی الحال تو چھٹی پر ہی ہوں عابد۔ سب کچھ معاذ ہی سنبھال رہا ہے لیکن یہ آخری عمر کی تنہاٸ۔۔ خاموشی۔۔ یہ جیسے مجھے اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔ بس میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد رابیل میرے اس خاموش سے گھر میں آجاۓ۔۔ اس کی نرم آواز اور چہکتی ہنسی اس گھر میں ایک نٸ زندگی پھونکنے کے مترادف ہوگی۔۔“
انہیں روانی سے کہتے ہوۓ احساس ہی نہ ہوا تھا کہ وہ کیا کہہ گۓ ہیں۔ بازو پر جیکٹ ڈالتے معاذ کے ہاتھ بے ساختہ تھمے تھے۔ وہ جو اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکلنے ہی لگا تھا، وہیں ٹھہر گیا۔ آنکھیں سکیڑ کر ایک لمحے کو عابد کا چہرہ جانچا۔۔ لیکن اس کی توقع کے برعکس وہ بہت پرسکون بیٹھے تھے۔ رامین نے البتہ پہلو بدلا تھا۔۔
”وہ تو اب آپکی ہی بیٹی ہے بھاٸ صاحب۔ میرے پاس تو امانت ہے وہ آپکی۔۔ لیکن لگتا ہے کہ چھوٹی ہے وہ ابھی شادی کے لیۓ۔۔ کچھ سال انتظار نہ کرلیں۔۔؟“
رامین نے چونک کر عابد کی جانب دیکھا تھا۔ یہ بات جانے کہاں سے کہاں جارہی تھی۔۔
”جانتا ہوں کہ چھوٹی ہے ابھی وہ۔۔ لیکن یہ بھی تو اسکا اپنا ہی گھر ہوگا ناں عابد۔۔ دیکھو ساس، نندوں کے جھگڑے اور کوٸ لمبے چوڑے خاندان کی بات نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسے گھر کو سنبھالنا ہوگا یا پھر پانچوں وقت مختلف انواع و اقسام کے کھانے بنا کر کسی کو کھلانے ہوں گے۔ وہ میری بیٹی ہے۔ یہ اس کا گھر ہے۔۔ وہ یہاں ویسے ہی رہے گی جیسے تمہارے پاس رہتی ہے۔ اور جہاں تک رہی بات کچن سنبھالنے کی تو آہستہ آہستہ وہ سب سیکھ جاۓ گی۔۔ مجھے کوٸ جلدی نہیں ہے۔۔ بلکہ ایک سچ بات بتاٶں۔۔ مجھے تو اس کے ہاتھ کے الٹے سیدھے کھانے ہی کھانے ہیں۔۔ جس میں وہ کچن کا نقشہ بگاڑ دے، اس گھر کے نظم و ضبط کو گڑبڑ کر دے، اپنی غلطیوں پر خود بھی ہنسے اور مجھے بھی ہنساۓ۔۔ مجھے تو بس بیٹی چاہیۓ۔۔ اور بیٹیاں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہیں۔۔“
وہ نرمی سے کہہ کر مسکراۓ تو ان کے عین مقابل براجمان دو نفوس گویا ہر بوجھ سے آزاد ہوگۓ۔ ان کے چند جملوں ہی نے ان سے ان کی ساری پریشانی لمحوں میں لے لی تھی۔ پیچھے کھڑے معاذ نے گہرا سانس لے کر آنکھیں گھماٸیں اور پھر چابیاں اٹھاتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔ اسے پتا تھا کہ رابیل کے آنے کے بعد اس کے گھر کا یقیناً یہی حال ہونے والا تھا۔
”میں تمہیں جلد بازی کرنے کو نہیں کہہ رہا۔ میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ میری بیٹی مجھے دے دو۔ میں اس کے ساتھ بہت سا وقت گزارنا چاہتا ہوں۔۔“
”انشااللہ جلد سوچیں گے اس بارے میں بھاٸ صاحب۔ پھر میں رابیل سے بھی بات کرونگا کہ اس کی کیا راۓ ہے اس بارے میں۔ یوں بغیر پوچھے تو میں بھی اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا۔۔“
ان کے کہنے پر عابد نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
”بالکل۔۔ اس کی مرضی سب سے اہم ہے۔۔ معاذ سے بھی زیادہ۔۔ اس سے پوچھو۔۔ وہ ہاں کہہ دے تو دیر مت کرنا عابد۔۔ تمہیں اللہ نے دو اور بیٹیاں دی ہیں ناں۔۔ مجھے میری ایک بیٹی دے دو۔۔“
رامین نے مسکرا کر عابد کی جانب دیکھا تھا لیکن وہ اس وقت صرف وقار کو دیکھ رہے تھے۔ پھر آہستہ سے سیدھے ہوۓ۔۔
”اس کی پڑھاٸ بھی ہے بھاٸ جان۔“
”کوٸ بات نہیں۔۔ وہ یہاں پر آ کر بھی پڑھاٸ مکمل کرسکتی ہے۔ اس پر کوٸ پابندی نہیں ہوگی۔ نہ تو معاذ کی عادت روک ٹوک کرنے والی ہے اور نہ میری۔ اسی لیۓ تم بے فکر ہوجاٶ۔ وہ جو چاہے گی کرسکے گی۔ پڑھاٸ کرنی ہے تو بھلے کرے اور اگر پڑھاٸ نہیں کرنی تب بھی میں اس پر کوٸ زبردستی نہیں کرونگا۔ وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہوگی، ویسے ہی جیسے معاذ اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔۔“
اور عابد کو اپنے کندھوں پر دھرا آخری بوجھ بھی اترتا محسوس ہوا تھا۔ اسی لمحے انہیں احساس ہوا تھا کہ معاذ کا انتخاب، ارحم سے کہیں زیادہ درست اور پاٸیدار تھا۔
”میں جلد ہی بات کرونگا رابیل سے۔۔ آپ فکر مند نہ ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس کا جواب ہاں ہی میں ہوگا۔۔“
ان کے کہنے پر انہوں نے بخوشی اثبات میں سر ہلایا تو ہر جانب پھیلی صبح مزید روشن ہوگٸ۔ دوسری جانب وہ ریسٹورینٹ کے سامنے گاڑی روکتا باہر نکل رہا تھا۔ بارہ بجے کی خنک سی دھوپ اب عین سر پر تھی۔ ماتھے پر گرتے بال اور سرمٸ آنکھیں خنک سی دھوپ کی تمازت میں لمحے بھر کو چمکی تھیں۔ وہ وجیہہ تھا۔۔ وجیہہ لگتا تھا۔۔ اندر کی جانب قدم بڑھاتے ہوۓ، اس نے چاروں طرف تنقیدی نگاہوں سے دیکھا۔ یکایک ایک جانب اس کا ارتکاز ساکت ہوگیا۔ پھر وہ گہرا سانس لیتا، شیشے کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔۔ بنا کسی تاثر کے ایک ٹیبل پر بیٹھے دو لڑکوں کی جانب تیزی سے بڑھا۔۔ فیصل جو ایک ٹیبل کے ساتھ کھڑا کافی سرو کررہا تھا، چونک کر اس کی جانب دیکھا۔۔
اب وہ ان کے سامنے رکھی کرسی پر بے حد آرام سے بیٹھ رہا تھا۔ دونوں لڑکے اسکے اس طرح سے بیٹھنے پر چونکے تھے۔
”کس نے بھیجا ہے۔۔؟“
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر پانی کا گلاس اٹھایا اور پی گیا۔ پھر گلاس خالی کر کے ان کے عین سامنے رکھا۔ ابرو اٹھا کر ان کے فق ہوتے چہروں پر گاہے بگاہے نگاہ بھی ڈالی۔
”سلطان کو جا کر کہنا کہ معاذ کو بالکل بھی پسند نہیں کہ کوٸ اس کا پیچھا کرے۔ آٸندہ میں نے تمہیں یا پھر کسی کو بھی اپنے پیچھے آتے دیکھا تو میں ثبوت کے طور پر تمہاری شکلوں کا نقشہ بگاڑ کر اس کے پاس بھیجونگا۔۔ کہہ دینا اسے۔۔ اور ہاں۔۔ ابھی صرف اسی لیۓ چھوڑ رہا ہوں کیونکہ میں ایک شریف لڑکا ہوں۔۔ جاسکتے ہو تم لوگ اب۔۔“
ایک آخری سخت نگاہ ڈال کر وہ اٹھا تو فیصل اس کے پیچھے پیچھے گیا۔ لڑکے اڑے رنگ کے ساتھ الٹے قدموں باہر بھاگے تھے۔
”یہ کون لوگ تھے۔۔؟“
وہ اس کے سر پر کھڑا پوچھ رہا تھا۔ اس نے کندھے اچکاۓ۔۔
”ہمارے ریسٹورینٹ میں پہلی دفعہ آۓ تھے وہ۔ میں بس انہیں دوبارہ یہاں آنے کا دعوت نامہ دے رہا تھا۔۔“
اس نے کہہ کر جیکٹ اتاری اور پھر آستینیں پیچھے کو لپیٹتا کچن کی جانب متوجہ ہوا۔
”لیکن تمہارے انداز سے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے تم انہیں مرنے مارنے کی دھمکی دے رہے ہو۔“
”میرا دعوت نامہ تو اب ایسا ہی ہوتا ہے۔۔“
”دو تین اور لوگوں کو ایسے دعوت نامہ دینا، تاکہ یہ ریسٹوینٹ مکمل طور پر بند ہوجاۓ۔۔“
اس نے جل کر کہا اور باہر نکل گیا۔ معاذ نے خفگی سے ابرو سکیڑ کر بند ہوتے دروازے کو دیکھا تھا۔ پھر سر جھٹک کر کام کی جانب متوجہ ہوا۔
”جب پتا ہے کہ مجھے زہر لگتا ہے یہ سب۔۔! پھر کیوں کرتے ہیں لوگ ایسے کام۔۔“
اب وہ بڑبڑاتا ہوا، سبزیاں کاٹنے لگا تھا۔ سر جھکا کر، مکمل توجہ کے ساتھ۔۔!! یہ جانے بغیر کے اس نے آرام سے اپنا غصہ اتارنے کے بجاۓ، ضبط کرلیا تھا۔ شاید یہ اسی لڑکی کے ساتھ کا نتیجہ تھا، جو اس کے تنگ کہف کی ساتھی تھی۔۔ لیکن۔۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا۔۔ چلو کبھی نہ کبھی۔۔ آپکی یہ راٸٹر اسے بتا ہی دے گی کہ وہ کس کی صحبت میں حیوان سے انسان بننے لگا تھا۔۔ کبھی نہ کبھی تو ضرور ہی۔۔!
