Kahaf Episode 14-1

 #Do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف

بقلم_رابعہ_خان 

چودھویں_قسط 

second_last_episode

وہ جو کہا کرتی تھی۔۔ 

اپنے رب سے۔۔ 

ٹوٹا دل لیۓ۔۔ 

نم آنکھوں اور لزرتی سانسوں کے درمیان۔۔ 

کہ وہ۔۔ 

بکھرنے لگی ہے۔۔ 

گھلنے لگی ہے۔۔ 

لوگوں کی باتوں سے۔۔ 

ان باتوں سے جو۔۔ 

تکلیف دیا کرتی تھیں۔۔ 

کہیں اندر تک۔۔ 

جو تکلیف سہی تھی حبیبہ نے۔۔ 

وہی تکلیف بنی تھی حصہ۔۔ 

رابیل کی زندگی کا۔۔ 

لیکن وہ جانتی تھی کہ۔۔ 

جو دل۔۔ 

اللہ کے لیۓ ٹوٹتے ہیں۔۔ 

وہ ان کی بے قدری کبھی۔۔ 

نہیں کیا کرتا۔۔ 

بلاشبہ۔۔ 

وہی تو قدردانی کرنے والوں میں۔۔ 

سب سے زیادہ قدردان ہے۔۔ 

ناشتہ کرنے کے بعد وہ اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی کچھ کتابیں دیکھ رہی تھی۔ اسے یہ ساری کتابیں اسی مہینے میں پڑھنی تھیں۔ کیونکہ یہ اس کے مدرسہ کے نصاب کا حصہ تھیں۔ زیادہ تر ان کتابوں میں اللہ کے رسول کی زندگی پر لکھی گٸ کتب تھیں۔ اس نے ایک سنہرے سے کور سے سجی کتاب اٹھالی۔ یونہی ورق الٹ کر دیکھے۔ اسی وقت ردا اس کے کمرے میں داخل ہوٸ تو اس نے ہاتھ میں پکڑی کتاب سامنے رکھ دی۔ گردن پھیر کر ردا کو دیکھا۔ 

"رابی۔۔۔!" 

وہ پرجوش سی آگے بڑھ آٸ تو اس نے ابرو سکیڑ کر اس کے جوش کو دیکھا۔ 

"کس بات کی اتنی خوشی ہے۔۔؟ باہر کوٸ آیا ہوا ہے کیا۔۔؟" 

"ارے نہیں۔۔ کوٸ نہیں آیا ہوا باہر۔۔ ماں نے مجھے رات ہی بتایا تھا کہ ملیحہ آپی کی شادی ہے، اسی مہینے۔۔ میں تمہیں بتانا ہی بھول گٸ۔" 

ملیحہ اس کے اکلوتے ماموں کی، اکلوتی صاحبزادی تھی۔ ان سے عمر میں پانچ، چھ سال بڑی تھیں تو وہ کبھی ان سے اتنی بے تکلف نہیں ہوپاٸ اور ناں ہی ماموں کے گھر ان کا اتنا جانا تھا کہ وہ اس کی شادی کے لیۓ اس قدر پرجوش ہوجاتی، جتنی ابھی ردا ہورہی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر ایک بار پھر سے رخ کتابوں کی جانب پھیرا تو، ردا اس کی غیر دلچسپی پر بدمزہ ہوٸ۔۔ 

"خوشی نہیں ہوٸ تمہیں۔۔؟" 

اس نے چہرہ اس کی جانب جھکا کر حیرت سے پوچھا تھا۔ اس نے کندھے اچکاۓ۔۔ 

"خوشی ہے۔۔ اچھی بات ہے شادی ہورہی ہے ان کی۔۔" 

"لیکن تم خوش تو بالکل بھی نہیں لگ رہی ہو۔۔؟ کوٸ ایکساٸٹمنٹ نہیں ہورہی تمہیں۔۔؟" 

اسے تو اس کی بے نیازی سے صدمہ ہی پہنچ گیا تھا۔ اس نے کوفت زدہ سا چہرہ اٹھایا۔ 

"ردا میں خوش ہوں لیکن اب اپنی خوشی ثابت کرنے کے لیۓ میں ایک سے دوسرے کمرے میں جا کر سب کو نہیں بتا سکتی۔ اب تم جاٶ۔۔ مجھے بہت کام ہے۔۔" 

"تمہیں کب کام نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی کام ہوگا بھی تو کیا۔۔ یہ اتنی ڈھیر ساری کتابیں پڑھوگی تم، اپنے اس بور سے کمرے میں بیٹھ کر۔ بتاٶ۔۔ چلوگی ناں شادی میں۔۔؟" 

"ردا میں دیکھوں گی۔۔ اگر ہوسکا تو صرف بارات یا ولیمے ہی میں شرکت کرسکونگی۔ مہندی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک تو ملیحہ آپی کی خود کی طبیعت انتہاٸ شوخ اور سونے پر سہاگہ ہمیشہ سے موسیقی کے دلدادہ ماموں۔۔ ان کے یہاں کتنا بھرپور انتظام کیا جاۓ گا گانے بجانے کا۔۔ اس سے تم بھی واقف ہو اور میں بھی۔ اسی لیۓ میں نہیں جاٶنگی۔۔" 

"لیکن اتنا زیادہ شدت پسند بننے کی کیا ضرورت ہے رابیل۔۔!! گانے تو وہ لگاٸیں گے ناں۔۔ تم تو نہیں۔۔ تو اس کا گناہ تمہارے سر نہیں آۓ گا۔۔ یہ ان کا اپنا مسٸلہ ہے۔۔" 

وہ بے چینی سے اس کے گھٹنوں کے ساتھ ہی بیٹھ گٸ تھی۔ اس نے یونہی گردن ترچھی کر کے اسے دیکھا اور پھر اپنی کرسی اس کی جانب پھیری۔ اب وہ اس کے عین سامنے بیٹھی تھی۔ بالوں کو اونچی پونی میں قید کیۓ۔۔ بچوں جیسی ناراضگی کے ساتھ اسے دیکھتی ہوٸ۔۔ 

"ہمیں ہر اس جگہ جانے سے منع کیا گیا ہے ردا، جہاں اللہ کی نافرمانی ہورہی ہو۔ میں ایسی کسی جگہ پر یونہی نہیں جاسکتی۔ تم جاسکتی ہو۔۔ کیونکہ تم نے اس سے کوٸ وعدہ نہیں کیا لیکن میں۔۔" 

اس نے ایک لمحے کو گردن پھیر کر اس سنہری سی کتاب کو دیکھا۔ جس کی آیات ایسی ہی کسی آزماٸش کی گھڑی میں لمحے بھر کو چمک کر ماند ہوجایا کرتی تھیں۔ 

"میں نے اس سے وعدہ کیا ہے ردا۔ میں نے اللہ سے عہد باندھا ہے۔ میں نے اپنے پچھلے اعمال پر توبہ کی ہے۔ اگر میں لاپرواہی کر کے دوبارہ سے انہی جگہوں پر جانا شروع کردوں تو جانتی ہو پھر کیا ہوگا۔۔" 

ردا گردن اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی بات سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ 

"پھر وہ کبھی دوبارہ میرے وعدے پر یقین نہیں کرے گا۔ میں تمہیں کوٸ لیکچر نہیں دینا چاہتی اس سب پر لیکن یہ ایک بہت سنجیدہ بات ہے ردا۔ ہم نے اللہ سے کیۓ گۓ وعدوں کا مزاق بنالیا ہے۔ یاد کرو۔۔ کہ ہم سے عالمِ ارواح میں کونسا عہد لیا گیا تھا۔۔؟ یہی ناں کہ ہم اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراٸیں گے۔۔ لیکن اب ہم اس عہد کے ساتھ کیسی بدسلوکی کررہے ہیں۔ ہم اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات کی عبادت بھی کررہے ہیں۔۔ جانتی ہو، اللہ نے نہیں بناۓ کسی انسان کے سینے میں دو دل۔۔!" 

وہ لمحے بھر کو ٹھہری تھی۔ ردا اس کی باتوں پر اکثر کان نہیں دھرتی تھی لیکن آج وہ بھی اس کے عین سامنے بیٹھی، اسے سن رہی تھی۔۔ 

"میں اللہ کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی عبادت نہیں کرسکتی ردا۔ یا تو اس دل میں اللہ رہے گا یا پھر شیطان۔۔ یہاں درمیانی کوٸ راستہ نہیں ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنے لیۓ ایک راستہ چننا پڑتا ہے اور میں نے اللہ کا راستہ چنا ہے۔ اب میں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔۔ اگر میں اس سے پیچھے ہٹی ناں تو میں تباہ ہوجاٶنگی۔ اللہ سے کیۓ گۓ وعدے مزاق نہیں ہوتے۔۔ میں بنی اسراٸیل کی طرح اپنے عہد کو پیچھے نہیں پھینک سکتی۔۔ اور اگر میں نے ایسا کیا۔۔ تو مجھ پر بھی ساری زندگی کے لیۓ ذلت کا عذاب مسلط کردیا جاۓ گا۔۔ جیسے بنی اسراٸیل پر کردیا گیا تھا۔۔" 

قرآن کی طالبہ بے حد روانی سے بول رہی تھی۔ اس کی زبان کا بول بے حد صاف تھا۔ صاف، آسان اور اتھرا ہوا۔۔ وہ باتیں مشکل نہیں تھیں اور ناں ہی رابیل کو مشکل باتیں کرنے آتی تھیں۔ وہ باتیں تو بس خوفزدہ کرتی تھیں۔۔ انسان کو ڈرا دیتی تھیں۔ جیسے ابھی ردا نے یکدم جھر جھری لی تھی۔ 

"تم مجھے ڈرا رہی ہو رابی۔" 

اس نے بے حد خفا ہو کر کہا تو وہ مسکرادی۔ پھر اس کا گال تھپکا۔۔ 

"جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔۔ جنتیں انہی کے حصے میں آتی ہیں۔۔" 

"تمہاری زندگی بہت مشکل ہے۔ تم کہاں کہاں تک بچوگی اس سب سے۔۔؟ یہاں تو ہر قدم پر گناہ ہے، ہر قدم پر کانٹے ہیں، ہر لمحہ آزماٸش ہے۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ تم نے ایک بہت کٹھن راستے کا انتخاب کیا ہے۔؟" 

وہ اس کا دل اس سب سے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اپنی حیرت کو فی الوقت چھپانا ردا کے لیۓ مشکل ہورہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ رابیل ان معاملات کو لے کر اس قدر سنجیدہ تھی۔ 

"مجھے پتا ہے میں نے اپنے لیۓ بہت مشکل اور تھکادینے والا راستہ چنا ہے لیکن جانتی ہو ردا۔۔ اس کا انجام بے حد خوبصورت ہوگا۔ راستے گزر جاتے ہیں۔۔ انجام باقی رہ جاتے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ یہ سب آسان نہیں ہے۔۔ خود سے چوبیس گھنٹے حالت جنگ میں رہنا مزاق بات نہیں ہے لیکن یہ پھر بھی قابل قدر ہوگا۔ اللہ میری کوششوں کی قدر کے گا۔۔ وہ میری جد و جہد دیکھے گا۔۔ میرے وعدوں کے جواب میں، میرا رویہ دیکھے گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے ضاٸع نہیں ہونے دے گا۔۔ میں اس سے محبت کرتی ہوں لیکن وہ۔۔" 

اس نے ردا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے۔ بولتے بولتے آنکھیں نم ہورہی تھیں اور آواز کی نرمی، اداسی میں بدلتی جارہی تھی۔ 

"وہ مجھ سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔" 

آسمان سے بہت سی نرم گالے پگھل کر گرنے لگے تھے۔ زمین پر موجود ایک لڑکی اپنی سب سے زیادہ پاکیزہ محبت کا اظہار یوں برملا کر کے ساری کاٸنات میں پھیلی گناہوں کی سیاہی کو سینچ رہی تھی۔ ردا چند پل اس کی نم آنکھوں کو دیکھے گٸ۔ 

"تمہیں کیسے پتا کہ وہ تم سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔؟" 

اس کے سوال پر رابیل نم آنکھوں سے مسکراٸ تھی۔ پھر ایک لمحے کو گردن پھیر کر محبت سے اس سنہری کتاب کو دیکھا۔۔ 

"میں بہت جگہوں پر گر کر زخمی ہوٸ ہوں ردا۔ بہت سی جگہوں پر میں بہت بری طرح ٹوٹی ہوں۔ اور جانتی ہو۔۔ اس جگہ کوٸ انسان نہیں تھا۔۔ ان جگہوں پر میں تنہا تھی۔۔ میں بکھری ہوٸ تھی۔۔ مجھے لگتا تھا کہ اب میں سانس تک نہیں لے پاٶنگی لیکن پھر۔۔ پھر اس نے مجھے اٹھایا۔۔ اس نے میری پشت پناہی کی۔۔ اس نے مجھے ساحروں کے درمیان اکیلا نہیں چھوڑا ردا۔۔ وہ ہر لمحہ میرے ساتھ تھا۔۔ وہ ہر لمحہ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ میں رات کے کسی پہر اٹھ جاٶں یا کسی ہجوم میں کھو جاٶں۔۔ وہ ہر جگہ میرے قریب رہتا ہے۔۔ انسان چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑتا۔۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر وہ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے تو مجھے بھی کچھ شرم کرنی چاہیۓ ناں۔۔ اب اگر میں ایسی کسی جگہ جانے کا سوچوں بھی تو مجھے اس سے حیا آتی ہے۔ مجھے اس سے شرم آتی ہے۔ جن جگہوں سے اسے نفرت ہے میں وہاں کیسے جاسکتی ہوں پھر۔۔؟ ایسے تو نہیں کی جاتی ناں محبت۔۔!" 

اس کی نم آنکھیں گلاب رنگ ہونے لگی تھیں۔ ردا نے لب دبا رکھے تھے۔ پھر ہولے سے مسکراٸ۔۔ 

"تمہاری آنکھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ تم اس کے لیۓ بہت روتی ہوگی۔۔" 

اور وہ جو آنکھیں رگڑ رہی تھی یکدم ہنس دی۔ ردا اس کی ہنسی پر ناسمجھی سے مسکراٸ تھی۔ 

"یہ سچ ہے۔۔ میں اس کے لیۓ بہت روتی ہوں۔ مجھے اس کے لیۓ رونا بہت اچھا لگتا ہے۔ کبھی جب میں اکیلی ہوتی ہوں، ایسے میں اگر مجھے اللہ کا خیال آجاۓ۔۔ تو مجھے پتا نہیں کیوں رونا آجاتا ہے۔ شاید اس کی محبت پر۔۔ کیونکہ انسان کو اللہ کا خوف ویسے نہیں رلاتا جیسے اس کی محبت رلادیتی ہے۔" 

"تم اچھی ہو رابیل۔" 

ردا کو سمجھ نہیں آیا کہ اور کیا تبصرہ کرنا چاہیۓ۔ لیکن وہ اس کے ایسے تبصرے پر ایک بار پھر سے ہنس دی تھی۔۔ 

"تم ہم سے بہت زیادہ آگے ہو۔۔" 

چند پل اس کی بات پر اسے دیکھنے کے بعد اس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔ 

"انسان کی اچھاٸ، اس کی موت طے کرتی ہے ردا۔۔" 

"مطلب۔۔؟" 

وہ جو اٹھنے ہی لگی تھی ایک بار پھر سے بیٹھ گٸ۔ اس کی بات بہت غیر متوقع تھی۔ نا سمجھ میں آنے والی۔۔ 

"میں بھلے ہی ساری زندگی اچھی رہی ہوں، اگر میں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اسے ناراض کردیا تو میری ساری ریاضت راٸیگاں چلی جاۓ گی۔ مجھے اپنی ساری زندگی، بس اس آخری لمحے کی غفلت سے بچنے کے لیۓ گزارنی ہے ردا۔۔ یہ بات مجھے بری طرح ڈرا دیتی ہے۔۔ اگر میں نے خود کو اس ایک لمحے میں کھو دیا تو سب ختم ہوجاۓ گا۔۔ کچھ نہیں بچے گا۔۔" 

اس بارے میں بات کرتے ہوۓ وہ ہمیشہ بے چینی کا شکار ہوجایا کرتی تھی۔ شاید اسی لیۓ کہ یہ ایک بہت کڑی حقیقت تھی۔ وہ اس حقیقت سے ڈرتی تھی۔ وہ اپنی ساری ریاضت ضاٸع ہوجانے سے خوفزدہ تھی۔ بلاشبہ۔۔ قرآن کو گہراٸ سے پڑھنے والوں کے لۓ ایسا خوف یقینی سی بات تھی۔ یہ بات۔۔ عام انسان کے لیۓ بے حد عام تھی۔ لیکن یہ بات قرآن کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے لیۓ عام ہرگز بھی نہیں تھی۔ 

"ابھی تو تم نے کہا تھا کہ وہ انسان کو کوششوں کو ضاٸع نہیں کرتا۔ پھر تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ وہ تمپاری زندگی بھر کی محنت کو ضاٸع کردے گا۔۔؟" 

ردا کے سوال پر وہ یکدم چونکی تھی۔

"اگر تم اس کے لیۓ جان مار رہی ہو تو وہ تمہیں ایسے کیسے چھوڑ دے گا۔۔؟" 

وہ خالی خالی سے اسے دیکھے گٸ۔۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی جانے کیوں اس بات سے بے حد خوف آتا تھا۔ 

"میں جانتی ہوں وہ مجھے کہیں بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہاں۔۔ مجھے اس پر بھروسہ کرنا چاہیۓ۔۔" 

اس نے مسکرا کر کہا تھا۔ ردا بھی مسکرادی۔۔ پھر یونہی گردن ترچھی کیۓ محبت سے اس کے چہرے کو دیکھتی رہی۔ 

"یہ سوال میری شخصیت کے ساتھ میل تو نہیں کھاتا رابی۔۔ لیکن پھر بھی میں کبھی کبھی حیران ہوتی ہوں کہ وہ کیا بات ہوگی، وہ کیا لممحہ ہوگا، اور وہ کون انسان ہوگا جس نے تمہیں اس راہ کی جانب دھکیل دیا۔۔؟ جس نے تمہیں اس دنیا کے دروازے تک پہنچا دیا۔۔؟ ہم سب اب بھی بہت دور ہیں اس سب سے۔۔" 

انگشت شہادت سے ٹیبل پر دھری مقدس کتابوں کی جانب اشارہ کیا۔ 

"تم کیسے اس جہان تک پہنچ گٸیں رابیل۔۔؟" 

وہ اس کے سوال پر نرمی سے مسکراٸ تھی۔ ایسی نرمی سے، جس میں تکلیف کی بہت سی راہیں واضح ہونے لگتی ہیں۔ اس کی نم آنکھیں اب بھی نم تھیں لیکن اب انکی چمک بہت ماوراٸ سی تھی۔ جیسے وہ اس دنیا کی نہیں۔۔ کسی اور دنیا کی لڑکی تھی۔۔ اور ردا کو تو واقعی کبھی کبھی لگتا تھا کہ رابیل اس دنیا کی نہیں تھی۔۔ 

"ضروری نہیں کہ ہر دفعہ انسان کو حادثات ہی اللہ کی جانب دھکیلیں۔ ہاں میں اس حقیقت سے نگاہ نہیں چرا رہی کہ حادثات کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔ بہت سے لرزہ خیز واقعات کے بعد انسان اللہ کی جانب پلٹتا ہے۔۔ جب یہ دنیا یا پھر اس دنیا سے کوٸ پیارا انسان، آپکا دل توڑتا ہے، تب واقعی اللہ بہت یاد آتا ہے لیکن ردا بہت عجیب بات ہے کہ میرے معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔" 

اس نے لمحے بھر کو سوچتی نگاہیں ردا پر جماٸ تھیں۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ 

"میرا دل نہیں ٹوٹا۔ مجھے کسی انسان نے دھوکا نہیں دیا۔ میں نے کسی کی یاد میں جلتے دل کے ساتھ اللہ کی یاد کو نہیں باندھا۔ میرے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ بس مجھے ایک رات خواب آیا تھا۔۔" 

"کیسا خواب۔۔؟" 

اور رابیل عابد لمحے کے ہزارویں حصے میں چونکی تھی۔ پھیلی پھیلی آنکھیں لیۓ وہ چند لمحے ردا کو ہی دیکھے گٸ۔ 

"کیا ہوا رابیل۔۔۔؟" 

اس کے ساکت ہوجانے پر اس نے اسے ہلایا تو وہ ہوش میں آٸ۔ 

"کیا ہوا۔۔؟ کہاں گم ہوگٸیں۔۔؟ تم مجھے اپنے کسی خواب کے بارے میں بتارہی تھیں۔۔" 

لیکن وہ تو جیسے پل بھر کے لیۓ بولنا ہی بھول گٸ تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اس کے ساتھ ہوا کیا تھا۔ 

"میں نے وہ خواب۔۔ دس سال کی عمر میں دیکھا تھا ردا۔" 

اور بولتے ہوۓ اسے اس کی آواز کسی کنویں سے آتی ہوٸ محسوس ہورہی تھی۔ کیا وہ جو سوچ رہی تھی۔۔ وہ ٹھیک تھا۔۔؟؟ 

"کونسا خواب۔۔؟ کیسا خواب۔۔؟" 

ردا اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ 

"تمہیں یاد ہے ردا میں اکثر بچپن میں ڈر کر اٹھ جایا کرتی تھی۔۔ جب میں تھوڑی بڑی ہوٸ تو مجھے اکثر خواب میں ایک غار نظر آتا تھا۔ لیکن میں نے اپنی پچھلی ساری عمر میں اس غار کو باہر ہی سے دیکھا تھا ردا۔۔ میں نے کبھی اس کے اندر قدم نہیں رکھا تھا۔۔" 

فضا میں ساکت بہت سی بکھری لکیریں اب کہ راستہ واضح کرنے لگی تھیں۔ رابیل عابد آج جاننے والی تھی کہ وہ چنی گٸ تھی۔ کہیں بہت پہلے سے۔۔ یہ سب آجکل کی کہانی نہیں تھی۔۔ 

"مجھے کبھی اس خواب کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا۔ لیکن پھر ایک رات جانتی ہو کیا ہوا۔۔! ایک رات میں نے دیکھا کہ میں نے اس تاریک کہف میں قدم رکھا ہے۔ وہ کہف بہت سیاہ، بہت تکلیف دہ اور بہت خوفناک تھا ردا۔ مجھے لگا میرا دم گھٹ جاۓ گا۔ اس سے اگلے دن میں بہت بوجھل رہی۔ خواب کا بوجھ حقیقت سے زیادہ ہوتا ہے۔۔ میرے سارے وجود پر جیسے کسی نے پہاڑ رکھ دیا تھا۔ اپنا یہ بوجھ کم کرنے کے لیۓ میں یونہی چینل سرچ کررہی تھی جب میں نے پہلی بار سورہ کہف سنی۔۔" 

کہانی اپنی اصلی حالت میں اس کے سامنے آنے لگی تھی۔ برسوں کا ساتھ اب اس پر واضح ہونے لگا تھا 

"مجھے اس وقت عربی نہیں آتی تھی لیکن۔۔ لیکن وہاں اردو میں ترجمہ بھی ساتھ ہی دہرایا جارہا تھا۔۔ اور وہاں غار والوں کی بات سن کر، مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے یہاں میری بات ہورہی ہے۔ میں وہ سن ہی رہی تھی کہ یکدم لاٸٹ چلی گٸ اور ٹی وی اگلے ہی لمے بند ہوگیا لیکن وہ آیات۔۔ وہ آیات میرے دل میں گڑ گٸ تھیں۔ میں بے چینی سے اپنے کمرے میں آٸ۔۔ جھجھکتے ہوۓ وضو بنایا اور قرآن کھول کر بیٹھ گٸ۔۔ اور جانتی ہو ردا۔۔ اس دن۔۔ اللہ نے مجھ سے پہلی دفعہ بات کی تھی۔۔ اس غار والوں کے قصے میں جتنی نشانیاں پنہاں تھیں۔۔ اور جتنی اذیت وہ اس غار سے قبل گزار چکے تھے، جتنی اذیت گزار کر وہ اس غار تک پہنچے تھے۔۔ مجھے اس سب نے ہلا دیا تھا۔ میں ڈر گٸ تھی۔۔ میں نے اسی وقت قرآن کا دروازہ بند کیا تو زندگی میں پہلی بار میرے ارد گرد اس کہف کی سی خاموشی تحلیل ہونے لگی۔۔“ 

وہ اب خود سے بول رہی تھی۔ مدھم آواز میں۔۔ کسی نتیجے تک پہنچنے کی سعی میں اس پر اب کہ بہت کچھ واضح ہونے لگا تھا۔ کیا واقعی وہ خواب دس سال قبل اس پر وارد ہوا تھا۔۔؟ کیا وہ خواب معاذ کے خواب کے ساتھ ہی دیکھتی آرہی تھی۔۔! کیا وہ اور معاذ ایک ساتھ ہی اس غار کا خواب دیکھا کرتے تھے۔۔؟ 

اس کے دماغ میں بیک وقت بہت سے جھکڑ چلنے لگے تھے۔۔ ارحم سے منگنی ہوجانا، دس سال قبل وہ خواب دیکھنا، اسکا سر پر حجاب لپیٹنا، کہف کی اذیتیں، اس کی منگنی ٹوٹ کر رشتہ معاذ سے جڑ جانا۔۔۔! کیا یہ سب اتفاق تھا۔۔؟ یہ اتفاق تھا یا انتخاب۔۔! اسے سمجھنے میں دقت ہونے لگی تھی۔ ردا جو اس کے سامنے بیٹھی تھی، اسے اس کی گنجلک سوچوں کے ساتھ چھوڑ کر جاچکی تھی۔ اور اب وہ تنہا اپنے کہف میں بیٹھی، ادھوری کہانی کو مکمل کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ بہت سے گزرے واقعات، گزرتے واقعات کے ساتھ میل کھانے لگے تھے۔۔ اب کہ اس پر بہت کچھ کھلنے لگا تھا۔۔

دور آسمان کے پار۔۔

ادھوری کہانیوں میں سے۔۔ 

ایک کہانی۔۔ 

اپنی اصل شکل میں اترنے لگی تھی۔۔ 

کیونکہ۔۔ 

وہ خواب۔۔ 

صرف خواب نہیں تھا۔۔ 

وہ ڈور تھی۔۔ 

معاذ اور رابیل کے درمیان بندھی ڈور۔۔ 

جو کہ ہو کر گزرتی تھی۔۔ 

ایک تاریک کہف سے۔۔!! 

شزا نے تولیۓ میں لپٹے بالوں کو آزاد کیا تو وہ بکھر کر کمر پر جھولنے لگے۔ شام کے وقت میں خنکی گھلی ملی تھی، کمرے میں دبی دبی سی مغرب کی اذانیں سناٸ دینے لگی تھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر سوٸچ بورڈ پر ہاتھ مارا تو لمحے بھر میں کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔ سردی کی خاموش شامیں ہر جانب یونہی بسیرا کیۓ رہتی تھیں۔ اس نے بھی لوشن ہاتھوں پر لگا کر چند پل مساج کیا اور جیسے ہی پرفیوم کی شیشی اٹھانے لگی، اس کا فون بج اٹھا۔ اس نے شیشی وہیں رکھ کر سنگھار آٸینے پر دھرے فون پر نگاہ ڈالی۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس کا سانس تک خشک ہوگیا تھا۔ 

ارحم بھاٸ کالنگ۔۔ 

اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔ اس نے پہلے تو گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا لیکن بے چینی اس کے رگ و پے میں سرایت کرنے لگی تھی۔ جانے کیوں۔۔ ہر دفعہ ارحم کے بارے میں سوچ کر اسے اپنے چوری چھپے کچھ غلط کرنے کا احساس ہوتا تھا۔ اس نے انگلیاں آپس میں پھنسا کر کھولی تھیں۔ یکایک فون بج کر خود ہی خاموش ہوگیا۔۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک سانس خارج کی۔۔ ایک دل تو کیا کہ فون اٹھا کر اس کی طبیعت صاف کردے لیکن پھر معاذ کی کہی بات یاد آگٸ۔ اس نے منع کیا تھا ارحم سے بات کرنے سے۔۔ 

اسی پل خاموش اسکرین پر جگمگاتا سا پیغام ابھرا تھا۔۔ 

اس نے لرزتے ہاتھوں سے پیغام کھولا۔۔ 

”مجھے پتا ہے کہ کس کی شے پر مجھے اگنور کیا جارہا ہے۔۔ شرافت سے کال رسیو کرو شزا۔۔ نہیں تو ماموں کے پاس تمہارے اسکرین شارٹس پہنچانا میرے باٸیں ہاتھ کا کھیل ہوگا۔۔“ 

اور اس کے اندر جیسے لمحے بھر ہی میں سب کچھ اتھل پتھل ہوگیا تھا۔ یوں لگا گویا، اسے بھرے بازار میں رسوا کردیا گیا ہو۔ اس نے خراب ہوتے دل کے ساتھ موباٸل واپس رکھا تو ایک بار پھر سے اسکرین پر ”ارحم کالنگ“ جگمگانے لگا۔ خشک پڑتے حلق کے ساتھ اس نے زبان تر کی لیکن جیسے ہی اس نے موباٸل کی جانب ہاتھ بڑھایا، رابیل کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ۔ 

اس کے ہاتھ میں کچھ کتابیں تھیں اور وہ سیدھا اسی طرف آگٸ تھی۔ شزا کا چہرہ اگلے ہی پل سفید پڑ گیا تھا۔ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ اسے فون اٹھا کر کال کاٹنا تک یاد نہیں رہا۔ رابیل نے سوالیہ نظروں سے پہلے اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا اور پھر اگلے ہی پل اس کے چہرے پر پھیلا وہ سوالیہ سا تاثر ڈھیلا پڑ گیا۔ کتابیں ایک جانب رکھ کر اس نے موباٸل اٹھایا اور پھر سے شزا کی جانب دیکھا۔ ان آنکھوں میں اب کہ سوال نہیں تھا۔۔ اب وہاں محض سنجیدگی تھی۔۔ ایسی سنجیدگی جس نے شزا کا رنگ ہی نچوڑ لیا تھا۔۔

”ر۔۔ رابیل۔۔ تم پلیز ۔۔۔ غلط مت۔“ 

لیکن اس نے اسے انگلی اپنے لبوں پر رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ پھر اگلے ہی پل فون اٹھا کر کال رسیو کی اور اسپیکر آن کردیا۔۔ شزا نے آنکھیں یکدم میچ لی تھیں۔ اب تو کوٸ راہ نہیں تھی رسواٸ سے بچنے کی۔ اسے پہلے ہی رابیل کو بتا دینا چاہیۓ تھا۔۔ ہاں کم از کم وہ اس ذلت سے تو بچ جاتی جس سے ابھی ابھی اس کا پالا پڑا تھا۔ 

”آہاں۔۔ تو جناب نے میرا فون اٹھا ہی لیا۔۔! پہلے تمہاری بہن اور اب تم۔۔ مجھے محض اس دو ٹکے کے غنڈے کے لیۓ اگنور کررہی ہو۔۔! آخر ایسا ہے کیا اس میں جو مجھ میں نہیں۔۔؟؟“ 

اس کی محظوظ سی مکروہ آواز پر لمحے بھر کو رابیل نے شزا کی جانب دیکھا تھا۔ اور ان آنکھوں میں بہت کچھ چھپانے پر ایک گہرا شکوہ پنہاں تھا۔ شزا کے ہاتھ لرزنے لگے تھے۔ 

”اب میری بات دھیان سے سنو۔۔!“ 

لیکن اگلے ہی لمحے اب وہ مکروہ آواز بے حد کرخت ہوگٸ تھی۔ 

”میں اور ممی کل تمہارا انتظار کریں گے ہمارے گھر پر۔۔ اگر تم نہیں آٸیں تو پھر اس ساری ذلت کے لیۓ تیار رہنا جو اتنے عرصے میں تم نے مجھ سے تعلق رکھ کر اکھٹی کی ہے۔ اور ہاں۔۔ ایک آخری بات۔۔ اپنے اس غنڈے کو اس بارے میں بتانے کی غلطی ہر گز مت کرنا شزا۔۔ نہیں تو پھر انجام تمہارا اس سے کہیں زیادہ بھیانک کرنے والا ہوں میں۔۔“ 

وہاں سے ٹھک فون رکھا گیا تو چند لمحے کمرے میں موت کی سی خاموشی پھیل گٸ۔ رابیل نے فون آہستہ سے ٹیبل پر رکھا اور پھر پلٹ کر جیسے ہی دروازے کی جانب بڑھنے لگی، شزا نے بے ساختہ اسے روک لیا۔۔ اب کہ وہ اس کی کہنی سے لگی رو رہی تھی۔۔ 

”را۔۔ رابیل پلیز۔۔ میری بات سنو۔۔ یہ سب ایسا نہیں ہے رابیل۔۔ یہ۔۔ یہ سب ایسا ہر گز نہیں ہے جیسا دکھ رہا ہے۔۔ ایک دفعہ پلیز میری بات سن لو۔۔ پلیز۔۔!“ 

اب وہ سسک رہی تھی۔ رابیل نے تلخی سے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا۔ پھر گلابی آنکھوں سے اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔ شدید گریہ کے باعث اس کی آنکھیں اور ناک سرخ ہو کر دہک رہی تھیں۔۔ 

”اب بھی مجھے نہ بتاٶ۔ میں اپنی تھوڑی ہوں تمہاری۔ میں تو تمہیں جج کرونگی ناں۔۔ میں تمہیں تنہا کردونگی۔۔ جبھی تو تم نے مجھے بتایا نہیں اور معاذ۔۔ وہ اس سب کے بارے میں جانتا ہے۔۔ لیکن میں نہیں۔۔!“ 

وہ اس کے عمل پر نالاں نہیں تھی۔ وہ بس اس کے یہ سب چھپانے پر ہرٹ ہوٸ تھی۔ شزا نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔ رابیل نے محسوس کیا کہ اس کا سارا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ اس نے پھر بھی ہاتھ اٹھا کر اس کی پیٹھ نہیں تھپکی۔۔ اسے اس سے لمحے بھر ہی میں بہت سے شکوے ہوگۓ تھے۔۔ 

”میں نے معاذ بھاٸ کو بھی نہیں بتایا تھا رابیل۔ انہیں پتا نہیں کیسے پتا چل گیا اس سب کے بارے میں۔ پھر انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے ارحم بھاٸ سے بات کرنے سے منع کردیا۔ کیونکہ وہ مجھے ہراساں کرنے لگے تھے۔۔ میں۔۔ میں نے بہت کوشش کی تھی کہ تمہیں بتا سکوں لیکن تم۔۔ تم معاذ بھاٸ کی وجہ سے بہت پریشان تھیں اسی لیۓ میں تمہیں کچھ بھی بتا نہیں پاٸ۔۔ رابیل پلیز مجھ سے ناراض مت ہو۔۔“ 

وہ اس سے لپٹی روتی جارہی تھی اور بولتی جارہی تھی۔ کٸ دنوں کا بوجھ اب آنکھوں کے راستے باہر نکل کر، قطروں کی صورت گر رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں اٹھا کر اسے خود سے الگ کیا۔ شزا کے بھیگے سے سرخ چہرے پر اسے بے اختیار ہی ترس آیا تھا۔ 0

”تم کب سے بات کررہی ہو ارحم سے۔۔؟“ 

”جب۔۔ جب سے تمہاری بات ارحم بھاٸ سے ختم ہوٸ تھی۔۔ تب سے۔۔ میں تمہارے لیۓ ہی بات کررہی تھی کہ کچھ بات بن جاۓ لیکن۔۔ وہ تو۔۔ وہ مجھے ہی ہراساں کرنے لگ گۓ۔۔ اب مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ وہ میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔ اگر انہوں نے بابا کو یہ سب بتادیا تو کیا ہوگا رابیل۔۔! میں تو بابا کی نظروں میں گر جاٶنگی۔۔“ 

وہ کہہ کر ایک بار پھر سے رونے لگی تھی۔ اس نے گہرا سانس لیا اور پھر اسے لا کر بیڈ پر بٹھایا۔ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھایا تو اس نے لرزتے ہاتھوں سے گلاس تھام لیا۔ خوف سے اس کا سارا رنگ نچڑ گیا تھا۔۔

”پانی پیو اور ریلیکس ہوجاٶ۔۔ ارحم جیسے لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہیں سواۓ اس گھٹیا پن کے۔۔“ 

”لیکن اگر۔۔“ 

”پہلے پانی پیو تم۔۔“ 

اور اس نے اگلے ہی لمحے پانی پی کر چند پل گہرے سانس لے کر خود کو آرام دہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ 

”کچھ نہیں ہوگا۔۔ ہم کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔“ 

”لیکن کیسے۔۔؟ انہیں کیسے روکیں گے ہم یہ سب کرنے سے۔۔؟“ 

”ہم بات کرنے جاٸیں گے اس سے۔۔“ 

اس کی بات سن کر شزا نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ 

”کیا مطلب۔۔؟؟“ 

”مطلب یہ کہ وہ ہمیں بلانا چاہتا ہے ناں اپنے گھر ۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔ ہم چلیں گے۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں کہ کیا بکواس کرنی باقی رہ گٸ ہے اس گھٹیا اور نیچ انسان کے پاس۔۔“ 

”لیکن  رابی مجھے معاذ بھاٸ نے ان سے بات تک کرنے سے منع کیا تھا، کجا یہ کہ ہم ان سے ملنے چلے جاٸیں۔۔ اگر انہیں پتا چلا تو وہ بہت غصہ ہونگے۔۔“ 

”معاذ کو بتاۓ گا کون۔۔؟“ 

اور اس کی اگلی بات پر شزا نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ 

”کیا مطلب۔۔؟ کیا ہم انہیں بتاۓ بغیر جاٸیں گے۔۔؟؟“ 

”جی۔۔ ہم کسی کو بھی نہیں بتاٸیں گے۔ ہم دونوں کافی ہیں وہاں تک جانے کے لیۓ۔ ویسے بھی پھپھو سے بات کرنی تھی میں نے۔۔ اچھا ہے ناں کہ ان کے بیٹے نے خود ہی انواٸٹ کرلیا ہمیں۔۔“ 

”لیکن رابیل۔۔“ 

اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ یوں بتاۓ بغیر خود بات کرنے چلے جانا اسے کسی صورت بھی ٹھیک فیصلہ نہیں لگ رہا تھا۔ 

”کچھ نہیں ہوگا شزا۔۔ اس روز روز کے تماشے کو اب کہ ختم ہوجانا چاہیۓ۔۔ بہت ہوگیا اب۔۔ اب اس سارے قصے کو اختتام تک پہنچ جانا چاہیۓ۔۔ میں بھی دیکھوں کہ پھپھو کو آخر کونسی چیز نے ہمارے ساتھ یوں باندھ دیا ہے۔ ایسا کیا ہے جو وہ مجھ سے اپنے بیٹے کا رشتہ جوڑنے کے لیۓ ہر حد پار کرتی جارہی ہیں۔ ہمیں ایک بار تو ان سے بات کرنی ہی ہے ناں تو پھر کل کیوں نہیں۔۔؟؟“

وہ اب واقعی اس روز روز کے مساٸل سے پریشان ہوگٸ تھی۔ اسے اب کوٸ صاف اور واضح حل چاہیۓ تھا۔ اور اتنا انتہاٸ قدم وہ اٹھانے کا سوچتی بھی نہیں لیکن پھپھو نے حد کردی تھی۔ 

”ہم دونوں ہیں ناں۔۔ اگر ہم میں سے کوٸ اکیلا وہاں جاتا تو مسٸلہ ہوتا۔ ہم ساتھ جاٸیں گے اور ویسے بھی وہ کہیں اور نہیں پھپھو کے گھر ہی بلا رہا ہے۔ گھر سے زیادہ سیف جگہ اور کوٸ نہیں ہوسکتی۔۔“ 

وہ چند پل تو اسے دیکھتی رہی تھی پھر لمحے بھر بعد ہی ہولے سے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔ وہ بھی اب اس ہر روز کے خوف سے نجات چاہتی تھی۔ 

”کیا اس کے بعد سب ٹھیک ہوجاۓ گا رابیل۔۔؟؟“ 

اس کے سوال پر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ یہ تو اسے خود بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے بعد سب ٹھیک ہونا بھی تھا یا نہیں۔۔ 

”ہم اپنی پوری کوشش کریں گے اس مسٸلے کو حل کرنے کی شزا اور اگر ہم پھر بھی اس گُتھی کو سلجھا نہیں پاۓ تو پھر بابا سے بات کیۓ بغیر کوٸ چارہ نہیں رہ جاۓ گا۔۔ لیکن اس سے پہلے۔۔“ 

اس نے لمحے بھر کو اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔ 

”ہمیں اپنی کوشش کرنی ہوگی شزا۔۔ ہم یوں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے۔۔“ 

اس کے کہنے پر شزا نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ کیا کوٸ اور راستہ رہ گیا تھا اس سب کا سامنہ کرنے کے علاوہ۔۔؟ اگر اسے دوبارہ سے سر اٹھانا تھا تو اسے ارحم سے دو ٹوک بات کرنی ہی تھی۔ اسے رابیل کا فیصلہ اب کہ درست لگنے لگا تھا۔۔ 

”ک۔۔ کیا تم اب بھی ناراض ہو مجھ سے۔۔؟“ 

کچھ پل بعد اس کی کمزور سی آواز پر رابیل نے اس کی جانب دیکھا تو اس نے جلدی سے نگاہ چراٸ۔۔ 

”کیوں نہیں بتایا تم نے مجھے اس سب کے بارے میں۔۔؟“ 

وہ اب بھی اتنی ہی سنجیدہ تھی۔ اس نے تھوک نگل کر اپنا حلق تر کیا، پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ 

”مجھے لگا تھا کہ تم مجھے جج کروگی۔۔“ 

”اور کیوں لگا تمہیں ایسا۔۔؟ کیا میں نے پہلے کبھی تمہیں جج کیا تھا۔۔؟“ 

”پہلے کی بات اور تھی رابیل۔۔ پہلے تم میرے جیسی ہی تھیں۔ ہم میں پہلے زیادہ فرق نہیں تھا لیکن اب۔۔ اب ہمارے درمیان فرق کی ایک بہت بڑی لکیر کھنچی ہوٸ ہے۔ اب تم ایک حجابی ہو۔۔ تم ایک نیک لڑکی ہو۔۔ میں تم جتنی نیک نہیں ہوں۔ اور جو بھی مجھ سے زیادہ نیک ہوگا مجھے اس سے ڈر لگے گا۔۔“ 

وہ اس کی بات پر لمحے بھر کو حیران ہوٸ تھی۔ 

”تم نے خود ہی سوچ کر، خود ہی فیصلہ بھی کرلیا۔۔ بہت اچھے۔۔ لیکن معاذ۔۔ اسے یوں بلاجھجھک سب بتا کر تمہیں جج ہونے کا ڈر نہیں تھا۔۔؟؟“ 

”نہیں۔۔“ 

اس کے برجستہ سے جواب پر وہ چند پل ایک بار پھر سے حیران ہوٸ تھی۔۔ 

”کیوں۔۔؟“ 

”بس پتا نہیں مجھے کیوں لگتا تھا کہ وہ مجھے جج نہیں کریں گے اور رابیل انہوں نے مجھے جج کیا بھی نہیں۔ میں ان کے پاس اپنا مسٸلہ لے کر گٸ تو بغیر کسی فضول گفتگو کے انہوں نے انتہاٸ سبھاٶ سے سوال کیۓ اور میری پریشانی اپنے سر لے لی۔ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی آسانی سے مجھے شرمندہ کیۓ بغیر سمجھا کر واپس گھر بھیج دیں گے۔۔ وہ واقعی انسان کہلانے کے لاٸق ہیں۔ وہ اگر منہ توڑ کر ہاتھ میں رکھنا جانتے ہیں تو وہ احترام کرنا بھی جانتے ہیں۔ وہ بیک وقت سیاہ و سفید ہیں۔ وہ عام مردوں جیسے نہیں ہیں رابی۔ وہ الگ ہیں۔۔ وہ سب سے الگ ہیں۔۔“ 

اس نے برجستگی سے کہا تو رابیل اداسی سے پل بھر کو مسکرا کر رہ گٸ۔ فرشتے پر شیطان چننے والا بھی بھلا کبھی کسی جیسا ہوسکتا ہے۔۔ 

”وہ الگ ہے، ہاں۔۔ مجھے پتا ہے کہ وہ سب جیسا نہیں ہے۔۔“ 

اس نے ہولے سے کہہ کر شزا کو دیکھا تھا۔ 

”لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ عجیب ہیں۔ لیکن رابیل۔۔ وہ عجیب نہیں ہیں۔۔ وہ بس مختلف ہیں۔ ان کا حالات کے ساتھ معاملہ مختلف ہے۔ وہ مساٸل سے، کسی اور طرح سے نبٹتے ہیں۔ وہ چیزوں کو ہماری طرح نہیں دیکھتے۔ وہ حالات کو ان کے پس منظر میں دیکھنے کے عادی ہیں۔ پتا ہے جب انہیں پہلی دفعہ مجھ پر شک ہوا تھا تو وہ اس شک کو جھٹک نہیں پاۓ تھے۔ بلکہ انہوں نے آخر تک اپنے شک کا پیچھا کیا اور جان لیا کہ ارحم بھاٸ مجھے تنگ کررہے ہیں۔ وہ بہت چھوٹی باتوں سے بھی نگاہ نہیں پھیرتے رابیل۔ تم نگاہیں جھکاٶ یا اٹھاٶ۔۔ وہ تمہاری ہر جنبش سے مطلب اخذ کریں گے۔ اور جانتی ہو۔۔“ 

وہ جو گردن ترچھی کیۓ اس کی باتیں سن رہی تھی اس کے رکنے پر سیدھی ہو بیٹھی۔۔ 

”وہ اس سب کے ساتھ بہت خطرناک ہیں۔۔ میری، تمہاری اور ہم سب کی سوچ سے بھی زیادہ۔۔“ 

”تم اتنا سب کیسے جان گٸیں اس کے بارے میں۔۔؟“ 

”پتا نہیں۔۔ میں نے جتنا ان کے بارے میں سوچا اور جتنا انہیں سمجھنے کی کوشش کی، اس سب میں یہ باتیں واضح تھیں۔ کوٸ بھی سمجھ سکتا ہے یہ باتیں۔۔“ 

”لیکن صرف یہی باتیں۔۔“ 

رابیل کے مسکرا کر کہنے پر شزا کے ابرو ناسمجھی سے سکڑے تھے۔ وہ اٹھ کھڑی ہوٸ۔۔ آگے بڑھ کر سنگھار آٸینے پر رکھی کتابیں اٹھا کر شزا کے ساتھ بیڈ پر رکھیں، پھر اسے دیکھا۔ 

”کیا اس نے تمہیں کبھی بتایا کہ وہ ارحم کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔۔؟“ 

اور وہ یکدم اس کے سوال پر چونکی تھی۔ آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔ 

”نہیں۔۔“ 

”ایسا ہی ہے۔۔“ 

”مجھے تمہاری بات نہیں سمجھ آٸ رابی۔۔ کیا مطلب۔۔؟“ 

”مطلب یہ شزا عابد کہ وہ یہ سب باتیں لوگوں پر خود واضح کرتا ہے۔ یہی باتیں۔۔ کہ وہ الگ ہے۔۔ وہ سب جیسا نہیں۔۔ اسے پتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ وہ پہلا تاثر ہی یہی دیتا ہے کہ وہ باریک بین ہے۔ آپ اسکی نگاہوں سے نہیں بچ سکتے۔۔ اس سب کے بعد ہم جیسے بیوقوف لوگ اپنا آپ اگل کر اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ وہ جلد یا بدیر ہمارے بارے میں جان ہی جاۓ گا۔۔ لیکن جانتی ہو شزا۔۔“ 

وہ جو اس کے سامنے جھکی ہوٸ تھی، سیدھی اٹھ کھڑی ہوٸ۔۔ کھڑکی سے باہر بہتی خنک ہوا میں بہت سے ایام کی ساعتیں شامل ہونے لگی تھی۔ 

”اس سے آگے وہ ہمیں کبھی نہیں بتاتا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔۔ کیا اس نے تمہارے پوچھنے پر تمہیں بتایا کہ وہ ارحم کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔۔؟“ 

اور اب کہ شزا کو عاذ سے کی گٸیں پچھلی باتیں یاد آرہی تھیں۔ واقعی۔۔ اس نے کبھی اسے نہیں بتایا تھا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ 

”ہم اسے اتنا ہی جانتے ہیں جتنا وہ چاہتا ہے۔ اس سے آگے نہ میں جانتی ہوں اور نہ تم۔ اس نے ہم دونوں کو بہت جگہ بیوقوف بنایا ہے شزا۔ مجھے بس اس کا ادراک بعد میں ہوا تھا۔۔“ 

اس نے اس کا گال تھپکا اور باہر کی جانب بڑھنے ہی لگی تھی کہ اس کی آواز پر ٹھہر گٸ۔۔ 

”انہوں نے مجھے بیوقوف بنایا۔۔ میں پوچھ لونگی ان سے۔۔ کتنے بدتمیز ہیں وہ۔۔“ 

اسے یکدم ہی ڈھیر سارا رونا آیا تھا اپنی بیوقوفی پر۔ وہ اتنے آرام سے اسے پاگل بناتا رہا اور وہ بنتی رہی۔ رابیل اس کے حیران ہو کر کہنے پر بے ساختہ ہنس پڑی تھی۔۔ 

”جانتی ہو جب پوچھوگی تو کیا جواب دے گا وہ۔۔“ 

اس نے پرشکوہ نگاہوں سے رابیل کو دیکھا تھا۔ وہ دروازہ کھولے باہر نکلنے ہی والی تھی۔ پھر ہلکا سا اس کی جانب گھومی۔ 

”کندھے اچکا کر یوں انجان بن جاۓ گا کہ تم دیکھتی رہ جاٶگی۔۔ تایا اور میں یونہی تو اسے جنگل خر نہیں کہتے ناں۔۔“ 

یہ کہا اور مسکراہٹ دباتی باہر نکل گٸ۔ شزا اب تک صدمے میں گھری بند دروازے کو تک رہی تھی۔ اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ یوں بیوقوف بناٸ گٸ ہے۔۔

”معاذ بھاٸ۔۔۔!!“ 

اس نے ضبط سے دانت کچکچاۓ تھے۔۔ 

اور دوسری جانب وہ جنگلی خر رات کے سناٹے میں خاموشی سے سڑک پر چل رہا تھا۔ ریسٹورینٹ بند کرنے کے بعد اب وہ گھر کی جانب رواں تھا۔ راستے میں بہت سی دکانوں کے شٹر گراۓ جاچکے تھے اور کچھ دکاندار اپنی دکانیں بند کر ہی رہے تھے۔ اس نے جیب میں ہاتھ اڑسے اور خاموشی سے گھر کو جاتی گلی میں مڑ گیا۔ گھر میں داخل ہو کر اس نے لاٶنج کی بتی روشن کی۔ آج وقار اپنے کسی دوست کی جانب گۓ ہوۓ تھے اسی لیۓ گھر یوں سنسان پڑا تھا۔ جیکٹ اتار کر اس نے صوفے پر ڈالی اور پھر شاور لینے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ 

کچھ ہی پل بعد وہ واپس پلٹا تو اب کہ اس نے ٹرٹل نیک سوٸٹر کے ساتھ بلیو جینز پہن رکھی تھی۔ دھلے بال ایک جانب جماۓ وہ صاف ستھرا اور سلجھا ہوا لگتا تھا۔ پھر تھوک نگل کر۔۔ نگاہ الماری کے اوپر رکھی اس گرد سے اٹی کتاب کی جانب اٹھاٸ۔۔ کچھ دیر پہلے کی بے نیازی عنقا ہوگٸ۔۔ کچھ باقی رہ گیا تھا تو گلٹ اور بہت سی سیاہی۔۔ 

اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری اور پھر آگے بڑھ کر اس کتاب کو اٹھا لیا۔ اس پر بہت مٹی تھی۔ وہ بیڈ تک چلتا آیا۔ پھر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا کپڑا اس کتاب پر پھیرا۔۔ اس کا پرانا سا سیاہ کور نمایاں ہونے لگا تھا۔۔ بہت سے زمانوں کی داستانیں اور بہت سی بستیوں کا انجام اپنے اندر سمیٹے وہ کتاب بے حد مقدس تھی۔۔ کوٸ اسے پڑھتا تو خود بھی امر ہوجاتا۔۔ جو اسے چھوڑتا تو جہنم کی اتھا گہراٸیوں میں چھوڑ دیا جاتا۔۔ 

چند پل خالی خالی نگاہوں سے اسے تکنے کے بعد اس نے آہستہ سے اسکا دروازہ کھولا تھا۔ لمحے بھر کو سارا کمرہ ایک میٹھی سی خوشبو کی لپیٹ میں آگیا۔۔ کتاب سے پھوٹتی سکینت اب اس کمرے کے در و دیوار میں اترنے لگی تھی۔ خوشبو اب کہ سنہری روشنی بن کر اس کے آس پاس تحلیل ہونے لگی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر اس سکون دیتی مہک کو سانس کے ساتھ اندر اتارا۔۔ وہ مہک۔۔ حبیبہ کے لمس کی مہک تھی۔۔ یہ ان کا قرآن تھا۔۔ وہ ساری زندگی اسی قرآن سے پڑھا کرتی تھیں۔۔ پھر بھلا ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ یہ قرآن انکا لمس بھول جاتا۔۔!! 

اس سے صرف انہی کے لمس کی مہک اٹھ رہی تھی۔ حالانکہ ایک عرصے تک معاذ نے بھی اسی قرآن سے پڑھا تھا لیکن چونکہ۔۔ وہ اس قرآن کو بھول گیا تھا تو قرآن نے بھی اسے بھلا دیا تھا۔۔ آپ قرآن کو توجہ نہیں دیں گے تو وہ بھی اپنے دروازے آپ پر بند کر لے گا۔۔ آپ اسکی آیات کو یاد نہیں رکھیں گے تو وہ بھی آپ کو بھول جاۓ گا۔۔ اس کا قرآن اسے بھول گیا تھا۔۔ اسے اپنے دل میں دوبارہ جگہ دینے کے لیۓ اسے اپنے اندر کنداں سیاہی کو نوچ کر باہر نکالنا تھا۔۔ کیونکہ یہ قرآن۔۔ یہ تو کسی سیاہ دل میں داخل نہیں ہوتا۔۔ مقدس کتابوں کا بوجھ اٹھانے کے لیۓ انسان کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسے بھی ایک بار پھر سے خود پر بہت محنت کرنی تھی۔۔ 

”الم۔۔۔ ذالک الکتاب لا ریب فیہ ۔۔“ 

(الم۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوٸ شک نہیں۔۔) 

اور وہ انہی لفظوں پر ٹھہر گیا تھا۔ یہ کتاب شک سے پاک تھی۔ یہ انسان کو بھی شک و شبہ سے پاک کردیا کرتی تھی۔ اس کی ذات میں پڑی دراڑیں اب کہ بھرنے لگی تھیں۔۔ خاموش کھڑے گھر میں، ایک لڑکا اپنے کمرے کے بیڈ پر بیٹھا، گردن جھکاۓ، نم آنکھیں لیۓ ان جانے پہچانے لفظوں کو پڑھنے کی سعی کررہا تھا۔۔ لیکن عجیب بات پتا ہے کیا تھی۔۔! وہ ان لفظوں کو نہیں۔۔ بلکہ وہ لفظ اسے پڑھ رہے تھے۔۔ وہ انہیں پڑھ کر جان رہا تھا کہ وہ کیا تھا، کیا بن گیا تھا اور کیا بننے جارہا تھا۔۔! کیا کبھی تم نے کوٸ ایسی کتاب پڑھی ہے۔۔؟ اتنی شفاف اور اتنی مقدس۔۔!! 

”ھدی اللمتقین۔۔“ 

(ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لیۓ) 

اور قرآن کو تھامے اس کے ہاتھ لمحے بھر کو لرز کر رہ گۓ تھے۔ اسے لگا تھا کہ وہ کبھی ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل نہیں ہوپاۓ گا۔ اسے لگا تھا کہ وہ اسے کھو چکا ہے تو کبھی پا نہیں سکے گا لیکن یہ کتاب۔۔ یہ تو اسے کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔۔ یہ کتاب امید دلایا کرتی تھی۔۔ انسان کو نا امیدی کی گہری سیاہ جہنم سے نکالا لاتی تھی۔۔ ہاں وہ ایسی ہی ایک کتاب تھی۔۔ اس کی زندگی کی کتاب۔۔ 

اس کتاب کو دوبارہ پانے کے لیۓ اسے اس بڑے دن سے ڈرنا ہوگا۔ اسے اس دن کو بنانے والے سے ڈرنا ہوگا۔۔ وہ جو اپنی زندگی بے لگام ہو کر، اس کے خوف کے بنا گزارتا آیا تھا۔۔ ہاں اسے اب یہ روش ترک کرنی ہوگی۔۔ اگر جو اس نے اس قرآن کو دوبارہ پانا ہے تو اسے اپنی پچھلی زندگی سے نکلنا ہوگا۔۔ انسان دو دلوں کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔۔ اسے بھی کسی ایک دل کا انتخاب کرنا ہوگا۔۔ 

آگے کے لفظ اب کہ وہ ہولے سے ہل ہل کر روانی سے پڑھنے لگا تھا۔ وہ چند لمحوں کا فیصلہ تھا۔ اس نے یہ فیصلہ کچھ ہی پل میں کرلیا تھا۔ ساری زندگی اس ایک لمحے سے ڈرتا آیا تھا وہ۔۔ اس کتاب کو دوبارہ کھول کر پڑھنے والے لمحے سے۔۔ لیکن وہ لمحہ آیا اور گزر گیا۔۔ اس قرآن نے اسے خوفزدہ نہیں کیا تھا۔۔ اس نے اسے نا امید نہیں کیا تھا۔۔ وہ امید تھمانے والی کتاب تھی۔۔ وہ اس جیسے بنجر اور سیاہ دل رکھنے والے کو یوں کیسے دھتکار سکتی تھی۔۔ 

دور س دیکھنے پر اب صرف یہی نظر آتا تھا کہ ایک لڑکا۔۔ بہت مدھم آواز میں کچھ پڑھ رہا ہے۔ اسے یہ لفظ یاد تھے۔۔ اسے بس ذرا سی محنت کی ضرورت تھی۔۔ وہ اس تھوڑی سے محنت کے بعد یقیناً پھر سے اس معاذ کو پانے والا تھا جسے وہ تیرہ سال پہلے کھو چکا تھا۔ کیونکہ انسان اللہ کو بھول جاتا ہے لیکن اللہ جانتا ہے کہ اس نے پلٹ کر اسی کی طرف آنا ہے۔۔ وہ بھی اب اللہ کی جانب پلٹ رہا تھا۔ اپنا سیاہ اور بنجر دل لیۓ ۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دنیا۔۔ یہ دنیا انسان کو اس کی سیاہی پر رسوا کیا کرتی تھی لیکن اللہ۔۔ اللہ اسی سیاہی کے ساتھ انسان کو قبول کر کے سکون دینے والا تھا۔۔ 

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form