#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
چودھویں_قسط کا بقیہ حصہ
وہ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوٸ تو دیکھا کہ عابد اور رامین اس کے کمرے میں داخل ہورہے ہیں۔ وہ حیرت سے جاۓ نماز سے اٹھ آٸ۔
”کیا ہوا بابا۔۔ ماں سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟“
وہ گوں مگوں کی سی کیفیت میں پاس چلی آٸ تھی۔ عابد نے مسکرا کر کمرے میں ایک جانب رکھی کرسی کھینچی اور پھر بیڈ کے قریب لے آۓ۔ رامین نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بٹھایا تھا۔ اور پھر خود بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گٸیں۔ اس نے لمحے بھر کو گاہے بگاہے ان کے سنجیدہ چہروں پر نگاہ ڈالی تھی۔ ایک پل کے لیۓ اس کا دل بھی ڈانوا ڈول ہوا تھا۔۔ اگر جو ارحم نے کوٸ گھٹیا پن۔۔
”رابیل۔۔“
لیکن عابد کی بات نے اس کی سوچوں کو توڑ دیا تھا۔ وہ اب مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ تھی۔
”جی بابا۔۔ خیریت ہے ناں سب۔۔؟ کیا ہوا ہے۔۔ آپ لوگ ایسے کیوں بی ہیو کررہے ہیں۔۔؟ تایا تو ٹھیک ہیں ناں۔۔؟“
”تایا کی لاڈلی۔۔ تایا ٹھیک ہیں تمہارے بالکل۔۔ ان فیکٹ ہم انہی کا مدعا رکھنے آۓ ہیں تمہارے سامنے۔۔“
”کیسا مدعا۔۔ کیا مطلب۔۔؟“
اس نے ناسمجھی سے انہیں دیکھ کر ماں کی جانب دیکھا تھا۔ عابد کھنکھار کر ذرا آگے ہو بیٹھے تھے۔ پھر نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔ مسکرا کر اس کے چہرے کو دیکھا۔
”وقار بھاٸ جان۔۔ آہم۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمہاری شادی معاذ سے ہوجاۓ۔۔“
چند لمحے لگے تھے اسے بات سمجھنے میں۔ اور بات سمجھ آتے ہی اسکے چہرے پر ایک سوالیہ سا تاثر پھیل گیا تھا۔۔
”وہ چاہتے ہیں کہ تمہاری اور معاذ کی شادی اسی سال میں ہوجاۓ۔“
اور ان کے جلدی سے بات مکمل کرنے پر اب کہ وہ حیرت سے آنکھیں پھیلاۓ کبھی رامین کو دیکھتی تھی تو کبھی عابد کو۔۔
”لیکن میری تو پڑھاٸ ابھی شروع ہی نہیں ہوٸ ہے اور ناں میں اتنی بڑی ہوں۔۔ پھر کیسے ہوسکتی ہے شادی۔۔؟“
اسے سمجھ نہیں آیا کہ اتنی عجلت میں مزید کیا تاویل ان کی سامنے رکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیۓ جلدی میں جو سمجھ آیا بول دیا۔ لیکن اس کے برعکس۔۔ عابد اور رامین۔۔ بہت پرسکون تھے۔۔ وہ شاید پہلے سے یہ سب طے کر کے ہی اس کے پاس آۓ تھے۔
”ہم نے بھی تمہارے تایا سے یہی کہا تھا کہ وہ ابھی چھوٹی ہے اور اس کی پڑھاٸ بھی مکمل نہیں۔ پھر جانتی ہو انہوں نے کیا کہا۔۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی اس کا اپنا ہی گھر ہے۔ وہ جیسے وہاں رہتی ہے ویسے ہی یہاں بھی رہے گی۔ ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بھلے ہی اسے گھر کا کام نہ آتا ہو۔ انہیں کونسا ہر وقت اس سے روٹیاں پکوانی ہے۔ وہ تمہیں اس گھر میں بالکل ویسے ہی رکھیں گے بچے۔ جیسے تم اس گھر میں رہتی ہو۔ وہاں بھی زندگی ایسی ہی ہوگی جیسی یہاں ہے۔ ہاں فرق صرف اتنا ہوگا کہ وہاں تمہارا ایک شوہر ہوگا، جس کا تمہیں خیال ہرگز نہیں رکھنا، کیونکہ تمہیں تو خود کا ہی خیال رکھنا نہیں آتا اس کا کیا رکھوگی۔ تو۔۔“
انہوں نے اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید اس کے نرم اور بچوں جیسے ملاٸم ہاتھ دباۓ تھے۔ پھر نرم گرم سی مسکان کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھا۔
” اب بتاٶ۔۔ کہ کیا فیصلہ ہے تمہارا۔۔؟“
لیکن اس کے پاس تو جیسے کوٸ جواب ہی باقی نہ رہا تھا۔ تایا نے تو یوں سارے مسٸلے حل کردیۓ تھے گویا سسرال کوٸ ایشو ہی نہ ہو۔ وہ جیسے چاہے گی رہ سکے گی۔ لیکن کیا وہ واقعی رہ سکے گی۔۔؟ کیا وہ اس سب کے لیۓ ذہنی طور پر تیار تھی۔۔؟ اس کی خاموشی پر عابد پیچھے ہو بیٹھے تھے۔ شاید انہیں اندازہ تھا کہ اس کے لیۓ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔
”بابا آپ کو نہیں لگتا میں ابھی چھوٹی ہوں اس سب کے لۓ؟ ٹھیک ہے تایا کہہ رہے ہیں کہ مجھے گھرداری یا پھر بڑے بڑے کام کرنے کی ضرورت نہیں لیکن بابا۔۔ بات صرف ان کے منع کردینے سے تو نہیں بنے گی ناں۔ دوسرے گھر جانے کا مطلب ہوتا ہے ذمہ داری۔۔ اور مجھے لگتا ہے کہ میں ابھی اتنی ذمے دار نہیں ہوں۔۔“
اس کے جواب پر چند پل عابد خاموش سے اسے دیکھتے رہے تھے۔ پھر سیدھے ہو بیٹھے۔
”جب تمہاری ماں شادی ہو کر یہاں آٸ تھیں ناں تو ان کی عمر بیس سال تھی۔ وہ بھی مزاج میں بالکل تمہارے جیسی تھیں۔ ان میں ذمہ داری کی کمی تھی لیکن رابیل ان میں خیال رکھنے اور محبت کرنے کی کمی نہیں تھی۔ پھر آج تم خود دیکھ لو کہ کیسے تمہاری ماں یہ سب سنبھالتی ہیں۔ بچے بات محبت، خلوص اور اپناٸیت کی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ ذمہ دار نہیں ہو تو، کبھی ذمہ دار بن ہی نہیں سکتے۔ تم جب وہاں جاٶ گی، تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم نے خود کو کیسے ڈھالنا ہے۔ تم نے وہ گھر کیسے آباد کرنا ہے۔ شروع میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ ہر نیا کام مشکل ہوتا ہے۔ لیکن پھر جیسے جیسے تم اس گھر کی عادی ہوجاٶ گی، تو سب کام اپنی جگہ بنفس نفیس خود بنالیں گے۔ سمپل۔۔“
ان کے سبھاٶ سے سمجھانے پر اس نے سر جھکایا تو رامین نے اس کا کندھا ہلکے سے دبایا۔ اس نے سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر اس کی ٹھوڑی پر اپنی انگلی رکھی۔
”یہ سب باتیں ثانوی ہیں رابیل۔ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے تایا بہت اکیلے ہوگۓ ہیں۔ انہوں نے ایک لمبا عرصہ تنہاٸ میں کاٹا ہے اور اب مزید وہ اس تنہاٸ کے خوفناک بوجھ کو اپنے ناتواں کندھوں پر نہیں اٹھا سکتے۔ وہ اب تھک گۓ ہیں۔۔ تھک چکے ہیں۔۔ آج ان کی آنکھوں میں برسوں کی پنہاں تھکن دیکھ کر آۓ ہیں ہم دونوں۔ اور ہم بھی تمہاری شادی کا ایسے فیصلہ نہ کرتے لیکن بھاٸ صاحب کی وجہ سے ہم مجبور ہوگۓ ہیں۔ انہوں نے اتنے مان سے تمہیں مانگا تھا کہ ہمارے لیۓ انکار کرنا ہی انکاری ہوگیا۔ وہ اب۔۔ عمر کے اس آخری حصے میں تمہیں اپنے قریب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور مجھے پتا ہے کہ تم نکمی ہو۔ پھوہڑ ہو۔۔ گھرداری کیا تمہیں تو اپنا آپ تک سنبھالنا نہیں آتا۔۔ لیکن مجھے اتنا پتا ہے کہ تم اپنے تایا کا بہت خیال رکھوگی۔ تم انہیں تنہا نہیں کروگی۔۔“
اور اب اس کے پاس کوٸ جواب باقی نہیں رہا تھا۔ کیا کوٸ جواب باقی رہ گیا تھا۔۔؟ کیا وہ اب انکار کرسکتی تھی۔۔!
”ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے۔۔ لیکن بیٹا۔۔ اچھے سے سوچ لو اس بارے میں۔۔“
عابد نے کہہ کر اسے مزید آسانی فراہم کی تھی۔ لیکن وہ کشمکش میں پڑ گٸ تھی۔ ایک جانب تایا تھے تو دوسری جانب وہ خود۔۔
”معاذ سے تو کوٸ مسٸلہ نہیں ناں تمہیں۔۔؟“
رامین کے یکدم پوچھنے پر اس نے ہلکے سے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا۔
”نہیں ماں۔۔ اس سے تو کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔“
”پھر۔۔ کوٸ اور ایشو۔۔ کوٸ اور بات جو تنگ کررہی ہو تمہیں۔۔؟“
عابد کے پوچھنے پر اس نے گہرا سانس لیا پھر سیدھی ہو بیٹھی۔
”کیا آپ لوگ راضی ہیں اس شادی کے لیۓ۔۔؟“
”ہاں بیٹا ۔۔ اگر ہم راضی نہ ہوتے تو کیا تم سے بات کرنے آتے۔۔؟“
اور اب اس کا آخری شبہہ بھی جاتا رہا تھا۔ اس کے پاس اب ہامی بھرنے کے علاوہ کوٸ راہ نہیں تھی۔
”ٹھیک ہے بابا۔۔ پھر جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔۔“
اس کے اس طرح سے ہامی بھرنے پر عابد چند پل تو اسے دیکھتے رہے۔ پھر اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
”ہمیں ابھی بھی کوٸ جلدی نہیں۔۔ اچھے سے سوچ کر جواب دے دو۔ اگر کوٸ مسٸلہ ہوگا تو اسے دیکھ لیں گے۔“
”مجھے اور کوٸ مسٸلہ نہیں بابا۔ بس اپنی پڑھاٸ اور غیر ذمہ داری کا مسٸلہ تھا جو آپ لوگ آسانی سے حل کرچکے ہیں۔ مزید اگر کوٸ بات ہوٸ تو میں ضرور آپ لوگوں کو آگاہ کردونگی۔۔“
اس نے سنجیدگی سے کہا تو رامین نے بھی جھک کر اسکی پیشانی پر پیار کیا اور عابد کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل گٸیں۔ اب وہ اپنے کہف میں ایک بار پھر سے تنہا رہ گٸ تھی۔ گہرا سانس لے کر جاۓ نماز تک دوبارہ آٸ لیکن بجتے فون نے اسے اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔ بیڈ پر رکھا فون اٹھا کر اس نے دیکھا تو لبوں پر خواہ مخواہ ہی مسکراہٹ بکھر گٸ۔ لب دبا کر، بیڈ پر بیٹھتے اس نے فون کان سے لگایا تھا۔
”کیسی ہو۔۔؟“
وہ خاموشی سے چھت کی چھوٹی دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔ ٹیرس پر رات کے اس وقت خاصہ گہرا اندھیرا تھا لیکن آسمان سے گرتی چاندنی نے درمیانی اندھیرے کو نور سے بھر دیا تھا۔
”اسلام علیکم۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ تم کیسے ہو۔۔؟“
”میں بھی ٹھیک۔۔“
اس نے قصداً اس کے سلام کو نظر انداز کیا تو رابیل نے منہ بنا کر فون کی جانب دیکھا۔۔ خر۔۔
”کیوں کیا ہے فون۔۔؟“
اس کا لہجہ یکلخت ہی روٹھا روٹھا سا ہوگیا تھا۔ دوسری جانب اس نے اپنی ٹھوڑی انگلی سے کھجاٸ۔ پھر یونہی گردن پھیر کر چھت سے نیچے دیکھنے لگا۔
”یاد آرہی تھیں تم۔۔“
”تمہیں نہیں لگتا کہ تم کچھ زیادہ ہی ایکسپریسو ہوتے جارہے ہو۔۔؟“
”میں ہمیشہ سے ہی ایکسپریسو تھا۔“
”لیکن مجھے تو لگتا تھا کہ تم انتہاٸ کھڑوس اور روکھے سے ہو۔۔“
”یہ بھی ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کھڑوس اور روکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ایسکپریسو نہیں ہوسکتے۔۔“
”باتیں کروالو بس۔۔“
”کام بھی کرواسکتی ہو تم۔۔“
”جی بالکل۔۔ کسی کا دانت توڑنا ہو یا کسی کی ہڈی پسلی ایک کرنی ہو۔ ایسے ہی کاموں میں مہارت رکھتے ہو ناں تم۔۔“
اس کے میٹھے سے طنز پر دوسری جانب اس کی تیوری چڑھی تھی۔ بگڑے تاثرات کے ساتھ اس نے گہرا سانس لے کر ماتھے پر گرے بال پیچھے کیۓ۔
”تم نے کب سے اتنے طنز کرنا سیکھ لیۓ ہیں محترمہ۔۔؟“
”طنز کب کیا ہے میں نے۔۔؟ حقیقت بتا رہی ہوں تمہیں۔۔“
”جیسے مجھے تو حقیقت پتا ہی نہیں ہے ناں۔۔“
”جب تمہیں پتا ہی ہے تو فون کیوں کیا تھا مجھے۔۔؟“
اور وہ بھی آج اسے موت کی حد تک زچ کردینا چاہتی تھی۔ کیونکہ وہ ایسے بگڑتا ہوا بہت اچھا لگتا تھا۔ بالکل بچوں جیسا۔۔
”میں ایک شریف انسان بننے کی کوشش کررہا ہوں لیکن مجال ہے جو مجھے میرے آس پاس کے لوگ شریف بننے کی مہلت دے دیں۔ گھر پر بابا طنز کرتے رہتے ہیں، ریسٹورینٹ میں فیصل، حویلی میں سلطان اور اب فون پر تم۔۔ دراصل کوٸ چاہتا ہی نہیں ہے کہ میں ایک شریف النفس اور اچھا انسان بن جاٶں۔۔“
”تم شریف النفس اور اچھے انسان۔۔ توبہ کرو۔۔ یہ الفاظ کچھ جچ نہیں رہے تمہارے ساتھ۔۔“
”اچھا۔۔ تو پھر کونسے الفاظ جچتے ہیں میرے ساتھ۔۔ بتانا پسند کریں گی آپ۔۔؟“
اور رابیل نے لبوں پر ابھرتی ہنسی وہیں روک لی تھی۔ یقیناً اس نے ضبط سے دانت جما کر اس سے استفسار کیا تھا۔ وہ بس اس کی شکل ایک بار دیکھنا چاہتی تھی۔
”غنڈے، بھاٸ لوگ، جھانپڑ، سڑک چھاپ، بدتمیز، بدلحاظ، بے مروت، سرد، اور آخر میں۔۔ جنگلی خر۔۔“
مزے سے کہہ کر اس نے لب دباۓ تھے۔ دوسری جانب معاذ نے گہرا سانس لیا۔
”سدھر جاٶ۔۔“
”سدھرنے کی ضرورت تمہیں ہے، مجھے نہیں۔ میں تو آل ریڈی ایک بہت پیاری اور معصوم سی لڑکی ہوں۔۔“
”خوش فہمیاں تو دیکھو محترمہ کی۔۔“
”کیا معصوم نہیں ہوں۔۔؟ اب مکرنا مت۔۔ تم نے خود ہی سلوی سے کہا تھا کہ وہ لڑکی بہت معصوم ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر رو جاتی ہے“
”غلطی ہوگٸ تھی مجھ سے بہت بڑی۔ مجھے کہنا چاہیۓ تھا کہ وہ لڑکی بالکل بھی معصوم نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر لوگوں کو زچ کر کے رلا دیتی ہے۔۔“
اور اس کی بات پر اس نے برا سا منہ بنا کر فون کو کان سے ہٹاتے ہوۓ گھورا تھا۔ اس کی یہ مجال۔۔!
”میں رکھ رہی ہوں فون۔۔“
اور وہ دوسری جانب بے ساختہ گردن جھکا کر ہنس دیا تھا۔ پھر لب دبا کر امڈتی مسکراہٹ سمیٹی۔ ایک ہاتھ چھوٹی دیوار پر رکھ کر ہلکا سا جھکا۔۔
”بس۔۔ اتنی سی بات پر غصہ آگیا۔۔؟“
”مجھے کیوں آنے لگا غصہ۔۔؟ تم لگتے ہی کیا ہو میرے۔۔؟“
”آخری اطلاعات کے مطابق ایک عدد شوہر لگتا ہوں تمہارا۔۔“
اور اب اس کی بے حد محظوظ سی آواز پر رابیل کا دل ہی جل گیا تھا۔ وہ لفظوں کے ساتھ اچھا تھا۔ اسے طنز کرنا آتا تھا۔ اس نے دانت پیسے تھے۔
”بس شوہر ہی تو لگتے ہو۔۔!“
”بس شوہر۔۔! خدایا بس شوہر۔۔!“
اور اب کہ وہ حقیقتاً اس کے جوابی وار پر حیران ہوا تھا۔ وہ اسے ”بس شوہر“ لگتا تھا۔۔ بس شوہر۔۔!
”اپنی امی سے جا کر پوچھو کہ اس ”بس شوہر“ کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ بہت اچھے سے سمجھاٸیں گی وہ تمہیں۔۔“
”تم نے مجھ سے لڑنے کے لیۓ فون کیا ہے۔۔؟“
اور اس کے سامنے ہارنے کے ڈر سے اس نے بات ہی پلٹ دی تھی۔ اس سے پہلے کہ مزید لڑاٸ ہوتی، وہ اس بحث کو یہیں روک دینا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس سے جیت نہیں سکتی۔۔
”نہیں۔۔ مجھے تو تمہاری یاد آرہی تھی۔۔“
”جھوٹ ہے یہ بھی۔ اگر یاد آرہی ہوتی تو تم اتنی دل جلی باتیں کر کے میرا دل نہیں جلاتے۔ لیکن تمہیں کیا۔۔ تم تو بس لفظوں کی گولہ باری سے کام رکھتے ہو۔۔“
”میں ایک شریف انسان کی طرح معافی مانگ لیتا ہوں۔ اور تم ایک شریف انسان کی بیوی ہونے کی حیثیت سے مجھے معاف کردو۔۔“
”اور اگر میں نہ معاف کروں تو۔۔؟“
یونہی ٹھوڑی اٹھا کر مان سے پوچھا تو وہ ہولے سے مسکرادیا۔
”تو میری مجال کہ دوبارہ تمہارے سامنے بات کرسکوں۔۔“
اور اب کہ وہ یکدم ہی ہنس دی تھی۔ اس کی ہنسی سن کر لمحے بھر کو معاذ نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔
”مجھے یقین نہیں آرہا معاذ کہ تم وہی ہو جو کسی سے ایک بات کے بعد دوسری بات تک نہیں کیا کرتے تھے۔ اتنے کم دنوں میں تم کیسے بدل سکتے ہو۔۔؟ یا پھر یوں کہنا چاہیۓ کہ میری صحبت میں رہ کر تم اچھے انسان بنتے جارہے ہو۔۔“
”ہر دفعہ کیا تمہارا کریڈٹ لینا ضروری ہے۔۔؟“
”بالکل۔۔ کیونکہ جو تمہارا ہے وہ میرا ہے۔ لیکن جو میرا ہے، وہ صرف میرا ہی ہے۔۔“
وہ ایک بار پھر سے اس کی عجیب و غریب منطق پر ہنس پڑا تھا۔ کیا کرے وہ اس لڑکی کا۔ زندگی میں جتنی سنجیدگی درکار تھی، وہ اس سے کہیں زیادہ غیر سنجیدہ تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ آج بھی معصوم صبح کی مانند تر و تازہ تھی۔ اس کی تازگی اور شگفتگی اسی لیۓ باقی تھی۔ کیونکہ وہ بلاوجہ خود پر سنجیدگی اور بردباری کا خول نہیں چڑھایا کرتی تھی۔ وہ جو نہیں تھی، وہ بننے کی کوشش میں خود کو مضحکہ خیز نہیں بنایا کرتی تھی۔ اور معاذ کو شاید اپنی اس زندگی میں۔۔ ایسے ہی کسی انسان کی ضرورت تھی۔ ہر پیچیدگی سے پاک اور سیدھے سے انسان کی۔۔ الجھے ہوۓ لوگوں کی موجودگی اس کے لیۓ پہلے ہی بہت مساٸل کھڑے کرچکی تھی۔
”رکھ لو تم سب کچھ۔ جو میرا ہے وہ بھی اور جو تمہارا ہے وہ بھی۔۔“
اس کے کہنے پر وہ چند پل خاموش سی ہوگٸ تھی۔ بے ساختہ ہی اسے ارحم کی بات یاد آٸ تھی۔ کیا اسے معاذ کو بتادینا چاہیۓ۔۔؟ لیکن اگر اس نے معاذ کو بتادیا تو وہ اسے بتاۓ بغیر جانے ارحم کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ نہیں۔۔ اسے پہلے ارحم سے خود بات کرنی ہوگی۔ شاید کہ وہ اس کی بات ہی سے مان جاۓ۔۔ اور یہ سارا مسٸلہ یہیں ختم ہوجاۓ۔۔ کسی بڑے نقصان سے پہلے ہی۔۔
”کیا ہوا۔۔؟“
اس کی خاموشی پر وہ آگے سے بولا تو رابیل سیدھی ہو بیٹھی۔ سر جھٹک کر معاذ کی جانب سماعتیں متوجہ کیں۔۔
”نہیں۔۔ کچھ نہیں۔۔“
”کوٸ مسٸلہ ہے تو بتاٶ۔۔“
”افوہ۔۔ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں ہر وقت مساٸل کا شکار رہونگی۔ میں خود اپنا مسٸلہ سلجھا سکتی ہوں اور اگر کوٸ مسٸلہ میری ذہانت سے بڑا ہوا تو ضرور تمہیں آگاہ کرونگی۔۔ “
”ویسے اس بات کے لیۓ اتنی طویل وضاحت کی ضرورت نہیں تھی رابیل۔۔“
اور اس نے جلدی سے اپنی زبان دانتوں تلے دباٸ تھی۔ اسے کیوں بھول گیا تھا کہ وہ وضاحتوں سے زیادہ انسان کے انداز کو جانچنے کا عادی تھا۔۔ ٹھیک کہتا تھا وہ۔۔ وضاحتیں بذات خود کچھ نہیں ہوتیں۔۔ انہیں بیان کرنے کا انداز سب کچھ ہوتا ہے۔۔
”نہیں۔۔ میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا۔“ پھر جلدی سے بات سمیٹی۔۔ ” تم بھی تو ہر وقت یہی بات پوچھ کر مجھے زچ کرتے رہتے ہو۔۔ میں چھوٹی بچی نہیں ہوں معاذ۔ مجھے پتا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔“
دوسری جانب اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ پھر آنکھیں سکیڑ کر دور بکھرتی چاندنی پر نگاہ ڈالی۔
”بات یہ نہیں ہے کہ تم چھوٹی ہو یا بڑی ہو۔ بات یہ بھی نہیں کہ تم بیوقوف ہو۔ مجھے پتا ہے تمہیں مساٸل کی سمجھ ہے، تمہیں بات کرنے آتی ہے، تمہیں ڈیل کرنا آتا ہے۔ لیکن رابیل۔۔ تمہیں اس سے آگے پھر کچھ نہیں آتا۔“
”کیا مطلب۔۔؟“
اسے اس کی بات سمجھ نہیں آٸ تھی۔
”مطلب یہ کہ تم بہت فرجاٸل ہو۔ نازک ہو۔۔ مزاج کے اعتبار سے نہیں۔۔ جسمانی اعتبار سے۔۔ چھوٹی سی ہو۔۔ میں بس اسی لیۓ پوچھتا ہوں کہ کہیں کوٸ تمہیں اس اعتبار سے تو پریشان نہیں کررہا۔ اور اگر کر بھی رہا ہے تو مجھے ابھی بتادو۔۔“
اس نے جلدی سے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری تھی۔ پھر تھوگ نگل کر زبردستی مسکراٸ۔ اسے جانے کیوں کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
”ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم اپنے اندازے اپنے پاس رکھو۔ اور اب مجھے نماز پڑھنی ہے تو میں فون رکھ رہی ہوں۔ تم بھی۔۔“
”کیا چچا نے تم سے شادی کی بات ہے۔۔؟“
اور وہ جو اگلی کوٸ بھی بات سنے بغیر فون رکھ رہی تھی یکدم رک سی گٸ۔ گہرا سانس لے کر سر اثبات میں ہلایا۔۔
”کچھ دیر پہلے ہی کی ہے۔۔“
”پھر۔۔“ اس نے کہہ کر سر کے پیچھے ہاتھ پھیرا تھا۔۔ ”کیا جواب تھا تمہارا۔۔؟“
”میں نے ہاں کہہ دیا ہے۔۔“
”کیا۔۔؟؟“
اسے شاید اس کے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔
”میں ہاں کہہ چکی ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ میں ابھی اتنی ذمہ دار نہیں اور نا ہی مجھے گھر سنبھالنے کا کوٸ تجربہ ہے لیکن چونکہ تایا کی یہ خواہش ہے تو مجھے پھر کوٸ اعتراض نہیں۔ مجھے پتا ہے وہ مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھیں گے۔۔ اور تم۔۔ تمہارے ساتھ بھی آہستہ آہستہ میں ایڈجسٹ کر ہی لونگی۔۔“
اس کے آہستگی سے کہنے پر دوسری جانب وہ جیسے ہر بوجھ سے آزاد ہوگیا تھا۔ ایک اور حبیبہ اس کے گھر کی زینت بننے جارہی تھی۔ بہت سالوں بعد اس کے قلب پر طمانیت کی چھاپ ابھرنے لگی تھی۔ ہر پل کی بے چینی جیسے عنقا ہونے لگی تھی۔
”میں ایک بہت مشکل آدمی ہوں۔۔“
”اور میں ایک بے حد آسان لڑکی ہوں۔۔“
اس کے روانی سے کہنے پر وہ لمحے بھر کو حیران ہوا تھا۔ ہاں۔۔ یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے برعکس ہونے کے باوجود بھی ایک جیسے ہی تھے۔۔ جیسے آٸینہ ہوتا ہے۔۔ ایک جیسا۔۔ پھر بھی الٹ۔۔
”تمہیں نہیں لگتا کہ یہ سب طے شدہ تھا معاذ۔۔؟“
لیکن وہ تو جیسے کچھ بول ہی نہیں پارہا تھا۔ اسے پتا تھا کہ وہ کیا بات کررہی تھی۔ کیا بات کرنے جارہی ہے۔
”تمہارا وہ خواب صرف تمہارا نہیں تھا ناں۔۔؟
اور اس طرح سے پکڑے جانے پر دوسری جانب اس نے آنکھیں بند کی تھیں۔ نرم باتیں کرنے والی لڑکی جانتی نہیں تھی کہ وہ کبھی کبھی کتنی سخت باتیں کرجایا کرتی تھی۔۔
”نہیں۔۔“
اس کے جواب کو جذب کرنے کے لیۓ رابیل چند پل خاموش بیٹھی رہی تھی۔۔
”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا پہلے۔۔؟“
”مجھے پتا تھا کہ جلد یا بدیر تم اس بارے میں جان لوگی۔ میں نے بس تمہیں تمہارا وقت دیا۔ چیزیں اگر وقت پر کھلیں تب ہی اپنا اثر رکھتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا کھل کر سامنے آنا اپنا اثر کھودیتا ہے۔۔“
اس کی وضاحت پر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ پھر ہولے سے مسکراٸ۔۔
”تم اور میں۔۔ ہم دونوں وہ خواب ایک ساتھ دیکھتے تھے معاذ۔۔ شاید تاٸ نے کبھی تمہارے لیۓ ایسی کوٸ دعا کی ہو، جس کے نتیجے میں، مجھے تمہارے کہف کا ساتھی بنادیا گیا۔۔ میں بہت حیران ہوتی ہوں۔۔ کہ یہ سب طے شدہ تھا۔۔ میں ارحم کی کبھی تھی ہی نہیں۔۔ میں تو کٸ سالوں سے تمہارے ساتھ اس کہف میں قید تھی۔۔ پھر۔۔ اس قید کے ساتھ میں کسی اور کی کیسے ہوسکتی تھی۔۔!“
اور اس کا آخری جملہ سوال نہیں تھا۔ وہ جواب تھا۔۔ ایک خالص جواب۔۔
”کچھ باتیں انسان کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ میرا اور تمہارا کہف بھی انہی ماوراٸ باتوں میں سے ایک ہے۔ خیر۔۔ اب رکھتا ہوں فون۔۔ تم نماز پڑھ لو۔۔ اور دعا کرنا میرے لیۓ بھی۔۔“
”اللہ حافظ۔۔ خیال رکھنا اپنا۔۔“
اس نے بھی مزید بات کیۓ بغیر فون کان سے ہٹایا تو دور دور تک ایک بار پھر سے وہی فضا تحلیل ہونے لگی۔ وہی فضا۔۔ جو ان کے کہف کا خاصہ تھی۔
اگلی صبح وہ اور شزا انتہاٸ خاموشی سے کسی سے بات کیۓ بغیر گھر سے نکل آٸ تھیں۔ انہیں آج اس آخری مسٸلے کو بھی حل کرنا تھا۔ ان کی پرسکون زندگیوں میں پھپھو اور ارحم کی موجودگی اب ناقابلِ برداشت ہونے لگی تھی۔ انہیں آج اس ناقابلِ برداشت وجود کو اپنی زندگی سے اٹھا کر باہر پھینکنا تھا۔ گاڑی میں مکمل خاموشی پھیلی ہوٸ تھی۔ وہ ایک جانب کھڑکی کے ساتھ لگ کر بیٹھی، سنجیدگی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ سیاہ عبایا زیب تن کیۓ، چہرے کے گرد سیاہ ہی حجاب لپیٹے، اس کا شفاف چہرہ کسی گہری سوچ کا غماز لگتا تھا۔
دوسری طرف، شزا بیٹھی تھی۔ اپنے مخصوص حلیے کے برعکس، قمیص شلوار میں ملبوس۔ گود میں موباٸل رکھے، سیدھے گرتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسے۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم نظر آرہی تھیں۔ یکایک، وہ اس راستے سے چونکی۔۔ یہ راستہ پھپھو کے گھر ہی جاتا تھا لیکن اس نے کبھی اس پر دھیان نہیں دیا تھا کہ معاذ کا یسٹورینٹ بھی اسی راستے میں پڑتا تھا۔ اس نے پیچھے تک اس کے دوڑتے ریسٹورینٹ کو دیکھا اور پھر جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تو وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
کچھ ہی دیر بعد ڈراٸیور، ”رضا ہاٶس“ کے سامنے گاڑی روک رہا تھا۔ ان دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر خاموشی سے باہر نکل آٸیں۔۔ انہیں آج۔۔ انتہاٸ سمجھداری سے۔۔ اس مسٸلے کو سلجھانا تھا۔
وہ گھر میں داخل ہوٸیں تو، توقع کے برعکس وہاں بے حد خاموشی تھی۔ قد آور، دیوار گیر کھڑکیوں پر بھاری پردے گرا رکھے تھے، جس کے باعث درمیانی خلاء میں پھیلا اندھیرا مزید محسوس ہونے لگا تھا۔ ان دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔
عموماً پھپھو کے گھر میں ملازمین کی خاصی چہل پہل رہا کرتی تھی لیکن اس وقت کی خاموشی دیکھ کر رابیل کو جانے کیوں جھر جھری آٸ تھی۔ ان کے پیچھے ہی ساتھ ساتھ ایک سیاہ فام ملازم بھی چل رہا تھا۔ شاید وہ ہی انہیں، ان کے مطلوبہ کمرے تک لے کر جانے والا تھا۔ شزا نے بہت سا تھوک نگل کر آس پاس دیکھا۔ اس کی گردن کے بال یونہی کھڑے ہونے لگے تھے۔ کچھ تھا جو انہیں ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
زینے عبور کرنے کے بعد وہ اوپری منزل پر بنے کٸ کمروں میں سے ایک کے سامنے کھڑی تھیں۔ ایک نگاہ پیچھے مڑ کر ملازم پر ڈالی۔ اس نے سر کے خم سے انہیں کمرے میں جانے کی اجازت دی تو وہ لرزتے دل کے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گٸیں۔
کمرے کا ماحول البتہ ان کی توقع کے عین مطابق تھا۔ راکنگ چیٸر پر بیٹھا ارحم جھول رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی بیڈ پر پھپھو نک سک سے تیار ہو کر بیٹھی ہوٸ تھیں۔ ان کی عقاب سی تیز نگاہوں نے با قاٸدہ ان دونوں کا جاٸزہ سر سے پیر تک لیا، تو شزا کسمساٸ۔ ارحم البتہ اپنے موباٸل پر کچھ ٹاٸپ کررہا تھا۔۔ پھر نگاہ اٹھا کر سامنے کھڑی دو لڑکیوں کو دیکھا۔ اپنے ازلی انداز میں ساتھ مسکرایا بھی۔
”ارے۔۔ وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔؟ بیٹھو ناں۔۔“
رابیل کو دیکھ کر اسے حیرت نہیں ہوٸ تھی۔ شاید اسے اندازہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ ضرور آۓ گی۔ چلو۔۔ جو بھی تھا۔۔ وہ دونوں تھیں تو لڑکیاں ہی ناں۔۔
وہ دونوں عین سامنے رکھے صوفوں پر جا کر بیٹھیں تو صاٸمہ نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاٸ۔ چبھتی نگاہوں سے رابیل کو دیکھا۔۔
”تمہاری ایک ضد کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے میرے بیٹے اور میں نے۔۔ لیکن تم۔۔ تمہارے چہرے پر تو ذرا ملال نہیں۔۔“
ان کی اندر تک اترتی نگاہیں اور سنسناتا جملہ۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں رابیل کو اندازہ ہوا تھا کہ ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوچکی ہے۔۔ یہاں آنا اور کسی کو بھی اس بارے میں آگاہ نہ کرنا۔۔ ایک بھاری غلطی تھی۔۔
لیکن پھر بھی نے اس سپاٹ نگاہیں پھپھو کے چہرے پر گاڑی تھیں۔
”ضد کا شکار پہلے کون ہوا تھا۔۔ یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی۔۔“
”بڑوں کی غلطیوں کو بار بار دہرانا بے ادبی تصور کیا جاتا ہے لڑکی۔۔ میرے خیال سے کسی نے تمہیں بنیادی اخلاق بھی نہیں سکھاۓ۔۔“
ان کی بات پر وہ ہلکا سا مسکراٸ تھی۔
”بڑوں کی غلطیوں کا خمیازہ نسلیں تک بھگتتی ہیں پھپھو۔۔ میرے خیال سے کسی نے آپ کو قدرت کے بنیادی اصول کے بارے میں کبھی نہیں بتایا۔۔“
نرم زبان سخت جملے بھی جب نرمی سے ادا کرنے لگے تو گھاٶ کہیں زیادہ گہرا لگتا ہے۔ اس نے بھی نرم زبان سے سخت وار کیا تھا۔ ان کے چہرے کا رنگ لمحے میں متغیر ہوا تھا۔
”میرے گھر کی چھت تلے مجھ سے زبان مت چلانا لڑکی۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے جہاں تم اپنی من مانی کرتی پھروگی۔ یہ میرا گھر ہے۔۔ اور میرے محل میں کسی کو بھی اتنی اجازت نہیں۔۔ سمجھی تم۔۔“
”آپ مجھے مت اکساٸیں۔ پھر مجھے بھی کوٸ شوق نہیں لفظوں سے زخم دینے کا۔۔“
کمرے کی فضا ہر گزرتے پل تناٶ کا شکار ہونے لگی تھی۔ ارحم نے دونوں کو ایک نظر دیکھا اور پھر مسکرایا۔۔
”یہ آپ دونوں کونسی باتیں لے کر بیٹھ گٸ ہیں۔ جانتی ہیں ناں ممی کہ ہم نے انہیں یہاں کیوں بلوایا ہے۔“ ساتھ اس نے دانت پیس کر تنبیہی نگاہوں سے صاٸمہ کو بھی گھورا تھا۔ ”اسی لیۓ۔۔ ہم کام کی بات پر آتے ہیں۔۔ اب نو جھگڑا۔۔ نو لڑاٸ۔۔“
پھر جلدی سے مسکرا کر بات مکمل کی۔ لیکن رابیل نہ تو اس کے انداز سے متاثر ہوٸ تھی اور نہ ہی اسے ارحم کی کسی بھی بکواس میں دلچسپی تھی۔
”میری بہن کا پیچھا چھوڑدو ارحم۔ اور مہربانی کرو۔۔ ہماری زندگیوں سے نکل جاٶ۔ مجھے نہیں پتا کہ تمہیں کیا چاہیۓ لیکن خدارا۔۔ اپنے مقصد کے لیۓ اتنا مت گرو کہ اٹھنا محال ہوجاۓ تمہارے لیۓ۔۔“
اس کی بات سن کر وہ یکدم ہنس پڑا تھا۔ پھر چہرہ اٹھا کر کھردری نگاہوں سے شزا کی جانب دیکھا۔
”مجھے شزا سے شادی کرنی ہے۔۔“
اس کی اگلی بات پر جہاں رابیل کی آنکھیں حیرت و نا سمجھی سے پھیلی وہیں شزا بدک کر اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔ صاٸمہ کی مزاق اڑاتی مسکراہٹ کا مطلب رابیل کو اب اچھے سے سمجھ آرہا تھا۔
”کیا بکواس ہے یہ۔۔ میں۔۔ میں آپ سے شادی ہرگز نہیں کرونگی۔۔“
”شادی تو کرنی پڑے گی ناں۔۔ نہیں تو پھر میری ڈوبتی کمپنی کو کون سہارا دے گا۔۔؟ تمہارے باپ کے پاس اتنا پیسہ ہے۔ کیا قبر میں لے کر جاٸیں گے وہ اس پیسے کو۔۔؟“
”ڈوبتی کمپنی۔۔؟“
اس نے ناسمجھی سے دہرایا تو اب کہ صاٸمہ کا مکروہ سا قہقہہ گونجا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم ہر بار تمہارے لیۓ آتے تھے۔۔؟ کیا واقعی۔۔؟ ویسے اتنی بیوقوف تم لگتی تو نہیں ہو۔ لڑکی۔۔“
وہ آگے ہو کر بیٹھی تو اس کے سماعتیں ساٸیں ساٸیں کرنے لگیں۔
”ہمیں تمہارے باپ سے حصہ چاہیۓ تھا۔ اس کی جاٸیداد کا حصہ۔۔ جو کہ تمہاری ہڈدھرمی کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں نکل چکا تھا۔ لیکن پھر وہ کیا ہے ناں کہ گِدھ اپنا رزق یونہی نہیں چھوڑدیا کرتے۔ وہ آخر تک مردار کو نوچ نوچ کر کھاتے ہیں، تب تک۔۔ جب تک ان کی بھوک نہیں مٹ جاتی۔ اسی لیۓ۔۔ ارحم کی شادی اب شزا سے ہوگی۔۔ اور تم خود۔۔ بلکہ پورا خاندان ہی اس کی شادی ارحم سے کروانے کے حق میں ہوگا۔۔“
وہ بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔ شزا دھیرے سے اس کے پیچھے ہوٸ تھی۔ پھپھو کی باتوں کا مطلب بہت بھیانک تھا۔ ان کے جسموں پر کیڑیاں رینگنے لگی تھیں۔۔
”آپ تو انسان ہونے کی ہر حد سے گر چکی ہیں پھپھو۔ آپ تو جانور کہلانے کے بھی لاٸق نہیں ہیں۔۔“
”ایسا ہی ہے۔۔ میں ہر درجے سے گر چکی ہوں۔ اور اس سب کے بعد مجھے کوٸ افسوس نہیں ہوتا۔“
وہ اٹھیں اور آگے بڑھ کر شزا کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔ وہ بے ساختہ اس بے دردی پر چیخی تھی۔ اس نے صاٸمہ کی کرخت ہاتھوں کو نوچ کر شزا کے بالوں سے ہٹانا چاہا تو پیچھے سے ارحم نے اٹھ کر اسے اپنی جانب کھینچا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ پاٸ اور سیدھا ساٸیڈ پڑے ٹیبل سے ٹکراٸ۔
اسے یکلخت ہی چکر آیا تھا۔ شزا اب زور زور سے چلا کر اپنے بال پھپھو کی گرفت سے نکالنے کی ناکام کوشش کرنے لگی تھی۔
وہ تیزی سے اٹھی تو ارحم نے ایک بار پھر سے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر روکا۔ اس نے پوری قوت لگا کر اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا لیکن پھر بھی کامیاب نہ ہوسکی۔
”رابی۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔ چھوڑیں۔۔“
لیکن وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتی ہوٸ باہر کی جانب لے جارہی تھیں۔
”چھوڑو میرا ہاتھ۔۔ گھٹیا انسان۔۔ میں کہتی ہوں چھوڑو مجھے۔۔“
اس نے پیچھے پلٹ کر زور دار چانٹا ارحم کے منہ پر مارا تو وہ بے ساختہ ہی پیچھے ہوا۔ شاید وہ اس وار کے لیۓ تیار نہیں تھا۔ اسکی گرفت چھوٹنے پر وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی تھی لیکن وہ بھی اسی تیزی سے آگے بڑھا۔ اس کا حجاب کھینچا تو وہ چھوٹی سی پن سے بندھے ہونے کے باعث کھل کر کندھوں پر پھسلتا چلا گیا۔ ایک لمحے کے لیۓ سارے کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا۔ جہاں وہ اسکی حرکت پر ساکت ہوٸ تھی، وہیں وہ بھی اپنی حرکت پر رکا تھا۔ رابیل کے بال اب کندھوں پر لہرارہے تھے۔ اس نے گلابی پڑتی زخمی نگاہوں سے ارحم کا چہرہ دیکھا۔ تکلیف کا ایک شدید دورہ اس کے سینے میں اٹھا تھا۔ کندھوں سے پھسلتے حجاب کو اس نے جلدی سے تھام کر سر پر ڈالنا چاہا تو ارحم نے بے دردی سے دوپٹہ نوچ کر دور پھینکا۔ دوپٹہ کھنچنے کی وجہ سے اس کی گردن تک رگڑ کٸ تھی۔
پھر اس نے اسے موقع دیۓ بغیر کھلے بالوں سے جکڑا اور بیڈ پر دھکا دیا۔ لمحوں ہی میں اس پر سارا کمرہ گھومنے لگا تھا۔
”یا اللہ۔۔ یہ کیا ہورہا تھا۔۔! یا اللہ یہ کیا ہونے جارہا تھا۔۔“
(تم نازک ہو ۔۔ جسمانی اعتبار سے۔۔)
معاذ کی باتیں اس کی سماعت میں گونجنے لگی تھیں۔ ہاں وہ کمزور تھی۔۔ وہ بہت کمزور تھی۔۔ معاذ۔۔ یا اللہ معاذ کو بھیج دیں۔۔ یا اللہ اسے بھیج دیں۔۔
اس کے دل سے گھٹتی التجاٸیں اٹھ رہی تھیں۔ صبح تک سب ٹھیک تھا۔ اب یہ سب کیا ہونے جارہا تھا۔ آنسو بھل بھل آنکھوں سے پھسلتے جارہے تھے۔ وہ اس پر جھپٹا تو اس نے ہاتھ مار کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا شیشے کا گلدان اٹھا کر اس کی کنپٹی پر دے مارا۔۔ چھن چھن۔۔ کانچ ٹوٹ ٹوٹ کر سارے کمرے میں بکھر گۓ تھے۔
ارحم کی کنپٹی سے خون کی تیز دھار بہہ نکلی۔ چکراتے سر کے ساتھ وہ ایک جانب کو لڑھکا تو اس نے اسے پوری قوت سے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا۔ کھینچا تانی میں اس کے جوتے تک اتر گۓ تھے۔ کچھ سجھاٸ نہ دیتا تھا کہ اندھیرا کیا تھا اور اجالا کیا۔۔باہر اٹھ کر بھاگتے ہوۓ اس نے اسے کلاٸ سے تھاما تو وہ بکھرے کانچ پر گر گٸ۔
آہ۔۔
تکلیف کا چیرتا ہوا احساس اس کی رگوں میں اترا تھا۔ گھٹنے کے ساتھ ساتھ، کٸ کانچ اس کے برہنہ پیروں میں بھی کھب گۓ تھے۔ ہر جانب خون کی بوندیں بکھر کر گرنے لگیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے اس سے اپنی کلاٸ چھڑواٸ اور پھر کمرے کا دروازہ کھول کر باہر کی جانب بھاگی۔ وہ اب تک اپنے بیڈ پر گرا، دونوں ہاتھوں سے ابلتا خون روک رہا تھا۔ اس کے بھاگنے پر وہ پیچھے سے چلایا بھی تھا۔۔
لیکن اسے ابھی صرف شزا کو ساتھ لے کر جلد از جلد اس گھر سے باہر نکلنا تھا۔ زینوں سے اتر کر اس نے آس پاس نگاہ دوڑاٸ تو دیکھا صاٸمہ ایک جانب گریں، درد سے کراہ رہی تھیں۔ شاید شزا انہیں بھی کچھ مار کر بھاگ چکی تھی۔ اس نے اگلی کوٸ بھی بات سوچے بغیر قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔
”پکڑو اس لڑکی کو۔۔ بھاگنے مت دینا۔۔ پکڑو اس (گالی) کو۔۔“
پتھریلی روش پر اندھا دھند دوڑتے ہوۓ اس نے ارحم کی چنگھاڑتی آواز اپنے پیچھے سنی تھی۔ وہ آدمیوں کو اس کے پیچھے بھیج رہا تھا۔ اس نے سڑک پر نکل کر آس پاس دیکھا لیکن نہ تو ڈراٸیور تھا اور نہ ہی گاڑی۔ وہ تیزی سے سمت کا تعین کیۓ بنا بھاگنے لگی۔ کندھوں پر گرتے اس کے ریشمی بال پیچھے کی جانب اڑ رہے تھے اور وہ قدموں میں کھبے کانچ کی پرواہ کیۓ بغیر تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ اتنی تیزی سے کہ اسے اپنے آس پاس کی دنیا نظر ہی نہیں آرہی تھی۔
”گاڑی۔۔ گاڑی تیز چلاٶ۔۔ ج۔۔ جلدی چلاٶ گاڑی۔۔“
شزا نے خوفزدہ نگاہوں سے اپنی گاڑی کے عین پیچھے اس سیاہ فام کی گاڑی دیکھی تو ڈراٸیور کو لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔ ڈراٸیور اس قدر بوکھلا گیا تھا کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ اس نے کانپتی انگلیوں سے اپنے ہاتھ میں جکڑا موباٸل سامنے کیا۔۔ ماٶف ذہن جیسے چند لمحات کے لیۓ مفلوج ہوگیا تھا۔ پھر اس نے گرتے آنسوٶں کے ساتھ، جلدی سے معاذ کا نمبر ڈاٸل کیا۔ ساتھ ساتھ اس نے لبوں سے ابلتی خون کی دھار کو بھی ہاتھ کی پشت سے رگڑا تھا۔۔
وہ تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ پیچھے بھی دیکھ لیتی۔ وہ تین چار قد آور سے خوفناک مرد تھے۔ پوری قوت سے اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ صبح کا وقت ہونے کے باعث سڑک پر لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ کاش کہ کوٸ اس کی مدد کو آجاۓ۔۔ شاید کہ کوٸ آجاۓ۔ بھاگتے بھاگتے اب وہ مرکزی سڑج پر آ نکلی تھی۔ یہاں پر دن چڑھے ہونے کے باعث سنسان گلیوں سے زیادہ رش تھا۔ سڑک چلتے لوگ رک رک کر اسے دیکھنے لگے تھے۔ اسے لگا کہ اس کی ریاضت راٸیگاں چلی گٸ۔۔ اسے لگا سب ختم ہوگیا۔۔ وہ یوں اس طرح بے حجاب سڑکوں پر اپنی عزت بچانے کے لیۓ دوڑ رہی تھی۔ حبیبہ اور رابیل کا دکھ برابر تھا۔۔ ایک جانب وہ اپنے کردار کو بچا رہی تھیں تو دوسری جانب رابیل اپنی عصمت کو۔۔ اس کے قدموں سے جان سمٹنے لگی تھی۔ بھاگتے ہوۓ سانس حد سے زیادہ پھول کر اب دھونکنی کی مانند چل رہا تھا۔
اسے لگا کہ وہ اب چکرا کر سڑک پر گرنے والی ہے۔ خشک پڑتے حلق میں بہت سے کانٹے اگ آۓ تھے۔ اس نے پوری قوت سے بھاگتے قدم آگے بڑھاۓ لیکن اب جیسے سکت ختم ہوگٸ تھی۔ سب بکھر کر ریت کی طرح پھسلنے لگا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے بھاری قدموں کی چاپ سنی تو آخری ہمت بھی عنقا ہونے لگی۔
اس نے ایک نگاہ پیچھے ڈالی تھی۔ اسے بس کچھ دیر اور دوڑنا تھا کیونکہ اسی سڑک پر معاذ کا ریسٹورینٹ تھا۔۔ اگر جو وہ اس کے ریسٹورینٹ تک پہنچ جاۓ۔۔ بس ذرا اور دور۔۔
لیکن پھر وہ جو پیچھے دیکھتی ہذیانی انداز میں آگے کی جانب دوڑ رہی تھی۔ بری طرح آگے کسی انسان سے ٹکرا کر پیچھے کی جانب گری۔۔
”کتنا بھاگو گی اور۔۔؟“
وہ انہی میں سے کسی ایک کی گرفت میں آگٸ تھی۔ اس نے لرزتے قدموں سے اٹھنا چاہا تو ٹانگیں کام کرنے سے انکاری ہوگٸیں۔ سب جیسے لمحوں میں تہس نہس ہوتا جارہا تھا۔۔
”نہیں۔۔ خدا کیلیۓ۔۔“
وہ جیسے ہی اسے پکڑنے کے لیۓ جھکا وہ اگلے ہی پل اس کے برابر سے نکل کر بھاگ کھڑی ہوٸ۔ جانے کیسے اچانک اس کے قدموں میں بجلی سی بھر گٸ تھی۔ پیچھے سے وہ اسے گالیاں بکتا، تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ یکایک اسے ریسٹورینٹ کی ہریالی نظر آنے لگی۔ اس کی بجھتی امید جیسے چمک اٹھی تھی۔ اپنی پوری قوت سے دوڑ کر وہ جیسے ہی ریسٹورینٹ کے احاطے میں داخل ہوٸ تو دیکھا کہ وہ دروازہ کھولتا عجلت میں باہر نکل رہا تھا۔ اگلے ہی پل اسے دیکھ کر ساکت ہوگیا۔۔
وہ بھی اسے دیکھتے ہی جم سی گٸ تھی۔
معاذ نے زندگی میں دوسری دفعہ اس قدر تکلیف دہ منظر دیکھا تھا۔ اس قدر تکلیف دہ اور رگوں کو چیرتا ہوا منظر۔۔
وہ بنا حجاب کے، لٹی پٹی سی اس کے سامنے کھڑی تھی۔ کندھوں پر اس کے بال پھسل کر گر رہے تھے۔ آس پاس کام کرتے ورکرز اور کٸ لوگ بھی اس تباہ حال لڑکی کا حلیہ دیکھ کر رک گۓ تھے۔ معاذ اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔۔ اسے لگا وہ کبھی ہل نہیں سکے گا۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے رابیل بھاگتی ہوٸ آٸ اور بے ساختہ اس سے لپٹ گٸ۔ وہ خالی خالی سا کھڑا رہ گیا تھا۔ وہ اب رورہی تھی۔۔ یوں لگتا تھا ساری دنیا ساکت ہوگٸ ہو۔۔ بس کچھ باقی رہ گیا تھا تو وہ اس کے سسکتے آنسو۔۔ اس کے بے دم سے پہلوٶں میں گرے ہاتھ ہولے سے اٹھے۔۔ پھر دھیرے سے اس نے رابیل کی پشت پر اپنے ہاتھ رکھے۔ وہ اس میں سمٹی روۓ جارہی تھی۔۔
اسی اثناء میں تین تن و مند سے مرد بھی ریسٹورینٹ کے احاطے میں داخل ہوۓ تو معاذ نے ٹھنڈی نگاہوں سے ان کا چہرہ دیکھا۔۔
”یہ شعراوی ہے۔۔ معاذ شعراوی۔۔ یہ یہاں کیا کررہا ہے سلیم۔۔! یہ لڑکی اس کی تھی۔۔؟؟ دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ارحم سر کا۔۔ کس کے گریبان پر ہاتھ ڈال لیا ہے انہوں نے۔۔!“
شاید ان میں سے کوٸ اسے جانتا تھا۔ اسی لیۓ دوسرے ساتھیوں کو سرگوشی میں کہنے کے بعد جب اس نے ان کے چہرے دیکھے تو وہ فق ہورہے تھے۔
”یہ ہے شعراوی۔۔!“
”ہاں یہ۔۔ سلطان کا آدمی ہے یہ۔۔ اسے بھنک پڑ گٸ ناں کہ ہم نے اس کے آدمی پر ہاتھ ڈالا ہے تو ہماری لاش گلی میں گھومتے کتوں کو بھی نہیں ملے گی۔۔ جلدی چلو یہاں سے۔۔“
”لیکن ارحم سر۔۔!“
”میں نے کہا جلدی بھاگو۔۔“
اور اگلے ہی لمحے وہ تینوں اب وہاں سے بھاگ رہے تھے۔۔ معاذ نے انہیں نہیں روکا۔ وہ ابھی انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اس کے بازوٶں میں وہ بے ہوش ہو کر جھول رہی تھی۔ اسے ابھی رابیل کے علاوہ کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ اس نے اسے خود سے ہٹا کر دیکھا۔ اس کی گردن ایک جانب کو لڑھکی ہوٸ تھی اور چہرے پر جا بجا آنسوٶں کے نشان ثبت تھے۔ اس نے لمحے بھر کو ضبط سے آنکھیں بند کر کے کھولی تھیں۔ پھر جھک کر اسے ہاتھوں میں اٹھایا۔
”انسان، انسان بن جاتا ہے۔۔ دنیا بس انسان بننے نہیں دیتی۔۔!“
اس نے اسے گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ریورس کرتا بھگالے گیا۔ اب اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ سرد اور سفید سا چہرہ۔۔ آنکھیں اس قدر خالی تھیں کہ ان کا خالی پن خوفزدہ کرنے لگا تھا۔
”اور اگر کبھی کوٸ تم سے کہے کہ انسان فرشتے پر شیطان کو چن کر گناہ گار بن جاتا ہے تو یقین کرلینا۔۔ کیونکہ در حقیقت ایسا ہی ہوتا ہے۔۔“
اس نے گاڑی سلویٰ کے گھر کے آگے روکی تھی۔ پھر اسے پچھلی سیٹ سے اٹھا کر کندھے پر ڈالتا اندر کی جانب بھاگا۔ سلویٰ جو کچن میں کھڑیں کھانا پکا رہی تھیں، اسے دیکھ کر بری طرح چونکیں۔ پھر رابیل کو دکھ کر ان کا سانس ہی رک گیا تھا۔
وہ اب اسے صوفے پر احتیاط سے لٹا رہا تھا۔ اس کا سفید چہرہ کسی بھی طرح نارمل نہیں تھا۔
”یہ۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔؟“
”اسے خاصی چوٹیں آٸ ہیں سلویٰ اور شدید ذہنی دباٶ کے باعث بیہوش بھی ہوگٸ ہے یہ۔۔ آپ ٹریٹ کر لیں گی اسے۔۔ یا پھر ہاسپٹل لے کر جاٶں میں۔۔؟“
وہ اسے ہاسپٹل لے کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ اسے لوگوں کے بے رحم سوالات کے حوالے نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”نہیں۔۔ می۔۔ میں کرلونگی ٹریٹ۔۔ لیکن۔۔ اسے۔۔ اسے پہلے کمرے میں لے کر چلو۔۔ یہاں ایسے ٹھیک نہیں۔۔“
اس نے سر اثبات میں ہلایا اور اسے باوٶں میں اٹھاتا کمرے کی جانب بڑھا۔
”زیادہ تکلیف مت ہونے دیجیۓ گا سلویٰ۔۔ میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔۔“
اس نے کہہ کر ایک نگاہ بے سدھ پڑی، زرد چہرے والی رابیل پر ڈالی اور جیسے ہی باہر کی جانب بڑھنے لگا تو سلویٰ کے کانپتے سوال پر ٹھہر گیا۔۔
”ک۔۔ کہاں جارہے ہو تم۔۔؟“
اس نے دانت پر دانت جماۓ تھے۔
”آتا ہوں کچھ دیر میں۔۔ آپ اس کا خیال رکھیں۔۔“
اور پھر کوٸ بھی بات کیۓ بغیر تیزی سے آگے بڑھا۔ سلویٰ لرزتا دل دروازے ہی میں ٹھہر گٸ تھیں۔ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ایک بار اس سے پوچھ ہی لیتی۔۔ وہ اس وقت بالکل بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا۔
واپسی کے راستے پر اس نے گاڑی گھر کے سامنے روکی اور باہر نکل آیا۔ کمرے میں آ کر الماری کا پٹ کھولا اور پھر کپڑوں کے نیچے رکھی ایک ہاتھ جتنی زنجیر کھینچ کر نکالی۔ وہ موٹی زنجیر تھی۔۔ اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ اس کا ایک سرا ہتھیلی پر لپیٹا اور پھر باہر کی جانب بھاگا۔
”اور اگر کوٸ تمہیں کہے کہ شیطان پر فرشتے کو چننا ثواب کا کام ہے تو یقین کرلینا۔۔ کیونکہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔۔“
اس نے ہاتھ میں جھولتی زنجیر تیزی سے لپیٹی تھی۔ پھر گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی زن سے آگے بڑھالے گیا۔۔
”اور اگر کوٸ تمہیں کہے کہ انسان پر انسان کو چننا اسے انسان بناتا ہے تو یقین کرلینا۔۔ کیونکہ۔۔ ایسا۔۔ ضرور ہوتا ہے۔۔!!“
Tags
Kahaf
