Kahaf Episode 10

 #Do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف 

بقلم_رابعہ_خان 

دسویں_قسط 

تین سال قبل۔۔ 

اس نے تاریک سی طویل راہداری بنا چاپ پیدا کیۓ عبور کی اور تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ اس راہداری کے آخری سرے پر ہی اسے سلطان مل گیا تھا۔ اس کے بڑھتے قدم بے ساختہ رکے تھے۔ اسے سلطان سے سامنہ ہوجانے کی امید نہیں تھی۔ سلطان جو شاید اسی کا انتظار کررہا تھا، ٹھنڈی آنکھوں سے اس کے وجود کو دیکھا۔ چہرے پر چڑھا سیاہ ماسک، چہرے کو ڈھانپتی سیاہ ہی کیپ، ہاتھوں میں دستانے اور سیاہ جیٹک اور جینز سے ڈھکا سراپا۔۔ یہ اس کا مخصوص حلیہ تھا اور اس حلیے کے پیچھے کی کہانی اکثر سلطان کو معلوم ہوجایا کرتی تھی۔ 

"کام ہوگیا۔۔۔؟" 

اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اسے اتنی جلدی سر سے پکڑ لے گا۔ لیکن اگلے ہی لمحے کسی بھی قسم کی نفی کے بجاۓ اس نے محض سر اثبات میں ہلا کر چہرے سے ماسک اتارا تھا۔ 

"مطمٸن ہو اس سب کو کرنے کے بعد۔۔؟" 

وہ سوال بلاشبہ بہت یخ تھا۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی لمحے بھر کو چٹخی تھی۔ 

"اگر مطمٸن نہیں ہوتا تو کبھی یہ قدم نہیں اٹھاتا میں۔۔" 

"تازہ تازہ انتقام لے کر آۓ ہو ناں۔ اسی لیۓ جلتی نفس پر چند لمحوں کے لیۓ اطمینان کی بارش برستی رہے گی۔ کچھ عرصے بعد جب یہ بارش گرم ابلتے لاوے میں بدلے گی ناں معاذ۔ تب تمہیں سلطان بہت یاد آۓ گا۔۔" 

اس نے ہر جذبے سے عاری آنکھیں اس کے نیم روشن چہرے پر جماٸ تھیں۔ 

"اپنی ماں کا انتقام لیا ہے میں نے۔ تمہیں لگتا ہے کہ کبھی یہ بات مجھے تکلیف میں مبتلا کرے گی۔۔؟" 

"انتقام اور بدلہ۔۔ سکون نہیں دیا کرتے۔۔ بلکہ انسان کے اندر گرتے آنسوٶں کو خشک کردیتے ہیں۔ تم بھی کچھ عرصے بعد بنجر ہوجاٶ گے۔ میں تمہارے عمل کی مذمت نہیں کررہا۔ شاید تمہاری جگہ میں ہوتا تو اس کے ہزار ٹکڑے کرتا۔۔ لیکن میں صرف تمہیں اس حقیقت کا آٸینہ دکھا رہا ہوں، جس سے جلد ہی سامنہ ہونے والا ہے تمہارا۔۔" 

وہ کہہ کر پلٹا تو معاذ نے تیزی سے قدم اس کے پیچھے بڑھاۓ۔ 

"کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔؟" 

"صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خود کو اس اذیت کے لیۓ تیار رکھو۔۔" 

"میں ہر اذیت کے لیۓ تیار ہوں۔" 

اس کی سرد آواز سلطان کو سناٸ دی تو وہ لمحے بھر کو مسکرایا۔ پھر اس کے کندھے پر اپناٸیت سے اپنا ہاتھ رکھا۔ معاذ نے بری طرح اس کا ہاتھ جھٹکا تھا لیکن سلطان کو کوٸ فرق نہ پڑا۔ اسے معاذ کے ایسے رویے کی عادت تھی۔ 

"ہمیں اندھیرے جمع کرتے ہوۓ اندازہ نہیں ہوتا لڑکے، کہ ایک دن ہمیں انہی اندھیروں میں زندہ رہنا ہوگا۔ انہی اندھیروں میں سانس لے کر خود کی زندگی باقی رکھنی ہوگی۔ تم بھی اپنے لیۓ اندھیرے جمع کررہے ہو۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ ان اندھیروں میں زندہ رہنے کی ہمت بھی برقرار رکھنا اور اگر۔۔" 

وہ ٹھہرا۔ معاذ نے سرمٸ آنکھیں اس پر اٹھاٸ تھیں۔ 

"اگر ان اندھیروں کے ساتھ زندہ نہ رہ سکو تو کبھی انہیں اکھٹا کرنے کی غلطی مت کرنا۔" 

"مجھے کبھی افسوس نہیں ہوگا۔ میں اپنی ماں کو اس دن منہ دکھانے کے قابل ہونگا۔ میں انہیں بتاسکونگا کہ میں انہیں بھولا نہیں تھا۔ میں نے انہیں زندگی کی ہر گزرتی گھڑی میں یاد کیا تھا۔ میں انہیں کبھی بھلا نہیں سکا۔ میں اپنی عزت رکھنا چاہتا ہوں ان کے سامنے اس دن۔" 

بولتے بولتے اس کے حلق میں کچھ اٹکا تو وہ خاموش ہوگیا۔ 

"اپنی ماں کو یاد رکھو لیکن اس سب میں خود کو نہ بھلا دینا۔ خود کو وہ نہ بنا دینا کہ تمہاری ماں تمہیں اس بڑے دن میں پہچان ہی نہ سکے۔ ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا معاذ۔ انسان کے اعمال کے ساتھ ہی اس کی زندگی جڑی ہوتی ہے۔ تم جتنے گناہ کرتے جاٶگے تمہارے وجود کا ایک حصہ اسی گناہ کے ساتھ مردہ ہوجاۓ گا۔۔ جیسے ابھی۔۔" 

اس نے آگے بڑھ کر اس کے دل پر انگلی رکھ کر بجاٸ تھی۔ 

"ابھی تمہیں اپنی یہ جگہ خالی لگتی ہے، کل کو سارا وجود خالی لگنے لگے گا۔ خود کو تم نے کیا بنانا ہے یہ تم خود طے کروگے۔ میں نے کٸ سالوں پہلے تمہیں یہاں سے کیوں بھیج دیا تھا۔۔ جانتے ہو۔۔! صرف اسی لیۓ کہ مجھے پتا تھا تم خطرناک ہو۔ تمہاری رگوں میں یادیں زہر بن کر گردش کرتی ہیں۔ میں اگر تمہیں یہاں رہ کر ڈھیل دیتا تو آج تم خود کو بھی پہچان نہ سکتے لیکن میں ایسا نہیں کرسکا۔۔ خود کو ضاٸع مت کرو۔ اور چلے جاٶ اس دنیا سے۔۔" 

اس نے ہولے سے اسکا کندھا تھپکا اور آگے بڑھ گیا۔ لیکن معاذ۔۔ وہ اپنی جگہ ہی ٹھہر سا گیا تھا۔ انسان کی بیٹھک اسکا عکس ہوتی ہے۔۔ اسے بھی اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کیا بنتا جارہا تھا۔ اس نے پلٹ کر کمرے کے واش روم کا دروازہ کھولا اور سامنے لگے آٸینے میں چند پل کے لیۓ خود کا عکس دیکھے گیا۔ یہ اس رات کی بات تھی جب اس نے ارشد کے جسم کو ناکارہ کیا تھا۔ وہ اب اس جگہ بہت کم آیا کرتا تھا لیکن چونکہ یہاں پر کام کرتے کچھ لوگ اس کے ساتھ ملوث تھے تو اسے یہاں کا رخ کرنا ہی پڑا تھا۔ 

کیپ سر سے اتار کر اس نے ایک طرف رکھی اور پھر جھک کر نلکے سے ابلتی دھار کو ہتھیلی کے پیالے میں جمع کر کے زور سے منہ پر چھینٹے مارے۔ بہت دفعہ اپنا چہرہ دھونے کے بعد بھی اسے وہ چہرہ مکروہ لگ رہا تھا۔ جھک کر بیسن کا کنارہ تھامتے اس کے ہاتھ ہولے سے لرز رہے تھے۔ ماتھے پر گرے بال ہلکے نم معلوم ہوتے تھے لیکن وہ خود۔۔ وہ خود بے حد سرد لگ رہا تھا۔ سیاہ اور سرد۔۔! 

کچھ لمحوں کے لیۓ خود کو خالی خالی سا دیکھنے کے بعد وہ سیدھا ہوا۔ اپنی پشت واش روم کی دیوار سے لگاٸ اور پھر آہستہ سے اکڑوں بیٹھ گیا۔ خاموشی سے سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔ ویران آنکھیں اور کھنڈر وجود لیۓ وہ آج اپنی زندگی کی آخری متاع بھی لٹا آیا تھا۔ شاید سلطان ٹھیک کہتا تھا۔ انسان کے اعمال کے ساتھ ہی اس کی زندگی جڑی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے اس کے گناہ بڑھتے جاتے ہیں، اس کے وجود کا ایک ایک حصہ ان سب کے ساتھ ہی مردہ ہونے لگتا ہے۔ شاید وہ بھی کہیں اندر سے مردہ ہورہا تھا۔ کھوکھلا ہورہا تھا۔۔ اس نے سر تھک کر دیوار سے لگایا۔۔ آنکھیں جو کچھ لمحے پہلے تک گہری سیاہی کے زیر اثر تھیں، اب اپنے ازلی سرمٸ سے رنگ میں ڈھلی نظر آرہی تھیں۔ 

"ماں۔۔۔" 

اس نے ہولے سے پکارا۔ اتنی ہلکی آواز میں کہ اسے خود کی بھی آواز سناٸ نہ دی۔ پیچھے کمرہ تاریک تھا اور واش روم میں روشن مدھم زرد سی روشنی ماحول کو مزید خاموش بنا رہی تھی۔ 

"میں آپ کو بہت یاد کرتا ہوں ماں۔ مجھے آپ بہت یاد آتی ہیں۔ " 

اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا۔ ضبط کے باعث بصارت گلابی پڑنے لگی تھی۔ 

"میں خود سے نفرت کرنے لگا ہوں۔ مجھے خود سے گھن آنے لگی ہے۔ مجھے بس ایک بار کہہ دیں کہ میں آپ کا اچھا بیٹا ہوں۔" 

اس نے بازو آنکھوں پر رکھ کر خود کو رونے سے روکا تھا۔ دل میں جمع ہوتا گھٹن زدہ سا اندھیرا اسے سانس لینے میں دشواری دینے لگا تھا۔ 

"میں روز رات کو اس غار میں خود کو روتا ہوا دیکھتا ہوں۔ مجھے اس غار کی تکلیف سے اب تک خوف آتا ہے ماں۔ میں بہت اکیلا ہوں۔ مجھے نہیں پتا کہ میں کیا بنتا جارہا ہوں۔" 

اس نے گہرا سانس لے کر سر ایک بار پھر دیوار سے ٹکایا تھا۔ پلکوں پر بہت سے قطرے ٹھہرے ہوۓ تھے اور سانسیں نا ہموار تھیں۔ 

"مجھے لگتا ہے میں شیطان بنتا جارہا ہوں ماں۔ آپ کا معاذ اب شیطان بن رہا ہے۔ میرے اندر کی آگ نے مجھے راکھ کردیا ہے۔ میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا۔۔! میں تاریک ہوتا جارہا ہوں۔۔ میں برف بنتا جارہا ہوں ماں۔۔!!" 

دل بہت بھاری ہورہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ بوجھ سے پھٹ جاۓ گا۔ ادھڑے زخم تکلیف دینے لگے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑیں اور آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر ماسک چڑھایا۔۔ سر پر کیپ پہنی اور ایک نظر خود کو آٸینے میں دیکھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھادیۓ تھے۔ کیونکہ خود کو مزید آٸینے میں دیکھنے کا مطلب تھا خود سے مزید نفرت۔۔ اور نفرت جو کہ اب اس کے لہو کے ساتھ بہنے لگی تھی۔

وہ اب تک ساکت ہوا اس سیاہ عباۓ میں لپٹی لڑکی کو بے یقینی سے تک رہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ یوں اس کے خواب کا حصہ بن جاۓ گی۔ رابیل نے آگے بڑھ کر اس کی جیکٹ کی آستین تھامی اور اسے اپنے ساتھ لیۓ آگے بڑھ گٸ۔ وہ اس قدر ششدر تھا کہ کوٸ ردعمل ہی نہ دے سکا۔ خاموشی سے اس کے ساتھ کھنچتا چلا گیا۔ اپنی گری چھتری اٹھا کر اس نے دونوں کے سر پر تانی پھر پلٹ کر خفا نگاہوں سے اسے دیکھا۔ 

"میں، ہم دونوں کو بارش سے بچارہی تھی لیکن تم لاٸق ہی نہیں ہو انسانیت کے۔ ٹھیک کرتے ہیں تایا تمہارے ساتھ جو کھینچ کر رکھتے ہیں تمہیں۔ مطلب کوٸ طریقہ ہوتا کسی بات کا۔ لیکن نہیں۔۔ تمہیں ابھی بھی بچوں کی طرح بنیادی باتیں سمجھانی پڑتی ہیں۔۔ یعنی کے حد ہوگٸ ہے۔۔" 

"رابیل۔۔"

"چپ کرو بالکل اور میری بات کان کھول کر سنو۔۔" 

وہ دو قدم مزید قریب آٸ تھی۔ اس کی آنکھوں میں اپنی کتھٸ غصہ غصہ سی آنکھیں گاڑی۔ 

"آٸندہ اگر تم نے مجھ پر غصہ کیا تو مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا پھر۔ اور سمجھتے کیا ہو تم خود کو۔۔؟ جب چاہوگے خود کو تکلیف دے دو گے اور جب چاہوگے خود کو کسی بھی طرح ٹریٹ کرلوگے۔ معاذ شعراوی۔۔ تم اب صرف تمہارے نہیں ہو۔۔ تم اب میرے بھی ہو۔۔!" 

وہ آنکھیں پھیلاۓ اسے تیز تیز بولتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔ ابرو اکھٹے کیۓ وہ جس خفگی سے بول رہی تھی، معاذ کے کندھوں سے بہت سا بوجھ سرکنے لگا تھا۔ 

"اب گھر چلو انسانوں کی طرح اور یہ ہاتھ کو کیا کیا ہے۔۔؟ یا اللہ میں کیا کروں اس لڑکے کا۔۔ جب دیکھو خود کو زخمی کرلیتا ہے۔ " 

اس پر ایک کوفت زدہ سی نگاہ ڈال کر اس نے اس کی آستین مضبوطی سے تھامی اور اپنے ساتھ لیۓ آگے بڑھنے لگی۔ سارے راستے وہ اسے ڈانٹتی رہی تھی اور معاذ خاموشی سے اس کی ڈانٹ سنتا رہا تھا۔ کیا کوٸ اور راستہ تھا اس کے پاس رابیل کی ڈانٹ سے بچنے کا۔۔ اوں ہوں۔۔ 

گھر آکر اس نے اسے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود تایا کی جانب چلی آٸ۔ وہ اپنے کمرے میں راکنگ چیٸر پر بے چینی سے جھول رہے تھے۔ 

"تایا۔۔ وہ معاذ گھر آگیا ہے۔" 

انہوں نے حیرت سے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ پھر ہولے سے مسکرادیۓ۔ اگلے ہی لمحے وہ اپنا چہرہ دوبارہ سے پھیر چکے تھے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ وہ ابھی اس سے نہیں ملنا چاہتے۔۔ 

"باہر ٹیبل پر فرسٹ ایڈ باکس رکھا ہے رابیل۔ اس کا ہاتھ زخمی ہے۔۔ خیال رکھنا اس کا۔۔" 

اس نے سر اثبات میں ہلایا اور دروازہ بند کرتی پلٹ گٸ۔ باہر آکر پہلے فرسٹ ایڈ باکس تلاشا۔ پھر وہ ساتھ لیۓ معاذ کے کمرے میں چلی آٸ۔ دروازہ کھلا رہنے دیا۔ جانے کیوں دروازہ بند کرنا عجیب لگ رہا تھا۔ 

"سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ میرے کپڑے بھی بھگادیۓ تم نے۔ بدتمیز۔۔" 

تپ کر اپنے گیلے عباۓ کو دیکھا تھا اس نے۔ معاذ جو خاموشی سے صوفے پر بیٹھا تھا گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔ 

"اب میرے پاس صرف میرے کپڑے ہیں۔ اگر پہننے ہیں تو پہن لو لیکن مجھے اب مزید مت ڈانٹو۔ تم کب سے مجھ پر غصہ ہورہی ہو۔۔" 

اور اب وہ بالکل بھی صبح والا معاذ نہیں لگ رہا تھا۔ اب وہ بہت معصوم سا بچہ لگ رہا تھا۔ 

"تم لاٸق ہو اسی ڈانٹ اور غصے کے۔ " 

معاذ نے اسے خفا نگاہوں سے دیکھا پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر الماری سے اس کے لیۓ کپڑے نکالنے لگا۔ وہ اب کہ غصے میں نہیں لگ رہا تھا۔ بلکہ اب کہ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ رابیل نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھتے سر ہلایا تھا۔ جانے کب سے وہ اپنے اندر یہ سب لیۓ جی رہا تھا۔

کچھ دیر بعد ایک جینز اور سفید ٹی شرٹ لیۓ وہ اس کی جانب پلٹا تو رابیل نے اس سے جھپٹ کر کپڑے لیۓ۔ اس نے بے اختیار ہی ڈر کر ہاتھ پیچھے کیۓ تھے۔ پھر جھرجھری لے کر خود بھی کپڑے بدلنے چلا گیا۔ 

کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی تو معاذ صوفے پر بیٹھا اپنے بالوں کو تولیۓ سے رگڑ رہا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر بے ساختہ سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر جلدی سے مسکراہٹ چھپانے کے لیۓ چہرہ پھیر لیا۔ رابیل اس کے کپڑوں میں بھالو لگ رہی تھی۔ لمبی جینز کو ٹخنوں سے موڑے، ڈھیلی سی سفید ٹی شرٹ پہنے جو کہ گھٹنوں سے ذرا اوپر تھی۔ 

"ہنسو مت اب۔۔ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔" 

اس کے ایسے ردعمل پر اسے اور طیش چڑھا تھا۔ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث اس نے تولیہ کندھوں پر پھیلا کر لے رکھا تھا۔ چند پل تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کرے۔ لیکن پھر معاذ خود ہی اٹھ گیا۔ الماری کھول کر اندر کچھ تلاشنے لگا۔ تھوڑی سی جد و جہد کے بعد اسے اس کی مطلوبہ شے مل ہی گٸ تھی۔ الماری کا پٹ بند کرتے دوسرے ہاتھ سے اس نے رابیل کو سفید ململ کا دوپٹہ دیا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔

"کس کا دوپٹہ ہے یہ۔۔؟"

"ماں کا۔۔" 

اس نے ایک بار پھر سے بال تولیۓ سے رگڑے اور پلٹ گیا۔ اس نے گہرا سانس لے کر دوپٹے کو شانوں پر پھیلایا اور پھر بالوں کو انگلیوں سے آزاد کر کے شانوں پر ہی کھلے رہنے دیا۔ 

"ہاتھ دکھاٶ اپنا۔۔" 

"میں ٹھیک ہوں رابیل پلیز۔۔" 

اس نے بہت بیزار ہو کر کہا تو رابی نے بے ساختہ ہی لب بھینچے۔ ابرو تان کر اسے دیکھا۔ 

"میرا دماغ مزید مت خراب کرو۔۔" 

"تمہیں نہیں لگتا کہ تم مجھ پر کچھ زیادہ ہی غصہ ہورہی ہو۔ " 

"جی بالکل۔۔ میں آپ پر غصہ ہورہی ہوں کیونکہ آپ اسی لاٸق ہیں۔۔" 

ڈھٹاٸ کے ساتھ اس کے برابر میں بیٹھی اور پھر اس کا زخمی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھا۔ ہتھیلی پر بہت گہرا سا زخم آیا تھا۔ یوں جیسے کوٸ کانچ بہت گہراٸ سے گوشت میں پیوست ہوا ہو۔ اس نے لمحے بھر کو آنکھیں اٹھا کر اسے افسوس سے دیکھا تھا۔ 

"کتنے ظالم ہو تم۔۔ ہمیشہ خود کو زخم دیتے ہو۔۔" 

"سو تو ہے۔۔ جبھی تم سے کہا تھا کہ چلی جاٶ نہیں تو کون جانے کہ تم بھی اس سب کا نشانہ بن جاٶ۔۔" 

اس نے آرام سے کہہ کر اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا تھا۔ 

"تو تم کس لیۓ ہو۔۔؟ اگر مجھے کوٸ بھی ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا تو کیا بچ جاۓ گا تم سے۔۔؟ مجھے تم بچاٶ گے۔۔ میری حفاظت تمہارے زمے ہے۔۔ اور تمہارے زخموں کا مرہم میرے زمے۔۔" 

اس نے نرمی سے کہہ کر اس کا ہاتھ ایک بار پھر سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ پھر ساتھ رکھا فرسٹ ایڈ باکس کھول کر اندر سے دواٸ نکالی۔ روٸ سے پہلے جمع خون صاف کیا اور پھر بہت احتیاط سے زخم پر مرہم لگانے لگی۔ وہ خاموشی سے اسے یہ سب کرتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔ 

"تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں رابیل۔۔" 

اس کی بات پر اس نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ کتھٸ آنکھوں میں جمی نرمی دیکھ کر معاذ پگھلنے لگا تھا۔ اسے اتنی نرمی کی عادت نہیں تھی۔ 

"سوچنا بھی مت کہ میرے علاوہ کوٸ دوسری یہ کام کرے گی۔ اگر ایسا کچھ بھی ہوا تو جان لے لونگی تمہاری۔۔" 

اس کی دھمکی سن کر وہ بے ساختہ ہنس دیا تھا۔ ماتھے پر گرے بال ہلکے ہلکے سے خشک ہونے لگے تھے۔ 

"کبھی کسی کو اتنی اجازت نہیں دی میں نے کہ کوٸ یوں۔۔ اس طرح میرا ہاتھ پکڑ کر میرے زخم پر مرہم لگاۓ۔ مجھے نہیں پسند کہ لوگ میرے جسم کو ہاتھ لگاٸیں۔ ہمیشہ اپنے زخموں کو یا تو خود صاف کیا یا پھر کبھی تو یونہی ادھڑا رہنے دیا۔ کیا فرق پڑتا ہے ویسے بھی۔۔" 

لاپرواہی سے کہہ کر سر جھٹکا تو اس نے بے یقینی سے سر اٹھا کر اس کے ظالم تبصرے پر اسے دیکھا۔ 

"تم مجھے ہمیشہ حیران کرتے ہو۔ کیوں خود کے ساتھ نرمی سے نہیں چلتے تم۔۔؟ اس سب میں تمہاری غلطی کہیں بھی نہیں تھی معاذ۔۔ تم شروع سے ہی معصوم ہو۔۔" 

"رابیل عابد۔۔ ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا۔  معاذ سب کچھ ہوسکتا ہے مگر معصوم کبھی نہیں ہوسکتا۔ میں معصوم نہیں ہوں اور جو لوگ مجھے معصوم سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں بہت جلد ہی اپنی غلطی پر کف افسوس بھی ملنے لگتے ہیں۔ اسی لیۓ تم بھی سمجھ لو کہ میں۔۔ معصوم نہیں ۔۔ ہوں۔۔ میں ۔۔ خطرناک۔۔ ہوں۔۔" 

اس نے آخری لفظ بہت دھیمی سی سرد آواز میں کہے تھے۔ رابیل کے جسم میں لمحے بھر کو لہر سی دوڑ گٸ تھی۔ کیونکہ اس کی سرمٸ آنکھیں اس ایک لمحے میں بہت تیزی سے سیاہ ہوٸ تھیں۔ 

"تم مجھے ڈرا رہے ہو اب۔۔" 

اس کے کہنے پر اس نے چہرہ اس کی جانب پھیرا لیکن وہ گردن جھکاۓ اب زخم پر پٹی باندھ رہی تھی۔ اس نے مسکرا کر اس کے چہرے پر آتی لٹ کان کے پیچھے اڑسی۔ اس کی انگلی کے پوروں نے بے حد نرمی سے اس کے رخسار کو چھوا تھا۔ رابیل نے تیزی سے پلکیں جھپکاٸ تھیں لیکن نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے کی غلطی وہ نہیں کرسکتی۔ 

" تم کیوں ڈر رہی ہو۔۔؟" 

وہ اب اسے دیکھتا بہت نرمی سے پوچھ رہا تھا۔ 

"یہ کیسے کرلیتے ہو تم۔؟۔۔" 

"کیا۔۔؟" 

"یہی۔۔ پل میں تمہاری آنکھیں سرمٸ اور پل میں سیاہ ہوجاتی ہیں۔ کبھی اتنے نرم ہوجاتے ہو کہ میں تمہیں پہچان ہی نہیں پاتی اور کبھی اتنے سرد ہوجاتے ہو کہ معاذ ہی نہیں لگتے۔۔ کیسے کرتے ہو یہ تم۔۔؟ بیک وقت کتنی زندگیاں گزار رہے ہو۔ ایک ہی وقت میں کتنے انسان سانس لے رہے ہیں تمہارے اندر۔۔؟" 

اس کی الجھن پر وہ بہت اداسی سے مسکرایا تھا۔ تھکن زدہ سا۔۔ 

"تم مجھے ڈیزرو نہیں کرتیں رابیل۔ ٹھیک کہتے ہیں سب۔ تمہارا میرے ساتھ گزارا مشکل ہے۔" 

"کیوں۔۔ کیوں مشکل ہے گزارا۔۔؟" 

اسے اس کی بات بہت ناگوار گزری تھی۔ چہرہ اٹھا کر خفگی سے کہا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ 

"تم بہت اچھی ہو۔ میرے جیسے حیوان کے ساتھ کیسے رہوگی تم۔۔؟" 

"کس نے کہا تم حیوان ہو۔۔؟" 

اس کا ہاتھ اب تک رابیل کے ہاتھ میں تھا۔ بہت سنجیدہ نگاہیں معاذ پر جماۓ اس نے استفسار کیا تھا۔ 

"جتنے لوگ جانتے ہیں۔۔ وہ سب یہی کہتے ہیں۔ بلکہ اب تو میں خود کو بھی حیوان کہتا ہوں۔۔" 

صاف گوٸ سے بتاتے ہوۓ اس نے یونہی سر کے پیچھے ہاتھ پھیرا تھا۔ کبھی کسی کے سامنے خود کے متعلق بات نہیں کی تھی تو اب بات کرتے ہوۓ عجیب لگ رہا تھا۔ لیکن وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اصل میں تھا کیا۔ وہ اس پیاری سی لڑکی کو کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اسے ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

"مجھے کسی اور کے بارے میں نہیں پتا لیکن جتنا عرصے تم میرے اردگرد رہے ہو اس سارے عرصے میں، میں نے تمہیں انتہاٸ بے ضرر سا انسان پایا ہے۔ تم بلاوجہ کسی پر اپنا غصہ نہیں اتارتے، تم بغیر کسی وجہ کے کسی کے پیچھے بات نہیں کرتے، تم اپنے سامنے ہوتے ظلم کو برداشت نہیں کرتے۔ تم جرأت سے آگے بڑھ کر سامنے والے کا منہ توڑ دیتے ہو۔ مجھے بتاٶ۔۔ کہاں سے حیوان ہو تم۔۔؟ یہ سب تو انسان ہونے کی علامات ہیں۔۔" 

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بے حد مضبوطی سے کہہ رہی تھی۔ اتنے وثوق سے کہ معاذ لمحے بھر کو ساکت ہوا تھا۔ اسے کبھی کسی نے اتنے وثوق سے اس کے انسان ہونے کا یقین نہیں دلایا تھا۔ یہ صرف رابیل ہی تھی۔۔ یہ صرف رابیل ہی کرسکتی تھی۔ ہاں وہی۔۔ جو جانتی تھی کہ تاریک کہف کی اذیت کیا اذیت ہوتی ہے۔ 

"جن لوگوں نے تمہاری حیوانیت بھگتی ہے وہ لاٸق تھے اس سب کے۔ ہر عمل کے پیچھے وجہ ہوتی ہے معاذ۔ بلاوجہ کبھی کچھ نہیں ہوتا۔ تم نے جو کچھ بھی کیا تم اس کو جسٹفاٸ کرسکتے ہو۔ کیا نہیں کرسکتے۔۔؟" 

اس کے پوچھنے پر اس نے میکانکی انداز میں سر ہلایا تھا۔ 

"جس نے جو کیا ہوتا ہے وہ اس پر ضرور پلٹتا ہے۔ جیسے انہوں نے جو کیا وہ تمہارے ذریعے اللہ نے ان پر الٹا دیا۔ یہ سب ایسے ہی ہونا تھا۔۔ اس سب کو ایسے ہی انجام تک پہنچنا تھا۔۔ اب گزرے اوقات کے باعث خود کو سوچ سوچ کر مزید عذاب کا شکار کرنا عقل مندی نہیں بیوقوفی گردانی جاتی ہے۔ اسی لیۓ تم بھی۔۔" 

اس نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر گرتے بال بکھیرے تھے۔ 

"تم بھی اب اس گلٹ سے نکل آٶ۔ کیونکہ میری قرآن کی استاذہ کہتی ہیں کہ کوٸ گناہ ایسا نہیں جو سچی توبہ کے پانی سے دھل نہ سکے۔" 

وہ چند لمحوں کے لیۓ اسے اس دنیا کی نہیں لگ رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا گویا وہ آسمان سے اتری کوٸ پاکیزہ سی مخلوق ہو۔ صاف، شفاف اور معصوم۔۔ اسے یہ لڑکی کیسے مل سکتی تھی۔۔؟ لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اسے مل گٸ تھی۔ اور اب جب وہ اسے مل گٸ تھی تو وہ اسے۔۔ ہاں وہ اسے اس لمحے میں کھونے سے خوفزدہ ہوا تھا۔ 

"کہاں سے سیکھی ہیں تم نے ایسی باتیں۔۔؟" 

وہ جو اس کا ہاتھ احتیاط سے اس کی گود میں رکھ کر فرسٹ ایڈ باکس کو بند کررہی تھی، اس کے سوال پر ناسمجھی سے اس کی جانب گردن گھماٸ۔۔ 

"مطلب۔۔؟ کونسی باتیں۔۔؟" 

"تم کیسے تھوڑے سے لفظوں سے مردہ وجود کو زندگی دے دیتی ہو۔۔؟ تم یہ کیسے کرلیتی ہو۔۔؟" 

اور اس کا سوال سمجھ کر وہ بے ساختہ ہنس پڑی تھی۔ پھر کتھٸ آنکھوں میں جہاں بھر کی شرارت سمیٹ کر اسکی جانب دیکھا۔ 

"قرآن پڑھنے والے کبھی بھی امید سے خالی نہیں ہوتے۔ میں نے قرآن کے الفاظ سے مردہ ارواح کی آبیاری ہوتے دیکھی ہے۔ اور جہاں تک بات رہی میری تو معاذ احمد۔۔" 

وہ ہولے سے اسکی جانب جھکی۔ ساتھ ساتھ لب بھی دبا رکھے تھے۔ 

"میں ہمیشہ سے اتنی ہی اچھی، پیاری اور معصوم سی لڑکی ہوں۔ اسی لیۓ اپنے آپ کو اذیت دینا بند کرو اور شرافت سے مجھے اچھے سے ٹریٹ کرو۔۔ بیویوں والا پروٹوکول دو۔۔ میرے لیۓ لوگوں کو مارو پیٹو۔۔ پھر دیکھنا کتنی جلدی ٹھیک ہوجاٶ گے تم۔۔ لیکن خبردار جو اب تم نے خود کو زخمی کیا ہے تو۔ اگر اب کچھ بھی ایسا ویسا کیا ناں۔۔ تو پھر دیکھنا رابیل عابد کیا کرتی ہے تمہارے ساتھ۔۔" 

ساتھ ہی بچوں کی طرح دونوں آنکھیں زور سے میچ کر کھولیں تو وہ اس کی حرکت پر نا چاہتے ہوۓ بھی مسکرادیا۔ 

"کیا کرو گی پھر۔۔ آج بتا ہی دو۔۔" 

اس نے بھی مسکراہٹ روک کر پوچھا تھا۔ 

”تو میں تمہیں بہت مارونگی۔۔ سمجھے۔۔!“ 

اور وہ اس کے جواب پر گردن جھکا کر ہنس دیا تھا۔ 

”اپنی جسامت دیکھو پہلے پھر مجھے مارنا۔ اتنی سی ہو تم۔۔ میرے سامنے تو اتنی سی لگتی ہو۔۔ کھڑے ہو کر مارنے کی کوشش کروگی تو میرے چہرے تک ہاتھ پہنچنا بھی مشکل ہی ہے۔“ 

اس کے چھوٹے قد پر مزے سے چوٹ کرتا وہ ایک بار پھر سے رابیل کی گھوری کا شکار ہورہا تھا۔ اس نے اس کے زخمی ہاتھ کو زور سے پکڑ کر گود میں پٹخا۔۔ 

”آہ۔۔ “ 

اسکی کراہ بے ساختہ نکلی تھی۔ 

”کیا ہوگیا اگر میں کھڑے ہو کر نہیں مار سکتی تو۔۔؟ بیٹھ کر تو میں تمہارے برابر آتی ہوں ناں۔ اور میرا قد اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے۔ تمہارا قد ضرورت سے زیادہ لمبا ہے۔ “ 

سوکھتے بالوں کو اس نے کوفت سے سمیٹا تھا۔ جانے کون لڑکیاں تھیں جنہیں بال کھول کر سکون مل جاتا تھا۔ اسے تو چہرے پر آتے بالوں سے شدید قسم کی الجھن ہوتی تھی۔ 

”ظاہر ہے اب اس چھٹکو سے بھالو کو کچھ تو چاہیۓ ناں اپنے قد کو جسٹفاٸ کرنے کے لیۓ۔ پھر بھلے ہی وہ میرا دراز قد کیوں نہ ہو۔۔“ 

کیا اس نے رابیل کو چھٹکو سا بھالو کہا تھا۔ اس نے تپ کر اسے دیکھا۔ 

”معاذ مجھے غصہ مت دلاٶ۔ پتا ہے جب تم سے نہیں ملی تھی ناں تب مشہور تھی میں اپنے پیشنس اور بردباری میں۔ اور ایک تم ہو۔ جب بھی تمہارے ساتھ بیٹھتی ہوں تمہاری یہ جلی کٹی باتوں سے میرا پارہ ساتویں آسمان پر چلا جاتا ہے۔“ 

اب کہ وہ بالوں کو جوڑے میں لپیٹ کر چہرے کے گرد سفید دوپٹہ لپیٹ رہی تھی۔ اس نے مسکرا کر اس کا سرخ چہرہ دیکھا۔ جانے کیوں۔۔ اسے تنگ کر کے بہت مزا آتا تھا۔ شاید اس کا چہرہ غصے میں مزید گلابی ہو کر معاذ کو مزہ دیا کرتا تھا۔ 

”نماز پڑھی تم نے۔۔؟“ 

کچھ لمحوں بعد رابیل کی آواز پر اس نے چہرہ پھیر کر اسے دیکھا تھا۔ پھر بنا جھجھک سر نفی میں ہلایا۔ اس نے مسکراتی نرم نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔ 

”پڑھنی ہے نماز۔۔؟“ 

ایک بار پھر آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا تو رابیل اٹھ کھڑی ہوٸ۔۔ 

”چلو نماز پڑھتے ہیں۔ عشاء کا وقت ہوگیا ہے اور پھر مجھے گھر بھی جانا ہے۔“ 

”میں چھوڑ دونگا تمہیں گھر۔۔“ 

وہ بھی اس کے ساتھ ہی اٹھا تھا۔ اور اب کے انکی جسامت کا فرق بہت واضح تھا۔ وہ اس سے واقعی لمبا تھا۔ رابیل اس کے کندھے سے بھی نیچے آتی تھی۔ 

”بالکل بھی نہیں۔۔ آپ زخمی ہیں اور تھکے ہوۓ بھی تو انتہاٸ شرافت کے ساتھ گھر میں آرام کریں گے۔ میں شزا کو کال کردونگی وہ مجھے لینے آجاۓ گی اور ساتھ میرا عبایا بھی لے آۓ گی۔ “ 

”ویسے ایک بات تو بتاٶ۔۔ یہ ڈانٹتے وقت تم ڈاٸریکٹ ”تم“ سے ”آپ“ پر کیوں آجاتی ہو۔۔؟“ 

اس کے ناسمجھی سے پوچھنے پر وہ بے ساختہ ہنس دی تھی۔ پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس سمے اسے شدت سے احساس ہوا تھا اپنے چھوٹے قد کا۔ 

”بابا سے سیکھا ہے میں نے یہ۔ وہ بھی جب شدید غصے میں ہوتے ہیں تو ”تم“ سے ”آپ“ پر سوٸچ ہوجاتے ہیں۔ میں نے بھی ان سے اس بات کی وجہ پوچھی تھی تو انہوں نے کہا کہ ایسے کہنے سے انسان کی زبان کا کڑوا بول بھی میٹھا لگنے لگتا ہے۔ آگے والے کو تکلیف کم ہوتی ہے۔ تب سے میں بھی ایسے ہی کرتی ہوں۔ زبان کی احتیاط بہت ضروری ہے۔ اگر اس کے ساتھ احتیاط نہیں کی جاۓ تو زندگی بھر کے زخم ساتھ رہ کر تکلیف دینے لگتے ہیں۔“ 

آگے بڑھ کر ساٸیڈ ٹیبل سے جاۓ نماز اٹھا کر ڈالتے اس نے اپنی بات مکمل کی تھی۔ اس نے بھی اس کے پیچھے گہرا سانس لیا اور ساتھ ہی جاۓ نماز بچھالی۔ اب کہ وہ دونوں اپنی اپنی نماز میں مشغول دکھ رہے تھے۔ ایک جانب چھوٹا سا بھالو گردن جھکاۓ اللہ کے حضور پیش تھا تو دوسرا سنجیدہ چہرہ لیۓ اپنی تمام تر کمزوریوں کے ساتھ اس کے سامنے گردن جھکاۓ کھڑا تھا۔ ان کے یوں ساتھ نماز پڑھنے پر تاریک سے کہف میں وہ گل ہوتی روشنی تحلیل ہونے لگی تھی۔ وہ روشنی جسے بچانے کے لیۓ رابیل کے پیر بہت زخمی ہوۓ تھے۔۔ وہ روشنی ان کی عبادت سے پھیل رہی تھی۔۔ بڑھ رہی تھی۔۔ جس سے وہ دونوں یکسر بے خبر تھے۔ 

اس نے گردن پر آۓ زخم پر بندھی پٹی کو ہاتھ سے چھوا تھا۔ درد کی ہلکی سی ٹیس اٹھی تھی۔ پھر پلٹ کر زخمی نگاہوں سے صاٸمہ کو دیکھا جو راکنگ چیٸر پر جھولتیں جانے کونسی سوچوں میں غرق تھیں۔ وہ ان کی جانب پلٹا۔ 

”اگر ہمیں وہاں جا کر آپ نے ذلیل ہی کروانا تھا تو جانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔!“ 

اس کی پھنکار پر انہوں نے اپنا سیاہ چہرہ اس کی جانب پھیرا۔ 

”اس میں میری کوٸ غلطی نہیں تھی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ پہلے ہی اس آدمی کو راستے سے ہٹا چکا ہوگا۔۔“ 

”ہاں تو آپکو اس بارے میں پتا کرنا چاہیۓ تھا ناں۔۔! جس طرح کے انکشاف وہ آپ کے منہ پر کررہا تھا یقیناً اب آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔ حیرت ہے ویسے۔۔ میں کبھی سمجھ کیوں نہ سکا کہ آپ کی پچھلی طلاق کس وجہ سے ہوٸ تھی۔۔“ 

وہ بلاشبہ بہت گہری چوٹ تھی۔ صاٸمہ نے بلبلا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ 

”اب تم اپنے ماں کے زخموں پر اس طرح سے نمک چھڑکوگے۔۔! وہ بھی اس معاذ کی باتوں میں آ کر۔۔“ 

”ماں یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی کہ وہ کس جگہ سے وابستہ رہا ہے۔ اسے پتا ہے کہ انسانوں کو کیسے کھنگالتے ہیں۔ جو کچھ بھی اس نے کہا مجھے اس میں ایک فیصد بھی شک نہیں ہے لیکن خیر۔۔ ہم ابھی اس بارے میں بات نہیں کررہے۔۔ میں صرف آپ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر اس بات کے ذریعے اسے بیلک میل کرنا ہی تھا تو کم از کم اس کے ہر جھول کو تو مٹادیتی آپ۔۔ آپ تو بس اس کے سر پر پہنچ گٸیں بنا کسی ثبوت کے۔۔ اور اس نے جو میرے ساتھ کیا وہ الگ۔۔!“ 

اس نے جھرجھری لے کر ایک بار پھر سے سنگھار آٸینے میں اپنا زخم پلٹ کر دیکھا تھا۔ صاٸمہ نے مٹھی بھینچ کر کرسی کے ہتھے پر ماری۔ ان کا بس نہ چلتا تھا معاذ کی گردن مروڑ کر رکھ دیں۔ 

”ہاں تو پھر تم نے کیوں پیچھے مڑ کر اسے دو تین گھونسے نہیں جڑ دیۓ۔۔ تم تو وہاں بچوں کی طرح رونا شروع ہوگۓ تھے۔ مجھ پر چوٹ کرنے سے پہلے اپنے آپ کو بھی دیکھ رکھو۔“ 

”جانتی ہیں اس کی گرفت کتنی سخت اور پروفیشنل تھی۔ مجھے لگا اگر میں نے ہلکی سی بھی مزاحمت کی تو میری زندگی ختم ہوجاۓ گی۔ اور آپ۔۔ آپ بجاۓ مجھے بچانے کے پتا نہیں کون کون سی دھمکیاں دینے بیٹھ گٸ تھیں اسے۔۔“ 

”سب کچھ تمہیں بچانے ہی کے لیۓ کررہی تھی میں۔ لیکن تم کیوں میرا احسان تسلیم کروگے۔ تم تو دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنی ہی ماں کو نشانہ بنارہے ہو۔“ 

ان کی گیلی سی آواز پر اس نے بے ساختہ پلٹ کر ان کی جانب دیکھا تھا۔ پھر قدم قدم چلتا ان کے عین سامنے آ بیٹھا۔ 

”واٹ ایور۔۔ مجھے اب کسی کی بھی تکلیف سے کوٸ لینا دینا نہیں ہے ممی۔۔ آپ کی تکلیف سے بھی نہیں۔ مجھے اپنی کمپنی بچانی ہے اور اس کے لیۓ مجھے بہت سا پیسہ چاہیۓ۔۔ جانتی ہیں ہمارا بنا بنایا کھیل صرف آپ کی وجہ سے چوپٹ ہوا ہے۔ جانے عورتوں کے دماغ میں کونسا خناس بھرا ہوتا ہے انا کا، کہ اس دھند کے آگے انہیں کچھ دکھاٸ ہی نہیں دیتا۔۔“ 

دل جلی باتیں کر کے وہ اٹھا تو وہ اس پر چلاٸیں۔۔ 

”شرم کرو۔۔ ماں سے ایسی باتیں کروگے تو کونسی زمین قبول کرے گی تمہیں۔۔“ 

اس نے بیزار ہو کر سر جھٹکا تھا۔ پھر ان کی جانب مڑا۔ کرسی کے ہتھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا جھکا۔ 

”اب جو بھی کرونگا میں خود ہی کرونگا۔۔ آپ کو اب کسی بھی معاملے کے درمیان میں آنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ عورتوں کو صرف کام بگاڑنا آتا ہے۔۔ بنانا نہیں۔۔ اور ہاں۔“ 

کچھ یاد آنے پر وہ ایک بار پھر سے اٹھتے اٹھتے جھکا تھا۔ صاٸمہ کی بے یقین آنکھیں اس کے بدلے تیوروں پر جمی تھیں۔ 

”اس کمپنی کے جن شیرز کی مالک آپ ہیں۔ ان شیرز کو آپ میرے نام کررہی ہیں ممی۔۔ اور میں اس بارے میں مزید کوٸ بات سننا نہیں چاہتا۔۔“ 

اتنا کہا اور کمرے کا دروازہ زور دار آواز سے بند کر کے باہر نکل گیا۔ صاٸمہ کا تاریک وجود اب کہ نیلا پڑنے لگا۔ پھر وہ طیش میں اٹھیں اور سنگھار آٸینے پر زور سے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر دے ماری۔۔ اب کہ شیشے کے ٹوٹے جالے میں ان کا ٹوٹا سا عکس نظر آرہا تھا۔۔ 

اس نے اپنی نماز سے سلام پھیرنے کے بعد گردن اس کی جانب موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ تشہد میں بیٹھی، دعاٸیں پڑھ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ جھکی پلکیں، ہولے ہولے ہلتے لب اور خشوع۔۔ وہ اس پرسکون سے وجود کا اسیر ہونے لگا تھا۔ اسی اثناء میں رابیل نے سلام پھیرا پھر چہرے پر ہاتھ پھیر کر اس کی محو سی نظر کو دیکھا۔ مسکرا کر ابرو اچکاتے ہوۓ پوچھا بھی تھا کہ ”کیا ہوا۔۔؟“ 

”کیا سوچ رہے ہو۔۔؟“ 

”سوچ رہا ہوں تم بہت خوبصورت ہو۔۔“ 

اس کے اتنے برجستہ جملے کی رابیل کو بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ آنکھیں پھیلا کر بچوں کی طرح اس کی جانب دیکھا۔ 

”تمہیں کیا ہوا اچانک سے۔۔“ 

جھینپ کر ہنستے ہوۓ اس نے اپنے رخساروں پر ہاتھ رکھے تھے۔ ہاں اسے پتا تھا کہ وہ بلش کررہی ہے۔ حالانکہ اس نے بہت کوشش کی تھی بلش نہ کرنے کی۔ 

”نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں۔۔“ 

اس کے دیکھنے پر اس نے اسے یاد دلایا اور پھر ہاتھوں کے پیالے میں اپنا چہرہ چھپا کر دعا مانگنے لگی۔ وہ اس کی اس حرکت پر مسکرایا تھا۔ 

”میرے حصے کی دعا بھی مانگنا تم۔ میں تو عرصہ ہوا دعا مانگنا بھول چکا ہوں۔۔ مجھے نہیں پتا کہ دعا کیسے مانگتے ہیں۔۔“ 

اس نے اگلے ہی لمحے چہرے سے چھوٹے سے ہاتھ ہٹاۓ تھے۔ تلاشتی نگاہوں نے معاذ کو اپنے برابر میں دیکھا لیکن وہ اب گلاس ڈور کے ساتھ لیٹا باہر تاریکی میں ڈوبے باغیچے کو دیکھ رہا تھا۔ 

اس نے ایک بار پھر سے دعا کے لیۓ ہاتھ بلند کیۓ تھے۔ اب کہ وہ بے حد سکون سے دعا مانگ رہی تھی۔ معاذ نے ایک ہاتھ گردن کے نیچے رکھا اور پھر چہرہ اس طرف کو موڑ کر اسے دعا مانگتے دیکھنے لگا۔ اسے بلاشبہ بہت سے باتیں اس لڑکی سے سیکھنے کی ضرورت تھی۔ دعا سے فارغ ہونے کے بعد اس نے سامنے رکھے فون سے شزا کو کال کرکے تایا کے گھر آنے کا کہا اور پھر جاۓ نماز تہہ کرتی اٹھ کھڑی ہوٸ۔ بیڈ پر بکھرا لحاف درست طریقے سے تہہ کر کے رکھا۔ ادھر ادھر بکھرا سامان سمیٹ کر کمرہ اپنی درست حالت پر لانے کے بعد اس نے معاذ کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ 

”مت سدھرنا تم۔۔ ہر عادت خراب ہے۔۔“ 

”اب کیا، کیا ہے میں نے۔۔؟“ 

”کتنی ٹھنڈ ہے لیکن تم مزے سے ٹھنڈی زمین پر لیٹے ہو۔ ایک تو موسم ایسا اوپر سے جانے کب تک بارش میں بھیگتے رہے ہو تم۔۔ بخار چڑھ گیا ناں تو پھر مجھ سے کوٸ امید مت رکھنا۔۔“ 

وہ اس کے سر پر کھڑی صلاواتیں سناتی بالکل بھی نہیں تھک رہی تھی۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر گہرا سانس لیا اور خاموشی سے اٹھ کر بیڈ کی جانب چلا آیا۔ چپ چاپ لیٹ گیا۔ لحاف بھی گردن تک تان لیا۔ 

”اب سوجاٶ۔۔“ 

”رابیل۔۔“ 

وہ جو پلٹنے ہی لگی تھی بے ساختہ اس کی پکار پر رک گٸ۔ پلٹ کر اسے دیکھا۔ 

”مت جاٶ۔۔۔“ 

جانے کیسے اس کے لبوں سے یہ دو بول پھسل گۓ تھے۔ اپنے کمرے سے اسے جاتے ہوۓ دیکھنا ایسا لگ رہا تھا گویا وہ اس کی زندگی سے جارہی ہو۔ اسے اس کے ساتھ کے ساتھ امید نظر آٸ تھی۔ وہ چند لمحوں کے لیۓ اپنی ذات کے اندھیروں کو بھول گیا تھا۔ وہ ان اندھیروں کو کبھی یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کچھ لمحے یونہی کھڑے رہنے کے بعد وہ واقعی اس کے قریب چلی آٸ تھی۔ پھر آہستہ سے اس کے سراہنے بیٹھ گٸ۔ لیکن اس کے اس طرح بیٹھنے میں بھی ایک خاص فاصلہ تھا۔ معاذ نے بنا کسی جھجھک کے ہاتھ آگے بڑھایا اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔ 

”میں سورہا ہوں۔۔ تب تک تم میرے پاس رہو۔۔“ 

بہت مدھم آواز میں کہہ کر اس نے آنکھیں موند لی تھیں۔ رابیل نے گہرا سانس لیا اور پھر خاموشی سے اس کے سراہنے بیٹھی رہی۔ جب تک وہ سو نہیں گیا تب تک وہ اس کے چہرے کو تکتی رہی تھی۔ کتنا پیارا تھا وہ۔۔ لیکن کیا بنادیا تھا اسے اس دنیا نے۔۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ سوچکا ہے تب وہ آہستہ سے اٹھی۔ اس کا لحاف درست کیا اور ایک آخری نگاہ اس پر ڈال کر کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر چلی آٸ۔ شزا کی گاڑی کا ہارن اسے لاٶنج تک سناٸ دے رہا تھا۔ تایا کو خدا حافظ کہنے کے بعد وہ گھر سے نکل گٸ تو معاذ کی آنکھ بے ساختہ کھلی۔ زخمی ہاتھ کو نگاہوں کے سامنے کیا۔۔ 

”تم عادت بنتی جارہی ہو رابیل۔ وہ عادت۔۔ کہ جسے اپنانے کے بعد میں کبھی شرمندگی اور تاریکی کا شکار نہیں ہوا۔ تم روشنی ہو۔۔ وہ روشنی جو سیاہی کو کاٹ دیا کرتی ہے۔۔ تم معاذ کی روشنی بنتی جارہی ہو۔۔ بلکہ تم معاذ کی ہوتی جارہی ہو۔۔ تم پہلے سے زیادہ مجھے میری لگنے لگی ہو۔۔“ 

پٹی بندھے بازو کو آنکھوں پر رکھ کر اس نے عنقا ہوتی بے چینی کو خیر باد کہا اور دھیرے سے جلتی ذات کے کواڑ بند کرنے لگا۔ کہ اس جلن کا مرہم اب اسے مل گیا تھا۔۔ 

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form