#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
از_رابعہ_خان
نویں_قسط کا بقیہ حصہ
اگلے دن وہ ریسٹورینٹ کے لیۓ چابیاں اٹھاتا کمرے سے باہر نکل رہا تھا کہ لاٶنج میں براجمان صاٸمہ کو دیکھ کر لمحے بھر کو اپنی جگہ پر ہی ساکت رہ گیا۔ بڑے صوفے پر صاٸمہ اور ارحم براجمان تھے اور ان کے عین مقابل وقار۔۔ صاٸمہ نک سک سے تیار، کانوں میں ہیرے جڑے موتی پہنے، آسمانی رنگ کے لباس میں ملبوس آج بھی کسی کھلے گلاب کی سی تصویر پیش کررہی تھیں۔ دوسری جانب ارحم نے تھری پیس زیب تن کررکھا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا وہ آفس کو جاتے جاتے یہاں کوٸ اہم بات کرنے کے لیۓ ٹھہرے ہوں۔ اس کی نگاہیں جو سرمٸ تھیں اگلے ہی لمحے سیاہ ہوگٸیں۔ گہری سیاہ۔۔ خوفزدہ کردینے والی سیاہ۔۔ رف جینز پر ٹرٹل نیک سوٸٹر پر ہمیشہ کی طرح سیاہ جیکٹ پہنے وہ آج بھی بہت معمولی اور عام سا ہی لگ رہا تھا۔
صاٸمہ نے اسکے ساکت وجود کو گردن گھما کر دیکھا اور پھر معنی خیزی سے رخ دوبارہ پھیر لیا۔ اس نے مٹھی بے ساختہ بھینچی تھی۔ دانت جم گۓ۔۔
”کیسے آنا ہوا صاٸمہ۔۔؟ اور وہ بھی اتنی صبح صبح۔۔!“
وقار جو ان کے یوں اس طرح سے آنے پر گڑبڑاۓ تھے اب آرام دہ سے ہو کر بیٹھے۔ لیکن ان کے انداز کی بے چینی بخوبی دیکھی جاسکتی تھی۔ صاٸمہ کی موجودگی ویسے بھی بہت سے لوگوں کے لیۓ بے چینی کا باعث ہوا کرتی تھی۔
”بات کرنے آۓ ہیں آپ سے بھاٸ صاحب۔۔ جو آپ ہمارا لے چکے ہیں اسے واپس لینے آۓ ہیں۔ دوسروں کے حق پر ڈاکہ مارنے والی اس عادت سے آپ آج تک باز نہیں آۓ ناں۔۔ لیکن وہ کیا ہے ناں بھاٸ صاحب۔۔ کہ میں بھی صاٸمہ ہوں۔۔ لوگوں کے حلق تک میں ہاتھ ڈال کر ان سے اپنا نوالہ چھین لیتی ہوں۔ آپ سے بھی اپنا نوالہ چھیننے آٸ ہوں۔۔“
عقاب جیسی تیز نگاہیں اور تیکھے ابرو لیۓ وہ شاطر عورت واقعی لوگوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنا نوالہ چھیننا جانتی تھی۔ معاذ کی رگیں تن گٸ تھیں۔۔ سیاہ آنکھیں سپاٹ ہوگٸیں۔۔ بہت کچھ ایک ساتھ سامنے گردش کرنے لگا تھا۔
”ایک جیتے جاگتے انسان کو اپنا نوالہ کہنا، بتاتا ہے کہ تم کتنی ظالم اور تکلیف دے کر مارنے والی عورت ہو۔ اسی لیۓ اس دن۔۔ چالیس لوگوں کے درمیان میں نے اس انسان کو تم سے لے لیا تھا کیونکہ تم۔۔“
وہ آگے ہو کر بیٹھے۔۔ سرخ کان اور تپتی نگاہوں سے صاٸمہ کو دیکھا۔۔
”تم اس انسان کے لاٸق نہیں تھیں۔۔“
وہ بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھیں۔ سارا لاٶنج لمحے بھر کو گونج اٹھا۔ وہ ہنسی بلاشبہ بہت مکروہ تھی۔۔
”جو میرا ہے وہ میرا ہی رہتا ہے بھاٸ صاحب۔ یہ بات آپ بھی اچھے سے جانتے ہیں اور وہ بھی جس نے میری چیز مجھ سے چھینی ہے۔۔“
معاذ آہستہ سے چل کر ارحم کے عین سامنے آبیٹھا۔
”بالکل۔۔ لیکن کیا آپ اس کو جانتی ہیں جس نے آپ کی چیز آپ سے چھینی ہے۔۔؟“
اس نے بیٹھتے ہی صاٸمہ کو کوٸ بھی موقع دیۓ بغیر لفظوں کا چانٹا رسید کیا تھا۔
”آپ لوگوں کے حلق سے نوالہ جانتی ہیں تو میں بھی ہر اس ہاتھ کو کاٹ کر پھینکنا جانتا ہوں جو میرے حلق تک پہنچے۔۔ کیا آپ کے بیٹے کا حلق کاٹ کر اس کا سر رات کی سیاہی میں آپ کے گھر کی بالکنی میں لٹکا کر یقین دلاٶں یا لفظوں کی بات دماغ میں گھس جاتی ہے۔۔؟؟“
وہ پوچھ نہیں رہا تھا۔۔ بتارہا تھا۔۔ صاٸمہ کے ابرو بے اختیار تنے تھے۔ ارحم کا سانس لمحے بھر کو خشک ہوا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دھمکی نہیں تھی۔ معاذ کو دھمکیاں دینے نہیں آتی تھیں۔۔
”دھمکی ہے کیا یہ۔۔؟“
”حقیقت ہے۔۔ کبھی مافیا راج میں قدم رکھ کر میرے بارے میں پوچھیۓ گا۔ اندازہ ہوجاۓ گا کہ کس کام کے لیۓ مشہور تھا میں۔۔“
”میری بات کان کھول کر سنو لڑکے۔ رابیل کو جلد از جلد طلاق دو کیونکہ یہی تمہارے اور تمہارے اس باپ کے حق میں بہتر ہے۔“
”نہیں دے رہے ہم طلاق۔۔ اکھاڑلیں جو اکھاڑنا ہے۔“
کہنیاں گھٹنوں پر ٹکا کر وہ ذرا جھک کر بیٹھا۔ اپنی سیاہ آنکھیں صاٸمہ کی آنکھوں میں گاڑیں۔ لیکن اسکی بات پر ارحم اور صاٸمہ نے معنی خیزی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ معاذ نے بغور ان کی مسکراہٹ کو چبھتی نگاہوں سے دیکھا۔
”جانتے ہو کیا۔۔“
وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر آرام دہ سی ہو کر بیٹھیں۔ چہرے پر زہریلی مسکراہٹ اور تیز نگاہیں معاذ پر جماۓ۔۔ وہ اب کہ اپنے اصل مدعے کا آغاز کررہی تھیں۔
”انسان مر جاتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جڑی رسواٸیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔۔“
”ہر دفعہ ایسا نہیں ہوتا محترمہ، بعض دفعہ انسان زندہ رہتے ہیں اور ان سے جڑی رسواٸیاں مر جاتی ہیں۔۔“
اسکے بے حد آرام دہ سے جواب نے لمحے بھر کو صاٸمہ کو ساکت کیا تھا۔ بات بالکل انہی سے کی جارہی تھی اور انہی کی بابت کی جارہی تھی۔ ان کے سر سے لیکر پیر تک اس جملے پر گویا لہر گزر گٸ تھی۔ ایسی لہر جس سے جسم ہتک سے سرخ پڑجایا کرتا ہے۔
”بکواس بند کرو اپنی اور آٸندہ میری بات نہیں کاٹنا۔۔“
طیش یکدم ہی ابلا تھا۔ معاذ نے مسکرا کر سر جھٹکا۔ پھر سپاٹ نگاہوں کا زاویہ ایک بار پھر سے ان کی جانب پھیرا۔
”بکواس کون کررہا ہے یہ آپ بھی اچھے سے جانتی ہیں اور میں بھی۔ اسی لیۓ مجھے مزید مت اکساٸیں کہ میں اپنے لفظوں سے آپ کی راتوں کی نیند تک چھین لوں۔ جو بھی ارادہ لے کر آٸ ہیں ابھی کہ ابھی اس ارادے کے ساتھ ہی واپس چلی جاٸیں کیونکہ مجھے اپنی باتیں بار بار دہرانے کی عادت نہیں۔۔ اور رہی بات رابیل کی۔۔ تو ناں آپ اور ناں ہی آپ کا یہ نامرد بیٹا اس کے قابل ہے۔ اسی لیۓ اپنی اس چھپکلی کو ساتھ لیں اور لمحے کے اگلے حصے میں میری نگاہوں سے غاٸب ہوجاٸیں۔۔“
وہ لفظ نہیں تھے۔۔ چٹاخ چٹاخ روح پر برستے کوڑے تھے۔ وقار نے کھنکھار کر اسے تھمنے کا اشارہ کیا لیکن فی الحال وہ ان کی جانب متوجہ نہیں تھا۔ صاٸمہ نے گود میں رکھی مٹھی بھینچی تھی۔
”اگر تمہیں اپنی ذلت بھول گٸ ہے تو میں یاد کروادوں معاذ شعراوی۔۔!“
اس نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاٸ اور صوفے سے پشت ٹکا کر بیٹھا۔
”اگر میں کچھ بھول جاتا تو شاید آج اس حال میں نہیں ہوتا بی بی لیکن مسٸلہ یہ ہے کہ میں کچھ بھولا ہی تو نہیں ہوں۔ اور دعا کریں کہ مجھے ان یاد کی اوراق کے پھڑپھڑاتے صفحات پر کبھی طیش نہ آجاۓ، نہیں تو اس روۓ زمین پر آپ کا کوٸ نام لینے والا بھی زندہ نہیں رہے گا۔“
”سمجھتے کیا ہو تم خود کو۔۔؟ کہیں کے غنڈے ہو کیا تم۔۔؟ بات موت سے شروع کر کے موت پر ہی ختم کرنا جانتے ہو۔ اپنی شکل دیکھی ہے کبھی آٸینے میں۔ رابیل کبھی بھی تم جیسے جانور کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ کبھی اسے بھی بتاٶ اپنی حقیقت کے بارے میں۔ بلکہ اسے کیا۔۔ اس کے باپ کو بھی بتاٶ کہ تم کس گندے نالے کے کیڑے ہو۔۔“
”صاٸمہ یہ بہت۔۔ “
”میں جہاں کی پیداوار ہوں وہاں بات موت نہیں قتل سے شروع کرکے اسی پر ختم کی جاتی ہے اور جہاں تک بات گندے نالے میں پل کر بڑے ہونے کی ہے تو آپ بھی اسی گندے نالے کی پیداوار ہیں۔ کیا نہیں ہیں۔۔؟ وہ کون تھا پھر جس نے رات کی تاریکی میں اپنے ہی شوہر کے کمرے میں نقب لگا کر اسے زود و کوب کرنے کی کوشش کی تھی۔۔؟ اور کیا یہی وجہ نہیں تھی جس کے بعد طلاق ہوٸ تھی آپ کو۔۔؟ بس یا اور کچھ بتاٶں۔۔؟ ادھر میری ایک بات کان کھول کر سنیں آپ۔۔ جتنا آپ خود کو نہیں جانتی ہونگی میں اتنا جانتا ہوں آپ کو۔ اسی لیۓ اب مزید میرا دماغ خراب کرنے کے بجاۓ میرے گھر سے چلی جاٸیں آپ۔۔!“
اس نے زناٹے دار سا کہہ کر جیکٹ درست کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ صاٸمہ کا سارا وجود لمحے بھر کو سفید پڑگیا تھا۔ ارحم نے اس کے حوالے پر حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا اور دیکھ تو اسے وقار بھی رہے تھے۔ حیرت و تحیر سے۔۔
”کیا اسے بھول گۓ جس کے ساتھ منہ کالا کیا تھا تمہاری ماں نے۔؟“
اور وہ جو آگے بڑھنے ہی لگا تھا اپنی جگہ پر ہی جم گیا۔ ایک ساتھ ہی رگوں میں گرم کڑوا سا سیال خون کی جگہ بہنے لگا تھا۔ وقار جو ابھی پہلے ہی جھٹکے سے نہ سنبھلے تھے، برف بن گۓ۔ صاٸمہ جو فضا میں خالی نگاہوں سے گھور رہی تھیں اس کی جانب اپنی نگاہیں پھیریں۔ لیکن وہ تو بت بن گیا تھا۔ یوں لگتا تھا سانس تک رک گیا ہو۔
”کیا تمہیں وہ یاد ہے یا میں یاد دلاٶں معاذ شعراوی۔۔؟ میں نے کہا تھا ناں کہ انسان مرجاتے ہیں لیکن یہ ظالم دنیا اس کی رسواٸیاں زندہ رکھتی ہے۔ میں بھی اس ظالم دنیا کا حصہ ہوں۔ بتاٶ۔۔ کیا تمہیں یاد ہے یا میں پھر تمہارے ساتھ خاندان کے ایک ایک فرد کو وہ سب کچھ یاد دلاٶں۔۔ وہ سب کچھ جس نے تمہاری زندگی برباد کردی تھی۔۔!“
اس نے دانت جما کر حلق میں جما ہوتے بہت سے احساسات کو ایک ساتھ ہی اندر اتارا تھا۔ مٹھی سختی سے بھینچے آنکھیں لمحے بھر کو موند کر کھولتا وہ اس وقت ایک دم ہی بہت ٹوٹا ہوا نظر آنے لگا تھا۔ سرمٸ ارتکاز پلٹنے لگا۔۔ سیاہی گھلنے لگی۔۔ گلابی سی دھند ہر سو چھانے لگی۔۔
”نام کیا تھا بھلا اس کا۔۔؟ ارشد۔۔ ارشد ملک۔۔ بالکل یہی نام تھا اس کا۔۔ کیا جانتے ہو اس ایک شخص کی گواہی تمہیں سارے خاندان کے سامنے کس طرح ذلیل کرے گی۔۔ ارے لیکن اس سے بھی پہلے تمہارے مسلمان دل کا کیا کریں گے ہم۔۔ کیا منہ دکھاٶ گے اپنی ماں کو بروز قیامت۔۔؟ کیا کہوگے اس سے۔۔ کہ میں آپکے مردہ وجود کی عزت کو بھی بچا نہ سکا۔۔ چچ۔۔۔ کیسے بیٹے ہو تم معاذ۔۔!“
انسانی جسم برفانی مجسمہ بننے لگا۔ سرمٸ ارتکاز رخصت ہوگیا، نگاہیں سیاہ ہوگٸیں، مٹھی جو بھینچ رکھی تھی کھل گٸ۔ کڑوا مادہ رگوں میں تیزی سے گردش کرنے لگا۔ ضبط کا بہت کڑا بند ٹوٹنے لگا تھا۔ وقار کی آنکھوں کی چمکتی نمی نے ان کا ہر منظر نم کردیا تھا لیکن معاذ کی طرح وہ بھی اس وار پر اپنا زخمی زخم ادھڑنے کی اذیت سے دوچار ہونے لگے تھے۔ سب کچھ برف بننے لگا تھا۔
”میں بھی کسی مردہ وجود کو اذیت نہیں دینا چاہتی معاذ اسی لیۓ میری بات مانو اور رابیل عابد کو ابھی کہ ابھی اپنے نکاح سے آزاد کردو۔ نہیں تو پھر اپنی بچی کچھی عزتوں کا جنازہ دیکھنے کے لیۓ خود کو تیار کرلو۔۔ کیونکہ اس بار میں۔۔ اس بار میں صرف حبیبہ کی مردہ عزت کا نہیں بلکہ رابیل کی زندہ عزت کا بھی جنازہ نکالنے سے نگاہ نہیں پھیرونگی۔۔ کیا تم چاہتے ہو میں اپنا آخری انسانی چولہ بھی اتار پھینکوں۔۔؟ اور دیکھو اگر ایسا ہوا تو میرے حیوان بننے کے ذمے دار صرف اور صرف تم اور تمہارا یہ باپ ہوگا۔۔“
وہ اپنی زہر اگلتی زبان کا اثر ان دونوں کے چہروں پر دیکھ رہی تھیں۔ ان دونوں چہروں پر سفیدی کے بعد نیلے زہر کے نشان نظر آنے لگے تھے۔ لاٶنج کی فضا میں کافور تحلیل ہونے لگا تھا۔ سب کچھ نیلے سے زہر میں ڈھلتا جارہا تھا۔۔
”اللہ کا خوف کرو صاٸمہ اور ڈرو اس کی بے آواز لاٹھی سے۔ اپنی ذات پر اتنا گہرا ظلم نہ کرو کہ اس کی تاریکی تمہیں اپنے اندر ہی اندر نگل لے۔ ہمیں اور رسوا مت کرو۔۔“
وقار کے کانپتے لہجے نے صاٸمہ اور ارحم دونوں کو مزہ دیا تھا۔ کام بننے لگا تھا۔۔ ان کا پلان اپنی درست سمت میں سفر کررہا تھا۔۔ اسی پل انہوں نے چہرہ پھیر کر معاذ کی جانب دیکھا۔
”کیوں صاحب بہادر۔۔؟ کیا کوٸ اور راستہ ہے تمہارے پاس اس سب سے نگاہیں چرانے کا۔۔؟“
وقار، ارحم اور صاٸمہ اب کہ تینوں اس کی جانب متوجہ تھے۔ اس نے سیاہ نگاہیں صاٸمہ کی جانب پھیریں۔ چہرہ اس قدر سپاٹ تھا کہ خوفزدہ کرنے لگا۔ ارحم نے بے اختیار ہی جھرجھری لی تھی۔
”کیوں نہیں۔۔ راستہ ہمیشہ ہوتا ہے اور اس راستے کو تلاشنے میں صرف پل بھر ہی لگتا ہے۔۔“
اگلے ہی لمحے اس نے ارحم کو ہاتھ سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے کھڑا کیا اور جانے کب اس نے اپنی آستین سے ہتھیلی جتنا تیز دھار چاقو نکال کر اس کی شہہ رگ پر بھی رکھ دیا۔ سب کچھ اس قدر تیزی سے ہوا تھا کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں حیرت سے پھٹ کر باہر آنے لگیں۔ صاٸمہ اور وقار ایک ساتھ ہی اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ وہ اس غیر متوقع سے عمل کے لیۓ تیار نہیں تھے۔ اس نے ارحم کا سر بالوں سے پکڑ کر اونچا کیا اور اب کہ اس کا چاقو بالکل اس کی شہہ رگ پر تھا۔ معاذ اب کہ معاذ نہیں لگ رہا تھا۔۔ بلکہ وہ تو اب انسان ہی نہیں لگ رہا تھا۔۔ وہ تو اب جانور کا سا منظر پیش کررہا تھا۔۔ زخمی اور خطرناک۔۔
”میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔۔ تمہارے اس عمل سے تمہاری ماں کی ذلت، عزت میں نہیں بدل جاۓ گی سمجھے۔۔!!“
وہ اس پر چلاٸ تھیں۔۔ لیکن معاذ انہیں نہیں سن رہا تھا۔ مزاحمت کرتے ارحم کو اس نے ایک جھٹکے سے سیدھا کیا اور چاقو کا دباٶ اس کی گردن پر سرخ نشان چھوڑنے لگا۔ صاٸمہ اس پر ایک بار پھر چلاٸ تھیں۔ ارحم رورہا تھا اور وقار۔۔ وہ اس اجنبی سے معاذ کو آج دیکھ رہے تھے۔
”معاذ چھوڑ دو ارحم کو۔۔ ہم آرام سے بات کرلیں گے۔۔ چھوڑو اسے۔۔“
وقار اس پر گرجے لیکن وہ سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا جارہا تھا۔
”ایک منٹ اور تیس سیکنڈ۔۔ اس سے بھی کم کا عرصہ لگے گا مجھے آپ کے اس بیٹے کی جان لینے میں۔ اور جانتی ہیں سب سے خوفناک بات کیا ہوگی پھر۔۔؟ یہی کہ مجھے اسے مارنے کا افسوس بھی نہیں ہوگا۔۔ کیوں۔۔ کیا میں نے آپ کو وارن نہیں کیا تھا کہ مجھے مت اکساٸیں۔۔ کیا میں نے آپ کو سمجھایا نہیں تھا کہ مجھے مت چھیڑیں۔۔ کیوں آپ نے پھر سے ان زخموں کو نوچا جن سے خون رسنا آج تک بند ہی نہ ہوا تھا۔۔“
وہ ان پر اس قدر زور سے چلایا کہ حلق میں خراش پڑ گٸ۔ کنپٹی پر بہت سی پسینے کی بوندیں ایک ساتھ لڑھک کر اسکی گردن میں گر رہی تھیں۔۔
”میں نے کہا میرے بیٹے کو چھوڑ دو تم۔۔ ابھی کہ ابھی چھوڑ دو اسے نہیں تو مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا معاذ۔۔ میں تمہیں اور تمہاری اس زندگی کو آگ لگادونگی۔۔ چھوڑدو میرے بیٹے کو ابھی کہ ابھی۔۔“
وہ اب بہت زور زور سے بول کر اس سے اپنے بیٹے کے لۓ التجا کررہی تھیں۔
”معاذ خدا کے لیۓ ارحم کو چھوڑ دو۔۔ یہ تم کیا کررہے ہو۔۔؟ ہوش میں آٶ۔۔ انسان بنو تم جانور کیوں بن رہے ہو۔۔؟!“
وقار نے آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے چاقو کی چمکتی دھار ارحم کی گردن میں مزید گاڑی۔ خون کی چند بوندیں پھسل کر اس کے لباس پر گری تھیں۔ ارحم کے حلق سے خوف کے باعث عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔
”بھاٸ صاحب اسے روکیں ابھی کہ ابھی۔۔ اس جانور سے میرے بیٹے کو آزاد کرواٸیں۔۔“
صاٸمہ اب کہ بے بسی سے رونے کو تھیں کہ اس نے ایک جھٹکے سے ارحم کو دھکا دے کر چھوڑا۔ اس کا سر زمین پر لڑھکنے کے باعث سینٹرل ٹیبل سے بری طرح ٹکرایا تھا۔ معاذ کے ہاتھ بے دم ہو کر پہلوٶں میں آگرے۔ پھر اس نے انہی گلابی آنکھوں سے صاٸمہ کو دیکھا۔
”جس ارشد نامی شخص کی دھمکی دینے آپ مجھے آٸ ہیں اسے میں نے۔۔ اپنے۔۔ ہاتھوں سے۔۔ ناکارہ کیا تھا۔۔ “
اور اب کہ انسانی وجود بالکل برف بن چکا تھا۔ صاٸمہ جو ارحم کو سیدھا کرنے کے لیۓ جھک رہی تھیں اپنی جگہ ہی ٹھہر گٸیں۔ وقار نے تکلیف سے آنکھیں موند لیں۔ بہت سے آنسو لڑھک کر رخساروں پر گرے تھے۔ نمازیں پڑھانے والا لڑکا کیسے دل دہلادینے والے انکشافات کررہا تھا۔ کوٸ اسے سمجھاۓ کہ وہ ایسی باتیں نہ کرے۔۔ وہ ایسی باتیں کرتے ہوۓ قابل ترس لگتا ہے۔۔ کوٸ اسے روکے۔۔۔ لیکن وقار میں اسے روکنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ ان میں اب کہ ایک آواز بھی دینے کی ہمت باقی نہ رہی تھی۔۔
”کیا کہا تم نے۔۔؟“
”میں نے کہا کہ میں نے اسکا وجود کچھ سالوں پہلے ہی ناکارہ کیا تھا۔ اب وہ اپنے گھر کے بستر پر پڑا سڑ رہا ہے۔۔ میں نے اسے زندہ رکھا۔۔ کیونکہ وہ عبرت کا نشان رہنے والا تھا تم جیسے لوگوں کے لیۓ۔۔ اور جانتی ہو۔۔“
معاذ گردن جھکا کر ہنسا۔ خون آلود ہاتھ اور ماتھےپر بکھرے بال، سفید چہرہ اور برف وجود۔ وہ انسان نہیں لگ رہا تھا۔
”مجھے آج بھی افسوس نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔۔ میں آج بھی اپنے دل میں اس عمل پر اطمینان محسوس کرتا ہوں۔ تو اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارا یہ ارحم بھی کسی قسم کے ناکارہ پن کا سامنہ نہ کرے تو آٸندہ میرے سامنے مت آنا۔۔ یہ میری آخری وارننگ ہے۔“
اس کے لرزتے قدم پیچھے ہوۓ۔۔ وہ وقت تاریکی اور نور کا وقت تھا۔۔ وہ وقت ظلمت اور روشنی کا وقت تھا۔ اس نے گلابی آنکھیں جیکٹ کی آستین سے رگڑیں اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔ اسے پتا تھا اس نے اپنے انتقام کا اعلان کر کے اپنے خلاف شہادتیں اکھٹی کرلی ہیں لیکن وہ اب اس سب کو اپنے اندر رکھ کر مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ حیوان اور انسان کا روپ ہے۔ لیکن جو تھا وہ بدل نہیں سکتا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور چرچراتے ٹاٸرز سمت کا تعین کیۓ بغیر سڑک پر بے ہنگم دوڑنے لگے۔ تیرہ سالہ معاذ ایک بار پھر سے اس کے اندر سانس لینے لگا تھا۔ سب کچھ تھم گیا تھا۔۔ وقت، سانسیں اور گردش کرتی ہواٸیں۔۔ آج وہ اس دنیا اور اس دنیا کے لوگوں سے دور جانا چاہتا تھا ۔۔ بہت دور۔۔ وہاں جہاں اسے کوٸ پہچان نہ سکتا۔۔ جہاں وہ خود کا بھی عکس نہ دیکھ سکتا۔۔ ہاں وہ آج ایسی کسی جگہ جانا چاہتا تھا۔۔
وہ مغرب کے بعد مدرسہ سے واپس آٸ تھی اور اب نماز پڑھنے کے بعد اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی اپنا کام کررہی تھی۔ اس نے بہت سے کاغذات سمیٹ کر فاٸل میں لگاۓ اور پھر جماٸ روکتی ہوٸ فاٸل ایک طرف کرنے لگی۔ آج صبح جلدی اٹھی تھی اور فجر کے بعد سے مصروف ہونے کی وجہ سے اسے بے اختیار ہی نیند آنے لگی تھی۔ کتابوں کو ایک جانب کرنے کے بعد اس نے ہاتھوں کی پشت پر اپنا رخسار رکھا اور بوجھل پلکیں موند لیں۔۔
معاذ خاموشی سے نہر کے بہتے پانی کو خالی خالی نگاہوں سے تک رہا تھا۔ اس کی نگاہوں میں بالکل باریک سی نمی تھی۔ نہر کا پانی مغرب کے اس اداس وقت میں گہرا نیلا سا معلوم ہورہا تھا۔ اس نے اپنی پشت درخت کے تنے سے ٹکاٸ اور آہستہ سے بیٹھتا چلا گیا۔ دونوں ہتھیلیوں سے پانی پانی سی آنکھیں ڈھکیں۔
”میرا معاذ ایسا نہیں تھا۔۔ میرا بیٹا جانور نہیں تھا۔۔ تم اب میرے بیٹے نہیں ہو معاذ۔۔ تم نے اپنا قرآن کھودیا تو سمجھو تم نے اپنی ماں کو بھی کھودیا۔۔“
اس نے جلتی آنکھیں مسلی تھیں۔ یادوں کا دھواں اس کی روح تک کو جھلسا رہا تھا۔
”ہمیشہ کی جنتوں میں داخلہ صرف انہیں ملتا ہے جو اپنی محبت اور نفرت، انتقام اور قصاص کا مرکز اللہ کی ذات کو رکھیں۔ جو ان سب باتوں میں اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں، جہنم کی گہری گھاٹیوں میں جاگرتے ہیں۔۔ “
حبیبہ کی وہ آواز اب کے بہت ظالم ہوتی جارہی تھی۔ اس کا وجود ٹوٹنے لگا۔۔ جلتی آنکھوں میں بہت سا نمکین پانی اترنے لگا۔۔
دوسری جانب رابیل نے کہف کی تاریک دیواروں کو ٹٹولا تھا۔ اس نے راستہ جانچنے کے لیۓ اس مدھم سی روشنی کی پیروی کرنی شروع کی تھی۔ یکایک اسے احساس ہوا کہ وہ اس کہف میں تنہا نہیں تھی۔ کوٸ تھا جو اس کے دوسرے سرے پر موجود تھا۔ وہی جس کی بے بس سسکیاں اسے اپنی ہر تکلیف بھلاۓ دے رہی تھیں۔ وہ خواب جو اس رات مکمل نہیں ہوسکا تھا آج مکمل ہورہا تھا۔ کہف کی روشنی فضا میں دھواں بن کر تحلیل ہونے لگی تھی مگر وہ آواز۔۔ وہ اب بھی کہف کے در و دیوار سے پلٹ کر واپس آرہی تھی۔ وہ کوٸ لڑکا تھا جو کہف کی دیوار سے پشت ٹکاۓ رورہا تھا۔۔ ہاں وہ ہی تھا۔۔ جس نے اپنی معصومیت کو کھو دیا تھا۔۔ جس نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا۔۔ اور جس نے اپنے قرآن کو ان تاریک راتوں میں خود کے وجود سے عنقا ہوتے محسوس کیا تھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اس مدھم ہوتی روشنی میں اس آواز تک پہنچنا چاہا۔۔ لیکن وہ غار۔۔۔ وہ غار بہت طویل تھا۔۔ نہ ختم ہونے والا۔۔ پیروں میں کھبتے بہت سے کانٹوں اور پسینے سے شرابور ہوتے جسم کی پرواہ کیۓ بغیر وہ تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
درخت کے تنے سے ٹکا معاذ ابلتے آنسوٶں کو اپنی ہتھیلیوں سے اب تک رگڑ رہا تھا۔ اس نے انتقام اور نفرت میں اپنے نفس کی پیروی کی تھی۔ اس نے قرآن کو یاد کر کے بھلا دیا تھا۔۔ اس نے اپنی ماں کو تکلیف دی تھی۔۔ وہ ایک برا انسان تھا۔۔ اس کا تاریک کہف بہت تاریک تھا۔۔ تنہا، اجاڑ اور خاموش۔۔
رابیل ان سسکیوں سے بس چند قدموں کے فاصلے پر رک گٸ تھی۔ کہف کی مدھم روشنی تیزی سے ہر جانب پھیلنے لگی۔ اس روشنی میں وہ لڑکا واضح ہونے لگا تھا۔ اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔
”معاذ۔۔!!“
اس کے لب بہت ہولے سے پھڑپھڑاۓ تھے لیکن پھر بھی لڑکے نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ سرمٸ اور کتھٸ سا ارتکاز گڈمڈ ہونے لگا۔۔ خواب کیا تھا اور حقیقت کیا۔۔ کچھ سجھاٸ نہ دیتا تھا۔
”میں تمہیں پہچان نہیں پارہی معاذ۔۔ تم میرے بیٹے نہیں ہو۔۔“
اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑیں اور وہاں سے اٹھ آیا۔ رابیل کی آنکھ بے ساختہ کھلی تھی۔ اس نے گھبرا کر چہرہ اٹھایا۔ آس پاس بے یقینی سے دیکھا۔ یہاں نہ معاذ تھا اور نہ وہ کہف۔۔ اس کا کمرہ خاموشی سے اسے تک رہا تھا۔ اسے اپنے چہرے پر کچھ محسوس ہوا تھا۔۔ کچھ گیلا سا۔۔ چونک کر اپنے رخساروں کو چھوتے اسے احساس ہوا کہ وہ رورہی تھی۔ اس نے حیرت سے انگلی کے پوروں پر جمے آنسو کے ننھے قطرے کو دیکھا۔ پھر جلدی سے بالوں کو سمیٹ کر کرسی سے اٹھی۔ اس کا دل بے حد گھبرا رہا تھا۔ سینہ گھٹ رہا تھا۔ خواب حقیقت سے زیادہ بھاری اور بھیانک ہوا کرتے ہیں۔۔ اس کا اندازہ اسے پہلے ہی ہوچکا تھا۔
وہ واپس پلٹا تو شدید بارش ہورہی تھی۔ اس نے تھکے قدم اندر کی جانب بڑھاۓ تو دیکھا وقار خاموشی سے لاٶنج ہی میں براجمان تھے۔ لاٶنج کی ساری بتیاں گل تھیں۔۔ آج ان بتیوں کو کسی نے روشن نہیں کیا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر خاموشی سے وقار کے ساتھ سے گزر کر آگے بڑھنے لگا تھا کہ ان کی اجنبی سی آواز پر ٹھہر گیا۔
”کیا کیا تھا تم نے اس آدمی کے ساتھ۔۔۔؟“
وہ اپنی جگہ پر ہی ٹھہر گیا۔ پلٹ کر وقار کا سامنہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آۓ اور اسے اپنی جانب قوت سے پکڑ کر گھمایا۔ اس کی گیلی سی جیکٹ سے پانی کے بہت سے چھینٹے اڑے تھے۔ ماتھے پر بکھرے بال نم تھے۔
”اپنے آپ کو حبیبہ کا بیٹا کہتے ہو تم ہاں۔۔“
ایک زناٹے دار چانٹا اس کے رخسار پر پڑا تھا۔ وہ مردہ وجود لیۓ ہولے سے پیچھے کو لڑکھڑایا۔ نگاہیں اب بھی جھکی تھیں۔ وقار اس کی بے حسی پر آگے بڑھے۔ ایک اور تھپڑ اس کے رخسار پر رسید کیا۔
”چھوڑدو رابیل کو ابھی کے ابھی۔۔ قابل نہیں ہو تم اس نیک لڑکی کے۔ تم جیسے جانور کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکے گی وہ۔ مرجاۓ گی۔۔۔ دم گھٹ جاۓ گا اس کا تمہارے ساتھ۔۔ انسان کہتے ہو خود کو تم۔۔!!“
اسے پوری قوت سے دھکا دیا تو اسکی پشت بری طرح طویل ٹیبل سے جاٹکراٸ تھی۔ پیچھے رکھا کانچ کا شوپیس کرچی کرچی ہوگیا۔ اس نے بے دھیانی میں ہاتھ ٹیبل پر رکھا تو بہت سے کانچ ہاتھ میں کھب گۓ۔ تکلیف کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ خون کی بہت سی بوندیں اس کے ہتھیلی سے ٹپکنے لگی تھیں۔
”شرم آتی ہے مجھے تم جیسے حیوان کو اپنا بیٹا بولتے ہوۓ۔۔ حیرت ہوتی ہے کہ انسان بڑا کیا ہے میں نے یا جانور۔۔۔!“
وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ اس پر گرج رہے تھے۔ پھر تھک کر سر دونوں میں ہاتھوں میں گراۓ بے دم سے صوفے پر گر سے گۓ۔ اس کے سفید لب سختی سے آپس میں پیوست تھے۔ سینے میں اٹھتی تکلیف بڑھنے لگی تھی۔ اس نے قدم آگے بڑھاۓ اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ آسمان بری طرح گرج برس رہا تھا۔ اس نے جیبوں میں ہاتھ اڑسے اور سڑک پر گردن جھکاۓ تھکا ہارا سا چلنے لگا۔ اس کے جاتے ہی وقار نے جلدی سے اٹھ کر باہر کا دروازہ دیکھا تھا۔ دروازہ کھلا تھا اور معاذ جا چکا تھا۔
اسی پل کھلے دروازے سے رابیل اندر داخل ہوٸ تھی۔ چھتری تھامے وہ بھاگتی ہوٸ اسی طرف آرہی تھی۔ بارش اس قدر تیزی سے برس رہی تھی کہ کان پڑی آواز سناٸ نہ دیتی تھی۔
”تایا معاذ اندر ہے۔۔؟“
اس نے عجلت میں قریب آ کر پوچھا تھا۔
”نہیں۔۔ وہ۔۔ وہ چلا گیا۔۔“
”چلا گیا۔۔ لیکن کہاں۔۔؟“
اسے حیرت ہوٸ تھی۔ وقار نے کانپتے ہاتھوں سے آنکھیں رگڑیں۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رودیۓ۔۔
”میں نے اسے بہت برا بھلا کہا تو وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔ پتا نہیں کہاں گیا ہے۔۔ مجھے نہیں پتا رابیل۔۔“
اس نے بے چینی سے پلٹ کر دروازے کو دیکھا۔ پھر جلدی سے تایا کی جانب گھومی۔۔
”آپ پریشان مت ہوں تایا۔۔ میں جارہی ہوں اسے ڈھونڈنے۔۔ یہیں ہوگا کہاں جانا ہے اس نے۔۔ آپ اندر جاٸیں میں لاتی ہوں اسے۔۔“
بارش کے باعث قدرے بلند آواز سے بول کر وہ جلدی سے پلٹی۔ کھلے گیٹ سے نکلتے ہوۓ اس کا دل ایک ہی دعا کررہا تھا کہ وہ ٹھیک ہو۔ اسے کچھ ہو نہ گیا ہو۔ وہ کہیں چلا نہ گیا ہو۔ سڑک پر اندھا دھند بھاگتے ہوۓ وہ رک رک کر لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہر دفعہ وہ اس کے پیچھے آتا تھا، کبھی تو اسے بھی جانا چاہیۓ۔ اس نے چھتری سختی سے تھام رکھی تھی اور برستی بارش میں چھم چھم کرتی سڑک پر اسے وہ چلتا ہوا نظر آ ہی گیا۔ اتنی دور سے بھی وہ اسے پہچان گٸ تھی
بارش میں بھیگتے ہوۓ وہ تھکے قدموں سے سڑک عبور کررہا تھا۔ بے اختیار اس کے سر پر پڑتی بوچھاڑ تھمی تو اس نے حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہاں پر سیاہ چھتری تنی تھی۔ اس نے بے ساختہ اپنے ساتھ نگاہ ڈالی تو رابیل کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس کا سپاٹ پن لوٹ آیا تھا۔
”اتنی بارش میں تم باہر کیا کررہے ہو۔۔؟ منع کیا تھا ناں میں نے ہیرو بننے سے۔ لیکن نہیں۔۔ تمہیں تو کوٸ بات سمجھ آتی ہی نہیں ہے۔“
”کیوں آٸ ہو تم۔۔؟؟“
اس نے تیزی سے اس کی بات کاٹی تو رابیل کی زبان رکی۔ حیرت سے چہرہ اس کی جانب موڑا۔ برستی بارش میں سڑک کے کنارے پر وہ دونوں کھڑے تھے۔ سیاہ عباۓ میں ملبوس لڑکی چھتری تھامے دونوں کو بھیگنے سے بچا رہی تھی لیکن اس کے مقابل کھڑا لڑکا ساری دنیا سے خفا لگ رہا تھا۔
”کیا مطلب کیوں آٸ ہوں۔۔ تمہیں لینے آٸ ہوں۔۔ چلو بارش بہت تیز ہورہی ہے اور ٹھنڈ بھی زیادہ ہے۔ بیمار ہوجاٶ گے تم۔۔“
اس نے اسے کہنی سے پکڑ کر اپنے ساتھ چلنے کا کہا لیکن معاذ نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ رابی نے تحیر سے چونک کر سر اٹھایا تھا۔
”معاذ تم۔۔“
”چلی جاٶ۔۔“
تیز لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ چند پل تو کھڑی رہی پھر جلدی سے اسکے پیچھے آٸ۔ چھتری ایک بار پھر اس کے سر پر تانی۔۔ وہ ضبط سے آنکھیں بند کر کے رک گیا تھا۔
”رابیل میں نے کہا مجھے اکیلا چھوڑ دو اور جاٶ یہاں سے۔۔ سمجھ نہیں آتی تمہیں ایک دفعہ کی بات۔۔!!“
وہ اس پر چیخا تھا۔ زندگی میں پہلی بار۔ رابیل کی آنکھ سے پتا نہیں کیسے آنسو ٹوٹ کر گر پڑا۔
”تم ایسے کیوں۔۔“
”میں ایسا ہی ہوں۔۔ سمجھی تم۔۔ اب جاٶ یہاں سے۔۔“
سرمٸ سی سیاہ آنکھوں نے رابیل کو خوفزدہ کیا تھا لیکن وہ اسے ایسے چھوڑ کر نہیں جاسکتی تھی۔
”نہیں جاٶنگی۔۔ کیا کرلوگے تم۔۔؟“
جی کڑا کر کہا۔ معاذ چند پل اسے دیکھتا رہا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا قریبی پارک میں لے آیا۔ وہ اس کے ساتھ کھنچی چلی جارہی تھی۔ پھر بینچ کے قریب لا کر اس نے اسکا ہاتھ چھوڑدیا۔ گہرے گہرے سانس لے کر خود پر قابو پانے لگا۔ رابیل لب دباۓ بمشکل آنسو روکے کھڑی تھی۔
”کیا چاہتی ہو تم۔۔؟“
”تم میرے ساتھ گھر چلو بس مجھے نہی۔۔“
”جانتی ہو کون ہوں میں۔۔؟“
اس نے اسے بازوٶں سے پکڑ کر اونچا کیا تھا۔ گیلی آنکھیں اس پر جماۓ وہ دانت جماۓ پوچھ رہا تھا۔ اس قدر سختی سے کہ رابیل کا نرم دل لرزنے لگا۔ ہاتھ میں پکڑی چھتری لڑھک کر ایک جانب ہوگٸ۔
”حیوان ہوں۔۔ لوگ جانور کہتے ہیں مجھے۔۔ ایسے انسان کی فکر ہے تمہیں۔۔!! بولو۔۔ ایسے انسان کی پرواہ کرتی ہو تم۔۔ “
اس نے ایک بار پھر اسے جھٹکا دے کر خود سے قریب کیا تھا۔
”انسانوں کی زندگیاں تباہ کرتا رہا ہوں میں۔ ساری زندگی بھی چاہوں تو اس سیاہ گلٹ سے نہیں نکل سکتا۔۔ ساری زندگی اس عذاب سے آزاد نہیں ہوسکتا میں اور تم۔۔ تمہیں میری فکر ہے۔۔ مرنے دو مجھے۔۔“
”ہاں تو مجھے بتاٶ کہ تم نے ان انسانوں کی زندگیاں کیوں تباہ کی تھیں۔۔؟ مجھے بتاٶ وہ کیا احساس تھا جس نے تمہیں حیوان بننے پر مجبور کیا۔۔ مجھے بتاٶ۔۔ میں تمہیں جج نہیں کرونگی۔۔ یوں خود کو تکلیف مت دو معاذ۔۔ ایسے مت کرو۔۔“
اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ یہ لڑکی آخر کیسے بے بس کردیتی تھی اسے۔ اس کی آنکھ سے باوجود ضبط کے ایک آنسو لڑھکا تھا۔ اس برستی بارش میں بھی رابیل نے اس کی آنکھ سے گرتا وہ آنسو پہچان لیا تھا۔ ہولے سے لرزتا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے گیلے چہرے کو صاف کیا۔
”کیا کررہی ہو تم یہ۔۔؟“
وہ بے بس ہونے لگا تھا۔ رابیل کی آنکھوں سے متواتر آنسو گرنے لگے۔
”لوگوں نے تمہیں بہت آنسو دیۓ ہیں۔ میں ان آنسوٶں کو سمیٹ رہی ہوں۔ میں آخر تک انہیں سمیٹنا چاہتی ہوں۔ میں تمہیں، تمہارے سیاہ اور سفید کے ساتھ قبول کرچکی ہوں معاذ۔۔ میرے لیۓ اور کچھ اہم نہیں۔۔ میرے لیۓ کسی کا کوٸ بیان معنی نہیں رکھتا۔۔“
”تمہارے لیۓ سب کا بیان معنی رکھنا چاہیۓ رابیل۔ دنیا کی عدالتوں سے بچ بھی گیا تو اس عدالت سے کبھی نہیں بچ سکونگا جس کا منصف، انصاف کے علاوہ کسی بات کا سودا نہیں کرتا۔ میں تمہاری زندگی برباد نہیں کرنا چاہتا۔ چلی جاٶ۔۔ “
اس نے اسے نرمی سے چھوڑ دیا تھا۔ پھر پلٹ گیا۔ رابیل نے چھتری پھینکی اور اسکے پیچھے بھاگی۔ اس کی جیکٹ کی آستین پکڑ کر اسے اپنی جانب گھمایا۔۔
”کہف کی تاریک دیواروں کے درمیان صرف تم نہیں تھے۔ میں بھی وہیں موجود تھی۔۔“
اس نے لمحے بھر کو حیرت سے رک اسے دیکھا تھا۔ بارش اب کہ تھمنے لگی تھی۔ گو کہ ہلکی ہلکی بوچھاڑ اب بھی جاری تھی لیکن پچھلا زور ٹوٹ چکا تھا۔
”میں جانتی ہوں کہ تم بھی میری طرح اس کہف کا خواب دیکھتے ہو۔ میں جانتی ہوں کہ تم اس کہف میں خود کو ہمیشہ روتا ہوا دیکھتے ہو لیکن معاذ کیا تم جانتے ہو کہ آج اس کہف میں تم تنہا نہیں تھے۔۔!“
وہ اپنی جگہ ساکت ہوا اس کی بات سن رہا تھا۔
”تمہیں کیسے پتا کہ میں۔۔“
”اور تم ہمیشہ اس خواب کے بعد روتے ہوۓ اٹھتے ہو۔۔ بولو۔۔ کیا نہیں ہے ایسا۔۔؟“
اس کے لب ادھ کھلے تھے۔۔ اور آنکھیں بے یقینی سے وا تھیں۔۔ رابیل کے انکشاف نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کیونکہ اپنے اس خواب کے بارے میں اس نے کبھی کسی سے کوٸ بات نہیں کی تھی۔۔ یہاں تک کہ بابا سے بھی نہیں۔۔
”آج اس خواب میں، میں بھی تھی معاذ۔۔ اور ہم دونوں۔۔ ہم دونوں اس تاریکی کا حصہ تھے۔۔ اور اس خواب سے جاگنے کے بعد میں رورہی تھی۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں اب تمہیں چھوڑ سکتی ہوں۔۔؟“
برستی بارش اب کہ باریک قطروں میں بدل گٸ تھی۔ دو نفوس ساکت ہوۓ ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔ کہف کی دیواریں آس پاس کھڑی ہونے لگیں۔ مدھم روشنی فضا میں گھلنے لگی۔۔ منظر بدلنے لگا۔ تو وہ کہف میں تنہا نہیں تھا۔ رابیل اس کے کہف کی ساتھی تھی۔ وہ اسے خود سے چاہ کر بھی الگ نہیں کرسکتا تھا۔ کیونکہ اس کا ساتھ کہیں اوپر طے کیا گیا تھا۔ یہ اس کے بس سے باہر کی بات تھی۔ وہ لڑکی تو اس کے تاریک خوابوں کا حصہ بنتی جارہی تھی۔ کیا اب وہ اسے خود سے جدا کرسکتا تھا۔۔؟؟
آسمان سے برستی بارش میں وہ دونوں اب تک کھڑے تھے۔ خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے۔۔ وہ کیا کہہ کر اسے خود سے دور کرتا۔۔ لفظ سمٹ گۓ تھے، صرف کہف کی دیواریں بول رہی تھیں۔۔ ادھورا خواب پورا ہونے لگا تھا۔ مدھم روشنی بکھرنے لگی تھی۔ ایک اپنا سب کچھ گنوا کر اس کہف میں پناہ لیۓ ہوۓ تھا تو دوسرا۔۔ دوسرا اپنا سب کچھ لٹنے سے بچانے کے لیۓ اس کی پناہ میں تھا۔۔
اور اب تو یہ رب ہی جانتا تھا کہ ان کا ساتھ اس طویل کہف تک تھا یا پھر اس کہف سے باہر کی زندگی تک۔۔ کیونکہ۔۔ جانتے ہیں کیا۔۔ نیند پوری ہونے کے بعد۔۔ نوجوان کچھ لمحات تک زندہ رہے اور پھر جب نشانی مکمل ہوگٸ۔۔ حجت کا اتمام ہوگیا۔۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی نیند سے کبھی نہیں اٹھے۔۔! کون جانے کے یہ نفوس بھی کہف تک زندہ رہنے والے تھے۔۔ لیکن کون جانے۔۔!! موت اور زندگی کے فیصلے کرنے والا تو وہ رب ذولجلال تھا۔۔ انہیں بھی اس کے فیصلوں تک زندہ رہنا تھا۔۔!
