#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
از_رابعہ_خان
نویں_قسط
اب کے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے اس کا دم نہیں گھٹ رہا تھا۔ ناں ہی دل تنگ ہورہا تھا اور ناں ہی اب کہ وہ ہونٹوں کو سکیڑ کر اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔ اب کہ اس کا دل پرسکون تھا، سانسیں ہموار تھیں اور آنکھوں میں بکھری نمی فطری سی تھی۔ اس نے ایک نگاہ پھیر کر معاذ کو دیکھا۔ وہ مکمل طور پر ڈراٸیونگ کی جانب متوجہ تھا۔ اس کے ماتھے پر گرے سیاہ بال، کھڑکی سے اندر گرتی ہوا سے ہولے ہولے پھڑپھڑا رہے تھے۔ رابیل کی نگاہیں اس کے اسٹیرنگ کو پکڑے ہاتھوں پر پھسلیں۔ اس کے ہاتھ محنت کرنے کے عادی لگتے تھے۔ دور سے دیکھنے پر بھی صاف نظر آتا تھا کہ وہ ہاتھ سخت اور مضبوط تھے۔
اسے بے اختیار ارحم کے ہاتھ یاد آۓ۔ اس کے ہاتھ نرم تھے۔۔ نرم اور محنت سے عاری۔۔
دھیرے دھیرے اس کی نگاہیں واپس اس کے چہرے پر پلٹی تھیں۔ پرکشش نقوش لیۓ، وہ اکھڑا سا بندہ کب اس کے دل میں اترا۔۔ اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔
ہوا کے ایک سرسراتے جھونکے سے اس کے ماتھے پر گرے بال لمحے بھر کو لہراۓ، تو رابیل کا دل کیا ہاتھ ہلکے سے بڑھا کر اسکی پیشانی کو ان بالوں سے آزادی دلوادے۔ لیکن اگلے ہی پل اس نے بے ساختہ اپنی اس سوچ پر لب کاٹے تھے۔
"اگر مجھے دیکھنے سے فرصت مل گٸ ہو تو ایک بات پوچھوں۔۔؟"
اور رابیل نے گڑبڑا کر رخ جلدی سے کھڑکی کی جانب پھیرا تھا۔ پلکیں تیزی سے جھپکاٸیں۔ اسے کیسے پتا چل گیا۔۔!
"م۔۔ میں تمہیں نہیں دیکھ رہی تھی۔۔"
"پھر۔۔۔؟"
اس نے آرام سے پوچھ کر موڑ کاٹا۔ رابیل نے ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنسا رکھی تھیں۔ اپنی چوری پکڑی جانے پر لمحے بھر کو آنکھیں بھی میچی تھیں اس نے۔
"میں تمہارے دوسری طرف دیکھ رہی تھی۔۔"
گہرا سانس لے کر مزے سے کہا۔ دل اب تک دھک دھک کررہا تھا۔ معاذ نے ایک۔۔ بس ایک نگاہ ڈالی تھی اس پر۔ اف۔۔ اور وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے دوسری طرف ہرگز بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔
"پھر کیا دیکھا تم نے میرے دوسری طرف۔۔؟"
"ہاں۔۔ وہ ۔۔ وہ میں نے ۔۔"
"رابیل تمہیں پتا ہے تمہیں جھوٹ بولنا بالکل بھی نہیں آتا ہے۔ "
"میں جھوٹ نہیں بول رہی۔۔"
یکدم برا مان کر کہا تو معاذ نے ایک بار پھر سے اس پر نگاہ ڈالی۔ پھر سمجھ کر سر ہلایا۔۔
"اچھا ٹھیک ہے، دیکھ سکتی ہو تم جتنا بھی دیکھنا ہے۔ مجھے کوٸ مسٸلہ نہیں ہے۔۔"
اور رابیل کو اس سیاہی میں بھی پتا تھا کہ اس کے گلابی رخسار مزید گلاب رنگ ہوگۓ ہیں۔ ایک چور نگاہ اس بدتمیز پر ڈال کر اس نے گہرا سانس لیا۔ کچھ بھی بول دیتا تھا۔۔ کوٸ بات مسٸلہ ہی نہیں تھی اس کے لیۓ۔۔
"تم کیا پوچھنے والے تھے مجھ سے۔۔؟"
جلدی سے سوال کیا۔ فی الحال ایک ہی طریقہ تھا اپنی جھینپ مٹانے کا۔ وہ کچھ دیر تک تو خاموش رہا پھر گہرا سانس لے کر آنکھیں سکیڑیں۔
"ارحم ردا اور شزا سے کتنا بے تکلف ہے۔۔؟"
اور اس کے ایسے غیر متوقع سوال پر اس نے حیران ہو کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اسی سکون کے ساتھ ڈراٸیو کررہا تھا۔
"تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔؟"
"ویسے ہی۔۔"
"کوٸ بھی ایسے ویسے کسی سے کچھ نہیں پوچھتا۔ مجھے بتاٶ۔۔ کیا دیکھا ہے تم نے۔۔؟"
اس کے اس سوال پر معاذ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ اسے شاید اس سے اتنے جارہانہ انداز کی توقع نہیں تھی۔
"کچھ نہیں دیکھا ہے میں نے۔ ویسے ہی پوچھ رہا ہوں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ دونوں کی نیچر کس طرح کی ہے۔ تمہاری طرح بیوقوف ہیں یا پھر کچھ عقل ہے ان میں۔۔"
واضح طور پر مسکراہٹ دبا کر کہا تھا اس نے۔ رابیل نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔
"ضروری ہے کہ تم ہمیشہ مجھے غصہ ہی دلاٶ گے۔۔! میں انکی بڑی بہن ہوں تو ظاہر ہے میں ان سے زیادہ عقل مند بھی ہونگی۔ اپنے دماغ سے اس خناس کو نکال دو کہ میں بیوقوف ہوں۔ میں عقل مند ہوں۔۔ اور۔۔ اور بہت زیادہ ہوں۔۔"
اپنی آخری بات پر تو اسے خود بھی یقین نہیں تھا لیکن اس کے سامنے خود کو بیوقوف تسلیم کرنا اس کی انا کے خلاف تھا۔ اسی لیۓ جی کڑا کر، مزے سے مبالغہ آراٸ سے کام لیا تھا اس نے۔
"میں دیکھ رہا ہوں کہ تم پہلے ایسی نہیں تھیں۔۔"
معاذ کو اچانک ہی ایک گہرے قسم کے افسوس نے گھیرا تھا۔
"میں ہمیشہ سے ایسی ہی تھی لیکن تم مجھے ابھی جانتے نہیں ہو۔ ابھی تمہیں پتا ہی کیا ہے رابیل عابد کے بارے میں۔"
ناک سے مکھی اڑا کر کہا تو، معاذ یکدم ہنس پڑا۔ رابیل نے چونک کر دیکھا تھا اسے۔ بہت کم ہنستا تھا وہ ایسے۔ اور جب ہنستا تھا ناں تو۔۔ اس نے فوراً سر جھٹکا۔۔
"ہنس کیوں رہے ہو۔۔؟"
"ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا تھا مجھے۔۔"
"تم مجھے لطیفے سے تشبیہ دے رہے ہو۔۔؟"
تیوری چڑھا کر پوچھا۔ تو اس نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا۔
"میری یہ مجال۔۔"
رابیل اس کے اس قدر سعادت مندی سے کہنے پر لمحے بھر کو مسکراٸ تھی ۔ پھر ہاتھ باندھ کر رخ اس کی جانب پھیرا۔
"بالکل۔۔ مجال ہونی بھی نہیں چاہیۓ تمہاری۔ مجھے مکا مارنا نہیں آتا تو کیا ہوا۔۔ بال کھینچنے آتے ہیں مجھے۔۔"
"او ہو۔۔ اتنا پسند کرتی ہو تم مجھے۔۔ کہ میری وجہ سے اپنے بال کھینچ لوگی۔۔؟"
حیران ہو کر سوال کیا۔ اف۔۔ رابیل کا دل کیا کچھ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔
"بالکل بھی پسند نہیں کرتی میں تمہیں۔ نکل آٶ ان خوش فہیوں سے۔"
"ہاں بالکل۔ جبھی میرے دوسری طرف کیا دیکھ رہی تھیں تمہیں نظر ہی نہیں آیا۔۔"
سمجھ کر سر ہلایا تھا اس نے۔ اس کے برجستہ جملوں نے رابیل کو لاجواب کیا تھا۔ روانی سے اسے جملے لوٹاتا ہوا وہ ہمیشہ اس کا ضبط آزمایا کرتا تھا۔
"خوش فہمی یہ بھی۔۔"
"غلط فہمی کیا ہے پھر۔۔؟"
"یہی کہ میں تمہیں پسند کرتی ہوں۔۔"
"کیا نہیں کرتیں۔۔؟"
"نہیں۔۔"
"اچھا۔۔ پھر جو مجھے لگا شاید وہ میرا وہم ہی ہوگا۔۔"
"کیا لگا تھا تمہیں۔۔"
ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا تھا۔ اسے معاذ کو سمجھنے کے لیۓ کسی اور طرح سے سوچنا ہوگا۔ ہر بات میں ذو معنی جملے بولتے ہوۓ وہ جانے کیا کیا کہہ جاتا تھا۔
"شاید اتفاق ہی ہو۔ چھوڑو اس بات کو۔۔"
اس نے کندھے اچکا کر کہا تو رابیل کی سنجیدہ نگاہیں اب کہ اس کے چہرے پر جم سی گٸیں۔ پھر وہ ہلکا سا مسکراٸ۔ معاذ نے ناسمجھی سے دیکھا تھا اس کی جانب۔۔
"اس دنیا میں اتفاق نام کی کوٸ چیز نہیں ہوتی معاذ احمد شعراوی۔۔ سب کچھ طے شدہ ہوتا ہے۔۔ پری پلینڈ۔۔"
"یہ کس کا ڈاٸیلاگ ہے۔۔؟"
اسے شک سا گزرا تھا۔ ایسی باتیں رابیل کو کرنے نہیں آتی تھیں، اتنا تو اسے پتا ہی تھا۔ لیکن دوسری جانب رابیل جو سیدھی ہو کر بیٹھ رہی تھی لمحے بھر کو ٹھہر گٸ۔ بے یقینی سے اسکی جانب دیکھا۔
"تمہیں نہیں پتا یہ کس کا ڈاٸیلاگ ہے۔۔؟"
معاذ نے ابرو اکھٹے کر کے لاعلمی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ پھر ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔
"تو تم نہیں جانتے کہ ولی احمد کون تھا۔۔؟ کیا واقعی۔۔!"
وہ اب تک بے یقین تھی۔ معاذ نے بیزار ہو کر گہرا سانس لیا تھا۔
"کون ولی احمد۔۔؟ میں نہیں جانتا۔۔"
"تم کتابیں نہیں پڑھتے کیا۔۔؟"
"نہیں۔۔"
اور لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے سمجھ آگیا تھا کہ رابیل کس کی بات کررہی تھی۔ سر نفی میں ہلا کر اس نے ایک بار پھر سے گہرا سانس لیا تھا۔ دوسری جانب اب کہ وہ اپنی پوری تیاری کررہی تھی اسے ولی احمد سے متعارف کروانے کی۔
"مجھے کوٸ شوق نہیں افسانوی کرداروں کی باتیں سننے کا۔۔"
اور وہ جو انگلی اٹھاۓ ابھی اسے کسی چھوٹے بچے کی طرح ولی احمد سے متعارف کروانے ہی لگی تھی، رک گٸ۔ کھلے لب بند کرلیۓ۔ لیکن پھر یکدم ہی اس کی آنکھوں میں شرارتی سی چمک لہراٸ تھی۔ بند لب پھر سے کھول لیۓ۔ اسے کیا لگا تھا کہ رابیل اتنی آسانی سے مان جاۓ گی۔ اوں ہوں۔۔
"جانتے ہو کیسا دکھتا تھا وہ۔۔ یہ لمبا، نسواری آنکھوں والا۔۔ ہاۓ۔۔ سنجیدگی سے ابرو اٹھا کر دیکھتا تھا ناں تو ساری لڑکیوں کے دل رک جایا کرتے تھے۔ تمہیں پتا ہے میرا کرش ہے ولی احمد۔۔ اتنا ہینڈسم اور اتنا پیارا بندہ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ وہ جس طرح اپنی محبت کی حفاظت کرتا تھا اور جیسے وہ اپنی بی بی کے ساتھ نرم رہتا تھا۔۔ اف۔۔ میں کیا کروں۔۔ مجھے ولی احمد چاہیۓ۔۔"
آخر میں افسوس سے ہلکی سے آواز میں کہا تو معاذ نے یکدم زور سے ہارن بجایا۔ وہ اس آواز پر اچھلی تھی۔ پھر چونک کر اس کی جانب دیکھا۔۔ اور اگلے ہی لمحے اس پر آشکار ہوا کہ وہ بے اختیار ہی جیلس ہوا تھا۔ مسکراہٹ دبا کر اس نے اب کے ذرا اس کی جانب جھک کر اسے دیکھا۔۔
"کیا تم مجھے کہیں سے ولی احمد لا کر دے سکتے ہو معاذ۔۔؟"
انتہاٸ معصوم آواز میں آنکھیں جھپکا کر پوچھا۔ معاذ نے ایک کڑوی نگاہ ڈالی تھی اس پر۔۔
"ہاں بالکل۔۔ کیوں نہیں۔۔ کہیں ملے تو سہی مجھے۔"
لیکن اس کا اگلا جملہ دھمکی آمیز تھا۔ (کہیں ملے تو سہی مجھے، گردن نہ مروڑ دی میں نے تو۔۔) اور رابیل۔۔ پیچھے ہو کر بے ساختہ ہنس دی تھی۔ منہ پر ہاتھ رکھے اب وہ کھڑکی کی جانب چہرہ پھیرے دل کھول کر ہنس رہی تھی۔
"بند کرو اب ہنسنا۔۔"
اسکی تنبیہ نے رابیل کو مزید ہنسنے پر مجبور کیا تھا۔ ہنس ہنس کر سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اس نے پلٹ کر معاذ کو دیکھا۔ وہ ویسے ہی خاموشی سے ڈراٸیو کررہا تھا۔ چہرے کے زاویے بگڑے بگڑے سے تھے۔ لیکن رابیل کی شرارت ابھی ختم نہیں ہوٸ تھی۔ ایک بار پھر سے اس کی جانب تھوڑا سا جھک کر بے حد ہلکی آواز میں کہا۔۔
"جانتے ہو معاذ۔۔ تم جیلس ہورہے ہو۔۔"
اس نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔ کتھٸ آنکھوں میں دنیا جہان کی معصومیت سمیٹے وہ اس سمے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
"جی نہیں۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں ایک افسانوی کردار سے جیلس ہونگا۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں اتنا غیر سنجیدہ انسان ہوں۔۔۔؟"
سوالیہ ابرو اٹھا کر اسے دیکھا تو رابیل نے بمشکل ہنسی روک کر، سادگی سے سر اثبات میں ہلایا۔
"کچھ بھی نہیں ہے ایسا۔۔"
"تمہارے کان بھی سرخ ہورہے ہیں۔۔"
لیکن وہ اسے نہیں سن رہی تھی۔ اپنی ہی کہے جارہی تھی۔
"میرے کان اس لیۓ سرخ ہیں کیونکہ میری دادی پٹھان تھیں۔ اور پٹھان لوگوں کے کان اکثر سرخ رہا کرتے ہیں۔۔"
"تمہاری سرمٸ آنکھوں میں جلن صاف نظر آرہی ہے۔۔ جانتے ہو۔۔"
اور اب کے بس اس نے ایک نگاہ رابیل پر ڈالی تھی۔ اس نے بے ساختہ ہاتھ اٹھاۓ۔۔
"اچھا۔۔ بس۔۔ بس اب نہیں۔۔"
لیکن یہ کہتے ہوۓ بھی وہ بمشکل ہنسی روک رہی تھی۔ اس نے چہرہ ہی سامنے پھیر لیا۔ اس پر غصہ بھی آرہا تھا اور پیار بھی۔ اسی لیۓ کوٸ بھی کمزوری دکھاۓ بغیر اس نے مزید کوٸ بات ہی نہیں کی۔
"ہم کہاں جارہے ہیں معاذ۔۔؟"
چند لمحوں بعد اب وہ انجان راستوں کو گردن گھما کر دیکھتی پوچھ رہی تھی۔ معاذ نے ایک صاف ستھری سی سوساٸٹی میں موڑ کاٹا اور پھر ایک گھر کے سامنے گاڑی روک کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
"ملوانا ہے تمہیں کسی سے۔۔"
اب وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل رہا تھا۔ اس نے حیرت سے اسے اپنی جانب کا دروازہ کھولتے دیکھا۔
"کس سے ملوانا ہے مجھے۔۔؟"
"ہیں کوٸ۔۔ آجاٶ۔۔"
گاڑی کی چابی جیب میں اڑس کر وہ آگے بڑھا تو رابیل نے بھی قدم اس کے پیچھے بڑھادیۓ۔ بڑے گیٹ کا چھوٹا سا دروازہ اندر کی جانب کھلتا تھا۔ اس نے گھر کے اندر قدم رکھا اور پھر آس پاس پھیلے باغ کو دیکھ کر حیران رہ گٸ۔ وہ پرانے طرز کا بنا گھر تھا۔ گیٹ سے لے کر داخلی دروازے تک پتھریلی سی روش پر بہت سے زرد پتے بکھرے پڑے تھے۔ اس نے قدم آگے بڑھادیۓ۔ معاذ اب، داخلی دروازے سے اندر جارہا تھا۔ وہ بھی جلدی سے اس کے ساتھ آ ملی۔ حیرت سے گردن گھما کر وہ اس گھر کو بھی دیکھتی جارہی تھی۔ جانے کیوں۔۔ لیکن اس گھر سے اسے عجیب سی سکینت کی خوشبو آرہی تھی۔ اب کہ وہ لاٶنج میں چلے آۓ تھے۔ لاٶنج خالی پڑا تھا۔ باہر کی خنکی، یہاں کی نرم گرم سی آغوش میں گھل کر ختم ہوگٸ تھی۔
صاف ستھرے سے لاٶنج میں دیوار کے ساتھ لگی طویل میز پر قرآن کے بیشتر نسخے رکھے ہوۓ تھے۔ ایک جانب صوفوں کے ساتھ ہی سبز مخملی سا جاۓ نماز بھی بچھا ہوا تھا۔ اس نے حیرت سے پلٹ کر معاذ کا چہرہ دیکھا لیکن اب وہ آرام دہ سے انداز میں صوفے پر بیٹھ رہا تھا۔
"سلویٰ۔۔ سلویٰ کہاں ہیں آپ۔۔؟"
اور اسی پہر، کمرے کے کھلے دروازے سے کوٸ وجود باہر نکل رہا تھا۔ سبز مخملی جاۓ نماز جیسے رنگ کا جوڑا زیب تن کیۓ، چہرے کے گرد دوپٹہ لپیٹے وہ کوٸ بہت خوبصورت سی لڑکی تھی۔ رابیل کی آنکھیں اسے دیکھتے ہی پھیل گٸ تھیں۔۔ یوں لگتا تھا گویا اس کے سامنے حبیبہ کھڑی ہوں۔ چند لمحے لاٶنج میں سناٹا چھا گیا تھا۔
"آ۔۔ آپ۔۔۔!"
"ہاں میں۔۔ میں معاذ کی خالہ ہوں۔ سلویٰ انصاری۔۔ آٶ ناں رابی۔۔ وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔؟"
"خ۔۔ خالہ۔۔!"
اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا۔ اس قدر مماثلت پر اس کے حواس گنگ ہوگۓ تھے۔ معاذ نے بھی ایک پل کو گردن پھیر کر اسے دیکھا تھا۔
"ہاں۔۔"
وہ مسکرا کر پاس چلی آٸیں۔ اس کا ہاتھ تھاما۔۔ رابیل نے آج سے پہلے کبھی اتنا نرم ہاتھ نہیں چھوا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا اس نے مخملی سا یخ لباس چھو لیا ہو۔
"آٶ ناں۔"
اب وہ سے ہاتھ سے تھامے لاٶنج میں رکھے صوفوں کی جانب لارہی تھیں۔ وہ سن ہوٸ بنا کوٸ تاثر دیۓ ان کے ساتھ کھنچی چلی آٸ۔ اس گھر سے آتی سکینت کی خوشبو اب کچھ اور گہری ہوچلی تھی۔ محض یہ خیال کہ وہ قرآن پڑھنے والوں کا گھر تھا، قرآن کے ساتھ زندہ رہنے والوں کا آشیانہ تھا، قرآن کے ساتھ سانس لینے والوں کا ٹھکانہ تھا، محض اس ایک خیال نے اس کا دل رعب سے بھر دیا تھا۔ محض اس ایک خیال نے اس کی رگوں میں دوڑتے لہو کو مزید گرم کردیا تھا۔ اسے ہمیشہ قرآن پڑھنے والوں اور قرآن کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے ساتھ سے ہی اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوتے تھے۔ کیا لوگ ہونگے وہ جو اس قرآن کی آیتوں کی گردان کرتے ہوۓ اپنے دن رات گزارتے ہونگے، آخر کیا لوگ ہونگے وہ جو اللہ سے بات کرنے کا طریقہ جانتے ہونگے، اللہ کی عظمت کا علم رکھتے ہونگے۔ ایسے لوگ بلاشبہ عام لوگ نہیں تھے۔ وہ بھی اب ان عام لوگوں میں سے نہیں رہی تھی۔ وہ بھی اب قرآن والی تھی۔ اور اس قرآن کی بھاری ذمہ داری کو محسوس کرتے بے ساختہ ہی اس کے کندھے بھاری ہوچلے تھے۔ دل یکدم بوجھل ہوگیا تھا۔
"کیسی ہو۔۔؟ "
وہ اب محبت سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کیۓ اس پر اپنی سبز آنکھیں جماۓ، پوچھ رہی تھیں۔ اسے جواب دینے میں ذرا وقت لگا۔
"میں ٹھیک۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔؟"
" میں بالکل ٹھیک ٹھاک۔ معاذ نے مجھے صبح ہی بتایا تھا کہ وہ تمہیں لے کر آۓ گا مجھ سے ملوانے۔ لیکن اس نے مجھے کوٸ وقت نہیں بتایا تھا اسی لیۓ میں سارا دن تم لوگوں کا انتظار کرتی رہی۔ فاٸنلی رات کے اس پہر وہ تمہیں لے ہی آیا۔۔"
ساتھ ایک خفا نگاہ معاذ پر بھی ڈالی۔ صبح کا بول کر وہ اسے رات میں لے کر آرہا تھا۔ اور افسوس تو یہ تھا کہ اسے کسی بات کا افسوس بھی نہیں تھا۔ ڈھیٹوں کے سردار کی اعلیٰ مثال بنے، دونوں ہاتھوں کو صوفے کی پشت پر پھیلا کر بیٹھے وہ واقعی معاذ ہی لگ رہا تھا۔ سلویٰ نے برا سا منہ بنا کر اسے دیکھا اور پھر رابیل تک سفر کرتے ہی ان کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ بکھر گٸ۔
"معاذ نے مجھے بتایا کہ تم قرآن کی طالبہ ہو۔۔"
اب وہ مسکرا کر گرم جوشی سے پوچھ رہی تھیں۔ رابیل ان کے ایسے انداز پر لمحے بھر کو مسکراٸ تھی۔
"جی میں قرآن کی طالبہ ہوں۔ اور آپ۔۔؟"
اس کے یکدم پوچھ لینے پر وہ بے ساختہ ہنس دی تھیں۔ کتنی پیاری لگتی تھیں وہ ہنستے ہوۓ۔ رابیل آنکھیں پھیلاۓ ان کی پاکیزہ سی خوبصورتی کو دیکھے گٸ۔
"میں قرآن کی استاذہ ہوں۔ مجھے پتا نہیں کیوں لگ رہا ہے کہ ہماری آگے ٹھیک ٹھاک جمنے والی ہے۔ یہ معاذ۔۔ اس سے تو میری کبھی بنی نہیں۔ کیونکہ اسے ہمیشہ میری باتوں سے ایلرجی ہوجاتی ہے اسی لیۓ اب ہم اسے دیکھیں گے بھی نہیں۔ ہم خوب انجواۓ کریں گے ایک دوسرے کی کمپنی۔۔"
رابیل نے بے ساختہ ہنس کر ساتھ ہی بیٹھے معاذ پر نگاہ ڈالی تھی۔ اور وہ ایسی نگاہ تھی کہ معاذ مسکراۓ بغیر رہ ہی نہ سکا۔
"بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔ میری بھی اس سے کچھ خاص نہیں بنتی۔ ہر وقت پتا نہیں کیوں سڑتا ہی رہا ہے یہ۔ مجھے تو نہیں پسند بالکل بھی۔ اب ہم واقعی اسے نہیں دیکھیں گے۔ ہم خوب انجواۓ کریں گے۔۔"
"میرا خیال ہے میں یہاں سے چلا ہی جاتا ہوں۔۔"
وہ یکدم اٹھ کھڑا ہوا تو بیک وقت دونوں لڑکیوں نے اسے گردن اٹھا کر دیکھا۔
"کہاں جارہے ہو تم۔۔؟"
"ویسے تو آپ دونوں کو میں کچھ خاص پسند نہیں لیکن خیر۔۔ کچھ تناول فرمانا پسند کریں گی آپ دونوں۔۔؟"
اسے یوں خالی خولی سا بیٹھ کر بیزاریت ہونے لگی تھی۔ سلویٰ اور رابیل کی آنکھیں بے ساختہ چمکی تھیں۔
"کیوں نہیں۔۔ جو بھی بناٶ ہم دونوں کو مت بھولنا اور خبردار جو تم نے ہمیں ڈسٹرب کرنے کی کوشش کی تو۔۔"
اس نے گہرا سانس لیا اور کچن کی جانب چلا آیا۔ اس کے جاتے ہی سلویٰ اور رابیل نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ پھر سلویٰ نے ہولے سے اس کا ہاتھ تھپکا۔ وہ ان کے یوں تھپکنے پر چونکی تھی۔
"کیسی ہو۔۔۔؟"
"میں ٹھی۔۔"
"حجاب، قرآن، نماز۔۔۔ میں جانتی ہوں یہ سب باتیں تمہیں ٹف ٹاٸ دے رہی ہیں۔ تمہاری آنکھوں سے لگ رہا ہے کہ کچھ وقت پہلے ہی بہت رو کر آٸ ہو تم۔ مجھے بتایا تھا معاذ نے تمہارے بارے میں۔ اور یقین کرو تب سے ہی تمہارا انتظار کررہی تھی میں۔ تمہارے اور معاذ کے نکاح میں تو نہیں شرکت کی میں نے لیکن تم دونوں کے لیۓ خوش بہت ہوں میں۔ وہ ٹھہرا صدا کا اکھڑ اور تم۔۔"
اس کی ٹھوڑی کو پیار سے چھوا۔۔
"تم ہر دل میں گھر کرنے کا سا ہنر رکھنے والی۔"
رابیل ان کی باتوں پر لمحہ بہ لمحہ حیران ہورہی تھی۔ دل پر جما ہر بوجھ جیسے پانی بن کر بہنے لگا تھا۔
"آ۔۔ آپ کو کیسے پتا کہ میں۔۔"
"پتا ہے۔۔ آنکھوں کی چمک بتادیتی ہے رابیل۔۔ کہ یہ خوشی کی نمی ہے یا تکلیف کی۔۔ اور شاید اسی لیۓ بھی پتا چل گیا کیونکہ ایک لمبے عرصے تک میں بھی یوں کمروں کے دروازے بند کرکے رویا کرتی تھی۔ مجھے پتا ہے کہ رونے کے بعد آنکھیں کس قسم کا منظر پیش کررہی ہوتی ہیں۔ "
"آپ شروع سے ایسی نہیں ہیں۔۔؟ حبیبہ تاٸ تو اپنے آباٸ گھر سے ہی اسلام سے بہت قریب تھیں۔ پھر آپ کو کس مخالفت کا سامنہ تھا۔۔؟"
اسے لمحے بھر کو حیرت ہوٸ تھی۔ کیا اس گھر میں تحلیل سکینت کی خوشبو شروع سے ہی یہاں نہیں تھی۔۔؟ کیا اس خوشبو کو اس ماحول کا حصہ بنانے کے لیۓ سلویٰ نے اپنی جان ماری تھی۔۔؟ کیا کہف کا کوٸ اور رخ ابھی اسے دکھایا جانا باقی تھا۔
"مجھے۔۔"
وہ لمحے بھر کو مسکراٸ تھیں۔ اس مسکراہٹ میں کچھ ٹوٹے کانچ سا تھا۔۔ کچھ بہت تکلیف دہ۔۔
"مجھے خود کی مخالفت کا سامنہ تھا۔ ابھی بھی ہے۔۔ ساری زندگی رہے گا۔۔ ساری زندگی جنگ لڑنی ہے میں نے۔۔ باہر کی مخالفت کا رخ بدل جاتا ہے رابیل۔۔ انسان کی اپنی مخالفت کا رخ قبر کی مٹی تک نہیں بدلتا۔۔"
آخر میں معاذ کی طرح ہی کندھے اچکاۓ لیکن رابیل نہیں مسکرا سکی۔ اس پر جیسے بہت کچھ چند ہی لمحوں میں آشکار ہوگیا تھا۔ ان کے نرم سے ہاتھوں میں قید اپنا ہاتھ اب یخ ہاتھوں میں قید لگ رہا تھا۔ انسان کی اپنی مخالفت سے بڑی کوٸ مخالفت نہیں ہوا کرتی۔ ہو ہی نہیں سکتی۔۔
"آپ نے بھی ایک سخت وقت گزارا ہے مطلب۔۔"
"ہاں۔۔ گزارا تو ہے۔۔ بہت تکلیف دہ وقت گزارا ہے۔۔ لیکن ان آنسوٶں کا، تکالیف کا ثمر بہت میٹھا ہے۔ بہت پرسکون، مطمٸن اور دلوں کو راحت بخشنے والا ہے۔ اب لگتا ہے کہ میں نے خود کو ضاٸع نہیں کیا۔۔"
"اور اس احساس سے زیادہ اب آپ کے لیۓ کچھ بھی قیمتی نہیں ہے ناں۔۔؟"
اپنے ازلی پیارے سے انداز میں پوچھتے ہوۓ وہ سلویٰ کو مسکرانے پر مجبور کر گٸ تھی۔
"اور قیمتی احساسات انسان کی جان سینچ کر اس کے وجود کا حصہ بنتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہمیں اس تکلیف کا احساس رہتا ہے لیکن میں نے اللہ کی کتاب پڑھنے والوں کو کہتے سنا ہے کہ جنت میں داخل ہوتے ہی انسان اس دنیا کی ہر تکلیف بھول جاۓ گا۔ میں بس اس داخلے کی منتظر ہوں۔۔ مجھے یقین ہے کہ اس دروازے کو پار کرتے ہی میری ہر تکلیف، خوشی میں بدلنے والی ہے۔"
رابیل کی آنکھوں میں بے ساختہ کچھ پگھل کر گرا تھا۔ اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیا بنتا جارہا ہے۔ انسان کی بیٹھک اس کا عکس ہوتی ہے۔ اسے بھی اس کا عکس نظر آنے لگا تھا۔
"کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں کبھی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکونگی۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں کہیں درمیان ہی میں اپنا ساتھ چھوڑ دونگی۔ مجھے کبھی کبھی بہت ڈر لگتا ہے سلویٰ۔۔"
اس کے منہ سے سلویٰ نکلا اور یہی طے پاگیا۔ جو وہ معاذ کے لیۓ تھیں اب وہی اس کے لیۓ بھی تھیں۔
"مومن کی زندگی خوف اور امید سے عبارت ہوتی ہے رابیل۔ یہ احساس اس بات پر گواہی ہے کہ تم وہاں تک پہنچنے کے لیۓ ہر دن خود کو مارتی ہو۔ اللہ تمہاری کوشش دیکھے گا۔ کوشش کرنے والے، پالینے والے ہوتے ہیں۔"
وہ ان کی بات پر مسکراٸ تھی۔ پھر کتھٸ سی چمکتی نمی سمیت انہیں دیکھا۔
"آپ واقعی قرآن کی استاذہ ہیں۔ مجھے کوٸ شک نہیں اب اس بات میں۔۔"
وہ اس کی بات پر ہنسی تھیں۔
"ایسا کیوں لگا تمہیں۔۔؟"
"میں اکثر سوچتی ہوں کہ سب قرآن والوں میں مشترکہ بات کیا ہوتی ہے۔۔؟ ایسا ان میں کیا ہوتا ہے کہ وہ کہیں بھی ہوں۔۔ دنیا کے کسی بھی ملک کا حصہ ہوں۔ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی گلیوں سے گزرنے والے ہوں۔۔ وہ ہمیشہ ایک جیسے کیسے ہوسکتے ہیں۔۔ جانتی ہیں۔۔ وہ ایک جیسے کیسے ہوسکتے ہیں۔۔؟"
سلویٰ کی آنکھیں اسی پر جمی تھیں۔
"وہ امید سے بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں۔ لیکن ان کی امید سے بھرپور شخصیت تاریک اوقات کی تاریکی میں بھی جگمگا رہی ہوتی ہے۔ میں جن لوگوں سے قرآن پڑھ رہی ہوں وہ بھی آپ جیسے ہیں اور اب مجھے سمجھ آیا کہ آپ سب۔۔ بلکہ ہم سب ایک جیسے کیسے ہیں۔۔ ہم سب امید والے لوگ ہیں۔۔ ہم مایوس ہو ہی نہیں سکتے۔۔"
اور اس نے پہلی بار سلویٰ کی سبز آنکھوں کو بہت باریک سی نمی میں ڈوبتے دیکھا تھا۔ مگر ان کے لب مسکرا رہے تھے۔ وہی امید اور خوف کے درمیان زندہ رہنے والا طرز زندگی۔۔!
"واقعی۔۔ ہم سب امید والے لوگ ہیں۔ ہم امید کو وجود میں لانے والے کے بندے ہیں۔ مایوسی ہمارے لیۓ کفر کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ہم امید والے ہیں۔ ہم قرآن والے ہیں۔۔"
اور اب کہ لاٶنج سے آتی وہ نرم گرم سی خوشبو مزید گہری ہوگٸ تھی۔ انسانی امید کی مٹھاس بھی اس پُرخنک سے وقت میں تحلیل ہونے لگی تھی۔ قدیم زمانوں کا کوٸ سحر تھا جو ہر سو بکھرنے لگا تھا۔ اور اس سحر کو اس جگہ کا احاطہ کرنے میں کتنا عرصہ لگا تھا۔۔ رابیل نے گہرا سانس لیا۔۔ وہ اب اندازہ کرسکتی تھی۔
اسی پہر اب وہ اٹھ کر اسے اپنے قرآنی نسخے دکھارہی تھیں۔ ان کے پاس ہر طرز کا قرآنی نسخہ موجود تھا۔ سادہ ترجمے والا، بنا ترجمے والا، بھاری تفاسیر، محض قرآنی حاشیہ۔۔ غرض یہ کہ ان کے پاس ہر طرح کا نسخہ اس بات کی دلیل تھی کہ وہ واقعی قرآن کی استاذہ تھیں۔
وہ اب رابیل کو مسکرا کر ہر قرآن کی خصوصیات سے آگاہ کررہی تھیں اور وہ بس نرم مسکراہٹ کے ساتھ ان سفید اوراق پر لکھے لفظوں کو چھو کر محسوس کررہی تھی۔ اس میٹھے سے سحر کی خوشبو اب کہ تیزی سے لاٶنج میں تحلیل ہونے لگی تھی۔۔
رات کے اس پہر وہ اقبال کے گھر سے واپس آٸ تھیں۔ رابی کے جانے کے بعد ماحول خاصہ آکورڈ ہوگیا تھا لیکن پھر بھی انہیں مجبوراً وہاں بیٹھ کر اپنی اور رابیل کی پوزیشن کلیٸر کرنی پڑی۔ ردا تو آتے ہی اپنے بیڈ میں گھس کر موباٸل چلانے میں مصروف ہوگٸ تھی لیکن دوسری جانب شزا اپنے گلے میں موجود باریک سی زنجیز کو دو انگلیوں سے چھوتے کسی گہری سوچ میں غرق نظر آرہی تھی۔
”تمہیں پتا ہے کہ تم اپنی بہن سے زیادہ خوبصورت ہو۔۔!“
ارحم کی بات پر اس نے چونک کر اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔ وہ کب اس کے پیچھے آکھڑا ہوا تھا اسے پتا نہ چل سکا۔ چونکی تو وہ تب جب اس کی آواز عقب سے ابھری۔ یہ اقبال کی مہندی والے دن کی کہانی تھی۔ اور شزا جو اس واقعے کے بعد بری طرح ارحم کے رویے سے الجھ گٸ تھی، کسی سے بھی اس کی بابت بات نہ کرسکی۔۔
”نہیں ارحم بھاٸ۔۔ رابیل ہم سب میں خوبصورت ہے۔ بس اسے ٹھیک سے خود کو کمپوز کرنا نہیں آتا۔ اگر وہ خود کا خیال رکھنا شروع کرے تو ہم سب سے خوبصورت لگے۔۔“
اس نے اسکے لہجے کی بھاری دھمک کے بعد بھی بہت سبھاٶ سے بات سنبھالی تھی لیکن ارحم کے تیور ٹھیک نہیں تھے۔ معنی خیزی سے مسکرا کر سر جھٹکا تو شزا کا دل عجیب ہونے لگا۔
”اس میں وہ بات نہیں ہے جو تم میں ہے۔ پتا ہے، آج میں اسے اور تمہیں دیکھ رہا تھا اور یقین کرو میں دنگ رہ گیا کہ تم اس کی بہن ہونے کے باجود بھی اس سے کس قدر مختلف ہو۔۔ اتنی مختلف کہ میری نگاہوں کا رخ تم پر بار بار پلٹ کر مجھے ڈسٹرب کررہا تھا۔۔ “
اس کا دل بے اختیار زور سے دھڑکا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ابھی دل باہر آگرے گا۔ اس کے لرزتے قدم لمحے بھر کو پیچھے ہوۓ تھے۔
”ایسی بات نہیں ہے ارحم بھ۔۔“
”اب بھاٸ بھاٸ مت بولا کرو یار۔۔ سوٹ نہیں کرتا تمہارے ساتھ۔۔ ایسے مجھے شرمندہ مت کرو۔۔“
اس نے یکدم اس کے چہرے پر آتی لٹ کو چھوا تو وہ بے اختیار تیزی سے پیچھے ہوٸ۔ اس کی پشت سنگھار آٸینے سے جا لگی تھی۔
”م۔۔ میں ابھی آتی ہوں ارحم بھاٸ۔۔ مجھے پھپھو بلارہی تھیں۔۔“
اور اگلے ہی لمحے ہوا کے تیز جھونکے سے بھی زیادہ تیزی سے وہ اسکے برابر سے نکلی تھی۔ قدم بری طرح لرز رہے تھے اور رگوں سے گویا کوٸ جان سینچنے لگا تھا۔ بھاگتے ہوۓ کمرے سے نکلتے وقت وہ سامنے سے آتے معاذ سے بری طرح ٹکراٸ تھی۔ اتنی زور سے کہ وہ پیچھے کی جانب جاگری۔ وہ اس کے یوں آناً فاناً ٹکرانے سے چونکا تھا اور پھر جیسے ہی اسے اٹھا کر کھڑا کیا تو وہ اس کے چہرے کو دیکھ کر لمحے بھر کو ٹھٹکا۔ اگلے ہی لمحے ہی اندر تک اترتی اسکی نگاہوں نے شزا سے اسکے پیچھے کمرے تک سفر کیا۔ اس کا چہرہ معاذ کی نگاہوں سے بے اختیار ہی سفید پڑ گیا تھا۔
”شزا ٹھیک ہو۔۔؟ کیا ہوا۔۔؟“
اس کی نگاہوں کے برعکس اس کا لہجہ سادہ سا تھا۔ مگر وہ نگاہیں۔۔ شزا کی گردن کے بال کھڑے ہونے لگے تھے۔ اس نے جلدی سے تھوک نگلا۔
”ک۔۔ کچھ نہیں معاذ بھاٸ۔۔ وہ۔۔ وہ پھپھو نے بلایا تھا تو وہیں جارہی ہوں۔۔ “
معاذ نے اس کے ہاتھ کو دیکھا جو خواہ مخواہ ہی بار بار اس کے بالوں کو چھو رہا تھا۔ مٹھیاں بھینچ کر کھولتی وہ اپنے آپ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کررہی تھی۔ خشک پڑتے لبوں پر زبان پر پھیرتے وہ بمشکل مسکراٸ تو معاذ اس کے سامنے سے ہٹ گیا۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی تو وہ دور تک اسے دیکھتا رہا۔ اسی پہر کمرے کا دروازہ کھلا تو اس نے چونک کر گردن اس جانب کو موڑی۔ ارحم اپنا کالر جھاڑتا ہوا کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔ اس کے ابرو حیرت سے اوپر کو اٹھے۔ وہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن اس پر دوسری کوٸ بھی نگاہ ڈالے بغیر آگے بڑھ گیا۔ اور بے ساختہ اس کی چھٹی حس اسے کچھ گڑبڑ ہونے کا عندیہ دینے لگی تھی۔ اس نے سکڑی آنکھوں کو دوبارہ اسی راستے پر ڈالا اور کچھ سوچتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
”شزا۔۔ شزا۔۔! کہاں گم ہو۔۔؟“
ردا کی کان پھاڑتی آواز پر وہ ماضی سے حال میں آٸ تھی۔ چونک کر سنگھار آٸینے میں ردا کا عکس دیکھا۔ اس کا دماغ اب بھی حاضر نہیں تھا۔ یہ ایک احساس کے معاذ۔۔ معاذ سب کچھ نہیں تو کچھ نہ کچھ تو جانتا ہوگا۔۔ اس کی جان اکثر ختم کردیا کرتا تھا۔ گہرا سانس لے کر اس نے ردا کی جانب دیکھا۔ وہ اس سے کچھ پوچھ رہی تھی۔
اسی پہر معاذ جو سلویٰ کو خدا حافظ کہہ کر باہر نکل رہا تھا بجتے فون کی جانب متوجہ ہوا۔ فون کان سے لگاتے اس کی نگاہوں نے رابیل کو دیکھا جو سلویٰ سے مسکرا کر گلے ملتی انہیں خدا حافظ کہہ رہی تھی۔
”بولو۔۔“
”معاذ بھاٸ۔۔ ارحم کے میسجز کے اسکرین شارٹس میں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ باقی فیصلہ آپ خود کرلیں کہ وہ اس لڑکی کو تنگ کررہا ہے یا نہیں۔۔“
اس نے جواب دیۓ بغیر فون کان سے ہٹا کر جیب میں اڑسا اور گہرا سانس لیتا گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر بیٹھ گیا۔ رابیل بھی اس کی دوسری جانب کا دروازہ کھولتی اندر بیٹھ رہی تھی۔
”سلویٰ بہت اچھی ہیں معاذ۔۔ مجھے بہت اچھا لگا ان کے ساتھ۔ وہ اتنی پیاری ہیں۔۔ بالکل حبیبہ تاٸ جیسی لگتی ہیں۔۔ ویسے کتنی بڑی ہیں وہ تم سے۔۔؟ معاذ تم سن رہے ہو مجھے۔۔؟“
اس کی غاٸب دماغی دیکھ کر اس نے آخر میں پوچھا تو اس نے خالی نگاہیں اس کی جانب پھیریں۔ وہ یقیناً اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔
” کیا سوچ رہے ہو۔۔؟“
”ہاں۔۔ نہیں۔۔ کچھ نہیں۔۔“
”بتاٶ ناں سلویٰ کتنی بڑی ہیں تم سے۔۔؟“
”تین سال بڑی ہیں۔۔“
”تم کتنے سال کے ہو۔۔؟“
”اٹھاٸیس۔۔“
”اٹھاٸیس۔۔ مطلب تم مجھ سے گیارہ سال بڑے ہو۔ یااللہ تم مجھ سے اتنے بڑے ہو۔ ویسے میں نے سنا ہے کہ جو لڑکے بڑے ہوتے ہیں وہ بہت خیال رکھتے ہیں اپنی بیوی کا۔ تم بھی ایسے ہو کیا۔۔؟ ویسے مجھے لگتا نہیں ہے کہ تم ایسے ہوگے۔۔“
معاذ نے اسے ٹیڑھی نگاہوں سے دیکھا تھا۔
”جی بالکل۔۔ میں ایسا ہی ہوں۔ خیال رکھنے والا اور کیٸرنگ تو بالکل بھی نہیں ہوں۔ کیونکہ ان سب باتوں کے لیۓ بہت سارا فالتو وقت چاہیۓ جو میرے پاس ہرگز بھی نہیں ہے۔“
اور وہ وہی معاذ تھا۔۔ بدتمیز والا۔۔
”اچھا پتا ہے زیادہ اپنی تعریفیں مت کیا کرو۔ تو اس کا مطلب ہوا کہ سلویٰ اکتیس سال کی ہیں۔ تم انہیں خالہ کیوں نہیں بولتے۔۔؟“
اس نے موڑ کاٹتے ہوۓ کندھے اچکاۓ تھے۔
”خالہ مجھے لگتا ہے کہ زرا بھاری سا نام تھا ان کے لیۓ اسی لیۓ میں شروع سے ہی انہیں سلویٰ کہتا ہوں۔“
”ہوں۔۔“
اس نے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔ پچھلے واقعے کا شاٸبہ تک اب اس کے چہرے پر نہیں تھا۔ سلویٰ سے ملنے کے بعد دل کو جو راحت اور خوشی ملی تھی وہ تو بیان سے ہی باہر تھی۔
”تم ٹھیک ہو اب۔۔؟“
کچھ دیر بعد معاذ کی نرم سی آواز اسے سناٸ دی تھی۔ اس نے کھڑکی سے چہرہ اس کی جانب پھیرا۔ پھر ہلکا سا مسکراٸ۔۔
”ہاں۔۔ اب بہت بہتر ہوں۔۔“
لیکن یکدم وہ کچھ بولتے بولتے رک گٸ تھی۔
”تھینک یو۔۔“
معاذ نے محض سر کے خم سے اس کا شکریہ قبول کیا تھا۔ وہ اس کے اتنے اپناٸیت بھرے سے انداز پر اداسی سے مسکراٸ تھی۔ وہ اس سے گیارہ سال بڑا تھا۔ وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا۔۔ وہ اس سے زیادہ معاملات سنبھالنا جانتا تھا۔ اسے پتا تھا کہ غصہ کب کرنا ہے اور ٹھنڈا کب رہنا ہے۔ وہ واقعی اس سے بڑا تھا۔ وہ اس سے اچھا تھا۔ اسے دیکھتے ہوۓ وہ سوچ رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کہ وہ ایک بار پھر سے محو ہو کر اسے دیکھ رہی ہے۔
گھر کے سامنے گاڑی رکی تو رابیل چونکی۔ پھر خجل ہو کر لب کاٹتی باہر نکل آٸ۔ وہ بھی اس کے ساتھ ہی باہر نکلا تھا۔
”اندر نہیں آٶگے۔۔؟“
اسے جانے کیا بات نروس کررہی تھی۔ معاذ نے مسکرا کر نفی میں سرہلایا۔ پھر اس کے جھکے سر کو دیکھا۔
”ادھر دیکھو۔۔“
اس نے بے ساختہ سر اٹھایا تھا۔ اس کی سرمٸ نگاہوں میں عجیب رنگ تھے۔ رابیل کو ان رنگوں کی کہانی سمجھ نہیں آٸ۔ جلدی سے نگاہوں کا زاویہ موڑا۔
”میں نے کہا ادھر دیکھو۔۔“
اور اب کہ اس نے جی کڑا کر اس کی سرمٸ آنکھوں میں دیکھا تھا۔ اف۔۔ کتنا مشکل تھا یہ۔۔
”کیا میرے دوسری طرف تمہیں کچھ نظر آرہا ہے۔۔؟“
وہ لب دباۓ اپنی شرارت چھپا رہا تھا۔ رابیل جھینپ کر ہنس دی۔ جانتی تھی وہ پکڑی گٸ ہے۔ لیکن یہ سچ تھا کہ اسے دیکھتے ہوۓ اس کے آس پاس کی ہر شے دھندلا گٸ تھی۔ وہ ان آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ ہامی بھرنے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی۔ معصومیت سے نفی میں سر ہلایا تو وہ ہلکا سا ہنس دیا۔
”یہ صرف تمہارے ساتھ نہیں ہورہا۔ جب تم مجھے دیکھ رہی تھیں تب میرے آس پاس بھی بہت کچھ دھندلا رہا تھا۔ ایسے مت کیا کرو۔ جب ڈراٸیو کررہا ہوں تب تو بالکل بھی نہیں۔ یہ جو کتھٸ آنکھیں ہیں ناں تمہاری۔۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ کیا ہیں یہ۔ پاگل۔۔ اب جاٶ اندر۔۔ اور آرام سے سوجاٶ۔۔ کچھ بھی بلاوجہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوٸ بات پریشان کرے تو مجھے ہرگز بھی تنگ مت کرنا اور مہربانی کرکے اب رونا مت۔ کوٸ رلاۓ تو بتادینا انہیں کہ رابیل عابد کس کا نام ہے۔ ٹھیک ہے۔۔؟“
اس نے اثبات میں سرہلا کر اس کی یقین دہانی کرواٸ تھی۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہولے سے اسکا سر ہلایا اور پھر گاڑی کی جانب چلا آیا۔ وہ اسے دور جاتا دیکھتی رہی۔ دل اس کے لفظوں سے اس قدر مطمٸن اور شانت ہوگیا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بے ساختہ نمی گھلنے لگی۔ صرف ایک اس انسان کے آجانے سے اس کا تاریک کہف روشن ہونے لگا تھا۔ اس کی زندگی آسان ہورہی تھی۔ وہ خوش ہورہی تھی۔ آسودہ سی سانس خارج کرتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھتے اب اس کے قدموں میں لرزش نہیں تھی۔ اب وہاں صرف اطمینان اور اعتماد تھا۔ وہ اعتماد جو معاذ نے اسے دیا تھا۔ اسے اس اعتماد کو تھام کر چلنا تھا۔ اسی میں عافیت تھی اور عزت بھی۔
