#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
آٹھویں_قسط کا بقیہ حصہ
کچن میں جا کر اس نے برتن رکھے اور پھر ایک لمحے کو کچن کے دروازے سے ہلکا سا جھانک لاٶنج میں دیکھا ۔۔ وہ دونوں آپس میں باتیں کررہی تھیں۔ اس نے گہرا سانس لے کر فیصلہ کیا اور پھر سے لاٶنج میں چلی آٸ۔۔
”نماز پڑھی تھی تم دونوں نے مغرب کی۔۔؟“
اس نے موباٸل ہاتھ میں لیۓ سرسری سا پوچھا تو وہ دونوں چونکیں۔ پھر شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھا۔
”امم۔۔ وہ۔۔ میں اپنا کالج کا کام کررہی تھی تو نہیں پڑھی۔۔“
اس نے شزا سے نگاہ ہٹا کر ردا کو دیکھا۔ وہ پورے دانت نکال کر مسکرا رہی تھی۔ رابی کو نہ چاہتے ہوۓ بھی ہنسی آگٸ تھی۔
”نماز پڑھنا مشکل لگتا ہے۔۔؟“
اس نے اب کہ واضح طور پر پوچھا تو ان دونوں نے اثبات میں سرہلایا تھا۔ رابیل نے گہرا سانس لیا۔
”ایک کام کرتے ہیں۔ کل سے تم دونوں صرف نماز کے فراٸض پڑھنا۔“
”بس فرض۔۔! کیا پڑھ سکتے ہیں۔۔؟“
”ہاں تم دونوں ساری نمازوں کے فرض پڑھ لینا۔۔ لیکن نماز کوٸ نہیں چھوڑنی تم دونوں نے۔۔“
وہ اتنی نرمی سے کہہ رہی تھی کہ ان دونوں نے جلدی سے سرہلایا۔۔
”تم شیور ہو ناں کہ ہم فرض پڑھ سکتے ہیں۔۔؟“
شزا کے پوچھنے پر وہ مسکراٸ تھی۔
”دیکھو شزا یہ درست تو نہیں ہے لیکن بالکل ہی نماز نہ پڑھنے سے بہتر ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر کم از کم اپنے اندر نماز پڑھنے کی عادت تو ڈال ہی لیں۔ ایک وقت آۓ گا کہ مجھے بولنا بھی نہیں پڑھے گا اور تم دونوں اپنی پوری نمازیں ادا کروگی۔ بس اس وقت تک تم دونوں کو فراٸض باقاٸدگی سے پڑھنے ہیں۔۔“
”اوکے۔۔“
وہ دونوں اس ہلکے سے کام پر راضی ہوٸیں تو رابیل کا دل ہلکا پھلکا سا ہوگیا۔ اس کی کوششیں ناکام نہیں جارہی تھیں۔ ایک ساتھ نہیں تو آہستہ آہستہ وہ دونوں اس کی بات مان ہی لیں گی۔ انہیں بس اللہ کی کتاب سے انہیں اس جانب بلاتے رہنا ہوگا۔ ہاں۔۔ اسے اپنی کوشش جاری رکھنی ہوگی۔۔ کسی بھی طرح۔۔ کسی بھی حال میں۔۔
اگلا ایک ہفتہ اسی خاموشی سے گزر گیا۔ گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ پہلے سے خاصہ بہتر ہوگیا تھا۔لیکن وہ پھر بھی اندر کہیں اداس تھی۔ پچھلے دنوں ہی جب وہ اپنی دوستوں سے ملنے گٸ تھی تب اسے ان سب کے رویے سے بے حد تکلیف پہنچی تھی۔ وہاں سب لڑکیاں بہت ماڈرن تھیں، وہاں پر وہ سب اپنے خوبصورت بال لہراتی ہوٸیں اس ساری محفل میں جگمگا رہی تھیں۔ وہ کچھ پل تو خاموشی سے بیٹھی رہی۔ ایک دو دوستوں سے بات کرنے کی کوشش کی تب بھی اسے اس کے حجاب کی وجہ سے بہت بری طرح نظر انداز کیا گیا تھا۔ ان سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس ہوٹل میں کوٸ لڑکا ہے ہی کہاں اسی لیۓ وہ اپنا یہ حجاب اتار دے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی۔ ہوٹل میں کام کرتے ورکرز اور بہت سے غیر محرم لڑکے یہیں سے آ جا رہے تھے۔ وہ کیسے ان کے سامنے اپنے بال کھول سکتی تھی۔
جب کسی نے بھی کافی دیر تک اس کی جانب توجہ نہیں کی۔ تو وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ آٸ۔ اسے لگا تھا کہ اگر اسے اس کے گھر والوں نے قبول کرلیا ہے تو سب کر لیں گے لیکن ایسا نہیں تھا۔ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔۔ سوساٸٹی کی نظر میں وہ اپنے اس دوپٹے کی وجہ سے آج بھی زیرو تھی۔ واپسی کے سارے راستے اس کا دل گہری تکلیف کے زیر اثر رہا۔ ایسی ہی تکلیف ہوتی ہے جب، آپ ایک عرصے تک کسی محفل کی جان رہے ہوں اور آپ کے ایک فیصلے کے بدلے وہ آپ کو اٹھا کر ایک جانب پھینک دیں تو ایسی ہی تکلیف ہوا کرتی ہے۔ لیکن وہ پھر بھی نہیں روٸ۔ ہر وقت رونا اچھی بات نہیں ہوتی۔
”تم بہت ایب نارمل لگ رہی ہو رابیل۔۔ تم ہم جیسی نارمل نہیں لگ رہی ہو۔۔“
ایک دوست کا مزاق اڑاتا ہوا تبصرہ اسے یاد آیا تو تکلیف مزید گہری ہوگٸ۔
جب وہ وقت سے پہلے ہی گھر آگٸ تو لاٶنج میں بیٹھیں رامین نے اسے حیرت سے دیکھا۔ ان کے ساتھ ہی دوسرے صوفے پر زرتاشہ چاچی بیٹھی تھیں۔ انہوں نے بھی اسے گردن پھیر کر دیکھا تھا۔
”یہ تم اتنی جلدی کیوں آگٸیں۔۔؟“
انہوں نے پوچھا تو اس کا دل کیا کہ دھاڑے مار کر وہیں رونا شروع کردے لیکن وہ پھر بھی خاموش رہی۔ دکھتے گلے سے بہت سا تھوک نگل کر اس نے بمشکل چند لفظ کہے۔۔
”مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہاں۔ اسی لیۓ واپس آگٸ۔۔ “
رامین کے سبزی کاٹتے ہاتھ لمحے بھر کو رکے تھے۔ چہرہ حیرت سے اٹھا کر اسے دیکھا۔
”کیا مطلب۔۔؟ کیا اچھا نہیں لگ رہا تھا تمہیں۔۔؟“
”وہ۔۔ ماں۔۔ مجھے میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔“
اس کی بات پر زرتاشہ نے معنی خیزی سے مسکرا کر سر جھٹکا تو اسے کہیں بہت اندر تک تکلیف ہوٸ۔ آنکھیں بلاوجہ ہی گلابی ہوگٸیں۔
”صاف ظاہر ہے بھابھی کہ اسے وہاں کسی نے بٹھانا پسند ہی نہیں کیا۔ اس کے دوپٹے کی وجہ سے۔ بھلا لڑکیاں کہاں پسند کرتی ہیں ایسی اولڈ فیش لڑکیوں سے بات کرنا۔ کیا ملتا ہے تمہیں یہ سب کر کے رابیل۔۔“
وہ اب تک مسکرا رہی تھیں۔ اس کا دل زخمی ہونے لگا۔ گلا اب کہ بہت دکھنے لگا تھا لیکن وہ نہیں روۓ گی۔۔
”اپنے اس معمولی سے حجاب کی خاطر تم نے اپنا رشتہ تک خراب کرلیا اور جواب میں رشتہ جوڑا بھی تو کس کے ساتھ۔۔! وہ معاذ۔۔“
انہوں نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی۔ رامین بھی اسے افسوس سے دیکھ رہی تھیں۔
”عجیب ہی ہے وہ تو۔۔ پتا نہیں تم جیسے لڑکی رہے گی کیسے اس کے ساتھ۔ ارحم جیسا آپشن تمہیں ساری زندگی نہیں مل سکتا لیکن افسوس۔۔ تم نے اپنی ہڈ دھرمی کی وجہ سے کھو دیا۔ کیا مل گیا تمہیں اسے یوں سر پر لپیٹ کر۔۔“
انہوں نے بات ختم کر کے سر ایک بار پھر سے جھٹکا۔ رخ اب کہ پوری طرح سے رامین کی جانب کرچکی تھیں وہ۔ رامین نے بھی اس کے دفاع میں کوٸ لفظ نہ کہا تھا۔ کہیں اندر وہ بھی اسی قسم کی راۓ رکھتی تھیں اس کے بارے میں۔ اس نے دکھتے دل کے ساتھ خاموشی سے قدم اپنے کمرے کی جانب پھیرے اور دروازہ بند کر کے بیڈ تک چلی آٸ۔ سنگھار آٸینے میں اس کا زخمی سا عکس جگمگا رہا تھا۔ اس نے چہرہ موڑ کر اپنا عکس دیکھا۔ سیاہ عباۓ میں اس کا متناسب سراپا گہری تکلیف کے زیر اثر لگتا تھا۔ وہ انہیں جواب دینا چاہتی تھی لیکن چاچی نے بات ہی اتنی بے رحمی سے شروع کی تھی کہ اس کے سارے الفاظ ہی اس سے گم ہوگۓ تھے۔ وہ دھندلی آنکھوں سے اپنا عکس اس آٸینے میں دیکھے گٸ۔
کیا مل گیا تھا اسے یہ حجاب اپنے سر پر لپیٹ کر۔۔!
سب اس سے ایک ہی بات پوچھ رہے تھے کہ اسے کیا مل گیا یہ سب کر کے۔۔ اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ اسے کیا کیا مل گیا تھا۔ کاش کہ وہ انہیں سمجھا سکتی کہ اللہ کی محبت میں ابلتے آنسو بہانے کی لذت کیا ہوا کرتی ہے۔ کاش وہ ان سب کو سمجھا سکتی کہ رات کے کسی پہر آنکھ کھلنے پر، خود کو پانی سے بھگونے کے بعد اس کے سامنے گردن جھکا کر کھڑے ہونے کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اس سے چلتے پھرتے باتیں کرنے کی عادت کیا ہوتی۔۔ اس سے اپنے غم کی فریاد کرنے کی لذت کیا ہوا کرتی ہے۔۔ اپنے تاریک کہف میں اسے کمزور سی آواز کے ساتھ پکارنے کی اذیت کیا ہوا کرتی ہے۔۔ اور قرآن کے ذریعے اس سے قرب کی راہوں پر چلنے کی چاہ کیا ہوا کرتی ہے۔۔ !!
کاش کہ کبھی وہ ان سب کو یہ سمجھا سکتی۔۔ کاش کہ وہ انہیں یہ سب بتا سکتی۔۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ ان سب کو یہ سب کبھی نہیں سمجھا سکتی تھی۔ وہ کوشش بھی کرلیتی تب بھی اسکی بات کسی کو سمجھ میں نہیں آنی تھی۔ اللہ کی محبت کا مرکز تو دل ہوا کرتا ہے۔ اور دلوں کو پھیرنے کی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہ انہیں اپنے لفظ دے سکتی تھی لیکن وہ انہیں ان کیفیات سے نہیں گزار سکتی تھی۔ وہ تو کسی کسی کو عطا کی جاتی تھیں۔ اللہ کی محبت ہر کسی کو تھوڑی دی جاتی ہے۔ یہ تو صرف اسے ہی دی جاتی ہے کہ جو شدت سے اس کے لیۓ گڑگڑاتا ہے۔۔ تڑپتا ہے۔۔ اپنے تنہا کہف میں سسک کر اسے پکار رہا ہوتا۔۔ تب ہی تو یہ دل پلٹ جاتے ہیں۔ تبھی تو کمزور انسانوں میں اتنی ہمت آجاتی ہے کہ وہ سارے عرب کے سامنے للکار کر کہتے ہیں کہ اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دو تب بھی وہ اللہ کا کنڈا نہیں چھوڑنے والے۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے آہستہ سے اٹھی۔ بہت دنوں بعد اس کے آس پاس وہی مدھر سی آواز تحلیل ہونے لگی تھی۔ تو یہ ثابت ہوا کہ یہ قرآن اسے تب ہی سمجھ آۓ گا جب وہ کڑی آزماٸشوں سے گزر کر اپنا دل توڑ لے گی۔۔ قرآن اتارنے کے لیۓ انسان کو ایک دفعہ تو ٹوٹنا ہی پڑتا ہے۔ وہ بھی اس سمے ٹوٹ رہی تھی۔ اسٹڈی ٹیبل پر رکھی اس کی کتاب لمحے بھر کو سنہری سی روشنی سے چمکی تھی۔ اس نے پلکوں پر ٹھہرے آنسوٶں کے ساتھ اس کتاب کو دیکھا اور پاس چلی آٸ۔
”آپ کہاں ہیں اللہ۔۔ میں ٹوٹ رہی ہوں۔۔ میرا دل ٹوٹ رہا ہے۔۔ آپ کہاں ہیں۔؟ آپ کی مدد کب آۓ گی۔۔؟ آپ کی مدد کب آتی ہے۔۔!“
اس نے اس قرآن کا دروازہ کھولنے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا۔۔ اگلے ہی لمحے قرآن سے پھوٹتے نور کے باعث اس کی آنکھیں لمحے بھر کو چندھیا گٸ تھیں۔
وہ مدھر آواز اب کہ اس کی سماعت کہ کہیں بہت قریب گونجنے لگی۔
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادَی عَنِّی
”اور جب سوال کریں آپ سے میرے بندے میرے بارے میں۔۔“
وہ اس مدھر آواز کو دم سادھے سنے گٸ۔ وہ آواز اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔ وہ آواز بہت خوبصورت تھی۔۔ وہ آواز دلوں کو اطمینان پہنچایا کرتی تھی۔۔ رابیل کا سارا جسم لمحوں ہی میں برف بننے لگا تھا۔ سانسیں تیز ہونے لگیں۔ کچھ تھا جو اس کے اندر اتر رہا تھا۔۔ اس کے سوالوں کے جواب اتنی جلدی اسے مل جایا کرتے تھے کہ وہ کبھی کبھی خود بھی ورطء حیرت میں ڈوب جاتی۔
فَاِنِّی قَرِیب
”تو بلاشبہ میں، بہت قریب ہوں۔۔“
اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ سانس تک کسی نے روک دیا تھا۔ اللہ اس کے قریب تھا۔۔ اللہ اس کے بہت بہت قریب تھا۔۔ وہ اسے باہر کی دنیا میں تلاش کررہی تھی لیکن وہ تو اس کے اندر کی دنیا میں تھا۔ وہ تو اس کی شہہ رگ کے پاس تھا۔ اس نے بہت ضبط سے اپنے آنسو روکے رکھے۔
اُجِیبُ دَعوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
”میں قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی پکار جب (بھی) وہ پکارے مجھے“
وہ اللہ کو پکار رہی تھی۔ اور اس کے دل کی چوری بھی لمحے بھر میں پکڑی گٸ تھی۔ اس محفل سے اٹھ کر آنے کے عرصے میں اس کا دل مایوس ہونے لگا تھا کہ اگر وہ اللہ کو پکارے گی بھی تو وہ اسے جواب نہیں دے گا۔ ہوتا ہے۔۔ اکثر کڑی آزماٸشوں پر انسان ضبط ہارنے لگتا ہے۔ وہ بھی ہارنے لگی تھی اور اسی ایک کمزوری کو بڑی نرمی سے سمجھا کر اللہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اس کی ہر پکار کو قبول کرنے والا ہے۔ وہ اس کی ہر پکار کا جواب دینے والا ہے۔ جیسے وہ ابھی اسے اس کی پکار کا جواب دے رہا تھا۔ آنسو ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے گرنے لگے تھے۔ وہ اس کہف میں ٹوٹنے لگی تھی۔
فَلیَستَجِیبُوا لِی وَلیُومِنُو بِی
”تو چاہیۓ کہ وہ (بھی) مانیں میرا حکم اور چاہیۓ کہ وہ لاٸیں ایمان مجھ پر“
وہ بے دم ہونے لگی تھی۔ وہ اس کی محبت میں آہستہ آہستہ اترنے لگی تھی۔ یہ ایسے نہیں ہوتا کہ خالی خولی دعاٶں کے ساتھ اللہ کو پکارا جاۓ۔ یقین سے خالی دعاٸیں مانگنا اس کی شان کے خلاف ہے۔ اسے پکارا جاۓ تو پورے ایمان کے ساتھ پکارا جاۓ۔۔ دعاٸیں کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر یقین رکھا جاۓ کہ وہ ان دعاٶں کو ان کے درست وقت اور ان کے درست موقع کے ساتھ قبول کرے گا۔ اسے اس پر ایمان رکھنا ہوگا کہ وہ ضرور اسے جواب دے گا۔ اگر وہ اس ایمان سے خالی دعاٸیں مانگے گی تو کبھی ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل نہ ہوسکے گی۔
لَعلّھُم یَرشُدُونَ
”تاکہ وہ ہدایت پاٸیں۔۔“
اور بات ختم ہوچکی تھی۔ کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ اس پورے قرآن کو نہیں لے سکے گی۔ کیونکہ اکثر کوٸ ایک ہی آیت اس پر اس قدر بھاری ہوتی تھی کہ پورے قرآن کا سوچ کر ہی اس کی طاقت سلب ہونے لگتی۔ لیکن وہ اس قرآن کے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ کیونکہ اس بڑے دن میں۔۔ جب کوٸ کسی کا نہیں ہوگا۔۔ جب کوٸ کسی کو دیکھے گا بھی نہیں۔ تب یہ قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لیۓ گواہ بن کر آۓ گا۔ اپنے پڑھنے والوں کو یہ قرآن اس دن تنہا نہیں کرے گا۔ وہ بھی اس بڑے دن میں اس قرآن کو اپنا گواہ بنانا چاہتی تھی۔ وہ اس کے ذریعے اپنی تاریک قبر کو روشن کرنا چاہتی تھی۔
اس نے آنسو صاف کیۓ اور پھر مسکرا کر اپنا آپ سنگھار آٸینے میں دیکھا۔
ایک آیت انسان کی زندگی بدل دیتی ہے۔۔ بس ایک آیت۔۔ (نمرہ احمد)
مغرب کی پھیلی اداسی میں اس نے نماز پڑھ کر قدم باہر کی جانب بڑھاۓ۔ رخ ردا اور شزا کے کمرے کی جانب تھا۔ اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں ہی پر یقین نہ آیا۔
شزا اپنے گرد بڑی سے سفید چادر لپیٹے، رکوع کے لیۓ جھکی ہوٸ تھی، وہ ابھی اسےحیرت سے تک ہی رہی تھی کہ اسکی نظر دوسری جانب پڑی۔ ردا سنگھار آٸینے کے سامنے کھڑی اپنے چہرے کے گرد دوپٹہ لپیٹ رہی تھی۔ جینز پر آج اس نے گھٹنوں تک آتا کرتا زیب تن کر رکھا تھا۔ دوپٹہ لینے کی عادت نہیں تھی اسی لیۓ اس کا دوپٹہ بار بار سرک کر پیشانی پر آرہا تھا۔ رابیل ان دونوں کو خاموشی سے دیکھتی رہی۔ بے اختیار ہی اس کے دل پر شکر گزاری کے بہت سے آنسو گرے تھے۔۔ اگر ایک جانب سے اسے تکلیف مل رہی تھی تو دوسری جانب سے اللہ اس کے گھر والوں کو دین عطا کررہا تھا۔ اس سے زیادہ خوشی اس کے لیۓ اور کسی چیز میں ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ رابیل عابد کے ارد گرد پھیلی اداس سی مغرب شکرگزاری کے آنسوٶں سے بھیگنے لگی تھی۔
اسکی دعاٸیں راٸیگاں نہیں جارہی تھیں۔ اللہ اس کی پکار کا جواب دے رہا تھا۔۔ اللہ تو ویسے بھی انسان کو کبھی نہیں چھوڑتا۔۔ ہمیشہ ہم اللہ کو چھوڑتے ہیں۔
ردا کی نگاہ بے ساختہ اس پر پڑی تو وہ فوراً اس کی جانب گھومی۔
”یار رابی۔۔ پلیز یہ دوپٹہ ٹھیک سے باندھ دو۔ میں کب سے لگی ہوٸ ہوں اس کے ساتھ۔۔“
اور وہ مسکراتی ہوٸ اندر چلی آٸ تھی۔ آنکھیں فرطِ جذبات سے بھیگ گٸ تھیں۔
”تم رو رہی ہو۔۔؟“
”ارے نہیں۔۔“
وہ ہنس دی۔ پھر ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں۔ ہر آنسو تکلیف کے آنسو نہیں ہوا کرتے۔ کچھ آنسو اپنے اندر ڈھیروں خوشیاں سمیٹے ہوتے ہیں۔ اس کے آنسوٶں میں بھی آج خوشی کا ہر رنگ تھا۔
”تو پھر یہ آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں۔۔؟“
”ویسے ہی بس۔۔ پتا نہیں کیا ہوجاتا ہے مجھے۔۔“
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی چادر درست طریقے سے چہرے کے گرد لپیٹی۔ ردا کا کیوٹ سا چہرہ اس ہالے میں اور بھی پیارا لگ رہا تھا۔ اور اسلام کی خوبصورتی ہی یہی تھی۔ دو دھاری تلوار جیسے حسن والی لڑکیوں پر یوں چادر ڈال دی جاۓ تو وہ اپنے آپ ہی معصوم لگنے لگتی ہیں۔ بقول ہاشم ندیم کے، دین تو انسان کو معصیت سے معصومیت تک لے کر جانے کا راستہ ہے۔
”تم آج کل بہت رونے لگی ہو رابی۔ اتنا مت رویا کرو۔“
”میں کوشش کرتی ہوں بہت، لیکن نہیں ہو پاتا۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے خود پر، پھر بھی میں اپنے آنسوٶں پر قابو نہیں رکھ پاتی۔ سہی کہتا ہے وہ۔۔ پاگل ہوں میں بالکل۔۔“
اس نے مسکرا کر کہا تو ردا بھی مسکرادی۔ پھر اس کے گلابی سے گال پر چٹکی کاٹی۔ اور جاۓ نماز کی جانب بڑھ گٸ۔ ان دونوں کو یونہی چھوڑ کر اب کہ وہ مسکراتی ہوٸ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ دل میں پچھلی تکلیف اب تک باقی تھی لیکن اس خوبصورت منظر کے بعد اس تکلیف کا اثر کچھ حد زاٸل ہوگیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں ایک بار پھر سے اس کے سر پر سوار تھیں۔ اور ان کا مطالبہ ایک ہی تھا کہ وہ ان کے ساتھ زرتاشہ چاچی کے گھر چلے۔ ان کا گیٹ ٹوگیدر کسی وجہ کے باعث موخر ہوگیا تھا۔ لیکن رابیل نہیں جانا چاہتی تھی۔ وہ اچھی خاصی خوشی کو خاک نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”تم چل رہی ہو رابی اور بس۔۔“
شزا نے دھونس بھرے انداز میں کہا تو اس نے بے بسی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اسٹڈی ٹیبل پر بکھرا بہت سا کام ابھی اس کا منتظر تھا لیکن وہ دونوں تھیں کہ اسے ساتھ لے جانے پر مصر تھیں۔
”یار پلیز شزا مجھے کام ہے۔۔ میں نہیں جارہی۔۔“
”رابی پتا ہے حریم بھابھی پچھلی دفعہ بھی پوچھ رہی تھیں تمہارے بارے میں۔ ایک تو پہلے ہی تم نے ڈھنگ سے کوٸ فنکشن اٹینڈ نہیں کیا اوپر سے اب اس چھوٹی سی تقریب میں بھی نہیں چل رہی ہو۔۔ صرف لڑکیاں ہی تو ہونگی وہاں۔۔“
”پلیز چلو ناں۔۔۔ پلیز پلیز پلیزززز۔۔۔“
اور ان دونوں کے اس قدر اصرار پر اس نے سر نفی میں ہلا کر گہرا سانس لیا تھا۔
”تم دونوں کسی دن مجھ سے مار کھاٶ گی۔۔“
اور جب وہ اسٹڈی ٹیبل سے اٹھی تو ان دونوں ایک ساتھ تالیاں پیٹی تھیں۔
”لیکن ایک شرط پر ہی جاٶنگی میں۔“
”کیا۔۔۔؟“
دونوں اس کی جانب سوالیہ سی گھومیں۔۔
”میں خود تیار ہونگی۔۔“
”اوکے۔۔ لیکن ایسا مت تیار ہونا کہ لگے ہم میلاد میں شرکت کررہے ہیں۔۔“
شزا نے باہر نکلتے نکلتے اسے تنبیہہ کی تھی۔ اس نے آنکھیں گھماٸیں۔ پھر خود کو شیشے میں دیکھا۔
”یوں چھپ کر نہیں بیٹھتے رابیل۔۔ بلکہ سب کو فیس کرتے ہیں۔ تمہیں ابھی مضبوط بننا ہے۔ بہت بہت مضبوط۔۔“
خود کو مسکرا کر دیکھا اور وارڈراب کی جانب بڑھ گٸ۔ لباس تبدیل کیۓ اب وہ آٸینے کے سامنے کھڑی، ریشمی سے گھنے بالوں کو جوڑے میں لپیٹ رہی تھی۔ سیاہ چوڑی دار پجامے اور سیاہ ہی باریک ستاروں والی لمبی قمیض پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ بالوں کو اس نے جیسے تیسے جوڑے میں لپیٹ کر سر پر حجاب لیا اور کمرے سے باہر چلی آٸ۔ ردا اور شزا بھی تیار ہی کھڑی تھیں۔ پھر تینوں ہی گھر سے نکل آٸیں۔ سڑک کے اس پار عین سامنے زاہد چچا کا گھر کا۔
گھر کے اندر تو گویا رنگ و بو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ لاٶنج میں بہت سی کزنز بیٹھی تھیں۔ زرتاشہ چاچی، حریم کے ساتھ بیٹھیں ایک ایک کزن کا اس سے تعارف کروارہی تھیں۔ اس کی نگاہ اب کے حریم پر پڑی۔ وہ ایک اسٹاٸلش سی، خوبصورت لڑکی تھی۔ سیاہ بال اسٹیپس میں کٹے ہوۓ تھے۔۔ ردا اور شزا کے ساتھ ہی اس نے بھی قدم لاٶنج کی جانب بڑھاۓ۔
”اسلام علیکم۔۔“
سب نے ان تینوں کی جانب دیکھا تھا۔ ایک جانب صوفوں پر زرتاشہ چاچی کی تین بھانجیاں، رمشہ، شماٸلہ اور زارا بیٹھی تھیں۔ سامنے کے صوفے پر اس کے فرسٹ کزن انور بھاٸ کی بہنیں آمنہ اور فاطمہ براجمان تھیں۔ اس طرف کے صوفے پر رافیہ چاچی، کی بیٹیاں شاہین اور دعا بیٹھی تھیں۔ اس کی کبھی بھی ان لڑکیوں سے کچھ خاص بنی نہیں تھی۔ شاید وجہ ان کی سوچ تھی۔ وہ کبھی ایسی لڑکیوں سے بے تکلف نہیں ہوا کرتی تھی جو اپنے اوپر الگ طرح کا خول چڑھا کر، خود کو بنا کر پیش کیا کرتی تھیں۔ اس کی صرف صاف، سیدھے لفظوں میں بات کرنے والے لوگوں سے بنتی تھی جو کہ یہ لڑکیاں ہر گز بھی نہیں تھیں۔
ردا اور شزا سے ہوتی نگاہیں اس تک پھسلی تو اس نے مسکرا کر سب کو سلام کیا۔
”اور یہ عابد کی بڑی بیٹی ہے۔ ارحم کی منگیتر جو تھی۔۔“
اور زرتاشہ چاچی کے اس طرح سے کہنے پر رابیل کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔ اس کے آس پاس ایک دم ہی بہت سی شرمندگی پھیل گٸ تھی۔
”تھی مطلب۔۔؟“
حریم نے ناسمجھی سے چاچی کی جانب دیکھا۔
”ٹوٹ گٸ منگنی۔۔“
اور ان کے جواب پر حریم کے لب ”اوہ“ میں سکڑے تھے۔ اسے جیسے افسوس ہوا تھا۔ رابیل نروس سا مسکراٸ۔ ایک دم سب کچھ بہت آکورڈ ہوگیا تھا۔ آہ۔۔ ہمیشہ کیوں ہوتا تھا ایسے۔۔!!
”منگنی کیوں ٹوٹ گٸ آپکی۔۔؟“
حریم کو افسوس کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی۔ اس کے رخسار شرمندگی سے گلابی ہوۓ تھے۔ ردا اور شزا بھی غیر آرام دہ ہورہی تھیں۔
”اس کے منگیتر کو اس کا یوں دوپٹہ لپیٹنا پسند نہیں تھا۔ اسی لیۓ اس نے منگنی توڑ دی۔۔“
”کیا۔۔! ایک دوپٹے کی وجہ سے آپ نے رشتہ ہی توڑ دیا۔۔! مطلب۔۔ کیسے ہوسکتا ہے ایسے۔۔؟“
لاٶنج میں براجمان ہر لڑکی اس بے وقت کی بحث سے بہت محظوظ ہورہی تھی۔ رابیل کا سینہ گھٹنے لگا۔ اسکا زخمی دل مزید زخمی ہونے لگا تھا۔
”میرے لیۓ یہ زیادہ ضروری تھا۔۔“
اپنے دفاع میں اس نے بس اتنا ہی کہا تھا۔ وہ زیادہ تھے، رابیل ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔
”ایسے تھوڑی کرتے ہیں۔ یوں آپ نے بس ایک چیز کو لے کر اتنا بڑھا چڑھا لیا کہ اس کے پار آپ کو کچھ نظر ہی نہیں آیا۔ کسی کو تو سمجھانا چاہیۓ تھا آپ کو۔ اچھے رشتے بار بار نہیں ملا کرتے۔۔“
اس نے تھوک کے ساتھ بہت سے آنسو بھی اپنے اندر اتارے تھے۔ پھر چہرہ اٹھایا۔۔ مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔
”مجھے کسی نے سمجھادیا تھا جبھی تو یہ رشتہ بچ نہ سکا۔۔“
”کس نے سمجھایا تھا آپ کو۔۔؟“
وہ سیدھی ہو بیٹھی۔ بحث بہت ہی دلچسپ رخ اختیار کررہی تھی۔
”اللہ کی کتاب نے۔۔“
اور اس کے جواب پر حریم کا منہ ہی کھل گیا تھا۔ لاٶنج میں بیٹھی لڑکیوں کی دبی دبی سی ہنسی گونجی تھی۔
”رابیل مجھے اس بات کی امید نہیں تھی تم سے یار۔ مطلب۔۔ کونسے وقت میں زندہ ہو تم۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گٸ ہے لیکن تم ابھی تک ان کتابی باتوں ہی میں اٹکی ہوٸ ہو۔ تم جیسی پڑھی لکھی لڑکی سے یہ سب امید نہیں تھی کسی کو بھی۔۔“
زرتاشہ چاچی کی بھانجی شماٸلہ نے نخوت سے کہہ کر ناک سے مکھی اڑاٸ تھی۔ وہ بمشکل جم کر بیٹھی رہی۔
”اچھا چلو۔۔ ناٶ لیو۔۔ جو بھی ہے تمہارا یہ دوپٹہ وغیرہ۔۔ ٹھیک ہے۔۔ لیکن ابھی تو یہاں کوٸ مرد نہیں ہے ناں۔ ابھی پلیز اسے سر سے ہٹا دو۔ پھر سب ایزی ہوجاٸیں گے۔ یو نو۔۔ تم اس طرح دوپٹہ لپیٹ کر دادی والا ورژن لگتی ہو۔ ہم لڑکیوں کو عجیب لگتا ہے پھر۔۔ یہاں اتار دو کوٸ نہیں ہے۔۔“
لیکن وہ یوں، یہاں ان سب کے سامنے اسے سر سے اتارنے کے خیال سے ہی بے چین ہوٸ تھی۔ ٹھیک ہے ابھی کوٸ نہیں تھا لیکن کوٸ آ تو سکتا تھا ناں اور وہ خود کا مزاق نہیں بنوانا چاہتی تھی۔
”میں۔۔ میں ٹھیک ہوں ایسے ہی پلیز۔۔ “
اس نے فاطمہ کو جواب دیا لیکن وہ اس کے دوپٹے کی جانب اپنا ہاتھ بڑھا چکی تھی۔
”پلیز فاطمہ میں ٹھیک ہوں۔۔“
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اس کے دوپٹے کی پن کھولی تو وہ ریشمی ہونے کے باعث کھل کر اس کی گود میں آگرا۔ بال جو جوڑے میں باندھ رکھے تھے کندھوں پر پھسل گۓ۔ اسی وقت اقبال جانے کہاں سے پیچھے آ کھڑا ہوا تو اس کا سانس ہی لمحے بھر کو رک گیا۔ جلدی سے اس نے دوپٹہ ایک بار پھر سر پر لیا اور عجلت میں اٹھ کھڑی ہوٸ۔ ریشمی دوپٹہ، اس کے ریشمی بالوں کے باعث بار بار پھسل کر گر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ وہ جلد بازی میں باہر کی جانب بڑھنے لگی تو ساٸیڈ ٹیبل پر رکھے شیشے کے گلدان سے ٹکرا گٸ۔ چھن چھن۔۔ شیشے ٹوٹ کر سارے لاٶنج میں بکھر گۓ تھے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجاۓ تیز لرزتے قدموں سے لان عبور کیا اور دوپٹے کو کس کر پکڑے اپنے گھر کی جانب آگٸ۔ دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا لگتا تھا ابھی باہر آگرے گا۔ آنکھوں سے بے اختیار گرم گرم آنسو پھسل کر رخسار پر گررے تھے۔ اس قدر توہین۔۔ اس قدر ہتک اور اس قدر تمسخر اس نے چند ہی لمحوں میں سہہ لیا تھا کہ اس کا سینہ اب کہ تکلیف سے گھٹنے لگا تھا۔ وہ لان سے بھاگتی ہوٸ گھر کے اندر داخل ہوٸ تو ٹھٹھک کر رک گٸ۔ سامنے ہی وہ اپنے سیاہ سے شیڈ کے برعکس آج سفید ٹی شرٹ پر بھوری جیکٹ پہنے ہمیشہ کی طرح وجیہہ لگ رہا تھا۔
دھیمی آواز میں رامین سے کوٸ بات کرتے ہوۓ اس نے کچھ محسوس کر کے یکدم چہرہ پھیرا اور پھر اگلے ہی لمحے اس کے ابرو حیرت سے اوپر کو اٹھے۔ اس سیاہ جھلملاتی قمیض پر وہ جھلملاتی آنکھوں لیۓ اسے ساکت کر گٸ تھی۔ اسکی آنکھیں سرخ متورم ہورہی تھیں۔ دوپٹہ کس کے ٹھوڑی کی جانب سے پکڑے وہ اس سمے اسے بہت بکھری بکھری سی لگی۔ رامین نے بھی حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
”کیا ہوا۔۔؟ تم پھر اتنی جلدی واپس آگٸیں۔۔!“
انہیں اب اس پر سخت طیش چڑھا تھا۔ اس نے کچھ بولنا چاہا لیکن لب لرز کر رہ گۓ۔ آنکھوں کی سرخی ضبط کے باعث گہری ہونے لگی تھی۔
”کیا ہوا ہے۔۔؟ اتنی جلدی کیوں واپس آگٸ ہو۔۔؟ یقیناً پھر کوٸ بدمزگی ہوگٸ ہوگی تمہاری وجہ سے۔ رابیل تمہیں کتنی دفعہ میں نے سمجھایا ہے کہ پلیز اب بس کردو یہ سب۔۔! ہر دفعہ کیا تماشہ کھڑا کرنا لازمی ہے۔۔!!“
اور اس کا دل اس سمے اس قدر بھر آیا لگتا تھا پھٹ جاۓ گا۔ لیکن وہ مٹھی بھینچے کھڑی رہی۔ دوپٹہ جو ٹھوڑی سے پکڑ رکھا تھا چھوڑ دیا۔ چہرے کے اطراف میں لٹیں بکھر گٸیں۔
”میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ماں۔۔ میں کمرے میں۔۔“
”چاچی۔۔ میں دراصل رابیل کو ہی لینے آیا تھا۔ کیا میں لے جاٶں اسے۔۔؟“
اس کے اس قدر سعادت مندی سے پوچھنے پر جہاں رامین کو خوشگوار سی حیرت ہوٸ وہیں رابیل نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا تھا۔ یوں لگتا تھا گویا اس نے لمحوں میں بیٹھے بیٹھے اسے لے جانے کا فیصلہ کیا ہو۔
”میں۔۔ مجھے نہیں۔۔“
”ہاں ہاں بیٹا۔۔ ضرور لے کر جاٶ آپ۔۔ ویسے بھی اس کا دماغ آج کل بہت زیادہ خراب رہنے لگا ہے۔ بہتر ہے کہ یہ اس گھر سے کچھ لمحوں کے لیۓ باہر نکل جاۓ۔“
اس کی جانب دیکھ کر ہلکی سی سختی کے ساتھ کہا تو وہ بے بسی سے معاذ کو دیکھ کر رہ گٸ۔ اسے وہ اس وقت بہت برا لگ رہا تھا۔ لیکن وہ اس کی جانب متوجہ تھا ہی نہیں۔ اس نے شکستہ سے قدم کمرے کی جانب بڑھاۓ اور لرزتے ہاتھوں سے عبایا پہننے لگی۔ عبایا پہنتے ہوۓ اسے احساس ہوا کہ وہ واقعی یہاں سے بہت دور چلی جانا چاہتی ہے۔ اس گھر سے۔۔ اس گھر کے مکینوں سے۔۔
اور پھر کچھ لمحوں بعد وہ خاموشی سے اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھی، ضبط سے باہر دیکھ رہی تھی۔ معاذ نے بھی اسے متوجہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ خاموشی سے ڈراٸیو کرتا رہا۔
اگلے ہی لمحے اب وہ اس کے پیچھے پیچھے خاموشی سےچل رہی تھی۔ وہ اسے قریبی پارک میں لے آیا تھا۔ رات کے اس خنک سے پہر میں لوگوں کی موجودگی نا ہونے کے برابر تھی۔ وہ خاموشی سے سنگی بینچ پر آ بیٹھا تو رابیل بھی اس کی تقلید کرتے ہوۓ اس بینچ پر آ بیٹھی تھی۔ درمیان میں نا محسوس سا فاصلہ تھا۔
چند پل کوٸ کچھ نہ بولا۔
”کیوں لے کر آۓ ہو تم مجھے یہاں۔۔۔؟“
اس کی آواز اب بھی پھٹی پھٹی سی تھی۔ معاذ نے خاموشی سے اس کی کتھٸ آنکھوں کو دیکھا۔ وہ اس کے ایسے دیکھنے پر لمحہ بھر کو کسمساٸ تھی۔
”تم رو لو رابیل۔۔“
لیکن اس کی اگلی بات پر اس نے حیران ہو کر چہرہ اٹھایا۔ وہ نرم نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”تم۔۔ تم میرا مزاق اڑا رہے ہو۔۔؟“
اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر سے نمی تیرنے لگی تھی۔ معاذ نے گہرا سانس لیا۔ پھر اسے دیکھا۔۔
”تمہیں لگتا ہے میں تمہارا مزاق اڑا رہا ہوں۔۔؟“
اور اس نے ایک دم اتنے مان سے پوچھ لیا تھا کہ رابیل کا دل جو پہلے ہی بوجھل تھا مزید بوجھل ہونے لگا۔ اگر وہ اسی طرح دیکھتا رہتا تو وہ خود پر قابو کیسے رکھے گی۔۔!
”مجھے کوٸ رونا وونا نہیں ہے۔ مجھے گھر جانا ہے۔۔“
وہ بے ساختہ اٹھ کر آگے بڑھنے لگی تو معاذ نے اس کی کلاٸ تھامی۔ وہ اپنی جگہ پر ہی ساکت ہوگٸ تھی۔ آنکھوں کی نمی سوا ہونے لگی۔ اس نے نرمی سے اسے پیچھے کیا، پھر دوبارہ بینچ پر لا بٹھایا۔ وہ بے بس سی ایک بار پھر سے بیٹھ گٸ تھی۔
”میں نے کہا ناں۔۔ رو لو تم آرام سے۔ اتنا سب کچھ اندر نہیں رکھتے اپنے۔ تکلیف بڑھ جاۓ تو جان لے لیتی ہے۔ رونا انسان کو صحت مند رکھتا ہے۔ رو لو تم۔ میں بیٹھا ہوں یہاں۔۔“
”تم بھی مزاق اڑاٶ گے میرا۔۔ سب میرا مزاق اڑارہے ہیں۔ کسی کو میری تکلیف کا کوٸ اندازہ نہیں۔ ک۔۔ کوٸ بھی میرے نظریے سے نہیں سوچ رہا۔ سب کو اپنی زبان کا چٹخارہ چاہیۓ۔ بولنے سے پہلے ایک دفعہ بھی اگر سوچ لیں یہ لوگ تو کبھی اتنی اذیت نہ ہو مجھے۔۔ تم بھی سب جیسے ہو۔۔ تم بھی میرا مزاق اڑاٶ گے۔۔ مجھے پتا ہے سب کا۔۔“
اگلے ہی پل وہ اب آنکھوں پر بچوں کی طرح بازو رکھے رورہی تھی۔ پھوٹ پھوٹ کر۔۔ اندر پلتی اذیت کو جیسے بہت دنوں بعد کسی کے سامنے نکلنے کا موقع مل گیا تھا۔ اس کا تھکا تھکا سا دل اب کہ پوری شدت سے بھنچ رہا تھا۔ معاذ گھٹنوں پر کہنیاں رکھے، ہتھیلیاں باہم ملاۓ جھک کر بیٹھا تھا اور وہ بچوں کی طرح رورہی تھی۔ پھر بازو سے ہی آنکھیں صاف کرنے لگی تو معاذ سیدھا ہو بیٹھا، ہتھیلی پر لپٹا رومال کھول کر اس کی جانب بڑھایا۔ پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس نے چونک کر معاذ کی جانب دیکھا تھا۔ اس کی سرمٸ آنکھوں میں نرمی تھی۔۔ صرف نرمی۔۔ رابیل نے بہت دنوں بعد کسی کی آنکھوں میں اپنے لیۓ آج نرمی دیکھی تھی۔ اس کا لرزتا دل آہستہ آہستہ سنبھلنے لگا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا رومال تھاما۔ اور پھر آنسو صاف کرنے لگی۔
”کیا ہوا تھا۔۔؟ “
اس کے پوچھنے پر رابیل نے اس سے نگاہ چراٸ۔ چہرہ جھکا لیا۔
”کچھ نہیں۔۔“
”کسی نے بدتمیزی کی۔۔؟ کچھ کہا۔۔؟ ہوں۔۔؟“
یا اللہ وہ ایسے کیوں پوچھ رہا تھا۔ اس کا دل بےاختیار ہی اس کی جانب کھنچنے لگا تھا۔ اسے یہ والے معاذ کی عادت نہیں تھی۔
”کچھ نہیں ہوا۔۔ بس ویسے ہی۔۔ چھوڑو۔۔“
”ہر وقت باتوں کو پسِ پشت نہیں ڈالتے رابیل، میں نے تمہیں سجھایا تھا ناں کہ لوگوں کو اپنے اعمال کی وضاحتیں نہیں دیا کرتے۔ نہیں تو وہ آپ کو جیسے چاہیں ویسے ٹرک کر سکتے ہیں۔ صرف ہاں یا ناں میں بات کیا کرو۔۔“
”میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔۔ مجھے ایسے بات کرنے نہیں آتی۔ بہت روڈ ہے یہ۔۔ کوٸ ہرٹ ہوگیا تو۔۔!“
اور وہ بے ساختہ ہی مسکرادیا تھا۔ کبھی کبھی وہ اسے پوری طرح سے حبیبہ جیسی لگتی تھی۔ جسے اپنی کوٸ پرواہ نہیں تھی لیکن اس کی وجہ سے آگے والا زخمی ہوا تو یہ اس کے لیۓ زندگی اور موت کا مسٸلہ تھا۔
”پاگل ہو تم بالکل۔۔“
سر ہلا کر کہا تو اس نے یکدم ابرو اکھٹے کر کے اسے دیکھا۔ گویا برا مان کر دیکھا۔
”یہاں کیوں لے کر آۓ ہو تم مجھے۔۔؟“
”ویسے ہی۔۔ سوچا تمہیں یہ پارک دکھا دوں۔۔“
اس نے بھی کندھے اچکا کر کہا تو رابیل کا دل ہی جل گیا۔ کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مجھے تمہاری فکر تھی۔ (بدتمیز نہ ہو تو۔۔)
”مجھے گھر جانا ہے۔۔ میں تھک گٸ ہوں، مجھے سونا ہے۔۔ معاذ تم سن رہے ہو ناں مجھے۔۔؟“
اس کی غاٸب دماغی پر اس نے آخر میں اس سے پوچھ ہی لیا۔ وہ کسی غیر مرٸ نکتے کو دیکھ رہا تھا پھر یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ رابیل نے ناسمجھی سے بھیگی بھیگی آنکھوں سے دیکھا تھا اسے۔
”تمہیں پتا ہے تم کتنی کمزور لڑکی ہو۔۔! بات تک کرنے نہیں آتی تمہیں لوگوں سے۔ جو بھی سناۓ تم چپ چاپ سن کر آجاتی ہو ان کی بکواس۔۔“
اس نے یکدم اس قدر برہمی سے کہا کہ وہ جو بے یقینی سے اس کا چہرہ تک رہی تھی بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوٸ۔ اس کی سرمٸ آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑی۔
”میں۔۔ کمزور۔۔ نہیں ۔۔ ہوں۔۔ سمجھے تم۔۔!“
اس نے اس قدر درشتی سے کہا لیکن پھر بھی مقابل کو فرق نہیں پڑا تھا۔ مسکرا کر سر جھٹکا جیسے اس کی بات کا مزاق بنایا ہو۔۔
”اچھا۔۔ ! تو تم کمزور نہیں ہو۔۔! پھر کیوں سن کر آٸیں تم ان سب کی باتیں۔۔ یقیناً کوٸ جواب نہیں ہوگا تمہارے پاس انہیں دینے کے لیۓ۔۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں۔۔!“
لیکن وہ بپھر کر یکدم دو قدم اس کے قریب آٸ تھی۔ متورم آنکھیں دہکنے لگی تھیں۔
”میرے پاس جواب تھا۔۔!“
”پھر جواب دیا کیوں نہیں۔۔؟“
”میں۔۔ میں نے جواب اس لیۓ نہیں دیا کیونکہ وہ سب میرا اس جواب کے بعد مزید مزاق بناتے۔ اور مجھے اپنا مزید تماشہ نہیں بنوانا تھا۔ “
”اور تم انہیں اپنا تماشہ بنانے دیتیں۔۔! آگے بڑھ کر ان میں سے کسی ایک کو مکا کیوں نہیں مارا تم نے۔۔؟ مکا مارنا آتا ہے تمہیں۔۔؟“
وہ چند لمحے خاموش سی ہوگٸ۔ پھر چمک کر اسے دیکھا۔
”آتا ہے مجھے۔۔“
اور معاذ شعراوی بے ساختہ گردن جھکا کر ہنس دیا تھا۔ وہ اس کے یوں ہنسنے پر ہتھے سے ہی اکھڑ گٸ۔ اسے گریبان سے پکڑ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ بمشکل اپنے لبوں کو دباۓ مسکراہٹ کو روکے ہوۓ تھا۔
”میرا مزاق مت اڑاٶ۔۔ تمہیں ابھی پتا نہیں ہے رابیل عابد کا۔ میں اگر بولتی نہیں ہوں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ مجھے بولنا نہیں آتا۔ مجھے بولنا آتا ہے اور اپنی زبان سے لوگوں کی چمڑیاں کھینچنے بھی آتی ہیں لیکن اگر میں خاموش ہوں تو صرف اس کا یہ مطلب ہے کہ میں کسی کو بھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔ اس کا مطلب ہرگز بھی یہ نہیں ہے کہ میں کسی کو جواب نہیں دے سکتی۔ میں اگر جواب دینے پر آٶں تو لوگوں کے منہ توڑ دوں لیکن میں یہ نہیں کرتی کیونکہ مجھے یہ نہیں کرنا۔ لیکن اگر۔۔ اگر تم نے ایک اور بار میرا مزاق بنایا تو تم۔۔“
لمحے بھر کو دانت پیسے۔ وہ محظوظ ہوا اس کی شعلہ بیانی سن رہا تھا۔۔
”معاذ شعروای تم گۓ۔۔!“
اس نے ایک جھٹکے سے اس کا کالر چھوڑا تو وہ ذرا سا لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔ رابیل گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ یوں لگتا تھا گویا سینہ کسی بھاری بوجھ سے آزاد ہوا ہو۔ أسے بہت دنوں بعد کھل کر سانس آیا تھا۔ سینے کی تکلیف یکلخت ہی ختم ہونے لگی تھی۔
”واہ رابیل جی۔۔ آپ تو واقعی بولنا جانتی ہیں۔“
اس نے سچ میں قاٸل ہو کر سر ہلایا تھا۔ رابیل نے کڑوے ہوتے حلق کے ساتھ چہرہ ہی پھیر لیا۔
”ویسے وہ کھمبا دیکھ رہی ہو۔۔ وہ وہاں۔۔؟“
اس نے قریب آ کر ہاتھ لمبا کر کے اسے دکھایا۔ اس نے بس ایک نگاہ اس پر ڈالی تھی۔ ایک قہر آلود نگاہ تھی وہ۔
”اگر تم نے مجھ سے پہلے اسے ہاتھ لگالیا تو میں واقعی مان جاٶنگا کہ تم ایک بہادر لڑکی ہو۔ ایک مضبوط لڑکی ہو۔ تم کسی کو بھی اپنی بے عزتی نہیں کرنے دے سکتیں۔ کیونکہ اگر میں نے اسے تم سے پہلے ہاتھ لگا لیا تو پھر میں تمہارا مزاق اڑاٶنگا۔۔ بولو۔۔ منظور ہے۔۔؟“
اس نے آر یا پار والے انداز میں اس سے پوچھا تو اس نے کاٹ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
”اسے میں ہی ہاتھ لگاٶنگی تم سے پہلے۔۔ کیونکہ میں ایک مضبوط لڑکی ہوں۔۔“
”اوکے۔۔ دیکھتے ہیں۔۔“
اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں ایک ساتھ اس دور کھڑے کھمبے کی جانب بھاگے تھے۔ معاذ اس سے چند قدم آگے تھا اور وہ پوری قوت سے بھاگتی ہوٸ اس کے پیچھے۔ اس سمے پارک میں لوگ بالکل بھی نہیں تھے اور دو بیوقوف ایک کھمبے کو پہلے ہاتھ لگانے پر لڑ رہے تھے۔ کھمبے کے تھوڑا قریب پہنچ کر جب معاذ اس سے آگے نکلنے لگا تو اس نے اس کی جیکٹ پکڑ کر اسے اپنے پیچھے دھکیلا۔ وہ اب ہنس رہی تھی۔ معاذ اپنے ہی پیروں میں الجھا اور گر گیا۔ وہ اسے اٹھانے یکدم پیچھے آٸ تو وہ اسے ڈاج دے کر ایک بار پھر سے اٹھ بھاگا۔
”معاذ۔۔ بدتمیز۔۔!!“
وہ بھی اسے کوستی ہوٸ اس کے پیچھے ایک بار پھر سے بھاگی۔ اور آخر کار اس نے معاذ کو ہرا ہی دیا وہ بھاگتے بھاگتے جانے کیسے اپنی رفتار کم کرگیا تھا۔ لیکن رابیل کو اس کی چالاکی سمجھ نہیں آٸ۔ جلدی سے آگے بڑھ کر کھمبے کو ہاتھ لگایا اور پھر خوشی سے ہنس ہنس کر اسے منہ چڑانے لگی۔ وہ گھاس پر پھولا سانس لیۓ بیٹھا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ وہ اب اس کے قریب آ کر اسے زبان دکھا رہی تھی۔
”تم۔۔ تم ہار گۓ معاذ اور میں جیت گٸ۔ مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ میں ہی جیتونگی۔ تم مجھ سے زیادہ تیز نہیں بھاگ سکتے۔ کیونکہ جن کا قد چھوٹا ہوتا ہے وہ تیز بھاگتے ہیں۔۔ اور تم۔۔“
وہ کہتے کہتے رکی۔ پھر ہنس پڑی۔۔ کچھ یاد آگیا تھا اسے۔
”تم تو بیچ میں گر بھی گۓ تھے۔ افف کتنے عجیب لگ رہے تھے تم گرتے ہوۓ۔۔“
وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے گردن پیچھے پھینک کر ہنستی ہی جارہی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ پھر وہ قریب چلی آٸ۔ معاذ کو ہاتھ دے کر اٹھایا۔ رابیل کا چہرہ دیکھ کر اسے بے ساختہ ہی شرارت سوجھی تھی۔
”آہ۔۔ “
اس کی کراہ پر اس نے چونک کر اسے دیکھا۔
”ٹھیک ہو ناں تم۔۔؟ کیا ہوا۔۔؟ کہیں لگ گٸ کیا تمہیں۔؟“
اس نے بے اختیار ہی پریشان ہو کر پوچھا تو معاذ نے شکل اور بیچاری بنا لی۔ ماتھے پر گرتے بال ہولی ہولی ہوا سے اڑ رہے تھے۔
”ہاں۔۔ شاید گرنے سے ٹانگ پر چوٹ آٸ ہے۔۔“
”اوہ۔۔ زیادہ درد تو نہیں ہورہا۔۔؟“
”ہورہا ہے۔۔“
وہ اسے ساتھ لگاۓ بینچ تک لاٸ۔ اسے بٹھایا۔ پھر عین اس کے سامنے بیٹھی۔ جیسے ہی اس کی جینز کو ہاتھ لگایا اس نے پیر بے ساختہ پیچھے کیا تھا۔ رابی نے چونک کر اسے دیکھا۔ لیکن وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ذرا آگے جھکا۔ وہ آنکھیں پھیلاۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”تو ثابت ہوا کہ مس رابیل بہت مضبوط ہیں۔۔ روتے ہوۓ بھی اچھی لگتی ہو۔۔ لیکن رلاتے ہوۓ زیادہ اچھی لگو گی۔ آٸندہ کبھی کسی کی بکواس سن کر نہ آنا۔ لوگ رلاٸیں تو تم بھی انہیں رلا کر آنا۔“
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا۔ چہرے کی سنجیدگی واپس لوٹ آٸ تھی۔ وہ یک ٹک اسے تک رہی تھی۔
”اور۔۔ اور اگر ایسے میں کسی نے مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو۔۔ مجھے مکا مارنا نہیں آتا۔۔“
معاذ نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے۔۔ اس کے یخ سے ہاتھ اب معاذ کی مضبوط ہتھیلیوں میں تھے۔ وہ سانس روکے دیکھ رہی تھی اسے۔
”تو پھر معاذ اسے خود دیکھ لے گا۔ تمہیں اس کے آگے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں بس لوگوں کو اتنی اجازت نہیں دینی کہ وہ آٸیں اور تمہیں ہرٹ کر کے چلے جاٸیں۔ تم نے اپنے لیۓ خود اسٹینڈ لینا ہے۔ آٸندہ تم نے رلا کر آنا ہے رابیل۔۔ میں تمہیں اب یوں شکستہ سا روتا ہوا نہ دیکھوں۔۔!“
اور اسے اسی وقت ان سرمٸ آنکھوں سے محبت ہوٸ تھی۔ وہ آنکھیں گہری تھیں۔۔ اسے لگا وہ ڈوب جاۓ گی۔
”میں آٸندہ کبھی بھی کسی کو اتنی اجازت نہیں دونگی معاذ۔۔ میں اب کبھی کسی کو مجھے ہرٹ کرنے نہیں دونگی۔۔“
اس نے ان آنکھوں کے سحر میں ڈوبتے ہوۓ بے ساختہ کہا تو وہ مسکرایا۔ وہی ہلکی سی اپناٸیت بھری مسکراہٹ۔
”کیونکہ تم اب صرف تمہاری نہیں ہو۔ تم اب میری ہو۔۔!“
اور یہ لفظ کہہ کر تو اس نے رابیل عابد کو آج کہیں اپنے اندر ہی قید کرلیا تھا۔ وہ آہستہ سے اسے اپنے ساتھ لے کر ہی اٹھا۔ اس نے گردن جھکا کر اس کی ٹانگ کو دیکھا، معاذ جو اس کی نظروں کے زاویے ہی کو دیکھ رہا تھا یکدم اپنی امڈتی مسکراہٹ روکی۔ رابی نے مشکوک سا آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا تھا اسے۔
”تمہاری تو ٹانگ میں درد تھا ناں۔!“
”ختم ہوگیا۔۔“
”جنگلی خر۔۔!“
اور اس کی بہت مدھم سی سرگوشی پر وہ ایک بار پھر سے اپنی امڈتی مسکراہٹ سمیٹ رہا تھا۔۔ وہ دونوں ساتھ چلتے اب کہ اس دھند میں نظروں سے اوجھل ہوتے جارہے تھے۔ رابیل مسلسل اسے کوس رہی تھی اور وہ مستقل سر نفی میں ہلا کر اس کی ہر بات رد کرتا جارہا تھا۔ اس خنک سی رات میں دور کہیں تاروں کے پار حبیبہ اداسی سے مسکراٸ تھیں کیونکہ ان کے دونوں بچے۔۔ ان کے دونوں بچے آج خوش تھے۔۔!
