#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
آٹھویں_قسط
معاذ کو دیکھتیں اس کی نگاہیں ارحم پر پھسلی تھیں۔ وہ اس کے یوں لمحے بھر میں سامنے آنے پر حیران ہوا تھا۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس کی پیشانی پر بل پڑے۔ رابیل جو معاذ کے ساتھ سے اب کے نکل کر کھڑی ہوگٸ تھی، اس نے بے ساختہ دیکھا تھا اسے۔
"تم درمیان میں کیوں آرہے ہو۔۔؟"
"میں تو اب درمیان میں آچکا ہوں۔"
اس کا جملہ سادہ نہیں تھا اور اس کا مطلب ارحم کو بخوبی سمجھ بھی آگیا تھا اسی لیۓ دانت کچکچا کر اب کے معاذ کو دیکھا تھا اس نے۔
"میں تم سے بات نہیں کررہا۔۔"
"لیکن میں تمہی سے بات کررہا ہوں۔ کیا پوچھنا تھا تم نے۔۔ پوچھو اب۔۔ بہت اچھے سے جواب دونگا میں تمہیں۔۔"
"رابیل اور میرے درمیان آ کر تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے معاذ۔۔!"
اس کی سرد سی آواز پر معاذ نے تلخی سے مسکرا کر سر جھٹکا تھا۔ پھر سرمٸ آنکھوں کے کانچ اس کی آنکھوں میں گاڑے۔ ان آنکھوں کا کانچ اس سمے سیاہ دکھ رہا تھا۔۔ جیسا کہ ہمیشہ طیش میں آنے پر اس کا ارتکاز سیاہ ہوجایا کرتا تھا۔ رابیل سانس روکے ان دونوں کو تک رہی تھی۔
"جن غلطیوں کے نتاٸج درست نکل آٸیں۔ میرے یہاں انہیں غلطیاں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ "
"لیکن میرے یہاں انہیں پھر بھی غلطی ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔۔"
"تو یہ تمہارا مسٸلہ ہے، ہمارا نہیں۔۔"
رابیل نے یکدم اس کے "ہمارا" کہنے پر اسے چونک کر دیکھا تھا۔ ارحم نے اس کا چونکنا دیکھ لیا تھا۔ اسی لیۓ کڑوی سی مسکراہٹ کے ساتھ معاذ کو دیکھا۔
"کیا اپنے یہاں کے قانون اس بھولی لڑکی کو سمجھاۓ ہیں تم نے یا پھر اسے بھی اپنی غلطیوں کی طرح اچھے سے تسلیم کرنے کے عادی ہو تم۔۔!"
وہ طنز تھا۔۔ ایک کڑا طنز۔۔ معاذ کے جبڑے بھنچ گۓ۔ ابرو تن گۓ۔ سرمٸ ارتکاز مزید سیاہ ہونے لگا۔
"یہ بھولی لڑکی اب میری بیوی ہے۔ بہت اچھے سے یہ بات تم بھی جانتے ہو اور تمہارے گھر والے بھی۔ اسی لیۓ تمہیں اس بابت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں کس کو کتنا آگاہ کرتا ہوں اور کس کو۔۔"
ایک نگاہ اوپر سے لے کر نیچے تک اس نے ارحم پر ڈالی تھی۔
"کس کو اپنی آگاہی کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتا۔۔"
"تم۔۔!"
ارحم نے بے ساختہ لبوں پر آتی کوٸ گالی روکی تھی شاید۔ رابیل نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔ اس انسان سے کبھی اس نے امیدیں وابستہ کی تھیں۔! کتنی بےوقوف تھی تب وہ۔۔ لیکن معاذ ویسے ہی کھڑا رہا، بنا کوٸ تاثر دیۓ۔
"اپنی ذات کے گٹر کو بند رکھو۔ اور آٸندہ رابیل کا راستہ روکنے کی کوشش بھی مت کرنا نہیں تو راہ چلتے کتوں کے آگے لاش ڈال دونگا تمہاری۔ ابھی جانتے نہیں ہو تم مجھے۔ جتنی میری مافیا راج میں دوستیاں ہیں، اتنی ساری دنیا میں تمہاری رشتےداریاں نہیں ہونگی۔۔ سمجھے۔۔!"
آخر میں جھڑک کر کہا تو رابیل لمحہ بھر کر سہم سی گٸ۔ ارحم تو ایک پل کے لیۓ مافیا کا نام سن کر ہی گنگ ہوگیا تھا۔ اسے ایسے لوگوں سے ہمیشہ سے خوف آتا تھا، کجا یہ کہ وہ ان سے یوں روبرو بات کرتا۔ اور اسے معاذ کی اس بات پر یقین بھی نہیں آنا تھا لیکن پچھلے دنوں معاذ کو چھانتے ہوۓ اسے اندازہ ہوا تھا کہ اس کی "دوستیاں" یقیناً اچھے لوگوں کے ساتھ نہیں تھیں۔
"آٸندہ۔۔"
اس نے انگشتِ شہادت اٹھاٸ تھی۔
"میں زبان سے نہیں سمجھاٶگا۔ یاد رکھنا۔۔!"
اس نے ایک آخری سرد نگاہ اس پر ڈالی اور پھر رابیل کو ہاتھ سے پکڑے آگے بڑھ گیا۔ وہ اس کے ساتھ خاموشی سے کھنچتی چلی جارہی تھی۔ داخلی دروازہ پار کرنے کے بعد اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑدیا تو وہ بھی یکدم جیسے ہوش میں آٸ۔
"تمہیں اتنا۔۔ اممم۔۔ حساس ہونے کی ضرورت نہیں ہے معاذ۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔"
اس نے آہستہ سے کہا تھا۔ معاذ نے لمحے بھر کو اس کی جانب دیکھا۔
"میں حبیبہ کو کھو چکا ہوں۔۔ لیکن میں رابیل کو نہیں کھونا چاہتا۔۔"
اور اس کے اس قدر براہِ راست سے جملے پر رابی ناچاہتے ہوۓ بھی چھوٹے بچوں کی طرح آنکھیں پھیلاۓ اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ سنجیدہ تھا۔۔ بے حد سنجیدہ۔۔
"اور۔۔ اور اگر میں خود اس رشتے سے آزادی چاہوں تو۔۔ کیا کروگے تم۔۔؟"
اس نے تجسس کے مارے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا تھا۔ معاذ کی سنجیدگی میں رتی برابر بھی فرق نہ آیا۔۔ نہ ہی آنکھیں حیرت سے پھیلیں اور نہ ہی پیشانی پر کوٸ شکن ابھری۔۔
"تو میں تمہیں۔۔ ابھی کہ ابھی آزاد کردونگا۔۔"
اور جب وہ بولا تو آواز بالکل نارمل تھی۔ رابیل نے یکدم تیزی سے پلکیں جھپکاٸیں۔ اسے اس انسان سے بہت دیکھ بال کر سوالات کرنے تھے۔ کیونکہ وہ لگی لپٹی نہیں رکھا کرتا تھا۔ وہ صاف سیدھی بات کرنے کا عادی تھا۔
"لیکن اگر تمہاری رضامندی کے ساتھ کسی نے تمہیں اس رشتے کو لے کر کوٸ بھی تکلیف پہنچانے کی کی کوشش کی تو پھر میں انہیں اپنے طریقے سے سمجھاٶنگا۔"
"کیا کروگے تم۔۔؟"
اس نے بنا پلک جھپکاۓ پوچھا تھا اس سے۔ معاذ اس کے ایسے پوچھنے پر چند پل اسے دیکھتا رہا پھر کندھے اچکاۓ۔ چلو جی۔۔ وہ اپنے سوٸچ موڈ پر واپس جاچکا تھا۔ اب تو وہ اسے الٹا بھی ٹانگ دیتی تب بھی اس کے اندر سے بات نہیں نکلنی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر اس بات کو بھول جانے ہی میں عافیت سمجھی تھی۔
" کیسے آگۓ تم۔۔؟"
"تم نے مجھے اسی رات کیوں نہیں بتایا کہ گھر والے تمہیں پریشراٸز کررہے ہیں اس رشتے کے حوالے سے۔۔ ؟"
اور یکدم اس کے تہہ تک پہنچ جانے پر رابیل نے بے ساختہ شرمندہ ہو کر ادھر ادھر دیکھا تھا۔ اوپر ریلنگ سے ردا اور شزا ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ اس نے پلکیں جھپکا کر ایک بار پھر سے معاذ کی جانب دیکھا تھا۔
"میں خود کو اور تمہارے سامنے ہلکا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ایک جانب میں اپنے گھر والوں کے لیۓ اس قدر بوجھ بن گٸ کہ انہوں نے تمہاری رضامندی پر جھٹ سے شادی کے لیۓ ہامی بھر لی لیکن پھر اگلے ہی لمحے جب تم ان کی امیدوں پر پورے نہیں اترے تو انہوں نے تم سے رشتہ توڑنے کے لیۓ مجھ پر زور ڈالنا شروع کردیا۔ میری عزت نفس اس سارے عرصے میں بہت مجروح ہوٸ تھی معاذ۔ میں تمہارے سامنے اپنا بھرم یوں نہیں توڑنا چاہتی تھی۔"
اس کے دکھی ہو کر کہنے پر معاذ نے ایک لمحے کو گہرا سانس لیا تھا۔ پھر سر ہلایا۔۔
"بلاٶ بابا کو ۔۔۔ بات کرنی ہے میں نے ان سے۔۔"
"بابا کو۔۔ انہیں کیوں۔۔؟"
اور رابیل جو تہے دل سے چاہتی تھی کہ وہ گھر چلا آۓ۔ بابا کے سامنے بیٹھ کر دوٹوک بات کرلے، اس کے اس طرح سے کہنے پر یکدم گھبرا گٸ تھی۔ معاذ نے ایک لمحے کو رک کر دیکھا تھا اسے۔
"تم اس رشتے کے لیۓ راضی ہو۔۔؟"
اس کا سوال اس قدر سیدھا تھا کہ وہ بے اختیار ہی ہامی بھر گٸ۔ پھر یکدم سر نفی میں ہلایا پھر ناسمجھی سے ہاں میں۔۔ اف۔۔
"ایسے منواتے ہیں لوگوں سے اپنی بات۔ جاٶ اب بلاٶ انہیں۔ مجھے بات کرنی ہے۔"
"تم ہمیشہ سے ہی اتنے بدتمیز تھے یا پھر مجھ سے ملنے کے بعد ہوۓ ہو۔۔؟"
اس کے یوں گھیرنے پر وہ تلملاٸ تھی۔ معاذ نے کندھے اچکاۓ۔۔ پھر ٹھوڑی کھجاٸ۔۔
"ہمیشہ سے ہوں۔۔"
"اور اگر میں بابا کو نہ بلاٶں تو کیا کروگے تم۔۔"
ایک پل کو اپنی ٹھوڑی اٹھا کر بڑے اطمینان سے پوچھا تھا۔ وہ مسکرایا، پھر نفی میں سر ہلایا۔۔
"تو میں یہ کرونگا۔۔"
جھک کر اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے ساتھ لیۓ زینوں کی جانب بڑھا۔ اسے پہلے تو سمجھ نہیں آیا اور پھر جب سمجھ آیا تو وہ یکدم گھبرا گٸ۔
"معاذ نہیں۔۔ معاذ میری بات سنو۔۔ بابا گھر پر نہیں ہیں۔۔ معاذ۔۔"
لیکن وہ اسے اپنے ساتھ لیۓ آگے ہی آگے بڑھ رہا تھا۔ کچھ معاملات میں وہ واقعی بہت ٹیڑھا تھا۔ رابیل کو وقار کی پچھلی بات اب سمجھ آٸ تھی۔ ردا اور شزا بھی اس کے یوں آرام سے بابا کے کمرے کی جانب بڑھنے پر گڑبڑا کر ان کے پیچھے ہی آٸ تھیں۔ رامین اس ہلکے پھلکے سے شور پر کچن سے باہر نکلیں تو دیکھا ارحم داخلی دروازے ہی میں ایستادہ تھا۔ وہ اسے دیکھ کر چونکیں۔۔ پھر مسکرا کر اسے بیٹھنے کو کہا۔۔ وہ چار و ناچار لاٶنج میں آ کر بیٹھ ہی گیا تھا۔ اس کے چہرے کی فاتحانہ سی چمک غاٸب تھی۔ معاذ اور رابیل کو یوں ایک ساتھ دیکھ کر اسے بہت کچھ غارت ہوتا ہوا نظر آرہا تھا۔۔
اس نے عابد کے کمرے کے باہر رک کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ رابیل کی جانب دیکھا۔۔ جو مسلسل نفی میں سر ہلا کر اسے روک رہی تھی۔
"معاذ نہیں۔۔ معاذ پلیز۔۔"
لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہورہا تھا۔ عابد جو راکنگ چیٸر پر جھولتے کوٸ کتاب پڑھ رہے تھے لمحے بھر کو معاذ اور رابیل کو یوں ساتھ دیکھ کر ٹھٹکے۔۔ ان کی جھولتی کرسی تھم گٸ تھی۔ وہ سیاہ جیکٹ میں ملبوس اس سادہ سے قمیض شلوار والی رابیل سے اونچا تھا۔
اس نے کمرے میں آکر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا لیکن اس نے یہ عابد کو دکھا کر چھوڑا تھا۔ وہ واقعی لفظوں سے پہلے ہی انسان کو سمجھانے کا عادی تھا۔ اس کے اس عمل نے عابد کو بھی لمحے بھر میں بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔
"اسلام علیکم۔۔ کیسے ہیں چچا آپ۔۔؟"
پھر وہ ان کے عین سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔ ردا اور شزا بھی دروازے میں آ کھڑی ہوٸ تھیں۔ عابد کو سلام کا جواب دینے میں چند لمحے لگے۔ رابیل تو اپنی جگہ پر ہی جم گٸ تھی۔
"م۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ تم کیسے ہو۔۔؟"
"ٹھیک۔۔"
چند لمحوں کے لیۓ سارے کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا۔ پھر رابیل ہی نے کھنکھار کر بات کا آغاز کرنا چاہا تو اسی وقت معاذ کی آواز ابھری۔
"آپ اس رشتے سے خوش نہیں ہیں چچا۔۔؟"
اف۔۔ کوٸ اتنا صاف گو کیسے ہوسکتا ہے۔۔! رابیل کا دل کیا وہ سب چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے بھاگ جاۓ۔ اس کی صاف گوٸ پر عابد بھی چند لمحوں کے لیۓ بری طرح سے گڑبڑاۓ تھے۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ اسے کیا جواب دینا چاہیۓ۔۔
"خوش ہیں تب بھی مجھے بتادیں اور اگر خوش نہیں ہیں تب بھی بتادیں۔ میں آپ کے ساتھ کوٸ زبردستی نہیں کرونگا ۔۔"
معاذ کا لہجہ اس کے مخصوص لہجے سے خاصہ مختلف تھا۔ بالکل نرم اور ہموار سا۔۔ جانے یہ شخص اور کتنی پرتیں لیۓ ہوۓ تھا خود میں۔ لوگ جو اندازے اس کے بارے میں قاٸم کیا کرتے تھے اگلے ہی لمحے وہ کسی ایسے نرم سے انداز سے ان کے اندازے ، انہی پر الٹ دیا کرتا تھا۔۔ جیسے کہ اس نے ابھی یہی عابد کے ساتھ کیا تھا۔۔
"تم اتنے دن کہاں غاٸب تھے۔۔؟"
"میں تو اتنے سالوں سے غاٸب تھا چچا کیا فرق پڑتا ہے اس سے۔ لیکن میں اگر کسی بات پر آپ کو زبان دے کر گیا تھا تو اس کا مطلب تھا کہ میرا پلٹنا یقینی سی بات ہے۔ اس کے لیۓ آپ کو کسی پر بھی دباٶ ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔"
اور عابد کی نگاہ اگلے ہی لمحے رابیل پر اٹھی تھی۔ اس نے سر پورا جھکا رکھا تھا۔ وہ ابھی اپنی صفاٸ میں کہنے کے لیۓ کچھ بھی ساتھ نہ لاٸ تھی۔ یا اللہ وہ کیا کرے۔
"میں بیٹی کا باپ ہوں۔ پریشان نہ ہوتا تو کیا کرتا بھلا۔۔؟"
"ّکسی اور کے پاس جانے سے پہلے مجھ سے بات کرتے آپ۔ سارا مسٸلہ ختم ہوجاتا۔"
اس نے گھٹنوں پر رکھی کہنیوں کی ہتھیلیاں باہم ملا رکھی تھیں۔ سنجیدگی اس قدر گہری تھی کہ عابد اس کی کسی بھی بات ہر ہلکا پھلکا سا تاثر دے ہی نہیں سکتے تھے۔ اس لڑکے کو رشتے سنبھالنا آتے تھے۔۔ اسے رشتے بچانا آتے تھے۔ انہیں اندازہ ہورہا تھا۔۔
"مجھے واقعی تم سے بات کرنی چاہیۓ تھی۔"
اور ان کے اس طرح سے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر رابیل نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔ ردا اور شزا نے حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
"مجھے اگر اس رشتے سے مسٸلہ ہوتا تو میں پہلی دفعہ ہی اس کے لیۓ ہامی نہیں بھرتا چچا۔ لیکن مجھے اس سے کوٸ مسٸلہ نہیں ہے۔ ان فیکٹ جتنے مسٸلے تھے وہ بھی سلجھادیۓ ہیں کسی نے۔۔"
ایک نظر اٹھا کر رابیل کو دیکھا تھا، وہ بے یقین نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ردا اور شزا نے بے ساختہ ابھرتی مسکراہٹ دباٸ تھی۔ آہ۔۔ وہ معاذ تھا۔۔ اس پر صرف حیرت ہی کی جاسکتی تھی۔ عابد کنھکھار کر سیدھے ہوۓ۔
"تو تمہیں اس رشتے سے واقعی کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔؟"
"نہیں۔۔"
اور اس کے اس یک لفظی جواب پر رابیل کے کندھے بے ساختہ ہی بوجھ سے آزاد ہوۓ تھے۔ عابد کے چہرے پر حیرت اب تک رقم تھی۔ وہ اگلے ہی لمحے اٹھ کھڑا ہوا۔ عابد بھی اسی کے ساتھ اٹھے تھے۔
"آٸندہ کوٸ بھی مسٸلہ ہو، تو چچا سب سے پہلے مجھ سے بات کیجیۓ گا آپ۔ میں یقیناً آپکو جھوٹی امیدیں نہیں دلاٶنگا۔"
اور عابد نے پہلی بار اس کے کہنے پر مسکرا کر سر ہلایا تھا۔ اور ان کے اس جواب پر وہ کسی جذباتی سے لڑکے کی طرح آگے بڑھ کر ان کے گلے نہیں لگ سکتا تھا۔ وہ کبھی بھی ان سے بے تکلف نہیں تھا۔ اسی لیۓ اس نے آگے بڑھ کر ان سے محض مسکراتے ہوۓ مصافحہ کیا تھا۔ پھر سر ہلا کر پلٹ گیا۔ رابیل، ردا اور شزا تینوں اس کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلی تھیں۔ پیچھے عابد نے گہرا سانس لے کر ہلکے کندھوں کے ساتھ کتاب ایک بار پھر سے کھولی اور راکنگ چیٸر پر بیٹھ گۓ۔
"مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی معاذ۔۔"
وہ خفا تھی یا خوش۔۔ اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
"پھر کیا امید تھی تمہیں مجھ سے۔۔؟"
وہ تینوں اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ ردا اور شزا ان سے ایک قدم پیچھے تھیں۔ جبکہ معاذ اور رابیل ایک قدم آگے۔
"تم ایسے کیسے بابا سے بات کرسکتے ہو۔۔؟"
"تو پھر کیسے بات کرنی چاہیۓ تھی مجھے۔۔؟"
"ایٹ لیسٹ تھوڑا سا تو جھجھکتے۔ بات کرتے ہوۓ جگہ جگہ رکتے تاکہ بابا کو لگتا کہ تم اس رشتے کے لیۓ کتنے حساس ہو۔ یہ کیا تم گۓ، اور بھٸ دھڑ دھڑ۔۔ ایسے تھوڑی ہوتا ہے۔۔"
اسے تو صدمہ ہی پہنچ گیا تھا۔ ردا اور شزا رابیل کی بات پر ہنس دی تھیں اور معاذ نے لبوں پر امڈتی مسکراہٹ بے ساختہ ہی روک لی تھی۔
"مجھے تو بس ایسے ہی بات کرنے آتی ہے۔"
پھر سے کندھے اچکاۓ تو رابیل کا دل کیا ساتھ رکھا گل دان اس کے سر پر دے مارے۔ ہر وقت کندھے اچکا کر سارا قصہ ہی مکا دیا کرتا تھا وہ۔ برا سا منہ بنا کر وہ وہیں رک گٸ تو وہ چلتے چلتے بے ساختہ رکا۔ اسے پلٹ کر دیکھا۔ ردا اور شزا نے بھی اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔ اسے لگا کہ وہ ابھی آگے آۓ گا۔۔ ایک بار پھر سے اسے ہاتھ سے پکڑ کر پرٹوکول کے ساتھ نیچے لے کر جاۓ گا لیکن نہ بھٸ۔ وہ معاذ ہی کیا جو آپ کو نظر انداز نہ کرے۔ اگلے ہی لمحے وہ سر ہلا کر نیچے اترا تو رابیل بھی گہرا سانس لے کر آدھے راستے سے بابا کے کمرے کی جانب پلٹ گٸ۔ اسے ابھی ان سے کچھ حساب چکتا کرنے تھے۔ کچھ باتوں کی وضاحت اسے ابھی چاہیۓ تھی۔
اسے زینوں سے اترتا دیکھ کر رامین حیرت سے اٹھ کھڑی ہوٸ تھیں۔ وہ بھی نرم سا تاثر لیۓ صوفے کی پشت تک چلا آیا۔ لاٶنج میں بیٹھے ارحم کو یکسر نظرانداز کیا۔
"بیٹا معاذ۔۔ آپ۔۔۔ آپ کب آۓ۔۔؟"
"بس تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا چاچی۔ عابد چچا سے بات کرنی تھی کچھ۔ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟"
"جی جی بیٹا۔۔ آپ بیٹھو ناں۔۔"
رامین کو سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے یوں سامنے ہونے پر کس طرح کا ردعمل دینا چاہیۓ۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلایا تھا۔
"بس چاچی چلتا ہوں۔ آپ خیال رکھیۓ گا اپنا۔۔"
اور اگلے ہی لمحے وہ داخلی دروازے سے باہر تھا۔ ہاں وہ آج بھی اتنا ہی کم گو تھا جتنا کہ اس پہلے دن۔ لیکن اب اس کے انداز کی بیزاریت بہت حد تک کم تھی۔ غیر آرام دہ سے ارحم نے بھی پہلو بدلا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔
"میں بھی چلتا ہوں مامی۔۔"
رامین اسے روکتی رہ گٸیں لیکن وہ نہ رکا۔ اگلے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے کندھوں پر بوجھ مزید بڑھ رہا تھا۔ کیسے وہ بابا کی دیوالیہ ہوٸ کمپنی کو مزید چھپا سکے گا۔۔؟ اور اگر وہ چھپا نہ سکا تو ان سے وہ پیسے کیسے وصول سکے گا۔۔ اسے جلد از جلد کچھ سوچنا تھا۔ چہرے پر ناقابلِ فہم تاثرات سجاۓ وہ آگے بڑھا تو رامین نے حیرت سے پلٹ کر ردا اور شزا کو دیکھا۔۔
"اسے کیا ہوا۔۔۔؟"
"جھاڑ پڑی ہے معاذ بھاٸ سے۔۔"
مزے سے کہنے والی ردا تھی۔ لیکن اس کی بات پر رامین نے پریشانی سے وضاحت کے لیۓ شزا کی جانب دیکھا تھا۔
"رابی کو تنگ کررہے تھے۔ معاذ بھاٸ نے دیکھ لیا تو سیدھا کردیا۔ ہم دونوں پچھلی بالکونی سے دیکھ رہے تھے۔۔"
"اور اوپر کیا بات ہوٸ۔۔؟"
وہ حیرتوں میں گھری، بے اختیار بولیں تو ردا دلچسپی سے آگے کو ہوٸ۔
"یار ماں۔۔ معاذ بھاٸ کیا اسٹریٹ فارورڈ ہیں۔ بڑی سے بڑی بات یوں کرجاتے ہیں جیسے کوٸ مسٸلہ ہی نہیں۔ "
"کیا بات ہوٸ۔۔؟"
"بات کیا ہونی تھی۔۔؟ جاتے ہی بابا سے پوچھا کہ انہیں اس رشتے پر کوٸ اعتراض تو نہیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔۔ پھر وہ آرام سے تسلی دے کر گۓ کہ اگر کوٸ مسٸلہ ہوتا تو وہ پہلے ہی بتا دیتے۔ لیکن انہیں کوٸ اعتراض نہیں۔ رابی کو تو بات ہی نہیں کرنے دی انہوں نے اور ایک طرح سے اچھا ہی کیا۔ رابی نے سو دفعہ تو ہچکچانا تھا۔ بات کیا خاک مکمل کرتیں وہ۔ "
"یا اللہ تیرا شکر۔۔"
رامین نے بے اختیار شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔ شزا اس سب میں البتہ بالکل خاموش سی بیٹھی ہوٸ تھی۔ کچھ تھا جو اس کے چہرے پر نظر آرہا تھا لیکن ردا اور رامین نے اس کی جانب توجہ ہی نہ کی۔
وہ دوبارہ ان کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ تو اپنی کتاب کی جانب متوجہ عابد نے اسے بے اختیار دیکھا۔ وہ وہیں ہاتھ باندھے دروازے ہی میں کھڑی ہوگٸ تھی۔ انہوں نے آہستہ سے کتاب بند کی اور اسے تپاٸ پر رکھ اس کی جانب متوجہ ہوۓ۔
”تو آپ راضی تھے اس رشتے کے لیۓ۔۔؟“
عابد اس کے سوال پر حیران نہیں ہوۓ۔ مسکراتے ہوٸ اسے دیکھے گۓ۔
”ہاں۔۔“
”تو پھر آپ نے مجھے وہ سب کیوں کہا۔۔۔؟ آپ نے وہ سب باتیں ماں سے کیوں کہیں کہ میں اس رشتے کے لیۓ راضی نہیں ہوں یا آپ میرا نکاح ارحم سے کرنا چاہتے ہیں۔۔؟ جب آپ شروع دن سے ہی اس سب کے لیۓ راضی تھے تو آپ نے ایسا کیوں کیا بابا۔۔؟“
وہ حیران تھی۔۔ اور ذرا خفا بھی۔۔ اسی لیۓ ہاتھ باندھے اب تک دروازے کے آگے ہی کھڑی رہی تھی۔ عابد نے گہرا سانس لیا۔ پھر اسے دیکھا۔
”میں اس رشتے کے لیۓ راضی ہوں یہ سچ ہے۔ لیکن مجھے ارحم کے رشتے پر بھی کوٸ اعتراض نہیں تھا۔“
”لیکن بابا۔۔!“
”ہاں ٹھیک ہے میں نے وہ سب کہا۔ لیکن جانتی ہو میں نے وہ سب کیوں کہا تھا۔۔؟ کیونکہ تم اس حوالے سے بالکل بھی دلچسپی نہیں لے رہی تھیں۔ تم نے سب کچھ ایک دم خاموشی سے قبول کرلیا یہاں تک معاذ کی غیر حاضری بھی۔ تمہیں یہ سب ٹھیک لگ رہا تھا رابیل لیکن یہ سب اصل میں ٹھیک نہیں تھا۔ جب ہم رشتے جوڑتے ہیں، تو ان رشتوں کی پاٸیداری کے لیۓ ان پر محنت بھی کرتے ہیں۔ میں نے تو بس ایسا موقع پیدا کیا تھا کہ تم اپنے اس نۓ رشتے پر محنت کرو۔ تم اسے سنجیدگی سے لو۔ چھوٹی ہو ابھی تم۔۔ اتنی بڑی نہیں ہو کہ میں معاملات تمہارے ہاتھ میں دے کر آرام سے بیٹھ جاتا۔ اور جہاں تک رہی بات معاذ کی۔۔“
وہ رکے۔۔ رابیل خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔ ساتھ ساتھ خفگی بھی سمٹ رہی تھی۔
”اسے میں جانتا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ آۓ گا لیکن اتنی جلدی وہ آجاۓ گا۔۔ مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔“
انہوں نے اپنی بات ختم کر کے ایک بار پھر سے شفقت کے ساتھ مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ بے اختیار ہی آگے بڑھ آٸ۔ ان کے گھٹنوں کے عین سامنے پنجوں کے بل بیٹھی۔
”آپ جانتے ہیں میں آپ کے اس فیصلے سے کتنا ڈر گٸ تھی۔۔“
عابد نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
”جانتا ہوں۔ تم ڈر گٸ تھیں جبھی تو آگے بڑھ کر اس رشتے کو بلا خوف و جھجھک قبول کرنے کی جرأت کی تھی تم نے۔ ہم جب تک ڈرتے نہیں ہیں تب تک ہم میں ہمت نہیں آتی۔ ڈر کے آگے جیت ہے۔۔“
وہ آخر میں ان کے ایسے انداز پر ہنسی تو عابد بھی ہنس دیۓ۔ بہت دنوں بعد اس نے پرانے والے عابد کو دیکھا تھا۔ نہیں تو پچھلے مہینے کی مستقل چلتی چپقلش اور ناہموار واقعات نے، اس کے اور عابد کے درمیان بہت سا فاصلہ کھڑا کردیا تھا۔
”آپ میرے حجاب لینے سے ناخوش ہیں بابا۔۔؟“
اس نے نرمی سے پوچھا تو وہ مسکراۓ۔۔ پھر اس کی کتھٸ سی آنکھوں کو اپناٸیت سے دیکھا۔
”سچ پوچھو تو میں خود کوٸ بہت مذہبی آدمی نہیں ہوں لیکن پھر بھی مجھے تمہارے اس دوپٹے سے کوٸ مسٸلہ نہیں۔ پریشان میں تب ہوا تھا جب اس سب کا اثر تمہارے رشتے پر پڑا۔ لیکن پھر تمہارے اس اٹل فیصلے کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ تم صاٸمہ کے گھر کے لیۓ مناسب نہیں ہو۔ تمہارے رشتے کے لیۓ بھی اسی وجہ سے اتنی جلدی ہامی بھری تھی میں نے کیونکہ میں دل سے اس پر راضی تھا۔۔“
وہ حیرتوں میں گھری انہیں سن رہی تھی۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بابا اس کے بارے میں اتنا حساس ہو کر سچتے ہونگے۔۔
”مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ آپ میرے بارے میں اتنے سینسٹو ہیں۔۔!“
”تمہارے بارے میں سینسٹو کیوں نہیں ہونگا۔۔؟ مجھے ردا اور شزا کی اتنی فکر نہیں ہوتی جتنی تمہاری ہوتی ہے۔ ان کا مجھے پتا ہے، کوٸ بھی غلط بات ان سے کرے گا تو بچ کے نہیں جاسکتا لیکن وہ ہی بات اگر تم سے کوٸ کرے گا تو تم اسے جواب دینے کے بجاۓ ہرٹ ہو کر واپس آجاٶگی۔ مجھے تمہارے معاملے میں حساس ہونا ہی پڑتا ہے۔“
اس نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا۔ اندر کہیں شرمندگی بھی ہوٸ۔
”میں۔۔ میں اب اتنی بھی کمزور نہیں ہوں۔ مجھے بھی لوگوں کو جواب دینے آتے ہیں۔ مجھے بھی ان کی طبیعت درست کرنے آتی ہے۔ پہلے مجھے یہ سب نہیں آتا تھا لیکن اب آتا ہے۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب مجھے آنا چاہیۓ۔۔“
”بالکل۔۔“
وہ متفق ہو کر سیدھے ہو بیٹھے۔۔
”لیکن ابھی بھی تم کچی ہو۔ ابھی تمہیں تھوڑی اور محنت کی ضرورت ہے۔ بلکہ تھوڑی کیوں ۔۔ ابھی تمہیں بہت محنت کی ضرورت ہے۔ تم قدرتی طور پر حساس ہو۔۔ ان باتوں کو بھی محسوس کرلیتی ہو جو بہت باریک ہوتی ہیں۔ لہجوں کی ہلکی سی تلخی اور آنکھوں کے کنایوں پر بھی تمہارا دل بوجھل ہوجاتا ہے۔ تمہیں خود پر ابھی اور محنت کی ضرورت ہے۔ “
”لیکن بابا۔۔ پھر یہ تو میری نیچر ہے ناں۔۔ میں اسے اپنے اندر سے کیسے نکالوں۔۔؟ آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔ یہ بہت چھوٹی باتیں ہیں، لیکن مجھے تکلیف دے جاتی ہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ انہیں خود پر حاوی نہ ہونے دوں لیکن میرے لیۓ یہ ناممکن سی بات ہے۔۔“
عابد نے سر ہلایا تھا۔
”ایسا ہی ہے۔ تم اسے مکمل طور پر کبھی بھی اپنے اندر سے نہیں نکال سکتیں۔ لیکن تم خود پر محنت کرکے، خود کو مضبوط کرنے کے بعد لوگوں کا مقابلہ با آسانی کرسکتی ہو۔ تکلیف تو ساتھ ہی رہے گی۔ کیونکہ کچھ تکلیفیں، انسان کو زندہ رکھنے کے لیۓ ساری زندگی انہیں تحفے میں دی جاتی ہیں۔ تمہاری یہ حساسیت بھی تحفہ ہے۔ اسی لیۓ تم وہ سب بھی محسوس کرتی ہو، جو ہم میں سے کوٸ بھی نہیں کرسکتا۔۔“
وہ اداسی سے مسکراٸ۔ پھر اٹھ کھڑی ہوٸ۔
”اور حساس ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ آپ۔۔“
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر جگمگاتی آنکھوں سے عابد کی جانب دیکھا۔ وہ بے ساختہ کچھ یاد آنے پر مسکراۓ تھے۔
”کہ آپ مضبوط نہیں بن سکتے۔۔“
انہوں نے جملہ مکمل کیا تو وہ کھلکھلاٸ۔ یہ جملہ بچپن میں اسے عابد اکثر کہا کرتے تھے۔ اور اس کے یوں عین موقع پر یاد آجانے سے وہ دونوں ہی درمیان میں کھڑی اس برف سی فصیل کو پگھلا چکے تھے۔
”کیا ہوا۔۔۔ تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔۔؟ تم تو عابد کی طرف گۓ تھے ناں۔۔ کیا بنا۔۔؟“
وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر آیا تھا۔ لیکن صاٸمہ کی جانب کوٸ بھی خوشخبری لے جانے کے بجاۓ جب وہ اپنے کمرے میں چلا آیا تو انہیں اس کے پیچھے آنا ہی پڑا۔ وہ جو کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا۔ کڑوی نگاہ ان پر ڈال کر دوبارہ سے وہیں متوجہ ہوگیا۔ صاٸمہ اس کے ایسے دیکھنے پر ٹھٹکی تھیں۔ پھر ذرا سنبھل کر آگۓ ہوٸیں۔
”کیا ہوا ہے ارحم۔۔؟“
اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تو اس نے ہاتھ جھٹک دیا۔ وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی تھیں۔
”ہونا کیا ہے۔۔؟ آپ کا وہ سوتیلا بھتیجا اس راستے کا سب سے مشکل کانٹا ہے۔ ممی سب برباد کردیا آپ کی ضد اور آپ کی اس سوکالڈ انا نے۔۔“
اس کی تلخی پر پہلی بار صاٸمہ کی پیشانی شکن آلود ہوٸ تھی۔
”کیا کیا ہے معاذ نے۔۔؟“
”کرنا کیا تھا اس نے۔۔؟ میں رابیل سے بات کرنے گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں دھمکانے گیا تھا اس بدھو لڑکی کو لیکن وہ جانے کہاں سے درمیان میں آگیا۔ ایسے کہنی سے پکڑ کر رابیل کو اپنے پیچھے کیا جیسے میں تو اسے کھا ہی جاٶنگا۔۔! میری سمجھ سے باہر ہوتا جارہا ہے یہ معاذ۔۔!“
اس نے مٹھی زور سے دیوار پر ماری تھی۔ صاٸمہ نے سرد نگاہوں سے اب کہ کھڑکی سے باہر سے دیکھا تھا۔ چہرے پر کڑواس ہی کڑواس پھیل گٸ تھی۔
”اس لڑکے کو اس کی اوقات یاد دلانی ہی پڑے گی۔!“
اس نے جھٹکے سے انہیں مڑ کر دیکھا تھا۔ طیش جیسے یکدم ہی ابلا تھا اس کے اندر۔
”اچھا۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ وہ وہی معاذ ہے جو تیرہ سالوں پہلے تھا۔۔ سچ میں ممی۔۔ کس دنیا میں رہتی ہیں آپ۔۔! جانتی بھی ہیں کیسے لوگوں سے دوستیاں ہیں اس کی۔! ایسے لوگوں سے دوستیاں ہیں کہ اگر آپ نے ان میں سے کسی کی شکل ایک بار دیکھ لی ناں تو زندگی کے اگلے کٸ دنوں تک نیند نہیں آۓ گی آپ کو۔۔۔!“
صاٸمہ نے اس کی بات ناسمجھی سے دیکھا تھا اسے۔
”تم بزدل بن رہے ہو۔۔! اگر اس کی ایسی دوستیاں ہیں تو تم۔۔۔“
”میری دوستیاں ہیں ممی۔۔ لیکن راتوں رات قتل کر کے گندے نالوں میں لاشیں پھینک دینے والوں کے ساتھ میری دوستیاں نہیں ہیں۔ وہ ایک وقت تک اس جگہ پر رہا ہے۔ اور یہ کرمنلز۔۔ یہ کرملنز کسی کے نہیں ہوتے لیکن جس کے ہوتے ہیں، اس کا ساتھ مرتے دم تک نہیں چھوڑتے یہ لوگ۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں اس معاذ کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔۔!!“
وہ اس کی ایسی وضاحت پر اس سارے عرصے میں اب کہ پہلی دفعہ پریشان ہوٸ تھیں۔
”تو۔۔ ہم پھر ایسے میں کیا کریں گے ارحم۔۔! تمہاری رابیل کے ساتھ شادی بہت ضروری ہے۔ جانتے ہو ناں تمہارے باپ کے غلط فیصلوں نے کمپنی کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ ہمیں اسے دوبارہ کھڑا کرنے کے لیۓ بہت پیسہ چاہیۓ بیٹا۔۔ ہم ایسے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔۔“
اس نے بھی بیزار ہو کر گہرا سانس لیا اور چہرہ ایک بار پھر سے کھڑکی کی جانب پھیر لیا۔ خواہ مخواہ کی مصیبت سر پر آگٸ تھی اس کے۔
”مجھے فی الحال کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ہے ممی۔ میں کیسے اس نکاح کو ختم کروں۔۔ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ہے۔۔“
”کچھ تو سوچو بیٹا۔۔۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے۔۔ تمہیں کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔ کیا میں کچھ کروں۔۔؟“
ایک پل کو رک کر پوچھا تو اس نے بے اختیار ہی ہاتھ اٹھا کر انہیں منع کردیا۔
”مہربانی کر کے اب آپ کچھ مت کریں۔ مجھے کرنے دیں۔۔ سوچنے دیں مجھے کچھ۔۔“
وہ چند پل خاموشی سے کھڑیں اسے دیکھتی رہیں۔ پھر آہستہ سے بولیں۔
”ّکیوں ناں ہم رابیل کو اپنے گھر بلالیں چند دنوں کے لیۓ۔ اسے دھمکاٸیں۔۔ ڈراٸیں۔۔ کہ۔۔ کہ اگر اس نے یہ نکاح خود ختم نہ کیا تو ہم اس کے ساتھ بہت برے طریقے سے پیش آٸیں گے۔۔ کیا خیال ہے۔۔! وہ کسی کو بتاۓ گی تب بھی کوٸ اس کی بات پر یقین نہیں کرے گا۔ ہم اس سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔۔ وہ ڈرپوک ہے۔۔ ڈر کر مان جاۓ گی۔۔“
اس نے ایسی بات پر کوفت زدہ سی سانس کھینچ کر لی تھی۔ پھر قہر آلود نگاہ ممی پر ڈالی۔
”اچھا۔۔ کوٸ یقین نہیں کرے گا اس کا ٹھیک ہے مان لیا لیکن وہ معاذ۔۔ وہ اس کا یقین ضرور کرے گا ماں۔۔ اور اسکے بعد جانتی ہیں کیا ہوگا۔۔ کتوں کے آگے پڑی ہوگی آپ کے بیٹے کی لاش۔۔“
”اللہ نہ کرے۔۔“
انہوں نے دہل کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ لیکن اس نے سر جھٹکا۔ سب کچھ اس کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا تھا۔
”یہی کہا تھا اس نے۔ کہ مجھے کتوں کے آگے ڈال دے گا۔ اور جانتی ہیں اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔ اس کا مطلب گلی کے آوارہ کتے ہرگز نہیں ہوتے۔۔ اس کا مطلب ہوتا ہے وہ غنڈے جو انسان اعضاء بیچنے کے کاروبار میں سرگرم ہوتے ہیں۔۔ وہ مجھے ان کے آگے ڈال دے گا۔ پھر وہ جو چاہیں کریں میرے ساتھ۔۔!“
”یا اللہ ارحم۔۔ اب ہم کیا کریں گے۔۔! مجھے تو خوف آرہا ہے۔۔ کچھ کرو بیٹا۔۔“
اس نے خاموشی سے سر ہلایا۔۔ پھر آنکھیں سکیڑیں۔۔
”کچھ ایسا سوچنا ہوگا جس سے سانپ بھی مرجاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔!“
باہر پھیلی ٹھنڈ سے بے نیاز کچھ تھا جو کہ اب آہستہ آہستہ جمنے لگا تھا۔ ان کے ناپاک عزاٸم کی وہ گھٹن زدہ سی بو تھی جو کہ اس سارے ماحول میں تحلیل ہو کر ہر شے پر کثافت کا ورق چڑھا رہی تھی۔
اگلے دن وہ ظہر پڑھ کر فارغ ہوٸ تو اس کی نگاہ ردا پر پڑی۔ اپنے مخصوص جینز اور شرٹ والے حلیے میں، نماز کے گزرتے وقت سے غافل وہ اپنے ہی کاموں میں مگن تھی۔ اس نے لاٶنج سے جاۓ نماز سمیٹا اور اسے ایک طرف رکھتے ہوۓ ردا کو دکھ سے دیکھا۔ اس کے گھر میں کوٸ بھی نماز کی پابندی نہیں پڑھا کرتا تھا اور پہلے تو وہ بھی اتنی پابندی سے نہیں پڑھا کرتی تھی نماز۔۔ لیکن پھر اس سے غفلت کی بھاری سزا سن کر اس کے تو رونگٹے ہی کھڑے ہوگۓ تھے۔
اور اب یوں اپنے گھر والوں کو نماز سے غفلت برتتا دیکھ کر اس کا دل دکھتا تھا۔ وہ ان سے کچھ بہت زیادہ نہیں چاہتی تھی۔ وہ ردا اور شزا کو سر پر دوپٹہ ڈالنے کے لیۓ نہیں کہہ رہی تھی۔ ناں ہی کوٸ بہت مشکل مطالبہ کررہی تھی۔۔ لیکن وہ ان سے صرف یہ چاہتی تھی کہ کم از کم وہ اپنی نمازوں کی پابندی کریں۔ وہ انہیں باقاٸدگی سے ادا کرتے رہیں۔ اس نے بارہا انہیں کہا بھی تھا لیکن اس کی بات کا کوٸ بھی اثر لیۓ بغیر ہی سر جھٹک دیا جاتا تھا۔
بوجھل دل لیۓ وہ آج مدرسہ چلی آٸ تھی۔ آج پیر تھا اور کلاسس اپنے معمول کے مطابق ہورہی تھیں۔ اس نے بھی اپنی کلاس میں آ کر بیگ کرسی پر رکھا اور خاموشی سے بیٹھ گٸ۔ کچھ ہی دیر پہلے تفسیر کی کلاس مکمل ہوٸ تھی اور اب، نماز کے مساٸل کی کلاس تھی۔ اس نے کتاب کھول کر کرسی کی ہتھی پر رکھی اور آج کا موضوع دیکھنے لگی۔ چند لمحوں بعد، ساری لڑکیاں سیدھی ہو بیٹھیں۔ میڈم صباحت اپنا آج کا لیکچر شروع کررہی تھیں۔ انہوں نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ رابیل کے ساتھ بیٹھی لڑکی نے اپنا ہاتھ ہوا میں معلق کیا۔ سب نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
”کچھ پوچھنا ہے آپ نے۔۔؟“
میڈم نے نرمی سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔
”میں ایک ایلیٹ گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں میڈم۔ اور مجھے بہت شرمندگی بھی ہے کہ اپنی اس کلاس کی وجہ سے میرے گھر والے دین سے بہت دور ہیں۔۔ میں انہیں نماز کی جانب بلانے لگتی ہوں۔۔ انہیں مزید احکامات کی جانب راغب کرنے لگتی ہوں تو وہ الٹا مجھے جھاڑ دیتے ہیں۔۔ مجھے اپنے لفظوں سے تکلیف دیتے ہیں۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا استاذہ۔۔ کہ ایسے میں میرا کیا کردار ہونا چاہیۓ۔۔؟“
وہ بہت دکھی لگ رہی تھی۔ حد سے زیادہ۔ اس کی بھاری سی آواز سے لگتا تھا گویا وہ گھنٹوں اپنے گھر والوں کی کسی بے اعتناٸ پر روتی رہی ہو۔ رابیل کو اسے دیکھ کر یکدم اپنا وقت یاد آیا تھا۔ لیکن میڈم صباحت اپنی جگہ نرمی سے مسکراٸیں۔ اس مدرسہ کی ہر دوسری لڑکی، اپنے گھر والوں کی دین سے دوری پر رویا کرتی تھی۔۔ یہ ان کے لیۓ اب نٸ بات ہرگز بھی نہیں تھی۔
”اللہ جانتے ہیں کہ تمہارا سینہ تنگ ہوتا ہے بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں۔“
وہ کسی آیت کا مفہوم تھا۔۔ ساتھ بہت سی لڑکیاں اپنے آنسو روکے میڈم کی جانب متوجہ تھیں ۔۔
”ایسا ہی ہوتا ہے بچے۔ جب اپنے ہی ہمارے حق ہونے سے انکار کردیں تو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے لیکن ہم اس تکلیف کے پیشِ نظر اپنا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم اس چھوٹی سے اذیت کے خاطر انہیں بڑی جہنم میں نہیں دھکیل سکتے۔ ہمیں انہیں ہر حال میں اس دین کی طرف، اس قرآن کی جانب اور اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کی جانب بلانا ہی ہے۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ہم انہیں اس طرف بلاٸیں کیسے۔۔ ہم ایسا کیا کریں کہ وہ دین کی جانب راغب ہوجاٸیں۔۔“
سب دم سادھے سن رہے تھے۔ رابیل کے ہاتھ میں کھلی کتاب کے صفحے کھڑکی سے اندر گرتی ہوا کے باعث پھڑپھڑانے لگے۔
”ہمارے لیۓ رہنما کون ہیں۔۔؟ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم۔۔ ٹھیک۔۔ انہوں نے کیسے اپنے گھر والوں کو اس دین کی جانب بلایا تھا۔۔؟“
کلاس میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ لیکن میڈم کی نرم آواز کا ارتعاش ان سب لڑکیوں کو اپنے دلوں میں بخوبی محسوس ہورہا تھا۔
”قرآن کے ذریعے۔۔“
کسی طالبہ کے جواب پر میڈم نے میڈم کی نے خوش ہو کر سر ہلایا تھا۔
”بالکل ۔۔ انہوں نے کہیں سے بھی تمہید نہیں باندھی۔ بلکہ اپنی بات شروع ہی اس قرآن سے کی۔ انہوں نے کسی سے بھی لمبی لمبی بحثیں نہیں کیں۔ بلکہ یہ قرآن سنا کر انہیں زیر کردیا۔ اور اس قرآن کے اترنے سے قبل ان کی چالیس سالہ زندگی ان کے گھر والوں کے سامنے تھی۔ کہ آپ محمد صلى الله عليه واله وسلم کیسے اخلاق کے مالک تھے۔ آپ کتنی نرمی سے چلا کرتے تھے۔ ہمیں پہلے انہیں خود کے ساتھ مانوس کرنا ہے، کچھ باتیں ان کی ماننی ہیں تب جاکر وہ ہماری بات مانیں گے۔ کچھ دے کر ہی انسان کو کچھ ملتا ہے۔ آپ اپنا وقت، اپنا اخلاق اور قرآن دے کر دیکھیں۔ وہ آپ کی جانب پلٹ آٸیں گے۔
جانتے ہیں ہمارے اپنے اس دین کی جانب کیوں نہیں آتے۔؟ یا پھر آپ اپنی پچھلی زندگی دیکھیں۔۔ کہ آپ اس کی جانب کیوں نہیں آیاکرتے تھے۔۔؟“
”میں اس کی جانب اس لیۓ نہیں آٸ تھی کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ اسلام صرف انسانوں پر پابندیاں عاٸد کرنا جانتا ہے۔۔“
ایک طالبہ نے یکدم جواب دیا۔۔ اسی سمے کوٸ اور طالبہ کہیں اور سے بولی۔۔
”میں نے کبھی اس پر پہلے توجہ اسی لیۓ نہیں دی کیونکہ اکثر دیندار لوگ بہت کرخت ہوتے تھے۔ وہ جان بوجھ کر ہم جیسے لوگوں کے سامنے موٹی موٹی اصطلاحات کا استعمال کر کے اپنی دھاک بٹھا کر آخر میں پوچھا کرتے تھے کہ کیا تمہیں یہ سب پتا ہے۔۔! اگر نہیں پتا تو تم کیسی مسلمہ ہو۔۔ دوسرے معنوں میں مجھے ڈی گریڈ کرتے تھے جو مجھے بالکل بھی نہیں پسند تھا۔۔“
میڈم سر ہلا کر ان سب کی تاٸید کررہی تھیں۔ ان کے جوابات کو سراہ رہی تھیں۔۔ اسی اثناء میں ہال کے بالکل پیچھے سے آواز آٸ۔۔ وہ ایک کمزور سی لڑکی تھی۔۔ جو کھڑی ہو کر اپنی بات میڈم کے گوش گزار کررہی تھی۔
”مجھے اس دین سے چڑ صرف اور صرف اپنے والد صاحب کی وجہ سے ہوٸ تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اسلام میں عورتوں کو زیادہ پڑھنے کی اجازت نہیں۔ ان کے اس قول کے باعث میری بڑی بہن کو اپنی پڑھاٸ کو خیر باد کہنا پڑا۔ حالانکہ ان کا خواب تھا بہت پڑھنا۔ جبکہ اللہ نے تو نازل ہی کتاب کی ہے۔ اور کتاب سمبل ہوتا ہے علم کا۔ اگر ہمارا دین کتابوں کے پڑھنے سے منع کرتا تو خود کبھی کتاب کی صورت نہ اترتا، کبھی کتابوں کی صورت نہ پھیلتا، کبھی یہ کتابیں پڑھ کر لوگ مسلمان نہ ہوتے۔“
”کیا عجب ہے کہ جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے کیا گیا تھا وہ ہی قوم پڑھنے پر پابندی عاٸد کررہی ہے۔“
میڈم نے گہرا سانس لے کر نرمی سے اس لڑکی کے جواب میں کہا تھا۔ اب کہ ہر جانب کلاس روم سے آوازیں آرہی تھیں۔ کوٸ کہہ رہا تھا کہ انہیں درست دین کبھی پڑھایا ہی نہیں گیا تو دوسرا کہہ رہا تھا کہ انہیں اللہ کی بات سنانے کے بجاۓ، قصے کہانیوں کی جانب بلایا گیا۔ آخر میں میڈم نے مسکرا کر ان سب لڑکیوں کو دیکھا جو اب ان ساری غلط فہمیوں کو رد کیۓ، ایک چھت تلے اللہ کا کلام پڑھنے بیٹھی تھیں۔
”ہمیں اپنے گھر والوں کو بلانا ہی اللہ کی بات سے ہے۔ ہمیں اس مشن کو اپنی انا کا مسٸلہ نہیں بنانا کہ اگر کوٸ ہماری بات نہیں مان رہا تو یہ ہماری بے عزتی ہے۔ اس میں بے عزتی کی کوٸ بات نہیں۔ دین آپ کو کبھی بھی زبردستی کا درس نہیں دیا کرتا۔ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم نے کبھی لوگوں پر سختی سے اس دین کو مسلط نہیں کیا تھا۔ آپ کا کام صرف نصیحت پہنچانا ہے۔ آپ نے صرف اللہ کی بات لوگوں تک پہنچانی ہے۔ وہ قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے ناں کہ آپ۔۔ اے اللہ کے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم.. آپ ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہیں۔ آپ لوگوں پر ڈنڈا لے کر مسلط نہیں ہوسکتے۔ آپ نے بس انہیں اپنے اچھے اخلاق اور نرمی کے ساتھ دین کی جانب بلانا ہے۔ کوٸ اگر نہیں بھی آتا تو آپ نے اس کی بے عزتی نہیں کرنی۔ کوٸ اگر آپ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آۓ تو جواب میں آپ نے ان کے درجے پر گر کر محاذ نہیں کھڑا کرنا۔ آپ کا کام صرف بلانا ہے۔ دعا کرنا ہے۔ صبر کا مظاہرہ کرنا ہے۔۔ بس۔۔ فل اسٹاپ۔۔ اس کے بعد دلوں پر لگی مہر تو اللہ ہٹا سکتا ہے۔ ہم جسے چاہیں اس ایمان سے بہرہ مند نہیں کرسکتے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے کہ کس کا دل ایمان سے روشن کرنا ہے اور کس کا نہیں۔۔“
وہ خاموش ہوٸیں تو ہر طرف سکون سا تحلیل ہوگیا۔ رابیل واپسی کے سارے راستے خاموش رہی۔ وہ جو اپنے گھر والوں کو بار بار دین کی جانب بلارہی تھی تو شاید یہی وجہ تھی کہ کبھی انہوں نے اس کی باتوں پر کان نہیں دھرے تھے۔ اس نے کبھی ان کو قرآن سنایا ہی نہیں تھا۔ اس نے تو ہمیشہ ان سے اپنی بات کہی تھی۔ اب کی بار کوتاہی اسکی جانب سے کی گٸ تھی۔
وہ گھر واپس پلٹی تو مغرب کا وقت ہورہا تھا۔ اس نے عبایا چینج کر کے کچن میں آ کر کافی بناٸ، پھر ساتھ اسنیکس بھی بناۓ، ایک ٹرے میں سب کچھ سجا کر اب کہ وہ لاٶنج میں چلی آٸ تھی۔ اسے پتا تھا کہ ردا اور شزا شام کی چاۓ پی چکی ہونگی لیکن وہ ایک بار پھر سے انہیں کافی پلا کر خود سے مزید مانوس کرنا چاہتی تھی۔
اس نے زینوں کے اس پار بنے ان کے کمرے کے دروازے پر دستک دی اور پھر چہرہ اندر کیا۔ ردا بیڈ سے آدھی نیچے لٹکی کوٸ میگزین پڑھ رہی تھی اور دوسری جانب شزا بور سی لیٹی اپنے موباٸل پر اسکرولنگ میں مصروف تھی۔
”کافی کون کون پیۓ گا۔۔؟“
اس نے اندر جھانکا۔۔
”میں۔۔“
دونوں نے بیک وقت کہا تھا۔ وہ مسکراٸ۔۔
”فٹافٹ آجاٶ لاٶنج میں۔۔ میں نے کافی بنا کر رکھی ہے۔ ایک تو ٹھنڈ اوپر سے رابی کے ہاتھ کی گرما گرم کافی۔۔ تھینکس می لیٹر۔۔“
شرارت سے کہہ کر دروازہ بند کیا اور جھپاک سے باہر۔ وہ دونوں اٹھیں۔۔ اور اس کے پیچھے ہی چلی آٸیں۔ ردا اپنے مخصوص جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی اور شزا نے ٹاٸٹس پر شارٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔ وہ دونوں ہی اسٹاٸلش لگتی تھیں اور ان کے برعکس رابی۔۔ کیوٹ۔۔ سادہ سے سفید شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو ہاف باندھے، دوپٹہ کندھوں پر لیۓ وہ عام سے حلیے میں بھی اچھی لگتی تھی۔
”اممم رابی۔۔ بہت مزے کی ہے۔۔ کتنے دنوں بعد تمہارے ہاتھ کی کافی پی ہے۔۔ مزہ آگیا۔۔“
شزا نے بھی ایک گھونٹ لے کر مزے سے سر ہلایا تھا۔ رابیل ہنس دی۔
”تمہیں پتا ہے۔۔ پرسوں ہم جاٸیں گے اقبال کے گھر۔ زرتاشہ چاچی نے سب لڑکیوں کو بلایا ہے خاندان کی۔“
”کیوں۔۔؟ وہ بھی خاندان کی سب لڑکیوں کو۔۔؟ خیریت تو ہے ناں۔۔؟“
وہ اپنے ہی مساٸل میں الجھی ہوٸ تھی۔ خبر ہی نہ تھی کہ خاندان میں چل کیا رہا ہے۔۔ آگے بڑھ کر سنیک لیتے ہوۓ اس نے پوچھا تو شزا بتانے لگی۔
”ویسے ہی۔ خاندان کی دعوتوں میں کسی کو وقت ہی نہ مل سکا تھا حریم سے بات کرنے کا۔ اب وہ تو نٸ نویلی دلہن ہے۔ آٸ بھی دور سے رخصت ہو کر ہے۔ اسی لیۓ اس کے خاطر چاچی نے ایک گیٹ ٹو گیدر رکھ لیا، جس میں صرف لڑکیاں ہی انواٸٹڈ ہیں۔ تم چلو گی۔؟“
آخر میں سوال کیا تو اس نے کندھے اچکاۓ۔ پھر یکدم کچھ یاد آیا۔ (کسی کی عادتیں آتی جارہی تھیں اس میں۔) اسے مسکراتا ہوا دیکھ کر ردا نے شزا کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تو وہ اس کے کان کھینچنے کے لیۓ سیدھی ہو بیٹھی۔
”آہم۔۔ ویسے یہ معاذ بھاٸ کن مساٸل کی بات کررہے تھے آج۔۔؟“
”ہوں۔۔۔؟“
وہ جو اپنے خیالات میں تھی یکدم چونکی۔ ان دونوں کی جانب دیکھا۔ وہ دونوں بے حد سنجیدہ تھیں۔ اس کے رخسار یکدم گلابی ہوۓ تھے۔
”وہ تو ویسے ہی۔۔“
”تمہیں نہیں لگتا شزا کہ معاذ بھاٸ کو ہماری رابی اچھی لگنے لگی ہے۔؟“
وہ ابھی انہیں ٹالنے ہی لگی تھی کہ ردا کی پھلجڑی پر اس نے اسے آنکھیں دکھاٸیں۔ شزا نے بھی یکدم امڈتی مسکراہٹ روکی تھی۔
”ہاں ہاں بالکل۔۔ آج دیکھا تھا کیسے ارحم بھاٸ کو جھاڑا تھا انہوں نے۔ اور وہ جو رابی کو ہاتھ سے پکڑ کر اندر لاۓ تھے وہ۔۔ وہ بھی تو یاد کرو۔۔“
شزا نے رابیل کی شکل دیکھ کر بہت مشکل سے ہنسی روکی تھی۔ پھر دل جلانے والے انداز میں بولی۔۔
”ان کے مسٸلے کیسے سالو کرلیۓ تم نے۔۔ ؟ اپنے تو سالو ہوتے نہیں تم سے۔“
اور اب وہ دونوں پورے طریقے سے میدان میں اتری تھیں اسے تنگ کرنے۔ اس نے دانت پیس کر معاذ کو دل ہی دل میں کوسا۔ بدتمیز نہ ہو تو۔۔
”ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔“
اس نے کہہ کر بے ساختہ گرم گرم کافی حلق میں انڈیلی۔
”پھر کیسا ہے۔۔۔؟“
”خیالی پلاٶ ہی پکاتے رہو تم دونوں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں تو اسے ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہوں۔۔“
اس نے بہت کمزور سی دلیل دی تھی خود کے دفاع میں۔
”تو کیا ہوا۔۔؟ جاننے تو لگی ہو ناں۔۔“
اور اب کے اس کے کان تک سرخ ہوگۓ تھے۔ وہ دونوں ڈھٹاٸ سے ہنسیں تو رابیل کا دل کیا دونوں پر کافی الٹ دے۔
”کچھ زیادہ ہی نہیں ناولز پڑھنے لگی ہو تم دونوں۔“
”میں نہیں صرف شزا۔۔ مجھے تو ہنسی آجاتی ہے ناولز پڑھ کر۔۔ مطلب اتنا unrealistic (غیر حقیقی) بھی کچھ ہوسکتا ہے کیا۔۔“
وہ کہہ کر ہنسی تو شزا نے اسے کندھے پر دھپ رسید کی۔
”میرے ناولز کو کچھ مت کہو۔ وہ حقیقت سے بھلے ہی کتنے بھی دور ہوں میرے دل سے بہت قریب ہیں۔ کیوں رابی۔۔ تم نے بھی پڑھا تھا ناں پچھلی دفعہ۔۔ کتنا اچھا لگا تھا تمہیں۔۔“
اس نے اتفاق کرتے ہوۓ سر ہلایا تھا۔
”بہت اچھا ناول تھا وہ۔۔ اور مجھے بس وہ ہی اچھا لگا تھا۔۔ کیونکہ میں نے صرف وہ ایک ہی ناول پڑھا تھا۔۔“
ساتھ ہی دانت بھی نکالے تو ردا ہنس دی۔ شزا نے اسے برا سا منہ بنا کر دیکھا تھا۔
”جو بھی ہو۔۔ مجھے تو نہیں اچھے لگتے فضول سے ناولز۔۔ بس بلاوجہ کا اپنی طرف سے کچھ بھی۔۔ بھلا آپ نے کبھی سنا کہ کسی لڑکے نے کسی لڑکی سے زبردستی شادی کرلی ہو۔ کچھ بھی مطلب۔۔“
اور اس سے پہلے کہ شزا اس کا سر کچل دیتی رابیل نے سر نفی میں ہلایا۔۔ جیسے اسے اس کی بات سے اختلاف ہو۔
”پہلی بات تو یہ ہے ردا بچے، کہ فکشن کہتے ہی اس چیز کو ہیں جو آپ نے فرض کر کے لکھا ہو۔ مطلب وہ جو حقیقت سے بہت دور ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں لکھی ہر بات ہی جھوٹ یا پھر تخیلاتی ہے۔ ایک اعلیٰ پاۓ کے لکھاری کا کہنا ہےکہ ہر انسان اپنے اپنے داٸروں میں زندگی گزارتا ہے ٹھیک۔۔“
وہ روانی سے بولتے بولتے ذرا ٹھہری۔ اپنا خالی کپ درمیانے ٹیبل پر رکھا۔ پھر ٹیبل سے سامان ہٹا کر جگہ خالی کی۔ اس پر انگلی سے اندیکھے سے داٸرے کھینچے۔ وہ دونوں توجہ سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔
”اب یہ داٸرہ ہے شزا کی زندگی کا ٹھیک۔۔ یہ دوسرا داٸرہ میری زندگی کا ہے اور یہ تیسرا تمہاری زندگی کا۔ اب ہم اپنے اپنے داٸروں میں بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں۔ تمہارے جاننے والے ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو شزا نہ جانتی ہو اور میرے بہت سے جاننے والوں کو تم دونوں نہیں جانتی ہوگی۔ اسی طرح ہمیں نہیں پتا کہ کس کے داٸرے میں کیا چل رہا ہے۔ ہم بس اپنے محدود داٸرے کو دیکھتے ہوۓ آگے والے پر ججمنٹ پاس کررہے ہوتے ہیں۔ ہمارا علم بہت محدود ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ساری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں کے داٸروں میں کیا کیا کہانیاں پنپ رہی ہیں۔ تم نہیں جانتیں۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسا ہوتا ہی نہیں ہوگا۔۔ ہوسکتا ہے دنیا کے کسی کونے میں ہماری کہانیوں کے کردار زندہ ہوں۔۔۔ لیکن کون جانے۔۔!“
شزا نے آخر میں تالیاں بجاٸ تھیں لیکن ردا نے مسکرا کر صرف سر ہی جھکایا تھا۔ اس کے تاثرات سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ قاٸل ہوچکی ہے۔۔
”لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم ہر اس چیز کو ہی سچ ماننا شروع کردیں۔ ان راٸٹرز نے لڑکیوں کا معیار اتنا اونچا کردیا ہے کہ وہ کسی عام سے لڑکے کو پسند ہی نہیں کرتی ہیں۔ ایسے تو نہیں ہوتا ناں اب۔۔“
رابیل جو اٹھنے ہی لگی تھی واپس بیٹھ گٸ۔ اسے نرمی سے دیکھا۔۔
”کہانیاں یہ نہیں دکھاتیں کہ دنیا کیسی ہے۔ کہانیاں یہ دکھاتی ہیں کہ یہ دنیا کیسی ہونی چاہیۓ۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں کیسا ہونا چاہیۓ۔ بہت سے لڑکوں کو میں نے مزاق بناتے ہوۓ بھی دیکھا ہے کہ یہ دیکھو جی۔۔ اب سالار جیسا کون ہوسکتا ہے۔۔ کیا بیوقوف بناتے ہیں۔ بٹ اس قسم کے کردار دراصل سیدھا ان پر چوٹ ہوتے ہیں اسی لیۓ برے لگتے ہیں انہیں۔ سمجھ آیا کچھ۔۔۔؟“
”کچھ نہ کچھ تو آ ہی گیا ہے۔“
ردا نے ہنس کر جواب دیا تو وہ بھی اب کہ مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوٸ۔
