Kahaf 7-2

 #Do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف

بقلم_رابعہ_خان

ساتویں_قسط کا بقیہ حصہ 

وہ گھر واپس آٸ تو عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں۔ لاٶنج ہی میں اسے سب گھر والے براجمان نظر آگۓ۔ وہ سلام کرتی پاس چلی آٸ۔ سب سے پہلے عابد ہی نے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔ اور پھر سب کی نگاہیں اس پر اٹھیں۔ 

”کہاں گٸ تھیں تم۔۔؟“ 

وہ ٹیپیکل نہیں تھے ناں ہی اسے کہیں آنے جانے جانے پر پابندی تھی لیکن وہ ایسے کبھی گھر سے نکلتی نہیں تھی اسی لیۓ ان کی جانب سے ایسا استفسار یقینی تھا۔ 

”تایا سے ملنے گٸ تھی۔۔“ 

اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا، لیکن اس کی بات پر ردا کے علاوہ سب سیدھے ہو بیٹھے تھے۔ 

”بھاٸ صاحب سے۔۔ لیکن کیوں۔۔؟“ 

عابد کے ماتھے پر بے ساختہ ہی بہت سے بل ابھرے تو اس نے تھوک نگلا۔ 

”ویسے ہی۔۔ کیا میں ان سے ملنے نہیں جاسکتی بابا۔۔؟“ 

اس نے الٹا انہی سے سوال کر ڈالا تھا جس پر وہ چند لمحوں کے لیۓ خاموش سے ہوگۓ۔ 

”تمہیں وہاں نہیں جانا چاہیۓ تھا۔۔“ 

”لیکن کیوں۔۔؟“ 

وہ ایک بار پھر سے خاموش ہوۓ تو اسے ان کی خاموشی بہت ناگوار گزری۔ 

”میں ان سے ملنے کیوں نہیں جاسکتی بابا۔۔؟ اب تو میرے ان کے ساتھ دو رشتے جڑ چکے ہیں۔ پھر اب ان سے ملنے میں کیا قباحت ہے۔۔؟“ 

عابد کی آنکھیں لمحے بھر کو سرد ہوٸیں۔۔ 

”میں چاہتا ہوں کہ تم معاذ سے طلاق لے لو۔۔!“ 

اور اس نے تو یہ بات پہلے بھی سن رکھی تھی لیکن جتنی تکلیف اسے اس وقت ہوٸ تھی پہلے کبھی نہ ہوٸ۔ وہ کیسے اسے طلاق کا کہہ سکتے تھے۔۔! آخر بابا کو ہو کیا گیا تھا۔۔ رامین سر جھکاۓ بیٹھی تھیں جبکہ ردا اور شزا دونوں اسی کی طرح بے یقینی سے عابد کو تک رہی تھیں۔۔ 

”آپ ایسے کیسے کہہ سکتے ہیں مجھے بابا۔۔!“ 

وہ ہرٹ ہوٸ تھی۔ اس کی آنکھیں سب عیاں کررہی تھیں۔۔ 

”یہ سب تمہاری بھلاٸ ہی کے لیۓ ہے بیٹا۔ وہ معاذ۔۔ نکاح تو کرلیا لیکن پلٹ کر تمہیں پوچھتا نہیں۔ نہ ہی واپس آکر اس نے اپنی شکل دکھاٸ۔ بھاٸ صاحب نے الگ اپنی پشت ہماری جانب کر لی ہے۔ ایسے میں مجھے کچھ نہ کچھ تو سوچنا ہی ہے ناں تمہارے بارے میں۔۔“ 

”اور آپ نے میرے لیۓ ایک بار پھر سے ارحم کو سوچ لیا۔۔!“ 

اس کی آواز زندگی میں پہلی بار سرد ہوٸ تھی۔ وہ انسان جس نے اسے بھرے پنڈال میں رسوا کیا تھا۔ اس انسان کو بابا نے ایک بار پھر سے اس کے لیۓ منتخب کرلیا تھا۔۔ 

”بیٹا وہ نا صرف معاذ سے بہتر ہے بلکہ مالی حیثیت میں بھی وہ اس سے بہت اچھا ہے۔ اس کے باپ کا اپنا بزنس ہے جس کا وہ اکلوتا وارث ہونے والا ہے۔ ایسے میں تمہارے لیۓ اس سے زیادہ بہترین انتخاب میری نظر میں اور کوٸ نہیں۔۔“ 

دل پر لگی چوٹیں بابا کے لفظوں سے اور گہری ہونے لگی تھیں۔ 

”صرف مالی حیثیت کی خاطر آپ میرا نکاح ختم کرنا چاہتے ہیں بابا۔۔۔!“ 

عابد کی ابھرتی کھنکھار اس پر واضح کررہی تھی کہ وہ اس موضوع سے غیر آرام دہ ہورہے تھے لیکن وہ بھی کیا کرتی۔۔! جب تک ان سے دوٹوک بات نہیں کی جاتی انہیں بات سمجھ نہیں آنی تھی۔ 

”نہ صرف مالی حیثیت، بلکہ اس کے اخلاق کو بھی دیکھو تم۔ کتنی عزت کرتا ہے سب کی۔ کتنے طریقے سے پیش آتا ہے وہ ہر ایک کے ساتھ۔۔ ملتا ہے تو مسکرا کر ملتا ہے۔ ایسے کہ اگلے بندے کا دل ہی خوش ہوجاۓ۔۔ لیکن معاذ۔۔“ 

ان کے تلخی سے سر جھٹکنے پر رابیل کے جانے اندر کیا چبھا تھا۔ اسے بابا کا انداز بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اس وقت۔۔ 

”کبھی مسکراتے ہوۓ دیکھا ہے تم نے اسے۔۔؟ جب دیکھو ایک ہی تاثر سجاۓ رکھتا ہے چہرے پر۔ ملتا یوں ہے جیسے کسی نے گن پواٸنٹ پر سلام کروایا ہو۔ ایسے ہوتے ہیں لڑکے۔۔! اس طرح نبھاتے ہیں رشتے اور ایسے عزت کرتے ہیں اپنے بڑوں کی۔! تم مانو یہ نا مانو لیکن ارحم ہر لحاظ سے معاذ سے بہتر ہے۔۔“ 

اور رابیل نے ان کے ایسے موازنے پر لمحے بھر کو اپنی کنپٹیاں جلتی ہوٸ محسوس کی تھیں۔۔ معاذ اور ارحم کا مقابلہ آخر تھا ہی کیا۔۔! 

”ارحم نے تیرہ سال کی عمر میں اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں نہیں دفنایا تھا بابا۔۔! نہ ہی اس نے اپنا بچپن سڑکوں پر گزارا اور نہ ہی اس پر ایسی کوٸ تلخی کبھی بھی زندگی میں وارد ہوٸ۔۔ آپ ان دونوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔۔ وہ دونوں ایک طرح سے بڑے نہیں ہوۓ بابا۔۔ ایک نے زندگی گہرے جنگل میں گزاری ہے تو دوسرے نے یہ زندگی کسی شاہی شہزادے کی مانند۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ ان کا موازنہ یوں کر کے اپنے عمل کو جسٹفاٸ کرسکتے ہیں۔۔!؟“ 

اس کی جانب سے ایسا وار بالکل غیر متوقع تھا۔ رامین اور عابد تو چونکے سو چونکے، شزا نے بھی اسے لمحے بھر کو حیرت سے دیکھا تھا۔ لیکن رابی کو اب کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ جو ہوچکا تھا وہ ہوچکا تھا لیکن اب وہ انہیں ایک بار پھر سے تاریخ نہیں دہرانے دے سکتی تھی۔۔ ہرگز بھی نہیں۔۔ 

”تو تم اب اس کل کے لڑکے کے لیۓ اپنے باپ سے بحث کررہی ہو۔۔؟“ 

”آپ مجھے یہ سب کرنے کے لیۓ مجبور کررہے ہیں بابا۔۔ جب آپ اس رشتے کے لیۓ دل سے راضی ہی نہیں تھے تو اس بھرے مجمعے میں آپ نے ہامی کیوں بھری۔۔؟ آپ کے ساتھ تو کسی نے زبردستی نہیں کی تھی کہ میرے رشتے کے لیۓ یوں عجلت میں ہاں کردیں۔۔! اور اب جب کہ میرا نکاح ہوچکا ہے تو آپ اتنے آرام سے اسے ختم کرنے کی بات کررہے ہیں۔! میرے لیۓ یہ سب نارمل نہیں ہے بابا۔۔ آپ پلیز کچھ تو خیال کریں۔۔“ 

اور اس نے اب کہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس رشتے کو بچانے کے لیۓ جس بھی حد تک جانا چاہے گی جاۓ گی۔ کیونکہ وہ اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ معاذ کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اور اس ارحم کے لیۓ تو بالکل بھی نہیں۔۔ 

”اس میں ایب نارمل کیا ہے مجھے صرف یہ بتاٶ۔۔“ 

عابد بجاۓ ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے الٹا طیش سے آگے ہو کر بیٹھے تھے۔ رامین نے پہلو بدلا۔۔ ساتھ رابیل کو مزید بحث کرنے سے بھی روکا، لیکن وہ ان کی جانب متوجہ نہیں تھی۔ 

”بابا میرا نکاح ہوا ہے۔۔ نکاح ایک بہت مضبوط اور گہرا رشتہ ہوتا ہے۔۔ یہ منگنی کے دو بول کی طرح نہیں ہوتا کہ دو بول سے ٹوٹ جاۓ۔۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا تعلق ہے۔۔ اور آپ اسے ایسے بلاوجہ نہیں توڑ سکتے۔۔“ 

عابد کی آنکھیں آہستہ آہستہ سرخ ہونے لگی تھیں۔ ان کی حساس سی رابی کب اتنی مضبوط ہوٸ انہیں اندازہ نہ ہوسکا۔۔ لیکن اب انہیں اچھے سے اس بات کا اندازہ ہورہا تھا۔۔ 

”میرے پاس وجہ ہے اس رشتے کو توڑنے کی۔۔“ 

ماحول میں، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تناٶ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ رابیل کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔۔ 

”آپ کی ہر وجہ اس رشتے سے چھوٹی ہے بابا۔۔“ 

”اچھا۔۔!“ 

وہ مسکرا کر پیچھے ہو بیٹھے تھے۔ پھر سر جھٹکا۔۔ 

”اتنا ہی یقین ہے تمہیں اس رشتے پر تو لے کر آٶ معاذ کو میرے سامنے۔ وہ آۓ اور ہم سب کے سامنے اقرار کرے کہ وہ اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہے تو ہم تمہیں اس کے نکاح میں رہنے پر کبھی کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگر رابیل۔۔“ 

وہ آگے کو ہوۓ۔۔ تنبیہی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ اس کا دل لمحے بھر کو رکا تھا۔۔ 

”اگر وہ یہاں آ کر دو لفظوں کی صاف بات نہ کر کے گیا تو میں تمہیں ہر گز بھی نہیں دیکھونگا۔ میں یہ رشتہ ختم کروادونگا۔۔ اور ایک بات اور۔۔“ 

وہ اٹھ کھڑے ہوۓ تو رامین بھی میکانکی سے انداز میں ان کے ساتھ ہی اٹھیں تھیں۔ رابیل نے گیلی گیلی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔ 

”میں نے اس وقت تمہارے رشتے کے لیۓ ہامی صرف اس لیۓ بھری تھی کیونکہ میں اپنی اور بے عزتی نہیں کروانا چاہتا تھا۔ جتنی باتیں تمہارے اس دوپٹے اور مدرسے کی وجہ سے میں نے سننی تھیں میں سن چکا۔۔ مجھ میں مزید ہمت نہیں تھی کسی کی بکواس سننے کا۔۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ سوتیلا خون ہمیشہ سوتیلا ہی رہے گا۔۔ دیکھو۔۔ دکھا دیا ناں انہوں نے اپنا آپ۔۔ کیسے ایک بار بھی پلٹ کر خبر نہ لی تمہاری۔۔ اس وقت نکاح بھی صرف اس لیۓ کیا تھا تاکہ خاندان بھر میں نام کما سکیں جو وہ کما چکے لیکن اب میں انہیں اپنی اور بےعزتی کرنے نہیں دے سکتا۔۔ سمجھ لو اس بات کو۔۔“ 

وہ اتنی سرد مہری سے بول رہے تھے کہ بے ساختہ ہی اسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹے۔ آخر اور کیا کیا سہنا رہ گیا تھا۔ بابا کا ایک ایک لفظ اس کے دل میں گڑ گیا تھا لیکن انہیں کوٸ پرواہ نہیں تھی۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو رامین بھی ان کے پیچھے گٸیں۔ اس نے سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا۔۔ ہاتھ لرز رہے تھے اور دل سکڑ رہا تھا۔۔ 

شزا نے گہرا سانس لیا تھا اور ردا۔۔ وہ آہستہ آہستہ اس کی پشت سے سہلا رہی تھی۔ رابی کو لگا تھا کہ اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔۔ اب سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔ اس کا نکاح معاذ سے ہوگیا ہے تو اب کسی میں ہمت نہیں ہوگی اسے مزید پریشان کرنے کی لیکن اب۔۔ ایک بار پھر سے بابا اس کے لیۓ آزماٸش کا گڑھا کھود رہے تھے۔ وہ کیا کرے۔ یا اللہ وہ کہاں چلی جاۓ۔۔ ! 

سب اپنے اپنے کمروں کی جانب ہولے تو اب کہ وہ لاٶنج میں تنہا رہ گٸ۔ بے ساختہ ہی اسے اپنے کندھوں پر تھکن محسوس ہوٸ تھی۔ اس نے آہستہ سے لاٶنج سے اٹھ کر قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھاۓ۔ ٹک ٹک کرتی گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی۔ اس نے برقعہ اتارا اور شاور لینے چلی گٸ۔ روح پر جمی کثافت ایسے ہی چھٹ سکتی تھی۔ نیم شاور لینے کے بعد اس نے بال خشک کیۓ۔۔ سنگھار آٸینے میں عکس دیکھتے ہوۓ یکدم سرمٸ آنکھیں اس کے سامنے چمکی تھیں۔ کتنی تکلیف تھی ان آنکھوں میں۔۔ کیا کچھ سہہ لیا تھا ان آنکھوں نے۔۔ پھر بھی رونا بھول گٸ تھیں وہ آنکھیں۔۔ 

تولیۓ سے بالوں کو خشک کرتے اس کے ہاتھ لمحے بھر کو سست ہوۓ تھے۔ وہ ان آنکھوں میں اترنے لگی تھی۔۔ یا شاید وہ آنکھیں اس میں اترنے لگی تھیں۔۔ لوگ اس کا موازنہ ارحم سے کررہے تھے۔۔ لوگ ایسا کیسے کرسکتے تھے۔۔ کتنے بے رحم ہوتے ہیں یہ لوگ۔۔! لیکن وہ لڑے گی۔۔ وہ اس کے لیۓ لڑے گی۔۔ وہ اپنے لیۓ لڑ رہی تھی تو اس کے لیۓ بھی لڑسکتی تھی۔ 

بالوں کو اس نے پیچھے پھینکا تو وہ پشت پر لہراۓ۔ کندھوں سے تھوڑے نیچے آتے بالوں سے پانی موتیوں کی صورت ٹپک رہا تھا۔ اس نے ایک بار پھر سے اپنا عکس سنگھار آٸینے میں دیکھا تھا۔ رخسار یکدم گلابی ہوۓ۔۔ کچھ یاد آگیا تھا اسے۔۔ معاذ کا گردن جھکا کر ہنسنا۔۔ اف۔۔ اس نے مسکرا کر آنکھیں میچیں۔۔ اس کی یاد اس خار سی دنیا میں شبنم کے نرم قطروں کی مانند تھی۔ اس نے خود سے بھی اس سمے نگاہیں چراٸ تھیں۔ 

دوسری جانب معاذ اپنے کمرے میں اندھیرا کیۓ، گلاس ڈور کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔ گلاس ڈور سے باہر چاندنی سی پگھل رہی تھی۔ چاندنی کا کچھ حصہ اس کے کمرے میں گر کر اس کی تاریکی کو سلب کررہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے ہوۓ تھے۔ خوبصورت سی سرمٸ آنکھیں خاموشی سے چھت کو تک رہی تھیں۔ اور ان نگاہوں کے پار وہ حبیبہ کا چہرہ تک رہا تھا۔۔ ان کا وہ پاکیزہ سا بابرکت چہرہ۔۔ جو کبھی اس کی یادوں سے اوجھل نہ ہوا تھا، آج پوری آب و تاب سے اس کے آگے جگمگا رہا تھا۔ یکدم ہی اس کی نگاہوں کے سامنے ایک اور پاکیزہ سا چہرہ گھوما۔۔ ناچاہتے ہوۓ بھی وہ اس کی حرکتیں یاد کر کے مسکرایا تھا۔۔ کتنی نرم تھی وہ۔۔ ساری دنیا دل توڑنا جانتی تھی لیکن ایک وہ تھی کہ اسے دل جوڑنے آتے تھے۔۔ لوگ اسے کم عقل کہتے تھے، بیوقوف اور کسی حد تک بیک ورڈ بھی۔۔ لیکن وہ ان سب کے ساتھ ہی تو خوبصورت  تھی۔ اس چھوٹی سی لڑکی کو ایسی باتیں کرنے آتی تھیں جو کسی بڑی اور میچور لڑکی سے بھی متوقع نہیں تھیں۔ جانے وہ کیسے مل گٸ اسے۔۔! کیسے مل سکتی تھی وہ اسے۔۔ اسے تسلی دینے کے لیۓ اپنی جھجھک کی پرواہ کیۓ بغیر اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا۔ اسے تھپکا تھا۔۔ اس نے کبھی بھی کسی کو اپنے اتنے نزدیک نہیں آنے دیا تھا لیکن وہ اسے۔۔ وہ اسے چاہ کر بھی روک نہیں پایا تھا۔۔ وہ اس کی قربت سے گھبرایا نہیں تھا۔۔ کیونکہ وہ غیر آرام دہ نہیں کیا کرتی تھی۔ وہ خود آکورڈ ہوجاتی تھی لیکن آگے والے کو آخری حد تک سکون پہنچانے کی کوشش کرتی تھی۔۔ کیا تھی  یہ رابیل۔۔ 

اور رابیل نے اس وقت عشاء کے فراٸض سے سلام پھیرا تھا۔ زیر لب تسبیحات پڑھتے ہوۓ اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔۔ پھر انہی ہاتھوں کو دعا کے لیۓ بلند کیا۔۔ چھم سے وہ ایک بار پھر اس کے سامنے آیا تھا۔۔ 

”اللہ تعالیٰ۔۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ معاذ کو اس کا قرآن لوٹا دیں۔۔ پلیز اللہ۔۔ اسے اس دنیا اور آخرت کی بھلاٸیاں عطا کریں۔۔“ 

اور معاذ شعراوی آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ واش روم کی جانب بڑھا۔۔ واپس پلٹا تو آستینیں کہنیوں تک لپٹی ہوٸ تھیں۔۔ بال ہلکے سے گیلے ہو کر ماتھے پر گر رہے تھے۔ وضو کا پانی ٹھوڑی سے ٹپک رہا تھا۔ کسی کی دعاٶں کا اثر تھا جو اس پر ہورہا تھا۔۔ آگے بڑھ کر جاۓ نماز بچھاٸ اور پھر نیت باندھ لی۔ 

رابیل اب کے سکون سے رکوع میں جھکی ہوٸ تھی۔ مدھم سی آواز میں تسبیحات پڑھتے ہوۓ اس کا سارا بوجھ اتررہا تھا۔ وہ اللہ سے بات کررہی تھی۔۔ وہ اللہ سے اپنے غم کی فریاد کرنے آٸ تھی۔۔ بھلا اس کا دل کیسے نہ ہلکا ہوتا۔۔! 

دوسری جانب وہ بھی اب کہ اسی سکون کے ساتھ رکوع میں جھکا ہوا تھا۔ اندر کا سپاٹ پن اب تک ویسا ہی تھا لیکن اب کہ اس خول میں دراڑیں بخوبی محسوس کی جاسکتی تھیں۔ رابیل نے پرسکون سی نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو ہر جانب سلامتی کی خوشبو سی بکھر گٸ۔ اس کا کہف امن و سکون کا گہوارہ لگتا تھا۔ دعا مانگ کر جاۓ نماز تہہ کرتی اٹھی اور چہرے کے گرد لپٹے دوپٹے کی تہیں کھولیں۔ کتھٸ سے بال اب کے سوکھ کر کندھوں پر پھسل رہے تھے۔ اس نے دوپٹہ اسٹڈی ٹیبل کے آگے رکھی کرسی پر ڈالا اور کرسی کھینچتی بیٹھ گٸ۔ ابھی اسے بہت سے اساٸمنٹس بنانے تھے اور مدرسہ کے کچھ ادھورے کام بھی کرنے تھے۔ نماز پڑھنے کے بعد بابا کی باتوں سے جو دل پریشان ہوا تھا وہ یکدم شانت سا ہوگیا۔ سکون ہی سکون پھیل گیا ہر سو۔۔ اس نے سیاہ روشناٸ والا قلم کھولا اور پھر کورے کاغذ پر لکھنے لگی۔ بال جب پھسل پھسل کر اسے تنگ کرنے لگے تو اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر کلپ اٹھایا اور بالوں کو ہاف باندھ لیا۔ اب کہ وہ گردن ترچھی کیۓ اپنا اساٸمنٹ بنانے میں پوری طرح سے مصروف دکھتی تھی۔ 

معاذ نے بھی اپنی نماز سے سلام پھیرا اور پھر ہمیشہ کی طرح دعا کیۓ بغیر اٹھ گیا۔ الماری کے اوپر گرد سے اٹی وہ کتاب اب بھی رکھی ہوٸ تھی۔ اس نے ایک پل کو رک کر اس کتاب کی جانب دیکھا۔۔ بہت کچھ ایک ساتھ نگاہوں کے سامنے گھوما۔۔ لیکن ابھی۔۔ اتنی جلدی وہ آگے بڑھ کر اسے اٹھانے کی ہمت خود میں نہیں پاتا تھا۔ سو گہرا سانس لے کر وہیں گلاس ڈور کے پاس جا کر دوبارہ سے لیٹ گیا۔۔ ہاتھ سر کے نیچے رکھ لیۓ۔۔ لیکن اب کہ اس کے اندر کی بے چینی مفقود تھی۔۔ اب کہ اس کے کہف میں بھی صرف سکینت تھی جو محسوس کی جاسکتی تھی۔۔ اور یہ سکینت کس کی برکت سے تھی، اس کا اندازہ اسے بخوبی تھا۔ 

دوسری صبح وہ دیر سے اٹھی۔ وہ عموماً دیر سے ہی اٹھا کرتی تھی۔ کتنی ہی دفعہ استاذہ نے اسے سمجھایا تھا کہ دیر سے اٹھنا بالکل بھی درست نہیں لیکن وہ اپنی اس عادت کو نہیں چھوڑ سکی تھی۔ اسے بہت نیند آتی تھی۔۔ بہت سے مراد اچھی خاصی نیند۔۔ رات جلدی سونے پر بھی وہ دیر ہی سے اٹھتی تھی۔ صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ اس نے خود کو کوستے ہوۓ کمبل خود سے ہٹایا اور پھر بستر سے باہر نکل آٸ۔ فجر پڑھ کر وہ جو سوتی تھی تو اسی وقت اٹھتی۔ گھر والے اس کی عادت سے واقف تھے سو اسے تنگ نہیں کیا کرتے تھے۔ اس نے منہ دھو کر دوپٹہ گلے میں لے کر اس کا ایک پلو سر پر لیا اور کمرے سے باہر چلی آٸ۔ کچن میں رامین کھانا پکا رہی تھیں۔ اس نے سلام کیا لیکن انہوں کی کوٸ جواب نہ دیا۔ یقیناً کل کی باتوں پر وہ اس سے ناراض تھیں۔۔ 

وہ گہرا سانس لے کر آگے بڑھی اور اپنے لیۓ ناشتہ بنانے لگی۔ پھر اپنا مختصر سا ہاف فراٸڈ انڈے والا ناشتہ لیۓ درمیانی ٹیبل پر آبیٹھی۔ گلا کھنکھار کر رامین کو متوجہ کیا۔۔ 

”ماں۔۔ آپ نے کرلیا ناشتہ۔۔؟“ 

”ہوں۔۔“

اس ”ہوں“ میں بھی سرد مہری تھی۔ اس نے مایوس ہو کر اپنی توجہ پوری طرح سے ناشتے کی جانب کر لی۔ ناشتے سے فراغت کے بعد اس نے رامین کے ساتھ مل کر روٹیاں پکاٸیں۔ کچن کا باقی کام تو اسے نہیں آتا تھا لیکن وہ ماسی کے چھٹی کرنے پر روٹیاں پکا لیا کرتی تھی۔ رامین نے اسے اپنی مدد کرنے سے نہیں روکا۔ مطلب صاف تھا۔۔ وہ اس سے نالاں تھیں مگر اس حد تک بھی نہیں کہ وہ انہیں منا ہی نہ سکتی۔۔ 

”ویسے تو بڑی باتیں کررہی تھیں کل تم۔ کھانا پکانا آتا ہے تمہیں جو دوسرے گھر جا کر رشتے نبھاٶ گی۔۔؟“ 

یکدم رامین نے اس سے کہا تو اس نے چونک کر ان کی جانب دیکھا۔ 

”کھانا پکانا تو نہیں آتا۔۔“ 

”پھر کیا کروگی دوسرے گھر جا کر۔۔!“ 

وہ  اس کی لاپرواہی پر غصہ ہوٸ تھیں۔ اس نے کندھے اچکاۓ۔۔ 

”معاذ کو آتا ہے۔۔“ 

مزے سے کہا۔۔ رامین نے نا سمجھی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ 

”کیا آتا ہے اسے۔۔؟“ 

”کھانا پکانا۔۔“ 

”تو وہ اب مرد ہو کر کھانا پکاۓ گا۔۔“ 

”تو کیا ہوگیا ماں۔۔ دنیا میں زیادہ تر مرد ہی شیف ہوتے ہیں۔ اگر وہ کھانا پکا لے گا تو اس میں کیا ہوجاۓ گا۔۔“ 

”یا اللہ میں کیا کروں اس لڑکی کا۔ مطلب تم نے نہیں سیکھنی گھرداری۔ وہ بیچارہ باہر بھی سنبھالے، گھر بھی دیکھے۔۔ پھر تم کیا کروگی۔۔؟“ 

”میں اس کا ہاتھ بٹاٶنگی جیسے آپ کا بٹاتی ہوں۔“ 

رامین نے اسے ایک لمحے کو افسوس سے دیکھا تھا۔ 

”نکل آٶ اپنی اس خیالی دنیا سے اور سیکھ لو کچھ گھرداری۔ ہر وقت وہ تمہارے لیۓ کھانے نہیں پکاۓ گا۔ تم اب بڑی ہوگٸ ہو یہ سب سیکھو۔۔ یہ سب سیکھنا ذمہ داری ہے تمہاری۔ اگر گھر بنانا ہے تو  پہلے کچن سنبھالنا آنا چاہیۓ۔ اور یہ جو محترمہ کی دیر سے اٹھنے والی عادت ہے ناں۔ اسے بھی نکالو اپنے اندر سے۔۔ بہت بری عادت ہے یہ۔۔ کسی دوسرے گھر جا کر اپنی ماں کی ناک ہی کٹوانی ہے تم تینوں نے تو۔۔“ 

اور وہ چپ چاپ ان کی صلاواتیں سن رہی تھی۔ کاش کہ وہ بھی ایک سگھڑ لڑکی ہوتی۔ وہ ناولز کی ہیروٸنز جیسی۔ یوں جھٹ پٹ ہاتھ چلاتی اور یہ سب کچھ تیار شیار کر کے سامنے لگا دیتی لیکن اسے تو صرف انڈا فراٸ کرتے ہوۓ اس کی زردی بچانے میں پوری جنگ لڑنی پڑتی تھی۔۔ کہاں تو وہ بڑے بڑے کھانے بنا سکتی۔ لیکن رامین کی باتوں کے بعد اسے احساس ہورہا تھا کہ اسے کچھ بھی نہیں آتا۔ صرف کتابیں پڑھنے آتی ہیں اور بس۔۔ 

”میں سیکھونگی ماں۔۔“ 

”ہاں بس بس۔۔ سیکھ لیا تم نے اور دیکھ لیا میں نے۔“ 

”اف ہے بھٸ۔ آپ ماٸیں ہمیشہ ایسے کیوں کرتی ہیں۔ پہلے ہمیں محنت کرنے پر اجاگر کرتی ہیں اور جیسے ہی ہم لڑکیاں ذرا کچھ کرنے کے لیۓ کہتی ہیں تو جھٹ منہ پر انکار۔۔ ایسے کیسے ہم کچھ سیکھ سکتے ہیں۔۔“ 

”ہاں اب تو ماں کو ہی کہنا ہے تم نے۔ خود تو کچھ آتا نہیں تمہیں۔“ 

اس نے سر ہلایا اور آخری روٹی توے سے اتاری۔ ہاتھ سنک سے دھوۓ اور پھر ماں کو ان کے کچن کے ساتھ ہی چھوڑ کر باہر نکل آٸ۔ نومبر کی اترتی دھوپ بھی اس سمے آسمان میں تیرتی بدلیوں کے پیچھے چھپ گٸ تھی۔ یخ سی ہوا سے سب کچھ یخ بستہ ہوگیا تھا۔ اس نے بھی سر پر دوپٹہ لپیٹا اور پھر باہر لان میں چلی آٸ۔ اور پھر اس کے اگلے ہی لمحے اس نے بہت ہی برا منظر دیکھ لیا۔ ایسا منظر۔۔ جس سے اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔۔ وہ بلاشبہ ارحم ہی تھا جو سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس آنکھوں سے چشمہ ہٹاتا اسی جانب بڑھ رہا تھا۔ اس کے ماتھے پر بے ساختہ ہی بل ابھرے تھے۔ اور اب کے اگلے لمحے چہرے پر فاتحانہ سی مسکراہٹ لیۓ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور واپس پلٹی۔ وہ گھوم کر اس کے سامنے آیا تھا۔ اس کی پشت بنگلے کی جانب تھی اور رابیل کی گیٹ کی طرف۔ 

”اب تم مجھ سے بات بھی نہیں کروگی۔۔“ 

”جی بالکل۔ مجھے کوٸ بات نہیں کرنی آپ سے۔“ 

اس نے بیزار ہو کر کہا تھا۔ ارحم نے افسوس سے اس کی جانب دیکھا۔ 

”کیا حال کردیا ہے چند ہی دنوں میں اس معاذ نے تمہارا۔ میری محبت میں تم کیسے جگمگایا کرتی تھیں۔۔“

اس کی ایسی گھٹیا بات پر اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا۔ اس جنگلی انسان سے اب اسے ہر گزرتے لمحے نفرت ہوتی جارہی تھی۔ 

”میں نے کبھی بھی آپ سے محبت نہیں کی تھی ارحم۔ فار یور کاٸنڈ انفارمیشن۔۔“ 

”تم کہتی نہیں تھیں وہ الگ بات ہے۔ لیکن تمہاری آنکھوں نے ہمیشہ مجھ سے بات کی ہے۔“ 

ذرا رکا۔۔ پھر آہستہ سے جھکا تو وہ پیچھے ہوٸ۔ 

”ہماری محبت کی بات۔۔“ 

اس نے دانت کچکچاۓ تھے۔ کیسے یہ گھٹیا بندہ ہر بات کو اپنا ہی رنگ دیۓ جارہا تھا۔ اس کا دل کیا ایک تھپڑ تو جڑ ہی دے اس کے منہ پر۔ 

”بکواس بند کریں اپنی۔۔“ 

اس نے ضبط سے بس اتنا ہی کہا تھا۔ وہ اس کے کھول کر کہنے پر ہنس دیا۔ پھر دیر تک ہنستا ہی رہا۔ 

”میں تم سے شادی کر کے ہی رہونگا رابیل۔ تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے۔۔“ 

اس نے جیسے اندیکھی سی گرد جھاڑی تھی کندھے سے۔ رابیل یکدم مسکراٸ تھی۔ 

”آپ کو اور آپ جیسے ہر لڑکے کو کیا لگتا ہے ارحم کہ وہ یہ۔۔ یہ اوچھی حرکتیں کرکے کوٸ سپر ہیرو لگتے ہیں۔ وہ زبردستی شادیاں کر کے کوٸ بہت بڑا کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ وہ ایک کمزور سی لڑکی پر اپنا زور چلا کر کسی سلطنت کے بادشاہ بن جاتے ہیں۔۔! مجھے کبھی بھی ایسے اوچھے لڑکے نہیں پسند تھے۔ ہر وقت اپنی مرضی مسلط کر کے خود کو کوٸ سلطان سمجھنے والوں کو پتہ نہیں کہ وہ پاکستانی فلموں کے سلطان راہی لگتے ہیں۔۔ وہ ہی جس کے ہاتھ میں گنڈاسہ ہوا کرتا تھا۔۔“ 

اس نے ایک مزاق اڑاتی نگاہ ڈالی تھی اس پر۔ ارحم نے دانت پیسے۔۔ 

”آپ کو اور آپ جیسے ہر سوکالڈ لڑکے کو سمجھ لینا چاہیۓ کہ ہمیں آپ اپنی مرضی مسلط کرتے ہوۓ ہرگز بھی ہیرو نہیں لگتے ہیں۔ جو لڑکے کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاٸیں ہم لڑکیوں کو ایسے لڑکے پسند ہوتے ہیں ارحم۔۔ جو ہر چھوٹی چھوٹی بات کو اپنی یہ فضول سی انا کا مسٸلہ نہ بنا لیں ہمیں ایسے لڑکے اپنی جانب کھینچتے ہیں۔۔ جو عزت سے پیش آٸیں اور بے عزتی کرنے والے کا منہ توڑ کر رکھ دیں ہم لڑکیاں ایسے لڑکوں سے وابستہ کرنا چاہتی ہیں خود کو۔ آپ تو اتنے چھوٹے ہیں کہ میرے ایک ذرا سے حجاب پر اپنی بلبلاٸ انا کو خاموش نہ کرواسکے۔۔ آپ کیا مجھ سے محبت کریں گے۔۔!“ 

اس کے تڑاتڑ جملوں نے جیسے ہر طرف تباہی کردی تھی۔ ارحم کو حیرت ہوٸ۔۔ کیسے وہ کمزور اور ڈری سہمی سی لڑکی اب یوں سامنے کھڑی لفظوں سے اسے تار تار کررہی تھی۔ 

”تم سے ایک آخری بار پوچھونگا۔۔ شادی کروگی مجھ سے یا نہیں۔ اور اگر اس کا جواب نہیں ہوا تو تم ابھی مجھے جانتی نہیں ہو رابیل۔۔بتاٶ۔۔ جواب دو۔۔“ 

اور اس نے اگلے ہی پل لب کھولے تھے لیکن کسی نے اسے کہنی سے پکڑ کر اپنے پیچھے کیا۔ اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ بلیو جینز پر سیاہ ٹی شرٹ پر سیاہ ہی جیکٹ پہنے ہوۓ تھا۔ رف سا۔۔ ماتھے پر گرتے بالوں سے بے نیاز۔ 

”مجھ سے پوچھو۔۔ میں بتاتا ہوں تمہیں۔۔ بتاٶ۔۔ زبان سے سمجھاٶں یا پھر ہاتھوں کی بات سمجھ آتی ہے تمہیں۔۔!“ 

اور وہ وہی تھا۔۔ وہ ہی جو ارحم سے کہیں زیادہ وجیہہ تھا۔ نہ صرف شکل و صورت میں بلکہ اپنی عزت کرنے میں بھی۔۔ اس نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنا چاہا۔ لیکن اس کی پشت اس کے جانب تھی۔ وہ اس کے پیچھے چھپ سی گٸ تھی۔ ارحم نے حیرت سے ایک لمحے کو معاذ کی جانب دیکھا تھا جو کڑے تیور لیۓ خاموشی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ یہ جرأت وہ ہی کرسکتا تھا۔۔ ہاں اتنی ہمت معاذ شعروای میں ہی تھی کہ یوں اسے کہنی سے پکڑ کر اپنے پیچھے کرتا اور پھر آگے والے سے ان کے جملوں کا حساب بھی لے لیتا۔ زبان سے نہیں تو پھر ہاتھوں سے۔۔ وہ اس کا حساب لے رہا تھا۔۔ وہ اس کا حساب اب کہ ان میں سے ایک ایک سے لینا چاہتا تھا۔ بہت ہوگیا یوں خاموش رہنا۔ بہت دیکھ لیا اس نے سب کو۔ اب وہ ان سب کو اپنے طریقے سے سمجھانا چاہتا تھا۔۔ سیدھے طریقے سے نہیں تو پھر الٹے طریقے سے سہی۔۔ 

اور اس نے اس دن جان ہی لیا کہ اسے معاذ کتنا اچھا لگنے لگا تھا۔ یوں اسٹینڈ لیتا ہوا وہ کتنا اچھا لگتا تھا۔۔ چلو ایک نہ ایک دن تو وہ اسے ضرور بتاۓ گی کہ وہ یوں تیوری چڑھا کر آگے والے کو جھاڑتا ہوا کتنا اچھا لگتا تھا۔۔!

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form