#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
ساتویں_قسط
اس نے کٸ انسانوں کو اپنے ہاتھ میں لیۓ گۓ اس تمانچے سے زخمی کیا تھا۔ کٸ لوگوں کو اس نے خوفزدہ کر کے ان سے بھتے وصولے تھے۔ وہ ایک طرح کا مافیا راج ہی تھا۔ مافیا عموماً پورے پورے گھرانوں سمیت کام کرتے ہیں لیکن اس علاقے کا باس صرف سلطان میر تھا۔ یہ اس کا علاقہ تھا۔۔ اس کے علاقے کا مطلب تھا کہ یہاں وہ دھندا کرسکتا تھا کوٸ اور نہیں۔۔ اس علاقے کی حدود میں وہ بھتہ وصول سکتا تھا کوٸ اور یہاں آ کر پر نہیں مارسکتا تھا۔ شروع شروع میں اسے ان کی سیاستیں، ان کے انداز اور ان کی باتیں سمجھ نہیں آیا کرتی تھیں لیکن جیسے جیسے اس نے ان کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا، اسے ان کی باتیں سمجھ آنے لگیں، اسے ان کے ذو معنی سے جملے ڈی کوڈ کرنے آگۓ۔ اسے ان کے اشارے سمجھ میں آنے لگے تھے۔ اس نے گنز چلانا سیکھ لیں، ہر گن کو ہینڈل کرنے کا ایک خاص طریقہء کار ہوتا ہے اور اس نے ہر اس طریقہء کار کو جاننا چاہا جس سے وہ ان گنز کو باآسانی ہینڈل کرسکتا۔
سلطان کو اس سے خاص قسم کی اپناٸیت تھی۔ وہ اس کی خالی خالی نظروں سے کبھی کبھار حیران رہ جایا کرتا تھا۔ چودہ سال کی عمر میں وہ اس قدر سپاٹ تھا کہ بڑے بڑے عمر رسیدہ لوگوں کی سنجیدگی اس کے سپاٹ سے تاثر کے آگے مات کھا جایا کرتی تھی۔ اسی اپناٸیت اور لگاٶ کا نتیجہ تھا کہ سلطان نے اسے کبھی فرنٹ لاٸین پر آنے ہی نہیں دیا۔ اسے ڈر تھا کہ وہ کبھی کسی بھی طرح سے پولیس کی تحویل میں آسکتا ہے یا پھر سامنے رہنے پر وہ بہت سوں کی نظروں کا مرکز بن سکتا ہے۔ سو اسے ہمیشہ اسٹیج کے پیچھے کا کام دیا گیا۔ اسے لوگوں کے اثاثہ جات کو چھاننے، ان کی آف شیور کمپنیز کو کھنگالنے اور پھر ان کی کمزوریاں اکھٹی کرنے کے لیۓ رکھا گیا۔ پچھلے ایک سال کے عرصے میں اس نے اتنے لوگوں کی زندگیاں کھنگال لی تھیں کہ اسے اب کہ ان کے نام بھی بھول گۓ تھے۔ زندگیاں کھنگالتے کھنگالتے اسے اندازہ ہوا کہ جو جیسا ہے وہ ویسا نہیں ہے۔ جو جیسا دکھتا ہے وہ ویسا ہوتا نہیں ہے۔ لوگ جو ہوتے ہیں وہ نظر نہیں آتے اور جو نظر آتے ہیں وہ ہوتے نہیں۔ لوگوں کے ظاہری حلیوں کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ کس کے اندر کونسا جانور سانس لے رہا ہے۔ اس نے عرصے تک لوگوں کو اس طرح جج کیا تھا۔۔ اسی ججمینٹ کی وجہ سے کٸ دفعہ اسے اپنے کام میں ناکامی کا سامنہ کرنا پڑا۔ وہ حیران رہ جاتا کہ اس قدر اختلاف آخر لوگوں کے ظاہر اور باطن میں ہو کیسے سکتا ہے۔۔ لیکن پھر اس تاریک دنیا میں رہ کر اسے اندازہ ہو ہی گیا کہ انسان نامی مخلوق کیا چیز ہوتی ہے۔ اس کی کتنی پرتیں ہیں اور وہ کتنی گہری تہوں کے بعد جا کر کھلتا ہے۔
"انسان بہت خوفناک مخلوق ہے معاذ۔۔ اس دنیا کی سب سے خوفناک مخلوق۔۔ انسان کبھی ویسے نہیں ہوتے جیسے نظر آتے ہیں، انہیں کبھی ان کے ظاہری حلیوں سے جج نہیں کیا کرتے۔ کون اپنے اندر کون سی جنگ لڑ رہا ہے اور کون اندر جنگ جیت چکا ہے، تمہیں اس کا اندازہ کبھی نہیں ہوگا۔"
اس کے کام کے تین اصول تھے۔ پہلا، لوگوں کے بول پر کبھی یقین نہ کرنا، دوسرا، انہیں اپنے ارادوں سے کوسوں دور رکھنا اور تیسرا، ہمیشہ اپنی کمزوریوں کی حفاظت کرنا۔
عرصہ ہوا اس نے لوگوں کی زبان پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لوگ جو کہتے تھے وہ سچ یا جھوٹ کی آمیزش کا ایک پیالہ ہوا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس تاریکی میں رہ رہ کر اسکا اپنا وجود بھی آہستہ آہستہ اس تاریکی کا حصہ بنتا جارہا تھا۔ اس نے نمازیں چھوڑ دی تھیں، قرآن کے بارے میں تو کبھی اس نے دوبارہ سوچنے کی جرأت ہی نہ کی تھی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے یاد کیۓ گۓ قرآن کی ایک آیت بھی پڑھ سکتا۔ اس نے اس عرصے میں اس معاذ کو کھو دیا تھا جو قرآن پڑھا کرتا تھا، قرآن پڑھنے کا حق رکھتا تھا اور قرآن سے دنیا روشن کرنے کی امنگ لیۓ زندہ تھا۔ اب کا معاذ تو بس خاموشی سے دیوار کے ساتھ کمر ٹکاۓ، سیاہی میں گھورتا رہتا۔ اس کا بولنا نہ بولنے کے برابر ہوگیا۔ کوٸ اس سے سوال کرتا تو وہ جواب دے دیتا اور بس۔۔ اس سے آگے اسے باتیں کرنے کا کوٸ شوق نہیں تھا۔ اسے لوگوں میں دلچسپی نہیں تھی۔
کٸ دفعہ اس نے اپنے آپ کو ان لوگوں سے بدلہ لینے سے روکا جس نے اس کی زندگی برباد کی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ ایک ایک کو ختم کردیتا۔ وہ ان میں سے ایک ایک کی لاشیں بچھا دیتا لیکن وہ ایسا نہ کرسکا۔ وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ اسے وہ آخری یخ سا لمس اب تک یاد تھا۔ اسے سب کچھ بھول گیا تھا لیکن وہ آخری نصیحت۔۔ وہ کہیں اس کے اندر تک گڑ گٸ تھی۔۔ صاٸمہ کے بارے میں جتنی معلومات اس کے پاس تھی شاید ہی کسی کے پاس ہوسکتی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ ان کی شادی ہوچکی ہے اور اس شادی کے بعد ان کی اولاد نہ ہونے کے باعث طلاق بھی ہوچکی ہے۔ دوسری شادی کوٸ خاص دھوم دھام سے نہیں کٸ گٸ کیونکہ اب کہ شادی ان سے عمر میں کافی بڑے انسان سے ہورہی تھی۔ عباد کا بارہ سالہ بیٹا بھی تھا۔ اسے اس کے سوتیلے بیٹے کا نام تک پتہ تھا۔ اس کا نام ارحم تھا۔ وہ صاٸمہ کا سوتیلا بیٹا تھا۔۔ ساری زندگی جن سوتیلے رشتوں سے انہوں نے نفرت کی تھی اب خدا نے ان کی زندگی میں ایک سوتیلی اولاد ڈال دی تھی۔ وہ لڑکا معاذ سے ایک سال چھوٹا تھا۔ اس نے خود کو روک رکھا۔۔ اس نے اس لڑکے کو نقصان پہنچانے سے خود کو باز رکھا۔۔ اسے انہیں معاف کرنا تھا۔۔ اگر اس نے انہیں معاف نہیں کیا تو وہ اس بڑے دن میں اپنی ماں کو کیا منہ دکھاۓ گا۔۔؟ وہ کیسے ان کا سامنہ کرے گا۔۔ لیکن انہیں معاف کرنا۔۔ انہیں ان کی سیاہ کاریوں پر معاف کرنا اس کے بس میں تھا ہی نہیں۔ کبھی کبھی وہ سختی سے مٹھی بھینچے خود کو ان ساری زہریلی سوچوں سے بچانے کی کوشش کرتا تو سلطان اس کے ساتھ آبیٹھتا۔
اس کی پیٹھ تھپکتا۔۔ اسے بہلاتا۔۔ وہ اسے جانتا تھا۔ وہ اسے جاننے لگا تھا۔۔ اس کے ہر انداز کو پہچاننے لگا تھا۔ لیکن پھر ایک دن وہ ہوا جس کے بعد معاذ شعروای کی زندگی گویا چلتے چلتے رک سی گٸ۔
وہ حسبِ معمول، جینز کی جیب میں گن اڑسے، چہرے پر نقاب چڑھاۓ، اپنے ایک ساتھی کا انتظار کررہا تھا۔ یکایک اس کے کانوں میں ایک آواز سی گونجی۔ وہ ماں اور بیٹا تھے جو سڑک کے اس پار سے گزر کر اس طرف کو آرہے تھے۔ ماں پورے برقعہ اور نقاب میں تھی، ساتھ بیٹا بارہ سال کا تھا۔ اس کے بے داغ سے سفید شلوار کرتے کو دیکھتے وہ گم صم سا ہوگیا۔۔ کچھ چمکا تھا اس کی یادداشت میں۔۔
"تم نے مجھے وہ سورہ سنانی ہے جو تم کل اپنے کمرے میں حفظ کررہے تھے۔ "
ماں نے گردن جھکا کر بیٹے سے کہا تھا۔ بیٹے نے برا سا منہ بنا کر چہرہ اوپر کو اٹھایا۔ اس کے اندر کچھ ڈوبنے لگا تھا۔
"آپ کو میرا قرآن پڑھنا اتنا پسند کیوں ہے۔۔؟"
وہ اب کے چلتے چلتے اس کے قریب سے گزرنے لگے تھے۔ معاذ بنا پلکیں جھپکاۓ، سکڑتے دل کے ساتھ ان دونوں کو دیکھے گیا۔
"کیونکہ میرا بیٹا جتنا قرآن پڑھے گا، اتنا ہی اس کے حصے کے اجر کا ایک حصہ مجھے بھی ملے گا۔ مجھے وہ حصہ چاہیۓ۔۔ ایک بار نہیں۔۔ بار بار چاہیۓ۔۔"
اس کی قدم لڑکھڑاۓ تھے۔ آنکھیں گلابی پڑنے لگیں۔ معاذ احمد شعراوی بہت عرصے بعد لڑکھڑایا تھا۔ یکایک دوسری جانب سے ایک نقاب پوش ان دونوں کی جانب بڑھا۔ وہ اس کا ساتھی تھا اور اکثر خود کا پیٹ پالنے کے لیۓ وہ یوں سڑک پر چلتے لوگوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ چند لمحوں کا کھیل تھا۔۔ چند ساعتوں کا تعین تھا۔۔ اس کے ساتھی نے اس عورت پر بندوق تانی تو اس کی کنپٹیاں جل اٹھیں۔۔ وہ کسی بھی بات کی پرواہ کیۓ بغیر آگے بڑھا اور اپنے ساتھی کو گریبان سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔۔ ماں اور بیٹا اس آفتاد پر ڈر کر پیچھے ہٹے تھے۔ بچہ خوفزدہ ہو کر ماں سے لپٹ گیا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی کو پیچھے کی جانب گھسیٹا اور اسے ان سے دور کیا۔۔
منظر بدلنے لگا۔۔ وہ لاٶنج میں بیٹھا روتے ہوۓ ان سے بھیک مانگنے لگا تھا کہ اس کی ماں کو چھوڑ دیا جاۓ۔۔ سب منظر آپس میں گڈ مڈ ہورہے تھے۔ اسے کچھ سجھاٸ نہ دیتا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ ایک زوردار مکا اس نے اس کے منہ پر مارا تو وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔ اس کا ساتھی اس کے ایسے ردعمل پر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ معاذ اس عورت کی جانب گھوما۔۔ وہ گیلی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔
"آپ۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔؟"
لیکن عورت نے اسے کوٸ جواب نہیں دیا۔ اس کا حلیہ ہی ایسا تھا کہ وہ خوفزدہ ہو کر اپنا بیٹا لیۓ وہاں سے بھاگ گٸیں۔ وہ انہیں دور جاتا ہوا دیکھے گیا۔ دھندلی سی نمی سارے منظر دھندلانے لگی۔۔
رات میں وہ اپنے کمرے کی دیوار سے کمر ٹکاۓ، سرجھکا کر بیٹھا تھا۔۔ یکایک سلطان اس کے ساتھ آ بیٹھا۔ اس نے سر نہیں اٹھایا۔۔
"اکبر بتا رہا تھا کہ تم نے مارا ہے اسے۔۔ "
"مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کیا۔۔"
اعمال کی وضاحتیں دینا تو اس نے عرصہ ہوا چھوڑ دیا تھا۔ لوگ صرف انہی باتوں پر یقین کرتے ہیں جن پر یقین کرنا چاہتے ہیں، کوٸ کبھی بھی آپ کی وضاحتوں پر یقین نہیں کرتا۔ اس نے بھی ایک سے دوسری بات کرنا خود پر حرام کر رکھا تھا۔
"کیوں خود کو تکلیف دیتے ہو۔۔؟"
اس کی بات پر اس کے چہرے ہر تلخ سی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔
"جو تکلیف ملنی ہوتی ہے، وہ مل کر رہتی ہے۔۔"
"جو تکلیف ملنی ہوتی ہے۔۔ وہ واقعی مل کر رہتی ہے۔۔ بلاشبہ۔۔"
اسے اس سے کوٸ اختلاف نہ تھا۔
"لیکن معاذ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے دور چلے جاٶ۔۔ بہت دور۔۔"
"کسی نے کچھ کہا ہے کیا تم سے۔۔؟"
اس نے تیزی سے اس کی بات کاٹی تھی۔ سلطان نے لمحے بھر کو گہرا سانس لیا۔۔ پھر اس کی سرمٸ آنکھوں میں اپناٸیت سے دیکھا۔۔
"تمہارے بابا کے بہت سے بڑے بڑے دوستوں نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور ان سب کا مطالبہ یہی ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دو۔ تم جانتے ہو ناں کہ اگر میں نہیں چاہونگا تو تم یہاں سے نہیں نکل سکتے۔۔ کبھی بھی کوٸ بھی تمہیں یہاں سے نہیں نکال سکتا چاہے کتنا بھی اثر و رسوخ رکھتا ہو وہ لیکن میں۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے کہیں بہت دور چلے جاٶ۔۔"
اسے اس کے لہجے سے تکلیف ہوٸ تھی۔۔
"تم مجھ پر ترس کھا رہے ہو۔۔! جانتے ہو ناں مجھے نفرت ہے ایسے لوگوں سے۔۔"
"میں تم پر ترس نہیں کھارہا معاذ۔ تم معذور یا پھر کسی بھی طرح کمزور نہیں ہو کہ تم پر ترس کھایا جاۓ۔ تم ایک مضبوط لڑکے ہو۔ تم ایک اچھے بیٹے ہو۔۔ تمہاری اس تاریک دنیا میں کوٸ جگہ نہیں۔۔"
اس نے تلخی سے سر جھٹکا۔۔
"میں بالکل بھی اچھا بیٹا نہیں ہوں"
"اگر اچھے نہیں ہوتے تو اب تک وہ سب قبروں میں ہوتے جنہوں نے تمہاری خوشیوں کو قبروں کی راہ دکھاٸ ہے۔۔"
اس نے بے ساختہ سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
"تم ایک اچھے بیٹے تھے، اچھے بیٹے ہو اور اچھے بیٹے رہوگے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاٶ۔ جانتے ہو، ہم جیسے ان جرم کی تاریکیوں کو ہینڈل کرنے والے کہیں نا کہیں اندر اس خواہش کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں کہ کاش ہم بھی اس عذاب سے نکل سکیں۔۔ ان گناہوں کے دلدل سے خود کو آزاد کروا لیں لیکن معاذ۔۔"
اب کہ اس نے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔
"انسان ہر گناہ سے نہیں نکل سکتا۔۔ وہ چاہے تب بھی نہیں۔ میں تمہیں ایسی کسی اذیت میں نہیں دیکھنا چاہتا تم چلے جاٶ یہاں سے۔۔ مجھ سے غلطی ہوگٸ جو میں تمہیں یہاں لے آیا۔ تم یہاں کے لیۓ نہیں بنے۔ اندر ہی اندر کہیں میں بھی تمہارے والد کا انتظار کررہا تھا۔ تمہارے یہاں آنے کے عرصے سے ہی میں چاہتا تھا کہ تم یہاں سے چلے جاٶ۔"
اور اس رات اسے پھر سے یاد نہیں تھا کہ وہ کن راستوں پر چل رہا ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ لگ کر بیٹھے وہ پوری رات اس نے گزاری تھی۔ لیکن پھر صبح کی سپیدی کے ساتھ ہی اس کے عین ساتھ ایک گاڑی رکی۔ اس نے خشک آنکھیں اٹھاٸیں۔ سامنے ہی وقار کھڑے تھے۔ اس سارے عرصے میں وہ اتنے کمزور ہوگۓ تھے کہ حد نہیں۔ معاذ خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ آگے بڑھے لیکن وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔ وقار اپنی جگہ پر ہی ساکت ہوگۓ۔ اور پھر وہ اگلی کوٸ بھی بات کیۓ بغیر ہی گاڑی میں جا بیٹھا تھا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ کبھی اس تاریک دنیا کی جانب نہیں پلٹے گا۔ وہ حبیبہ کا بیٹا تھا۔۔ وہ اس تاریکی کے لیۓ نہیں بنا تھا۔ وقار کے ہوا میں معلق ہاتھ بے دم سے پہلوٶں میں آگرے۔ ان کا معاذ انہیں مل گیا تھا لیکن کیا یہ واقعی وہ ہی معاذ تھا جو ان سے کھو گیا تھا۔۔!
زندگی کے اگلے کٸ سال یونہی خاموشی سے گزر گۓ۔ وہ وقار سے بات نہیں کیا کرتا تھا۔ اسے ان سے بہت سے گلے تھے۔۔ بہت سے شکوے تھے۔۔ وہ ایسے کیسے انہیں ان کے فیصلوں پر معاف کرسکتا تھا۔ لیکن وقت کا مدھم پہیہ آہستہ آہستہ ہر زخم کو مندمل کرتا گیا۔ وہ کبھی کبھی سلطان سے ملنے چلا جاتا، اسے کوٸ بیماری لگ گٸ تھی اسی لیۓ اب کہ وہ خاموشی سے ایک جانب پڑا رہتا تھا۔ وہ بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوگیا۔ اس نے بھی باتیں قبول کرنا شروع کردیں لیکن انتیس نومبر کی وہ رات۔۔ وہ رات آج بھی کہیں اس میں سانس لے رہی تھی۔ اور اس سانس کی اذیت، اسے ہرلمحہ اپنے اندر اترتی محسوس ہوتی تھی۔۔
معاذ کو بھی اس اندھیری کہف سے نکالنا ہے۔۔۔۔
اور اس کام کے لیے رابیل کو چنا گیا تاکہ وہ اسے نکالے اندھیرے سے۔۔۔۔۔
اور لے آئے روشنی کی طرف۔۔۔۔
اور رابیل کو چنا گیا آسمانوں پر۔۔۔۔
اس کی ہمسفر۔۔۔۔۔
اس کی ہمدرد۔۔۔۔
اس کی ساتھی۔۔ کے طور پر۔۔
تو پس ثابت ہوا کہ
اللہ کی رسی کو جو مضبوطی سے پکڑ لے وہ اسے اکیلا نہی چھوڑتا۔۔۔۔۔
(ایک قاری عالیان سکندر کا خوبصورت تبصرہ)
اس نے حیرت سے اس سیاہ عباۓ سے ڈھکی لڑکی کو دیکھا تھا۔ چہرے کے گرد سیاہ ہی حجاب لپیٹے وہ اس ٹاٹ کی دنیا میں ریشم کا پیوند لگتی تھی۔ عباۓ،حجاب اور سفید سنیکرز میں، ہاتھ باندھے دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی وہ اسے ہر گزرتے لمحے میں حیران کررہی تھی۔ پھر یکایک اس نے دیکھا کہ وہ اس کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس نے کھنکھار کر آس پاس دیکھا تھا۔ بہت سے ورکرز جاچکے تھے اور اکا دکا ورکرز اپنے اپنے لباس تبدیل کیۓ اب کہ جانے کی تیاری میں تھے۔ رابیل قریب آ کر خاموشی سے اس کے سامنے کھڑی ہوگٸ تھی۔ اس نے ایک بار پھر سے آس پاس دیکھا، ورکرز کے لیۓ آنکھوں میں واضح تنبیہ تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب ورکرز جلدی جلدی باہر نکلے تو وہ دونوں تنہا رہ گۓ۔
"یہاں کیوں آٸ ہو۔۔؟"
مصالحہ بھون چکا تھا۔ اس نے اس کی آنچ بند کرتے ہوۓ سرسری سا پوچھا۔ آنکھوں میں اسے دیکھ کر آجانے والی حیرت کو اس نے اب کہ یوں چھپایا تھا۔
"کیونکہ تم مجھے گھر پر نہیں ملے تھے۔ تو میں یہاں چلی آٸ۔۔"
وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ کتھٸ آنکھوں کا متورم سا تاثر اب تک اس کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ معاذ نے اس کی بات پر چہرہ اسکی جانب پھیرا۔ ابرو سوالیہ سے اکھٹا تھے۔
"تم گھر کیوں گٸ تھیں۔۔؟"
"تم سے ملنے۔"
اس کی صاف گوٸ پر معاذ لمحے بھر کو حیران ہوا تھا۔
"میں مصروف ہوں فی الحال۔۔"
یہ ایک طرح سے وضاحت تھی کہ میں ابھی تم سے بات کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں۔ اسی لیۓ تم جاسکتی ہو۔ لیکن رابیل نہیں ہلی۔ ویسے ہی ہاتھ باندھے اسے دیکھے گٸ۔۔
"تھوڑی سی بات کرنی ہے۔ تھوڑی سی بات بھی نہیں کروگے۔۔؟"
چہرہ ذرا آگے نکال کر اسے دیکھنا چاہا۔ معاذ نے ایک بار پھر سے اسے دیکھا تھا۔ کتھٸ آنکھوں میں جگمگاتی امید لیۓ وہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔ کیا وہ اسے انکار کرسکتا تھا۔۔؟
"اوکے سن رہا ہوں۔۔ کہو۔۔۔"
اس نے سر ہلا کر اسے اجازت دیتے ہوۓ، مصالحہ ایک ڈونگے میں نکالا۔ رابیل چند لمحے تو خاموش رہی پھر اداسی سے نظریں اپنے قدموں پر جھکاٸیں۔
"کیا تم اس رشتے کے لیۓ راضی نہیں ہو معاذ۔۔؟"
اس کے کام کرتے ہاتھ لمحے بھر کو ساکت ہوۓ تھے۔
"یقیناً یہ اندازہ بھی تم نے ہی قاٸم کیا ہوگا۔ رابیل تم اپنے اندازے اپنے پاس رکھو۔۔"
"ہاں یا نہیں معاذ۔۔ مجھے ہاں یا نہیں میں جواب چاہیۓ۔"
اور اس کے ایسے انداز پر اس نے پین رکھ کر اس کی جانب ایک لمحے کو دیکھا تھا۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہیں اپنے قدموں پر جھکی تھیں۔ یقیناً، وہ اپنی عزت نفس پر پیر رکھ کر یہ بات یہاں کرنے آٸ تھی۔
"ہاں۔ میں راضی ہوں اس رشتے کے لیۓ۔۔ اور کچھ۔۔؟"
اس کی بات پر اس نے بے اختیار سر اٹھایا تھا۔ وہ اب کہ سارے برتن سنک میں دھونے کے لیۓ جمع کرنے لگا تھا۔
"واقعی۔۔۔؟!"
اس نے کندھے اچکاۓ تھے۔ وہ پاس چلی آٸ۔ بے یقین نگاہیں اب تک اسے تک رہی تھیں۔
"مجھے جھوٹ بولنے کی کوٸ ضرورت نہیں ہے رابیل۔۔"
"تو پھر تم گھر کیوں نہیں آرہے۔۔؟"
"مصروف تھا پچھلے دنوں بہت زیادہ۔۔"
"پھر بھی۔۔ تمہیں کچھ تو خیال کرنا چاہیۓ ہمارے مابین رشتے کا۔۔"
اسے ایک دم سے اس پر بہت غصہ آیا تھا۔ لوگ اس کے پیچھے اس کے ساتھ کیا کیا کرنے کو تیار بیٹھے تھے اور یہاں وہ اپنے کاموں میں مصروف تھا۔
معاذ نے ایک نظر اسے دیکھا۔ کوفت زدہ سی نظر تھی وہ۔۔
"اب مجھے تنگ نہ کرو اور جاٶ۔۔"
"میں کہیں نہیں جارہی۔۔ پہلے مجھے بتاٶ کہ تم اتنے غافل کیسے ہوسکتے ہو۔۔! اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں تمہیں اور وہ تمہیں گناہ دیں گے تمہاری حرکتوں پر سمجھے۔۔۔!"
آخر میں ذرا بلند آواز سے کہا تھا۔ معاذ نے بیزار سی سانس خارج کی تھی۔ پھر ہاتھ دھو کر جھٹکے اور اسے بازو سے پکڑ کر، درمیان میں لگے میز کی اطرافی کرسی پر لا بٹھایا۔
"اب یہاں بیٹھو اور مجھے ڈسٹرب مت کرو۔۔"
"میں تمہیں ڈسٹرب کررہی ہوں کہ تم مجھے۔ عجیب ہو بالکل۔۔ ایک تو میں یہاں تم سے بات کرنے آٸ ہوں، جناب کو خود تو کوٸ ہوش تھا نہیں اور اوپر سے اب یہ نخرے۔۔ دیکھو معاذ۔۔! میں وہ لڑکی نہیں ہوں جو ہر وقت تمہارے نخرے اٹھاتی رہونگی۔ میں ایک مضبوط لڑکی ہوں۔ کچھ الٹا سیدھا کروگے تو تمہیں ایک منٹ میں "ٹھیک" بھی کردونگی۔۔"
وہ وہاں بیٹھے بیٹھے بھی باز نہیں آٸ تھی۔ معاذ نے زور سے پلیٹ سلیب پر رکھی تھی۔
"تمہیں تھوڑا سا بھی احساس ہے کہ تم کیا کررہے ہو۔۔؟ تمہیں تھوڑا سا بھی اندازہ ہے کہ لوگ میرے ساتھ تمہارے پیچھے کیا کررہے ہیں۔۔؟ لیکن تمہیں اس سے کیا۔۔ تم کرتے رہو اپنے کام۔۔ میں تو جاٶں بھاڑ میں۔۔"
معاذ نے اب کہ اس کے حوالے پر لمحے بھر کو اس کی جانب پلٹ کر دیکھا تھا۔ وہ پانی پانی سی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ کیا اسے پتہ تھا کہ وہ اس سے گلہ کررہی ہے۔۔؟ کیا وہ جانتی تھی کہ وہ بہت جلدی آگے بڑھ رہی ہے۔۔؟ وہ جانتی نہیں تھی یا پھر معصوم تھی، معاذ کو سمجھ نہیں آیا۔ وہ اس رشتے کو وقت دینا چاہتا تھا۔ وہ جلدبازی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے گھر بھی وہ اسی لیۓ نہیں گیا تھا کیونکہ وہ فی الحال اسے بھی وقت دینا چاہتا تھا کہ وہ اس رشتے کو قبول کرلے۔ اسے پتہ تھا کہ وہ حساس ہے۔۔ یہ سب قبول کرنے کے لیۓ اسے وقت درکار تھا۔ لیکن پھر وہ کیا بات تھی جو اسے یہاں تک کھینچ لاٸ تھی۔۔؟ کیا کوٸ مسٸلہ تھا اسے۔۔؟
وہ اس کے چہرے کو چند لمحے جانچتا رہا تو رابیل نے بے ساختہ اس سے نظریں چراٸ تھیں۔ یوں لگتا تھا اگر وہ مزید اسے دیکھتی رہی تو وہ اس کے اندر کا حال پڑھ لے گا۔۔ اور ابھی۔۔ ابھی وہ اسے اتنا اندر نہیں اتارنا چاہتی تھی۔۔ اتنی جلدی کیسے وہ اسے اپنے دل تک رساٸ کی اجازت دے سکتی تھی۔۔؟ لیکن کچھ تھا۔۔ کچھ تھا جو بلا اجازت ہی اس کے دل میں داخل ہونے لگا تھا۔
اس کے نگاہ چرانے پر اس نے بھی سرعت سے چہرہ موڑا اور برتن دھونے لگا۔ اگلے کٸ پل کوٸ کچھ نہ بولا۔۔ رابیل اپنی جگہ خاموش ہوگٸ تھی اور معاذ۔۔ وہ تو ویسے بھی خاموش رہتا تھا۔ پھر اسے کچھ لمحوں بعد محسوس ہوا کہ جیسے وہ اس کے پاس اٹھ کر آرہی ہے۔ اس نے توجہ نہیں دی۔ خاموشی سے برتن سمیٹ کر ریک میں رکھے۔
"معاذ۔۔۔"
اس کی کمزور سی آواز اسے بالکل اپنے برابر سے سناٸ دی تھی۔ لیکن وہ نہیں مڑا۔۔
"معاذ۔۔"
اس نے اس کی کہنی تک مڑی آستین ہلکے سے کھینچی۔۔ جیسے اسے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا۔ وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی مسکرادیا۔ کیا لڑکی تھی یہ۔۔ اس نے ایسی لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
"آٸ ایم سوری۔۔ مجھے پتہ ہے میں اوور ری ایکٹ کررہی ہوں، مجھے پتہ ہے تم سوچ رہے ہوگے کہ میں کتنی عجیب ہوں لیکن تم نہیں سمجھ سکتے کہ میں ایسا کیوں کررہی ہوں۔ تمہیں میرے مسٸلے نہیں سمجھ آٸیں گے۔ "
اس نے اس کے جھکے سر کو دیکھ کر لمحے بھر کے لیۓ سر ہلایا تھا۔ لیکن پھر وہ اگلے پل اس کے ساتھ ہی کھنچتا چلا گیا۔ وہ اسے اس کی آستین سے پکڑے کرسی تک لاٸ۔ وہ آہستہ سے اسے دیکھتے ہوۓ بیٹھ گیا۔ پھر وہ اس کے سامنے بیٹھی۔ چند پل لب کاٹتی رہی۔۔ کچھ دیر پہلے کی ساری ہٹ دھرمی اب کہ خاموش ہوٸ اسے دیکھ رہی تھی۔ معاذ نے گہرا سانس لیا۔۔
"تم سمجھاٶ۔۔ میں تمہارے مسٸلے سمجھنے کی کوشش کرونگا۔۔ بتاٶ۔۔ کیا ہوا ہے۔۔؟"
اس نے اب کہ بہت نرمی سے کہا تھا۔ جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں رابیل کا کوٸ قصور نہیں تھا۔ یہ سب اس کا اپنا فیصلہ تھا۔
"ایک بات بتاٶ۔۔ خر کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔؟"
اور وہ جو اس کے مسٸلے سننے کے لیۓ خود کو تیار کرچکا تھا لمحے بھر کو ناسمجھی سے پیچھے ہوا۔
"یہ کس نے کہا ہے تمہیں۔۔؟"
اسے پتہ تھا کہ خاندان میں کہیں دور دور تک کوٸ بھی پٹھان نہیں۔ صرف اس کی دادی ہی پٹھان تھیں جس کی وجہ سے وقار کو پشتو آتی تھی۔ ان کے علاوہ کوٸ بھی اس زبان سے واقف نہ تھا۔ لیکن ابھی رابیل کے منہ سے یہ لفظ سن کر وہ لمحے بھر کو حیران ہوا تھا۔
"وقار تایا تمہیں کہہ رہے تھے۔۔"
"اس کا مطلب ہوتا ہے بہت اچھا لڑکا۔۔"
مزے سے کندھے اچکا کر جواب دیا۔ رابیل نے مشکوک سا اسے دیکھا۔۔
"لیکن انہوں نے بہت غصے میں کہا تھا تمہیں۔۔ یہ اس کا مطلب نہیں ہوسکتا۔۔"
اور اس کے جواب پر وہ چہرہ جھکا کر خاموشی سے ہنس دیا تھا۔ کیا کرے وہ اس لڑکی کا۔ رابیل اب کہ ناسمجھی سے اس کی ہنسی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے اسے کبھی بھی ہنستے ہوۓ نہیں دیکھا تھا لیکن وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ وہ ہنستے ہوۓ اچھا لگتا ہے۔۔
اف۔۔ یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔
فوراً سر جھٹکا۔۔
"اس کا مطلب ہوتا ہے۔۔۔ گدھا۔۔"
وہ اب کہ مسکرا رہا تھا۔ رابیل کی آنکھیں لمحے بھر کو پھیلیں۔ معاذ کو اسے ایسے حیران دیکھ کر اور ہنسی آٸ تھی۔
"وہ تمہیں گدھا کیوں کہتے ہیں۔۔ ویسے ایک منٹ۔۔ بالکل ٹھیک کہتے ہیں وہ تمہیں۔ کتنا تنگ کرتے ہوگے تم تایا کو۔ پتہ نہیں برداشت کیسے کرتے ہیں وہ تمہیں۔۔"
اسے ایک پل کو تایا پر ترس آیا تھا۔ معاذ ویسے ہی بیٹھا رہا۔ محض کندھے اچکاۓ۔ یہ اس کا سب سے پسندیدہ تاثر تھا۔ جیسے "جو ہے سو ہے"۔
"پھر کیوں آٸ ہو تم یہاں۔۔؟"
اور اس کے اگلے ہی لمحے وہ پرانا معاذ بن گیا تھا۔ وہ خاموشی سے چند پل اس کی سرمٸ آنکھوں کو دیکھے گٸ۔ کٸ لمحے پہلے کی باتیں پھر سے یاد آنے لگی تھیں۔
"تم اس رات گھر کیوں نہیں جاتے معاذ۔۔؟"
اور پھر وہ جو لاپرواہی سے بیٹھا تھا، چونکا۔۔ اسے دیکھا۔ وہ اس کے چونکنے پر بھی نہیں چونکی تھی۔ ویسے ہی اسے دیکھے گٸ۔
"یہ کس نے۔۔ "
وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ لمحے بھر میں سمجھ آیا تھا اسے کہ یقیناً بابا ہی نے اسے اس بارے میں بتایا ہوگا۔۔ ان سے تو خیر وہ بعد میں نبٹے گا۔ پہلے رابیل سے حساب برابر کر لے۔
"دیکھو رابیل۔۔ کچھ معاملات میں، میں کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔ حتی کہ بابا کو بھی نہیں، تو بہتر ہے کہ تم مجھ سے اس بارے میں کوٸ تفتیش مت کرو۔ کیونکہ میری زبان بہت کڑوی ہے۔ لوگوں کے حلق سے کٸ دنوں تک ان جملوں کی کڑواس نہیں جاتی۔۔"
وہ بہت بے رحمی سے بول رہا تھا۔ رابیل کی آنکھوں میں پانی سا بھرا۔۔ اس کے یہاں تک پہنچ جانے میں اس کے گھر والوں کا ایک بہت بڑا کردار رہا تھا۔ وہ ان سب کی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہتی تھی۔ وہ ان سب کی طرف سے اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔
"تم نے یہ قرآن کیوں چھوڑ دیا معاذ۔؟"
اس نے بہت دکھی دل کے ساتھ یہ سوال کیا تھا۔ معاذ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ پچھلے کٸ سالوں میں کسی نے اس سے یہ سوال کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ کوٸ یہ جرأت کر ہی نہ سکا تھا۔ اور ایک یہ لڑکی تھی جسے وہ ٹھیک سے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ اس کے سامنے بیٹھی اس سے وہ باتیں پوچھ رہی تھی کہ جن باتوں کو اس نے خود سے بھی چھپایا تھا۔
"رابیل تم۔۔"
"میں جانتی ہوں معاذ تاریک کہف کی اذیت کیا ہوتی ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ اس سیاہی میں انسان کی خوفزدہ سی آواز کہف کی دیواروں سے پلٹ کر واپس آجایا کرتی ہے۔ کوٸ بھی لرزتے وجود پر اس سمے چادر ڈالنے والا نہیں ہوتا ہے۔ کوٸ انسان اس پکار پر نہیں آتا ہے معاذ۔ ہمیں خود میں خود ہی سمٹ کر خود کی ڈھارس بندھانی ہوتی ہے۔ تنگ و تاریک کہف کا سفر آسان نہیں ہوتا معاذ۔۔ قدموں کے ساتھ ساتھ روح تک زخمی ہوجاتی ہے۔۔"
وہ اسے نہیں سن رہی تھی۔ وہ اسے سنا رہی تھی۔ اس کا سرمٸ سا ارتکاز لمحے بھر میں گلابی ہوگیا تھا۔ وہ ہی سیاہ رات ہر سو پھیلنے لگی تھی۔۔ دل سکڑنے لگا تھا۔۔
"میرے گھر والوں نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا معاذ۔ ہماری جہالت کی وجہ سے تم نے تاٸ کو کھو دیا۔ تم نے اپنی زندگی ہماری وجہ سے کھودی۔ ہم بہت برے لوگ ہیں۔۔ ہم کسی بھی طرح معافی کے قابل نہیں ہیں۔ لیکن ایک بات۔۔ ایک بات جو مجھے یہاں تک کھینچ لاٸ، وہ تمہارا ظرف تھا۔۔ تم میں اتنا ظرف کہاں سے آگیا، کہ دشمن کے گھر کی بیٹی سے تم نے نکاح کرلیا۔۔؟ تم نے کیوں وقت آنے پر میرے بابا، چچا اور پھپھو کو ذلیل نہیں کیا۔۔؟ تم نے کیوں اس گھر کی بیٹی سے نکاح کرکے ان کی عزت بچا لی۔۔۔؟ تم اتنے اعلیٰ ظرف کیسے ہوسکتے ہو۔۔؟"
اور وہ بیوقوف سی لڑکی اب کہ کیسی دل دہلادینے والی باتیں کررہی تھی۔۔! معاذ نے آنکھیں لمحے بھر کو موند کر چہرہ دوسری جانب پھیرا۔ اسے ابھی جواب دینے کا مطلب تھا اسے ہرٹ کرنا۔۔ اور وہ اس لڑکی کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ وہ اسے ہرٹ کرنے کا سوچ کر ہی ہرٹ ہونے لگا تھا۔۔ اف۔ یہ کیا ہورہا تھا اس کے ساتھ۔۔۔!
"تم مجھ پر اپنا غصہ اتار لو معاذ۔ میں مجرم کی بیٹی ہوں۔ میں اس گھر کی بیٹی ہوں جس گھر نے تم سے تمہارا سب کچھ چھین لیا۔ تم مجھے اس رشتے میں باندھ کر اپنا بدلہ لے لو۔۔ لیکن خود کو یوں اذیت مت دو۔۔ اتنا خاموش مت رہو کہ اندر پلتا یہ ناسور تمہیں اندر ہی اندر کھا جاۓ۔۔ تمہیں خوش رہنے کا حق ہے۔ تمہیں قرآن پڑھنے کا حق ہے۔ اپنے آپ کو یوں ضاٸع مت کرو۔۔"
اس نے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے۔ جیسے اپنے چہرے پر پھیلے تکلیف دہ سے تاثر کو زاٸل کرنا چاہا۔ رابیل دلگرفتہ سی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ کاش کہ وہ اسکا قرآن اسے واپس لوٹا سکتی۔۔ کاش کہ وہ اس کے لیۓ کچھ کرسکتی۔۔
اس نے لمحے بھر کو سر اٹھایا۔ اس کی کتھٸ آنکھوں کے نم سے کانچ کو دیکھا۔
"تمہارا کوٸ قصور نہیں ہے اس سب میں۔"
اور جب بولا تو آواز بھاری تھی۔ جیسے اس کے حلق میں بہت کچھ ایک ساتھ اٹکا ہو۔
"میں نے قرآن اس لیۓ چھوڑ دیا کیونکہ میں قابل نہیں ہوں اس کے۔ میں نے اتنی سیاہی میں وقت گزار لیا ہے کہ میرا دل اب کہ اس کی جانب سے سخت ہوچکا ہے۔ مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔"
رابیل اسے چند لمحے یونہی دیکھتی رہی تھی اور پھر جب اس کے لب ہلے تو ان سے وہ مدھر لفظ بہنے لگے۔۔
ثم قست قلوبکم
"پھر سخت ہوگۓ دل تمہارے۔۔!"
اور اس کی اگلی بات پر اس نے بے یقینی سے سر اٹھایا تھا۔ وہ اس کی ساکت پتلیوں کو اپنی پتلیوں کی قید میں لیۓ، زیر لب بہت مدھم آواز سے پڑھ رہی تھی۔
من بعد ذالک
"اس کے بعد۔۔"
معاذ کا چہرہ یکدم سفید ہوا تھا لیکن وہ پھر بھی پڑھتی رہی۔ وہ اسے روکنا چاہتا تھا لیکن وہ اسے نہیں روک سکا۔۔ عرصے بعد کسی نے اس پر قرآن پڑھا تھا۔
فھی کالحجارة او اشد قسوہ
"تو وہ ہیں پتھروں کی مانند یا (ان سے بھی زیادہ) سخت۔۔"
وہ ساٸیں ساٸیں وجود لیۓ اسے دیکھے گیا۔ اس کی ساکت پتلیوں کے آس پاس اب کہ سرخ ڈورے چمکنے لگے تھے۔ باہر برستے کہر سے بے نیاز وہ دونوں اس کچن میں جم کر ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس کے سیاہ کہف میں یکدم بہت سا نور پگھل کر گرا۔۔
وان من الحجارة لما یتفجر منہ الانھر
"اور تحقیق کچھ پتھر البتہ وہ ہیں کہ پھوٹتی ہیں ان سے نہریں۔۔"
رابیل کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔ اس کا اپنا تاریک سا کہف بھی ان آیات کے نور سے جگمگانے لگا۔
وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء
"اور بلاشبہ کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں تو نکلتا ہے ان میں سے پانی"
اور معاذ کے ہاتھ بے دم سے ہو کر اس کے پہلوٶں پر گرے تھے۔ وہ بے بسی سے اس کی مدھر آواز کو سنے گیا۔ وہ جو کہتا تھا کہ ساری زندگی قرآن کو ہاتھ تک نہ لگا سکے گا، آج رابیل نے ایک ہی آیت میں اس کی ساری تاویلیں اکھاڑ کر پھینک دی تھیں۔۔
وان منھا لما یھبط من خشیة اللہ
"کچھ ان میں سے البتہ وہ ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے ڈر سے۔۔"
اس کی آواز آیت کا یہ حصہ پڑھتے ہوٸ کانپی تھی۔ یوں لگتا تھا گویا قرآن اس کے دل پر اتر رہا ہو۔ اس کا دل لرز رہا تھا۔ اسے آج سمجھ آیا کہ اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا تو وہ اس کے خوف سے کیوں دب جاتا۔۔!!
وما اللہ بغافل عما تعملون
"اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو"
سورہ البقرہ: 2/ 74
چند پل ان میں سے کوٸ بھی کچھ نہ بولا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اگلا کوٸ بھی جملہ بول سکتا۔ معاذ خالی خالی سا اسے دیکھتا رہا۔ اس ایک آیت میں اس نے معاذ کی پچھلی زندگی کھول کر رکھ دی تھی۔ اس ایک آیت نے اس کے دل کو نرم کردیا تھا۔۔ اس ایک۔۔ بس ایک آیت نے اس کے کہف کو روشن کردیا تھا۔ اور ایک وہ تھا جو عرصے سے خود کو دھوکا دے رہا تھا۔ اللہ کے قرآن کی بس ایک آیت نے اس کے زندگی بھر کے دھوکے کو دھول بنا کر اڑادیا۔ اسے گھٹنوں کے بل گرادیا تھا۔ کیسے اسلام کے سب سے بڑے دشمن اسے سن کر سجدے میں چلے جایا کرتے تھے۔ وہ کلام ہی ایسا تھا۔۔ عاجز کردینے والا۔۔ مبہوت کردینے والا۔۔
رابیل نے سر جھکا رکھا تھا۔ پھر چہرہ اٹھایا تو اس کی نم سی آنکھیں سامنے آٸیں۔
"جانتے ہو معاذ۔۔ اس آیت کا پسِ منظر کیا ہے۔۔؟ بنی اسراٸیل اللہ کی بہت پسندیدہ قوم تھی۔ اللہ نے ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلا کر ان پر آسمان سے من و سلوی اتارا، انہیں دنیا کی نعمتوں سے نوازا، انہیں اپنا کلام اور اپنا پیغمبر دیا۔۔ انہیں وہ سب دیا جس کی انسانیت کو آج حد سے زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن جانتے ہو انہوں نے اس سب کے جواب میں کیا کیا۔۔؟"
وہ خاموش رہا۔۔ اس میں جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔۔
"انہوں نے ناشکری کی معاذ۔ انہوں نے ہر اس نعمت کے جواب میں الٹا عمل کیا۔ شکرگزاری کے بجاۓ کفرانِ نعمت اختیار کیا، سر تسلیمِ خم کرنے کے بجاۓ گردنیں اکڑاٸیں، احکامات کو جیسے ہیں ویسے لینے کے بجاۓ ان میں طرح طرح کے جھول پیدا کرنے کی کوششیں کیں، سب سے بڑی بات موسیٰ علیہ اسلام کو ہر آن اذیت سے دوچار کیا۔۔ اور جب وہ یہ کرتے رہے۔۔ جب وہ اپنے اعمال کی سیاہی میں ڈوب گۓ، جب ان کے دل گناہ کرتے کرتے سخت ہوگۓ، تب اللہ نے فرمایا کہ ان سب اعمال کے بعد ان کے دل سخت ہوگۓ۔ یا پھر پتھروں سے بھی زیادہ سخت۔۔!"
وہ ذرا ٹھہری۔۔ انگلیوں سے آنکھیں رگڑیں۔۔ ناک گلابی ہو کر دہک رہی تھی۔ سانسیں ناہموار تھیں لیکن پھر بھی وہ بول رہی تھی۔۔ وہ بولنا چاہتی تھی۔۔ اس کے پاس اور کچھ نہیں تھا سواۓ قرآن کے۔۔ وہ اس قرآن سے اس کا تاریک کہف روشن کرنا چاہتی تھی۔
”ان کے دل پتھروں کی مانند سخت ہوگۓ معاذ۔ پتھر، جو لوہے سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ کیونکہ فولاد ہو یا سیسہ، جب اسے آگ میں پگھلایا جاتا ہے تو وہ پگھل جاتا ہے۔ وہ اپنی ہیٸت تبدیل کرلیتا ہے لیکن پتھر۔۔! پتھر اپنی شکل تبدیل نہیں کرتے، پتھر آگ سے نہیں پگھل سکتے معاذ۔ پتھر کسی بھی صورت اپنی اسٹیٹ چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ جیسے تم اپنی اس سختی کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہو۔ بالکل اسی طرح وہ بھی راضی نہیں تھے۔ حالانکہ اتنی نشانیوں، اتنے معجزات اور اتنی عظیم نعمتوں کے بعد یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دلوں کی سختی اختیار کرتے۔ تمہیں بھی تو اللہ نے یہ قرآن دیا معاذ۔ یہ قرآن۔۔ جو اس دنیا اور اس دنیا کی ہر شے سے زیادہ بہترین ہے۔ تمارے قلب کو اللہ نے اس کی ایک ایک آیت حفظ کرنے کا اعزاز عطا فرمایا لیکن تم نے اس نعمت کے بعد بھی دل کی سختی ہی اختیار کی۔۔“
وہ سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔ دل کے کہیں بہت اندر تک تکلیف ہوٸ تھی۔ اس کا پتھر سا دل لمحے بھر کو اس آگاہی پر کانپا تھا۔ لیکن رابیل۔۔ وہ اس پر ترس کھاۓ بغیر بولتی رہی۔ وہ چاہتی تھی کہ معاذ تکلیف سے دوچار ہو۔۔ اس نے یہ آیت اس پر پڑھی ہی اسی لیۓ تھی تاکہ اس کا پتھر سا دل زخمی ہو۔۔ وہ اس دل کو پگھلا نہیں سکتی تھی لیکن وہ اس دل کو توڑ ضرور سکتی تھی۔
”اور جانتے ہو۔۔ پتھروں کو پگھلایا نہیں جاسکتا۔۔ انہیں صرف توڑا جاسکتا ہے۔۔!“
اس کی آنکھوں میں اب کہ ضبط کے باعث گہری سرخی ابھرنے لگی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ دل ٹوٹ رہا تھا اور اس دل سے اب کہ پانی رسنے لگا تھا۔۔
"انسان کے اعمال اس کا دل سخت کردیتے ہیں معاذ یہ سچ ہے۔ اتنا سخت کردیتے ہیں گویا پتھروں سے بھی زیادہ سخت۔۔! لیکن پھر پتھروں میں سے کچھ ایسے پتھر بھی ہوتے ہیں کہ وہ پھٹ پڑتے ہیں اور ان میں سے بہت سا پانی بہہ نکلتا ہے۔۔!"
معاذ کی آنکھیں گلابی ہونے لگیں۔۔ گردن کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوٸ۔ بہت عرصے بعد حبیبہ کی نرم سی آواز اس کے آس پاس تحلیل ہونے لگی تھی۔۔
"یہاں پر جو پتھروں کا ذکر ہے ناں، وہ دراصل دل کی اقسام کا ذکر ہے۔ کچھ دل تو ایسے ہوتے ہیں جو پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں جیسے کہ تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا دل اب ہوچکا ہے۔ لیکن پھر دلوں میں سے کچھ دل وہ بھی ہوتے ہیں جو آزماٸش کی ذرا سی لرزش پر ٹوٹتے ہیں اور ان سے نہریں بہہ نکلتی ہیں۔ پانی۔۔ بہت سارا پانی۔ ایسے دل نرم ہوتے ہیں، بس انہیں آزماٸش کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانا پڑتا ہے۔۔ لیکن پھر کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں اور ان سے ہلکا ہلکا۔۔ باریک باریک سا پانی نکلتا ہے۔۔ مطلب اس دل میں خیر ہوتی ہے لیکن اس کے سخت سے خول کے باعث وہ خیر باہر کو نہیں نکل رہی ہوتی۔ پھر اللہ اس دل کو توڑتے ہیں۔۔ لوگوں کی محبت سے، کڑی آزماٸشوں سے، کسی محبوب چیز سے آزما کر، کسی نہ کسی حادثے سے جب ہم پوری طرح سے ہل جاتے ہیں تب دل ٹوٹتا ہے اور اس میں سے خیر بہنے لگتی ہے۔ لیکن تیسرا اور آخری دل۔۔"
وہ لمحے بھر کو ٹھہری۔۔ معاذ خوفزدہ ہوا تھا۔ وہ کیوں خاموش ہوٸ۔۔؟ کاش کے وہ کبھی خاموش نہ ہو۔۔ اس کے بے چین دل کو ان لفظوں سے سکون مل رہا تھا۔۔ بے حد سکون۔۔
"یہ وہ دل ہوتا ہے معاذ کہ جس میں اسلام تو ہوتا ہے مگر ایمان نہیں ہوتا۔ ایمان اور اسلام دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کچھ لوگ اسلام لے آتے ہیں ایمان نہیں لاتے۔ اسلام کا مطلب ہوتا ہے زبان سے اقرار لیکن اعضا و جوارح کا ان احکامات پر عمل نہ کرنا۔ اور ایمان کا مطلب ہوتا ہے دل کے پختہ ارادے کے ساتھ اللہ پر ایمان لانا اور پھر اس کی خوشنودی کے کام بجا لانا۔ یہ تیسرا دل، خیر سے خالی ضرور ہوتا ہے لیکن مایوس نہیں ہوتا۔ یہ غافل دل ہوتا ہے۔۔ اسے بار بار قرآن کی بات سنانی پڑتی ہے۔۔ اسے بار بار انذار سے بیدار کیا جاتا ہے اور جیسے ہی یہ اللہ کا حکم سنتا ہے تو اس کی اپنی کوٸ مرضی نہیں رہتی۔ وہ اللہ کے خوف سے گر پڑتا ہے۔ وہ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔۔"
چند پل کے لیۓ پھر سے خاموشی چھا گٸ تھی۔ رابیل گیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی ۔۔
"جانتے ہو تمہیں یہ آیت کیوں سناٸ میں نے۔۔! وہ اس لیۓ معاذ، کہ تم کہیں اندر اللہ سے خفا ہو، تم کہیں اندر اپنے قرآن سے ناراض ہو، تم نے بہت دعاٸیں کیں لیکن تمہاری دعاٶں کا جواب نہیں دیا گیا، تو تم خول میں سمٹ گۓ۔ تمہارے دل میں خیر تھی لیکن تم نے سیاہ اعمال سے اس خیر کا راستہ روک دیا۔ تم نے بنی اسراٸیل کی روش اختیار کی معاذ۔ میں نہیں جانتی کہ ان تین دلوں میں سے تمہارا دل کونسا ہے۔۔! ہر انسان اس بارے میں بخوبی جانتا ہے کہ وہ دل کی کس قسم میں آتا ہے لیکن ایک بات میں ضرور جانتی ہوں۔ اس آیت کی ایک بات جو مجھے ہمیشہ رلا دیتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ جس بھی اسٹیٹ میں ہو، آپ جس بھی آزماٸش میں ہو، آپ جس بھی تکلیف سے ٹوٹ رہے ہو، آپ جس بھی سیاہی میں دھنسے ہوۓ ہو۔۔ وما اللہ بغافل عما تعملون۔۔ اللہ آپ کی کسی بھی اسٹیٹ سے بے خبر نہیں ہے۔۔ اللہ نے آپ کو کبھی نہیں چھوڑا تھا۔۔ اللہ انسان کو کبھی نہیں چھوڑتا۔۔ یہ ہم ہوتے ہیں جو اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے دوری ہم پیدا کرتے ہیں، اور اس دوری کو ختم بھی ہمیں ہی کرنا ہوتا ہے۔۔ اپنے آپ کو ہمیں خود توڑنا ہوتا ہے تاکہ یہ قرآن ہمارے دل میں داخل ہوسکے۔۔ یہ اندر اتر کر ہمارے دلوں میں موجود خیر کو باہر نکال سکے۔۔“
معاذ نے گہرا سانس لے کر اندر جمع ہوتی کثافت کو باہر نکالا تھا۔ وہ اسے کوٸ جواب دینا چاہتا تھا۔ اپنے اس عمل کی کوٸ جسٹیفیکشن اس کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا لیکن وہ اسے کچھ بھی نہ کہہ سکا۔۔ اس نے تو اپنی طرف سے کوٸ بات کی ہی نہیں تھی۔ اس نے تو بات شروع ہی اس کلام سے کی تھی کہ جس کی مثال عرب و عجم میں کہیں نہ ملتی تھی۔ وہ اس کلام کے جواب میں بھلا کیا جواب دے سکتا تھا۔۔!
رابیل ہچکچا کر تھوڑا سا آگے ہوٸ۔ ڈرتے ڈرتے ہاتھ اٹھاۓ اور اگلے ہی لمحے پتہ نہیں کیسے لیکن وہ اسے گلے لگا چکی تھی۔ وہ جو گردن جھکاۓ بیٹھا تھا ساکت رہ گیا۔۔ سانس تک رک گیا تھا۔ لیکن دوسری جانب رابیل اب کے ہولے ہولے اس کی پیٹھ تھپک رہی تھی۔ وہاں کوٸ رومانوی سی گھبراہٹ نہیں تھی۔ کچھ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس سے رابیل آکورڈ ہوجاتی۔ وہاں صرف اپناٸیت تھی۔۔ تکلیف تھی۔۔ اور شاید کہیں اندر محبت بھی پنپ رہی تھی۔۔
”میں جانتی ہوں تم بہت زخمی ہو۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم نے کبھی کسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیا۔۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تم اپنی تکلیف کبھی لوگوں سے بیان نہیں کروگے۔ لیکن میں جب تک اس رشتے میں ہوں تمہیں console (تسلی) کرنا چاہتی ہوں۔۔ جو تم سے ہم نے چھین لیا وہ تمہیں واپس لوٹانا چاہتی ہوں۔۔“
اس کے ہاتھ اب تک پہلوٶں پر تھے۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے خود سے نہیں لگایا۔۔ اگلے ہی لمحے رابیل اس سے الگ ہوٸ۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
”ک۔۔ کچھ بولو بھی۔۔“
اس کی خاموشی پر اس نے اصرار کیا تو وہ تھکن زدہ سا مسکرادیا۔۔
”تم نے ساری باتیں کرلیں۔ مجھے نہیں لگتا مجھےکچھ بولنے کی ضرورت ہے۔۔“
اور اسکے اس جملے پر پہلی بار رابیل کے گلابی رخسار مزید گلابی ہوۓ۔ اسے بڑی بہادری سے گلے تو لگا لیا تھا لیکن اب اس کے سامنے یوں بیٹھنا محال ہونے لگا تھا۔
”ت۔۔ تمہیں ایک دوست کی حیثیت سے تسلی دی ہے میں نے۔۔ کوٸ غلط مطلب مت نکالنا اس بارے میں۔“
یہ ایک طرح کی وارننگ تھی جس پر وہ گردن جھکا کر ایک بار پھر سے ہنسا تھا۔ وہ اس کی اس ہنسی پر نروس ہونے لگی۔۔
”معاذ ایسے مت ہنسو۔۔“
”پاگل ہو تم بالکل۔۔“
نفی میں سر ہلا کر کہا تھا اس نے۔ وہ عجلت میں اٹھی۔۔ اس کے سامنے اب اور نہیں بیٹھ سکتی تھی۔
”کہاں جارہی ہو۔۔؟“
اور اب اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ اس کے سامنے سے چلی جاۓ۔۔ وہ لمحے بھر کو رکی۔۔
”گھر جارہی ہوں اور۔۔ اور تم بھی گھر جاٶ۔۔ باہر بہت ٹھنڈ ہے، ہیرو بننے کی کوشش ہرگز نہ کرنا۔۔“
”رابیل۔۔“
”میں جارہی ہوں اللہ حافظ۔۔“
ٹاٹا کیا اور جلدی سے باہر نکلی۔ وہ مسکرا کر اس کی عجلت کو دیکھتا رہا۔ جانتا تھا کہ وہ نروس ہورہی ہے۔۔ اور آج ایک اور انکشاف بھی ہوا تھا اس پر۔۔ وہ بیوقوف نہیں تھی۔۔ وہ بس آکورڈ ہونے پر الٹی سیدھی باتیں کرجایا کرتی تھی۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ کتنی عقل مند ہے۔۔ چلو۔۔ کبھی نہ کبھی تو وہ اسے یہ بتا ہی دے گا۔۔
دوسری جانب وہ جلدی سے گاڑی میں آ کر بیٹھی۔ دونوں رخساروں پر ہاتھ رکھے۔۔ آنکھیں میچی۔۔ اف اف اف۔۔۔!! اس سے بچ کر تو نکل آٸ تھی وہ لیکن اب اس کی سرمٸ مسکراتی آنکھوں سے کیسے بچ پاۓ گی۔۔! یا اللہ۔۔ اس نے ایک بار پھر سے اپنے گلابی رخسار چھپاۓ تھے۔۔! اندر وہ اب تک اس کی عجلت پر اداسی سے مسکرا رہا تھا۔۔
