#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
چھٹی_قسط کا بقیہ حصہ
شام میں وہ خالی خالی سی سنگھار آٸینے کے سامنے کھڑی تھی جب شزا اور ردا دونوں اسکے کمرے میں داخل ہوٸیں۔ اس نے ان کی جانب نہیں دیکھا۔ کہیں اندر وہ اب سب سے ناراض تھی۔ وہ سب جو اس کے خلاف تھے۔ اس کا ناراض ہونا تو بنتا ہی تھا۔
ان کی جانب مڑے بغیر خاموشی سے اپنے بالوں میں برش چلاتی رہی۔ شزا اور ردا وہیں دروازے ہی میں ٹھہر گٸ تھیں۔ جانتی تھیں کہ ان کی "رابی" ان سے ناراض تھی۔ پھر شزا ہی کھنکھار کر آگے بڑھی۔
"کیا پہن رہی ہو رابی۔۔؟"
اس نے کوٸ جواب نہیں دیا۔ یونہی بالوں میں برش چلاتی رہی۔۔
"اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے ناں رابی۔۔ تو۔۔ تم ہم سے اب بھی ناراض ہو۔۔؟"
پیچھے سے ردا نے بہت ہلکی سی آواز میں کہا تھا۔ اس نے یکدم سنگھار آٸینے پر برش پٹخا۔ ان دونوں کو لمحے بھر کے لیۓ مڑ کر غصہ غصہ سی نگاہوں سے دیکھا۔ لیکن ان دونوں کو اس لمحے وہ بہت پیاری لگی تھی۔ غصے میں کون پیارا لگتا ہے بھلا۔۔ ؟ لیکن رابیل کا غصہ ایسا ہی تھا کہ اس پر ڈرنے یا گھبرانے کے بجاۓ پیار آجایا کرتا تھا۔
"کیا سب ٹھیک ہے؟ تم دونوں کو لگتا ہے کہ یہ سب ٹھیک ہے۔۔ واقعی۔۔ میرا نکاح ہوچکا ہے۔۔ ایسے کیسے میرا نکاح کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے۔۔ میں بوجھ تھی بابا پر تو مجھے بتادیتے۔۔ ایسے مجھے سب کے سامنے ارزاں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟"
اور پھر وہ یکدم رونے لگی تھی۔ وہ ہی ہر لڑکی کی طرح غصے کے آخری سرے پر رونے کی عادت۔ شزا اور ردا دونوں نے یکدم اسے آگے بڑھ کر خود سے لگایا تھا۔ ان کی رابی بہت معصوم تھی۔۔ حالانکہ وہ ان سے بڑی تھی۔۔ لیکن پھر بھی وہ ان جیسی نہیں تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر رو جایا کرتی تھی۔ اور آج۔۔ آج تو اس پر بہت کچھ ایک ساتھ گزر گیا تھا۔۔
"ہم دونوں بہت سوری ہیں تم سے رابی۔۔"
شزا نے بھی نم آنکھوں کے ساتھ کہا تھا۔ اس نے آنکھیں رگڑیں۔۔ ان سے الگ ہوٸ۔۔ چہرہ حد درجہ سرخ ہورہا تھا، ناک گلابی رنگ سے دہک رہی تھی اور ہچکیوں کے باعث سانسیں الجھی ہوٸ تھیں۔
"میں بہت اکیلی تھی اس سب میں شزا۔ میں بہت خوفزدہ تھی۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا تھا لوگوں کے ردعمل سے۔ جانتی ہو تم دونوں کو کتنا مس کیا ہے میں نے اپنی تنہا راتوں میں۔ میں نے کتنی آوازیں دیں تھیں تم لوگوں کو لیکن کسی نے بھی میری آواز نہیں سنی۔۔ کوٸ بھی مجھے تھپکنے کے لیۓ نہیں آیا۔۔ سب۔۔ سب میرے لیے بہت مشکل تھا۔۔ میں بہت اکیلی تھی۔۔"
اس کے جملے بے ربط سے ہونے لگے تھے۔ لیکن وہ کہتی جارہی تھی۔ ردا اور شزا بھی اب کے اسے دیکھ کر رونے لگی تھیں۔ ان کی کھوٸ ہوٸ رابی جیسے انہیں پھر سے مل گٸ تھی۔
"سوری رابی۔"
ردا نے کہہ کر اس کی آنکھیں صاف کیں۔
"کوٸ بھی مجھے اپنی گیدرنگز میں نہیں بٹھانا چاہ رہا تھا۔۔ س۔۔ سب مجھ سے بیزار ہورہے تھے۔ سب مجھے بری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور تب میں نے تم لوگوں کو بہت یاد کیا تھا۔ کوٸ بھی میرے ساتھ نہیں تھا۔۔ پھپھو نے ہر دفعہ مجھے بے عزت کیا۔۔ تم لوگ تب بھی میرے ساتھ نہیں تھے۔۔ میں بہت اکیلی تھی۔۔"
وہ روتی جارہی تھی اور کہتی جارہی تھی۔ اس کے دل پر جمے زخم بہت گہرے تھے۔ دونوں نے ایک بار پھر سے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگایا تو وہ اور رونے لگی۔
"ہم اب ساتھ ہیں تمہارے۔۔"
شزا نے کہر کر اسے خود سے الگ کیا۔
"اور ماں نے ہمیں تمہیں تیار کرنے ہی بھیجا تھا۔ دیکھو تم نے ہمیں کن کاموں میں لگادیا۔۔"
ردا نے آنسو صاف کرتے ہوۓ اس کی الماری کی جانب چہرہ پھیرا تھا۔ شزا نے بھی اسے سنگھار آٸینے کے سامنے رکھی کرسی پر بٹھایا۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گٸ۔ اس میں اب کہ کسی بات پر اعتراض کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
"اس فراک کا دوپٹہ تو چھوٹا ہے رابی۔۔ تم حجاب کیسے کروگی۔۔؟"
اس نے ایک لمحے کو چہرہ اس طرف کو موڑ کر ردا کو دیکھا تھا۔ ہاں۔۔ اب کہ آہستہ آہستہ وہ اسے اور اس کے حجاب کو قبول کرنے لگے تھے۔
"اس کا دوپٹہ چھوٹا تھا تو میں نے اس کا بڑا دوپٹہ بنوالیا تھا۔ وہیں رکھا ہے اوپر والے حصے میں۔ "
اس نے کہہ کر شزا کو دیکھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ پھر اس کے بالوں کو پونی میں باندھا۔ دوپٹہ اس کے ہاتھ میں دیا اور دونوں نے دور کھڑے ہو کر اسے دیکھا۔ وہ پیاری تھی۔۔ پیاری لگ رہی تھی۔۔
"تمہیں جتنا بھی لڑکیوں کی طرح تیار کرلو۔۔ لگنا تم نے وہ ہی کیوٹ بچہ ہے۔۔"
شزا نے ہنس کر کہا اور ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلی۔ ردا بھی اس کے پیچھے ہنستی ہوٸ نکلی تھی۔ اور رابیل۔۔ اس نے ایک پل کو سنگھار آٸینے میں خود کو دیکھا۔۔ اور پھر وہ بھی دھیرے سے مسکرادی۔۔ وہ واقعی اپنے گلابی گالوں کی وجہ سے بڑی لڑکی لگنے سے قاصر تھی۔ اسے ان گالوں کے ساتھ کیوٹ ہی لگنا تھا۔ اب کہ وہ آہستہ سے چہرے کے گرد حجاب لپیٹنے لگی تھی۔ آسمانی رنگ کا لانگ فراک اس کے ٹخنوں سے ذرا اوپر تھا۔ ان پر جھلملاتا سا باریک ستاروں کا کام اس سمے بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔
اسی پل دروازے پر دستک ہوٸ تو اس نے چونک کر اس طرف کو دیکھا۔ وقار دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں داخل ہورہے تھے۔ سفید کرتا شلوار میں ملبوس وہ آج بھی بہت جچتے تھے۔ اسے دیکھ کر لمحے بھر کو کھل کر مسکراۓ۔ چہرہ اس قدر روشن اور پرسکون تھا کہ رابیل کے دل پر جما ہر زخم دھلنے لگا۔۔
"میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے آج۔۔ ماشااللہ۔۔ اللہ نصیب اچھے کرے۔۔"
"تھینک یو تایا۔۔"
اسے سمجھ نہیں آیا کہ اور کیا کہنا چاہیۓ۔ وہ پاس چلے آۓ۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
"میں بہت خوش نصیب ہوں جو مجھے تم جیسی بیٹی ملی ہے رابیل۔۔ میں آج بہت بہت خوش ہوں۔۔"
ان کی آواز کی باریک سی لرزش رابیل کو بتا رہی تھی کہ وہ واقعی اس رشتے سے بے حد مطمٸن اور خوش تھے لیکن معاذ۔۔۔ کیا وہ بھی اس رشتے سے اتنا ہی خوش تھا۔۔؟
"تایا لیکن معاذ۔۔ کیا۔۔ کیا وہ بھی اس رشتے سے خوش ہے۔۔؟"
اس نے ایک لمحے کو دل مضبوط کر کے پوچھ ہی لیا۔ وقار اس کے سوال پر مسکراۓ تھے۔۔
"مجھے اس کی خوشی کا نہیں پتہ رابیل لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ اس رشتے سے راضی ہے۔ وہ اگر راضی نہیں ہوتا تو کبھی ہامی نہیں بھرتا۔ تم ابھی جانتی نہیں ہو اسے۔۔ اسکی مرضی کے بغیر کوٸ بھی اس سے کوٸ کام نہیں کرواسکتا۔۔"
وہ اس کے بیڈ پر اب کہ بیٹھ کر دھیمی سی آواز میں اسے آگاہ کررہے تھے۔ وہ عین ان کے گھٹنوں کے سامنے بیٹھی۔
"لیکن تایا وہ تو مجھے ٹھیک سے جانتا بھی نہیں۔۔ پھر ایسے کیسے وہ میرے لیۓ ہامی بھرسکتا ہے۔۔؟"
اس کی بے چینی ہر لفظ سے عیاں تھی۔ وقار اداسی سے مسکراۓ تھے۔۔
"یہ سچ ہے کہ وہ تمہیں نہیں جانتا۔ لیکن اس نے کوشش بھی نہیں کی تمہیں جاننے کی۔ شاید اس لیۓ کہ وہ تمہیں گہراٸ سے جاننا چاہتا ہے۔ اسی لیۓ کسی سے کوٸ بھی پوچھ گچھ کیۓ بغیر آرام سے ہامی بھر گیا۔ اسے کسی دوسرے کی ججمنٹ پر تمہارے معاملے میں کوٸ بھروسہ نہیں ہے۔"
اس کے رخسار لمحے بھر گلابی ہوۓ تھے۔۔ وقار اسے دیکھ کر مسکراۓ۔۔
"میرا بیٹا بہت اڑیل ہے۔ ایسے بلاوجہ بحثیں نہیں کرتا وہ لیکن ہے بہت ٹیڑھا۔۔ بات آسانی سے مانتا نہیں ہے۔ بدتمیز ہے، بدلحاظ اور بے مروت بھی لیکن اس سب کے باوجود وہ تمہیں کبھی تکلیف نہیں دے گا۔۔ اتنا مجھے پتہ ہے۔ "
"لیکن آپ یہ اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہیں تایا۔۔؟"
"کچھ دیکھا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں تمہارے لیۓ رابیل۔۔ عقیدت۔۔ یا پھر اپناٸیت۔۔ میں نام نہیں دے سکا اس جذبے کو۔۔"
اور یہ اپناٸیت تو اس نے خود بھی کٸ دفعہ محسوس کی تھی۔ اگر اسے محسوس ہوٸ تھی تو کسی کو بھی ہوسکتی تھی۔۔
"مجھے کبھی کبھی ڈر لگتا تھا کہ وہ شادی ہی نہیں کرے گا۔ لیکن آج جب اس نے نکاح کے لیۓ ہامی بھری تو میرے دل میں سکون اترتا گیا رابیل، کیونکہ تم سے بہتر لڑکی اسے کبھی نہیں مل سکتی۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔"
وہ اٹھ کھڑی ہوٸ تھی۔ وقار بھی ساتھ ہی اٹھے۔۔
"اب کوٸ بھی تمہیں تمہارے حجاب پر کبھی بھی کچھ نہیں کہے گا۔ میں کسی کو اپنی بیٹی پر کوٸ بات کرنے ہی نہیں دونگا۔ تم آرام سے ولیمہ اٹینڈ کرو اور جو اگر تمہاری پھپھو کچھ بھی ایسا ویسا کہیں تو مجھے بتانا۔۔ بہت ہوگیا اب ہنس ہنس کر اسکی کڑوی باتیں ٹالنا۔۔ چلتا ہوں۔۔ خیال رکھنا بچے۔۔"
وہ مسکراتے ہوۓ باہر کی جانب بڑھے تو وہ بھی نم آنکھوں سے انہیں جاتا دیکھتی رہی۔ اللہ نے ایک ساتھ ہی اس کے لیۓ اتنی ساری امداد بھیج دی تھی کہ وہ سمجھ ہی نہ پارہی تھی کس بات پر کیسا ردعمل دینا چاہیۓ اور کس بات پر کونسا جواب درکار ہے۔ گہرا سانس لے کر اس نے بھی اپنا حجاب درست کیا اور پھر وہ خود بھی کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ کچھ وقت تو اسے بہر حال یہ سب قبول کرنے میں لگنا ہی تھا۔۔ وہ خود کو ابھی ٹاٸم دینا چاہتی تھی۔ بہت سارا پرسکون سا ٹاٸم۔۔!
"ممی آپ کی جلد بازی کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سے جیک پوٹ نکل چکا ہے اور آپ یہاں اس اندھیرے میں خاموشی سے بیٹھی ہیں۔۔"
ارحم اسی لمحے کمرے میں داخل ہوا تو اندھیرے کے باعث اسے سمت کا اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ صاٸمہ کس طرف کو بیٹھی ہیں۔ پھر آگے بڑھ کر لاٸٹ بورڈ پر ہاتھ مارا۔ سارا کمرہ روشنیوں میں نہا گیا۔۔
صاٸمہ کھڑکی کے ساتھ لگ راکنک چیٸر پر جھول رہی تھیں۔ چہرہ اس قدر سپاٹ تھا گویا برف کا بنا ہو۔ وہ ان کی خاموشی پر کھولتا ہوا ان تک پہنچا تھا۔
"آپ کو ضرورت کیا تھی اس کے دوپٹے کو اس قدر مسٸلہ بنانے کی۔۔؟ اور وہ آپکے سوتیلے بھاٸ۔۔ وہ تو جیسے موقع کی تلاش ہی میں بیٹھے تھے۔ اتنی جلد بازی میں رابیل کو ہتھیا لیا کہ ہم کچھ کر ہی نہیں سکے۔۔"
وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہلتا کھول رہا تھا۔ پھر رک کر ان کی جانب دیکھا۔
"ماموں کی ساری جاٸیداد کا حق دار اب کہ وہ معاذ ہوگا ممی، میں نہیں۔"
صاٸمہ نے ایک لمحے کو چہرہ اس کی جانب پھیرا۔۔
"ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔"
"ایسا ہوچکا ہے ممی۔۔ وہ نکاح کرچکا ہے رابیل کے ساتھ۔۔"
"تو کیا ہوا۔۔؟ طلاق بھی تو ہوسکتی ہے۔۔ نکاح ہوا ہے تو ختم بھی ہوسکتا ہے۔ میں کسی کو بھی اپنے باپ دادا کی جاٸیداد پر قبضہ کرنے نہیں دے سکتی۔۔ تم۔۔ تمہیں رابیل کو شیشے میں اتارنا ہوگا ارحم۔۔ عابد کا کوٸ بیٹا نہیں ہے۔ اس کی ساری جاٸیداد کے حق دار صرف اور صرف تم ہو۔ وہ جاٸیداد تمہیں کیسے بھی کر کے لینی ہے۔۔"
"لیکن کیسے۔۔ اب کیا ہوگا۔۔؟ آپ کی ضد اور انا نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ممی۔۔ اس لڑکی کا ہمیں کرنا ہی کیا تھا۔۔ ہمیں اس کے پیسے سے سروکار تھا لیکن نہیں۔۔ آپ تو پتہ نہیں کونسی باتیں لے کر بیٹھ گٸ تھیں۔۔"
وہ سخت کبیدہ خاطر تھا۔۔ اسے کسی طور بھی رابیل کا نکاح ہضم نہیں ہورہا تھا۔۔
"ہاں تو میں نے کہا ناں کہ نکاح ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ ختم بھی ہوسکتا ہے۔۔"
"اچھا اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ معاذ اب رابیل کو طلاق دے گا۔۔! سیریٸسلی ممی۔۔!"
اسے ان پر بے حد افسوس ہوا تھا۔۔
"تم کس لیۓ ہو۔۔؟ کس مرض کی دوا ہو تم۔۔؟ جاٶ جا کر عابد، رابیل یا پھر رامین کو اپنی باتوں سے بہلاٶ۔۔"
" اور آپ کو لگتا ہے کہ وہ میری بات سن لیں گے۔! اتنی بےعزتی کے بعد وہ میری طرف دیکھیں گے۔۔"
اس کا دل کیا ماں کی اس بات پر تالیاں ہی پیٹنے لگ جاۓ۔۔
"ہاں تو کیا ہوا۔۔؟ رابیل تو ویسے بھی انتہاٸ بے وقوف لڑکی ہے۔ اسے اپنی باتوں سے بہلانا تو کوٸ مشکل نہیں۔ ہم ایسے ہار نہیں مان سکتے۔ ہم ایسے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ارحم۔۔ کچھ کرو۔۔ پلیز کچھ کرو تم۔۔"
وہ یکدم اٹھ کر اس کے پاس آٸ تھیں۔ اس نے گہرا سانس لے کر ان کی جانب دیکھا۔
"میں کوشش کرتا ہوں لیکن اب اس سب کا ریکور ہونا بہت مشکل ہے۔ حد سے زیادہ۔"
دروازہ بند کر کے وہ باہر کی جانب بڑھا تو صاٸمہ نے سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔ انہیں اپنے اچھے خاصے پیسے چلے جانے کا بے حد افسوس تھا۔ وہ کرتی تو کیا کرتیں۔۔ جاتی تو کہاں جاتیں۔۔۔
اور پھر اقبال کا ولیمہ بھی گزر ہی گیا۔ سب مہمان بھی رخصت ہو کر جاچکے تھے۔ اور اب کہ سب اسے وقار کی بہو اور معاذ کی بیوی کی حیثیت سے جان کر گۓ تھے۔ ولیمے میں بہت سے لوگوں نے خوشدلی سے اسے ساتھ لگایا، بہت سوں نے معنی خیزی سے سر بھی جھٹکا تھا اور کچھ نے تو بے حد کڑوے جملے بھی کہے تھے لیکن ان سب باتوں سے اب فرق ہی کیا پڑنا تھا۔ جو ہونا تھا وہ تو ویسے بھی ہوچکا تھا۔۔
اگلے دن سب اپنی نارمل روٹین پر واپس آچکے تھے۔ ہاں البتہ عابد اور رامین کا رویہ رابیل سے کھنچا کھنچا سا تھا۔ اس نے بھی ان پر زور دینا مناسب نہ سمجھا۔ خاموشی سے بس اس نے اس کے گزرجانے کا انتظار کرنا ہی بہتر سمجھا تھا۔ ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنا تو خیر اب کہ سب گھر والوں ہی نے ترک کردیا تھا۔ کیونکہ رابیل اور عابد دونوں ہی ایک دوسرے سے چھپ رہے تھے۔ کوٸ بھی رو برو بات کرنے کو تیار نہ تھا۔ آہستہ آہستہ ردا اور شزا بھی نارمل ہو کر کالج جانے لگیں، اس کی یونی شروع ہونے میں وقت تھا تو اس نے خود کو مدرسہ میں مصروف کرلیا، زیادہ سے زیادہ وقت قرآن کے ساتھ گزارنا شروع کردیا، رامین نے خاموشی سے کچن سنبھال لیا اور ایک بار پھر سے سب نارمل ہوگیا۔ لیک کچھ تھا جو نارمل ہونے کے بعد بھی بے حد ایب نارمل تھا۔
جب سے اس کا نکاح معاذ کے ساتھ ہوا تھا تب سے وہ ایک بار بھی اس سے ملنے دوبارہ نہیں آیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ آۓ۔۔ گھر والوں کو یقین دلاۓ کہ اس نے جو بھی کیا اس میں اس کی خوشی شامل تھی۔ وہ اب دوبارہ سے سوالیہ نشان نہیں بننا چاہتی تھی لیکن معاذ نہیں آیا۔۔ نہ ہی تایا کی جانب سے کسی قسم کی خیر خبر کا جواب آیا۔ سب خاموش رہے۔۔ یہاں سے رابطہ کرنے کا مطلب تھا اپنے آپ کو ہلکا کرنا۔۔ جو عابد کرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ ایک بیٹی کے باپ تھے۔۔ وہ اس بیٹی کو مزید ارزاں نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس نے بھی کوٸ ردعمل دینے کے بجاۓ خاموش رہ کر قبول کرنا ضروی سمجھا۔۔ لیکن پھر جب اس نے اس رات رامین اور عابد کی باتیں سنی تو وہ سن ہو کر رہ گٸ۔۔
اس رات وہ ان کے کمرے میں بہت دنوں بعد چاۓ دینے جارہی تھی۔ اپنی اور ان کی ناراضگی کو ختم کرنے جارہی تھی کہ ان کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے آتی باتوں کی آواز پر اس کے قدم ساکت ہو کر رہ گۓ۔
"صاٸمہ کا فون آیا تھا مجھے آج آفس میں۔۔"
اس کا دروازہ کھولتا ہاتھ اپنی جگہ پر ساکت ہوگیا۔ دل زور سے دھڑکا۔۔
"کیا کہا انہوں نے۔۔؟"
رامین بھی ان کے لہجے پر پریشان ہوگٸ تھیں۔
"وہ کہہ رہی تھی کہ رابیل کو طلاق دلوادو۔۔"
اور ٹرے اس کے ہاتھ میں پل بھر کو لرز کر رہ گٸ تھی۔ دل اتنا زور سے دھڑک رہا تھا کہ اس کی آواز اسے اپنے کانوں میں سناٸ دینے لگی تھی۔۔
"کیا۔۔ دماغ تو نہیں خراب ہوگیا کہیں ان کا۔۔!! پہلے ہماری عزت کا تماشہ بنا کر رکھ دیا اور اب ہمیں ایک بار پھر سے ذلیل کرنے کا موقع تلاش کررہی ہیں وہ۔ کم از کم اب تو ہمیں چین سے جینے دیں وہ۔۔“
رامین کے لہجے کی نمی آخر میں جیسے رابیل کے اندر تک اتر گٸ تھی۔ اپنے ماں، باپ کو جانے وہ اور کتنا پریشان کرنے والی تھی۔ سب اس کی وجہ سے کتنا ڈسٹرب ہوگۓ تھے اور اب یہ پھپھو۔۔۔! آخر انہیں مسٸلہ تھا ہی کیا۔ وہ بےدلی سے پلٹنے ہی لگی تھی لیکن عابد کی اگلی بات پر اسے لگا جیسے کسی نے اس کا سانس روک دیا ہو۔۔
”بھاٸ صاحب نے اپنے بیٹے کا نکاح ہماری لڑکی سے کرتو دیا ہے رامین، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ لڑکا اس رشتے کو لے کر راضی نہیں ہے۔ دیکھو ناں۔۔ جب سے نکاح ہوا ہے نہ تو اس نے یہاں آ کر اپنی شکل دکھانا ضروری سمجھا اور نہ ہی بھاٸ صاحب نے دوبارہ کوٸ رابطہ کیا۔ میں تو بیٹی والا ہوں۔۔ کیسے منہ اٹھا کر بول دوں کہ میری بیٹی نکاح میں ہے آپ کے بیٹے کے۔ میں ایک آخری بار بات کرونگا بھاٸ صاحب سے۔۔ اگر تو وہ راضی ہوۓ تو ٹھیک نہیں تو میں طلاق کروادونگا۔۔“
اس نے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ بے ساختہ دیوار کا سہارا لیا تھا۔ سر یکدم چکرایا تھا عابد کی بات سن کر۔ اندر رامین کا بھی یہی حال تھا۔ وہ چند پل تو خاموش رہیں لیکن پھر ان کی بے یقین سی آواز بھی اس کی سماعت سے ٹکراٸ تھی۔
”یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں عابد۔۔؟ میری بچی پر طلاق کا داغ۔۔ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔۔“
”خدا کا خوف ہی تو کررہا ہوں میں۔“
عابد کی تلخ سی آواز نے اس کے اندر رہا سہا مان بھی چھین لیا۔ آنسو بے ساختہ اس کی آنکھوں سے پھسلے تھے۔ وہ کیا کرے۔۔ یا اللہ وہ کہاں جاۓ۔۔
”اپنی عزت بچا رہا ہوں میں۔ روک رہا ہوں اپنی عزت اچھلنے سے۔ اور ویسے بھی کونسا رابیل یہاں سے رخصت ہو کر گٸ ہے جو اتنا مسٸلہ بنے گا۔ طلاق ہوجاۓ گی اور صاٸمہ کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ اس نے۔۔۔“
لیکن اب اس کی ہمت نہیں مزید کچھ بھی سننے کی۔ وہ واپس پلٹی اور لرزتے قدموں سے زینے عبور کرتی کچن میں چلی آٸ۔ دل اتنا بھاری ہوگیا تھا کہ حد نہیں۔ اس نے ٹرے سلیب پر رکھی اور گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگی۔ کیا وہ کوٸ کھلونا تھی کہ جس نے جب چاہا جیسے چاہا اسے چھوڑ دیا اور تھام لیا۔ کیا وہ اتنی کمتر تھی۔۔! کب تک وہ ان سب کے ساتھ محاذ پر کھڑی رہے گی۔ اور یہ معاذ۔۔ اس نے بے دردی سے آنسو رگڑے۔۔ غصے سے اسے اور رونا آرہا تھا۔۔
ایک دفعہ شکل دکھانے سے اس کا کیا جاتا تھا بھلا۔۔! وہ کیوں نہیں یہاں آ کر سب کو یقین دلا جاتا کہ اسے اس رشتے سے کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔ وہ خوش نہیں تو کم از کم وہ راضی ہے۔۔ وہ کب تک اسے ایسے لوگوں کے سامنے سوالیہ نشان بنا کر رکھے گا۔۔ وہ اس کے ساتھ ایسا کیوں کررہا تھا۔
اس رات وہ پھر سے اب کہ ٹھنڈے زینوں پر گھٹنوں میں چہرہ دیۓ بیٹھی ہوٸ تھی۔ زینے ویسے ہی آدھے تاریک تھے اور آدھے روشن تھے۔۔ ردا اس کے ساتھ آ کر آہستہ سے بیٹھی۔ اس نے چہرہ نہیں موڑا۔ جانتی تھی کہ وہ اسے ایک بار پھر سے تسلی دینے آٸ ہے۔
”کیا ہوا ہے رابی۔۔؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟“
اس نے گہرا سانس لے کر چہرہ اٹھایا۔ سامنے لاٶنج تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ خشک نگاہوں سے اس تاریکی کو دیکھے گٸ۔
”میری منگنی ٹوٹ چکی ہے، نکاح کسی ایسے شخص سے ہوچکا ہے جسے میں جانتی تک نہیں ہوں، میرے والدین مجھ سے ناراض ہیں، میں ان کے لیۓ بوجھ بنتی جارہی ہوں، میرے سر پر ہر وقت ایک خوف سا سوار رہنے لگا ہے۔ اپنے مستقبل کا خوف۔۔ میری زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہورہا ردا۔۔ مجھے لگتا ہے کہ اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔۔“
ردا نے بھی دوسری جانب گہرا سانس لیا تھا۔
”اپنے حقوق کے لیۓ تو انسان کو خود ہی آواز اٹھانی پڑتی ہے رابی۔ کوٸ بھی آ کر سب کچھ تھالی میں سجا کر آپ کے سامنے کبھی پیش نہیں کرے گا۔ اپنے حقوق کی جنگ انسان کو خود لڑنی پڑتی ہے۔ جیسے آپ نے اپنے حجاب کے لیۓ جنگ لڑی ہے۔۔ ویسے ہی اپنے حقوق کے لیۓ بھی لڑیں۔“
اس کی ویران آنکھوں میں ہلکی سی نمی ابھری تھی۔۔
”کوٸ بھی مجھے قبول نہیں کرنا چاہتا ردا۔ نہ ہی تایا نے پلٹ کر میری خبر گیری کی اور معاذ کو تو رہنے ہی دو۔ کوٸ بھی مجھ سے خوش نہیں ہے۔ کیا میں اتنی بری ہوں۔۔؟“
وہ اس وقت سخت دل برداشتہ تھی جبھی اس طرح کی باتیں کررہی تھی۔ نہیں تو وہ کبھی خود کو یوں ڈی گریڈ نہیں کیا کرتی تھی۔ ٹھیک ہے اس کی خوبصورتی آنکھوں کو چندھیایا نہیں کرتی تھی لیکن وہ ایسی بھی نہیں تھی کہ کسی کو پسند ہی نہ آۓ۔
”کس طرح کی باتیں کررہی ہو رابی۔ تم بہت اچھی ہو۔ جنہیں تم پسند نہیں آرہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے معیار سے کہیں بہت بلند ہو۔ ہر کوٸ اگر آپ کو پسند کرنے لگے تو یہ کوٸ خاص اچھی بات نہیں ہے۔ زندگی میں چند لوگوں کی موجودگی ہی انسان کے لیۓ کافی ہوتی ہے۔۔“
”لیکن میری زندگی میں تو وہ چند انسان ہیں ہی نہیں۔۔“
”ہیں رابیل۔۔ تمہاری زندگی میں وہ لوگ ہیں۔ معاذ بھاٸ زیادہ باتیں نہیں کرتے لیکن وہ بہت اچھے ہیں۔ میں نے ان سے جتنی تھوڑی بہت بات چیت کی ہے، اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بہت کیٸرنگ نیچر کے اچھے سے بندے ہیں۔۔“
اس نے ایک نگاہ ردا پر ڈالی تھی۔ برا سا منہ بنا کر۔۔
”کیٸرنگ اور معاذ۔۔! بالکل بھی کیٸرنگ نہیں ہے وہ۔ ہمیشہ یوں ہی بات درمیان میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اگر مجھ سے (ایک پل کو رکی۔۔ یوں ایسے نکاح کا نام لینا بہت عجیب لگ رہا تھا) رشتہ جوڑ ہی لیا ہے تو کم از کم اب آ کر اسے فیس بھی کرے۔ مجھے کیوں اس نے لوگوں کے سوالات کے حوالے کردیا ہے۔۔“
اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے۔ ردا نے مسکرا کر اس کا بازو سہلایا۔۔
”اگر وہ نہیں آرہا تو تم خود اس سے ملنے چلی جاٶ رابی۔۔“
اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
”کیا مطلب۔۔؟ میں۔۔ نہیں میں کیسے جاسکتی ہوں۔؟“
”کیوں۔۔؟ تم کیوں نہیں جاسکتیں۔۔؟“
”مطلب میں خود اس رشتے کے بارے میں بات کرنے کے لیۓ وہاں پہنچ جاٶں!۔ کیا اسے اندازہ نہیں ہے ہمارے مابین رشتے کا۔۔؟“
اسے ردا کا آٸیڈیا بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔ وہ کیسے منہ اٹھا کر جا سکتی تھی۔۔
”رابی۔۔ یہ رشتہ تمہارے لیۓ ہر چیز سے زیادہ اہم ہونا چاہیۓ۔ مضبوط بنو۔ اپنے حق کے لیۓ بات کرنا سیکھو۔ کسی بھی تیسرے بندے کے بات کرنے سے پہلے معاذ بھاٸ سے خود بات کرو۔ رشتے کبھی بھی یوں دب کر اور چھپ کر پروان نہیں چڑھتے۔ رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیۓ بات کرنی پڑتی ہے۔ ہاں یا نہ کہہ کر دو ٹوک جملوں کا تبادلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایسے نہیں ہوتا کہ اپنی جھجھک میں آ کر تم رشتوں کی بابت بات ہی نہ کرو۔ بابا، پھپھو یا پھر ارحم بھاٸ کے بات کرنے سے پہلے تمہیں خود معاذ بھاٸ سے بات کرنی چاہیۓ۔“
ردا کہہ کر آہستہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ تو وہ بھی جیسے اپنے خیالات سے چونکی۔ وہ کیوں معاذ سے خود بات نہیں کررہی۔۔؟ وہ کیوں کسی دوسرے یا پھر تیسرے بندے کے انتظار میں ہے۔۔؟ وہ جو بالکل ٹو دی پواٸنٹ بات کرنے والا تھا کیا اسے کسی بھی طرح یوں درمیان میں لٹکاۓ گا۔؟ اور اس سوال کا جواب ایک زوردار ”نہیں“ تھا۔ معاذ ایسا بندہ تھا ہی نہیں۔ وہ آر یا پار والا انسان تھا۔ جو ٹھیک ہے ٹھیک ہے اور جو ٹھیک نہیں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ تاویلیں اکھٹی کرنے والا انسان تھا ہی نہیں۔
اسے یقیناً اس سے بات کرنی چاہیۓ۔ کسی کے بھی بات کرنے سے پہلے۔۔ ہاں ضرور۔۔ زینوں سے اتر کر اب کہ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اسے اس تاریک کہف میں ہلکا سا نور دکھا تھا۔ درست سمت کی جانب اشارہ کرتا ہوا نور۔۔ اور اسے اس نور کو تھامنا ہی تھا۔۔ کیونکہ وہ کہف تو آج بھی اتنا ہی تاریک تھا جتنا کٸ سالوں پہلے تھا۔۔ ۔
عصر کی نماز کے بعد اس نے سیاہ عباۓ پر ہی سیاہ حجاب لپیٹا اور گھر سے باہر نکل آٸ۔ صرف ردا جانتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں جارہی ہے۔ آدھے گھٹنے کی مسافت پر ہی تایا کا گھر تھا۔ اسے حیرت بھی ہوٸ۔ ان کے اتنے قریب رہنے کے باوجود بھی وہ کبھی بھی ان کے گھر نہیں آٸ تھی۔ ایڈریس اسے ہمیشہ سے پتہ تھا لیکن اس نے کبھی یہاں آنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ گھر کے باہر ڈراٸیور نے گاڑی روکی تو وہ چونکی۔ ایک نگاہ باہر ڈالی اور پھر گہرا سانس لیتی گاڑی سے نکل آٸ۔
اگر جو معاذ بھی گھر میں ہوا تو وہ اس سے آج کے آج ہی بات کرلے گی۔ ہاں ابھی کہ ابھی۔۔ لیکن وہ اس سے بات کرے گی کیا۔۔؟ وہ اس سے کہے گی کیا۔۔؟ ایک ساتھ ہی اس کے دل میں خالی پن سا اترنے لگا تھا۔ گھر کا دروازہ پار کرنے سے پہلے ایک چھوٹا سا باغیچہ بنا ہوا تھا۔ وہ زیادہ بڑا لان نہیں تھا لیکن اس کی تراش خراش پر بہت توجہ دی گٸ تھی اسی لیۓ وہ اس قدر پرکشش لگ رہا تھا۔ اس نے سامنے کھڑے سبز بیلوں سے ڈھکے اس گھر کو دیکھا۔ وہ گھر بہت بڑا نہیں تھا۔۔ لیکن اسے اس گھر سے عجیب سی اپناٸیت محسوس ہوٸ تھی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔ چند لمحے دھڑکتے دل کے ساتھ باہر ہی کھڑی رہی۔ پھر ہلکی سی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا۔ سامنے ہی وقار تایا کھڑے تھے۔ اسے دیکھ کر بے حد حیران ہوۓ۔۔ پھر خوشگوار سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے اندر آنے کا کہا۔
وہ اندر چلی آٸ۔ سامنے ہی ایک چھوٹا سا سفید ٹاٸلز والا داخلی برآمدہ تھا۔ ایک جانب کو کرسیاہ اور میز لگی تھیں۔ اندر کو جاتی ایک راہداری تھی جس سے گزر کر آگے کا لاٶنج نظر آتا تھا۔ وہ خاموشی سے ہر جانب دیکھتی تایا کے پیچھے چلی آٸ۔۔
”تم آرہی تھیں تو مجھے بتادیتیں۔۔ مل کر کچھ اچھا سا پکالیتے۔۔“
”تکلف میں مت پڑیں تایا۔۔ میں کھا کر آٸ ہوں۔۔“
” ارے۔۔ میری بیٹی پہلی دفعہ اپنے گھر آٸ ہے۔ اتنا تکلف تو خیر بنتا ہی ہے۔ اور ویسے بھی تکلف کیسا۔۔؟ یہ اپنا گھر ہے تمہارا۔۔ جب چاہے آٶ اور جو چاہے پکا کر کھاٶ۔۔“
وہ آخر میں ہنسے۔۔ انہیں جیسے اپنی ہی بات نے مزہ دیا تھا۔ لیکن رابیل کو ان کی ہنسی اس سمے بہت نم محسوس ہوٸ تھی۔ ان کی آنکھوں کا گلابی پن ان کے کافی دیر تک رونے کا غماز تھا۔ اس نے آس پاس نگاہ گھماٸ۔ ایل ای ڈی کے ساتھ ہی ایک تصویر رکھی تھی۔ ایک انتہاٸ مکمل تصویر۔ اس نے آگے بڑھ کر اس تصویر کو اٹھایا۔۔ نگاہوں کے قریب کر کے اسے دیکھا۔
دوپٹے کے ہالے میں دمکتا ان کا چہرہ اس وقت پوری طرح سے جگمگا رہا تھا۔ گود میں ایک بچہ تھا، شاید معاذ اور ساتھ ہی جوان سے وقار تایا ڈنر سوٹ میں ملبوس کھڑے تھے۔ اس نے ایک پل کو سر اٹھا کر وقار کی جانب دیکھا۔ اسے ان کی آنکھوں میں اب کہ نمی تیرتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔
”یہ۔۔ یہ حبیبہ تاٸ ہیں ناں۔۔؟“
اسے اندازہ تھا پھر بھی اس نے پوچھ ہی لیا۔ وقار نے بہت سے آنسو اندر اتار کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔
”بہت خوبصورت ہیں۔۔“
ایک بار پھر سے تصویر کو دیکھتے اس نے آہستہ سے کہا تھا۔
”بیٹھو ناں بچے۔۔ میں تمہارے لیۓ۔۔“
اور وہ کچن کی جانب بڑھنے ہی لگے تھے کہ اس نے انہیں روک لیا۔ ہاتھ سے پکڑ کر انہیں صوفے تک لے آٸ۔ وہ گیلی آنکھوں سے اسے دیکھے جارہے تھے۔
”آپ کیسے ہیں تایا۔۔؟ معاذ کہاں ہے۔۔؟ اور آپ دوبارہ آۓ کیوں نہیں۔۔ نہ کوٸ خیر نہ خبر۔۔ کوٸ بات بری لگی ہے کیا آپ کو۔۔؟“
اس نے ان کا چہرہ جانچتے ہوۓ نرمی سے پوچھا تھا۔ وہ مسکراۓ۔۔ پھر آنکھیں رگڑیں۔۔
”ارے بچے پچھلے کٸ دنوں سے ریسٹورینٹ کی رینوویشن کا کام چل رہا تھا اسی لیۓ بالکل بھی وقت نہیں مل سکا مجھے اور معاذ کو۔۔ وہ بھی اس کام میں تب سے بہت بزی ہوگیا تھا۔۔“
اوہ۔۔ اس کے دل سے یکدم بوجھ ہٹا تھا۔
”اور ابھی کہاں ہے معاذ ۔۔؟“
”ریسٹورینٹ میں ہے۔۔۔“
بہت آہستگی سے جواب دیا تھا انہوں نے اسے اس کی بات کا۔۔
”کب تک آۓ گا۔۔؟“
اور وقار کو اب کہ سمجھ نہیں آیا کہ اسے کیا جواب دینا چاہیۓ۔ چند پل کچھ سوچتے رہے، پھر ایک فیصلہ کر کے سر اٹھایا۔۔
”تم ہمارے گھر کا حصہ ہو اسی لیۓ اب تم سے کسی بھی بات کو چھپانا زیادتی ہوگی۔ “
وہ ایک پل کو رکے۔ رابیل انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
”معاذ آج گھر نہیں آۓ گا۔۔“
”کیا۔۔!! لیکن کیوں۔۔؟“
”آج حبیبہ کی برسی ہے رابیل۔۔“
اور اس پر اگلے ہی پل جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔ کچھ لمحے وہ خالی خالی سی تایا کو دیکھے گٸ۔ اسی لیۓ ان کی آنکھیں گلابی تھیں۔۔ اسی لیۓ وہ روتے رہے تھے۔
”لیکن۔۔ وہ اتنی سرد رات میں باہر کیا کرے گا تایا۔۔؟“
انتیس نومبر کی رات معاذ احمد پر بھاری تھی اسے اب سمجھ آیا تھا۔
”مجھے نہیں پتہ۔۔ لیکن وہ اس دن گھر نہیں آتا۔۔ جانے کہاں ہوتا ہے۔۔ میں نے بارہا پوچھا بھی لیکن وہ مجھے نہیں بتاتا۔“
وہ شکستہ سے بولتے ہوۓ اسے اس وقت بہت کمزور لگے تھے۔
”معاذ کے ساتھ پچھلے سالوں میں کیا ہوا تھا تایا کیا آپ مجھے بتاسکتے ہیں۔۔؟“
اس نے بے اختیار تصویر ایک جانب رکھی اور آگے ہو کر بیٹھی۔ اسے اس کے بارے میں سب جاننا ہی تھا۔ تایا نے چشمہ ہٹا کر آنکھوں میں پھیلتی دھند صاف کی تھی۔ پھر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
”تم کچھ کھا تو لو رابیل۔۔“
” مجھے کچھ نہیں کھانا ہے تایا۔۔ آپ بس مجھے یہ بتاٸیں کہ آخر پچھلی زندگی میں معاذ کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اتنا زخمی ہے۔ اس قدر تلخ ہے۔۔ میں جاننا چاہتی ہوں تایا۔۔ پلیز مجھے سب بتاٸیں۔۔“
اور وقار نے لمحے بھر کو گہرا سانس لے کر اسے دیکھا تھا۔ واپسی پر گاڑی میں بیٹھتے وقت عشاء کا گہرا اندھیرا ہر سو پھیلنے لگا تھا۔ وہ تیزی سے گاڑی میں آ کر بیٹھی اور کب کے رکے آنسوٶں کو بہنے دیا۔ ڈراٸیور اب گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا۔ اور رابیل۔۔ وہ سر ٹکاۓ کھڑکی سے باہر دیکھتی خاموشی سے رورہی تھی۔
”جب مجھے وہ اس رات فٹ پاتھ پر ملا تو بہت بدل گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔۔ حلیہ عجیب سا تھا۔۔ نگاہیں بدل گٸ تھیں۔۔ وہ اس سارے عرصے میں بہت سے گناہ کرچکا تھا رابیل۔۔ وہ حبیبہ کا معاذ رہا ہی نہیں تھا۔ وہ سب کچھ بھول گیا تھا۔۔ وہ حبیبہ کا پڑھایا گیا ہر سبق بھول چکا تھا۔۔“
وہ دکھتے دل کے ساتھ ان کی باتیں یاد کررہی تھی۔
”اس نے پچھلے کٸ سالوں سے قرآن کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔۔ وہ اپنا حفظ کیا قرآن بھول گیا رابیل۔۔“
اس کی آنکھ سے دوسرا آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔ قرآن کو پا کر کھودینے کی اذیت بہت زیادہ تھی۔۔ اس کا دل کٹنے لگا۔۔
”اس نے اس ایک سال کے عرصے میں اتنے بھتے وصولے تھے کہ آخر میں تو اسے گنتی بھی بھول گٸ تھی۔ اسے اپنا نام تک بھول گیا تھا۔ کچھ بھی یاد نہ تھا اسے۔ کچھ بھی نہیں۔۔ اپنے غم کو کچلنے کا اس سے بہتر طریقہ شاید اس کے پاس تھا ہی نہیں۔۔ وہ خود کو بھلادیتا تبھی تو حبیبہ کو بھلا سکتا تھا اور اس نے وہ ہی کیا۔ اس نے حبیبہ کے معاذ کو بھلا دیا۔۔ جس لڑکے نے کھڑے ہو کر نمازیں پڑھانی تھیں اس نے جرم کی دنیا میں تاریکی کو چن لیا۔۔“
آنسو بہتے ہوۓ اس کے رخساروں پر پھسل رہے تھے۔ اور وہ اس پانی کو اب کہ روک دینے پر قادر نہیں تھی۔
”دنیا نے حبیبہ کو اس سے چھین لیا تو معاذ نے معاذ ہی کو خود سے چھین لیا۔۔“
اس کی گاڑی اب کہ ایک ریسٹورینٹ کے باہر رکی تھی۔ وہ آہستہ سے باہر نکل آٸ۔
”میں نے اس سے کہا کہ کیا تم اپنا قرآن واپس نہیں لینا چاہتے تو جانتی ہو اس نے مجھے کیا کہا تھا۔۔؟“
وہ آہستگی سے قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی تھی۔۔
”اس نے کہا کہ قرآن کو چھوڑ کر وہ اب کہ پرسکون ہوگیا ہے۔ حالانکہ وہ پرسکون نہیں ہوا تھا رابیل۔۔ وہ تو کچھ محسوس ہی نہیں کرپارہا تھا۔ اور اس نا محسوس ہونے والی اذیت کو وہ سکون سے تشبیہ دے رہا تھا۔۔ میرا معاذ مجھ سے کھو گیا تھا۔۔“
اس نے آگے بڑھ کر شیشے کا دروازہ دھکیلا۔ اندر کا نرم گرم سا ماحول ویسا ہی تھا۔ لوگ الگ الگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ رات گہری ہونے کے باعث اب کہ آہستہ آہستہ رش بھی چھٹ رہا تھا۔ شیشوں سے ڈھکا وہ ریسٹوینٹ بلاشبہ بہت خوبصورت تھا۔
”میں اسے زبردستی اس تاریک دنیا سے نکال لایا۔ بہت سے دوستوں کے اثر و رسوخ کے باعث میں اس میں کامیاب تو ہوگیا لیکن رابیل میں معاذ کو دوبارہ قرآن کی جانب نہیں لاسکا۔ وہ نماز پڑھتا ہے لیکن اس نے قرآن چھوڑ دیا۔ اس نے اسے بھلادیا۔۔“
اس نے قدم ذرا آگے بڑھاۓ۔ ریسٹورینٹ کا کچن سامنے ہی تھا۔ اس کے آگے نٸے طرز کے لکڑی کے دروازے نصب تھے۔ بہت سے ویٹرز ہاتھوں میں طشتریاں لیۓ آجا رہے تھے۔ اس نے بھی قدم اسی جانب کو بڑھاۓ۔۔
”میں نے حبیبہ کے بعد معاذ کو بھی کھودیا تھا۔ اور اس سب کا ذمہ دار میں خود ہی ہوں۔ میرے ایک غلط فیصلے نے میرے گھر کی ساری خوشیاں مجھ سے چھین لیں۔ وہ گھر جس میں ہر لمحہ سکینت رہا کرتی تھی۔ اس گھر میں اب کہ صرف وحشت رہنے لگی تھی۔“
اس نے دروازہ دھکیلا اور پھر وہ اسے سامنے ہی نظر آگیا۔ اس کے آس پاس زندگی میں پہلی بار گھنٹی سی بجی تھی۔ مدھر سی گھنٹی۔۔ وہ جو آستینیں کہنیوں تک لپیٹے۔۔ گردن جھکاۓ۔۔ ماتھے پر گرے بالوں سے بے نیاز۔۔ خاموشی سے مصالحہ بھون رہا تھا۔۔
زندگی میں پہلی بار اسے دیکھ کر وہ لمحے بھر کے لیۓ ساکت ہوٸ تھی۔ کیونکہ اس گھنٹی کی آواز اب بھی کہیں پیچھے سے آرہی تھی۔ وہ دروازے میں کھڑی خاموشی سے اسے دیکھے گٸ۔ اس لڑکے نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھودیا تھا۔۔ یہاں تک کہ اپنا آپ بھی۔۔ اس کا دل ایک بار پھر سے دکھا تھا۔ اسی پل معاذ نے کچھ محسوس کر کے سر اٹھایا اور پھر اگلے پل وہ اسے دروازے میں کھڑا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ رابیل اس کے دیکھنے پر بھی خاموشی سے اسے دیکھے گٸ تھی۔ کٸ لمحے آۓ اور گزر گۓ۔ دو نفوس ٹکٹکی باندھے ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔ اور پھر اگلے ہی لمحے۔۔ وہ اس کی جانب بڑھ گٸ تھی۔
