Kahaf Episode 6-1

 #Do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف

بقلم_رابعہ_خان

چھٹی_قسط

کٸ دنوں کی بے چینی اور پھر کٸ لمحات کی بے یقینی کے بعد بہر حال معاذ اور حبیبہ کو یقین آ ہی گیا تھا کہ وقار کو پولیس گرفتار کر کے گھر سے لے جا چکی ہے۔ داد کا انتقال ہوا تو، گھر والے اپنے اصلی مقصد پر اتر آۓ۔ وہ تو دادا تھے جن کی وجہ سے انہیں اچھی خاصی آسانی دی گٸ تھے بقول فرحت بیگم کے۔ ان کے مرتے ہی ان تین زندگیوں میں وہ قیامت برپا کی گٸ جن کا کڑوا ذاٸقہ آنے والے ہر لمحے میں انہیں محسوس ہونا تھا۔ 

اس دن گھر میں بہت سناٹا تھا یا شاید معاذ اور حبیبہ کو وہ سناٹا زیادہ محسوس ہوا تھا۔ وہ دونوں سمجھ نہ پاۓ۔ پولیس گھر سے ہی وقار کو گرفتار کر کے لے جا چکی تھی اور الزام آفس کی کچھ فاٸلز آگے پیچھے کرنے کا تھا۔ لیکن اس سمے معاذ کو سب سے عجیب بات جو کھٹکی تھی وہ تھی پولیس والوں کی وردیاں جو کہ اس وقت ان کے جسموں پر نہیں تھیں۔ وہ لوگ سول لباس میں ملبوس اہلکار تھے اور یہ راز تو اس پر عرصے بعد کھلا تھا کہ وہ کوٸ پولیس والے تھے ہی نہیں۔ وہ تو چند کراۓ کے لوگ تھے جنہیں بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ وقار کو گرفتار کرنے کا ڈرامہ رچانا تھا۔ سو وہ انہیں کسی بھی قریبی تھانے لے جانے کے بجاۓ اپنے ہی کسی ٹارچر سیل میں لے گۓ۔ معاذ نہیں جانتا تھا کہ وہ ٹارچر سیل کس سمت میں تھا یا پھر اس کا راستہ کدھر کو جاتا تھا۔۔ وہ تو اس وقت ماٶف ذہن لیۓ صرف اپنی ماں کو دلاسا دے رہا تھا کہ جلد یا بدیر سب ٹھیک ہو ہی جاۓ گا۔ وہ چھوٹا تھا۔ اندر کہیں وہ بھی وقار کی اس گرفتاری پر بے حد خوفزدہ تھا مگر وہ پھر بھی اپنی ماں کے سامنے مضبوط بن کر انہیں بہلاتا رہا۔ اسی دوران، صاٸمہ کی شادی کا بھی شور اٹھا۔ تیاریاں اپنے عروج پر پہنچنے لگیں۔ انہی دنوں صاٸمہ کا دیور ارشد بھی ان کی حویلی میں آکر رہنے لگا تھا۔ جس کے سامنے صاٸمہ اور فرحت بیگم اس قدر میٹھی بن جاتیں کہ حد نہیں۔ 

دوسری جانب عابد بھی وقار کو ڈھونڈنے کی بھرپور کوشش کررہے تھے مگر وہ اپنی کوششوں کو فی الحال گھر والوں سے مخفی رکھنا چاہتے تھے۔ جانتے تھے کہ ان کا ردعمل بہت شدی قسم کا آنے والا ہے۔ 

لیکن پھر کٸ دنوں کی پلاننگ اور کٸ ہفتوں کی خفیہ محنت کے بعد آخرکار وہ دن آ ہی گیا جو معاذ احمد کی زندگی کا سب سے تاریک دن تھا۔ اس کی زندگی کا سب سے بھیانک اور تاریک دن۔۔! 

حبیبہ نے اپنی عشاء کی نماز سے سلام پھیر کر داٸیں ہاتھ پر بیٹھے معاذ کو دیکھا۔ اسی وقت معاذ نے ان کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکراٸیں۔ وہ نہیں مسکرا سکا۔۔ ان کی خوبصورت آنکھوں کے نیچے اب کہ ہر لمحے گہرے گڑھے پڑے رہتے تھے، وجود حد درجہ کمزور ہوگیا تھا اور چہرے کی چمکتی رنگت گزرتے ایام کی گرد میں ماند پڑ گٸ تھی۔ یہ وہ حبیبہ تھی ہی نہیں جسے معاذ جانتا تھا۔ یہ تو کوٸ اور عورت تھی۔ انتہاٸ تھکی ہوٸ اور مضمحل۔۔! 

”ماں ہم بابا کو ڈھونڈ لیں گے۔۔“ 

اس نے آگے بڑھ کر ان کے دونوں ہاتھ تھامے۔ اب کہ وہ کچھ کچھ بڑا لگنے لگا تھا۔ آواز بھی بھاری ہونے لگی تھی اور پٹھے مضبوط ہونے لگے تھے۔ ان کا چھوٹا سا معاذ اب کہ بڑا ہورہا تھا۔ وہ تھکن زدہ سا مسکراٸیں۔  پھر اس کے ماتھے پر بکھرے بال انگلیوں سے پرے کیۓ۔ 

”مجھے پتہ ہے معاذ کہ تم انہیں ڈھونڈ لو گے۔ مجھے اپنے بیٹے پر پورا بھروسہ ہے۔“ 

”آپ بس مجھ پر بھروسہ رکھیۓ گا ماں۔ میں کبھی بھی آپ کو مایوس نہیں کرونگا۔۔“

اس نے ان کے ہاتھ دباۓ۔ اسے یاد تھا کہ ان کے ہاتھ اس وقت بے حد یخ ہورہے تھے۔ ٹھنڈے، برف سے۔۔ 

”اگر میں کہیں گم ہوجاٶں تو تم کیا کروگے معاذ۔۔؟“ 

اس کے چہرے کو بے حد محبت سے دیکھ کر کہا تھا انہوں نے۔ اس کی سرمٸ آنکھوں میں لمحے بھر کو تکلیف سی ابھری۔ ہاتھوں کی گرفت سخت ہوگٸ۔۔ 

”ایسے مت کہیں ماں۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔“ 

اس نے یکدم کہا تھا۔ یہ سوچ کر ہی اس کا دل لمحے بھر کو سکڑا تھا کہ اگر اس کی ماں اس سے گم ہوگٸ تو وہ کیا کرے گا۔۔؟ حبیبہ میں اس کا سانس تھا۔۔ جان تھی اس کی ماں میں اس کی۔ اسے کبھی کبھی لگتا تھا کہ انہیں دیکھ کر ہی اسے سانس آتا ہے۔ وہ انہیں گم کرنے کا خیال بھی اپنے تخیل میں لانے سے ڈرتا تھا۔ وہ انہیں کھونے سے ڈرتا تھا۔۔ 

”جانتے ہو معاذ جب تک ابو طالب اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کی چھاٶں رہے تب تک، وہ اپنا کام باآسانی کرتے رہے تھے۔ مشکلات کا سامنہ انہیں تب بھی تھا لیکن بات جسمانی یا پھر ذہنی تشدد تک کبھی نہیں پہنچی تھی۔ لیکن پھر ایک دن کیا ہوا۔۔؟“ 

وہ ٹھہریں تو ان کے چہرے کو جانچتیں اس کی نگاہیں بھی لمحے بھر کو ٹھہر گٸ تھیں۔ ان کی آنکھیں میں بہت دھیمی سی نمی چمکی۔۔ 

”ایک دن وہ چھاٶں ختم ہوگٸ معاذ۔۔“ 

ان کے ہاتھ اب کے پسینے سے تربتر ہونے لگے تھے۔ اس نے ان کے پھسلتے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید کیا۔ دل خوف سے اس قدر تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا گویا ابھی باہر آگرے گا۔۔ 

”ہر لمحہ تم پر چھاٶں باقی نہیں رہے گی معاذ۔ ایک وقت آتا ہے جب ابو طالب کی چھاٶں آپ سے لے لی جاتی ہے اور اس وقت آپ کو اہلِ مکہ کے ظالم عزاٸم کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ تب انسان کو تپتی دھوپ اور دل چھلنی کردینے والے رویوں کا اندازہ ہوتا ہے معاذ۔ تب انسان کو پتہ چلتا ہے کہ یہ اپنے کیسے چوٹ لگایا کرتے ہیں۔۔“ 

اس کی آنکھیں گلابی پڑنے لگیں۔ حلق خشک ہوگیا۔ اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا۔۔ بے حد عجیب سا۔۔ 

”تمہیں بھی بنا چھاٶں کے رہنا سیکھنا ہوگا معاذ، کیونکہ ابو طالب کی چھاٶں ہر وقت موجود نہیں ہوتی۔۔“ 

ان کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی نمی، پلکوں کی باڑ پر ہی ٹھہری رہی۔ وہ آنسو ان کے رخساروں پر نہیں گررے تھے۔ وہ آنسو تو کہیں معاذ کے اندر گررہے تھے۔ ہاں وہ ان کا حصہ تھا۔ وہ ان کا بیٹا تھا۔۔ 

”مجھ سے وعدہ کرو معاذ کہ تم کبھی بھی اپنا قرآن نہیں چھوڑوگے۔۔!“ 

اب کے انہوں نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کی تھی۔ 

”میں کیسے اس قرآن کو چھوڑ سکتا ہوں ماں۔۔!“ 

”تمہیں اس قرآن کو نہیں چھوڑنا معاذ۔ کبھی بھی نہیں۔ اگر تم نے اسے چھوڑ دیا تو تم تاریکیوں میں ڈوب جاٶ گے بیٹا۔ تمہیں تاریکیوں میں نہیں ڈوبنا۔ تمہیں اس دنیا کی تاریکی کو دور کرنا ہے۔ تمہیں ایسا ہی کرنا ہے معاذ۔۔“ 

”ماں میں ایسا ہی کرونگا۔۔“ 

اس نے پسینے سے تر ہوتی پیشانی کے ساتھ کہا تھا۔ یکایک کمرے کے دروازے پر ایک زوردار سی دستک ہوٸ۔ اس دستک کی آواز بالکل صور جیسی تھی۔ وہ دونوں اچھل کر اس آواز کی سمت متوجہ ہوۓ تھے۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے ہی رامین چاچی کھڑی تھیں۔ 

”بھابھی آپ کو امی بلا رہی ہیں۔۔“ 

اور ان کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو حبیبہ اور معاذ دونوں کو چونکا گیا تھا۔ اس نے بے اختیار ٹک ٹک کرتی گھڑی کی جانب نگاہ گھماٸ۔ وہاں رات کے دس بج رہے تھے۔ وہ ان کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل آیا۔ لاٶنج میں اس قدر بتیاں روشن تھیں کہ لمحے بھر کو اس کی آنکھیں اس قدر روشنی پر چندھیا گٸیں۔ اسی لمحے اس کی نگاہ رعونت سے صوفے پر بیٹھیں فرحت پر پڑی تھی۔ ان کی یاقوت جڑی انگلیاں آہستہ آہستہ صوفے کے ہتھے پر حرکت کررہی تھیں۔ ساتھ ہی صوفے پر صاٸمہ براجمان تھیں اور ان کے عین سامنے ارشد بھی بیٹھا تھا۔ وہ ہی جو ان کا دیور تھا۔ اس کی گردن غیر معمولی طریقے سے جھکی ہوٸ تھی اور اس کا شرمندہ سا چہرہ دیکھ کر معاذ لمحے بھر کو چونکا تھا۔ اس کے آس پاس جھکڑ سے گردش کرنے لگے۔ 

”کل رات تم کہاں تھیں بھابھی۔۔؟“ 

صاٸمہ کی پھنکار پر اس کی روح تک سنسنا اٹھی تھی۔ حبیبہ نے ناسمجھی سے ایک نظر معاذ کو دیکھا اور پھر صاٸمہ کی جانب نگاہ گھماٸ۔۔ 

”میں اپنے کمرے میں۔۔ کیوں۔۔؟“ 

انہیں جیسے ان کی بے وقت کی تفتیش سمجھ نہیں آٸ تھی۔ 

”اچھا۔۔ کل رات تم اگر اپنے کمرے میں تھیں تو پھر کل رات ارشد کے کمرے میں کون تھا۔۔؟“ 

وہ ان کی اگلی بات پر گویا بھک سے اڑا تھا۔ اس نے حبیبہ کے چہرے کو گلابی سے سفید ہوتے دیکھا۔ اس قدر سفید اور بے جان، لگتا تھا گویا ان کی مورت سامنے کھڑی ہو۔ ایک نظر فرحت بیگم نے بھی ان پر ڈالی تھی۔ 

”یہ۔۔۔ یہ ک۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم صاٸمہ۔۔؟؟“ 

وہ اس قدر ششدر تھیں کہ جملے بھی ٹھیک سے ادا نہ ہوپارہے تھے۔ یوں لگتا تھا گویا زبان ہی گنگ ہوگٸ ہو۔ ان کے اس قدر ہکلانے پر گھر کی باقی خواتین نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ حبیبہ نے خوفزدہ نگاہوں سے سب کا چہرہ دیکھا۔ 

”یہ سامنے بیٹھا ہے ارشد۔ اور رات کو میں نے خود تمہیں اس کے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔ میرا بھاٸ کیا نگاہوں کے سامنے سے ہٹا، تم سے چند راتیں صبر نہیں ہوا۔۔! ویسے تو بڑی پاک دامن ہو تم۔۔ بڑا یہ دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹے رکھتی ہو اور حرکتیں۔۔ حرکتیں طواٸفوں والی اختیار کر رکھی ہیں۔۔“ 

وہ لفظ نہیں تھے۔۔ وہ کوٸ بہت زہریلا سا مادہ تھا جو حبیبہ کی رگوں میں خون کے ساتھ تحلیل ہوگیا تھا۔ ان کے قدم بری طرح لڑکھڑاۓ تھے۔ معاذ کی کنپٹیاں گویا جل اٹھی تھیں۔ رگوں میں جیسے کوٸ مرچیاں سی بھر گیا تھا۔۔ 

”میں۔۔ م۔۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔۔ یہ۔۔ یہ الزام ہے۔۔ یہ ب۔۔ بہتان ہے۔۔“ 

ہونٹوں کی لرزش اس قدر بڑھ گٸ تھی کہ کوٸ لفظ بھی کسی کی سماعت تک نہ پہنچ سکا تھا۔ ان کے سینے میں یکدم گھٹن سی اٹھی۔ دل گویا کسی اندیکھی سی زنجیر میں گھٹنے لگا تھا۔ ان کا سانس لمحوں ہی میں کسی نے روک دیا تھا۔ 

”جھوٹ مت بولیں بھابھی۔۔ میں نے آپ کو منع بھی کیا تھا۔۔ میں نے کتنا روکا تھا آپ کو۔۔ لیکن پھر میں تو آخر کار مرد تھا۔ بہک ہی گیا۔۔“ 

اور وہ بے دم سی ہو کر زمین پر آگری تھیں۔ معاذ نے لپک کر انہیں تھاما۔ ان کے ہونٹ بے تحاشہ سفید پڑنے لگے تھے۔ آنکھوں کی جوت بجھنے لگی۔ سب کچھ لمحوں میں گویا تہس نہس ہوکر رہ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بے ساختہ پھسلے۔۔ 

”کیوں۔۔ کیوں کررہے ہیں آپ لوگ ایسے۔۔ میری ماں بے قصور ہے۔ میری ماں نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔ ان کا کوٸ قصور نہیں ہے۔۔ یہ بہتان ہے۔۔ یہ بہتان عظیم ہے۔۔“ 

وہ گھٹنوں کے بل جھکا ایک ہاتھ سے حبیبہ کو تھامے ہوا تھا اور چہرہ ان سفاک لوگوں کی جانب پھیرے وہ ان سے زندگی میں پہلی بار التجا کررہا تھا۔ ہاں پہلی بار۔۔ کیونکہ اس کی ماں۔۔ اس کی ماں اس کے ہاتھوں ہی میں جان دینے کو تھی۔۔ 

”تمہاری ماں زانیہ ہے۔۔!“ 

فرحت بیگم کی انتہاٸ کرخت سی آواز اس کی سماعت میں اتری تو وہ لمحے بھر کو آنکھیں بند کرگیا۔ وہ بلاشبہ بہت عظیم بہتان تھا۔ وہ بہت عظیم بات تھی۔ اسے اپنا وجود ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔ دوسری جانب حبیبہ اس کے ہاتھوں ہی میں گہرے گہرے سانس لیتیں اپنا سینہ مسلنے لگی تھیں۔ یوں لگتا تھا گویا انہیں سانس لینے میں دشواری ہورہی ہو۔ 

”میری ماں بہت نیک اور باپردہ عورت ہے۔ میری ماں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے جیسا آپ لوگ کہہ رہے ہیں۔ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ سب اس جھوٹ میں برابر کے شریک ہیں۔ میری ماں نے کچھ نہیں کیا ہے۔۔“ 

وہ مسلسل روتا ہوا ان کے ہر الزام کو رد کرتا جارہا تھا لیکن اس کی بات کوٸ نہیں سن رہا تھا۔ 

”ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا بھابھی تم نے کہ وہ میرا ہونے والا سسرال ہے۔ کم از کم ایک بار تو اپنا منہ کالا کرنے سے پہلے تم میرے بارے میں سوچ لیتیں۔۔“ 

وہ وہیں سے بیٹھے بیٹھے بے حد افسوس سے گویا ہوٸ تھیں۔ معاذ کی شریانے درد سے پھٹنے لگیں۔ 

”میں نے کہا ناں کہ میری ماں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔۔ میری ماں بے قصور ہے۔ وہ کبھی ایسا کچھ نہیں کرسکتیں۔۔ آپ لوگ سب جھوٹ بولتے ہیں۔“ 

وہ بچوں کی طرح روتا ہوا ان سب سے بھیک مانگ رہا تھا۔ وہ کمزور تھا۔۔ وہ کمزور پڑنے لگا تھا۔ حبیبہ کا یخ وجود تھر تھر کانپنے لگا۔ سینہ بے تحاشہ گھٹنے لگا تھا۔ فرحت بیگم طیش سے ابل کر اٹھیں اور سیدھا ان تک پہنچی۔ معاذ کو پوری وقت سے لات مار کر پرے ہٹایا۔ اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر دیکھا تھا۔ ایسا منظر۔۔ لگتا تھا کہ اب کہ روح فنا ہوجاۓ گی۔۔ 

وہ حبیبہ پر جھکیں اور انہیں بے دردی کے ساتھ ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا۔ وہ گرے پڑے قدموں کے ساتھ ان کے ساتھ ساتھ باہر کی جانب کھنچی چلی جارہی تھیں۔ سب باہر کی جانب ان کے ساتھ ہی بھاگے تھے۔ معاذ نے ان کے ہاتھ کی سخت گرفت سے اپنی ماں کا بازو چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ رامین اور زرتاشہ اس قدر بے دردی پر اب کہ رونے لگی تھیں۔ وہ انہیں روکنا چاہتی تھیں۔ لیکن وہ بھی معاذ کی طرح کچھ نہیں کرسکتی تھیں۔ 

”میں نے کہا میری ماں کو چھوڑیں۔۔“ 

وہ ان کے ساتھ ساتھ بھاگتا ہوا مسلسل ہاتھ چھڑا رہا تھا۔ پتھریلی روش پر گھسیٹے جانے کی وجہ سے حبیبہ کا لباس جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا۔ دوپٹہ جو کبھی پیشانی سے سرکا نہ تھا، آج کھل کر کندھے پر آگرا تھا۔ وہ مسلسل ان سے التجا کررہا تھا کہ اس کی ماں کو چھوڑ دیا جاۓ لیکن وہاں اسے کوٸ نہیں سن رہا تھا۔ دور سے چوکیدار نے انہیں گیٹ کی جانب بڑھتے دیکھا تو فوراً آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ انہوں نے ایک جھٹکے سے حبیبہ کو گھر کی دہلیز سے باہر پھینکا تھا۔ یوں جیسے وہ کوٸ کچرے کا ڈھیر ہو۔ یوں جیسے ان کے وجود سے شدید بدبو اٹھ رہی ہو۔ وہ چیختا ہوا ان کے پاس دوڑتا ہوا گیا۔ اس کے پیر میں چپل نہیں تھی۔ اسے یاد تھا کہ اس وہ سمے ننگے پیر تھا۔۔ 

”جتنا برداشت میں نے تمہیں کرنا تھا میں کرچکی۔ لیکن اس بدکاری کے بعد میرے گھر میں تمہارے لیۓ کوٸ جگہ نہیں۔ میرے گھر میں کسی زانیہ کی کبھی کوٸ جگہ نہیں ہوسکتی۔۔“ 

وہ سڑک پر بے یارو مددگار گریں، بمشکل گہرے گہرے سانس لے کر خود کو ہوش میں رکھے ہوۓ تھیں۔ معاذ ان پر جھکا ان کا دوپٹہ لرزتے ہاتھوں سے سر پر درست کررہا تھا۔ اسے یاد تھا کہ اس کا وجود اس وقت زلزلوں کی زد میں تھا۔ وہ اپنے ابو طالب کو کھو رہا تھا۔ اس کی چھاٶں اس سے چھینی جارہی تھی، اور اس تپتے صحرا کی دھوپ اسے ابھی سے اپنی پشت پر محسوس ہونے لگی تھی۔ 

اور پھر اگلے ہی پل حویلی کا دروازہ بند کردیا گیا۔ اس نے اس جانب پلٹ کر انہیں دیکھا۔ وہ ابھی صرف اور صرف حبیبہ کی جانب متوجہ تھا۔ یکایک کسی گاڑی کا گزر اس سنسان سڑک سے ہوا تو اس نے انہیں چیخ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ کوٸ اللہ کا بھیجا گیا نیک انسان تھا۔ اگلے ہی لمحے گاڑی ہلکے سے انداز میں پیچھے آٸ۔ اس میں ایک خاتون اور درمیانی عمر کا کوٸ مرد بیٹھا تھا۔ اسے اس سے آگے کا کوٸ منظر یاد نہیں تھا۔ وہ کیسے اسپتال پہنچا، اس نے کس طرح حبیبہ کو اسٹریچر پر لٹایا، اس نے کیسے غاٸب دماغی سے ڈاکٹر کے جملوں پر سر ہلایا۔ اسے یاد تھا تو بس وہ آخری لمس۔۔ وہ آخری یخ سا لمس۔۔ وہ لمس جو اس کے ہاتھ پر عرصے تک سلگتا رہا تھا۔ وہ لمس جس نے اسے اگلے  کٸ سالوں تک سونے نہیں دیا تھا۔ 

ڈاکٹرز روم سے باہر نکل کر گۓ تو وہ شکستہ سا گیلی آنکھیں لیۓ کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بیڈ پر حد درجہ زرد چہرہ لیۓ دراز تھیں۔ یوں لگتا تھا گویا انکے وجود سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا گیا ہو۔ وہ کپکپاتے قدموں سے آگے بڑھا۔ اسپتال کا ٹھنڈا فرش اس کے سارے وجود کو گویا جما رہا تھا۔ 

آہٹ پر انہوں نقاہت سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا۔ وہ بھیگے رخسار لیۓ ان تک پہنچا۔ لرزتے ہاتھوں سے ان کا مردہ سا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کیا۔ 

”معاذ۔۔“ 

”ج۔۔ جی۔۔“ 

اس کے آنسو پھسل کر ان کے ہاتھ پر گرے تھے۔ وہ نرمی سے مسکراٸیں۔ ایک آنسو البتہ ان کی آنکھ سے بھی ٹوٹ کر کنپٹی میں جذب ہوا تھا۔ معاذ نگاہ نہیں اٹھا سکا۔ وہ اس گھٹیا الزام کے بعد اب نگاہ اٹھانے کے قابل رہا ہی کب تھا۔۔ 

”ادھر دیکھو مجھے۔۔“ 

اس نے پلکیں اٹھاٸیں۔ ماں کا انتہاٸ سفید سا چہرہ نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔ 

”جانتے ہو معاذ حضرت یوسف علیہ اسلام نے کن کو معاف کیا تھا۔۔؟“ 

”اپنے بھاٸیوں کو۔۔“ 

اس کی آنکھوں میں ایسے سوال پر لمحے بھر کو ناسمجھی ابھری تھی۔ ان کا سر کمزوری سے نفی میں ہلا۔ دوسری آنکھ کا آنسو بھی ٹوٹ کر بالوں میں جذب ہوا تھا۔ دور کہیں آسمان سے کوٸ نور سا پگھل کر گرا۔ 

”نہیں معاذ۔۔“ 

ان کا ہاتھ ہولے ہولے اس کی گرفت سے ڈھیلا پڑنے لگا تھا۔ اس نے بے ساختہ اسے اور مضبوطی سے تھاما، کچھ اور بھی تھا جو اس کے ہاتھ سے پھسلنے لگا تھا۔ حبیبہ کا سانس بے اختیار تیز ہوا۔ سینہ تکلیف کے باعث گھٹنے لگا۔ 

”انہوں نے اپنے ”اپنوں“ کو معاف کیا تھا۔۔“ 

چھن سے کچھ ٹوٹ کر اس کے اندر بکھرا تھا۔ اس کی ماں آخر کونسی عورت تھی۔۔؟ ان کے سینے میں کونسا دل سانس لیتا تھا۔۔؟ کیا کوٸ تھا جو اس کاٸنات میں اتنے ظلم کے بعد بھی آخری درس معافی کا ہی دے رہا ہو۔۔! 

چٹخا ہوا چاند لمحے بھر کو اس جملے پر ساکت ہوا تھا۔ ہوا کے سرسراتے جھونکوں نے پلٹ کر اس بے بس سے لڑکے کو دیکھا تھا۔ آسمان میں گردش کرتے پرندوں نے اپنے بہتے اشکوں کو بہنے دیا تھا۔ وہ وقت نم تھا۔۔ بے حد نم۔۔ اس نے بولنا چاہا۔۔ اس نے لب کھولنا چاہے تھے۔۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ ان میں سے ایک ایک کھال ادھیڑ دے گا لیکن وہ انہیں کچھ نہ کہہ سکا۔ وہ بہت پرامید نگاہوں سے اس کا چہرہ تک رہی تھیں۔ اس میں ہمت نہیں تھی ان سے ان کی یہ آخری ہمت چھیننے کی۔۔ 

”ک۔۔ کیا تم مجھے ایک آخری بار سورہ کہف سنا سکتے ہو معاذ۔۔؟“ 

اس نے بے چینی سے آگے بڑھ کر ان کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف کیۓ تھے۔ 

”بس ایک آخری بار۔۔“ 

”ماں ایسے مت کہیں۔۔“ 

اسے کہیں بہت اندر تک تکلیف ہوٸ تھی۔ 

”میں ضرور سناٶنگا آپ کو۔ بس آپ ہمت مت چھوڑیں۔۔ میں آپ کو لے جاٶنگا۔۔ میں آپ کو ان سب سے بہت دور لے جاٶنگا ماں۔۔ بس آپ زندہ رہیں۔ مجھے اکیلا مت کریں۔۔“ 

اس نے کہہ کر جلدی سے اپنی آنکھیں رگڑی تھیں۔ پھر ان کا ہاتھ تھام کر سورہ کہف پڑھنا شروع کی۔ اس کی آواز بار بار ٹوٹ رہی تھی۔ سینہ تنگ ہورہا تھا۔۔ سانس رک رک کر آرہی تھی۔ لیکن وہ ابھی بس نہیں کرسکتا تھا۔ اسے ابھی قرآن پڑھ کر اپنی ماں کو سنانا ہی تھا۔ اور آخری آیت کے پڑھتے ہی اسے محسوس ہوا کہ اس کی ماں کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ڈھلک رہا ہے۔ اس نے چونک کر چہرہ اٹھایا تھا۔ 

خوفزدہ ہو کر ان کا زرد چہرہ تھپتھپایا۔۔ ہذیانی سے انداز میں انہیں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔ 

”ماں۔۔ !“ 

وہ مسلسل انہیں آوازیں دیتا اٹھانے کی کوششیں کررہا تھا لیکن اب حبیبہ کبھی بھی جواب نہ دینے والی تھیں۔ اور یہ خیال۔۔ یہ ایک خیال کہ وہ ان کی آواز کبھی دوبارہ نہ سن پاۓ گا، اس کی روخ قبض کررہا تھا۔ 

”ماں۔۔۔ ماں اٹھیں ماں۔۔ آپ مجھے چھوڑ کر ایسے نہیں جاسکتیں۔۔ اٹھیں۔۔ “ 

اس نے اب کہ انہیں زور سے جھنجھوڑا لیکن جواب ندارد۔۔ وہ اب اسے کبھی بھی جواب نہ دینے والی تھیں۔ اس کے پیروں سے یکدم جان ختم ہوٸ تو وہ بے ساختہ گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھا۔ اب کہ وہ بالکل ہلکی ہلکی سی آواز میں انہیں پکار رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے ساتھ اس کی بھی روح پرواز کر گٸ ہو۔ سب جیسے مٹی کا ڈھیر بن گیا تھا۔۔ سب جیسے ختم ہو کر برفانی تودے میں تبدیل ہوگیا تھا۔

اس برف سی رات میں معاذ احمد شعروای کی دنیا گویا راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگٸ تھی۔ 

بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ (سورہ بقرہ) 

پھر اسے کچھ یاد نہ پڑتا تھا کہ وہ کدھر کو جارہا ہے۔ اس کے قدم سڑک کے اندر کھبے کٸ کانٹوں پر آۓ، کٸ نوکیلے پتھروں نے اس کے پیروں کو زخمی کیا، اور کٸ باریک جانوروں نے اسے کاٹ کھایا لیکن اسے اب کسی چیز کا کوٸ اثر نہیں ہورہا تھا۔ معاذ احمد سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی حدود سے کہیں بہت دور نکل گیا تھا۔ 

ماں کو وہ دو دن پہلے ہی قبروستان میں دفنا چکا تھا۔ ان کی آخری رسومات کے لیۓ وہ پیدل بھاگتا ہوا دادا کے گھر پہنچا، لیکن کسی نے بھی اس کے لیۓ دروازہ نہ کھولا۔۔ وہ بجاتا رہا۔۔ وہ ان سے بھیک مانگتا رہا لیکن اس رات اسے کوٸ بھیک نہیں دی گٸ۔ اس کے ننھیال میں محض اس کی ایک خالہ اور نانی تھیں۔ اس نے جیسے تیسے کر کے ان تک  یہ خبر پہنچاٸ اور پھر اسپتال کے ٹھنڈے فرش پر اکڑوں بیٹھا وہ ان کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ وہ آٸیں۔۔ اسے اپنے ساتھ لپٹا لپٹا کر روٸیں لیکن وہ نہیں رویا۔۔ اسے کسی بات پر رونا نہیں آرہا تھا۔ اس کی زندگی حبیبہ کی زندگی کے ساتھ ہی سلب کرلی گٸ تھی۔ 

نانی اور خالہ اسے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر تھیں۔ وہ حبیبہ کو کھو چکی تھیں لیکن وہ معاذ کو نہیں کھونا چاہتی تھیں۔ وہ بھی چپ چاپ ان کے ساتھ چلا گیا۔ لیکن اگلے ہی دن فجر میں وہ ان کے گھر سے نکل آیا۔ اور پھر بنا کسی سمت کے کٸ دنوں تک چلتا رہا۔ اسکے پیر گرد سے اٹ چکے تھے، بال بکھرے ہوۓ اور حلیہ بھکاریوں کا سا ہوگیا تھا۔ یکدم اسے چلتے چلتے احساس ہوا کہ اس کا وجود تھکن کا شکار ہے۔ وہ تیز چلتی سڑک کے کنارے بنے فٹ پاتھ پر جا بیٹھا۔ پھر آہستہ سے مٹی کی پرواہ کیۓ بغیر وہیں لیٹ گیا۔ سڑک کی چہل پہل، رات ڈھلتے ہی تھمنے لگی، اپنی اپنی روشن دکانوں کے شٹر گراتے لوگ گھروں کو جانے لگے۔ رات کے آخری پہر میں سڑک بالکل سنسان ہوگٸ۔ یکایک اسے اس اندھیرے میں کچھ سفید سا دکھا۔۔ کچھ دھواں سا۔۔ اس دھوٸیں کے پار کوٸ وجود تھا۔۔ سفید بے داغ لباس میں لپٹا وجود۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑ کر دھوٸیں کے اس پار دیکھنا چاہا۔۔ لیکن اسے سواۓ ایک ہیولے کے کچھ بھی دکھاٸ نہ دے رہا تھا۔ یکایک۔۔۔ وہ ہیولہ اس دھوٸیں کو چیرتا ہوا باہر نکلا۔ اور پھر اس سے کچھ فاصلے پر ٹھہر بھی گیا۔ 

وہ بے یقین نگاہیں پھیلاۓ انہیں دیکھے گیا۔ وہ بلاشبہ بہت جانا پہچانا سا وجود تھا۔ وہ کوٸ جانی پہچانی سی خوشبو تھی جو اس کے نتھنوں سے ٹکراٸ تھی۔ ہیولہ قدم قدم چلتا عین اس کے سامنے پہنچا۔۔ وہ سر اٹھاۓ۔۔ بنا پلکیں جھپکیں انہیں دیکھے گیا۔ گزرے کٸ دنوں میں اس نے پاگلوں کی طرح دعاٸیں کی تھیں کہ کہیں سے وہ انہیں نظر آجاٸیں۔۔ اس نے مجنون بن کر اوپر والے سے التجا کی تھی کہ ایک بار اس کی ماں کا چہرہ اسے خواب میں دکھا دے لیکن اس پر کوٸ مہربانی نہیں کی گٸ۔ وہ تڑپتا رہا۔۔ یہاں تک کہ اس نے ان کے دوبارہ نظر آنے کی امید ترک کر دی۔ اور اب جب کہ اس نے امید ترک کردی تھی تو ان کا ہیولہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔ سفید لباس میں ملبوس انتہاٸ خوبصورت سا وجود۔۔ حبیبہ کا وجود۔۔ پاکیزہ اور پرسکون۔۔ 

”آپ کہاں چلی گٸ تھیں ماں۔۔۔؟ آپ کہاں چلی گٸ ہیں۔۔؟“ 

اس کی آنکھوں سے آنسو بے ساختہ ابلنے لگے۔ کٸ دنوں کی خاموشی جیسے ٹوٹ گٸ۔ معاذ احمد اس خاموشی کے ساتھ ہی ٹوٹنے لگا تھا۔ لیکن حبیبہ خاموشی سے اسے یکھے گٸیں۔ 

”میں نے آپ کو بہت یاد کیا ماں۔۔ میں آپ کو ہر وقت یاد کرتا ہوں۔۔ “ 

وہ رو رہا تھا۔۔ تیرہ سالہ معاذ چھوٹے بچوں کی طرح رونے لگا تھا۔ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ۔ پھر اس نے گھبرا کر چہرہ اٹھایا۔ وہاں پر کوٸ ہیولہ نہ تھا۔۔ پھیلا ہوا دھواں فضا میں تحلیل ہو کر گم ہوچکا تھا۔۔ الوژن تھم چکا تھا۔ وہ اٹھا۔۔ ہذیانی انداز میں یہاں وہاں دیکھتا بھاگنے لگا کہ کسی پتھر سے بری طرح ٹکرا کر منہ کے بل گرا۔ ہاتھ اور گھٹنے پر بہت سی چوٹیں آٸیں۔۔ لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔ اسے اپنی ماں کو دیکھنا تھا۔۔ وہ انہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ وہ انہیں محسوس کرنا چاہتا تھا۔ وہ ان کی گود میں سر رکھ کر ڈھیر سارا رونا چاہتا تھا لیکن وہ کچھ بھی نہیں کرپارہا تھا۔ اس کی ماں اس سے گم ہوگٸ تھی۔ اس نے اپنی ماں کو ایک بار پھر سے کھو دیا تھا۔ وہیں سڑک کنارے بیٹھ کر اپنی پشت فٹ پاتھ سے ٹکا کر وہ اس ساری رات روتا رہا تھا۔ اسے یاد تھا کہ وہ اس ساری رات اپنی ماں کی خوشبو محسوس کرنے کے لیۓ ترستا رہا تھا۔۔ وہ اپنے ہاتھ پر سلگتے اس لمس کو آنکھوں سے لگا کر ساری رات رویا تھا۔ 

اگلے کٸ دن وہ فٹ پاتھ پر ہی بے یارو مددگار پڑا رہا۔ اس کے جسم میں کسی بھی قسم کی طاقت باقی نہ رہی تھی۔ کھانا نہ کھانے کی وجہ سے اس کی بچی کچھی طاقت کا آخرہ نکتہ بھی اس کے جسم سے گھل چکا تھا۔ وہ لاوارثوں کی طرح اسی فٹ پاتھ پر پڑا رہا۔ پھر اسے کچھ محسوس ہوا۔۔ جیسے کوٸ اسے اٹھا کر کسی گاڑی میں ڈال رہا ہے۔ کوٸ اس کا سر اب کہ اپنی گود میں رکھے اس کے خوبصورت بال سہلا رہا ہے۔ اس کے نتھنوں سے وہ عجیب سی خوشبو بھی ٹکراٸ تھی۔ تیز قسم کی خوشبو۔۔ 

اگلی رات جب اس کی بوجھل پلکیں ایک دوسرے سے جدا ہوٸیں تو اس نے دیکھا کہ کوٸ اس کے سرہانے بیٹھا ہے۔ کمرے میں ایک پل کو نگاہ دوڑا کر اس نے کچھ یاد کرنا چاہا لیکن یہ جگہ اور سامنے بیٹھا یہ شخص اس کے لیۓ بالکل اجنبی تھا۔ 

”ک۔۔ کون ہو تم۔۔؟“ 

بہت نحیف سی آواز نکلی تھی اس کی۔۔ بہت زور لگانے کے بعد بھی بہت کمزوری دکھاٸ تھی اس نے۔ سامنے بیٹھے شخص نے سر اٹھایا۔ اس کی سرمٸ آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ مسکرادیا۔ پھر آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر آۓ بالوں کو سہلانے کے لیۓ ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس نے اپنا چہرہ پیچھے کرلیا۔ اس عمر رسیدہ شخص کا ہاتھ گویا ہوا ہی میں معلق رہ گیا تھا۔ پھر اس نے برا مانے بغیر اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔ اسے محبت سے دیکھا۔ 

”تم اس دنیا کے ستاۓ ہوۓ لگتے تھے تو میں تمہیں اپنے ساتھ لے آیا۔ یہاں روح کی مرمت کا کام تو نہیں کیا جاتا البتہ، یہاں انسان کو مکمل ضروریات سے نوازا جاتا ہے۔ تمہیں بھی نوازا جاۓ گا۔۔ اگر جو تمہاری رضا اس سب میں شامل ہوٸ تو۔۔“ 

وہ ماٶف ہوتے ذہن کے ساتھ ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرہا تھا مگر وہ فی الحال کچھ بھی نہیں سمجھ پارہا تھا۔ 

”میرے لیۓ کام کروگے۔۔؟“ 

لمحے بھر کو آگے ہو کر اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔ 

”ک۔۔ کیسا کام۔۔ اور تم ہو کون۔۔؟“ 

”میں سطان میر ہوں۔ یہ میرا علاقہ ہے اور میں اس علاقے کا باس ہوں۔۔“ 

ان کے اس جملے پر اس کی آنکھیں لمحے بھر کو سکڑی تھیں۔ وہ ہی لوگوں کو جانچنے کی عادت۔۔ 

”کس قسم کے باس۔۔؟ اور مجھے کیوں لاۓ ہو یہاں۔۔؟ مجھ سے کیا کام تمہیں۔۔؟“ 

اس نے اگلے ہی لمحے خود پر سے چادر کو دور پھینکا تھا۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ اس کی سیاہ، زیرک آنکھیں معاذ پر جمی تھیں۔ 

”بھتہ وصولو گے۔۔؟“ 

”دماغ خراب ہے کیا تمہارا۔۔؟ میں ایسا لڑکا نہیں ہوں۔۔ م۔۔ میں ایسا کوٸ کام نہیں کرونگا۔۔“ 

وہ طیش سے یکدم اٹھ بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی آگے بڑھ کر بیڈ سے پیر اتارے۔ سلطان نے اسے دونوں کندھوں سے تھاما تو وہ لمحے بھر کو خوفزدہ ہوا۔۔ 

”یہ دنیا بہت ظالم ہے لڑکے۔۔ اور اس دنیا کے باسی اس سے بھی کہیں زیادہ ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں۔ تم جیسے معصوم کو یہ دنیا بیچ کھاۓ گی۔ اسی لیۓ میرے لیۓ کام کرو۔ عیش کروگے۔۔“ 

اس نے اس کے دونوں ہاتھ جھڑکے۔۔ 

”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے لیۓ کام کرونگا۔۔!“ 

”بالکل۔۔ کیونکہ تم بہت کچھ کھو کر آۓ ہو۔ تم نے اپنی ماں کو کھویا ہے۔۔ تم نے اسے اپنوں کے ہاتھوں ہی کھودیا۔۔ یہ مجرم لوگ۔ یہ مجرم کیسے بنتے ہیں۔۔؟ یہ دنیا کے ستاۓ ہوۓ ہوتے ہیں، شدید سرد راتوں میں سڑکوں پر بھوک کی شدت سے مررہے ہوتے ہیں، اپنے بچوں کو بھوکا سوتا دیکھ کر ہی تو یہ اپنے ہاتھ میں اس بندوق کو لیتے ہیں۔ یہاں کبھی کوٸ اپنے شوق سے نہیں آیا۔ یہاں ہر ایک کو اس کی مجبوری لے کر آٸ ہے۔ بھوک لے کر آٸ ہے۔ موت لے کر آٸ ہے۔ محبت لے کر آٸ ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم جیسے شریف لوگ ہر طرح سے بخشے ہوۓ ہو۔ یقیناً تم لوگوں کے فیصلوں کے جواب میں جو مجرم بنے ہیں ان کا حساب تمہیں دینا ہی ہوگا۔۔“ 

وہ ان کی پچھلی باتوں پر ساکت ہوا تھا۔ اسے کیسے پتہ چلا اس کی ماں کے بارے میں۔ وہ ایک پل کو پھر سے خوفزدہ ہوا تھا۔ اسے یہاں سے دور چلے جانا چاہیۓ۔۔ دور۔۔ بہت بہت دور۔۔ 

”ت۔۔ تمہیں کیسے پتہ میری ماں کے بارے میں۔۔؟“

”تم نیم بیہوشی کی حالت میں اسی قسم کی باتیں کررہے تھے۔ میں نے دو جمع دو کر کے بات سمجھ لی۔ “ 

اس کے کندھے اچکا کر کہنے پر وہ یکدم بیڈ سے اٹھا تھا۔ سلطان بھی اس کے ساتھ ہی اٹھا۔ اسی پل دروازے میں ایک ملازم ٹرالی لیۓ اندر داخل ہوا تھا۔ لیکن ان دونوں میں سے کوٸ بھی اس طرف کو متوجہ نہیں تھا۔ 

”یہ دنیا اچھاٸ کی دنیا بھی ہے۔ یہاں پر زندہ رہنے کے لیۓ ہمیشہ درندگی اختیار کرنا ضروری نہیں۔ میں تمہارے لیۓ کام نہیں کرونگا۔۔ مجھے کوٸ پرواہ نہیں کسی اور انسان کی۔۔“ 

اس نے ساتھ رکھے ٹیبل کو لڑکھڑاتے قدموں سے ٹھو کر ماری اور باہر نکلتا گیا۔ دروازے میں ایستادہ خاص ملازم لمحے بھر کو اس کے پیچھے لپکا لیکن پھر سلطان کی آواز پر وہیں ٹھہر بھی گیا۔۔ 

”آپ اسے ایسے کیسے آزاد کرسکتے ہیں۔۔؟“ 

”آجاۓ گا وہ۔۔ ضرور آۓ گا۔۔ بھوک اور سرد راتیں بہت ظالم ہوتی ہیں شاہی۔۔ یہ جلد ہی پلٹے گا۔۔“ 

اور پھر اگلی ہی رات جب سڑک پر بیٹھے بیٹھے اس کے پیٹ میں بھوک سے بل پڑنے لگے تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ دنیا کیسے اتنی ظالم ہوتی ہے۔ اس نے چند ایک دکانوں پر جا کر کام کرنے کی پیشکش کی لیکن اس کا حلیہ دیکھ کر اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا۔ وہ ان کے دروازے سے لگا بھوک کی شدت سے اب کہ کھانے کے لیۓ بھیک مانگنے لگا تھا، لیکن اس پر رحم نہیں کیا گیا۔ وہ رات برف کی رات تھی۔ جسم پر ایک عدد جینز اور بٹن شرٹ ہونے کے باعث اب کے اس کا سارا جسم گویا جم رہا تھا۔ اس نے وہ پوری رات فٹ پاتھ پر بیٹھے گزاری تھی۔ اگلے دن وہ اس بڑی سی حویلی کا دروازہ پار کرتے ہوۓ لڑکھڑا رہا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی یہاں چلا آیا تھا۔۔ چمکتے لاٶنج ہی میں اسے سلطان مل گیا تھا۔ وہ صوفے پر براجمان ہاتھ میں کوٸ فاٸل لیۓ ورق گردانی کررہا تھا۔ ساتھ اس کا وہ خاص ملازم بھی کھڑا تھا۔ آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا اور پھر اپنے مخصوص انداز میں مسکرادیا۔۔ 

وہ لرزتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھا۔۔ عین ان کے سامنے بیٹھا۔۔ آنکھیں نہیں اٹھاٸیں۔۔ اپنی عزت نفس اس کے قدموں میں جو رکھ دی تھی بھلا آنکھیں کیسے اٹھا سکتا تھا وہ اب کہ۔ لوگ کہتے تھے بھوک تہذیب بھلا دیتی ہے۔ لیکن کیا میں تمہیں بتاٶں کے بھوک کی شدت انسان کو سب کچھ بھلا دیتی ہے۔ اسے بھی سب بھول گیا تھا۔ یاد تھا تو صرف اتنا کہ وہ کٸ دنوں کا بھوکا تھا اور اسے کھانا کھانا تھا۔۔ بہت سارا کھانا۔۔ 

اس کے سامنے کھانا لا کر رکھا گیا تو وہ جانوروں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑا۔ اسے آج اندازہ ہوا تھا کہ بھوک کتنی ظالم ہوتی ہے۔ کیسے انسان کو کیا سے کیا بنادیتی ہے۔ سلطان خاموشی سے اسے کھاتے ہوۓ دیکھتا رہا۔ وہ اس پر نہیں ہنسا۔۔ نہ ہی اس کا مزاق اڑایا۔۔ نہ اسے اس کی کچلی عزت نفس کا طعنہ دیا۔۔ شاید وہ بھی کبھی کسی کی حویلی میں اسی طرح بھوکا داخل ہوا تھا۔ 

پھر جب وہ کھانا کھا چکا تو ان کی جانب دیکھا۔ آنکھوں میں ٹھنڈے گوشت کا سا تاثر تھا۔ ایسے جیسے وہ کوٸ فیصلہ کر کے آیا ہو۔ سلطان آگے ہو کر بیٹھا۔ 

”میں کام کرونگا تمہارے لیۓ۔۔“ 

”یہ ہوٸ ناں بات۔۔“ 

وہ جیسے اس کے فیصلے پر بے حد خوش ہوا تھا۔۔ ساتھ ٹیبل پر رکھی ریوالور اس کی جانب بڑھاٸ۔ اس نے ایک نگاہ اٹھا کر سلطان کو دیکھا اور پھر اس ریوالور کو تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی ہلکی سی لرزش سلطان بخوبی دیکھ رہا تھا۔ 

”تمہیں اسے چلانا شاہی سکھادے گا۔ بلکہ وہ تمہیں ہر کام سکھادے گا۔ تم نے بس جو فیصلہ کرلیا ہے اس پر قاٸم رہنا۔ کیونکہ یہ کام۔۔ یہ ایک جہنم کی مانند ہے۔۔ جو اس میں ایک بار داخل ہوتا ہے وہ دوبارہ کبھی یہاں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ کبھی بھی نہیں۔ اور جو۔۔ یہاں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، آخرکار مارے جاتے ہیں“ 

اس کی ریڑھ کی ہڈی اس آخری جملے پر سرسرا اٹھی تھی۔ لیکن پھر اس نے پسینے سے تربتر ہوتے ہاتھوں سے ریوالور کس کر تھاما۔۔ آنکھوں کے پار بہت سے منظر گردش کرنے لگے۔ اس کی ماں کا چہرہ، سورہ کہف، اپنے نیک اساتذہ کرام، نمازیں، قرآن کی آیتیں۔۔ سب کچھ اس کی نگاہوں کے سامنے تھا۔۔ وہ چاہتا تو اس ریوالور کو چھوڑ دیتا لیکن وہ اسے نہیں چھوڑ سکا۔۔ اس نے دل مضبوط کیا اور اسے لے کر ساتھ ہی اٹھا۔ اس نے یہاں سے نکلتے ہی اپنا سب کچھ اب کہ سلطان کے پاس رہن رکھوادیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے ساری نصیحتوں، سارے انذار اور ساری خوشخبریوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس نے قرآن تھامنے والے ہاتھوں میں آج ریوالور تھام رکھا تھا۔ وہ لڑکا اس برف سی دنیا میں اب کہ واقعی برف بننے لگا تھا۔ ہاں اس نے قرآن چھوڑ دیا تھا۔۔ اور اسے چھوڑتے ہی۔۔  اس نے اپنا ایک حصہ بھی اسی کے ساتھ کہیں کھو دیا تھا۔ حبیبہ کا معاذ اب کہ حبیبہ کا معاذ رہا ہی نہیں تھا۔ یہ تو اب کہ کوٸ اور لڑکا تھا۔ جرم کی دنیا کا ایک اور شکار۔۔ معاذ شعروای۔۔۔! 

لاٶنج میں سب گھر والے دم سادھے بیٹھے تھے۔ رابیل یک ٹک عابد کو دیکھے گٸ۔ کتنی آسانی سے انہوں نے اس کے رشتے کے لیۓ ہامی بھر لی تھی۔ کیا وہ ان پر اس قدر گہرا بوجھ تھی۔۔ کیا واقعی۔ ! اسے اس وقت رونا بھی نہیں آرہا تھا۔۔ وہ تو بس ان کے ایک ہی فیصلے سے گویا خاموش ہوگٸ تھی۔ دوسری جانب پھپھو اب تک برف ہوٸیں وقار کی جانب دیکھ رہی تھیں۔ 

”آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے کہ آپ میرے بیٹے کی مانگ پر نظر رکھ سکتے ہیں۔۔؟“ 

انہیں جیسے یکدم ہی ہوش آیا تھا۔ وقار نے سرخ نگاہیں ان پر جماٸیں۔۔ 

”تم یہ رشتے توڑنے اور جوڑنے کی دھمکیوں سے اگر باز آجاتیں تو آج یہ نوبت ہر گز نہیں آنی تھی۔ ارے شرم کرو تھوڑی سی۔۔ اس بچی کا حال کیا کردیا ہے تم نے۔۔! اس نے کوٸ گناہ نہیں کیا۔۔ نہ ہی کسی کو اپنے اس عمل سے تکلیف پہنچاٸ ہے۔ پھر بھی تم نے اسے کس قدر اس سب میں گھسیٹا ہے۔ کیوں۔۔؟ صرف اور صرف اپنی انا کی تسکین کے لیۓ۔۔“ 

”وہ میری ہونے والی بہو ہے۔ میں اس کے ساتھ جو بھی کروں۔۔“ 

وہ تڑخ کر بولی تھیں۔ لیکن اب کہ انہیں دیا جانے والا جواب وقار نے نہیں عابد نے دیا تھا۔۔ 

”ایسے کیسے تم جو چاہو گی کروگی میری بیٹی کے ساتھ صاٸمہ۔۔! تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے ہم سب کو اپنے رویے کی وجہ سے کب سے سولی پر لٹکا رکھا ہے۔۔!“ 

ان کی بات پر پہلی بار پھپھو کو حیرت ہوٸ تھی۔ 

”اسی لیۓ تم رابیل کے قابل نہیں ہو۔ ہماری بچی بہت حساس ہے۔ تم جیسے کرخت لوگ اس کے لاٸق نہیں ہیں۔ جو اپنی انا کو ہی جان سے پیارے رشتوں کے لیۓ خاموش نہ کرواسکتے ہوں ان سے بھلا کسی اچھاٸ کی امید کی بھی کیسے جا سکتی ہے۔۔!“ 

وقار نے تو ان پر کوٸ ادھار ہی نہ چھوڑا تھا۔ رابیل ان سب کے چہرے دھواں دھواں ہو کر دیکھ رہی تھی۔ یہ کیا ہورہا تھا۔۔ یہ سب کیا ہوتا جارہا تھا۔ پھپھو کو تو اس طعنے پر کوٸ گویا پتنگے ہی لگ گۓ تھے۔۔ 

”اور آپ بھاٸ صاحب۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کا وہ معاذ رابیل سے نکاح کرے گا۔۔! وہ۔۔ جسے ہم سب کی شکلوں تک سے نفرت ہے۔ وہ نکاح کرے گا اس گھر کی بچی سے۔۔“ 

آخر میں سلگ کر مسکراٸ تھیں۔ جیسے بہت بڑے دام میں پھنسایا ہو انہوں نے وقار کو۔ لیکن دوسری طرف وہ اسی سکون سے دیکھتے رہے تھے ان کو۔۔ 

”بالکل۔۔ وہ نکاح کرے گا اس گھر کی بچی سے۔ ضرور کرے گا۔۔ کیونکہ وہ صاٸمہ کا نہیں۔۔ حبیبہ کا بیٹا ہے۔ وہ ارحم نہیں جو اپنے اوپر لوگوں کی مرضی مسلط کرلے۔ وہ معاذ ہے۔۔ جو لوگوں کو کبھی بھی اتنی اجازت نہیں دیتا کہ وہ آٸیں اور اس کی زندگی پر حکمرانی کریں۔۔“ 

اور اسی پہر وہ داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔ ایک پل کو سب کی گردنیں اس کی جانب گھومیں۔ رابیل نے بھی گیلی گیلی آنکھوں سے اس جانب کو دیکھا تھا۔ وہ عام سے لباس میں ملبوس، ماتھے پر گرے بال لیۓ، خاموشی سے وہیں ٹھہر گیا تھا۔ سب جیسے لمحے بھر کو تھم گیا تھا۔ پھر وہ آگے بڑھا۔۔ بابا کو ایک لمحے کے لیۓ دیکھا۔ پھر عابد کو۔۔ اور پھر سب سے آخر میں رابیل کو۔۔ آج اگر جو وہ انکار کر دے گا تو اس میں اور صاٸمہ میں کوٸ فرق نہیں رہ جاۓ گا۔۔ آج اگر جو اس نے انہیں جیتنے دے دیا تو زندگی کے اگلے کٸ لمحوں تک وہ رابیل کو اپنے لفظوں سے زخمی کرنے والی تھیں۔ وہ حبیبہ کو نہیں بچا سکا تھا۔۔ لیکن وہ رابیل کو بچانا چاہتا تھا۔ وہ اسے ان سب سے واقعی بچانا چاہتا تھا۔۔ کیوں۔۔ یہ تو اسے خود بھی نہیں پتہ تھا۔ 

”کیا تمہیں کوٸ اعتراض ہے بیٹا۔۔؟“ 

اب کہ پوچھنے والے زاہد چچا تھے۔ اس نے گہرا سانس لے کر ان کی جانب دیکھا اور پھر آہستہ سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ یہاں تک پہنچنے پر وہ بے یقین ضرور تھا لیکن اگر ایسا تھا تو ایسے ہی سہی۔۔ 

”مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔۔“ 

اپنے مخصوص انداز میں آرام سے کہہ کر اس نے بہت سی رکی سانسیں بحال کی تھیں۔ بہت سی چلتی سانسیں روکی تھیں۔ پھپھو اور ارحم کا تو مانو سانس ہی خشک ہو کر رہ گیا تھا۔ ارحم نے بے چینی سے ماں کو دیکھا لیکن فی الحال وہ معاذ کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھیں۔ لیکن اب وہ بھی کچھ نہیں کرسکتی تھیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پیر پر کلہاڑی ماری تھی۔ ان کے پاس کسی کو بھی مجرم ٹھہرانے کا کوٸ حق باقی رہا ہی نہیں تھا۔ 

اور پھر اگلے ہی پل مولوی صاحب کی آمد پر ان کا نکاح کردیا گیا۔ ان کا نکاح واقعی ہورہا تھا۔۔ سننے والے کانوں اور دیکھنے والی آنکھوں کو یقین نہ آتا تھا۔ اس نے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس عام سے لباس میں ”قبول ہے“ کہا اور پھر وہ وہاں رکی ہی نہیں۔ اپنے کمرے میں چلی آٸ۔ معاذ جو کہ بالکل چپ بیٹھا تھا ایک پل کو نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسے اس سمے بہت کمزور لگی تھی۔ اس سے نگاہ ہٹا کر اس نے بابا کی جانب دیکھا تھا۔ ان سے تو خیر وہ بعد میں بات کرنے والا تھا لیکن ان کے چہرے پر رقصاں مسکراہٹ کو دیکھ کر اسے لمحے بھر کے لیۓ ان پر بے تحاشہ پیار آیا تھا۔ جو وہ ایک عرصے سے چاہتے تھے وہ آج اس قدر آناً فاناً ہوگیا تھا کہ انہیں خود بھی گویا اپنے اس فعل پر یقین نہیں آرہا تھا۔ نکاح ہوتے ہی وہ عابد کی جانب بڑھے۔ انہیں بھینچ کر گلے لگایا۔ عابد کی آنکھوں میں چمکتی ہلکی سی نمی کو معاذ نے بغور دیکھا تھا۔ ساتھ ہی اس نے رامین کو دیکھا جو اسی کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ وہ بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا۔ 

”آپ کا بہت بہت شکریہ معاذ بیٹا۔۔ آپ نے ہماری عزت رکھی ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔۔“ 

بھراٸ سی آواز میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر وہ اسے دعا دیتیں پلٹیں تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔ اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس قسم کا تاثر دینا چاہیۓ۔ عابد اب کہ وقار سے الگ ہوۓ ان سے دھیمی سی آواز میں کچھ کہہ رہے تھے۔ شاید یہ کہ وہ ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ اس نے گہرا سانس لے کر ایک نگاہ پتھر بنیں پھپھو پر ڈالی اور دوسری ان کے سپوت پر۔۔ اگلے ہی لمحے بابا سے اجازت لیتا وہ پلٹ گیا۔ صاٸمہ پر تو آج جیسے پہاڑ ٹوٹ کر گرا تھا۔ اپنے غرور اور تکبر کا پہاڑ۔۔ 

اس نے باہر کی جانب بڑھتے ہوۓ ایک آخری نگاہ اس کے کمرے کے دروازے پر ڈالی تھی۔ اور پھر اسی خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ دوسری جانب رابیل خاموشی سے بیڈ کی پشت سے سر ٹکاۓ، چھت کو دیکھ رہی تھی۔۔ خالی خالی نگاہوں کے پار سب کچھ گویا سنسان ہوگیا تھا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ارحم سے شادی ہوتے ہوتے اس کی شادی معاذ سے ہوجاۓ گی۔ کیا جو تھوڑی دیر پہلے ہوا وہ نارمل تھا۔۔؟ اگر وہ سب نارمل تھا تو پھر اسے نارمل کیوں نہیں لگ رہا تھا۔۔؟ بابا اس سے اس قدر بیزار تھے کہ لمحہ نہ لگایا معاذ کے لیۓ ہامی بھرتے ہوۓ۔ اور معاذ۔۔ اس کا ذہن ایک لمحے کو اس کی جانب بھٹکا تھا۔ 

معاذ کو تو وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہیں تھی۔ وہ اس رشتے سے خوش بھی تھا یا نہیں اسے نہیں پتہ تھا۔۔ اور اگر۔۔ اگر جو وہ اس پر مسلط کی گٸ ہو تو۔۔؟ یکدم اپنی ذات کے ارزاں ہونے کا گمان ہوا تو اس کا دل کیا بس رونے لگ جاۓ۔۔ زندگی ایسے کیسے اسے کسی کے ساتھ جوڑ سکتی تھی۔۔! یہ سب کیسے ہوسکتا تھا۔۔ اور اگر یہ ہوچکا تھا تو اسے اس سب پر یقین کیوں نہ آتا تھا۔۔! 

دکھتے سر کو اس نے ایک بار پھر سے بیڈ کی پشت سے ٹکایا اور اندر جمع ہوتی کثافت کو گہرا سانس لے کر باہر نکالا۔۔ 

اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ کر جڑ رہا تھا۔۔ اور بہت کچھ جڑ کر ٹوٹ رہا تھا۔ خاموش کہف میں اب کہ اس کے اندر کی خاموشی بھی شامل ہوگٸ تھی اور جسے وہ بخوبی محسوس کرسکتی تھی۔۔۔

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form