#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
پانچویں_قسط کا بقیہ حصہ
اگلے دن وہ کچن میں کھانا بنا رہی تھیں کہ یکایک، صاٸمہ کچن میں آناً فاناً داخل ہوٸ۔
"کیا کررہی ہو بھابھی۔۔؟ اچھا اچھا کھانا پکا رہی ہو۔۔"
اس نے ایک بار جھک کر ہانڈی میں دیکھا۔ حبیبہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔
"اچھا بھابھی تمہیں اماں بلا رہی تھیں۔ ایک بار دیکھ کر آجاٶ کیا کہہ رہی ہیں۔ "
"چلو میں آتی ہوں۔۔"
وہ سالن کی آنچ مدھم کر کے پلٹیں تو صاٸمہ نے ایک کمینی سی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں پلٹ کر دیکھا اور پھر نمک کا ڈبا کھول کر مٹھی بھر نمک سالن میں ڈال دیا۔
دوپہر کو سب کھانا کھانے ٹیبل پر بیٹھے تو یکدم ہی سب کے حلق میں انتہاٸ کڑوے سالن کے باعث پھندا لگا تھا۔ حبیبہ حیران سی کبھی ایک کو دیکھتیں اور کبھی دوسرے کو۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اور پھر فرحت بیگم نے گویا انہیں ذلیل کرنے کا کوٸ بہانہ ڈھونڈ ہی لیا۔ سب ملازمین، گھر والوں کے سامنے انہیں وہ ذلت دی کی الامان۔۔! حبیبہ خاموشی سے چہرہ جھکاۓ سنتی رہیں اور معاذ ضبط سے لب بھینچ کر بیٹھا رہا۔
اور پھر ہر زور کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا رہا۔ کبھی ان کو کسی ایک بات پر ذلیل کیا جاتا اور کبھی کسی دوسری بات پر ان کے اسلام کا مزاق اڑایا جاتا۔ حبیبہ دن بدن تھکنے لگیں۔ وہ دن بھر کوشش کرتیں کہ کوٸ بھی شکایت کا موقع فرحت یا پھر صاٸمہ کو نہ ملے لیکن ہر روز کچھ نہ کچھ ان کے کھاتے میں نکل ہی آتا تھا۔ معاذ سب کچھ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اور ایک دن جب سب خواتین کے سامنے فرحت بیگم نے حبیبہ کے گال پر تھپڑ رسید کیا تو وہ رہ نہیں سکا۔۔
اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے کیا تھا۔ ہاں۔۔ اس کا قد اب کہ حبیبہ سے دو انچ لمبا تھا۔ سرمٸ آنکھیں غصے سے رہک رہی تھیں اور مٹھی بھینچے وہ کڑے تیوروں سے فرحت کو گھور رہا تھا۔
"کیا لڑکے۔۔ تیری ہمت بھی کیسے ہوٸ میرے درمیان میں آنے کی۔۔"
"اور آپ کی ہمت کیسے ہوٸ میری ماں کو ہاتھ لگانے کی۔۔؟"
وہ ان پر چیخا تھا۔ کٸ مہینوں کا لاواہ جو اس کے اندر کسی جوالا مکھی کی طرح پک رہا تھا، پھٹ کر باہر نکلا۔
"یہ میرا گھر ہے او۔۔"
"بھاڑ میں گیا آپ کا گھر اور اس گھر کی سیاستیں۔مجھے اس سے کوٸ سروکار نہیں ہے کہ یہ کس کا گھر ہے لیکن میری ماں کو اگر آٸندہ آپ نے کبھی ذلیل کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا پھر کوٸ نہیں ہوگا۔۔"
اس نے انگلی ان کے سامنے لہرا کر گویا انہیں وارن کیا تھا۔ ایک لمحے کو ساری حویلی میں سناٹا چھا گیا۔ چلتے پھرتے لوگ رک گۓ۔ آوازیں گویا تھم گٸ تھیں۔ حبیبہ نے لرزتے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ کہنی سے تھام کر اسے روکا تھا لیکن وہ فی الحال ان کی جانب متوجہ نہیں تھا۔
"ابھی کہ ابھی میری نظروں کے سامنے سے چلے جاٶ لڑکے تم۔ نہیں تو مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔۔"
خاندان کی خواتین آس پاس براجمان تھیں اور یہ لڑکا۔۔ اس لڑکے کی ہمت بھی کیسے ہوٸ ان سے اس لہجے میں بات کرنے کی۔ نفرت سے انہوں نے معاذ کی جانب دیکھا تھا۔
"آپ سے برا کوٸ ہے بھی نہیں۔ کبھی اپنی زبان سے نکلتے لفظوں کو سنا ہے آپ نے۔۔؟ جانتی بھی ہیں کس قدر کڑوے لفظوں کی عادی ہیں آپ۔۔!!"
اس کے لفظ نہیں تھے۔ وہ کوٸ زوردار سا تمانچہ تھے، جن کا نشان اب کے فرحت اور صاٸمہ دونوں کے چہروں پر نظر آنے لگا تھا۔ حبیبہ نے اسے پیچھے کی جانب کھینچا اور پھر کوٸ بھی بات کیۓ بغیر اسے کمرے کی جانب لے آٸیں۔ کمرے میں آتے ہی اس کے گلے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔ معاذ نے بے بسی سے انہیں چپ کروایا لیکن اب جیسے سب کچھ اس کے ہاتھ سے بھی نکلتا جارہا تھا۔ رات دیر تک تھک ہارنے کے بعد وقار کمرے میں آۓ تو دیکھا حبیبہ سو رہی ہیں اور معاذ اپنے کمرے میں سونے کے بجاۓ ان کا ہاتھ تھامے بیڈ کے سرہانے سر ٹکاۓ سورہا ہے۔ وہ ان دونوں کو مسکرا کر دیکھتے آگے آۓ اور آہستہ سے بیڈ پر لیٹ کر دوسری جانب کروٹ لے لی۔ پھر انہیں آدھی رات کو کسی کی تیز سانسوں کی آواز محسوس ہوٸ تھی۔ انہوں نے چونک کر چہرہ پیچھے کی جانب گھمایا تو دیکھا کہ حبیبہ گہرے گہرے سانس لیتیں، اپنا سینہ مسل رہی تھیں۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھے۔ ان کی پیٹھ مسلی۔
لیکن پھر ہر رات انہیں اس طرح سے ہونے لگا۔ وہ دن بدن کمزور ہونے لگی تھیں۔ ان ہی دنوں دادا کا بھی انتقال ہوا تو ساری حویلی ہی کچھ عرصے کے لیۓ سناٹے میں ڈوب گٸ۔ لیکن پھر ایک دن وہ ہوا جس نے معاذ اور وقار دونوں کی زندگیوں کو گہری اندھیر نگری میں دھکیل دیا تھا۔۔ ! اور جس سے چاہ کر بھی وہ دونوں باہر نہیں نکل پاۓ تھے۔۔
اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔ کھڑکی کے راستے، چمکیلی سی دھوپ اب کے زاویہ بدلنے پر سیدھا اس کے چہرے پر گر رہی تھی۔ اس نے ہاتھ نگاہوں کے سامنے کر کے بے ساختہ اس گرتی دھوپ کا راستہ روکا تھا۔ پھر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا موباٸل اٹھا کر دیکھا۔ نو بج رہے تھے۔ پہلے تو اسے رات کو نیند دیر سے آٸ تھی اور اوپر سے اب یہ دھوپ۔۔!
اس نے دونوں ہاتھوں کے سہارے اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو کندھوں میں یکدم ایک درد سا اترا۔ آہ۔۔ اس کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی تھی۔ ان تھوڑے دنوں ہی میں اس نے لوگوں کی اتنی باتیں سن لی تھیں کہ، نہ صرف ذہنی بلکہ اب اس پر جسمانی اثر بھی ہونے لگا تھا۔ سونے کے بعد بھی یوں لگ رہا تھا گویا وہ ساری رات جاگتی رہی ہو۔ اس کی تھکن گہری ہونے لگی تھی۔
کندھوں پر بکھرے بالوں کو اس نے ہاتھ سے سمیٹا اور بستر سے باہر نکلی۔ اسی پہر، ردا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آٸ تھی۔ اس نے بے ساختہ پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔ اسے ردا کا چہرہ حد درجہ سنجیدہ لگا۔ سنجیدہ اور ذرا سفید۔۔
"کیا ہوا ہے ردا۔۔۔؟"
اس نے بنا پلکیں جھپکاۓ سوال کیا۔
"پھپھو باہر بلا رہی ہیں آپ کو رابی۔ وہ یہ رشتہ ختم کررہی ہیں۔"
بال اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر ایک بار پھر سے کندھوں پر بکھر چکے تھے۔ اس کے شانوں پر یکدم جیسے بہت سا بوجھ آن گرا۔ آنکھوں میں بے ساختہ پانی بھر گیا۔۔
"کیا۔۔! لیکن۔۔ وہ ایسے کیسے کرسکتی ہیں۔۔؟"
کیا تاریخ خود کو ایک بار پھر سے دہرا رہی تھی۔ کیا وہ بھی حبیبہ کی طرح ذلیل ہونے والی تھی۔۔ کیا اسے بھی اسی اذیت سے گزرنا تھا۔۔؟ کیا یہ گھر ایک بار پھر سے وہی گزرے ایام دیکھنے والا تھا۔۔!
"وہ ایسا کررہی ہیں اور اس بار۔۔ اس بار وہ اکیلی نہیں آٸ ہیں رابی۔ اس بار وہ خاندان کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر آٸ ہیں۔ اس بار وہ بابا کی عزت کو ہرگز بھی بخشنے کے لیۓ تیار نہیں ہیں۔۔"
ردا کی آواز آخر میں لرزی تو وہ یکدم اس کے قریب آٸ۔ اسے دونوں بازوٶں سے پکڑ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
"ردا۔۔ تم۔۔ تم تو میرے ساتھ ہو ناں۔۔! میں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے ردا، پھر پھپھو کیوں ایسے کررہی ہیں۔؟ وہ کیوں میرا تماشہ بنا رہی ہیں ہر جگہ۔۔!"
دو آنسو لڑھک کر اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔
ردا نے بے ساختہ اس کے ہاتھ جھٹکے۔ پرشکوہ نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھا۔ رابیل کی پیشانی پر یکدم پسینہ چمکا تھا۔۔
"آپ نے اپنے ساتھ ہم سب کو آزماٸش میں ڈالا ہے رابی۔ لیکن اس آزماٸش کے نتاٸج صرف آپ کو ہی نہیں بھگتنے ہونگے۔ ان سب نتاٸج کا سامنہ ہم سب کو بھی کرنا ہوگا۔ اور اگر بابا کو آپ کی وجہ سے کچھ بھی ہوا تو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔"
وہ کہہ کر پہلے پیچھے ہٹی اور پھر آخر میں اس پر ایک نگاہ ڈال کر دروازہ کھولے باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ رابیل کے فضا میں معلق ہاتھ بے دم سے پہلوٶں میں آگرے تھے۔ آنسو یکدم ٹھہر گۓ اور سب کچھ گویا رک سا گیا۔
کٸ سالوں پہلے جب قریش مکہ نے دیکھا کہ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کا دین کسی بھی کوشش سے ناکام نہیں ہورہا تو وہ ایک دن ابو طالب کے پاس دھمکی دینے آۓ تھے۔ بہت سے سردارانِ قریش اس گھر میں داخل ہوۓ، باہر ریت کے گرم تھپیڑے ہر ایک کا استقبال کیا کرتے تھے۔
اس نے چہرہ کے گرد دوپٹہ آہستہ سے لپیٹا۔ اب کہ اس کی آنکھیں صرف گلابی تھیں۔
"ابو طالب! آپ ہم میں عمر رسیدہ ہیں اور شرف و منزلت رکھتے ہیں۔ ہم نے آپ سے عرض کی تھی کہ اپنے بھتیجے کو منع کریں لیکن آپ نے منع نہیں کیا۔ بخدا ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے باپ دادا کو برا بھلا کہا جاۓ۔ لہذا آپ یا تو اسے منع کریں یا پھر ہم اس کے مقابلے پر نکل آٸیں اور تب تک نہ ٹلیں گے جب تک ایک فریق کا خاتمہ نہ ہوجاۓ۔۔"
ابوطلب کو ان باتوں سے یکدم بہت ہی بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔ قریش کی دشمنی سے وہ بخوبی واقف تھے۔ وہ ان کے حوالے اپنے بھتیجے کو نہیں کرسکتے تھے۔ سو انہوں نے سرداروں کا مطالبہ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کے سامنے رکھ دیا۔
اس نے ایک اور تہہ چڑھا کر خود کا عکس آٸینے میں دیکھا تھا۔ گلابی سی نمی میں اب کہ ہلکی سی سرخی گھلنے لگی تھی۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے اور دل۔۔ دل آہستہ آہستہ سکڑ کر پھیل رہا تھا لیکن وہ اپنے دوپٹے کو یونہی لپیٹتی رہی۔
یَا عَمَّ! وَاللّٰہِ ۔۔ لَو وَضَعُوا الشَّمسَ فِی یَمِینِی۔۔
چچا جان! واللہ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج۔۔
وَ القَمَرَ فِی یَسَارِی
اور دوسرے پر چاند رکھ دیں۔۔
اس نے کمرے سے قدم باہر نکالے۔ قریشِ مکہ کے سامنے ڈٹنا آسان نہیں تھا۔ لیکن وہ اپنے حجاب کو بھی چھوڑ نہیں سکتی تھی۔ تو اس نے انہی الفاظ کو دہرانے کا فیصلہ کیا جو کٸ دہاٸیوں پہلے اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرماۓ تھے۔
عَلیٰ اَن اَترُکَ ھٰذَ الاَمرَ، حَتّٰی یُظھِرَہُ اللّٰہُ اَو اَھلِکَ فِیہِ، مَا تَرَکتُہُ
تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس (دین) کو غالب کردے یا میں اسی راہ میں ہلاک ہوجاٶں۔۔
وہ آہستہ سے ان کے عین سامنے صوفے پر آ کر بیٹھی۔ ایک نظر حاضرین پر ڈالی۔ بابا اور زاہد چچا ساتھ ہی بیٹھے تھے، دوسری جانب صوفے پر رامین اور زرتاشہ براجمان تھیں۔ صوفوں کے پیچھے اقبال، ردا اور شزا کھڑے تھے۔ اس نے ذرا اور آگے نگاہ بڑھاٸ تو اب کہ وقار کا چہرہ نظر آیا۔ وہ فکر مندی سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ ان کے صوفے کے پیچھے خاندان کی چند خواتین اور کچھ مرد حضرات بھی تھے۔ اس نے تھوک نگل کر پھپھو کو دیکھا جن کے بالکل ساتھ ہی ارحم بھی بیٹھا تھا۔
"میں یہ آخری موقع تمہیں دے رہی ہوں رابیل۔ میں دل سے چاہتی ہوں کہ تمہارا اور ارحم کا رشتہ ہوجاۓ لیکن تمہارے اس دوپٹے نے سارا کام خراب کردیا۔ تم اسے چھوڑ دو نہیں تو میں اس رشتے کو ختم کرنے میں ایک پل بھی نہیں لگاٶنگی۔۔"
رعونت و تمکنت سے پر لہجے میں کہہ کر وہ لمحے بھر کے لیۓ اپنی پشت صوفے سے ٹکا کر بیٹھیں۔ چہرے پر اطمینان واضح طور پر جھلک رہا تھا۔ وہ یقیناً رابیل کو آگے کنواں اور پیچھے کھاٸ والے حصے میں معلق کر گٸ تھیں۔ اس نے ایک نگاہ اٹھا کر عابد کی جانب دیکھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ ملتجی نگاہوں سے۔۔ رابی جانتی تھی کہ یہ رشتہ ان کے لیۓ کتنا اہم تھا۔ لیکن کچھ تھا جو اس سے بھی زیادہ اہم تھا۔ اس نے دل مضبوط کیا اور پھر نگاہوں کا زاویہ پھپھو کی جانب پھیرا۔ اسے حبیبہ نہیں بننا تھا۔ اسے رابیل بننا تھا۔ اسے اب کہ یہ روایت ختم کرنی تھی۔ اب کہ اس ظلم و جبر کی روایت کو ختم ہوجانا چاہیۓ تھا۔
"آپ لوگ میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج رکھ دیں تب بھی میں اس سے پیچھے نہیں ہٹونگی، یہاں تک کہ اللہ اس دین کو غالب کردے یا پھر میری جان اس سب میں ہلاک ہوجاۓ۔۔"
اس کی آواز آج لرز نہیں رہی تھی۔ اس کی آواز آج مضبوط تھی۔ اگر اس کی جان اس سب میں چلی جاۓ گی تب بھی اسے اس کا غم نہیں تھا۔ ایسا تھا تو پھر ایسے ہی سہی۔ ہر دفعہ وہ پھپھو کو جیتنے نہیں دے سکتی تھی۔ ہر دفعہ اہلِ مکہ کا جیتنا ضروری نہیں ہوتا۔
ایک پل کو اس کے جواب پر سب کچھ تھم گیا تھا۔ پھپھو بے یقینی سے سیدھی ہو بیٹھیں۔
"تم جانتی ہو ناں اس بات کا مطلب۔۔"
"جی پھپھو۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں اپنی ساری باتوں کے مطالب۔۔"
اور گھر والوں نے آج رابیل کا بالکل نیا روپ دیکھا تھا۔ سپاٹ، سنجیدہ اور ضدی۔۔
"تمہیں اندازہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔۔؟"
"کیا میں ایک بار پھر سے کہوں پھپھو۔۔؟"
اس نے ایک نگاہ ارحم پر ڈالی تھی۔ وہ بھی بے یقینی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"میں رشتہ ابھی کہ ابھی ختم کر کے چلی جاٶنگی۔۔!"
وہ جیسے اسے باور کروارہی تھیں کہ یہ اس کا آخری موقع ہے۔ سب نے بے چینی سے ایک ساتھ پہلو بدلا تھا۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور سانسیں رک رک کر آتی تھیں مگر اب رابیل فیصلہ کر چکی تھی۔
"یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے۔ آپ نے جو کرنا ہے کریں۔۔"
"تم اپنا بہت بڑا نقصان کررہی ہو لڑکی۔۔"
"میں خود کو بہت سے بڑے نقصان سے بچا رہی ہوں پھپھو۔۔"
دھم دھم جملے صاٸمہ کے منہ پر گویا پلٹ رہے تھے۔ وہ ویسے ہی صوفے پر بیٹھی رہی۔ رابیل عابد کو ایک ہی رات نے بدل ڈالا تھا۔
"تم جانتی بھی ہو کہ اس رشتے کے ٹوٹ جانے کے بعد تمہارا کہیں بھی رشتہ نہیں ہوگا۔ لوگ تمہیں کتوں کی جگہ پر ڈال دیں گے۔ کوٸ تمہیں تو کیا تمہاری وجہ سے تمہاری بہنوں تک کو نہیں پوچھے گا۔ کیا تم ان سب کی خوشیوں کا قتل اپنے اس بے وقوفانہ فیصلے سے کرنا چاہتی ہو۔۔؟"
وہ جیسے اب کہ اس کی حالت سے حظ اٹھا رہی تھیں۔ رامین اور عابد نے لمحے بھر کو بے یقینی سے دیکھا تھا صاٸمہ کو۔ ان کی اس آخری بات کا مطلب وہ اچھے سے سمجھتے تھے۔ وہ اگر کہہ رہی تھیں کہ رابیل کا رشتہ کہیں نہیں ہوگا تو واقعی ایسا ہی ہونا تھا۔ وہ اب کہ اسے کسی کے بھی قابل نہیں چھوڑنے والی تھیں۔
"پلیز آپی ایسے آپ۔۔"
"میں بھی یہیں ہوں اور آپ بھی یہیں ہیں پھپھو۔ میں بھی انتظار کررہی ہوں اور آپ بھی انتظار کریں۔"
اس نے رامین کی بات کاٹ کر بہت سکون سے کہا تھا۔ لمحے بھر کو وہ طیش سے ابل کر آگے ہوٸیں۔
"میں تمہیں خاندان بھر میں بدنام کردونگی۔ کوٸ دوبارہ تمہارے دروازے پر تھوکے گا بھی نہیں رابیل۔ اور تم جلد ہی جان لوگی کہ میرے ہیرے جیسے بیٹے کو ٹھکرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔"
اس کی نگاہ ایک بار پھر سے ارحم پر پھسلی تھی۔ بالکل خاموش نگاہ تھی وہ۔
"مجھے بھی آپ کے اس بزدل بیٹے میں کوٸ دلچسپی نہیں پھپھو۔ مجھے ایسے کسی بھی انسان میں دلچسپی نہیں جو خود فیصلے نہ کرسکتا ہو، نہ ہی ان فیصلوں پر اسٹینڈ لے کر ڈٹ جاتا ہو۔ مجھے آپ کے بیٹے میں کوٸ دلچسپی نہیں ہے۔ آپ صدا اسے اپنے پلو سے باندھ کر رکھیں۔ کیونکہ آپ کی مسلط کی گٸ ہر وقت کے مرضی نے اس سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت تو سلب کر ہی لی ہے۔۔"
اگر وہ بولتی نہیں تھی تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ بولنا جانتی نہیں تھی۔ پھپھو کے کانوں سے اب کہ واضح طور پر دھواں نکلنے لگا تھا۔ارحم کا چہرہ بھی یکدم سرخ ہوا۔
"بکواس بند کرو اپنی۔۔"
"نہیں پھپھو، میرے خیال سے اب بہت ہوچکا ہے۔ نکل آٸیں اس مرضی مسلط کرنے کی بیماری سے آپ بھی۔ کیونکہ حکمرانوں پر جب کوٸ حکمرانی کرتا ہے تب بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ ایک عرصے تک دادی نے یہ کام کیا اور ان کے بعد اب آپ اس سب کو آگے لے کر چل رہی ہیں۔ معافی مانگ لیں ابھی کہ ابھی نہیں تو ابھی آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ جو اس دنیا کا اصل حکمران ہے وہ زمینیں کیسے الٹتا ہے انسانوں پر۔۔"
اس کا انداز آخر میں گویا انہیں تنبیہ کررہا تھا۔ پھپھو یکدم اٹھ کھڑی ہوٸیں۔ ان کے ساتھ ہی سب بھی اٹھے تھے لیکن رابیل ویسے ہی بیٹھی رہی۔ اس نے صرف چہرہ اٹھایا تھا۔۔
"میں بھی دیکھتی ہوں کہ کون کرے گا تم سے شادی۔ میں بھی دیکھتی ہوں کہ تمہارا یہ باپ اور ماں اپنے بڑھاپے کی چادر کو کہاں تک سنبھالتے ہیں۔ میں بھی دیکھتی ہوں کہ تمہارا نکاح کسی کے ساتھ ہوتا کیسے ہے۔۔! کوٸ شادی نہیں کرے گا تم سے۔۔ سب ٹھکراٸیں گے۔ دھکے دیں گے اور گالیوں سے نوازیں گے لیکن اب کوٸ تم سے شادی ہر گز نہیں کرے گا۔۔ میں ایسا کرنے ہی نہیں دونگی کسی کو۔"
اس کی نسوانیت پر بہت گہرا وار کیا تھا صاٸمہ نے۔ یکلخت ہی اس کے سینے میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔ لمحے بھر کو اپنے ماں باپ کا چہرہ نگاہوں کے سامنے گھوما تو اس کا دل لرز کر رہ گیا۔ یا اللہ وہ کیا کرے۔۔ وہ کہاں جاۓ۔۔ اس کی آنکھیں دھواں دھواں ہونے لگی تھیں۔
"معاذ کرے گا اس سے نکاح۔۔"
اس آواز پر سب نے وقار کی سمت دیکھا تھا۔ ہاں اب وہ وقت آگیا تھا کہ وہ اس پیاری سی لڑکی کو ان ظالم لوگوں سے آزاد کروالیتے۔ اگر رابیل کی شادی ارحم سے ہو بھی جاتی پھر بھی ساری زندگی کا روگ اس کے ساتھ رہنا تھا اور وقار اب کہ کسی اور حبیبہ کو گھٹ کر مرتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔
"کیا کہا بھاٸ صاحب آپ نے۔۔!"
سب سے پہلے صاٸمہ ہی بولی تھیں۔ باقی سب کو تو گویا رابیل سمیت ہی سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
"میں نے کہا کہ رابیل سے معاذ نکاح کرے گا۔ "
اور اس نے وقار کو آج پہلی بار اس قدر درشتی سے بولتے ہوۓ دیکھا تھا۔
"تمہیں کوٸ اعتراض ہے عابد۔۔؟"
ایک لمحے کو رک کر عابد سے اجازت چاہی۔ وہ اس قدر عجلت پر لمحے بھر کو ہکلاۓ تھے۔
"بھ۔۔ بھاغ صاحب۔۔"
"اعتراض ہے۔۔ یا ۔۔ نہیں۔۔؟"
سب لمحوں میں جیسے الٹ پلٹ ہوگیا تھا۔ وہ بے یقین نگاہوں سے بابا کو دیکھے گٸ۔ ان کی سر شکستگی سے نفی میں ہلا تھا۔ صاٸمہ کی آنکھیں گویا پھٹ کر باہر کو آنے لگیں۔ ارحم بھی اب کہ بے چینی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ان کا کوٸ اچھا خاصہ بنا بنایا کھیل انہی پر الٹ رہا ہو۔
"ٹھیک ہے پھر۔ معاذ اور رابیل کا نکاح ابھی ہوگا۔ آج ہی کی تاریخ میں۔ اسی وقت اور تم صاٸمہ۔۔"
ایک لمحے کو رک کر سرخ نگاہوں ان کا چہرہ دیکھا۔
"تم اس نکاح کا کھانا اب کھا کر ہی جانا۔۔"
اگلے ہی لمحے اب وہ فون کان سے لگاۓ کسی کو کال کررہے تھے شاید۔ سرد نگاہیں اب تک صاٸمہ پر جمی تھیں جو پتھر کا مجسمہ بنیں پھٹی پھٹی نگاہوں سے وقار کا چہرہ تک رہی تھیں۔ دوسری جانب وہ سادہ سی جینز، ٹی شرٹ میں ملبوس ریسٹورینٹ کے کچن میں کھڑا کٹنگ بورڈ پر کھٹا کھٹ پیاز کاٹ رہا تھا۔ اسکا فون بجا تو اس طرف کو متوجہ ہوا۔ کال رسیو کر کے فون کو کان اور کندھے کے درمیان اڑسا۔
"ابھی کہ ابھی دادا کے گھر پہنچو، تمہارا نکاح ہے رابیل کے ساتھ۔۔"
ٹھک۔۔ فون بند ہوچکا تھا۔ اس نے لمحے بھر کو بے یقینی سے فون کو ہاتھ میں لے کر دیکھا اور پھر بابا کا لہجہ سمجھ آنے پر وہ اسٹینڈ سے سیاہ جیکٹ جھپٹتا باہر کی جانب بھاگا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ وقار کو بھی بار بار فون ملا رہا تھا لیکن ان کا فون اب کہ بند تھا۔ اس نے کوفت سے فون ڈیش بورڈ پر ڈالا اور گاڑی کو تیزی سے موڑتا آگے بھگا لے گیا۔ فیصل نے ایک لمحے کو اسے اس طرح سے عجلت میں جاتے دیکھا تھا۔ سب جیسے لمحوں ہی میں تلپٹ ہو کر گویا کیا سے کیا ہوگیا تھا۔
