#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
پانچویں_قسط
اس نے وقار کے آگے گول ٹیبل پر بھاپ اڑاتی چاۓ رکھی اور پھر وہ ان کے سامنے لگی کرسی پر اپنی چاۓ لیۓ بیٹھ گٸ۔ وقار نے چاۓ سے ایک گھونٹ بھرا اور پھر مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"میری بیٹی تو بہت اچھی چاۓ بناتی ہے۔۔"
ان کے پچکارنے کے سے انداز پر رابیل ایک لمحے کو افسردگی سے مسکراٸ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ تایا اس کے ساتھ اس قدر نرمی کیوں برت رہے ہیں۔ اسے اندازہ تھا کہ ان کا انداز نرم پہلے بھی تھا مگر اس کے دکھی ہونے کے خیال سے اب کہ وہ مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھے۔ اسے سننا چاہتے تھے۔ اس کا دل ہلکا کرنا چاہتے تھے۔ اس نے گہرا سانس لے کر ان کے باوقار چہرے کی جانب دیکھا۔ کنپٹی کے بالوں میں گہری سفیدی ابھر آٸ تھی اور آنکھیں۔۔ آنکھیں بالکل معاذ جیسی تھیں۔۔ گہری سرمٸ۔۔ مگر ان میں معاذ کی آنکھوں کا سا تاثر نہیں تھا۔ یہ آنکھیں تو بہت نرم تھیں۔ نرمی سے مسکرانا جانتی تھیں اور معاذ۔۔ اس نے ایک لمحے کو خفگی سے سوچا تھا اس کے بارے میں۔۔
اس کی آنکھیں نہیں مسکرایا کرتی تھیں۔ اس کے لب بھلے ہلکے سے تبسم میں ڈھلے ہوتے لیکن اس کی آنکھیں ایک ہی رنگ میں نظر آٸ تھیں اسے۔۔ خاموشی کے گہرے رنگ میں۔۔
"آپ اتنا حساس نہ ہوں تایا۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔"
اس نے نرمی سے کہہ کر اپنے ہاتھ میں پکڑے چاۓ کے کپ کو دیکھا تھا۔ وقار لمحہ بھر کے لیۓ چپ سے ہوگۓ۔
"مجھے لگا کہ تمہیں دلاسے کی ضرورت ہے، لیکن میرے خیال سے تمہیں کسی بہت ہاٸ اتھارٹی کی جانب سے دلاسا دیا جاتا ہے۔ بھلا ہم انسانوں کے چند بے معنیٰ جملوں کی تم جیسی بہادر لڑکی کو کیا ضرورت۔؟"
وہ بھی نرمی سے مسکرا کر اب کہ چاۓ کا گھونٹ بھرتے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ رابی ان کے جملے پر بے ساختہ مسکراٸ تھی۔
"ایسا ہی ہے تایا، لیکن جب اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم غار حرا سے پلٹے تو خوف سے کانپ رہے تھے۔ گھر لوٹے تو اپنی زوجہ محترمہ سے کہا کہ مجھے چادر اوڑھا دو۔ میرے خیال سے تایا، انسان کی موجودگی انسان کے لیۓ بے حد ضروری ہے۔ کسی ایسے خوف کے وقت میں کم از کم اپنے ساتھی سے کہا تو جاسکے کہ مجھے چادر اوڑھادو۔۔"
اس کی نرم مگر اداس آواز کچن کی خاموشی میں تحلیل ہو کر ہر سو بکھرنے لگی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے سنے گۓ۔
"پتہ ہے تایا جب میں نے حجاب لینے کا فیصلہ کیا تھا ناں تو مجھے میری ایک مدرسہ کی سہیلی نے کہا تھا کہ رابیل۔۔ ایک وقت آۓ گا۔۔ تمہارے گھر والے تمہیں قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔ تمہیں دربدر کردیں گے۔۔ تمہیں تکلیف دیں گے۔۔ میں اس کی باتوں پر شروع میں تو ہنس دی تھی کہ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میرے اتنے محبت کرنے والے والدین، مجھ سے اتنی انسیت رکھنے والی میری بہنیں مجھے تکلیف دیں گی۔ ! مجھے جھٹلاٸیں گی۔۔!"
اس کی آواز در و دیوار سے پلٹ کر واپس آتی سماعت پر گرنے لگی تھی۔ سکون سے کھڑا بنگلہ اس کی کہانی پر ہمہ تن گوش تھا۔
"لیکن پھر کچھ ہی عرصے بعد تایا مجھے پتہ چل گیا کہ اپنے کیسے جھٹلاتے ہیں۔ یہ اپنے کیسے تکلیف دیا کرتے ہیں اور اہلِ مکہ آپ کی سب سے بڑی آزماٸش کا مرکز کیسے بنتے ہیں۔ کتنی عجیب سی بات ہے ناں تایا کہ غیر تکلیف نہیں دیا کرتے۔۔ تکلیف صرف اپنے دیا کرتے ہیں۔۔"
اس کی آنکھیں لمحے بھر کو جگمگاٸ تھیں۔ حلق میں کچھ اٹکنے لگا۔ کچھ نم سا۔۔ لیکن پھر بھی وہ ضبط کر کے بیٹھی رہی۔
"جانتی ہو ایسا کیوں ہوتا ہے رابیل۔۔؟"
اس نے صرف سوالیہ سی نظریں ان پر اٹھاٸیں۔ تایا کسی غیر مرٸ سے نکتے کو دیکھتے بول رہے تھے۔
"غیروں کو علم نہیں ہوتا کہ ہماری ذات میں کہاں شگاف ہے۔ غیر نہیں جانتے رابیل کہ یہ دل کس بات پر ٹوٹ جاتا ہے۔ غیروں کو کیا پتہ کہ تکلیف سب سے زیادہ کس چوٹ پر ہوتی ہے۔ یہ تو اپنے ہی ہوتے ہیں جو رازوں کے امین ہوتے ہوۓ بھی راز افشاں کرنے میں ذرا وقت نہیں لیا کرتے۔ انسان کبھی غیروں کے ہاتھوں سے نہیں گرا۔ انسان جب بھی گرا ہے اپنوں کے ہاتھوں سے گرا ہے۔۔"
چند پل یوں ہی خاموشی کی نذر ہوگۓ۔ سارا گھر گویا سکینت والا کہف بن گیا تھا۔
"تم خوش ہو اپنی منگنی سے۔۔؟"
انہوں نے کپ خالی کر کے ٹیبل پر رکھا اور پھر جانچتی نگاہوں سے اس کے گلابی سے چہرے کو دیکھے گۓ۔ وہ لب کاٹتی کچھ جواب اکھٹا کررہی تھی۔
"پتہ نہیں۔ بابا خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں۔۔"
"میں نے تمہارے بابا کی نہیں تمہاری خوشی پوچھی ہے لڑکی۔"
ان کے مسکراتے لہجے پر وہ بھی لمحے بھر کو ہلکا سا مسکراٸ تھی۔ پھر گہرا سانس لے کر گویا ہوٸ۔
"میں بس ٹھیک ہوں۔ جب تک بابا، ماں خوش ہیں مجھے کوٸ مسٸلہ نہیں۔ رہی بات ارحم کی۔۔ تو وہ اچھا ہے۔ ٹھیک ہے۔۔ بس ٹھیک ہی ہے۔۔"
اس کے آخری متذبذب سے جملے پر وہ ہنس پڑے تھے۔ رابیل نے اپنے دانتوں کی نماٸش بھی زور و شور سے کی تھی۔ اسے نہیں پتہ تھا کہ کسی کو پسند کیسے کرتے ہیں۔ اس نے کبھی ارحم کے لیۓ کچھ بھی محسوس نہیں کیا تھا۔ کہانیوں میں اس نے پڑھ رکھا تھا کہ جب منگیتر اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھتے ہیں تو لڑکی کے گال گلابی ہوجاتے ہیں، دل دھڑکنے لگتا ہے اور اکثر تو بات تک کرنا مشکل ہوجاتا ہے جھجھک کی وجہ سے۔ لیکن اس نے کبھی ارحم کے لیۓ یہ سب محسوس نہیں کیا تھا۔ کوٸ اس سے پوچھتا کہ وہ اسے کیسا لگتا ہے تو وہ کندھے اچکا کر کہا کرتی تھی کہ ٹھیک ہے۔۔ بہتر ہے اور بس ۔۔ وہ اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں لگتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ جب اسے محبت ہوگی اور ظاہر ہے شادی ارحم سے ہونی تھی تو محبت بھی اسی سے کرنی تھی، تو اکثر اسے لگتا تھا کہ جب اسے ارحم سے محبت ہوگی تب اس کے آس پاس کوٸ گھنٹی سی بجے گی، جو اس بات کا عندیہ ہوگی کہ اسے محبت ہوچلی ہے۔ لیکن ارحم کے سامنے آتے ہی اس کے آس پاس کچھ بھی نہیں بجتا تھا۔ اسکے سامنے آنے پر وہ صرف غیر آرام دہ ہوتی تھی۔ اس کے چپکو سے انداز پر غالباً۔۔ اف اسے زہر لگتے تھے "چیزی" لڑکے۔۔! ہر وقت سر پر سوار رہ کر اپنی مرضی مسلط کرنے والے لڑکے اسے بالکل نہیں پسند تھے۔۔ تو کیا وہ ارحم کو بھی ناپسند کرتی تھی۔۔ شاید ہاں۔۔
خیالات سے اس نے بری طرح گھبرا کر سر ہلایا تھا۔
"آپ بتاٸیں تایا۔۔ کہ حبیبہ تاٸ کیسی دکھتی تھیں۔۔؟ میں نے بہت تھوڑا ذکر سنا ہے گھر میں ان کا۔ صرف نام کی حد تک۔ میں انہیں نہیں جانتی نہ ہی دیکھا ہے۔ کیسی لگتی تھیں وہ آپ کو۔۔ ؟"
وقار نے مسکرا کر نا سمجھی سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔ وہ اب کہ بہت دلچسپی سے پھیلی پھیلی سی کتھٸ آنکھیں لیۓ، ٹھوڑی تلے ہاتھ رکھے انہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کا انداز بھلا کسی کو غصہ دلا کیسے سکتا تھا۔۔!
اور ایک صاٸمہ تھی جس نے انتہاٸ بے رحمی سے اس کا رخسار روند ڈالا تھا۔
ایک پل کو گہرا سانس لے کر وقار نے اس کی جانب دیکھا۔
"تمہارے جیسی تھیں بالکل۔۔"
مسکراہٹ دبا کر بس اتنا ہی کہا تو وہ ناسمجھی سے پیچھے ہو کر بیٹھی۔
"مطلب۔۔؟"
"مطلب جیسی تم ہو بالکل تمہارے جیسی تھیں۔ معصوم، میٹھی باتیں کرنے والی، محبت بانٹنے والی۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ کوٸ زمینی مخلوق ہے۔ یوں لگتا تھا گویا کسی نے اسے جنت سے بھیجا ہو۔ وہ ان سب عورتوں سے بے حد الگ تھی۔ سر پر حجاب باندھے، قرآن کی دعاٶں کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی۔۔"
جانے کیا تھا کہ ان کا لہجہ آخر میں نم سا ہوگیا۔ رابیل کو یکدم احساس ہوا کہ اس نے تکلیف دہ سا موضوع چھیڑ دیا ہے اسی لیۓ جلدی سے بولی۔۔
"آٸ ایم سوری تایا۔"
"ارے نہیں۔۔ اتنے دنوں بعد کسی نے مجھ سے اس کی بابت پوچھا ہے۔ اچھا لگ رہا ہے اس کی باتیں کرنا۔۔"
انہوں نے آنکھوں سے چشمہ ہاتھ میں لے کر دھندلی سی نمی آنکھوں سے صاف کی تھی۔ رابیل کے دل کو کچھ ہوا۔۔
"آپ کو بہت یاد آتی ہیں وہ۔۔؟"
اس کی چاۓ ٹھنڈی ہوگٸ تھی اور وہ اسے بھول بھال کر اب صرف تایا کی جانب متوجہ تھی۔
"بہت زیادہ۔۔"
انہوں نے مسکرا کر گلابی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
"بہت اچھی تھی ناں وہ۔۔"
یہ سوال نہیں تھا۔ خالص جواب تھا۔ پھر بھی وقار نے اثبات میں سرہلا کر اس کے خیال کی تصدیق کی تھی۔
"بہت زیادہ۔۔"
ان کے لیۓ ان دو لفظوں سے زیادہ کچھ بھی بولنا فی الحال محال تھا۔ ان کے ایسے انداز پر اسے بے اختیار ان پر پیار آیا تھا۔ ان کا اندر باہر اس قدر شفاف تھا کہ وہ مرد ہونے کے باوجود بھی اپنی گلابی سی نمی کو نہیں چھپا پا رہے تھے۔
"تو تایا پھر معاذ کیوں اس قدر سرد اور کھنچا کھنچا سا رہتا ہے۔۔؟ مطلب میں سمجھ سکتی ہوں کہ ہر انسان کے ادوار مختلف ہوتے ہیں اور ہر ایک کا ماضی ہی، اس کا حال طے کرتا ہے لیکن پھر بھی۔۔ پھر بھی ایسا کیا ہوا تھا کہ ہم سے اس قدر بد ظن ہوگیا ہے وہ۔ بقول اس کے ہماری شکلیں بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔؟"
اس کے دل میں چھپی بے چینی اب اس کی کتھٸ آنکھوں میں واضح طور پر ہلکورے لینے لگی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ آخر پچھلے سالوں میں ایسا کیا ہوا تھا کہ معاذ اس کے گھر اور اس کے گھرانے کے لوگوں سے اس قدر بدظن تھا۔
تایا چند لمحے اس کے سوال پر اسے دیکھے گۓ اور پھر آہستہ سے گویا ہوۓ۔
"آج سے پندرہ سال پہلے معاذ اور حبیبہ کو اس گھر سے دھکے مار کر نکالا گیا تھا رابیل۔۔!"
بہت مدھم آواز میں کہے گۓ جملے پر رابیل کچھ ساعتوں کے لیۓ ساکت ہوگٸ تھی۔
"لیکن کس نے اور کیوں۔۔۔؟"
اس نے اس قدر دلگرفتگی سے پوچھا کہ وہ گہرا سانس لینے پر مجبور ہوگۓ۔
"میں تمہارے بابا کا سوتیلا بھاٸ ہوں جانتی ہو ناں تم۔ جب میری ماں رحمت بی بی کا انتقال ہوا تو بابا ٹوٹ گۓ۔ انہیں بہت محبت تھی اپنی بیوی سے۔ ہم ہمیشہ سے الگ ہی رہے تھے کبھی انہوں نے ہم دو گھرانوں کے بچوں کو ساتھ نہیں رکھا۔ لیکن جب ماں کا انتقال ہوا تو بابا کا دو گھروں کے ساتھ چلنا مشکل ہوگیا۔ یہ جو ابھی تم لوگوں کا گھر ہے، یہ اس وقت ایک بڑی حویلی کی صورت تھا۔ سب اکھٹے رہا کرتے تھے۔ مجھے بھی بابا نے کہا کہ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ یہیں آبسوں۔ پہلے تو میں نے انہیں سمجھایا کہ پلیز ہم یہیں خوش ہیں لیکن پھر ان کے اصرار کرنے پر مجھے یہاں آنا ہی پڑا۔"
وہ سانس لینے کو رکے۔ رابیل بنا پلکیں جھپکاۓ انہیں دیکھ رہی تھی۔
"ان وقتوں میں بابا کا بزنس بھی زوال کی طرف سفر کررہا تھا۔ کمپنی کو دوبارہ سے اٹھانے کے لیۓ انہیں پیسے چاہیۓ تھے تو میں نے اپنا گھر بھی بیچ دیا اور اس کا آدھے سے زاٸد حصہ بابا کو دے دیا۔ لیکن پھر وہی خاندانی سیاستیں اور روز روز کے جھگڑے۔ تمہاری دادی کو میں نہیں پسند تھا۔ انہیں مجھ سے نفرت تھی کیونکہ میں ان کی سوتن کا بیٹا تھا۔ اور پھر انہیں صرف مجھ سے نہیں بلکہ انہیں میری ہر چیز سے نفرت ہوگٸ۔ انہیں معاذ اور حبیبہ اپنی آنکھوں پر سخت ناگوار گزرنے لگے۔ اور حبیبہ۔۔!"
ایک لمحے کو ان کے گلابی سے ارتکاز میں نمی چمکی۔ رابیل حلق میں جما ہوتے آنسوٶں پر قابو پاۓ بمشکل چپ کر کے بیٹھی ہوٸ تھی۔
"حبیبہ بالکل تمہاری جیسی تھی۔ تمہاری طرح حجاب باندھا کرتی تھی۔ ایک طویل جنگ لڑی تھی اس نے بھی اپنے گھر والوں سے۔ پھر مجھ سے شادی ہوگٸ تو مجھے حجاب سے کوٸ مسٸلہ نہ تھا اسی لیۓ ہماری زندگی اچھی گزری لیکن یہاں آنے کے بعد۔ یہاں آنے کے بعد ہر ایک سے دوسری بات پر اس کی دینداری، اس کے حجاب، اس کے اخلاق اور یہاں تک کہ۔۔"
آخر میں ان کی آواز کانپی تھی۔۔
"اس کے کردار تک کو نشانہ بنایا گیا۔ صاٸمہ اور تمہاری دادی اس سب میں فرنٹ لاٸن پر تھیں۔ آہستہ آہستہ حبیبہ کو جانے کیوں اکثر سینے میں گھٹن سی محسوس ہونے لگی۔ وہ اکثر، راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنا سینہ مسلا کرتی تھی۔ میں نے ایک دن پوچھا تو کہنے لگی کہ اسے سانس لینے میں اکثر دشواری ہونے لگی ہے۔ ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو اس نے کہا کہ حد درجہ برداشت کرنے کے باعث انہیں پینک اٹیک ہوتا ہے، جس میں انہیں اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ دن بدن کمزور ہوتی گٸ۔ میں نے کہا بھی کہ ہم کوٸ دوسرا گھر لے لیتے ہیں لیکن وہ مجھے انکار کرتی رہی، یہاں تک کہ مجھےجیل ہوگٸ ۔۔"
ان کے خاموش ہونے پر وہ یکدم سیدھی ہو بیٹھی تھی۔ آنکھیں جو ضبط کے باعث اب کہ ہلکی ہلکی بھیگنے لگی تھیں پھیل سی گٸیں۔۔
"آپ کو جیل۔۔۔!! لیکن کیوں۔۔۔؟"
"مجھے مینو پلیٹ کر کے جیل بھجوایا گیا تھا۔ یہ بات بہت بعد میں مجھ پر کھلی کہ مجھے جیل بھجوانے میں بھی تمہاری دادی اور صاٸمہ کا ہاتھ تھا۔ میں وجہ سمجھ نہیں پایا۔۔ لیکن پھر اس کے اگلے دن ہی مجھے وجہ بھی سمجھ آگٸ۔ میرے جاتے ہی حبیبہ کے کردار پر الزام لگایا گیا۔ بہتان سمجھتی ہو ناں۔۔ اس کے کمزور وجود کو زبان کی گہری چوٹوں سے زخمی کیا گیا اور آخر میں۔۔ آخر میں اسے اور معاذ کو گھر سے نکال دیا گیا۔ "
وہ خاموش ہوۓ تو لمحے بھر کو لگا کہ ساری کاٸنات خاموش ہوگٸ ہے۔ رابیل کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ اس میں مزید ہمت نہیں تھی کہ کوٸ اور سوال کرسکتی۔ اسی لیۓ چپ چاپ ہونٹوں کو سختی سے میچیں بیٹھی رہی۔
"عابد نے مجھے کبھی کوٸ نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی رابیل۔ کبھی بھی نہیں۔ یہاں تک کہ جیل سے نکلنے میں بھی اس نے میری مدد کی۔ پھر معاذ کو ڈھونڈنے میں"
"معاذ کو ڈھونڈنے میں۔۔! مطلب۔۔؟"
اور اس کے اس سوال پر تایا نے بے حد ٹھنڈی آہ بھری تھی۔
"ہاں۔۔ میری ایک سال کے جیل کے عرصے میں حبیبہ اسپتال ہی میں مر گٸ اور معاذ۔۔ معاذ مافیا کا حصہ بن گیا۔۔"
تحیر سے آنکھیں پھیلاۓ وہ تایا کے انکشافات سن رہی تھی۔ کیا کسی پر اس قدر ظلم کیا جاتا ہے۔ جس قدر معاذ، حبیبہ اور تایا کی ذات پر کیا گیا تھا۔۔!!
"ت۔۔ تاٸ کیسے۔۔ اور معاذ۔۔ ؟"
اس کا سوال پورا نہ ہوسکا۔
"جس وقت انہیں گھر سے نکالا گیا تھا اس وقت اسے شدید قسم کا دورہ پڑا تھا۔ اسپتال لے جایا گیا تو وہ ایک گھٹنے سے زیادہ بچ نہیں پاٸ۔ صدمہ اس قدر گہرا تھا کہ حبیبہ سہار ہی نہیں پارہی تھی اور آخر کار اس نے اپنی زندگی کی بازی ہار دی۔۔"
ان کا سانس بولتے بولتے بے تحاشہ پھول گیا تھا۔ گردن کو جاتیں رگیں اکڑ گٸ تھیں۔
"معاذ اس کے بعد مجھے ایک سال تک نہیں ملا۔ پھر ایک دن وہ مجھے فٹ پاتھ پر سوتا ہوا ملا تھا۔ ایک بڑے گینگ کے اندر کٸ لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا تھا وہ۔ کٸ اچھے دوستوں کی مدد سے میں اسے اس جنگل سے نکلوانے میں کامیاب تو ہوگیا رابیل لیکن آج تک میں اسے زندگی کی طرف نہیں لا سکا ہوں۔ "
انہوں نے اپنی آخری بات کہہ کر چہرے پر ہاتھ پھیرا اور چشمہ ایک بار پھر سے آنکھوں کے سامنے جمایا۔ رابیل کے رخسار گیلے تھے اور آنکھیں گلابی سے رنگ میں ڈھلی تھیں۔
"مجھے تو۔۔ پتہ ہی نہیں تھا تایا کہ آپ لوگوں کے ساتھ اس قدر ظلم کیا گیا ہے۔ آپ کا تو اس سب میں کوٸ قصور ہی نہیں تھا۔ اور معاذ۔۔ شاید اب میں اسے تھوڑا سمجھ سکتی ہوں۔۔"
اس کے نرمی سے کہنے پر وہ ذرا آگے کو ہوۓ، آزردگی سے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
"جانتی ہو صاٸمہ کا ہاتھ کیوں روکا تھا معاذ نے۔۔؟"
ان کے سوال پر اس نے نظریں أٹھاٸ تھیں۔ بھیگی بھیگی آنکھوں کے پار ایک منظر سا بُننے لگا۔
"وہ اس لیۓ کہ وہ برداشت ہی نہیں کرپایا تمہاری ساتھ زیادتی۔ کبھی بھی کسی کو تمہارے ساتھ ظلم کرتے دیکھے گا تو ہزار بار اس کا ہاتھ روکے گا کیونکہ وہ حبیبہ پر ہوتا ظلم نہیں روک پایا تھا۔"
اسے نے تھوک نگل کر بہت سے آنسو حلق ہی میں اتار لیۓ۔ پھر ایک دم بھاری ہوتے ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیۓ اس نے مسکرا کر ان کی جانب دیکھا۔
"اچھا چلیں بتاٸیں کہ تاٸ کو سب سے زیادہ کونسی سورت فیسینٹ کیا کرتی تھی۔۔؟"
ان کی آنکھوں میں پھیلی سرخی رابیل بخوبی دیکھ رہی تھی۔۔
"کہف۔۔"
لیکن ان کے اگلے جواب پر گویا اس پر کسی نے گھڑوں پانی ڈال دیا تھا۔ ایک لمحے کو ساکت ہو کر اس نے تایا کی جانب دیکھا تھا۔
"وہ مجھ سے کہا کرتی تھی کہ وقار، یہ سورت اللہ کے فیصلوں پر انسان کے ردعمل کی سورت ہے۔ اسے قرآن سننا بہت پسند تھا، اکثر معاذ کو اپنے سامنے بٹھا کر وہ اس سے اس سورت کی تلاوت سنا کرتی تھی اور رابیل اکثر اس سورت کے شروع ہوتے ہی اس کی آنکھیں بہنے لگتی تھیں۔ میں پوچھتا تھا کہ اسے کیا بات رلاتی ہے تو کہا کرتی تھی کہ کہف کی تنگ دیواروں کے درمیان اللہ کی محبت کا نور اسے رلایا کرتا تھا۔ وہ کہتی تھی اللہ کا خوف انسان کو ویسے نہیں رلاتا جیسے اللہ کی محبت رلادیتی ہے۔ میں کہا کرتا تھا کہ اللہ سے تو میں بھی محبت کرتا ہوں۔ پھر مجھے ایسے کیوں رونا نہیں آتا تو۔۔"
ان کی آواز بتاتے بتاتے آخری جملوں پر کانپنے لگی تھی۔ رابیل سانس روکے انہیں دیکھے گٸ۔
"تو کہا کرتی تھی کہ جو غار میں دین بچانے کے لیۓ پناہ لیا کرتے ہیں، ایسی محبت کے آنسو اللہ صرف انہی کو عطا کرتا ہے۔"
ان سے مزید ضبط کرنا مشکل ہوا تو مسکرا کر اس کے سر پر ایک بار پھر سے ہاتھ رکھتے باہر کی جانب بڑھ گۓ۔ وہ اب تک دم سادھے بیٹھی تھی۔ جانے اس سے پہلے اور کتنے لوگوں نے کہف میں پناہ لی تھی اور کتنوں کا پناہ لینا ابھی باقی تھا۔ کیا اصحابِ کہف کو اندازہ تھا کہ ان کا عمل ان کے بعد صدیوں تک دہرایا جانا تھا۔
وہ گم صم سی اپنے کمرے میں چلی آٸ۔ خاموشی سے آ کر بستر پر دراز ہوگٸ۔ اور سونے سے قبل اس کے دل میں آخری خواہش یہی ابھری تھی کہ کاش وہ حبیبہ سے ایک بار مل سکتی۔ ایک بار وہ انہیں کہیں سے دیکھ سکتی لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ کہف والے بہت سے لوگ گزر چکے تھے۔
اس نے بھی گہرا سانس لے کر آنکھیں موندنا چاہیں لیکن چھم سے سرمٸ نگاہیں اس کے آس پاس بکھرنے لگیں۔ کیسے وہ اتنا تلخ تھا۔ اتنا کڑوا تھا۔ اتنا روکھا تھا۔ وہ اسے اس کے حالات جانے بغیر ہی جج کرتی رہی اور وہ۔۔ وہ جانے کیسے اس گھر میں دوبارہ آیا ہوگا۔ جانے اس نے اپنے دل پر کونسا پتھر رکھا ہوگا۔۔
وہ سونا چاہتی تھی لیکن وہ سو نہیں پارہی تھی۔ کیونکہ کچھ انکشافات انسان کی نیندیں اکثر یوں ہی اڑا دیا کرتے ہیں۔۔!
آج سے پندرہ سال پہلے۔۔
رمضان کا مہینہ اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ ان کے گھرانے پر اتر رہا تھا۔ حبیبہ نے افطار کے بعد مغرب کی نماز ادا کی اور کچن میں چلی آٸیں۔ کچن کے ساتھ جاتی ایک چھوٹی سی راہداری کے بعد لاٶنج تھا۔ گو کہ ان کا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن طریقے سے فرنشڈ ہونے کے باعث وہ گھر چھوٹا بھی نہیں لگتا تھا۔ اس گھر میں عجیب سی سکینت ہر وقت محسوس ہوتی تھی۔
انہوں نے سنک میں برتن اکھٹے کر کے رکھے اور پھر برتن دھونے لگیں۔ اسی پہر داخلی دروازہ کھلا۔ معاذ اور وقار نماز پڑھ کر واپس آگۓ تھے۔ وقار تو ٹی وی چلاۓ لاٶنج ہی میں بیٹھ گۓ البتہ معاذ ان کے پاس کچن ہی میں چلا آیا تھا۔
"آخری عشرہ چل رہا ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھے گفٹ دیں گی۔۔"
اس نے بھی آگے بڑھ کر دھلی پلیٹیں ایک جانب کو کیں اور پھر ساتھ ہی ساتھ انہیں کچھ یاد بھی دلایا۔ حبیبہ نے اس کے حوالے پر مسکراہٹ دباٸ تھی۔۔
"گفٹ تو مل جاۓ گا یہ بتاٶ پہلے کہ تم نے وہ کام مکمل کرلیا جو میں نے کہا تھا۔۔؟"
ایک پل کو مڑ کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ لیۓ۔ اسے چڑاتی ہوٸیں۔۔ معاذ نے خفگی سے ان کی جانب دیکھا۔ ماتھے پر بال نو عمر لڑکوں کی طرح بے ترتیب ہو کر گر رہے تھے اور آنکھیں۔۔ آنکھیں اس سمے بے حد خفا تھیں۔ حبیبہ کو بے ساختہ اس پر پیار آیا تھا۔۔
"صرف آخری پارے کی چند سورتیں رہ گٸ ہیں ماں۔ وہ بھی کل تک مکمل ہوجاٸیں گی لیکن آپ نے مجھے گفٹ نہیں دیا ابھی تک۔۔"
"ہاں تو پہلے پورا حفظ تو کرو۔ مجھے سورہ کہف سناٶ پھر جا کر ملے گا تمہیں گفٹ۔۔"
ایک پلیٹ جھٹک کر ریک میں رکھتے، انہوں نے بے نیازی سے کہہ کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
"کل پکا آپ دیں گی ناں۔۔؟"
"دونگی لیکن پہلے تمہیں مجھے سورہ کہف سنانی ہوگی۔۔ اس کے بعد۔۔"
اسے گویا یاد دلایا تھا۔ وہ ان کی بات پر جھنجھلایا ۔۔
"اتنی بار تو سن چکی ہیں آپ۔ اب پھر سے کل کیا اس سورہ کا سننا لازمی ہے۔۔؟"
"جی بالکل لازمی ہے۔ تمہاری آواز بہت پسند ہے مجھے۔۔"
"اور بھی کتنے سارے لوگ، بہت اچھا قرآن پڑھتے ہیں۔ آپ ان کی سورہ کہف سن لیں۔۔"
اس نے آگے بڑھ کر سوکھتے برتنوں کو دوسرے ریک میں رکھنا شروع کیا۔ حبیبہ اس کی بات پر مسکراٸ تھیں۔۔
"مجھے میرے بیٹے کا قرآن پڑھنا ان سب کے قرآن پڑھنے سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔ اور ویسے بھی، جب آپ کے گھر میں حافظ موجود ہو تو کسی باہر والے سے قرآن کیوں سنا جاۓ۔۔"
ایک مسکراتی ہوٸ نگاہ اس پر ڈالی تو ان کی اس معصوم سی گیم پر وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ پھر رات گۓ تک جب وہ عشاء کی نماز سے فارغ ہوٸیں تو وہ ان کے ساتھ آبیٹھا۔ خاموشی سے ان کی مناجات ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اپنی دعا سے فارغ ہو کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوٸ تھیں۔
"میں آپ کو سورہ کہف سناٶنگا لیکن ماں اس سے پہلے میرا ایک سوال ہے۔۔"
اس نے ان کے آگے دوزانو بیٹھ کر پوچھا تو وہ بھی اپنے چہرے کے گرد لپٹے دوپٹے کی تہیں کھولنے لگیں۔
"پوچھو۔۔"
"اللہ نے قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں اتارا ہے ماں۔۔؟ مجھ سے میرے ٹیچر نے سوال کیا لیکن مجھے اس کا جواب نہیں آیا۔"
اس کے معصوم سے سوال پر وہ لمحے بھر کو مسکراٸ تھیں۔ پھر بیڈ سے پشت ٹکا کر آرام دہ سی ہو کر بیٹھیں۔
"ایک بات بتاٶ۔۔ بارش کیسے آتی ہے۔۔؟"
"مطلب۔۔؟"
اسے ان کا سوال سمجھ نہیں آیا تھا۔
"مطلب یہ کہ بارش آسمان سے کس صورت میں برستی ہے۔۔؟"
"قطروں کی صورت۔۔"
اس کی نگاہوں میں نا سمجھی اب تک پھیلی ہوٸ تھی۔
"بالکل۔۔ لیکن اگر یہی بارش سیلاب کی صورت زمین پر آجاۓ تو کیا ہوگا۔۔؟"
"تباہی ہوجاۓ گی پھر تو۔۔"
اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا جواب دینے میں۔ وہ اس کے جواب پر لمحے بھر کو مسکراٸ تھیں۔ پھر آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو مزید بکھیرا۔
"بالکل۔ اگر آسمان سے اترتا پانی سیلاب کی صورت اترے تو کسی کو بھی فاٸدہ نہیں ہوگا بلکہ پانی کے اس صورت میں آنے کے باعث بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، کٸ لوگوں کی زندگی بھر کی کماٸ مٹی میں مل جاۓ گی اور ہمارے گھر، یہاں تک کے ہمارے شہر بھی ڈوب جانے کا خدشہ ہوگا۔ اسی لیۓ آسمان سے پانی چھوٹے قطروں کی صورت آتا ہے۔ وہ ایک ساتھ سیلاب کی صورت نہیں اتارا جاتا۔۔"
"تو۔۔ تو قرآن کے انزال کا اس سے کیا تعلق۔۔؟"
"تعلق ہے بچے۔ تعلق تو ہے۔ جیسے پانی آسمان سے قطروں کی صورت تھوڑا تھوڑا کر کے اترتا ہے اسی طرح قرآن کو بھی قطروں کی صورت تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا ہے۔ جیسے قطرے بنجر زمین میں جذب ہو کر اسے زندگی دیا کرتے ہیں، ٹھیک اسی طرح قرآن کے لفظ بھی انسانی دل کی بنجر زمین پر قطروں کی صورت اتر کر اسے زندہ کرتے ہیں۔ اگر یہ قرآن سارے کا سارا ایک ساتھ اتارا جاتا تو کوٸ انسان اس کے طاقت کو سہار نہ پاتا۔ وہ آیت یاد ہے ناں سورہ حشر کی، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا۔ بالکل اسی طرح اگر اسے پورے کا پورا اتارا جاتا تو اگر کوٸ پہاڑ جو کہ اس کاٸنات کی سب سے مضبوط چیز ہے، جب وہ ہی نہیں سہار پاتا تو انسان کا دل کیسے اسے سارے کا سارا لے سکتا تھا۔۔؟"
وہ چند پل لاجواب ہوا انہیں دیکھتا رہا۔
"تم نے دیکھا ہوگا کہ اسے ہم جب پڑھتے ہیں، یا سمجھتے ہیں یا پھر جب عمل کرتے ہیں تو تھوڑا تھوڑا کر کے کرتے ہیں۔ وہ اسی لیۓ بیٹا، کیونکہ اس قرآن کا دل میں تھوڑا تھوڑا، لمحہ بہ لمحہ اترنا ہی دل کو زندہ رکھتا ہے۔ اسے ہم سارے کا سارا اندر نہیں اتارسکتے۔"
"لیکن سورہ بقرہ میں تو کہا گیا ہے کہ تم اس کا ایک حصہ لے کر دوسرے کو چھوڑ دیتے ہو۔ پھر وہ کیا ہے۔۔؟ اس آیت کا مطلب تو پھر یہی ہوا کہ ہمیں یہ پورا کا پورا لینا پڑتا ہے۔"
اس کے معصوم چہرے پر ناسمجھی تھی۔
"وہ کتاب کے ایک حصے پر عمل کر کے دوسرے حصے کو ترک کردینے کی جانب اشارہ ہے۔ ہم نے ایسا نہیں کرنا۔ ہمیں اس پوری کتاب پر ایمان لانا ہے اور اس کے بعد اس کے ایک حکم کے ساتھ دوسرے حکم کو بھی جوڑے رکھنا ہے۔ ایسے نہیں کرنا کہ نماز تو پڑھ لی لیکن لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتی۔ یہ قرآن کا ایک حصہ مان کر دوسرے کو ترک کرنا کہتے ہیں۔"
اوہ۔ بات سمجھ میں آتے ہی جیسے اس کی بے چینی پل میں رفع ہوٸ تھی۔
"چلو اب مجھے سورہ کہف سناٶ۔ "
اگلے ہی لمحے اب وہ تعوذ پڑھنے کے بعد مدھم سی بہتی آواز میں سورہ کہف پڑھنے لگا تھا۔
حسبت ان اصحب الکھف ورقیم۔۔
یہاں تک ابھی اس کی تلاوت پہنچی ہی تھی کہ حبیبہ کی آنکھیں بہنے لگیں۔ قرآن کے درمیان رکھے ان غار والوں کے قصے میں کس قدر نصیحتیں پنہاں تھیں۔ کاش کہ کوٸ سمجھ سکتا۔ اور وہ ان لفظوں کو سمجھ رہی تھیں، محسوس کررہی تھیں، جبھی تو انکا دل اس آواز پر بھر آتا تھا اور آنکھیں۔۔ آنکھیں ان دل سوز آیتوں کو سن کر بے اختیار ہی بھیگنے لگتی
اگلے دن دادا ان کے گھر چلے آۓ۔ کافی دیر تک وقار کی اسٹڈی میں بیٹھے وہ ان سے باتیں کرتے رہے۔ رات کے کھانے پر حبیبہ نے انہیں روکا بھی مگر وہ الجھے الجھے سے تھے اسی لیۓ جلد ہی پلٹ گۓ۔ وقار نے بھی انہیں روکنا مناسب نہ سمجھا۔ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے تین نفوس اب کہ بہت خاموش تھے۔ سب سے پہلے حبیبہ نے ہی بات شروع کی۔۔
"بابا کیا کہہ رہے تھے۔۔؟"
"انہیں کمپنی کے لیۓ کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔ تو وہ اس گھر کو بیچنے کی بات کررہے تھے، مزید یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم بڑے گھر میں شفٹ ہوجاٸیں۔ اسی میں عافیت ہے۔ ان کی طبیعت بھی اب کہ ناساز رہنے لگی ہے تو میں نے کافی سوچ بچار کر ہاں کہہ دیا ہے۔ تم دونوں کو کوٸ اعتراض تو نہیں۔۔؟"
آخر میں ذرا سی ہچکچاہٹ محسوس ہوٸ تھی معاذ کو ان کے لہجے میں۔ حبیبہ چند لمحات تو خاموش رہیں پھر مسکرا کر ان کی جانب دیکھا۔
"اگر بابا کی اس سے مدد ہوسکتی ہے تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیۓ وقار۔۔"
اور ان کے مہر ثبت کرنے پر وقار نے گہرا سانس لیا تھا۔ اگلے مہینے ہی گھر سے سارا سامان سمیٹ کر وہ اس بڑی سی حویلی میں چلے آۓ۔ انہیں لگا تھا کہ گھر والے ان کا استقبال بہت اچھے سے کریں گے لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ وقار، حبیبہ اور بارہ سالہ معاذ دروازے میں یوں ہی خالی خالی سے کھڑے رہ گۓ۔ ملازمین کو بھی ان تک آنے کی اجازت نہیں دی گٸ تھی۔ صرف دادا ہی انہیں رسیو کرنے دروازے تک آۓ۔ ان دنوں عابد کی رابیل تین سال کی تھی اور زاہد کا اقبال البتہ پانچ سال کا تھا۔ کٸ وجوہات کی بنا پر زاہد کی شادی عابد سے پہلے ہوٸ تھی اسی لیۓ اس کا بیٹا رابیل سے بڑا تھا۔ ان کے کمرے کشادہ اور خوبصورت تھے جبکہ انہیں حویلی کے سب سے چھوٹے پورشن میں جگہ دی گٸ تھی۔ پھر بھی حبیبہ شکر گزار رہیں۔ وقار گھر والوں کے اس رویے پر خاموش سے ہوگۓ اور معاذ۔۔ معاذ البتہ اس گھر میں آ کر بالکل بھی خوش نہیں تھا۔
ان کے گھر میں آتے ہی فرحت بیگم نے حبیبہ کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔ وہ اس سمے اپنے بڑھاپے میں بھی خاصی طاقتور معلوم ہوتی تھیں، اور ان کے انداز و اطوار دیکھ کر ہی لگتا تھا کہ انہوں نے اس حویلی پر کٸ سالوں تک حکومت کی ہے۔ حبیبہ سلام کرتیں ان تک پہنچیں۔ لیکن ان کی سلامتی کا انہیں کوٸ بھی جواب نہیں دیا گیا۔
"بیٹھو لڑکی۔۔"
تحکم سے کہا گیا تو وہ ان کے عین سامنے صوفے پر جابیٹھیں۔
"پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ میرا گھر ہے اور یہاں کے قوانین بھی میرے ہی طے کردہ ہیں۔ سب سے پہلے تو تم اپنے سر سے اس دوپٹے کو ہٹاٶ۔ مجھے نہیں پسند کہ تم میرے ہی گھر میں رہتے ہوۓ، میرے بیٹوں سے پردہ کرو۔ اگر تو تم یہاں رہنا چاہتی ہو تو تمہیں میری ہی مان کر چلنا پڑے گا۔"
حبیبہ کے گلابی سے چہرے پر لمحے بھر کو حیرت ابھری تھی۔
"کیا مطلب امی۔۔ میں سمجھی نہیں۔ "
"مطلب صاف ہے لڑکی۔ اگر تمہیں یہاں رہنا ہے تو اپنا یہ پردہ وغیرہ ختم کرنا ہوگا۔ یہ میرا گھر ہے اور میرے بیٹے کوٸ موالی یا سڑک چھاپ نہیں ہیں جن سے پردے کی تمہیں کوٸ ضرورت ہے۔ اس دوپٹے کو اپنے سر سے اتارو اور خاموشی سے میری بات مان کر چلو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔۔"
وہ بول کر خاموش ہوٸیں تو حبیبہ نے نرمی سے مسکرا کر ان کی جانب دیکھا۔
"جانتی ہیں صحابیات کو جن سے پردے کا حکم دیا گیا تھا وہ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم کے ساتھی تھے۔"
ان کے جواب نے لمحے بھر کو فرحت بیگم کو لاجواب کیا تھا۔ پھر وہ گردن تان کر بیٹھیں۔
"میرے سامنے زیادہ زبان درازی کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ کتنا دین پر چلنا ہے اور کتنا دنیا کو دیکھنا ہے۔ اسی لیۓ، عورت کی آنکھ میں حیا کا ہونا کافی ہے۔ اگر وہ حیادار ہے تو اسے کسی قسم کے پردے کی ضرورت نہیں۔۔"
"لیکن امی، پردے کا حکم تو اس جہان کی سب سے زیادہ نیک اور باحیا عورتوں کو دیا گیا تھا۔ انہیں تو اس بات پر نہیں چھوڑا گیا کہ تمہاری آنکھ میں پردہ ہے تو ٹھیک ہے۔ کیا ضرورت ہے چادروں کو اپنے سروں پر لٹکانے کی۔۔"
ان کی بہت آرام دہ سی وضاحت پر، فرحت بیگم لمحے بھر کو تلملاٸیں۔ پھر ابرو مزید تیکھے کر کے ان کی جانب دیکھا۔
"جو بھی ہو۔۔ لیکن یہاں تمہیں میرے احکامات کے مطابق چلنا ہوگا۔ یہ تمہارا گھر نہیں ہے جہاں تم اپنی مرضی سے رہوگی۔ بلکہ یہ میری سلطنت ہے اور اس سلطنت کی حکمران بھی میں ہی ہوں۔ رعایا کو کوٸ حق نہیں کہ وہ حکمران کی کسی بات بھی اعتراض کرے یا پھر ان کی کسی بات کو رد کرے۔ اور تم۔۔ تم تو ویسے بھی قابلِ نفرت ہو۔ کیونکہ جس کی بیوی بن کر تم اس گھر میں آٸ ہو، وہ ہمیشہ سے میرے لیۓ قابلِ نفرت رہا۔ اسی لیۓ یہاں اپنی حیثیت کو قبول کر کے رہنا نہیں تو۔۔ پھر تمہیں ابھی اندازہ نہیں ہے ان سزاٶں کا جن کا نشانہ ہر وہ شخص بنا جس نے میری حکم عدولی کی۔ "
حبیبہ کا دل یکدم کانپا تھا لیکن پھر بھی وہ بمشکل سر ہلا کر ان کے کمرے سے اٹھ آٸیں۔ معاذ جو ایک جانب خاموشی سے بیٹھا تھا ان کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا۔ ان کا گلابی سا چہرہ اس وقت اسے بے حد سفید لگا تھا۔ وہ خاموشی سے آ کر بیڈ کی پشت سے سر ٹکا کر بیٹھ گٸیں۔ پھر معاذ کو دیکھ کر تھکن زدہ سا مسکراٸیں۔ وہ اب کے ان کے عین سامنے آ بیٹھا تھا۔
"یہ لوگ اچھے نہیں ہیں ماں۔۔"
اس نے بے چینی سے حبیبہ کی نگاہوں میں ڈولتی اداسی کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پیچھے کیا۔ اس کی روشن پیشانی واضح ہوٸ تھی۔
"سب لوگ اچھے ہوتے ہیں معاذ۔ بس ہمیں صبر کے ساتھ ان کی اچھاٸ کو تلاشنا ہوتا ہے۔"
" لیکن یہ لوگ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ماں۔ یہاں پر کوٸ بھی آپ کو، مجھے یا پھر بابا کو پسند نہیں کرتا۔ "
اتنی چھوٹی عمر میں اس کی باریک بینی پر حبیبہ نے گہرا سانس لیا تھا۔ لمحے بھر کو انہوں نے اسے خاموشی سے دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔
"دیکھو معاذ۔۔ میں جانتی ہوں بیٹا کہ تم انسانی رویوں کو بہت باریکی سے دیکھنے کے عادی ہو، مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ تم جسے پسند نہیں کرتے اسے اس کے منہ پر ہی کہہ دیتے ہو اور اگر نہیں بھی کہتے تو تمہارے چہرے پر اس قسم کے آثار نمایاں ہوتے ہیں جن سے پتہ چل جاتا ہے کہ تمہیں کیا اچھا لگ رہا ہے اور کیا نہیں۔۔"
وہ ان کی تمہید کا مقصد سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔
"اپنے غم کی شکایتیں انسانوں سے نہیں کرتے معاذ۔ ناں یہ کسی کو پتہ لگنے دیتے ہیں کہ ہمیں کیا اچھا لگ رہا ہے اور کیا نہیں۔ اپنے غم کی شکایت ہمیں صرف اللہ سے کرنی ہے۔ جیسے حضرت یعقوب علیہ اسلام نے کی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یوسف علیہ اسلام کی گمشدگی میں ان کے بیٹوں کا ہاتھ ہے لیکن پھر بھی معاذ وہ خاموش رہے۔ شدید غم میں بھی وہ اپنے بچوں پر نہیں چلاۓ نہ ہی انہیں کچھ ایسا کہا جو نازیبا ہو۔ بلکہ وہ خاموشی سے اپنے غم کی فریاد اللہ سےکرتے رہے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی دعاٸیں اللہ کے علاوہ اور کوٸ نہیں سن سکتا۔"
ان کی نرم آواز اس کی سماعت میں سکون سا گھولنے لگی تھی۔ وہ بے بسی سے ان کے پرسکون مگر اداس چہرے کو دیکھے گیا۔
"لیکن ہر دفعہ صبر ہم ہی کیوں کریں ماں۔۔!!"
اس کی سرمٸ آنکھوں میں لمحے بھر کو بے چینی سی ابھری تھی۔ حبیبہ نے اس کی چہرے پر محبت سے ہاتھ رکھا۔
"صبر ہر کوٸ نہیں کرسکتا معاذ۔ اللہ ہر کسی کو تپتے صحرا میں ایک بچے کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ تو کوٸ کوٸ ہوتا ہے بچے جو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ کر اللہ کی مدد کا انتظار کرتا ہے۔ اور پھر ایک وقت تو ایسا آ ہی جاتا ہے کہ بچھڑے باپ کو اس کی اولاد مل جاتی ہے، پیاس سے تڑپتے بچے کی خاطر زم زم کا چشمہ جاری کردیا جاتا ہے اور ایک زرخرید غلام کو مصر کا تخت عطا کردیا جاتا ہے۔ صبر تو بڑے بڑے لوگوں کا کام ہے۔ کڑا ضبط اور بڑا ظرف رکھنے والوں کا کام ہے بچے صبر تو۔ اور صبر کرنے والوں کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ اس کا بہت بھاری اجر تمہیں عطا کیا جانے والا ہے۔ بس تھوڑی سی اور آزماٸش۔۔"
ان کی باتیں امید کا سرا تھما دیا کرتی تھیں کیونکہ وہ قرآن پڑھنے والی تھیں۔ قرآن والے کبھی مایوسیوں میں گھر ہی نہیں سکتے تھے۔
"میں کوشش کرونگا کہ ان لوگوں میں شامل ہوسکوں جو صبر والے ہیں۔۔"
"شاباش۔۔ تمہیں میرا ایسا ہی بیٹا بننا ہے۔ تمہیں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا معاذ۔ تمہیں ابھی بہت سے لوگوں کے آگے کھڑے ہو کر انہیں نمازیں پڑھانی ہیں۔ تمہیں ابھی اپنے حفظ کیۓ قرآن سے دنیا کی تاریکی دور کرنی ہے۔ اور اگر تم نے صبر کا دامن چھوڑ دیا تو کبھی قرآن کا دامن نہیں پکڑ پاٶ گے بچے۔ قرآن صبر کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ تمہیں بھی بہت صبر کرنے والا بننا ہے ہوں۔۔"
پیار سے ایک بار پھر سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاٸیں تو وہ بھی گہرا سانس لیتا ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ حبیبہ اب بھی اس کے بالوں میں انگلیاں چلارہی تھیں۔ چند لمحوں بعد چہرہ جھکا کر دیکھا تو وہ سوچکا تھا۔ انہوں نے مسکرا کر اس کے ماتھے سے بال ہٹاۓ اور جھک کر اسکی پیشانی چومی۔ ان کا پیارا سا معاذ اب کہ گہری نیند سو رہا تھا۔ لیکن اس کے سوتے ہی حبیبہ کی نگاہوں میں گلابی سی نمی چمکی تھی۔ جسے اس سمے صرف اللہ دیکھ رہا تھا۔ اور ان کے دل سے نکلتی دعاٶں کو صرف وہی سننے والا تھا۔۔
