#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
چوتھی_قسط کا بقیہ حصہ
رابیل نے چہرہ ایک جانب سے گھٹنے پر رکھا ہوا تھا۔ وہ رو نہیں رہی تھی مگر پھر بھی آنسو آنکھوں سے پھسلتے جارہے تھے۔ اس نے چہرے کے گرد بندھا دوپٹہ کھول دیا تھا اور اب وہ پھسل کر اس کی گردن میں جھول رہا تھا۔ بال ہاف بندھے ہونے کے باعث ڈھیلے ہو کر لٹوں کی صورت اس کے چہرے پر گر رہے تھے مگر وہ ویسے ہی خای خالی نظروں سے چہرہ ایک گھٹنے پر رکھے دیوار کو دیکھے گٸ۔
اسے یاد تھا۔۔ اسے وہ واقعہ یاد تھا جب بلال ؓ کو گرم تپتی ریت پر لٹایا گیا تھا۔ اسے اپنی کمر پر بھی اس ٹھنڈ میں وہی گرم ریت محسوس ہورہی تھی۔ امیہ ان پر جھک کر کہہ رہا تھا کہ وہ مٹی کے خداٶں کا نام لے۔ وہ اگر ان کا نام لے گا تو وہ اسے اس ذلت کے عذاب سے آزاد کردینگے لیکن پھر کیا ہوا۔۔؟
اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔۔
”احد۔۔ احد۔۔!!“
بس ایک اللہ۔۔ بس ایک وہی۔۔ ان کے سینے پر رکھے بھاری پتھر کے باعث لگتا تھا کہ اب روح پرواز کر جاۓ گی لیکن وہ پھر بھی کہتے رہے ”احد“۔۔ وہ پھر بھی کہتے رہے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ جیسا کوٸ نہیں۔
اللہ کی بات جیسی کسی کی بات نہیں۔ اللہ کے کلام جیسا کسی کا کلام نہیں۔ اللہ کے حکم جیسا کسی کا حکم نہیں۔ وہ اس وقت احد احد کی گردان کرتے صرف اپنے آقا کو نہیں جھٹلا رہے تھے۔ بلکہ وہ اس سمے تپتے صحرا کی گرم ریت پر لیٹے اس بات پر گواہی دے رہے تھے کہ اللہ سے بڑا کوٸ نہیں۔ اللہ کی بات سے بڑی کسی کی بات نہیں۔
اس کی دوسری آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔ اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب لمحے بھر کو جگمگاٸ تھی۔ اس کی آیتوں سے اٹھتی سکون کی مہک اس کے سارے کہف میں تحلیل ہونے لگی لیکن وہ اس کی جانب متوجہ نہیں تھی۔چہرہ ایک جانب کو گھٹنے پر رکھے اس کی ویران آنکھیں کمرے میں بچھے دبیز قالین پر تھیں اور دل۔۔ دل کہیں پیچھے گرم صحرا میں بھٹک رہا تھا۔
”بھلا دیکھو تو اس کو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرایا۔۔“
یکایک اس کی سماعت میں وہ مدھر، دلوں کو پگھلادینے والی آواز گونجی تھی۔ اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔ دل بھاری ہونے لگا۔۔ جسم پر منوں بوجھ آگیا۔
”اور اللہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا“
اس کی خوف سے پھیلیں آنکھیں اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب پر جمی تھیں۔ ان آنکھوں میں جما پانی اب تک ہلکورے لے رہا تھا۔
”اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی۔۔“
اسے لگا کہ اس نے مزید اس آواز کو سنا تو وہ ٹوٹ جاۓ گی۔ وہ ٹوٹ کر بکھر جاۓ گی۔ اس کا دل جیسے کسی نے پہاڑ تلے رکھ کر مسل ڈالا تھا۔ سینہ اس آواز پر آزاد ہونے کے بجاۓ تنگ پڑنے لگا۔ لیکن اس کا سکینت والا کہف اس مدھر آواز کے سحر میں جکڑنے لگا تھا۔۔
”اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا۔۔“
اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں کو لمحے بھر کے لیۓ دیکھا تھا۔ یہ آخر کونسا انداز تھا اس قرآن کا جس سے اس کے وجود کا ہر خلیہ خوف سے سکڑ کر پھیل رہا تھا۔۔
”تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھاۓ گا ؟ تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔۔“ سورہ جاثیہ/٢٣
اس نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔ آنکھوں میں جمے آنسو اب کہ بے ساختگی سے رخساروں پر پھسل رہے تھے۔ یہ کتاب۔۔ یہ کتاب کیسے عاجز کردیا کرتی تھی۔ کیسے اپنے پڑھنے والوں کو مبہوت کردیا کرتی تھی۔ وہ جو ابھی کچھ دیر پہلے صاٸمہ پھپھو کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ کیا ہیں۔۔ وہ کیوں ایسا کرتی ہیں۔۔ وہ کیوں اپنی بات کو ہر بات سے اونچا رکھنا چاہتی ہیں تو قرآن نے۔۔ ہاں اس کے قرآن نے اسے آج ایک بار پھر سے اس کے سوال کا جواب دیا تھا۔
وہ ایسا اس لیۓ کرتی تھیں کیونکہ وہ اپنی ہی خواہشات کو الٰہ بنا چکی تھیں۔ وہ انہیں ہی خدا بنا چکی تھیں۔ ہم مسلمان لوگ۔۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم بتوں کی پرستش نہیں کرتے تو شاید ہم شرک کے مرتکب نہیں ہوتے۔ ہم جب تک کسی پتھر کی مورتی کو نہیں پوجتے تب تک ہم شرک سے پاک رہتے ہیں لیکن کیا میں تمہیں بتاٶں کہ بت کیا ہوا کرتے ہیں۔۔؟ ہمارے وقت کے بت ابراہیم علیہ سلام کے وقت کے بتوں جیسے نہیں ہیں۔ ہر قوم کے اپنے بت ہوا کرتے ہیں۔ ان کے مٹی اور پتھر کے تھے اور ہمارے۔۔ ہمارے کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بتوں کی ہیٸت تبدیل ہوگٸ ہے مگر اس کا فتنہ آج بھی وہی ہے۔ آپ کا بت وہی ہے جس کی بات آپ اللہ کی بات سے اونچی رکھتے ہو۔ آپ کا بت وہی ہے جس کی بات کے آگے آپ اللہ کی بات کو پیچھے ڈال دیتے ہو۔ کیا ایسا نہیں تھا کہ صاٸمہ اپنی ذات کی برتری کو ایک عرصے سے پوج رہی تھیں۔ اپنی ذات کی اور اپنی ذات کی بڑاٸ کی عرصے سے پرستش کررہی تھیں۔ ان کی بات انہیں اللہ کی بات سے زیادہ اہم لگ رہی ہے تو مطلب وہ شرک کی مرتکب ہیں۔
صاٸمہ پھپھو نے بھی اپنی بات کو اپنا الٰہ بنالیا تھا۔ وہ جانتی نہیں تھیں کیونکہ اللہ نے ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے دل پر مہر لگا دی تھی، ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا اور ان کے کانوں نے حق بات کو سننے سے انکار کردیا تھا۔
کٸ سالوں تک اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ہم شرک کی کونسی گہری کھاٸ میں دھنستے جارہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ جب ہم اللہ کی بات کو پیچھے ڈال کر خود کی بات آگے لاتے ہیں تو ہم کس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اہلِ مکہ۔۔ اہلِ مکہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی اللہ کے وجود سے انکار نہیں کیا۔ وہ اکثر اپنے باپ ابراہیم کے علیہ اسلام کے دین کا ذکر کیا کرتے تھے لیکن کیا وجہ تھی کہ وہ پھر بھی مشرک تھے۔۔؟
وہ آہستگی سے اٹھی۔ ٹانگیں بے حد کانپ رہی تھیں اور نگاہیں بار بار گلابی سی نمی سے دھندلی ہورہی تھیں۔ اس نے قرآن کی جانب قدم بڑھاۓ۔
وہ مشرک اسی لیۓ سمجھے جاتے تھے کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے بتوں کی بھی برابر پرستش کیا کرتے تھے۔ وہ ان بتوں کو اللہ کا مددگار مانتے تھے۔ اور ہم۔۔ آج ہم کیا کررہے ہیں۔۔؟
اس کے لرزتے قدم اب بھی قرآن کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کہف دم سادھے کھڑا تھا۔ دوپٹہ کہیں وہیں قالین پر گرا تھا اور وہ چہرے کے اطراف میں گرتی لٹوں کی پرواہ کیۓ بغیر اس کتاب کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ہم بھی اللہ کے ساتھ اپنی خواہشات کی عبادت کررہے ہیں۔ ہم اس کی ذات کے ساتھ شرک کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ہم نے اپنے اپنے بت بنا کر کٸ سالوں تک ان کی عبادت کی ہے۔ کسی کا بت پیسہ بن گیا، کسی نے شہرت کو اپنا خدا بنا لیا، کسی نے اللہ کے مقابلے پر طاقت کو چن لیا اور کسی نے۔۔ کسی اپنی ذات ہی کو اللہ کے مقابل لا کھڑا کیا۔ جو بھی چیز، جو بھی احساس، اور جو بھی انسان آپ کو اللہ کی جانب جانے سے روکے وہ آپ کا بت ہے۔ اور اس بت کا توڑا جانا لازمی ہے۔
اس نے قرآن کے عین سامنے رک کر اپنا دل سنبھالا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ سانس چڑھا ہوا تھا جیسے وہ میلوں کی مسافت طے کرتی یہاں تک پہنچی ہو۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے قرآن کا دروازہ کھولا۔ اور سامنے ہی روز اول کی طرح اس کی آیتیں آج بھی روشن تھیں۔
”جنت والے اور دوزخ والے برابر نہیں“
وہ بے دم ہو کر ایک قدم پیچھے ہٹی تھی۔ ایک لمحے کے لیۓ اس کا دل رک گیا تھا۔ اسے لگا کہ اب وہ کبھی سانس نہیں لے پاۓ گی۔ لرزتے ہاتھوں سے کرسی پیچھے کھینچتے وہ اب کہ قرآن کے سامنے دھڑکتا دل لیۓ بیٹھی ہوٸ تھی۔ آنسو ٹپ ٹپ اس کی گود میں گرنے لگے۔ وہ برابر نہیں۔۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھی جو اللہ کے سامنے بہت سے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اس نے اپنا بت توڑا تھا۔ اس نے اپنی روایتوں کا بت توڑا تھا بھلا وہ اور صاٸمہ ایک جیسے کیسے ہوسکتے تھے۔ اس کی سرخ پڑتی آنکھوں سے بہتے قطرے اسی روانی سے اس کی گود میں گرنے لگے۔
جنت اور دوزخ والے بھلا برابر کیسے ہوسکتے تھے۔۔؟ بت توڑنے اور بتوں کی عبادت کرنے والوں کی برابری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے ایک نگاہ اٹھا کر بقیہ آیت کو دیکھا۔۔
”جنت والے ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔“
سورہ حشر/٢٠
اوہ اللہ۔۔ اس کے لبوں سے بے اختیار اس کا نام نکلا تھا۔ اس نے قرآن اٹھا کر اپنے سینے سے لگالیا۔ بے اختیار اس کی ہچکیاں کمرے میں گونجنے لگی تھیں۔ جہاں وہ ہمت چھوڑتی اللہ اسے اٹھالیا کرتا تھا۔ اور اللہ اسے بتا رہا تھا کہ اس نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ بے شک جنت والے ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ وہ جلد نہیں تو بدیر ہی سہی۔۔ مگر وہ کامیاب ضرور ہوگی۔ ہاں۔۔ جو اپنے بت توڑ دیا کرتے ہیں وہ ایک نہ ایک دن کامیاب ضرور ہوتے ہیں۔ اس نے بھی اپنا بت توڑ دیا تھا۔۔ لیکن اس بت کو پارہ پارہ کردینے کی اذیت، اب عرصے تک اس کے ساتھ رہنے والی تھی۔ کیونکہ جنت کو جاتے راستے پر کانٹوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔۔
اس نے بیگ میں اپنے کپڑے ٹھونسے اور اسے کندھے پر ڈالتا باہر کی جانب بڑھا۔ سارا گھر خالی پڑا تھا۔ سب بارات میں گۓ ہوۓ تھے۔ سواۓ وقار کے۔۔ نہ تو انہیں جانے کی پیشکش کی گٸ تھی اور نہ انہوں نے ان حالات میں جانا مناسب سمجھا۔ ابھی تو وہ صرف معاذ اور رابیل کو سنبھالنا چاہتے تھے۔ ایک خود کو کمرے میں بند کیۓ بیٹھی تھی اور دوسرا، شدید طیش میں بیگ کندھے پر ٹانگے سپاٹ چہرہ لیۓ کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔ وہ یکدم اس کی جانب بڑھے۔ اس نے ایک لمحے کو رک کر انہیں سیاہ نظروں سے دیکھا تھا۔
”تم کہاں جارہے ہو۔۔؟“
لیکن اس نے کوٸ جواب دیۓ بغیر ہی تیزی سے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ تو وقار ایک بار پھر سے اس کے سامنے آکھڑے ہوۓ۔ اب کہ معاذ نے لمحے بھر کو آنکھیں موند کر کھولی تھیں۔
”تم اس وقت ایسے کیسے جاسکتے ہو۔۔؟“
”تو کیا کروں۔۔؟ ان انسانیت سے خالی لوگوں کے گھر میں پڑا رہ کر بے غیرتی کی روٹیاں توڑتا رہوں۔؟“
”معاذ۔۔“
انہوں نے اسے لمحے بھر کو بازو سے تھاما لیکن اس نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
”کیا چاہتے ہیں بابا آپ مجھ سے۔۔؟ اور کیا رہ گیا جو مجھے مزید برداشت کرنا ہے۔۔؟“
”معاذ بیٹا۔۔ تمہارا یوں جانا انہیں مزید باتیں کرنے کا موقع دے گا۔۔۔“
”تو کریں۔۔ شوق سے کریں باتیں۔۔ میں ان پر لعنت بھی نہیں بھیجتا ہوں۔۔“
اس نے کڑوے لہجے میں کہہ کر ایک بار پھر دروازے کی جانب قدم تیزی سے پھیرے تھے۔ وقار نے اسے پھر سے بازو سے تھاما۔۔
”کیا تم اپنے باپ کے لیۓ اتنا بھی نہیں کرسکتے معاذ۔۔! تم مجھے ان سب کے درمیان یوں بے نوا چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہو۔۔؟“
ایک لمحے کو وقار کی آنکھوں میں کچھ چمکا تھا۔ کچھ گلابی سا، لیکن اس کا سرمٸ ارتکاز سیاہ ہی رہا۔
”اور جانتے ہیں اگر میں یہاں رہا تو پھر کیا ہوگا۔۔؟“
”معاذ تم۔۔“
”بابا نے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ پھر کیا ہوگا۔۔؟“
اسکی آواز لمحے بھر کو طیش سے بلند ہوٸ تھی۔ خالی در و دیوار اس کی آواز پر سنسنا اٹھے تھے۔ وقار نے بے بسی سے دیکھا تھا اسے۔۔
”آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟ کیا لگتا ہے آپ کو، کہ میں ان سب سے اتنے سال کیوں دور رہا۔۔؟ کیا اندازہ ہے آپ کو کہ جب ان کے ہنستے مسکراتے چہروں پر میری نگاہ پڑتی ہے تو مجھے کیا کیا یاد آجاتا ہے۔۔؟ لیکن پھر بھی میں۔۔ بابا میں نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن ابھی اگر آپ نے مجھے یہاں روکا تو شاید میں بھی انسانیت کے درجے سے کوٸ گری ہوٸ حرکت کر بیٹھونگا۔۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں ایسا کچھ کروں۔۔؟“
اس کا بولتے بولتے سانس پھول گیا تھا اور تیز لہجہ گویا آگ برسا رہا تھا۔ اپنے کمرے کے دروازے سے لگی رابیل نے تکلیف سے اس کے ٹوٹتے وجود کو دیکھا تھا۔ اس نے معاذ کو پہلے کبھی اتنی تکلیف میں نہیں دیکھا تھا۔ اس نے کبھی اسے اتنا تھکا ہوا نہیں دیکھا تھا۔
”معاذ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ کم از کم تم یوں بزدلوں کی طرح واپس نہ جاٶ۔۔“
”بزدل۔۔۔!“
وہ لمحے بھر کو اس لفظ پر مسکرایا تھا۔ پھر سپاٹ نظروں سے وقار کی جانب دیکھا۔۔
”آپ کو لگتا ہے میں بزدل ہوں۔۔! آپ کو لگتا ہے کہ میرا یہاں سے چلے جانا بزدلی کی نشانی ہے ہاں۔۔!“
اس نے نفی میں سر ہلا کر افسوس سے اپنے باپ کی جانب دیکھا تھا۔
”ہم دونوں میں سے کون زیادہ بزدل ہے کیا میں آپ کو بتاٶں بابا۔۔!“
اور وہ لفظ گویا وقار کے اندر کو اندر تک زخمی کر گۓ تھے۔ معاذ بہت بے رحم تھا۔۔ لفظوں کے معاملے میں تو بہت زیادہ۔ لمحے بھر کو وقار کے سینے میں گھٹن سی پیدا ہوٸ تھی۔
”تم اپنے باپ کو ایسے کیسے۔۔“
افسوس سے بس یہی کہہ پاۓ تھے وہ۔۔
”کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ بے رحمی سے پیش آٶں۔۔؟ اور اگر آپ ایسا نہیں چاہتے تو ابھی کہ ابھی میرے راستے سے ہٹ جاٸیں بابا، کیونکہ مجھے یہاں روکنے کا مطلب ابھی آپ جانتے نہیں ہیں۔۔ اگر آپ کو اندازہ بھی ہوجاۓ کہ میرا طیش مجھ سے کیا کروا سکتا ہے تو کبھی آپ مجھے اس گھر کے آس پاس پھٹکنے بھی نہ دیں۔۔ اسی لیۓ۔۔“
بے رحمی سے بولتے بولتے اس نے وقار کے ہاتھ کو جھٹکا تھا۔۔
”میرے راستے سے ہٹیں بابا۔۔“
اور وقار خاموشی سے گیلی آنکھوں سے اسے چند پل دیکھنے کے بعد سامنے سے واقعی ہٹ گۓ تھے۔ معاذ نے ایک لمحے کی بھی دیر کیۓ بغیر تیزی سے قدم آگے بڑھاۓ اور پھر وہ لمحے بھر کو ٹھہر گیا۔
رابیل نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سرمٸ آنکھوں میں لمحے بھر کو ایک گہرا دکھ سا ابھرا اور پھر وہ نظروں کا زوایہ اگلے ہی پل بدل کر تیزی سے داخلی دروازہ عبور کر گیا تھا۔ رابیل نے جلدی سے وقار تایا کی جانب دیکھا۔ وہ درمیان میں شکستہ سے کھڑے کے کھڑے رہ گۓ تھے۔ ایک پل کو پلٹ کر داخلی دروازے کی جانب بھی دیکھا جہاں سے وہ ابھی ابھی نکل کر گیا تھا۔ لیکن پھر رابیل کو کمرے کے دروازے سے لگے دیکھ کر وہ بے اختیار چونکے۔ وہ انہیں دیکھ کر لمحے بھر کو ہلکا سا مسکراٸ تھی۔ وقار کے چہرے پر بھی تھکن زدہ سا تبسم آٹھہرا تو وہ ان کے پاس چلی آٸ۔
”آپ کا بیٹا بہت بدتمیز ہے تایا۔ ہر وقت غصہ کرتا رہتا ہے۔۔“
اس نے ایک پل کو پلٹ کر خفگی سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔ وقار اب کہ دل سے اس کی بات پر مسکراۓ تھے۔
”بدتمیز تو ہے لیکن کیا کریں بیٹا ہے ناں۔۔“
”لگایا کریں ایک دو اسے اس کی بدتمیزی پر۔ جنگلی۔۔ اندازہ ہوجاۓ ناں اسے کہ اللہ باپ کو ناراض کرنے والے سے کتنا ناراض ہوتے ہیں تو کبھی ایسا نہ کرے یہ۔۔“
”وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے رابیل۔۔“
”سب اپنی جگہ ٹھیک ہیں تایا۔ آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں، میں اپنی جگہ۔ بابا سے پوچھیں گے تو ان کے پاس بھی کوٸ نہ کوٸ تاویل ہوگی اور اگر پھپھو سے ان کے رویے کا چیک مانگیں گے تو ان کے پاس بھی ایک کڑا جواز ہوگا۔ سب اپنی اپنی جگہوں پر خود کو درست ہی سمجھتے ہیں تایا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ آپ سے اتنی بدتمیزی کرے گا۔۔“
وقار اس کے جواب پر نرمی سے مسکراۓ تھے۔ اس کے حجاب کے ہالے میں دمکتے چہرے پر صاٸمہ کے بھاری ہاتھ کا نشان اب تک ثبت تھا۔ انہیں اس لڑکی کو دیکھ کر ایک پل کے لیۓ دکھ ہوا تھا۔۔
”تم تو سچ میں بڑی ہوگٸ ہو رابی۔ اتنی اچھی باتیں کرنے لگی ہو۔ تھوڑی سی اس بدتمیز کو بھی سکھادو۔۔“
”بہت مشکل ہے اس کا سیکھنا۔۔“
اور اگلے ہی پل وقار ہنس پڑے تھے۔ رابیل انہیں ہلکا پھلکا دیکھ کر اداسی سے مسکراٸ تھی۔
”وہ بدتمیز نہیں بدلحاظ ہے۔ اور بیٹا ہمارا یہ بلیم گیم تو چلتا ہی رہتا ہے۔ ابھی اس نے مجھ سے اپنی بات منواٸ ہے، کل کو میں اس سے اپنی بات منوالونگا۔۔“
ان کے کندھے اچکانے پر رابیل نے لمحے بھر کو سر ہلایا تھا۔۔
”آپ۔۔ واقعی منوالیتے ہیں۔۔؟ مجھے سچ بتاسکتے ہیں آپ۔“
اور اگلے ہی پل وقار اس کی چوٹ پر واقعتاً ہنس پڑے تھے۔ پھر سر ہلا کر کہنے لگے۔
”ضدی ہے، پر میں سچ میں اس سے اپنی باتیں منوالیتا ہوں۔ زبان کا کڑوا ہے لیکن دل نرم رکھتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ کسی کو بتاتا نہیں ہے اور نہ ہی اپنے بارے میں باتیں کرنا پسند ہے اسے۔ اسی لیۓ اس کی سوچ کا داٸرہ کار کیسا ہے مجھے نہیں پتہ۔۔“
اب کہ بہت سبھاٶ سے سچ بولا تھا انہوں نے۔ اس نے ایک پل کو پھر سے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھا تھا۔ وقار چند لمحے کچھ سوچتے رہے پھر اس کی جانب دیکھا۔
”رابیل یہ۔۔ ارحم تمہارا منگیتر ہے۔۔؟“
اس نے چونک کر ان کی جانب چہرہ پھیرا تھا۔ پھر اثبات میں سر ہلایا۔
”جی تایا۔۔“
”تم لوگوں کا رشتہ کب ہوا۔؟ مجھ سے تو عابد نے کوٸ ذکر نہیں کیا اس بارے میں۔۔“
”بس تایا۔۔ پھپھو ایک دن آٸیں کہا کہ وہ ارحم کے لیۓ مجھے پسند کرتی ہیں تو گھر ہی گھر میں بابا نے ہاں کردی۔ کوٸ بڑا فنکشن نہیں رکھا گیا تھا لیکن پھر بھی خاندان والے میری منگنی کے بارے میں جانتے ہیں۔ “
”تو جب۔۔ اس نے تمہارا ہاتھ ارحم کے لۓ مانگا تو۔۔ کیا تب تم حجاب کرتی تھیں۔۔؟“
ان کی ہچکچاہٹ اسے بجا طور پر محسوس ہوٸ تھی لیکن وہ پھر بھی آرام سے کھڑی رہی۔
”نہیں تایا۔۔ تب میں حجاب نہیں لیتی تھی۔۔“
اوہ۔۔ ایک لمحے کو رک کر انہوں نے آس پاس دیکھا تھا۔ پھر اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہولے سے مسکرادیۓ۔
”چاۓ کیسی بناتی ہو رابیل۔۔؟“
اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔ پھر وقار کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر اپنے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گٸ۔
”مزے کی بناتی ہوں۔۔ پٸیں گے آپ۔۔؟“
”ضرور پیونگا۔۔“
اور اس کو تو جیسے کسی نے پتنگے ہی لگا دیۓ تھے۔ اتنے دنوں بعد کسی نے اس سے اتنی اپناٸیت سے بات کی تھی۔ اس کے رخسار اس سمے خوشی سے گلابی ہوگۓ تھے اور آنکھیں جانے کیوں ان کی اپناٸیت پر بھیگ گٸ تھیں۔۔
”ابھی نہیں رونا تم نے۔ بہت رولیا۔۔ اب میرے اور اپنے لیۓ چاۓ بناٶ پھر مجھے بتانا کہ وہ کونسی سورت ہے جس نے تمہیں اب تک سب سے زیادہ فیسینیٹ کیا ہے۔۔“
اور ان کی اگلی بات پر تو گویا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ اس کے گھرانے میں سے کسی نے پہلی دفعہ اس سے قرآن کے بارے میں کچھ پوچھا تھا۔ اس کا دل شکر سے جھکنے لگا۔ پھر وہ کچن کی جانب تیزی سے بڑھی اور چاۓ کا پانی رکھنے لگی۔ ابھی اسے وقار تایا سے ڈھیروں ڈھیر باتیں بھی کرنی تھیں۔ اپنی باتیں، اپنے اور اللہ کے تعلق کی باتیں، قرآن اور اس کے اعجاز کی باتیں۔۔ باتیں ہی باتیں۔۔ اور اگر کبھی انسان کو سرد رات میں، چاۓ کے ساتھ کسی اپنے سے اپنے دل کی باتیں کرنے کا موقع ملے تو اسے وہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیۓ کیونکہ، چاۓ، قرآن اور آپ کو سمجھنے والا انسان بار بار نہیں ملا کرتے۔۔
اور ٹھیک اسی پل سڑک پر تیز تیز قدم اٹھاتے معاذ کے چہرے پر کسی قسم کا کوٸ تاثر رقم نہیں تھا۔ وہاں پر خاموشی تھی۔ گہری خاموشی ۔۔
”معاذ۔۔ اللہ کے بندے معاف کردیا کرتے ہیں، اگر تم لوگوں کو ان کی غلطیوں پر معاف نہیں کروگے تو پھر اپنے لیۓ اللہ سے معافی کیسے طلب کروگے۔۔؟“
اس کی سماعت میں وہ نرم آواز ایک بار پھر سے گھلنے لگی تھی۔ دل گویا اس آواز پر کٹنے لگا۔۔
”مومن کا دل بھی مومن ہونا چاہیۓ۔ اگر دل مومن نہیں ہوگا تو وہ کبھی حقیقی مومن بن ہی نہیں سکتا۔ یہ قرآن۔۔ معاذ یہ ہمیشہ دل ہی کی بات کیوں کرتا ہے۔۔؟ یہ ہمیشہ دلوں کی تنگی اور دلوں کی ہدایت کی بات پر کیوں زور دیتا ہے۔۔؟ وہ اس لیۓ بچے کہ انسان کا دل درست رہے گا تو پورا انسان درست رہے گا اور اگر اس کے دل ہی میں ٹیڑھ آگیا تو اس کا سیدھے راستے پر چلنا دشوار ہوجاۓ گا۔۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر شیطان کی بچھاٸ گٸ بھول بھلیوں میں کھو جاٶ۔۔؟“
اس کے قدم اور تیز ہوگۓ تھے۔ اس قدر تیز یوں لگتا تھا گویا اس کے پیچھے سڑک لپیٹی جارہی ہو۔
”تمہیں اپنی خواہشات کو الٰہ نہیں بنانا معاذ۔ اگر تم نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنالیا تو کبھی تم اللہ کو نہیں پاسکوگے۔ یہ تمہارا غصہ۔۔ یہ تمہارا کہیں الٰہ نہ بن جاۓ۔ اگر یہ تمہیں اللہ تک جانے سے روکے گا تو یہ تمہارا خدا بن جاۓ گا۔ اسے کبھی اپنا الٰہ نہ بننے دینا بچے۔۔“
اسکے سرمٸ سے ارتکاز میں گلابی نمی گھلنے لگی۔ وجود اس نرم آواز پر ٹوٹنے لگا تھا لیکن وہ پھر بھی تارکول کی بچھی، سخت سڑک پر چلتا رہا۔ اسے پتہ تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان کی جانب پلٹ کر دیکھے گا تو نہ ان کے حق میں بہتر ہوگا اور نہ اس کے حق میں۔ اپنے غصے کو اپنا خدا بنانے کے بجاۓ اس نے ان کے سامنے سے ہٹ جانے ہی میں عافیت سمجھی تھی۔ یکایک اسے اپنے ہاتھ پر کسی کا یخ سا لمس محسوس ہوا۔ بے ساختہ اس کے آس پاس ایک جانی پہچانی سی خوشبو بھی تحلیل ہونے لگی تھی۔
”جانتے ہو معاذ حضرت یوسف علیہ اسلام نے کن کو معاف کیا تھا۔۔؟“
اسے پھر سے وہ باتیں یاد آنے لگی تھیں جنہیں وہ ہرگز بھی یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ذہن کے کہیں پچھلے حصے میں یاد کے اوراق پھڑپھڑانے لگے۔ دل کی تکلیف لمحہ بہ لمحہ گہری ہونے لگی تھی۔
”اپنے بھاٸیوں کو۔۔“
تیرہ سالہ معاذ نے اپنی ماں کا یخ ہاتھ تھام رکھا تھا۔ اسپتال کے بستر پر دراز وہ زرد مگر بابرکت چہرہ لیۓ نرمی سے اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ پھر اسکے معصوم سے جواب پر مسکراٸیں۔۔
”نہیں معاذ۔“
نفی میں سر ہلا کر گویا اس کا جواب رد کیا۔ اس نے ایک پل کو ناسمجھی سے دیکھا تھا ان کی جانب۔۔
”انہوں نے اپنے اپنوں کو معاف کیا تھا معاذ۔۔“
چمکتے چاند میں یکدم دراڑ سی پڑی۔ اس کے چٹخ جانے کی آواز معاذ کو اس لمحے یہاں تک سناٸ دی تھی۔ اور پھر اس کی ماں کا یخ ہاتھ بے ساختہ اس کے ہاتھ سے ڈھلک گیا۔ تیز تیز قدموں سے چلتے وہ ایک پل کو رکا تھا۔ یاد کا وہ عکس۔۔ وہ زخمی سا عکس اسے آج بھی زخم زخم کردیا کرتا تھا۔
اس نے بڑھتی تکلیف کے پیش نظر اس خیال کو جھٹکنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ڈھلکتے ہاتھ کی اذیت آج بھی کہیں اس کے اندر سانس لے رہی تھی۔ جس سے وہ چاہ کر بھی اپنا دامن نہیں بچا پایا تھا۔۔
