#do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
چوتھی_قسط
اس نے سیاہ ہی عباۓ پر سیاہ حجاب چہرے کے گرد لپیٹا اور جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی، سامنے بیٹھیں صاٸمہ پر اس کی نگاہ پل بھر کو اٹھی تھی۔ انہوں نے اسے دیکھتے ہی تیوری چڑھاٸ اور پھر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹک کر چہرہ پھیر لیا۔ اس نے کمال ضبط سے سہا تھا ان کا یہ انداز۔۔
پھر بھاری ہوتے دل کے ساتھ داخلی دروازہ عبور کرتی باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ پتھریلی روش پر کھڑی چمچماتی کار میں بیٹھ کر اس نے ڈراٸیور کو چلنے کا اشارہ کیا تھا۔ اگلے چند ہی لمحات میں وہ اپنی قرآن ٹیچر کے سامنے بیٹھی تھی۔
انہوں نے نرم نگاہوں سے اس کا بجھا بجھا سا چہرہ دیکھا۔ پھر آگے بڑھ کر اسے پانی کا گلاس دیا۔ اس نے بغیر کسی پس و پیش کے گلاس تھاما اور سارا پانی پی گٸ۔ اسے جیسے یکدم ہی بے حد پیاس لگنے لگی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ایک اور گلاس بھرا اور اس نے وہ بھی پی لیا۔ پھر گہرے گہرے سانس لیتی اندر جما ہوتی گھٹن کو باہر نکالنے لگی۔ زندگی چند ہی دنوں کے اندر کیا سے کیا ہوگٸ تھی۔۔
"کیا ہوا ہے۔۔؟"
"میں نے خواب دیکھا تھا میڈم پچھلی رات۔۔"
اس نے گردن جھکا رکھی تھی اور ٹوٹی پھوٹی سی آواز بمشکل میڈم کی سماعت تک پہنچ رہی تھی۔
"میں نے دیکھا کہ میں ایک غار میں قید ہوں اور اس کے دوسرے سرے پر سنہری سی روشنی ٹمٹما رہی ہے لیکن جیسے ہی میں نے اس کی جانب قدم بڑھاۓ وہ روشنی۔۔ وہ گل ہوگٸ۔"
بہت سے آنسو اس نے اپنے اندر ہی اتار لیۓ تھے۔ میڈم صباحت خاموشی سے دیکھے گٸیں اسے۔
"اس غار میں مجھے کوٸ سورہ کہف پڑھ کر سنا رہا تھا۔"
اس کی اگلی بات پر میڈم سیدھی ہو بیٹھی تھیں۔ اس نے انہیں اب کہ چہرہ اٹھا کر دیکھا۔
"یہ تو بہت اچھا خواب ہے رابیل۔ تم گھبرا کیوں رہی ہو۔۔؟"
"لیکن اس غار میں، میں بہت تکلیف میں تھی میڈم۔ اس کہف میں بہت تاریکی تھی۔ بہت اندھیرا تھا۔ اتنا اندھیرا کہ مجھے اپنے ہاتھ پاٶں تک دکھاٸ نہیں دے رہے تھے۔ یوں لگتا تھا تاریکیوں کی کٸ پرتیں فضا میں پھیلی ہوٸ ہوں۔۔ اور اس غار کا راستہ۔۔ اس کا راستہ بہت طویل تھا۔۔ "
"پچھلے جمعے کو سورہ کہف پڑھی تھی تم نے۔۔؟"
ان کے بہت پرسکون سے سوال پر اس نے لمحے بھر کو چونک کر دیکھا تھا ان کی جانب۔ اور پھر اس کے داغ میں جھماکہ سا ہوا۔
پچھلے جمعے کو تو ذہن اس قدر پراگندہ تھا اور دل اتنا الجھا ہوا تھا کہ اسے سورہ کہف پڑھنا یاد ہی نہیں رہا تھا۔ تو کیا وہ نور اس سے اس لیۓ دور جارہا تھا کہ وہ اس سورہ کو پڑھ نہیں پاٸ تھی۔۔ کیا یہی وجہ تھی۔۔
"میں۔۔ مجھے یاد نہیں رہا پڑھنا۔۔"
اس نے ان سے نگاہ چراٸ تھی۔ وہ نرمی سے مسکراٸیں۔۔
"جب ہم اللہ کے ساتھ کوٸ عہد باندھتے ہیں ناں رابیل، یا پھر اس سے محبت کرنے کا دعوی کرتے ہیں یا اس کے حکم پر سر تسلیمِ خم کر کے بہت لوگوں کی مخالفت مول لیتے ہیں تب۔۔ ہاں تب ہم اس کی خاص نگاہ میں آجاتے ہیں۔ یوں سمجھو کہ ہمارا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر بول ماٸکروسکوپ تلے آجاتا ہے اور ہمارے ہر باریک عمل پر بھی ہماری پکڑ ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہ ہر کسی کے ساتھ نہیں ہوتا رابیل۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک جمعے کی سورہ کہف نہ پڑھنے پر تمہاری امی یا پھر تمہاری بہنوں کو اس قسم کا کوٸ خواب آۓ گا یا انہیں آگاہی کا کوٸ راستہ دکھے گا کہ ان سے کچھ چھوٹ گیا ہے۔ یہ صرف تمہارے ساتھ ہی ہوگا کیونکہ اللہ سے کمٹمنٹ تم نے کی ہے انہوں نے نہیں۔ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا تھا کہ جو بھی ایک جمعے کو سورہ کہف پڑھے گا اسے دوسرے جمعے تک نور نصیب ہوگا۔ یعنی اس کے دو جمعوں کے درمیان نور ہوگا۔ تمہارے غار کا نور تمہیں اس لیۓ نہیں ملا کیونکہ تم نے اس جمعہ کو سورہ کہف نہیں پڑھی تھی۔ اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے تمہاری توجہ اس طرف دلواٸ۔ اب تم اللہ کی خاص رحمت تلے ہو۔ تم سب جیسی نہیں ہو اب۔ تم دنیا میں کھو کر اب اسے نہیں چھوڑ سکتیں، تم عام لڑکیوں کی طرح ہر بات پر قہقہے لگا کر بے فکری سے اپنی عبادات کو پیچھے نہیں ڈال سکتیں، کیونکہ جنہیں مقام دیا جاتا ہے انہیں اس مقام کے ساتھ خاصی بھاری ذمے داریاں بھی سونپی جاتی ہیں۔ اور تمہیں بھی ان ذمے داریوں کو اپنی زندگی کے آخر تک نبھانا ہے۔۔"
وہ یک ٹک ان کا چہرہ دیکھنے لگی تھی۔ وہ نرمی سے اپنی بات مکمل کر کے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
"میں اپنی پوری کوشش کرونگی ہر ذمے داری کو نبھانے کی میڈم۔۔"
"اللہ تمہارے راہیں آسان کرے آمین۔۔"
آخر میں ان کے دعا دینے پر وہ بے ساختہ مسکراٸ تھی۔ دل پر جما بوجھ جیسے ان باتوں سے اتر گیا تھا اور اب اس کا دل ہلکا پھلکا ہوگیا تھا۔ اس نے قدم ان کے آفس سے باہر کی جانب بڑھاۓ اور خاموشی سے چکنے ٹاٸلز والے مدرسہ کی راہداری عبور کرتی گزرنے لگی۔ ہر جانب کلاس رومز سے قرآن پڑھنے پڑھانے کی بابرکت سے گونج تھی۔ اس کا دل ان آوازوں سے دھلنے لگا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور خاموشی سے لان کے پچھلے حصے میں چلی آٸ۔ اس طرف کونے میں ایک خالی سنسان سا جھولا رکھا ہوا تھا جو اس سمے ہولی ہولی سی خنک ہوا سے لہرا رہا تھا۔ اس نے بھی قدم اس کی جانب بڑھاۓ اور جھولے پر آبیٹھی۔ آنکھیں موند کر سر اس جھولے کی پشت سے ٹکایا اور ہولے ہولے جھولنے لگی۔
"بیزار ہورہا ہوں فی الحال تو حد درجہ۔۔"
کسی کی جانی پہچانی سی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں۔ ایک پل کو سیدھی ہو بیٹھی۔ دوسری جانب پھولوں کے سامنے کھڑا وہ فون پر کسی سے بات کررہا تھا۔ اس نے رابیل کو نہیں دیکھا تھا لیکن رابیل نے اس کو دیکھ لیا تھا۔ وہ اب کہ سر جھٹک کر دوسری جانب پھر سے کچھ کہہ رہا تھا۔ اس نے اگلے ہی لمحے کچھ سوچ کر اس کی جانب قدم بڑھاۓ۔
"معاذ۔۔"
وہ فون کان سے ہٹا کر اب کہ تیزی سے کچھ ٹاٸپ کررہا تھا۔ اس آواز پر چونک کر اس طرف کو مڑا۔ اسے دیکھ کر لمحے بھر کو حیران ہوا۔
"تم اگر اتنے ہی بیزار ہورہے تھے تو آنے کی ضرورت کیا تھی۔۔؟"
اس نے اس کی جانب دیکھ کر بہت سکون سے پوچھا تھا لیکن وہ اس کے سوال پر ہلکا سا حیران ہوا۔۔
"میں نے کب کہا کہ میں بیزار ہورہا ہوں۔۔"
"تمہاری شکل پر صاف لکھا ہے کہ تم یہاں سے بھاگ جانا چاہتے ہو۔۔"
وہ اس کے جواب پر لمحے کو بھر کو ہلکا سا مسکرایا۔ رابیل نے اسے پہلی دفعہ مسکراتے ہوۓ دیکھا تھا۔
"کیا ہم لوگ تمہیں اتنے برے لگتے ہیں۔؟"
لیکن اس کے اگلے سوال پر اس کے چہرے سے مسکراہٹ لمحے کا توقف کیۓ بغیر غاٸب ہوٸ تھی۔ رابیل کا چہرہ ویسے ہی نرم رہا تھا۔ جیسے وہ اپنے بڑوں کے کسی عمل پر شرمندہ تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر بالوں میں انگلیاں چلاٸیں۔۔ نگاہوں نے یونہی پھیلے سبزے کو چھوا تھا۔۔
"کیا فرق پڑتا ہے۔۔"
اس نے سر جھٹک کر کہا تھا۔ رابیل کو دکھ ہوا ۔
"فرق پڑتا ہے معاذ۔ کسی کو فرق پڑے یا نہ پڑے لیکن تمہیں اور تمہارے گھرانے کو فرق پڑتا تھا اور پڑتا ہے۔۔"
"گزرا وقت ہر فرق کو مٹا دیتا ہے۔ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔۔"
"اگر ایسا ہوتا تو کٸ صدیوں بعد بھی جنہیں اللہ نے عبرت کا نشان بنایا تھا وہ عبرت کا نشان نہ رہتے۔ ان کی الٹی گٸ زمین کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے توبہ کی ہے۔ "
اس کے جواب پر اس نے ایک لمحے کو اس شفاف آٸینہ سی لڑکی کو دیکھا تھا۔ حجاب کے ہالے میں دمکتا اس کا چہرہ معاذ کو ڈسٹرب کرنے لگا تھا۔ اس نے غیر اردای طور پر اس سے نظریں پھیری تھیں۔
"لیکن ہر کسی نے تو توبہ نہیں کی ناں۔۔"
دور نگاہیں جماۓ اس نے بہت مدھم آواز میں کہا تھا پھر بھی رابیل نے اسے سن لیا تھا۔
"ہر کوٸ توبہ نہیں کرتا معاذ لیکن کچھ لوگ ضرور توبہ کرلیتے ہیں۔ انہیں کم از کم قبول کرلینا چاہیۓ۔ میں تمہیں تمہارے کسی بھی عمل پر جج نہیں کرنا چاہتی لیکن جن لوگوں نے معافی مانگ کر اپنا عمل درست کیا ہے تمہیں انہیں قبول کرلینا چاہیۓ۔"
"قبول کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا رابیل۔"
وہ کسی سے ایک سے زاٸد بات کرتے وقت سخت کوفت کا شکار ہوتا تھا لیکن رابیل۔۔ رابیل تو نرم سی تھی۔ اس کا شفاف لہجہ ہر قسم کے ریا اور طنز سے پاک تھا۔ وہ لوگوں کو اپنے انداز سے غیر آرام دہ نہیں کرتی تھی بلکہ وہ کبھی کبھی جذباتی، کبھی ذرا سمجھدار اور کبھی بالکل چھوٹے بچوں جیسی باتیں کرجایا کرتی تھی اور اس کا یہ انداز آگے والے کو کبھی بھی شرمندہ نہیں کیا کرتا تھا۔ وہ بھی اس کے ساتھ اپنے اندر بے چینی محسوس نہیں کررہا تھا اور جو وہ محسوس کررہا تھا کیا اسے یہ محسوس کرنا چاہیۓ تھا۔۔۔۔!
"قبول کرنے کے لیۓ ضروری ہے معاذ کہ سب سے پہلے تم خود کو معاف کرو۔ اگر تم خود کو معاف نہیں کروگے تو کسی کو بھی معاف نہیں کرپاٶ گے۔ تم جانتے ہو کہ تم خود بھی اندر ہی اندر کہیں کسی عمل پر گلٹی ہو اسی لیۓ تمہارا یہ اگریشن تمہیں اتنا بیزار، اکھڑا ہوا اور سرد رکھتا ہے۔ پہلے خود کو قبول کرو پھر تم سب کو قبول کر سکتے ہو۔۔"
اس نے لمحے بھر کو اس کی جگمگاتی کتھٸ سی آنکھوں میں دیکھا۔ اس تاریک دنیا میں کیا کوٸ اتنا شفاف ہوسکتا تھا جتنی وہ تھی۔۔
"تم بھی ہو ناں کسی گلٹ میں۔۔؟"
اس نے ایک پل کو رک کر نرمی سے پوچھا تھا۔ معاذ کے سرمٸ سے ارتکاز میں لمحے بھر کو بہت کچھ ابھرا تھا۔ اس نے چہرہ اوپر اٹھا کر افق کو دیکھا۔ بہت سے سرمٸ بادل ہر جانب خوشگوار سا اندھیرا قاٸم کیۓ ہوۓ تھے۔
"تمہیں نہیں لگتا کہ یہ تھوڑا مشکل ہے۔۔؟"
اس نے آسمان پر نگاہیں جماۓ ہی پوچھا تھا اس سے۔
"مشکل تو ہے۔ لیکن ناممکن نہیں۔۔"
"کچھ باتوں کے لیۓ انسان خود کو کبھی معاف نہیں کرپاتا۔۔"
" ہاں ایسا ہی ہے معاذ۔ لیکن جن باتوں کے لیۓ انسان خود کو معاف نہیں کرپاتا اللہ تو اسے ان باتوں کے لیۓ بھی معاف کردیتا ہے۔۔"
اس نے بے حد چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ سبزہ زار پر گویا ہر جانب سے روشنیاں اتر آٸ تھیں۔ اسے پچھلے کٸ سالوں میں کسی نے یوں نہیں چونکایا تھا۔ پہلے وہ اپنی ماں کی باتوں پر چونکا کرتا تھا اور آج۔۔ ہاں وہ آج رابیل کی باتوں پر حیران ہورہا تھا کیونکہ اس کا انداز بالکل اس کی ماں جیسا تھا۔ نرم، معصوم اور شفاف۔۔
"تمہیں مجھ سے الجھن نہیں ہوتی۔۔؟"
اس نے اب کہ نگاہیں پھر سے پھولوں پر جما لی تھیں۔ سرسراتی ہوا سے رابیل کا سیاہ عبایا پیچھے کی جانب اڑ رہا تھا اور اسکی بات پر وہ ایک لمحے کو حیران ہوٸ تھی۔
"تم سے الجھن۔۔ نہیں۔۔۔ کیوں۔۔؟"
اسے اس کا سوال سمجھ نہیں آیا تھا۔ معاذ لمحے بھر کو مسکرایا۔۔ پھر اپنے مخصوص انداز میں کندھے اچکاۓ۔
"میں سمجھا شاید ہوتی ہو۔۔"
"یہ سچ ہے کہ تم ہم سے کبھی بھی بے تکلف نہیں ہوۓ نہ ہی وقار تایا نے کبھی مراسم مزید بڑھانے کی کوشش کی لیکن معاذ، مجھے لگتا ہے کہ ہم سے بہت بڑی زیادتی ہوگٸ ہے تم لوگوں کے معاملے میں۔ مجھے بہت برا لگتا ہے تمہارے لیۓ اور تایا کے لیۓ بھی۔۔"
سرمٸ سا خوشگوار اندھیرا اب کہ ہر جانب پھیلنے لگا تھا۔ یوں لگتا تھا ابھی آسمان برس پڑے گا۔
"میں نے کہا ناں اب کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔ جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔"
چند لمحے یونہی خاموشی کی نذر ہوگۓ تھے۔ لان کی پچھلی جانب وہ دونوں ایک دوسرے سے قدرے فاصلے پر کھڑے باتیں کررہے تھے۔ گاہے بگاہے معاذ اس کے چہرے پر نگاہ ڈال لیتا اور کبھی رابیل اسے دیکھ لیتی۔ وہ معاذ سے کبھی بھی بے تکلف نہیں تھی لیکن عجیب بات تو یہ تھی کہ اس سے بات کر کے ہر گز یہ نہیں لگتا تھا کہ وہ غیر ہے۔ اس سے بات کر کے ایک عجیب سا اپناٸیت کا احساس رابیل کو ہمیشہ گھیرتا تھا۔ شاید اسی لیۓ کہ خون کا خون سے ایسا ہی رشتہ ہوتا ہے۔ خون جو پانی سے گاڑھا ہوا کرتا ہے۔۔
"ویسے تم ریسٹورینٹ کے ساتھ ساتھ کیا کرتے ہو۔۔؟"
"کچھ نہیں۔۔"
"پڑھاٸ۔۔؟"
"مکمل ہوچکی۔۔"
"اوہ۔۔ وقار تایا کب تک آٸیں گے۔۔؟"
اس نے ہچکچا کر یہ سوال پوچھا تھا مبادا وہ پھر سے اپنے خول میں سمٹ جاتا۔ لیکن وہ ویسے ہی بے نیازی سے کھڑا رہا۔ کچھ تھا جو اسے سب لڑکوں سے الگ بناتا تھا۔ شاید یہ اسکا لاپرواہ سا انداز تھا جو انسانوں کو اس کی جانب متوجہ کرتا تھا۔
"آج آنے کا کہہ رہے تھے۔۔"
"واقعی آج۔۔!!"
وہ ایک دم ہی چہکی تو اس نے اس کی جانب دیکھا۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہوٸ تھی۔ نہ چاہتے ہوۓ بھی معاذ اس کے انداز پر مسکرادیا۔ ابھی وہ اسے مدبرانہ سے انداز میں نصیحتیں کررہی تھی اور ابھی۔۔ ابھی وہ پورے دانت نکالے مسکرارہی تھی۔
"کسی کے ساتھ اتنی جلدی بے تکلف نہیں ہوا کرتے۔۔"
اس کے نرمی سے کہنے پر رابیل نے اس کی جانب دیکھا۔
"میں کب بے تکلف ہوٸ ہوں۔۔؟"
"اچھا۔۔ پھر کتنا جانتی ہو تم مجھے۔۔؟"
اس نے جینز کی جیبوں میں ہاتھ اڑسے تھے۔
"زیادہ تو نہیں جانتی تمہیں۔ لیکن اتنا پتہ ہے کہ تم انتہاٸ بے مروت، بدتمیز اور بدلحاظ انسان ہو۔۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی تم کبھی کبھی تھوڑے بہت جینٹل مین بھی لگتے ہو۔۔"
اس کے جواب پر معاذ نے سر ہلایا تھا۔۔
"اس قدر تعریف کا شکریہ۔۔"
رابیل نے بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔ پھر ایک بار آسمان کی جانب دیکھا۔
"بارش آنے والی ہے۔"
"ہوں۔۔"
معاذ نے صرف سر ہلایا۔ رابیل نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر اندر کی جانب بڑھ آٸ۔ داخلی دروازے سے اندر جاتے ہوۓ اس نے ایک لمحے کو ٹھہر کر معاذ کو دیکھا تھا۔ پھر مسکراتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھ گٸ۔ معاذ اب تک ویسے ہی کھڑا آسمان کو تک رہا تھا۔ اس کے اندر بھی بادلوں کی مانند کچھ ایک ساتھ اکھٹا ہونے لگا تھا۔ سرمٸ بادلوں نے اس کی خاموش سرگوشیوں پر مسکرا کر سرجھٹکا تھا اور چلتی ہوا نے لمحے بھر کو اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔ کیونکہ وہ اس سب سے بے خبر تھا۔۔ یکسر بے خبر
شام کی سیاہی کے ساتھ ہی گھر میں ہر جانب رنگ و بو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ سرِ شام ہی ہال جانے کا شور سا اٹھا اور گھر میں موجود لڑکیاں اپنے اپنے رنگ برنگے آنچل سمبھالتیں کمروں میں تیاری کے لیۓ جا گھسیں۔
اس نے پستٸ رنگ کی لمبی قمیض پہن رکھی تھی۔ بہت سے ننھے ستاروں کا کام بھی اس قمیض پر جگہ جگہ جگمگا رہا تھا۔ لمبی قمیض تلے چوڑی دار پجامہ بہت ہلکا سا دکھتا تھا۔ سر پر اسی رنگ کا بڑا دوپٹہ سلیقے سے لپیٹے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔ اس کی جانب دیکھ کر کسی بڑی خوبصورت سی لڑکی کا خیال نہیں آتا تھا۔ بلکہ اس کی جانب دیکھ کر بچوں کی سی معصومیت کا خیال آتا تھا۔
اورکچھ لڑکیاں ہوتی ہیں خوبصورت۔۔ ظاہری طور پر۔۔ مگر کچھ لڑکیاں ہوتی ہیں شفاف۔۔ جن کے باطن کا عکس ان کے چہروں پر جگمگاتا ہے۔ وہ بھی ایک ایسی ہی لڑکی تھی۔ کیوٹ، پیاری اور نرم۔۔
اس نے کمرے کا دروازہ اپنے پیچھے بند کیا اور جیسے ہی لاٶنج میں قدم رکھا لمحے بھر کو ٹھٹک کر رک گٸ۔ وقار تایا سامنے ہی سفید شلوار قمیض میں ملبوس، بابا کے ساتھ بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ عابد کا انداز کچھ کھنچا کھنچا سا تھا البتہ وقار کے انداز کی گرمجوشی بخوبی محسوس کی جاسکتی تھی۔ اس نے مسکرا کر سلام کیا اور ادھر ہی چلی آٸ۔ پہلے تو وہ اسے دیکھ کر خاصے حیران ہوۓ اور پھر یکدم اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا۔ وہ تو وہ، ان کے والہانہ پن پر تو عابد بھی لمحے بھر کو حیران رہ گۓ تھے۔۔
"ماشااللہ۔۔ کتنی بڑی ہوگٸ ہے بھٸ ہماری رابی۔۔! مجھے تو لگا تم ابھی تک ویسی ہی ہوگی، چھوٹی موٹی سی۔۔"
اسے مسکرا کر کہتے وہ اب کے صوفے پر بیٹھے تو اسے بھی اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا۔ وہ بس خاموشی سے مسکرا کر انہیں دیکھ رہی تھی۔
"آپ کو پتہ تو ہے بھاٸ صاحب، لڑکیوں کے بڑے ہونے کا کہاں پتہ چلتا ہے۔"
رامین جو اسی وقت لاٶنج میں داخل ہوٸ تھیں مسکرا کر بولیں۔ ان کی بات پر وقار نے اتفاق کرتے ہوۓ سر ہلایا تھا۔
"اور رامین تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ بیٹوں کو بڑا ہوتے دیکھنا کتنا صبر آزما کام ہے۔ میری آنکھیں تھک کر بوڑھی ہوگٸ ہیں تب جا کر معاذ بڑا ہوا ہے۔۔ ویسے یہ معاذ ہے کہاں۔۔؟"
ایک پل کو انہوں نے آس پاس نگاہ گھماٸ۔ رابیل نے بھی یہاں وہاں اسے تلاشا تھا۔ عابد صاحب کھنکھار کر سیدھے ہوۓ۔۔
"میری دراصل گاڑی خراب ہوگٸ تھی۔ میں نے کہا بھی کہ میں اسے بھجوادیتا ہوں ٹھیک کروانے لیکن اس نے کہا کہ وہ دیکھ لے۔ اگر اس سے ٹھیک نہ ہوسکی تو میں بھلے بھجوا دوں۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے غاٸب ہے، دیکھا تم نے کہیں رامین۔۔؟"
"نہیں۔۔ مجھے تو نظر نہیں آیا۔۔"
اور اسی پل وہ اندر داخل ہوا تھا۔ اس کے ہاتھوں پر تھوڑی سی کالک بھی لگی ہوٸ تھی۔ اس نے ایک پل کو چونک کر وقار کی جانب دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے وہ بادل نخواستہ اسی طرف چلا آیا۔ رابیل بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
"کیا مسٸلہ تھا۔۔؟"
"وہ۔۔ چچا بیٹری کی تار نکل گٸ تھی۔ اسی لیۓ اسٹارٹ نہیں ہورہی تھی۔ ٹھیک ہے اب، آپ چیک کرلیں۔"
اس نے کہا اور پھر کسی کی بھی جانب دیکھے بغیر کچن کی سمت بڑھ گیا۔ اسے اپنے پیچھے بہت سی نظریں محسوس ہوٸ تھیں۔ اس کے کچن میں داخل ہوتے ہی صاٸمہ اور ارحم داخلی دروازے سے اندر آۓ تھے۔ ان کے پیچھے ہی زاہد اور زرتاشہ تھے۔ صاٸمہ اور زرتاشہ نے شنیل کی خوبصورت ساڑھیوں پر ڈاٸمنڈ ٹاپس پہن رکھے تھے جبکہ رامین کی ساڑھی بنارسی کپڑے کی تھی۔ آتشی اور سبز رنگ کے امتزاج سے مزین۔ ارحم نے البتہ آج ڈنر سوٹ زیب تن کر رکھا تھا اور اس سوٹ میں اس کا اونچا سراپا بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس نے آتے ہی مسکرا کر رابیل کو دیکھا لیکن جواباً رابیل نے رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا تھا۔
”کیسے ہیں بھاٸ صاحب آپ۔؟ شکر ہے یہ کفر تو ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔“
وہ نزاکت سے چلتیں ان کے عین سامنے صوفے پر بیٹھیں تو ارحم آگے بڑھ کر وقار سے ملا۔ وقار نے مسکراتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
”میں ٹھیک تم کیسی ہو صاٸمہ۔۔ ؟ اور عباد کیسا ہے۔۔؟“
ان کے پچھلے طنز کو نرم مسکراہٹ کے ساتھ نظر انداز کرتے انہوں نے ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ رابیل نے ایک پل کو افسوس سے دیکھا تھا پھپھو کو۔ کیا ضروری ہے ہر وقت کڑوی زبان سے لوگوں کے حلق کڑوے کرنا۔۔؟ کیا مل جاتا ہے انہیں لوگوں کو کمزوریوں کا مزاق اڑا کر۔ اس نے ایک آخری نگاہ ان پر ڈالی اور اٹھنے ہی لگی تھی کہ معاذ کچن سے نکل آیا۔
”زرتاشہ بارات کے لیۓ کب تک نکلنا ہے۔؟“
رامین نے زرتاشہ سے پوچھا تو وہ عجلت میں جلدی جلدی بتانے لگیں۔ زاہد چچا اب کہ وقار کے ساتھ والے صوفے پر جا بیٹھے تھے اور ان دونوں بھاٸیوں کے درمیان بیٹھے صرف وقار ہی بات کررہے تھے۔ ان دونوں کے جانب کی گرمجوشی بالکل مفقود تھی۔
”بس بھابھی ابھی لڑکیوں کو تنبیہہ کر کے آٸ ہوں کہ جلد از جلد تیار ہوجاٸیں لیکن دیر تو خیر پھر بھی ہو ہی جاۓ گی۔ پتہ تو ہے آپ کو ان کی تیاریوں کا۔۔“
”بس اب کیا کریں ان کا۔۔ میری والیاں بھی کمروں میں ہیں۔۔ خدا جانے کونسی تیاریاں ہیں جو مکمل ہو کے ہی نہیں دے رہی۔۔ “
”رابیل۔۔ تم باز نہیں آٸیں ناں اپنی حرکتوں سے۔۔!“
وہ جو کھڑی ہی ہوٸ تھی لمحے بھر کو ان کے ایک دم سے بولنے پر تھم گٸ۔ پھپھو نے شاید اب دیکھا تھا اس کو اور اس کے حجاب کو بھی۔۔ ایک سیکنڈ کے لیۓ لاٶنج سے آتی باتوں کی آواز مدھم ہوگٸ تھی۔ اس نے پلکیں جھپکا کر خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔ معاذ جو اپنے ہاتھ دھو کر کچن سے باہر نکلا تھا وہیں ٹھہر گیا۔ کیا ایک بار پھر سے پھپھو تماشہ سجا رہی تھیں۔۔
”ج۔۔ جی پھپھو۔۔؟“
”کیا جی پھپھو۔۔؟ منع کیا تھا ناں میں نے تمہیں یہ دوپٹہ سر پر لپیٹنے سے۔۔ سمجھ نہیں آتی ہے تمہیں ایک بار کی بات۔۔؟ بات سمجھ نہیں آتی یا پھر زبان کی بات سمجھ نہیں آتی۔۔ آج بتا ہی دو تم مجھے۔۔“
ایک پل کو ساری سرگوشیاں اب کہ تھم گٸ تھیں۔ اس نے سب کی جانب خوفزدہ نگاہوں سے دیکھا۔ دل ڈوبنے لگا تھا کہیں اندر۔ معاذ ویسے ہی خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔۔
”ایک بات بتاٸیں پھپھو۔۔“
اور اس نے ڈرنے یا پھر ہچکچانے کے بجاۓ اب کہ سیدھے سبھاٶ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے ساحروں کی دوڑتی لاٹھیاں دیکھی تھیں تو وہ ایک لمحے کو خوفزدہ ہوۓ تھے۔ انہیں لگا کہ وہ اپنے ایک عصا سے ان لاٹھیوں کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے کہ لیکن پھر اللہ نے ان کی پشت پناہی کی۔ اللہ نے کہا تھا کہ موسیٰ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ جو موسیٰ کا رب تھا وہی رابیل کا بھی رب تھا۔ وہ اسے ان ساحروں کے سامنے تنہا کرنے والا نہیں تھا۔۔ ہر گز بھی نہیں تھا۔۔ اگرچہ اس کا دل اندر ہی اندر لرز رہا تھا۔ حلق خشک ہورہا تھا لیکن اسے ایک نہ ایک دن تو ساحروں کے سامنے اپنا عصا ڈالنا ہی تھا تو پھر آج کیوں نہیں۔۔ ابھی کیوں نہیں۔
”آپ کہتی ہیں کہ میں آپ کی بات مان کر یہ حجاب چھوڑ دوں ٹھیک۔۔؟ “
وہ ایک لمحے کو ٹھہری تھی۔ وقار بھی اب کہ رابیل کا چہرہ غور سے دیکھ رہے تھے۔ جو کہ ہاتھ باندھے اب صرف آرام سے پھپھو کو دیکھ رہی تھی۔
”ہاں۔۔ میں یہی چاہتی ہوں کہ تم ان اونٹوں کے زمانے سے نکل کر آگے بڑھ جاٶ۔“
”لیکن پھپھو میں آپ کی بات کیوں مانونگی۔۔؟“
ایک لمحے کو صاٸمہ کا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔ اس کا سوال سراسر ایک چانٹے کی صورت لگا تھا ان کے منہ پر۔۔
”تمیز سے بات کرو لڑکی۔۔“
”مجھے نہیں لگتا کہ میں نے آپ سے کوٸ بدتمیزی کی ہے پھپھو۔۔ آپ بس مجھے میرے سوال کا جواب دے دیں۔ میں کیوں مانوں آپ کی بات۔۔؟ مجھے آپ کی بات مان کر کیا ملے گا۔۔؟ کوٸ ویلڈ ریزن ہے آپ کے پاس مجھ سے اپنی بات منوانے کا اس کے علاوہ کہ میں آپ کے بیٹے کی منگیتر ہوں۔۔“
معاذ کا چہرہ ویسے ہی سپاٹ رہا لیکن پتہ نہیں کیوں رابیل کی آخری بات پر اسے اپنی کنپٹیاں تپتی محسوس ہوٸ تھیں۔ پھپھو اس کے سوال پر البتہ سیدھی ہو بیٹھی تھیں۔۔ قہر آلود نگاہوں سے اس ذرا جتنی لڑکی کو دیکھا۔
”تو تم میری بات نہیں مانو گی۔۔؟“
”جی۔۔ میں آپ کی بات نہیں مانونگی۔“
اس نے بے حد سکون کے ساتھ کہہ کر انہیں دیکھا تھا۔ رامین نے بے چینی سے پہلو بدلا اور عابد رابیل کو اس کی جرأت پر بے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔ لاٶنج میں پھیلی خاموشی کے باعث نفوس کی سانسیں تک سناٸ دے رہی تھیں۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ۔۔ یہ جو تم نے اپنا حلیہ بدلا ہے تو اس پر تمہیں کوٸ تاج پہناٸیں گے ہم۔ یا پھر تمہیں لگتا ہے کہ اس طرح کا دوپٹہ لے کر تم ہم پر کوٸ برتری ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔ کہ دیکھیں۔۔ میں آپ سے زیادہ مذہبی اور دیندار ہوں۔۔ کوٸ بات نہیں بیٹا اس طرح کے کچھ لوگ ہماری زندگی میں پہلے بھی آۓ تھے اور جس طرح ان کے کس بل میں نے نکالے ہیں ناں۔ اگر بتادیا تو ابھی کہ ابھی تم یہیں ڈھیر ہو جاٶگی۔۔“
ان کے لہجے کا تکبر اور گردن کا سریا بخوبی دیکھا جاسکتا تھا۔ لمحے بھر کو معاذ نے اس حوالے پر مٹھی بھینچی تھی۔ ساتھ ہی وقار نے بری طرح چونک کر ان کی جانب دیکھا تھا۔ رابیل کو اپنا وجود ٹوٹتا محسوس ہوا تھا۔ وہ کمزور پڑنے لگی تھی ان کے سامنے۔
”اچھا۔۔ تو بتاٸیں کیا کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ۔۔؟ لیکن پھپھو مجھے پتہ ہے کہ آپ نے ان کے ساتھ کیا، کیا ہوگا۔ یقیناً آپ نے انہیں تاج نہیں پہنایا ہوگا اور ان کی ہر چھوٹی چھوٹی بات پر انہیں ذلیل کیا ہوگا۔ آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں پھپھو۔ میں آپ کے آج کو دیکھ کر آپ کے گزرے کل کا اندازہ بخوبی لگا سکتی ہوں اور جی۔۔ میں کمزور ہوں آپ کے سامنے۔۔ بہت کمزور ہوں پھپھو میں۔۔ لیکن میں نے جس کا کنڈا تھاما ہے ناں پھپھو۔۔ وہ، وہ ہے جس نے طاقت کو پیدا کیا ہے۔ کیا آپ اس کے مقابلے پر جاسکتی ہیں۔۔؟“
اہلِ مکہ کے سامنے للکارنا کیا ہوتا ہے یہ اس نے آج سیکھا تھا۔ اپنے آنسو ضبط کر کے لرزش پر قابو پانا کیا ہوتا ہے یہ اس نے آج جانا تھا۔ ۔ اسی پل اپنے لانگ فراک سنبھالتیں ردا اور شزا زینوں سے اتریں اور ماحول کا تناٶ دیکھ کر وہیں ٹھہر گٸیں۔ صوفوں پر بیٹھے لوگوں سے رابیل کچھ کہہ رہی تھی۔ کچھ ایسا جو اسے اندر تک تکلیف دے رہا تھا اور وہ بشکل اپنی آواز کی لرزش پر قابو رکھے اپنا عصا ان کے آگے ڈالے ہوۓ تھی۔ پھپھو یکدم اٹھ کھڑی ہوٸیں۔
”تو تم مجھے دھمکا رہی ہو ہاں۔۔؟ مجھے اکسا رہی ہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ کچھ ایسا ہی کردوں جو کٸ سالوں پہلے میں نے اس کی ماں کے ساتھ کیا تھا۔۔!“
ایک لمحے کو پلٹ کر معاذ کی جانب دیکھ کر انگلی سے اشارہ کیا۔ رابیل نے چونک کر دیکھا تھا اس کی طرف۔ معاذ نے دانت پر دانت جماۓَ، آنکھیں طیش سے دہکنے لگی تھیں۔ رگوں میں جیسے کوٸ کڑوا مادہ تیزی سے گھلنے لگا تھا۔۔
”آپ سے اور امید بھی کیا کی جاسکتی ہے پھپھو۔ آپ سے کسی اچھاٸ کی امید بھلا کی کیسے جاسکتی ہے، آپ تو۔۔“
اور اگلے ہی لمحے ایک زور دار چانٹا اس کے رخسار کو سرخ کرگیا تھا۔ اس نے بے یقینی سے اپنے رخسار پر ہاتھ رکھ کر صاٸمہ کی جانب دیکھا۔ لاٶنج میں دبی دبی سی ردا اور شزا کی چیخیں گونجی تھیں۔ عابد، وقار اور زاہد یکدم اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔ زرتاشہ اور رامین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ارحم البتہ آرام سے سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔ ساتھ ساتھ اس نے کلاٸ پر بندھی گھڑی پر بھی نگاہ ڈالی تھی۔
”میرے سامنے زبان درازی کرنے کی ہمت کیسے آٸ ہے تم میں ہاں۔۔!! اتنی بڑی ہوگٸ ہو اب تم کہ مجھ سے زبان چلاٶ گی۔۔ بی بی یہ چونچلے ماں باپوں کے گھر ہی اچھے لگتے ہیں۔ میرے گھر بہو بن کر آٶ گی تو میرے طور طریقوں سے رہنا پڑے گا سمجھیں۔۔!!“
”ہرگز نہیں۔۔!“
اس نے ضبط سے گلابی پڑتی آنکھیں ان پر جماٸ تھیں۔
”مجھے اس دنیا میں اللہ نے بھیجا ہے اور میں اس دنیا میں اسی کی بات مان کر چلونگی۔ اور آپ۔۔ پھپھو آپ مجھ سے میرا حق نہیں چھین سکتیں۔“
اور پھپھو نے اس کی بات پر ایک دفعہ اور ہاتھ اٹھایا تھا۔ اس نے بے ساختہ آنکھیں میچیں۔۔ لیکن کوٸ ہاتھ اس کے رخسار تک نہیں آ سکا۔ اس نے بے یقینی سے آنکھیں کھولیں اور دھک سے رہ گٸ۔ معاذ کا سپاٹ چہرہ سامنے آیا۔ اس نے پھپھو کا ہاتھ فضا ہی میں روکا ہوا تھا۔ اور صاٸمہ کی بے یقین سی نگاہیں معاذ پر ہی جمی ہوٸ تھیں۔۔
”اور آپ بھی مجھے مت اکساٸیں کسی ایسے کام پر جس کو کرنے کے بعد مجھے رتی بھر بھی افسوس نہیں ہوگا۔ کیا میں آپ کو بتاٶں کہ وہ کونسا کام ہے۔۔؟“
اس کی ایسی آواز رابیل نے پہلی بار سنی تھی۔ اس قدر بے جان، یخ اور ہڈیوں تک کو چٹخا دینے والی۔ اس کی سرمٸ آنکھیں اس سمے طیش کے باعث سیاہ لگ رہی تھیں۔ گردن کو جاتیں نسیں شدید ضبط کی وجہ سے ابھر کر پھڑک رہی تھیں۔ اسے معاذ سے خوف آیا تھا۔ لیکن پھر اس نے اگلے ہی لمحے پھپھو کے فضا میں بلند ہاتھ کو جھٹکا دے کر انہیں پیچھے صوفے پر دھکا دیا اور درمیان سے گزر کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔ ابھی کوٸ اسے روکتا تو اس کی ماں اسے روتی۔
سارا لاٶنج چند لمحوں کے لیۓ سناٹے میں گویا غرق ہوگیا تھا۔ پھر پھپھو تیزی سے اٹھیں اور باہر کی جانب بڑھ گٸیں۔ ان کے پیچھے ہی ارحم اور زرتاشہ بھاگے تھے۔ رامین میں تو اتنی ہمت ہی نہ تھی کہ ان کے پیچھے جاسکتیں۔ ردا، شزا الگ سفید پڑتے چہروں کے ساتھ سارے منظر دیکھ رہی تھیں۔ شادی کا ماحول یکدم سیاہ اور تاریک ہوگیا تھا۔
”اسی لیۓ۔۔ اسی دن کے لیۓ کہتی تھی میں آپ کو عابد کہ اسے اس سو کالڈ مدرسہ میں نہ جانے دو لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی۔۔ دیکھیں۔۔ دیکھیں اب اپنی غفلت کا انجام۔۔ یہ لڑکی کیسے اب اپنے بڑوں کے منہ کو آنے لگی ہے۔“
رامین کی بلند آواز پر رابیل کا دل کہیں بہت اندر ڈوب کر ابھرا تھا۔ اس کے ہاتھ ایک بار پھر سے لرز رہے تھے اور منظر۔۔ اس کے آگے کا ہر منظر دھندلانے لگا تھا۔
”بابا۔۔ مجھے فیصلے کرنے کی آزادی اللہ نے دی ہے۔ آپ لوگ مجھ سے یہ آزادی نہیں چھین سکتے۔ جب لڑکیاں اپنی مرضی کے مطابق فیشن کر سکتی ہیں۔ جب وہ اپنی مرضی کے مطابق۔۔ چھوٹے، تنگ اور باریک کپڑے آپ کی بغیر اجازت کے پہن سکتی ہیں تو بابا میں بھی آپ کی اجازت کے بغیر اپنے سر پر دوپٹہ کیوں نہیں لپیٹ سکتی۔۔؟ مجھ پر یہ زبردستی کیوں۔۔؟ میں کسی کو تکلیف نہیں پہنچا رہی۔ میں نے اپنے اس عمل سے کسی کا دل نہیں دکھایا۔۔ میں نے اس کے ذریعے کسی کا تمسخر نہیں اڑایا تو اس میں آخر مسٸلہ کیا ہے۔۔؟ مجھے کیوں میری مرضی سے زندگی نہیں گزارنے دی جارہی۔۔؟“
کہتے کہتے وہ ہانپنے لگی تھی۔
”بس کردو اب تم۔۔! تمہاری اس بے وقت کی بکواس نے سارا ماحول خراب کردیا ہے اور رابیل یہ ٹینشن آج سے نہیں پتہ نہیں کتنے دن سے چل رہی ہے گھر کے اندر۔ وجہ صرف تمہارا یہ دوپٹہ ہے۔ آخر ایسا کیا گھس گیا ہے تہارے دماغ میں جو نکل نہیں رہا ہے۔۔! کیا مسٸلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔!!“
رامین نے سرخ چہرے کے ساتھ اس پر اپنا طیش الٹا تو دو آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔ دل جیسے کوٸ مٹھی میں لیۓ بھینچ رہا تھا۔ اسے جانے کیوں یکدم سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔۔
”م۔۔ ماں آپ ا۔۔ ایسے کیوں کہہ۔۔۔“
اس کی آواز حلق میں جمع ہوتے آنسوٶں کے باعث ٹوٹ رہی تھی۔ چہرہ اس قدر ہتک پر سرخ ہوگیا تھا۔
”جاٶ ابھی کہ ابھی تم یہاں سے۔۔!“
شزا نے یکدم آگے بڑھ کر ہانپتی رامین کو سنبھال کر اسے پیچھے دھکا دیا تھا۔
”میں نے کہا جاٶ۔۔!!!“
اور جب وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی تو وہ اس پر دھاڑی۔ اس کی بے ساختہ ہچکی ابھری تھی۔ لگتا تھا رگوں میں کانچ بکھر گۓ ہوں۔ یہ کہف۔۔۔ یہ کہف تو بہت تنگ و تاریک تھا۔ اس کہف کو پار کرنا تو بہت کٹھن تھا۔ اسکے سارے وجود پر گویا کسی نے بوجھ ڈال دیا تھا۔ اتنا بوجھ، لگتا تھا پہاڑ رکھ دیا گیا ہو۔۔ لیکن پھر وہ اگلے ہی لمحے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ پیچھے جانے لگی۔ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر آنکھوں سے گرتے جارہے تھے۔
”نحوست کر دی ہر طرف اس لڑکی نے۔ ہر وقت کی بحث، ہر وقت کا تماشہ۔۔ میں تو تھک گٸ ہوں اس سے اب۔۔“
رامین مسلسل رو کر بولتے ہوۓ اس کے سماعتوں کو زخمی کررہی تھیں۔ وہ یکدم پلٹی اور اپنے کمرے کی جانب بھاگ آٸ۔
”رابیل کو سمجھاٶ عابد۔۔ بلاوجہ کی ضد لے کر بیٹھی ہوٸ ہے۔ خواہ مخواہ اپنا رشتہ بھی خراب کرے گی اور تم لوگوں کو بھی صاٸمہ کے بیٹے سے ہاتھ دھونا پڑے گا ۔۔ اور یاد رکھنا یہ رشتہ ٹوٹا ناں تو کوٸ شادی نہیں کرے گا اس سے پھر۔ بلاوجہ کی ضدیں کرنے والوں کو کوٸ بھی پسند نہیں کرتا۔۔“
زاہد چچا نے کوفت سے کہہ کر باہر کی جانب قدم بڑھاۓ تھے۔ عابد شکستہ سے کھڑے رہ گۓ۔ رامین بھی خوفزدہ ہوٸیں ان کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔۔
”اس بچی کا اس سب میں کیا قصور ہے بھلا۔ اگر وہ حجاب لینا چاہتی ہے تو کوٸ بات نہیں۔ یہ اس کی مرضی ہے اس کی زندگی ہے۔ صاٸمہ نے خواہ مخواہ ہی اتنی سی بات کو انا کا مسٸلہ بنا لیا ہے۔ “
وقار کے سبھاٶ سے کہنے پر عابد نے ان پر ایک ناقدانہ نگاہ ڈالی اور لاٶنج سے چلے گۓ۔ رامین اب تک سر جھکاۓ رو رہی تھیں اور شزا انہیں ساتھ لگاۓ چپ کروا رہی تھی۔ وقار نے بے بسی سے گہرا سانس لیا تھا۔ آخر یہ حق اور باطل کی جنگ کب ختم ہوگی۔۔
