#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
تیسری_قسط
بقلم_رابعہ_خان
کچن سے داخلی دروازے کی جانب جاتے ہوۓ اس نے ایک پل کو مڑ کر اسے رغبت سے کھانا کھاتے ہوۓ دیکھا اور پھر گہرا سانس لے کر آگے بڑھ گیا۔ قد آور دروازے کو جاتی پتھریلی روش پر قدم دھرتے، اس نے سرسراتے جھونکوں کے باعث ہاتھ بے ساختہ جینز کی جیب میں اڑسے تھے۔ ایک نگاہ اٹھا کر زاہد چچا کے بنگلے کی جانب دیکھا۔ رنگ برنگے قمقوں سے جگمگاتا ان کا بنگلہ اس سمے ناچ گانے کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ اس نے کوفت سے گہرا سانس لیتے ہوۓ قدم گھر سے باہر کی جانب بڑھاۓ اور پھر گردن جھکاۓ طویل سڑک پر خاموشی سے چلنے لگا۔ یاد کے کٸ صفحات نگاہوں کے سامنے پھڑپھڑانے لگے تھے۔
"جب کوٸ تکلیف میں ہو ناں معاذ۔۔ تب اسے چند آرام دہ سے جملے کہنے کے بعد اچھا سا کھانا کھلانا چاہیۓ۔۔ کھانا کھلانے والے اللہ کو بہت پسند ہوتے ہیں۔۔"
اس کی ماں اکثر کہا کرتی تھیں اسے۔ اس نے گہرا سانس لے کر نگاہیں سامنے سڑک پر جماٸیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ کوٸ بہت خیال رکھنے والا اور لونگ سا بندہ تھا۔ یہ اس کی نیچر ہی نہیں تھی۔ لیکن ابھی کچھ دیر پہلے رابیل کو یوں تھکا ہارا زینوں پر بیٹھے دیکھ کر اسے دکھ ہوا تھا۔ ہمیشہ ایسے ہی لوگ اتنی تکلیفیں کیوں اٹھاٸیں۔۔ اسے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آٸ تھی۔ سر ایک بار پھر جھٹک کر سڑک پر چلتے اس نے نگاہیں نیچے جھکاٸیں۔ جیبوں میں ہاتھ اڑسے لڑکا، گردن جھکاۓ سست روی سے قدم اٹھا رہا تھا۔
اسی پہر اس کا موباٸل جیب میں تھرتھرایا تو اس نے، اس کی روشن اسکرین نگاہوں کے سامنے کی۔ شناسا سا نمبر جگمگاتا دیکھ کر اس نے اگلے لمحے فون کان سے لگا لیا تھا۔۔
"کیسے ہو۔۔؟"
دوسری جانب سے ایک فکرمند سی، مردانہ آواز ابھری تھی۔ اس نے ایک ہاتھ جیب میں اڑس رکھا تھا اور دوسرے سے فون تھامے وہ تارکول کی سڑک پر قدم قدم چل رہا تھا۔۔
"ٹھیک۔۔"
"کہاں پر ہو۔۔؟"
"سڑک پر ہوں۔۔"
"مہندی میں کیوں نہیں گۓ۔۔؟ آج تھی ناں اقبال کی مہندی۔۔"
وہ آخر میں اس سے پوچھ رہے تھے۔ شروع کے سوال میں ہلکا سا غصہ بھی تھا۔ معاذ کا کیا بھروسہ۔۔ پتہ چلا ان کے گھر ہی نہ گیا ہو۔۔ وہ اسے بخوبی جانتے تھے۔
"جی آج ہی ہے اس کی مہندی۔۔"
"تو تم سڑک پر کیا کررہے ہو۔۔؟"
"چل رہا ہوں۔۔"
جواب آسان تھا۔ دوسری جانب وقار اس کے پرسکون سے جواب پر بھناۓ تھے۔۔
"خر (گدھے) کا بچہ۔۔ وہاں بھیجا کس لیۓ تھا تمہیں۔۔!"
ان کے طرز تخاطب پر وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔ ان کا قصور نہیں تھا۔۔ دادی پختون خاندان سے تھیں۔۔ اسی لیۓ اتنی مٹھاس تو خیر کبھی کبھی ان کی زبان میں بھی آجایا کرتی تھی۔ یکدم ایک سرسراتے جھونکے کے باعث اس کے بال ماتھے پر گر کر اڑنے لگے تھے۔
"میرا دل نہیں چاہ رہا تھا جانے کا۔ اسی لیۓ نہیں گیا۔۔"
اپنے مخصوص انداز میں کندھے اچکاۓ۔۔ جیسے اب اکھاڑ لیں جو اکھاڑنا ہے۔
"معاذ میں نے تمہیں تاکید کر کے بھیجا تھا کہ تم کسی بھی فنکشن میں ڈنڈی نہیں ماروگے پھر بھی تم وہی کررہے ہو جو تم چاہتے ہو۔۔ یہ عزت رہ گٸ ہے باپ کی اب۔۔!"
ان کے خاصے جذباتی سے ردعمل پر اس نے ایک پل کو موباٸل کان سے ہٹا کر دیکھا تھا۔ کیا کرے وہ ان کا۔۔
"کچھ اور آزماٸیں، مجھ پر اثر نہیں ہورہا۔۔"
"بدتمیز۔۔"
"بابا۔۔ اگر آپ کو اتنا ہی شوق تھا اس قسم کے فنکشنز میں شرکت کا، تو آپ خود کیوں نہیں آۓ۔ آپ جانتے بھی ہیں مجھے یہ لوگ نہیں پسند۔ پھر بھی آپ نے مجھے بھیج دیا۔ میں یہاں اپنی شکل دکھانے آگیا ہوں کیا یہ کافی نہیں۔۔"
"نہیں۔۔ یہ کافی نہیں ہے۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم انہیں اپنی شکل بار بار دکھاتے رہو۔۔"
"جی تاکہ اگلے ہی دن وہ میرا سامان میرے منہ پر مار کر مجھے گھر سے باہر نکال دیں۔۔ اتنی اچھی شکل بھی نہیں ہے اب آپ کے بیٹے کی۔۔ نکل آٸیں اس خوش فہمی سے۔۔"
"تم ابھی کہ ابھی مہندی میں جارہے ہو۔۔"
"اوں ہوں۔۔ میں نہیں جارہا۔۔"
"معاذ تم اتنے ڈھیٹ کیوں ہو۔۔؟ کیوں تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ تمہارا وہاں موجود ہونا لازمی ہے۔ میں یہاں ریسٹورینٹ دیکھنے کے لیۓ رکا ہوں تو کم از کم تم تو جس کام کے لیۓ گۓ ہو اسے پورا کرو۔۔"
"اور میں بھی پچھلے کوٸ پینسٹھ بار پوچھ چکا ہوں کہ آخر میری موجودگی اس شادی میں اتنی ضروری کیوں ہے۔۔؟ میں نے کیا کرنا ہے وہاں جا کر۔۔ چپ چاپ جا کر بیٹھنا ہے۔۔ لوگوں کو دیکھنا ہے۔۔ تین چار بار آپ کے خوبصورت خاندان والوں کی حرکتوں پر کوفت سے سر جھٹکنا ہے اور اس کے بعد ہر خاتون کو بتانا ہے کہ میں کس کا بیٹا ہوں۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب آسان ہے۔۔ آپ کو اندازہ ہے عورتیں کتنی باتیں کرتی ہیں۔۔!!"
آخر میں وہ جیسے بلبلایا تھا۔ وقار نے دوسری جانب افسوس سے سر ہلایا۔۔ آخر وہ کیا کریں اس لڑکے کا۔۔
"یہ سب باتیں تو بیٹا لڑکے انجواۓ کرتے ہیں۔۔"
سیرٸیسلی۔۔! ایک سیکنڈ کے لیۓ رک کر اس نے اپنی ناک کو چٹکی میں لیا تھا۔
"بابا آپ چاہت کیا ہیں مجھ سے آخر۔۔؟"
"میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم شرافت سے جا کر شادی اٹینڈ کرو۔ اور کسی بھی فنکشن میں ڈنڈی مارے بغیر شرکت کرو۔"
آخر میں جیسے انہوں نے اسے تنبیہہ کی تھی۔ ابھی جو وہ ان کے سامنے ہوتا تو ایک آدھ گدی پر تو دھر ہی دیتے۔ یہ نالاٸق۔۔!
"ٹھیک ہے۔۔"
وہ اب کے پھر سے چلنے لگا تھا۔
"بس کوٸ ایک ایسی وجہ بتادیں جو مجھے قاٸل کرسکے۔ پھر میں چلا جاٶنگا شادی میں۔ اور اگر نہیں تو پھر بھول جاٸیں۔۔"
اف۔۔ وقار کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لیں۔ گہرا سانس لے کر انہوں نے فون کان کے ساتھ کچھ اور جمایا تھا۔۔
"دیکھو مع۔۔"
"ریزن بابا۔۔"
اور پھر وقار یکدم خاموش سے ہوگۓ۔ ہاں وہ معاذ تھا۔۔ اس کی مرضی شامل نہیں ہوگی تو وہ نہیں جاۓ گا۔۔ یہ طے تھا۔۔
"معاذ میں۔۔ میں چاہتا ہوں کہ خاندان کی کسی ایک لڑکی سے تمہاری شادی ہوجاۓ۔۔"
ان کے جملے نے اس کے سر پر گویا دھماکہ کیا تھا۔ اس نے ناسمجھی سے آنکھیں کھول کر فون کو دیکھا۔
"کیا کہا آپ نے۔۔؟"
"کیا۔۔ کیا غلط کہا ہے یہ بتاٶ۔۔"
جلدی سے ہچکچا کر بات سمیٹی۔
"سہی کیا کہا ہے آپ نے اس میں۔۔؟"
اس کے سامنے لمحے بھر کو خاندان بھر کی لڑکیاں گھومی تھیں۔ اف ایک تو ان کے وہ نیلے پیلے سے کپڑے اور۔۔ اور جو وہ ایک ہی بات بار بار پوچھ کر نس پھاڑتی تھیں وہ الگ۔ اس نے یکدم جھرجھری لی تھی۔ سرسراتی ہوا سے نہیں۔۔ خاندان کی لڑکیوں سے۔۔
"معاذ۔۔ تم میرے ایک ہی بیٹے ہو۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذریعے اپنے خاندان کے ساتھ جڑا رہوں۔ میں اس بڑھاپے میں ان سے مزید دور نہیں رہنا چاہتا بیٹا۔ پہلے ہی سوتیلے رشتے کی وجہ سے میں ان کے قریب نہیں آسکا۔۔"
"ہاں راٸٹ۔۔ ایسے لوگوں کے لیۓ جنہوں نے آپ کو رات کی تاریکی میں گھر سے نکال باہر کیا تھا۔۔"
اس کا لہجہ اس قدر تلخ تھا کہ اسے خود اپنے حلق میں کڑواس پھیلتی محسوس ہوٸ تھی۔ لیکن وہ ایسا ہی تھا۔۔ دل زخمی کردینے کی حد تک صاف گو۔۔ اور وہ جانتا تھا کہ اس کے اس آخری جملے نے بابا کی سماعت کو کیسے زخمی کیا ہوگا۔ چند لمحے دوسری جانب گہری خاموشی چھاٸ رہی۔
"میں معاف کرچکا ہوں سب کو۔۔"
"لیکن میں نے ابھی تک کسی کو معاف نہیں کیا ہے۔"
اس کے لہجے کی تلخی اب کے سرد سی فضا میں تحلیل ہونے لگی تھی۔
"معاذ کیا تم اپنے باپ کی اتنی سی بات بھی نہیں مانو گے۔۔؟ میں نے بہت انتظار کیا ہے بیٹا۔۔ میں نے بہت صبر کیا ہے لیکن اب میں اپنے بھاٸیوں کے ساتھ مراسم بڑھانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذریعے کم از کم میرے رشتے کا دھاگہ ان کے ساتھ پھر سے جڑ جاۓ۔۔ میری امید کو اس طرح مت توڑو بیٹا۔۔"
معاذ کے چہرہ بے حد سپاٹ ہوگیا تھا۔۔ اتنا سپاٹ کہ حد نہیں۔۔ یوں لگتا تھا سڑک کی ساری سختی اس کے چہرے پر اتر آٸ ہو۔
"مجھے کوٸ دلچسپی نہیں ہے ان لوگوں سے مراسم بڑھانے میں بابا۔ کیونکہ میں ابھی تک کچھ نہیں بھولا ہوں۔ کچھ بھی نہیں۔۔"
چند لمحے دوسری جانب پھر سے خاموشی چھاٸ رہی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے لفظوں نے بابا کو تکلیف دی تھی مگر اب وہ مزید ان کی شکلیں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ انہیں ایسے دیکھ کر اس کے اندر بہت کچھ بیک وقت ابلنے لگتا تھا۔ کٸ سالوں پہلے کی زیادتیاں یاد آنے لگتی تھیں۔ کیا وہ کچھ بھولا تھا۔۔؟ اس کے دل سے باتیں نہیں نکلتی تھیں، اس کی سماعت سے گزرے اوقات کی گونج نہیں جاتی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی یہ۔۔ کچھ بھلا نہ پانا۔۔ واقعات کو پوری جزیات سے یاد رکھنا۔
"کیا تم اپنی ماں کو بھی یونہی جواب دیتے۔۔!"
وہ جواب نہیں تھا۔ جوابی وار تھا۔ اس کے اٹھتے قدم بے ساختہ ساکت ہوۓ، سرمٸ کانچ، کرچی کرچی سے ہونے لگے۔ بابا نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا اس کی۔۔ ہاں وہ جانتے تھے کہ اسے تکلیف سب سے زیادہ کہاں ہوتی تھی۔
"بابا میں نے آپ سے کہا بھی ہے ہزار دفعہ کہ ماں کا ذکر مت لایا کریں درمیان میں۔۔"
اس نے ضبط سے بس اتنا ہی کہا تھا۔ دوسری جانب وقار کرب سے مسکراۓ تھے۔۔
"تو یہ ثابت ہوا کہ تم اپنی ماں سے زیادہ محبت کرتے ہو۔۔ "
"بابا۔۔۔"
"میں ولیمے تک آجاٶنگا۔ پھر تم گھر آجانا۔ زیادہ تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔"
انہوں نے اس کی بات سنے بغیر دوسری جانب فون رکھا تو اس نے بنا کسی تاثر کے فون جیب میں اڑسا اور پھر سڑک کنارے بنے سنگی بینچ پر شکستہ سا بیٹھ گیا۔ جانے آنکھیں کیوں مسلی تھیں اس نے اپنی۔۔
"اتنے کڑوے نہ بنو معاذ۔۔ قرآن پڑھنے والے اتنے کڑوے نہیں ہوا کرتے۔"
اس نے گہرا سانس لے کر چہرہ اٹھایا۔ سنگی بینچ کے اوپر ایک بوڑھا پیڑ اس پر اس سیاہی میں بھی سایہ فگن تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے اس کی جھولتی شاخوں کو دیکھے گیا۔ اسے یاد تھا۔۔ کہ اس کی ماں اسے کس طرح ہر فجر پر اٹھایا کرتی تھی۔ وہ اس نرم گرم سی آغوش کو بھولا ہی کب تھا۔۔
"معاذ۔۔ اللہ کے نیک بندے فجر کی سیاہی میں نماز ادا کرتے ہیں۔۔ اٹھ جاٶ۔۔ اگر تم نے اپنی نماز کھودی تو کبھی کچھ بھی نہیں پاسکو گے۔۔"
کسی نے نو عمر سے لڑکے کے سیاہ بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلا کر کہا تو اس نے مندی مندی سی آنکھیں کھول کر سامنے نظر آتے پاکیزہ سے وجود کو دیکھا۔ وہ اس کی ماں تھی۔۔ فجر کے جامنی سے اندھیرے میں دمکتی ہوٸ۔۔
"اٹھ رہا ہوں۔۔"
اس نے کہہ کر کروٹ لی تھی اور پھر سے آنکھیں بند کرلیں۔ حبیبہ نے مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر اس کا چہرہ اپنی جانب نرمی سے گھمایا۔ معاذ کے لبوں پر نہ چاہتے ہوۓ بھی تبسم ابھرا تھا۔
"ماں آپ چیٹنگ کررہی ہیں۔۔"
"بالکل۔۔
انہوں نے کہا اور پھر جھک کر اس کا ماتھا چوما۔ معاذ نے بے بسی سے دیکھا تھا انہیں۔ ان کی محبت کے آگے وہ کبھی نہیں جیت سکا تھا۔ پھر آہستہ سے اپنے بستر پر اٹھ بیٹھا۔ خفگی سے حبیبہ کو دیکھا جو مسکراہٹ دباۓ اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔
"تم نے مجھے روز قیامت سرخرو کرنا ہے معاذ۔۔ یاد رکھنا۔۔"
"یہ ایک بہت بڑی بات ہے ماں۔۔ ہر وقت مجھے نہ کہا کریں۔۔ کبھی کبھی خوف آتا ہے۔"
"ایمان خوف اور امید کے درمیان کی کیفیت کا نام ہے معاذ۔ تم خوف اور امید کے ساتھ زندگی گزاروگے تبھی تو پہنچ پاٶگے وہاں تک۔۔"
"میں اپنی پوری کوشش کرونگا۔۔"
وہ اس کی بات پر مسکراٸ تھیں پھر اٹھ کھڑیں ہوٸیں۔ اس کے بیڈ کے ساتھ ہی ان کا جاۓ نماز ڈلا ہوا تھا۔ اس نے ایک نظر ان کے قرآن کی جانب دیکھا۔ وہ ایک چھوٹی سی سیٹ پر رکھا ہوا تھا اور اس کی آیات روز اول کی طرح جگمگا رہی تھیں۔
"آپ ہمیشہ تہجد میں کیوں قرآن پڑھتی ہیں۔۔؟"
اس نے ایک لمحے کو سرمٸ کانچ ان پر جماۓ۔ وہ لمحے بھر کو اس کے سوال پر مسکراٸ تھیں۔ پھر محبت سے قرآن کے چکنے صفحے پر انگلیاں پھیرنے لگیں۔ سیاہ روشناٸ سے لکھے گۓ لفظوں کو جیسے محسوس کرنا چاہا تھا انہوں نے۔۔
"جانتے ہو جب اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم پر قرآن اترا تو کونسا وقت تھا۔۔؟"
اسے اندازہ تھا پھر بھی اس کا سر نفی میں ہل گیا۔ وہ اب تک نرمی سے مسکراتی ہوٸیں آیتوں پر انگلی پھیر رہی تھیں۔
"وہ طلوعِ فجر سے قبل کا وقت تھا معاذ۔ وہ ایسا وقت تھا جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے۔ آپ اپنے غار میں تنہا بیٹھے عبادت کررہے ہوتے ہو۔ اپنے تنہا وقت میں اسے چپکے چپکے پکار رہے ہوتے ہو۔۔ کہ اچانک سے آپ کے تاریک غار میں علم کی چاندنی سی پگھل کر گرنے لگتی ہے۔۔ "
ان کی باتیں ذو معنی تھیں لیکن وہ ان باتوں کو سمجھتا تھا۔ اسے اپنی ماں کو سمجھنے میں دقت نہیں ہوتی تھی۔
"جانتے ہو وقت کا بھی گزرے وقت سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے۔ کٸ سمتوں میں سفر کرتا وقت اپنے گزرے وقت کے ساتھ کٸ صدیوں تک کے لیۓ ہم آہنگ رہتا ہے۔ کبھی تم اسے فجر سے قبل پڑھ کر دیکھنا معاذ۔ تمہیں یوں لگے گا کہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز دھوکا ہے۔۔ تم خوف سے کانپنے لگو گے۔۔ کیونکہ گزرے وقت کا گزرتے وقت سے مخصوص تعلق ہوتا ہے۔۔ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم جب اس غار سے پلٹے تو کانپ رہے تھے۔۔ وہ چند آیتیں تھیں۔۔ لیکن قلب پر اتری تھیں جبھی تو ایسی لرزش طاری ہوٸ تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو قرآن پڑھ کر رونا ہی نہیں آتا۔۔ یہ تو ہم پر اثر ہی نہیں کرتا۔۔ لیکن میں ان سب سے صرف ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔۔ کہ کیا انہوں نے کبھی اس قرآن کو مُردوں کے علاوہ اپنے دل کی زندگی کے لیۓ پڑھا۔۔ جس کا لفظ لفظ حیات دیتا ہے اسے بھی ہم نے صرف کسی کی موت کے لیۓ بچا کر رکھا ہوا ہے۔۔ کیا کبھی اسے اپنے تاریک غار میں، اپنی ذات کی تاریکی کے ساتھ بیٹھ کر پڑھا ہے۔۔؟ اگر پڑھا ہے تو ممکن نہیں کہ یہ تمہارے دل میں نہ اترا ہو۔۔ لیکن ہم۔۔"
ان کی چمکتی آنکھوں کے پار بہت سے منظر چل رہے تھے۔۔ بہت سے گزرے راستے سمٹ رہے تھے۔۔ بہت سی تکلیف دہ ساعتیں زخم دینے لگی تھیں۔
"معاذ ہم نے اسے چھوڑ دیا۔۔"
چھن سے کچھ ٹوٹا۔۔
"ہم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا معاذ اور دنیا کی ہر شے اکھٹی کرلی۔ ہم نے اپنے دل میں، دنیا اتنی جمع کرلی ہے کہ اب قرآن کے لیۓ جگہ ہی نہیں رہی۔ ہم نے اپنے دل میں نفرت، حسد، بغض، جلن اور جانے کیا کیا اکھٹا کر رکھا ہے تو قرآن کیسے آۓ گا۔۔؟ کیا تمہیں لگتا ہے کہ قرآن کسی ایسے دل میں داخل ہوگا جو پاک نہ ہو۔۔؟ لیکن ہم قرآن کے مخاطب کرنے پر اس سے گھبرا کر بھاگ جاتے ہیں۔ قرآن تو آٸینہ ہے۔ اس میں انسان اپنی ذات کی بدصورتی بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ لیکن ہم اس کے پہلے ہی خطاب پر ڈر کر منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ ہم اس میں اپنا آپ دیکھنا نہیں چاہتے۔ کوٸ بھی اپنی ذات کی تاریکی نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن پھر بھی قرآن جب مخاطب کرے تو اس کے خطاب سے گھبرا کر بھاگتے نہیں ہیں اور جو۔۔"
وہ ایک لمحے کو رکیں۔۔
"جو اس سے دور بھاگتے ہیں وہ تاریکیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ وہ سیاہیوں میں گھرنے لگتے ہیں۔ وہ جہنم کی کسی اندھیر گھاٹی میں جا گرتے ہیں معاذ، صرف اس لیۓ۔۔ کیونکہ وہ اس قرآن کو ایسے کسی خاموش وقت میں کھول کر پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ کیسے لوگ ہیں ناں ہم۔۔!"
اپنی آنکھ کے بھیگے گوشے کو انگلی سے صاف کر کے انہوں نے اس کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔
"اور۔۔ اور اگر کوٸ اس قرآن کو چھوڑ دے تو کیا ہوتا ہے ماں۔۔؟"
اس کا سوال بہت خوفزدہ تھا۔۔ اسے لگا اگر اس نے اسے چھوڑ دیا تو وہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔۔
"جو اسے چھوڑ دیتے ہیں وہ جہنم کی کسی گہری گھاٹی میں جا گرتے ہیں۔"
ان کی آواز آخر میں بے حد دھیمی ہوگٸ تھی۔ پھر اسے دیکھ کر مسکراٸیں۔۔
"اور جو اسے نہیں چھوڑتے، انہیں جنتیں دی جاتی ہیں۔ بھوک، موت اور ہر قسم کی بے چینی سے پاک جنتیں۔۔"
اس کے دل کو ڈھارس سی ملی۔ امید جگمگاٸ۔۔ اور وہ ہلکا دل لیۓ فجر کا وضو بنانے اٹھ کھڑا ہوا۔ کیونکہ اب اسے۔۔ ہاں اسے بھی یہ قرآن پڑھنا تھا۔ تاکہ ہمیشہ کی جنتوں میں اس کا حصہ بھی نکل سکے۔
اسکی کھوکھلی نگاہوں نے سڑک کا راستہ عبور کیا اور پھر وہ بے جان قدموں سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ہوا کے چلتے جھکڑوں سے اس کے ماتھے پر گرتے بال اب تک اڑ رہے تھے اور چہرہ۔۔ چہرہ کسی گہرے غم کی اداسی میں گھرا ہوا لگتا تھا ۔۔
وہ ایک غار تھا۔۔ ایک تاریک سیاہ سرنگ جتنا طویل غار۔ اس کے دونوں سِروں پر کہیں بھی روشنی کا ہلکا سا شاٸبہ بھی نہیں تھا۔ حبس، گھٹن اور عجیب کثافت میں گھری وہ آس پاس آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسے پھر بھی کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ یکایک اس نے ایک قدم اٹھایا تو اندازہ ہوا کہ وہ ننگے پیر ہے۔ قدموں کے نیچے بہت سے باریک پتھر آۓ تو بے ساختہ اس کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی۔ گہرے گہرے سانس لے کر اس نے تاریکی میں اندھوں کی طرح کہف کی دیواریں ٹٹولیں اور پھر لڑکھڑاتی ہوٸ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے بڑھنے لگی۔
یکایک اس غار کے اندر موجود گھٹن اور گرمی سے اس کا سارا وجود پسینے میں نہا گیا تھا۔ اس نے گہرے گہرے سانس لے کر راستہ عبور کرنا چاہا مگر وہ کہف۔۔ وہ کہف بہت طویل تھا۔ نہ ختم ہونے والا تاریک سا غار۔۔
اس کی آنکھ سے بے ساختہ اک آنسو ٹپکا تھا۔ کمزور سی ٹوٹی پھوٹی آواز میں اس نے اپنے گھر والوں کو آوازیں دی۔۔
”م۔۔ماں۔۔ بابا۔۔۔“
لیکن اس کی آواز غار کی گھٹن زدہ دیواروں سے پلٹ کر آرہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو متواتر بہنے لگے۔ خوف سے جسم لرزنے لگا تھا۔۔
”ش۔۔ شزا۔۔ ردا۔۔“
اس نے اپنی بہنوں کو بھی آواز دی لیکن اس تاریک غار میں وہ تنہا کھڑی تھی۔
”کوٸ مجھے نکالو یہاں سے۔۔ مجھے ڈ۔۔ ڈر لگ رہا۔ پلیز کوٸ تو میری مدد کو آجاٶ۔۔ “
اس کی لرزتی آواز ایک بار پھر سے دیواروں سے پلٹ کر آٸ تو اس نے کہف کی دیوار کو چھوڑ دیا۔ چہرے پر لڑھکتے آنسوٶں کو ہتھیلیوں سے صاف کیا مگر وہ پھر بھی پھسلتے جارہے تھے۔ اس نے ایک بار پھر چہرہ اٹھا کر کٸ آوازیں دیں لیکن کوٸ نہیں تھا۔۔ کوٸ اس کی مدد کو نہیں آرہا تھا۔۔ اسے لگا اگر جو وہ کچھ دیر اور یہاں رہی تو مر جاۓ گی۔ وہ اس غار کی تاریکی اور خوف سے واقعی مر جاۓ گی۔۔
نَحنُ نَقُصُّ عَلَیکَ نَبَاَھُم بِالحَقِّ
ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کا واقعہ حق کے ساتھ۔۔
اس نے جھٹکے سے پلٹ کر غار کی دوسری جانب دیکھا تھا۔ کہف کے طویل سرے کے بالکل کنارے پر کوٸ روشنی جگمگا رہی تھی۔ کوٸ سنہری سی چاندنی گویا پگھل کر اس تاریک غار میں قطرہ قطرہ گر رہی تھی۔
اِنّھُم فِتیَة اٰمَنُوا بِرَبِّھِم وَزِدنٰھُم ھُدًی
بے شک وہ چند نوجوان تھے وہ ایمان لاۓ تھےاپنے رب کے ساتھ اور ہم نے زیادہ کیا تھا ان کو ہدایت میں۔۔
(کہف١٨/ ١٣)
اس نے آہستہ آہستہ غار کے سرے کی جانب قدم بڑھاۓ۔ کچھ لمحات پہلے کا خوف کہیں دور جا سویا تھا۔ اسے کہف کے آخری سرے سے بہت مدھر دھیمی سی آواز آرہی تھی۔ کانوں میں رس گھول کر دل میں اترنے والی آواز۔۔
وّرَبَطنَا عَلیٰ قُلُوبِھِم
اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو
اس کے بڑھتے قدم بے ساختہ رکے تھے۔ بات بالکل اسی سے کی جارہی تھی۔ وہ بھی تاریک غار میں کھڑی لرز رہی تھی۔ کیا اللہ اسے یہ بتارہا تھا کہ غار والوں کے دلوں کی مضبوطی صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لوگ کبھی بھی خوفزدہ سے کہف میں تمہارا ہاتھ تھامنے نہیں آٸیں گے۔ انسان اس تاریکی کے پہاڑ تلے کھڑا لرز رہا ہوتا ہے اور وہاں۔۔ ہاں وہاں وہ اللہ کو پا لیتا ہے۔ اس کے لڑکھڑاتے قدموں کی لرزش کچھ اور زیادہ ہوگٸ تھی۔۔لیکن پھر بھی وہ ہمت کر کے چلتی رہی۔۔ بہت سے باریک پتھر اب بھی اس کے پیروں میں کھب رہے تھے مگر وہ ان زخموں کی جانب متوجہ نہیں تھی۔ وہ تو کہیں اور ہی متوجہ تھی۔۔
اِذ قَامُو فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السّمٰوٰتِ وَالاَرضِ لَن نّدعُوَا مِن دُونِہِ اِلٰھًا
جب وہ کھڑے ہوۓ تو انہوں نے کہا: ہمارا رب (تو) آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا، ہر گز نہیں ہم پکاریں گے اس کے سوا کسی اور معبود کو۔
اس نے غلطی کردی۔ اس سے غلطی ہوگٸ۔ وہ کہف میں اپنے والدین کو آواز دے رہی تھی۔ وہ اپنے گھرانے کو بلارہی تھی۔ وہ ان سے مدد مانگ رہی تھی۔ حالانکہ وہ تو اس کی مدد کرنے والے نہ تھے۔ وہ تو، وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے اسے اپنے گرد غار کی دیواریں کھڑی کرنا پڑی تھیں۔ پھر بھلا وہ کیوں اس کی مدد کو اس تاریک جگہ میں آتے۔ ان تاریک کوٹھڑیوں میں تو انسان کو صرف اللہ بچاتا ہے۔ کیا کوٸ ہے جو اللہ کے علاوہ اس غار میں، غار والوں کا ساتھی ہوتا۔ وہ اب تک غلط لوگوں کو پکار رہی تھی۔۔ اسے اللہ کو پکارنا تھا۔۔ اصحابِ کہف نے اپنے خاندان والوں سے مدد نہیں مانگی تھی۔ بلکہ وہ تو اپنی مدد اللہ سے طلب کررہے تھے۔
اس کے قدموں کی لرزش اب کے پورے جسم میں سرایت کرنے لگی تھی۔ اور وہ جانتی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ یہ لرزش کن الفاظ کی لرزش تھی۔ وہ بات تھی۔۔ اللہ کی بات جس سے اس کا اندر باہر جھنجھنا اٹھا تھا۔
لَقَد قُلنَآ اِذًا شَطَطًا
البتہ تحقیق ہم نے کہی اس وقت ظلم و زیادتی والی بات۔۔
(کہف١٨/١٤)
اس نے اپنی زیادتی پر اللہ سے معافی طلب کی۔ اس نے لرزتے لبوں کو بمشکل قابو کر کے استغفار پڑھا تھا۔ اسے آج اندازہ ہوا کہ اللہ کے رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم جب اس رات پہلی وحی کے بعد غارِ حرا سے پلٹے تو کیوں لرز رہے تھے۔ اس کے سارے وجود میں پھیلی لرزش آج اسے یہ سمجھا رہی تھی کہ قرآن کا انسان پر اترنا کس قدر بھاری اور لرزہ خیز عمل تھا۔ اس نے بے تحاشہ کانپتے ہاتھوں سے کہف کی دیواریں ٹٹولتے ہوۓ راستہ عبور کیا مگر وہ راستہ بہت طویل تھا۔ دور کہیں آخری سرے پر مدھم سنہری سا نور اب تک جگمگا رہا تھا اور وہ مدھر آواز۔۔ وہ مدھر آواز پھر سے اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔
مگر پھر اسے الفاظ سمجھ نہیں آۓ۔ بہت سے لفظ اس کی سماعت پر گرے ضرور مگر وہ ان سے کوٸ بھی معنیٰ اخذ نہیں کرپاٸ۔۔ وہ تو بس اب کہ مسلسل لرزتی سانسوں کے درمیان استغفار پڑھتی، کہف کی دیواریں ٹٹولتی آگے بڑھنے کی کوشش کررہی تھی لیکن ہر دفعہ اسے لگتا تھا کہ وہ روشنی اس سے دور جارہی ہے۔ دور جاتی جارہی ہے۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ وہ مدھم سی روشنی گل ہونے لگی۔۔
”ن۔۔ نہیں۔۔“
اس کے لبوں سے بہت کمزور سی چیخ آزاد ہوٸ لیکن وہ روشنی مٹتی جارہی تھی۔ دھوپ کی چمکتی روشنی اس کے رخسار پر گر کر چمکی تو اس کی آنکھ بے ساختہ کھلی۔ اس کا سارا جسم اس ٹھنڈ میں بھی پسینہ پسینہ ہورہا تھا اور سانسیں یوں چل رہی تھیں گویا وہ طویل مسافت طے کر کے آٸ ہو۔ اس نے نگاہ آس پاس گھما کر دیکھا۔ یہاں کوٸ تاریک غار نہیں تھا، نہ ہی وہ مدھر آواز تھی اور نہ ہی سنہری سی چاندنی۔۔ وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کا صاف ستھرا سا پرسکون کہف ویسے ہی تھا۔ سکینت والا۔!
آنکھیں مسلتی وہ بستر پر اٹھ بیٹھی۔ سامنے ہی سنگھار آٸینے میں اس کا عکس ابھرا تھا۔ اس نے کندھوں پر بکھرے کتھٸ بالوں کو ہاتھوں سے سمیٹا اور پھر انہیں پونی میں باندھتی بستر سے نکلی۔ اسی پہر رامین اس کے کمرے میں داخل ہوٸ تھیں۔ اس نے بے ساختہ انہیں دیکھا۔ وہ خفگی کے ساتھ اس کی الماری میں نۓ سل کر آۓ کپڑے رکھنے لگی تھیں۔ اس نے محتاط نظروں سے ان کا چہرہ دیکھنا چاہا جو الماری کا پٹ وا ہونے کی وجہ سے چھپ گیا تھا۔۔
"ماں۔۔ آپ ناراض ہیں کیا مجھ سے۔۔؟"
پلکیں جھپکا کر اس نے پوچھ ہی لیا۔ خواب کا أثر اب تک اس کے اعصاب پر حاوی تھا۔ انہوں نے الماری کا دروازہ زور سے بند کیا۔
"میرے ناراض ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے تمہیں۔۔؟ کرتی رہو جو کررہی ہو۔۔"
"ماں ایسا نہیں ہے۔۔"
اس کا دل دکھا تھا۔ جانے کیوں اسے لگا وہ رونے لگ جاۓ گی۔۔
"میرے لیۓ آپ، بابا اور میرا پورا گھرانہ اہم ہے۔ میں آپ میں سے کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑنا چاہتی۔۔"
"لیکن تم اپنی من مانیاں کر کے ہمیں پیچھے چھوڑ رہی ہو رابیل۔۔"
"تو آپ بھی میرے ساتھ آکھڑی ہوں ماں۔ کیونکہ میں اللہ کے حکم کو جان کر اسے پیچھے نہیں پھینک سکتی۔ اس کی کتاب نے مجھے ہر اس عمل سے خبردار کیا ہے۔۔ "
اسکے جواب پر رامین لمحے بھر کو خاموش ہوٸ تھیں۔ پھر تھک کر اسے دیکھا۔۔
"تمہاری وجہ سے بہت باتیں سننی پڑی ہیں تمہارے بابا کو اور مجھے۔۔"
"میں معذرت خواہ ہوں ماں کہ انہوں نے میری وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچاٸ ہے۔ لیکن میرا اس میں کوٸ قصور نہیں سچ میں۔۔"
"کیا تمہیں اپنا یہ حجاب اس قدر پسند ہے رابیل۔۔؟"
وہ جیسے حیرت اور دکھ کے ملے جلے سے انداز میں کہتیں اس کے پاس چلی آٸ تھیں۔ اس کی کتھٸ آنکھوں میں ہلکی سی نمی گھلی۔۔
"بہت ماں۔۔ بہت سے بھی زیادہ۔۔ اور بات اب شاید میری پسند و ناپسند سے بہت دور جا چکی ہے۔ بات اب حکم مان کر سر تسلیمِ خم کرنے تک آچکی ہے۔ "
"میری بہت پیاری بیٹی ہو تم۔۔ ردا اور شزا سے بھی زیادہ پیاری۔۔ پھر تم نے کیوں اوڑھا یہ حجاب سر پر۔۔؟ لڑکیاں تو خود کو مزید نکھار، سنوار کر لوگوں کے سامنے آتی ہیں۔۔ تم کیوں ایسی ہوگٸ ہو۔۔؟"
اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ دل پر جمے زخم جیسے پھر سے کھرچنے لگے۔۔
"ماں، مجھے اسلام نے خود کو نکھارنے، سجانے، سنوارنے سے نہیں روکا۔ زندگی کے کسی بھی پہر میں اس طرح کی کوٸ رکاوٹ اسلام نے عورت کے لیۓ نہیں کھڑی کی۔ لیکن اس نے اس کے چاروں اطراف حجاب باندھنا ضروری سمجھا ہے ماں۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ عورت بہت قیمتی ہے، بہت خوبصورت ہے، دل کو راحت و سکون پہنچاتا ہے عورت کا وجود۔ لیکن وہ راحت ہر کسی کے لیۓ نہیں ہونی چاہیۓ۔ عورت کیوں خود کو قربان کر کے ہر ایک کی راحت کا سامان بنے۔۔؟ اسے کیا دھن سوار ہے کہ وہ ہر ایک کی نگاہوں کو اپنے حسن سے خیرہ کرتی ہوٸ گزرے۔ اللہ نے تو اسے تکلیف سے بچایا ہے ماں۔ اللہ نے تو اس حجاب کے ذریعے ہم لڑکیوں کو اوپر اٹھایا ہے۔ پھر اس میں بھلا میں بدصورت کیسے لگ سکتی ہوں۔۔؟"
وہ انہیں دونوں کندھوں سے تھامے گیلی آنکھوں کے ساتھ نرمی سے کہے جارہی تھی۔ لمحے بھر کو رامین نے پریشانی سے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔۔
"تمہاری پھپھو کے تیور مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں رابیل۔ وہ ضرور کوٸ بہت بڑا تماشہ کھڑا کرنے والی ہیں۔ رات ہی سے غصے میں بل کھا رہی ہیں، میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو مجھے بھی جھٹک دیا۔۔ "
اس نے بھی پریشانی سے پیشانی مسلی تھی۔ کیسے سامنہ کرے گی وہ اس سب کا۔۔
"میں دعا کرونگی کہ سب ٹھیک رہے۔۔"
"اور ہاں۔۔ یہ معاذ۔۔ تمہیں کچھ عجیب سا نہیں لگتا۔۔؟"
انہوں نے ایک پل کو رک کر انتہاٸ ناسمجھی سے پوچھا تھا۔ رابیل نے امڈتی مسکراہٹ روکی۔۔
"کیا مطلب۔۔؟ عجیب کیسے۔۔؟"
"مطلب پچاس لوگوں کے درمیان کھڑا ہو کر وہ اتنے مزے سے جواب کیسے دے سکتا ہے اور وہ بھی صاٸمہ آپی کو۔ اس دن بھی جب آیا تھا ناں یہ تو آپی نے حسبِ عادت طنز شروع کردیا۔ محترم نے اتنا سیدھا جواب دیا تھا کہ لمحے بھر کو تو صاٸمہ بھی گھبرا گٸ تھیں۔۔ "
"ہاں تو اس میں عجیب کیا ہے۔۔۔؟"
اس نے بیڈ کے کنارے پر بیٹھتے ہوۓ ان کا چہرہ دیکھا۔ وہ جھرجھری لے کر اب کے اس کا بستر سمیٹنے لگی تھیں۔۔
"عجیب تو ہے۔۔ بات نہیں کرتا۔۔ ایک طرف خاموش بیٹھا رہتا ہے۔۔ بات کرو تو ہاں یا نا میں جواب دیتا ہے۔۔ اس کی عمر کے لڑکے ایسے نہیں ہوتے۔۔"
"ماں۔۔"
اس نے گہرا سانس لے کر دیکھا تھا ان کی جانب۔۔
"آپ کو نہیں پتہ کہ کون کن ادوار سے گزر کر آیا ہے۔ آپ کے آس پاس جتنے بھی لڑکے ہیں ان کا ماضی بہت اچھا، شانت اور اپنوں کے درمیان گزرا ہے جبکہ معاذ اور اس کے خاندان کے ساتھ کٸ سالوں پہلے کیا، کیا گیا تھا یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی۔ اسی لیۓ ہم اس کے کسی بھی رویے کو جج نہیں کرسکتے۔۔ "
"ہاں یہ تو ہے۔۔"
اب کہ وہ بھی گہرا سانس لیتی بیڈ پر رکھےتکیۓ درست کررہی تھیں۔ پھر سیدھی ہوٸیں۔۔
"عجیب ضرور ہے وہ۔۔ لیکن ایک بات ہے۔۔ آنکھوں کو اس کی موجودگی بری نہیں لگتی۔ خاموش بے ضرر سا لگتا ہے۔۔"
رابیل نے بھی سر ہلایا تھا۔۔
"مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔۔"
"چلو اب ناشتہ کر لو باہر آ کر۔ اور اب پلیز رات کو بارات کے فنکشن میں ضرور شرکت کرلینا۔۔ میں مزید اور لوگوں کے طعنے نہیں سن سکتی۔۔ اور ہاں۔۔ "
وہ جاتے جاتے یکدم مڑیں تو اس نے چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔
”ارحم پوچھ رہا تھا تمہارا آج صبح ہی۔ اس سے بات کرلینا پلیز اور کم از کم تم اسے تو خود کے ساتھ راضی کرلینا تاکہ تمہاری پھپھو سے نبٹنا آسانس ہوجاۓ۔۔“
آخر میں الجھ کر کہتیں وہ کمرے سے باہر نکلیں تو رابیل نے بھی گہرا سانس لیا۔ ہر حال میں اسے لوگوں کو تو فیس کرنا ہی تھا۔ اور ارحم کو تو سب سے پہلے۔
وہ نہا کر اب کے سنگھار آٸینے کے سامنے کھڑی گیلے بالوں کو تولیۓ سے خشک کررہی تھی۔ اس کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے مگر ان کا رنگ اور ان کی چمک بہت خوبصورت تھی۔ اسے انہیں کھولنے سے بھی الجھن ہوتی تھی کہ وہ ریشمی ہونے کی وجہ سے بار بار چہرے پر امڈ آتے تھے۔
بالوں کو خشک کر کے اس نے انہیں پیچھے کی جانب پھینکا، اسی پہر اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر ردا اور شزا اندر داخل ہوٸ تھیں۔ اس نے بے اختیار ان کی جانب دیکھا۔ اسی لمحے ارحم بھی ان کے ساتھ ہی اندر آنے لگا تو ردا نے دروازے میں رک کر چہرہ باہر نکالا۔۔
”رابی نے ابھی دوپٹہ نہیں اوڑھا ہوا، آپ باہر انتظار کریں“
اور یہ ٹھک۔۔ اس نے دروازہ اس کے منہ پر ہی بند کردیا تھا۔ رابی تو رابی شزا بھی اس کی حرکت پر دھک سے رہ گٸ تھی۔
”یہ۔۔ یہ کیا طریقہ ہے ردا۔۔؟!“
شزا کی بے حد حیران سی آواز سناٸ دی تھی۔ ردا نے اس کی جانب نا سمجھی سے دیکھا۔۔
”کیا۔۔؟“
”یہ کیا طریقہ ہے تم نے دروازہ ان کے منہ پر بند کردیا۔۔!!“
”تو اور کہاں بند کرتی۔۔“
رابی نے بے ساختہ امڈتی ہنسی کو بمشکل روکا تھا۔
”پاگل وہ کیا سوچیں گے۔۔!!“
”بھٸ اگر انہیں اندر آنے دیتی تو رابی کیا کرتی۔ ایک دم دوپٹے کے لیۓ بھاگتی اور ساری سچویشن آکورڈ سی ہوجاتی۔ میں نے تو سب کو اس قسم کی سچویشن سے بچایا ہے۔۔“
”واہ۔۔ کیا بچایا ہے ویسے۔۔“
شزا نے تالی بجا کر داد دی تھی اسے۔ اس نے مسکرا کر دونوں کی جانب دیکھا۔۔
”کیا چاہیۓ۔۔۔؟“
”کیا پہن رہی ہو تم آج رات۔۔۔؟“
”ڈونٹ ٹیل می کہ تم دونوں کو ماں نے بھیجا ہے۔ “
اس نے ایک پل کو خوفزدہ ہو کر دیکھا تھا ان دونوں کو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراٸیں۔ پھر اس کی جانب دیکھا۔ ردا نے ابرو نچاۓ تھے۔ رابیل دو قدم پیچھے ہٹی۔۔
”میں۔۔ میں خود تیار ہوسکتی ہوں۔۔“
”پتہ ہے ہم نے کہ تم نے کیسا تیار ہونا ہے۔ خدا کے لیۓ رابی۔ ہم رات کو شادی میں جاٸیں گے میلاد میں نہیں۔۔“
شزا اب کے اس کی وارڈراب کا دروازہ کھولے کپڑے الٹ پلٹ رہی تھی۔ اور ردا نے قدم اس کی جانب بڑھاۓ تھے۔
”تم دونوں آخر کر کیا رہے ہو میرے ساتھ اور ماں۔۔ ماں بھی ہمیشہ تم دونوں کو میرے سر پر مسلط کردیتی ہیں۔ پتہ بھی ہے کہ مجھے زیادہ تیار ہونا نہیں پسند۔۔“
”ابھی کہ ابھی یہاں آکر بیٹھ جاٶ۔۔“
شزا نے اسے الماری کے دروازے کے پیچھے ہی سے تنبیہہ کی تھی۔ اس نے اپنا بیڈ پر رکھا دوپٹہ محتاط نظروں سے دیکھا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ اسے اٹھا کر باہر بھاگتی ردا نے اسے قابو کرلیا تھا۔۔
”ماں نے ہم دونوں کو آپ کی گرومنگ کرنے کے لیۓ بھیجا ہے۔۔“
”میں ایسے ہی ٹھیک ہوں پلیز مجھے جانے دو۔۔“
ہشش۔۔
ردا نے اسے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ اس نے بے بسی سے دیکھا تھا ان دونوں کڈنیپرز کو۔ پھر شزا کسی تجربہ کار ڈیزاٸنر کی طرح اس کی جانب گھومی تھی۔ تین چار کپڑے اس پر رکھ کر تنقیدی نگاہوں سے اس کا جاٸزہ لیا۔ پھر ایک نیا سل کر آیا آسمانی رنگ کا فراک اس کی نگاہوں میں جچ ہی گیا۔
”یہ بہت اچھا لگے گا۔۔“
اس نے فیصلہ کن سے انداز میں اسے مسکرا کر دیکھا تھا پھر اس کا جوڑا بیڈ پر رکھ کر باقی کے کپڑے الماری ترتیب سے لٹکاۓ۔ اب کے ردا اس کے ہلکے سے سوکھے بالوں میں برش چلا رہی تھی۔
”اس ڈریس کے ساتھ اسموکی آٸیز کیسی رہیں گی۔۔؟“
اس نے اس کا چہرہ دیکھ کر لمحے بھر بعد کہا تھا۔
”جی نہیں میں ایسا کوٸ میک اپ بھی نہیں کرنے لگی۔ اب مجھے پلیز جانے دو۔ میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہے اور ناں ہی ارحم سے بات کی ہے اب تک۔ ماں کو کہا تھا اس نے کہ اسے مجھ سے بات کرنی ہے۔ ویسے پھپھو کیا زیادہ غصے میں ہیں۔۔؟“
اس نے ایک پل کو چہرہ ردا کی جانب پھیرا تھا۔
”بہت غصے میں ہیں پھپھو۔ بابا کے کمرے سے رات گۓ تک بہت بلند آواز سے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔“
اس کا جواب سن کر اس کے اندر ایک بار پھر سے اندیکھا سا خوف اترنے لگا تھا۔ ردا اس کے بال برش کرچکی تو پھر انہیں فرنچ میں گوندھنے لگی۔ اس کے سیدھے گھنے بالوں میں فرانسیسی طرز کی چوٹی بہت جچا کرتی تھی۔ ایک بار پھر سے دروازہ پر دستک ہوٸ تو تینوں نے اپنی سوچوں سے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا تھا۔۔
”میں ارحم ہوں رابیل۔۔“
اس نے گہرا سانس لیا اور ردا کے پیچھے بیڈ سے اپنا دوپٹہ اچکا۔ اسے سر پر سلیقے سے باندھ کر اس نے دروازہ کھولا تھا۔ ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوۓ ارحم کے چہرے پر پچھلی تلخی کے بعد آج پھر سے مسکراہٹ تھی۔
”فری ہو۔۔ کچھ بات کرنی ہے۔“
”اوکے میں آتی ہوں۔“
اس نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی اور پھر پلٹ کر کمرے کا دروازہ پار کرتی باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ گھر کے لاٶنج میں آج رش خاصہ کم تھا کیونکہ مہمان اب اپنے اپنے گھروں سے سیدھا شادی ہال پہنچنے والے تھے۔ اس نے بھی اس کے پیچھے قدم بڑھاۓ۔ وہ چھت کو جاتے زینوں کی جانب بڑھا تو اس کی نگاہ بے اختیار ہی اپنے کمرے سے نکلتے معاذ پر پڑ گٸ۔ وہ بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتا سنجیدہ سا باہر نکل رہا تھا۔ پہلے دن کے ٹرٹل نیک سوٸٹر پر سیاہ جیکٹ پہنے۔۔ حسب عادت خاموش اور ریزرو۔۔ کسی کی نظروں کا ارتکاز تھا یا کیا، معاذ نے لمحے بھر کو چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ اس نے گھبرا کر دوسری جانب دیکھا۔
اف۔۔ کونسے سینسرز لگے ہیں اس کے اندر۔
خفت سے سوچتے ہوۓ اب کہ وہ ارحم کے پیچھے پیچھے جارہی تھی۔ معاذ کے چہرہ ویسے ہی رہا۔۔ بے تاثر سا۔۔
”ہاں تو اب بتاٶ کیسی ہو۔۔؟“
ٹیرس پر پہنچ کر اب وہ اس سے ٹیک لگاۓ اس سے پوچھ رہا تھا۔ رابیل کا رنگ اترتی صبح میں دمکنے لگا تھا۔ کتھٸ آنکھیں اس صبح کی روشنی سے منعکس ہو کر گہرے سبز اور شہد رنگ کی لگ رہی تھیں۔
” میں تو ٹھیک ہوں۔۔ وہ پھپھو کیسی ہیں۔۔؟“
”پھپھو۔۔ پھپھو بہت ناراض ہیں تمہاری تم سے۔۔“
”جانتی ہوں۔“
اس نے نگاہیں ٹیرس سے باہر کی جانب جماٸیں۔ بہت سے پرندے فضا میں اپنی آواز کے نغمے بکھیرتے ایک ہی سمت میں اڑ رہے تھے۔۔
”کسی کا دل دکھانے کا کتنا گناہ ہے اسلام میں۔۔؟“
اس نے بہت افسوس سے کہا تو رابیل نے اسے چونک کر دیکھا۔ تو کیا اب کہ وہ اس سے کسی اور طرح سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا۔
”لوگوں کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی سے بڑی نہیں ہوسکتی ارحم۔ یہ فیصلہ قرآن کا ہے۔۔“
ارحم چند پل اس کے مضبوط سے جملے پر خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ پھر ایک دم ہاتھ لپیٹ کر اپنا سراپا اس کی جانب پھیرا۔ اس نے سرخ ٹی شرٹ پر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی۔
”کیا تمہیں یقین ہے کہ ہماری مذہبی کتاب سچ ہے۔۔!“
اس کے سوال پر اس نے بری طرح چونک کر دیکھا تھا اسے۔ دل بے ساختہ زور سے دھڑکا۔۔
”کیا مطلب۔۔؟“
”مطلب سمپل ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ کتاب ٹھیک ہے اور یہ واقعی آسمانوں سے اتاری گٸ ہے۔۔؟“
چند پل تو وہ ہونق بنی اسے دیکھتی رہی تھی لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس نے پرسکون نظروں سے اسکا چہرہ دیکھا۔ ایسا تھا تو ایسے ہی سہی۔۔
”جی مجھے یقین ہے۔“
”چلو پھر مجھے قاٸل کرو کہ یہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔۔ کیونکہ ایک بہت سچ بات بتاٶں تمہیں رابیل۔۔ مجھے اس کتاب کے سچ ہونے پر شبہ ہے۔۔“
اس نے ایک مزاق اڑاتی نگاہ ڈالی تھی اس لڑکی پر۔ یقیناً اب وہ اس پر بھڑکے گی، اسے منہ پر زوردار تھپڑ مار کر پلٹ جاۓ گی اور اس طرح تابوت میں آخرہ کیل خود بخود گڑ جاۓ گی۔
”یہ تو بہت آسان ہے۔۔“
لیکن نہ تو وہ لڑکی پلٹی تھی اور نہ ہی اس پر بھڑکی تھی۔ بلکہ اس نے ہاتھوں کو انتہاٸ سکون کے ساتھ سینے پر باندھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ ہاں قرآن کی طالبہ رابیل عابد اس کی آنکھوں میں جھانکی تھی۔۔
”کیسے۔۔ قاٸل کرو مجھے۔۔ بلکہ یوں سمجھو کہ کوٸ غیر مسلم ہے۔ تم اسے قاٸل کررہی ہو۔۔ تم اسے کیسے اس بات پر راضی کرو گی کہ یہ خدا کی جانب سے آٸ گٸ کتاب ہے۔۔؟“
اس نے سوال اب کہ ذرا کچھ اور پیچیدہ کردیا تھا۔ مگر رابیل خاموشی سے اسے دیکھے گٸ۔۔
”آپ کا سوال بالکل ویلڈ ہے ارحم۔ مجھے آپ کے سوال کا جواب دینے کے لیۓ کچھ بہت زیادہ جد و جہد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اس کا جواب اللہ اپنی کتاب میں بہت سالوں پہلے دے چکے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے نہیں ہے۔ مطلب دوسرے لفظوں میں آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کسی انسان کی جانب سے ہے ٹھیک۔۔!“
اس نے اس کا سوال درست طریقے سے دہرایا تھا۔
”اس کا جواب بہت سمپل ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ یہ کسی انسان کی جانب سے ہے تو جاٶ۔ تم بھی انسان ہو، تم بھی ایسی ایک کتاب لکھ لاٶ۔
وَاِن کُنتُم فِی رَیبٍ مِّمَّا نَزّلنَا عَلیٰ عَبدِنَا
اور اگر ہو تم شک میں اس سے جو ہم نے نازل کیا اپنے بندے (محمدمحمد صلى الله عليه واله وسلم) پر
فَاتُو بِسُورَةٍ مِّن مِّثلِہ
تو تم لے آٶ ایک سورت اس جیسی۔
اس نے کندھے اچکاۓ تھے۔
”اگر آپ کو اس کلام میں شک ہے ارحم تو ٹھیک ہے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی انسان کی طرف سے ہے تو آپ بھی انسان ہیں۔ آپ بھی تو ایسی کوٸ کتاب لکھ سکتے ہیں۔ چلیں چھوڑیں۔۔“
وہ ایک لمحے کو رکی۔۔ ارحم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
”آپ اس جیسی کتاب نہ لکھ سکیں تو ایک سورت ہی بنا لاٸیں۔ چلیں سورہ بقرہ تو بہت طویل اور عظیم سورت ہے، آپ سورہ کوثر جتنی کوٸ سورہ بنا لاٸیں۔ آپ اتنا تو اب کر ہی سکتے ہیں۔ تین آیتیں لکھ لینا آپ کے خیال میں تو کوٸ بڑی بات نہیں۔ چلیں پھر۔۔ آپ بھی لکھ لیں ایسی کوٸ کتاب اور جھوٹا ثابت کردیں اس کے دعوے کو کہ یہ اللہ کی جانب سے نازل کی گٸ ہے۔“
اس نے انتہاٸ سکون سے دیکھا تھا اس کی جانب۔۔
”لیکن مجھے تو عربی نہیں آتی۔۔“
اس نے بے چینی سے جواب دیا۔
”جی بالکل۔۔ آپ کی اسی آسانی کے لیۓ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وَدعُو شُھَدَآکُم (تم بلا لو اپنے مددگاروں کو)۔ اللہ نے کھلی چھٹی دی ہے آپ کو ارحم۔ جسے آپ نے اپنے ساتھ ملانا ہے ملا لیں۔ اپنا پیسہ خرچ کریں، دنیا کی سپر پاورز کو اکھٹا کریں، بڑی بھاری کتابیں لکھنے والوں کو تلاشیں۔۔ اور اگر آپ کو عربی نہیں آتی تو کسی اچھے عرب کو ڈھونڈ کر اس سے کتاب لکھوا لیں۔ آپ کو تو اللہ نے ہر سورس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تو جاٸیں آگے۔ بنا لاٸیں ایسی کوٸ کتاب۔۔ کتاب نہیں تو چند آیتیں۔۔ چند لفظ۔۔ آپ ساری دنیا کے ذہین ترین لوگوں کو اپنا ساتھی بنا لیں ارحم اور ایسا کچھ لکھ لاٸیں۔ اور یاد رکھیۓ۔۔ اللہ یہ چیلنج اس قوم کو دے رہے تھے کہ جن کا دعوی تھا کہ ہم عربی کا ہر لفظ جانتے ہیں۔ کیا آپ یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ آپ کو اردو کا ہر لفظ آتا ہے یا پھر آپ کی انگریزی اتنی اچھی ہے کہ ڈکشنری میں کوٸ ایسا لفظ نہیں جو آپ کے علم میں نہ ہو۔۔ کیا آپ کوٸ ایسا بڑا دعوی کرسکتے ہیں ارحم۔۔۔؟“
دھم دھم دھم۔ ارحم کے چہرے پر اس کے لفظ پلٹ پلٹ کر آرہے تھے۔ لیکن قرآن کی طالبہ یونہی ہاتھ لپیٹے سکون سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”اور جانتے ہیں ارحم وہ قوم اس کلام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیۓ مر رہی تھی۔ وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی میں آپ سے کہیں زیادہ آگے تھے لیکن کیا ہوا۔۔ جانتے ہیں کیا ہوا تھا۔۔؟“
ساری فضا گویا ان کے آس پاس جم گٸ تھی اور ربیل اسی طرح مضبوط لہجے میں روانی سے جملے ادا کرتی ارحم کو سفید پڑتا دیکھ رہی تھی۔۔
”کوٸ ایک آیت تو کیا ایک لفظ بھی نہ لکھ سکا اس کے مقابلے میں۔ اور سارا عرب بلکہ ساری دنیا یہ چیلنج ہار گٸ کہ قرآن کسی انسان نے لکھا ہے۔ ساری دنیا اپنی بات کو سچ ثابت کرنے میں ہار گٸ ارحم۔ کوٸ اس کتاب کے سامنے نہ ٹک سکا۔ کوٸ اس کے جاندار کلام کے آگے اپنا کمزور اور نقاٸص سے بھرپور کلام لانے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ پہلے ہیں۔۔! آپ کو کیا لگتا ہے کہ اہل مکہ نے کوشش نہیں کی ہوگی اسے جھوٹا ثابت کرنے کی۔ انہوں نے اپنے جان و مال لگا دیۓ تھے ارحم لیکن کچھ نہیں ہوا۔ قرآن آج بھی روز اول کی طرح روشن ہے۔ اس کی آیتیں آج بھی لوگوں کو گھٹنے کے بل گرا کر سجدہ کروانے کی طاقت رکھتی ہیں ارحم۔ اور چاہے کتنے بھی جادوگر فرعون کے سجاۓ گۓ میدان میں اپنی لاٹھیاں ڈال کر لوگوں کو شعبدہ بازی کا نشانہ بناٸیں لیکن ہر جادوگر اپنے اندر یہ بات ضرور بالضرور جانتا ہوگا کہ جب موسیٰ علیہ السلام کا عصا، ان کا معجزہ اس میدان میں اترے گا تو وہ ہر جھوٹی لاٹھی کو نگل جاۓ گا۔ اور آخر کار عظیم ساحروں کو سجدے میں ایک نہ ایک دن گرنا ہی پڑے گا۔۔“
وہ سن ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا وہ کوٸ ٹیپیکل قسم کی مسلمہ ہے۔ جذبات میں آکر بھڑک جاۓ گی اور اسے کافر قرار دے کر چلی جاۓ گی لیکن وہ اسے جواب دے رہی تھی۔ وہ اسے اس کے دعوے میں جھوٹا ثابت کررہی تھی بلکہ وہ اسے جھوٹا ثابت کرچکی تھی۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔۔
”تم نے مجھے اس کتاب جیسی کوٸ کتاب لکھنے کی کوشش تو کرنے نہیں دی اور اپنا فیصلہ بھی سنا دیا۔ کیا یہ کوٸ انصاف ہے۔۔“
رابیل اس کی بات پر لمحے بھر کو مسکراٸ تھی۔
وَلَن تَفعَلُو
”اور ہزگز تم نہیں کرسکو گے! آپ کوشش کرلیں ارحم۔ لیکن یہ سچ ہے کہ جتنے لوگوں نے کوششیں کیں وہ آج تک کامیاب نہ ہو سکے۔ کیونکہ اللہ کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ بھی نہیں۔۔“
اس نے ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی اور پلٹ گٸ۔ پلٹتے سمے اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا اور حلق خشک ہوا جارہا تھا۔ عظیم ساحروں کے سامنے عصا ڈالنا اس قدر آسان بھی نہیں تھا اور تب۔۔ جب کہ جادوگر بھی عظیم جادوگر تھے۔ وہ نم آنکھیں لیۓ زینے اترنے لگی۔ ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھے وہ گویا پانی پر چل رہی تھی۔ اس کا سینہ ارحم کی پچھلی باتوں سے تنگ ہونے لگا تھا۔ وہ جتنی امیدیں اس سے اچھاٸ کی لگایا کرتی تھی اتنی ہی بار وہ اس کا دل اس طرح سے توڑ دیا کرتا تھا۔
”ہم جانتے ہیں کہ بے شک تنگ ہوتا ہے آپ کا سینہ بوجہ اس کے جو وہ کہتے ہیں“ (حجر١٥/٩٧)
اور اس نے ایک لمحے کو ٹھٹک کر دوسری جانب دیکھا۔ اس کی سماعت میں وہ مدھر آواز کچھ کہہ رہی تھی۔ کیا کوٸ اس کی جانب متوجہ تھا۔ اس نے آس پاس نگاہ گھما کر اس آواز کو تلاشا۔ سامنے ہی ٹی وی پر سورہ حجر کی آخری آیات جگمگا رہی تھیں۔
”پس آپ تسبیح بیان کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور آپ ہوں سجدہ کرنے والوں میں سے“
(حجر١٥/٩٨)
وہ گم صم سی ان آیات کو دیکھے گٸ۔ گھر میں سب اپنے کاموں میں مشغول تھے اور وہ۔۔۔ وہ پتھر کا مجسمہ بنی زینوں پر ہی جم گٸ تھی۔ پھر اسی تیزی کے ساتھ اتری اور کمرے میں چلی آٸ۔ جلدی جلدی جاۓ نماز ڈالا۔ اس کا دل بے تحاشہ دھڑک رہا تھا اور چہرہ گلابی ہو کر تمتما رہا تھا۔
”اور آپ ہوں سجدہ کرنے والوں میں سے۔۔“
قاری الزاہرانی کی آواز ان آیات کو پڑھتے ہوۓ بار بار بھیگ رہی تھی اور بھیگ تو اس کے رخسار بھی رہے تھے۔ جب کوٸ بھی اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتا تھا تو کوٸ آسمانوں کے پار سے اس کی جانب متوجہ ہوا کرتا تھا۔ اس نے لرزتے ہاتھ اٹھاۓ اور پھر اگلے ہی لمحات میں وہ بھی سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوگٸ تھی۔۔
”اور آپ عبادت کریں اپنے رب کی یہاں تک کہ آجاۓ آپ کے پاس یقین (موت)۔ (حجر١٥/٩٩)
