Kahaf Episode 2

 #Do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف 

بقلم_رابعہ_خان

دوسری_قسط

اس نے حد درجہ بڑھتی بیزاریت کو نظر انداز کیا اور تارکول کی سڑک پر آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگا۔ کندھے پر ٹنگا دستی بیگ اور ہاتھ ٹھنڈ کے باعث جیب میں اڑسے وہ تقریباً رینگتے ہوۓ آگے بڑھ رہا تھا۔ تارکول کی سیاہ سڑک بے حد صاف ستھری تھی۔ شفاف سڑک کے اطراف میں قطار در قطار سبز بیلوں سے ڈھکے بنگلے بنے ہوۓ تھے۔ اس نے ایک پل کو رک کر عابد چچا کے بنگلے کو دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر نگاہ زاہد چچا کے بنگلے کی جانب گھماٸ۔ دونوں گھر آمنے سامنے مضبوطی سےکھڑے تھے۔ یوں لگتا تھا گویا اس کی اینٹ اینٹ میں محبت اور یگانگت کا رنگ بھرا گیا ہو۔ گہرا سانس لے کر اس نے قدم عابد چچا کے گھر کے اندرونی گیٹ کی جانب بڑھاۓ اور بنا کوٸ تاثر دیۓ گردن جھکاۓ جیبوں میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھنے لگا۔ داخلی دروازے کے پار بس ایک لمحے کو رکا تھا وہ۔۔ پھر دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا تو دیکھا سارا گھر خالی پڑا ہے۔ سنسان۔۔ یخ سا۔۔ 

اس نے آنکھیں سکیڑ کر یہاں وہاں نگاہ گھماٸ اور پھر محتاط قدم اٹھاتا آگے بڑھ آیا۔ اسی پہر زینوں کے اس پار سے کسی کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ اس طرف کو پلٹا۔ دو سجی سنوری سی خواتین کمرے سے نکل رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر لمحے بھر کو ٹھٹکیں اور پھر اگلے ہی پل سنبھل بھی گٸیں۔ اس کی نگاہوں سے ان کا ٹھٹک کر سنبھلنا مخفی نہیں رہا تھا۔ بلکہ اس کی نگاہوں سے کبھی کچھ مخفی رہا ہی کب تھا۔ انسانوں کے رویے تو بالکل بھی نہیں۔ 

”اسلام علیکم۔۔“ 

اس نے بادل نخواستہ سلام کر ہی لیا۔ جیب سے ہاتھ نکال کر یوں ہی گردن کے پیچھے پھیرا۔ اف اسے نفرت تھی اس گھر میں آنے سے۔ 

”وعلیکم سلام۔۔ ارے معاذ بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو۔۔ یہاں آٶ ناں۔ بیٹھو آ کر۔۔“

صاف ظاہر تھا کہ وہ اسے دیکھ کر لمحے کے ہزارویں حصے میں چونکی تھیں۔ شاید وہ اس کی توقع نہیں کررہی تھیں اس شادی کے موقع پر۔ ان کا ہاتھ کندھے پر ٹکے دوپٹے کو بار بار چھو رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس لے کر قدم ان کے پیچھے بڑھاۓ۔ صاٸمہ پھپھو بھی انہی کے ساتھ لاٶنج کی جانب بڑھنے لگی تھی۔۔ 

”کیسے ہو۔۔ ؟ اور بھاٸ جان کیسے ہیں۔۔؟ طبیعت ٹھیک رہتی ہے ان کی۔۔؟“ 

صاٸمہ کے پوچھنے پر اس نے محض سر ہلا کر مختصر لفظوں کا چناٶ کیا تھا۔۔ 

”میں ٹھیک۔۔ اور بابا بھی ٹھیک ہیں۔۔“ 

پھر صوفے پر بیٹھ کر کندھے پر ٹنگا بیگ برابر میں رکھا اور ماتھے پر بکھرے بالوں کو انگلیاں چلا کر پیچھے کیا۔ وہ بلاشبہ بہت وجیہہ تھا۔ کم گو اور خاموش سا وجیہہ۔۔ 

”آرہے تھے تو بھاٸ صاحب کو بھی لے آتے۔ درمیان کا کانٹا تو نکل ہی گیا ہے۔ پھر کیوں بھاٸ صاحب اب تک یاد کی قبر پر بیٹھے پھول نچھاور کررہے ہیں۔۔؟“ 

صاٸمہ کی طنزیہ ٹون حسبِ سابق شروع ہوچکی تھی۔ اس نے ایک نگاہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔ لمحے بھر کے لیۓ سرمٸ ارتکاز میں کچھ ابھرا تھا۔۔ کچھ گلابی سا۔ 

”بابا کو کہا بھی ہے کہ یاد کی قبر کو ڈھادیں۔ مگر پھپھو کس بنیاد پر۔ زندہ رشتے بھی تو کھوکھلی عمارتوں سے کم نہیں۔ زندہ رہنے کے لیۓ یاد کی قبر پر تو پھول نچھاور کرنے ہی پڑتے ہیں۔۔“ 

کیا جواب دیا تھا اس نے۔ سرمٸ سے ٹرٹیل نیک سوٸٹر پر سیاہ جیکٹ پہنے۔ وہ اپنے حلیے کی طرح ہی تھا۔ لاپرواہ، بیزار اور ذرا اکھڑا اکھڑا سا۔۔ صاٸمہ لمحے بھر کو اس کے براہ راست جواب پر گڑبڑاٸ تھیں مگر اگلے ہی پل سنبھل بھی گٸیں۔ ان کے سامنے ان کا ارحم نہیں بیٹھا تھا۔۔ ان کے سامنے معاذ بیٹھا تھا۔۔ ساتھ بیٹھیں رامین بھی لمحے بھر کو اس کے جواب پر ساکت ہوٸ تھیں۔ مگر وہ ویسے ہی بیٹھا رہا۔ ڈھٹاٸ کے ساتھ اپنے جملے کا اثر لیۓ بغیر۔۔ 

”آ۔۔ بیٹا کیا لوگے۔۔ چاۓ کافی۔۔یا پھر کھانا لگوادوں۔۔؟“ 

رامین نے جلدی سے اس کے جملے کا اثر زاٸل کرنے کے لیۓ عجلت میں کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔ 

”نہیں مامی۔ بھوک نہیں۔۔ میں کھا کر ہی آیا ہوں گھر سے۔۔“ 

اسی پل لاٶنج میں کوٸ سیاہ حجاب اوڑھے لڑکی داخل ہوٸ تو وہ اسے دیکھ کر بس ایک لمحے کو چونک سا گیا تھا۔ اس نے کبھی کسی کو خاندان بھر میں یوں سر پر حجاب لپیٹے نہیں دیکھا تھا سواۓ۔۔ ہاں ایک پل کو اس کی سرمٸ آنکھوں کے پار کسی کا آنچل چمکا۔۔ سواۓ اپنی ماں کے۔۔ وہ اسے حجاب میں بہت خوبصورت لگتی تھیں۔ لمحے بھر کو چونک کر وہ سنبھل تو گیا مگر اس لڑکی کی بوکھلاہٹ اس کی نگاہ سے چھپی ہوٸ نہ رہ سکی۔ وہ شاید حال ہی میں حجاب لینے لگی تھی اسی لیۓ اپنے سر پر لپٹے دوپٹے کو لے کر نروس تھی۔ اس نے بغور اسے دیکھا۔ صاٸمہ پھپھو کے سوالات پر اس کے اطوار دیکھ کر ایک پل کو اسے اس لڑکی پر غصہ بھی آیا تھا۔ وہ کیوں گڑبڑا رہی تھی۔ کیا اسے جواب دینا نہیں آتا۔۔ یا شاید اسے کسی نے ” نہیں “ بولنا نہیں سکھایا تھا۔ پھپھو کے کڑوے سوالات پر وہ بلاوجہ کی وضاحتیں دے کر خود کو ہلکان کررہی تھی۔ اور پھر جب اس کی برداشت سے باہر ہوا تو اس نے اس لڑکی کی تھوڑی سی مدد کرنے کا سوچا۔ اصل میں نہ تو اسے ارحم میں دلچسپی تھی اور نہ ہی صاٸمہ جیسی بناوٹی قسم کی عورت میں۔۔ لیکن پھر بھی اسے پتہ تھا کہ لوگوں کو لفظوں سے کیسے گھیرتے ہیں۔ اور صاٸمہ جیسی عورتوں کی خصلت سے تو وہ بخوبی واقف تھا۔ ایک عرصے تک انہوں نے اپنے شوہر کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملاۓ ہونگے اور شوہر کی عمر نکل جانے کے بعد اب وہ یقیناً اپنے اس سپوت پر فخر کیا کرتی ہونگی۔۔ اور ایک تو ان کا وہ بیٹا۔۔ اسے ویسے بھی بلاوجہ کی بحثیں کرنے والے اور لمبی لمبی باتیں کرنے والے لوگ نہیں پسند تھے۔ جبکہ ارحم نے تو خاص کر ماں سے میٹھی زبان اور کڑوے ذاٸقے مستعار لیۓ تھے۔۔ اسے یہ لوگ قطعاً نہیں پسند تھے۔۔ ہرگز بھی نہیں۔ ایک پل کو اس نے رک کر سوچا اور پھر اگلے ہی لمحے اب وہ پھپھو سے ارحم کے بارے میں باتیں کررہا تھا۔ یہ لڑکی۔۔ ایک تو پتہ نہیں اس کا نام کیا تھا۔۔ اگر جو یہ سمجھدار ہوٸ تو جلد ہی یہاں سے اٹھ جاۓ گی اور اور۔۔ وہ واقعی وہاں سے اٹھ گٸ۔ اس کے جاتے ہی وہ اپنے خول میں سمٹا تو پھپھو نے بھی اٹھ کر باہر کی راہ لی جبکہ رامین اب اسے اپنا کمرہ دکھا رہی تھیں جہاں وہ اگلے تین چار دن تک رہنے والا تھا۔ 

ڈھولکی کے فنکشن کے لیۓ کمرے سے باہر نکلتے ہوۓ اب کہ وہ کرتے شلوار میں ملبوس تھا۔ تازہ دھلے بالوں کو کنگھے سے پیچھے جماۓ وہ جیسے ہی آگے بڑھنے لگا لمحے بھر کو ٹھہر گیا۔ نگاہیں سکڑ گٸیں۔۔ کیا اس نے ابھی ابھی کسی کی سسکیاں سنی تھیں۔ اور پھر اگلے ہی لمحے اسے سمجھ بھی آگیا کہ آواز کہاں سے آرہی تھی اور کس کی آرہی تھی۔ وہ لڑکی۔۔ رابیل نام تھا شاید اس کا۔۔ صاٸمہ اسے اسی نام سے بلا رہی تھیں۔۔ وہ لڑکی رورہی تھی۔ یقیناً کسی نے لفظوں یا نظروں سے اسے تکلیف پہنچاٸ تھی اور اب وہ سورہ مومنون کی آخری آیات پڑھتے ہوۓ بلک رہی تھی۔ اس نے گہرا سانس لیا اور قدم باہر کی جانب بڑھادیٸے۔ اسے پتہ تھا کہ رابیل کو اس کے دلاسے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے جہاں سے دلاسا دیا جارہا تھا اس مقابلے پر کوٸ نہیں جاسکتا تھا۔۔ اگلے دن جب وہ اپنے کمرے سے باہر نکل رہا تھا تو اس لڑکی کو دیکھ کر ایک پل کے لیۓ ٹھٹک سا گیا۔ وہ سیاہ حجاب میں اس گھرانے سے، بلکہ اس دنیا اور اس دنیا کی ہر شے سے زیادہ معتبر اور پاکیزہ لگ رہی تھی۔ کیا کسی نے کبھی اس کو بتایا کہ وہ اس حجاب میں کتنی اچھی لگتی ہے۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ اسے دیکھتا پا کر منہ میں کچھ بڑبڑاتی وہاں سے چلی گٸ تو معاذ بھی جیسے ہوش میں آیا۔۔ خجل ہو کر بال کھجاۓ۔۔ حد ہے ویسے۔ خود کو لتاڑتا باہر کی جانب بڑھنے لگا۔۔ لیکن کچھ تھا جو اسے بار بار اس لڑکی کی جانب لے کر جاتا تھا۔۔ وہ کسی کی یاد کی تازہ قبر تھی جو اس تک اسے لے کر جارہی تھی۔۔ 

رات بھر کی بے خوابی اور پھر گھر میں مچے شور ہنگامے کے باعث اس کا سارا جسم دکھ رہا تھا۔ سر کے پچھلے حصے میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اور دل پر بے تحاشہ بوجھ دھرا تھا لیکن وہ پھر بھی آج مدرسہ چلی آٸ تھی۔ کیا ہوا جو وہ پڑھ نہیں پاۓ گی۔۔ وہ یہاں سننے آٸ تھی۔ وہ یہاں اللہ کی بات سننے آیا کرتی تھی۔ اور اس قرآن سے زیادہ اچھی بات اور کیا ہوسکتی تھی۔ 

بھاری دل اور متورم آنکھیں لیۓ وہ سفید بے داغ سی چادر پر بہت سی لڑکیوں کے ساتھ دوزانوں ہو کر بیٹھی تھی۔ سامنے بنے اسٹیج پر میڈم صباحت اپنے آج کے درس کا آغاز کررہی تھیں۔ آج جمعہ تھا اور درس کے لیۓ سورہ کہف مختص کی گٸ تھی۔ 

اس نے بھی سفید جلد والا قرآن کھول کر سامنے رکھا۔ میڈم کی نرم مگر سنجیدہ آواز ساری فضا میں ترنم گھولنے لگی۔ اس کے کندھوں سے بھی بوجھ اترنے لگا۔ دل ہلکا ہونے لگا۔۔ 

” کیاگتا ہے کیوں ہر جمعے کو سورہ کہف پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے؟“ 

وہ نرم آواز میں پوچھ رہی تھیں۔۔ 

”آپ لوگ پڑھ چکے ہیں اس سورت کو۔۔ کیا لگتا ہے آپ کو۔۔؟ کیوں ہر ہفتے اسے دہرانے کا کہا گیا ہے۔۔؟ کوٸ وجہ سمجھ آتی ہے آپ لوگوں کو۔۔؟“ 

کلاس میں گہرا سکوت چھایا تھا۔ 

”سب سے پہلے کونسا واقعہ ہے اس سورت میں۔۔؟“ 

”اصحابِ کہف کا۔۔“ 

جواب ابھرا۔۔ 

”ہوں۔۔ کیا واقعہ تھا۔۔؟ ایسا کیا ہوا تھا کہ نوجوان غار میں چھپ گۓ تھے۔۔؟“ 

”اپنے دین کو بچانے کے لیۓ۔۔“ 

رابیل نے جواب دیا۔۔ 

”شاباش۔۔ دین کو بچانے کے لیۓ غار میں چھپنا ضروری تھا۔۔؟“ 

پھر استفسار کیا گیا۔۔ 

”جی کیونکہ ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ نوجوانوں کو اندیشہ تھا کہ کہیں سخت سزاٶں کے باعث وہ اپنا ایمان نہ چھوڑ بیٹھیں۔۔“ 

ایک اور طالبہ نے جواب دیا۔۔ 

”سب نوجوان اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے تھے، بہت امیر گھرانے سے تھے سب نوجوان۔ دنیا کی ہر آساٸش موجود تھی ان کے پاس۔ سب سے بڑی بات جوانی تھی، خوبصورتی تھی، پھر کس چیز نے انہیں یہ سب چھوڑنے پر مجبور کردیا۔۔؟ سب شرک کررہے تھے، سارا خاندان، بلکہ سب علاقے والے عیش کی زندگی گزار رہے تھے۔ انہیں کیا پڑی تھی غار میں جا کر چھپنے کی۔۔۔؟“ 

”توحید کی وجہ سے۔۔“ 

ایک طالبہ کے جواب پر میڈم صباحت مسکراٸ تھیں۔۔ 

”توحید پرست تو ہم بھی ہیں، اللہ کو ایک ماننے کا دعویٰ تو ہم بھی کرتے ہیں، دین کی راہ پر تو ہم بھی چلنے کی کوشش کررہے ہیں، پھر ہمارے گھر اور خاندان والوں کی مخالفت پر ہمارا جواب ایسا کیوں نہیں ہوتا۔۔؟ ہم کیوں ان کے ردعمل سے متاثر ہو کر اپنا دین اٹھا کر ایک کونے میں رکھ دیتے ہیں۔۔؟ ہم کیوں اپنے دین کو بچانے کے لیۓ کسی غار میں نہیں جا چھپتے۔۔؟ جہاں ہمارا دین محفوظ ہو۔۔ جہاں ہم امن سے رہیں۔۔“ 

پوری کلاس دم سادھے بیٹھی تھی۔ رابیل یک ٹک میڈم صباحت کو تک رہی تھی۔۔ 

”یاد رکھیۓ گا بیٹے، جو اللہ کے لیۓ اپنا سب کچھ چھوڑدیتے ہیں، انہیں اللہ غار میں تنہا نہیں کرتے، انہیں غار میں پرسکون نیند دی جاتی ہے، ان پر سکینت نازل کی جاتی ہے، ان کے لیۓ خوفناک ”کہف“ کو پرسکون بنادیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے۔ جو اسے جانتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور جو اسے نہیں جانتا وہ اسے نہیں جانتا۔۔“ 

”مگر آج کے دور میں غار کہاں۔۔؟“ 

اس سوال پر میڈم صباحت نرمی سے مسکراٸ تھیں۔۔ 

”ہر دور میں اللہ کے بندوں کے لیۓ ایسی پناہ گاہیں موجود ہوتی ہیں، ایسے غار موجود ہوتے ہیں جہاں جا کر وہ اپنا ایمان بچا سکیں۔“ 

ان کی نرم آواز میں جانے کیوں بہت ہلکی سی اداسی گھلنے لگی تھی۔ اور رابیل۔۔ ہاں رابیل اس اداسی کو سمجھ سکتی تھی۔۔ 

”جہاں وہ خود کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھ سکیں، مگر اس سے پہلے انسان کو اپنے ایمان کے لیۓ اسٹینڈ لینا چاہیۓ، اس پر ڈٹ جانا چاہیۓ، خواہ حالات کیسے ہی ہوں، آپ کا خاندان آپ کا دشمن بن گیا ہو، لوگ آپ کو بری نگاہوں سے دیکھتے ہوں، آپ پر طنز کے تیر چلاتے ہوں، آپ بس اپنا سارا سکون ، ساری راحت اللہ کے لیۓ قربان کر کے کسی غار میں پناہ لے لیں۔۔ پھر اس غار میں آپ کی حفاظت اللہ کے ذمے ہے۔۔“ 

پورے راستے وہ گم صم تھی۔ یہ ”کہف“ والا واقعہ اسے پہلے اس طرح سے کیوں سمجھ نہیں آیا۔۔؟ وہ اللہ کے لیۓ سب قربان کررہی تھی تو کیا اللہ اس کا محافظ نہ ہوتا۔۔! کیا وہ ”کہف“ والوں کا محافظ نہ تھا۔۔! وہ بھی تو اب کہف والوں میں شامل ہوگٸ تھی۔ وہ بھی تو اپنا ایمان، اپنا دین اور اپنی حیا بچانے کے لیۓ لڑ رہی تھی۔ اس نے بھی تو طنز و حقارت کی بہت سی نگاہوں کو خود میں کھبتے محسوس کیا تھا۔ 

مسلسل بہتی آنکھوں کو اس نے ہتھیلیوں سے رگڑ کر صاف کیا۔  گھر میں داخل ہوٸ تو مغرب کا جامنی سا اندھیرا پھیلنے لگا۔ اس نے بے یقینی سے لان کی دوسری جانب دیکھا تھا۔ بلند آواز سے بجتا میوزک اور دھنوں پر ناچتے اس کے کزنز۔۔ اس کا دل خوف سے باہر آنے لگا۔ وہ نظریں چراتی اپنے کمرے میں چلی آٸ۔ اور کمرہ۔۔ ہاں یہ اس کا اپنا کمرہ اسے کسی قدیم غار سے کم نہ لگا۔ انہی غاروں کی طرح پرسکون، خاموش اور سکینت والا۔۔ لمحے بھر کو اس نے اپنا سراپا سنگھار آٸینے میں دیکھا۔ عباۓ سے ڈھکا اس کا وجود پرسکون دکھتا تھا۔۔ آہستگی سے چہرے کے گرد بندھے حجاب کو اس نے کھولا اور پھر مغرب کی نماز کا وضو بناتی کمرے میں چلی آٸ۔ جاۓ نماز ڈال کر نماز ادا کی، نماز سے فارغ ہو کر اپنے بیڈ پر آٸ اور قدیم غار والوں کی طرح اس کی پلکیں بھی نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد اسے نیند نے آلیا۔۔ 

”رابیل۔۔“ 

کسی کی نرم انگلیاں اس کے بالوں میں چل رہی تھیں۔ بے اختیار اس کی آنکھ کھلی۔۔ 

”آٹھ بج گۓ ہیں۔۔“ 

وہ ایک دم اٹھی۔۔ میں اتنی دہر سوتی رہی۔۔ یا خدایا۔۔ 

”کب سوٸ تھیں تم۔۔؟“ 

یومً او بعد یوم۔۔ 

(ایک دن یا پھر دن کا کچھ حصہ) سورہ کہف 

اس کی بڑبڑاہٹ پر رامین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔ 

”وہ کچھ نہیں ماں۔ بس ایسا لگا کہ ابھی ابھی سوٸ ہوں۔۔“ 

اس نے آنکھیں مسلی تھیں۔ رامین سیدھی ہو بیٹھیں۔۔ 

”آج مہندی ہے بیٹا اقبال کی۔۔ تم چلو گی ناں۔۔“ 

آنکھوں کو مسلتی اس کی انگلیاں بے ساختہ ساکت ہوٸ تھیں۔ ڈھلتی مغرب میں اس نے ایک عہد لیا تھا۔ اپنے ایمان کو بچانے کا عہد۔۔ وہ اب اسے نہیں توڑ سکتی تھی۔۔ 

”میں نہیں جاٶنگی۔۔“ 

اس نے مضبوط لہجے میں کہہ کر گویا بات ہی ختم کردی۔۔ 

”تمہاری زندگی بہت مشکل ہوجاۓ گی رابیل۔ “ 

”آسان تو ابھی بھی نہیں ہے ماں۔ تھوڑی اور مشکل ہوجاۓ گی تو کیا فرق پڑ جاۓ گا۔۔؟“ 

”مگر پھر بھی۔۔ تمہاری پھپھو نے آج بہت تاکید سے کہا ہے کہ تمہیں تیار کروں، انہیں آج کچھ مہمانوں سے ملوانا ہے تمہیں۔ ارحم کی منگیتر کی حیثیت سے۔۔“ 

اس کا دل ایک پل کو ڈوب کر ابھرا تھا۔۔ 

”میں نہیں جاسکتی پھر بھی۔ میں نے کچھ وعدے کیۓ ہیں خود سے ماں، کچھ عہد باندھے ہیں، میرے کچھ اسٹینڈرڈز ہیں۔ میں ہر جگہ منہ اٹھا کر نہیں جاسکتی۔۔“ 

”لیکن تمہاری پھپھو۔۔۔“ 

”انہیں میں خود جواب دے دونگی۔“ 

اس نے بستر سے پیر نکالے اور بالوں کو جوڑے میں لپیٹنے لگی۔ یہ جیسے پیغام تھا کہ اب وہ دوبارہ اس موضوع پر بات نہیں کرے گی۔۔ 

”چلو ٹھیک ہے۔۔ تم باہر آکر کھانا کھا لو۔۔ مجھے پھر تیار بھی ہونا ہے مہندی کے لیۓ۔۔“ 

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور دوپٹہ سر پر لپیٹ کر ان کے ساتھ ہی باہر نکلی۔ باہر تو گویا رنگ و بو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ ہر جانب کھنکتے قہقہے اور مہکتے وجود زرق برق ملبوسات میں لہرا رہے تھے۔ اس نے ایک پل کو سب کزنز کی تیاری دیکھی اور پھر زیرِ لب مسکراتی ہوٸ کچن کی سمت بڑھ آٸ۔ کچن میں عجیب قسم کا پھیلاوا پھیلا ہوا تھا۔ شادی کے گھر میں اکثر اسی طرح کا ماحول ہوا کرتا ہے سو ان کا گھر بھی ان گھرانوں سے مختلف نہیں تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر فریج میں سالن تلاشا لیکن آلو گوشت کو دیکھ کر اس کا منہ بن گیا۔ اسے آلو گوشت بالکل بھی نہیں پسند تھا۔ 

ایک نگاہ پلٹ کر کچن کے دروازے پر ڈالی۔۔ سوچا رامین کو بلا لاۓ لیکن ابھی وہ مصروف ہونگی مہمانوں کے ساتھ اسے کیا بنا کر دینگی۔ اس نے بے دلی سے گہرا سانس لیا اور جیسے ہی باہر لاٶنج میں آٸ پھپھو کی نگاہ اس پر پڑی۔ ان کے ساتھ ہی ارحم بھی کھڑا تھا۔ سفید کرتا شلوار میں ملبوس۔۔ ہمیشہ کی طرح دل موہ لینے والا۔ 

انہیں دیکھ کر وہ بمشکل مسکراٸ تھی۔۔ اف رابیل نارمل ایکٹ کرو۔ 

خود کو گھرکا۔ لیکن کچھ لوگوں کے رویے دیکھ کر وہ نارمل نہیں رہ سکتی تھی۔ اور ان کچھ لوگوں میں پھپھو سرِ فہرست تھیں۔ وہ اس کے ساتھ بہت اچھے سے بات کرتی تھیں، انتہاٸ نرمی سے۔۔ لیکن ان کی ذات کا کھردرا پن پھر بھی رابیل کو محسوس ہوتا تھا۔ اف۔۔ اسے نفرت تھی اس قدر حساس ہونے سے۔۔ کاش وہ بھی ردا اور شزا کی طرح مزے سے کسی بھی بات کا اثر لیۓ بغیر اپنے کام کرپاتی۔ لیکن اسے ہمیشہ خود سے زیادہ لوگوں کی فکر تھی۔ لوگ کیا کہیں گے، ان کا ردعمل کیا ہوگا، اور کہیں وہ اسے اپنے لفظوں سے تکلیف تو نہیں پہنچا دیں گے۔۔ اسے ہمیشہ انہی باتوں کا غم کھاتا رہتا تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔ اسے پتہ تھا کہ وہ لوگوں کی تلکیف دہ باتوں سے بہت بری طرح ہرٹ ہوتی ہے۔ اتنی بری طرح کے پھر اسے سنبھلنے میں بھی کٸ دن لگ جایا کرتے تھے۔ 

”تم تیار نہیں ہوٸیں ابھی تک۔۔؟“

پھپھو نے قریب آ کر اس سے پوچھا تو اس کے حلق میں یکدم ہی کچھ اٹکا۔ ابھی تو ماں کو کہہ دیا تھا کہ وہ انہیں جواب دے دے گی لیکن انہیں جواب دینا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ بہت منجھی ہوٸ خاتون تھیں۔۔ 

”وہ پھپھو۔۔ میں۔۔“ 

”کیا وہ میں۔۔؟ ابھی جا کر چینج کرو اور یہ اس طرح کا سوکھا منہ لے کر ہرگز بھی نہیں چلنا وہاں۔ ارحم کے کچھ دوستوں سے ملوانا ہے تمہیں ٹھیک طرح سے تیار ہو کر آنا باہر کمرے سے۔۔“ 

اس نے ایک لمحے کو رک کر بے یقینی سے ان کی جانب دیکھا تھا۔ ارحم کے دوست۔۔!! کیا وہ اسے ارحم کے دوستوں سے ملوانے کا کہہ رہی تھیں۔ لیکن ارحم کے دوستوں سے اس کا کیا تعلق۔۔؟ وہ کیوں اسے ان سے ملوا رہی ہیں۔۔ 

”پھپھو۔۔ لیکن وہ ارحم کے دوست ہیں، میرا نہیں خیال کے مجھے ان سے ملنا چاہیۓ، یہ درست نہیں ہے بلکہ یہ تو اسلام می۔۔۔“ 

”چپ کرو لڑکی۔۔“ 

طیش میں آ کر وہ اتنی بلند آواز سے بولی تھیں کہ لمحے بھر کو لاٶنج میں سناٹا چھا گیا۔ سب اپنے کاموں سے رک رک کر اس کی جانب دیکھنے لگے تھے۔ اس کے ٹانگیں بے ساختہ لرزنے لگیں، لب خشک ہوگۓ اور نگاہیں دھندلاگٸیں۔۔ 

”پھ ۔۔ پھپھو میں۔۔ “ 

”میں نے کہا کہ مجھے مزید اب کوٸ بحث نہیں سننی۔۔! ابھی کہ ابھی جاٶ اور اپنا یہ دوپٹہ ہٹاٶ سر سے۔ جب سے آٸ ہوں تب سے تمہاری یہ بکواس سن رہی ہوں میں۔ نہ تمہیں بڑوں کی تمیز ہے اور نہ ہی رشتوں کا لحاظ ہے۔ مجھے تو مجھے تم نے تو اپنے منگیتر کو نہیں بخشا۔۔! غضب خدا کا۔۔ لڑکیاں تو اپنے ہونے والے شوہروں کو خوش کرنے کے لیۓ پاپڑ بیلتی ہیں اور ایک یہ محترمہ ہے۔ جن کے اسلام کا ڈھکوسلہ ہی ختم نہیں ہورہا۔۔۔“ 

چھن چھن۔۔ سب کچھ اس کے اندر ٹوٹ کر بکھرتا جارہا تھا اور وہ اس کے ٹوٹنے کی آواز بخوبی سن سکتی تھی۔ آنسو بے ساختگی سے رخساروں پر پھسلتے جارہے تھے اور سانسیں لمحہ بہ لمحہ رکنے لگی تھیں۔۔ 

”ابھی کہ ابھی جاٶ۔۔۔“ 

وہ ایک بار پھر اس پر دھاڑیں تو اس نے ایک۔۔ بس ایک نظر تماشہ دیکھتے مجمعے پر ڈالی۔ اس کے گھر والے، اس کی ماں اور بہنیں۔۔ اس کے اپنے لوگ اس کے ساتھ نہیں کھڑے تھے۔ کوٸ بھی اس کے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ وہ اس تپتے صحرا میں تنہا تھی۔ اس کے آگے پیچھے کوٸ نہیں تھا۔۔ 

”میں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے پھپھو۔ “ 

”کچھ غلط نہیں کیا۔۔! پچھلے تین چار دنوں سے تم اور کر کیا رہی ہو۔۔؟ جب دیکھو یا تو اپنے کمرے میں گھسی بیٹھی رہتی ہو یا پھر اس سوکالڈ مدرسہ کے کاموں میں بزی رہتی ہو۔ کیا دنیا داری اس طرح سے چلتی ہے۔۔؟  کیا رشتے اس طرح سے نبھاۓ جاتے ہیں۔۔؟“ 

ہر ہر لفظ اس کے دل میں کانٹا بن کر اتر رہا تھا لیکن وہ پھر بھی کھڑی رہی۔ اس کی ٹانگیں اس قدر لرز رہی تھیں لگتا تھا کہ وہ ابھی گر پڑے گی لیکن وہ نہیں گری۔ اسی پل کوٸ داخلی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ دروازے کے چرچرا کر کھلنے کی آواز پر ایک لمحے کو سب نے اس جانب دیکھا تھا۔ 

بلیو جینز پر بھوری جیکٹ کی زپ گردن تک بند کیۓ معاذ اندر داخل ہورہا تھا۔ ایک نظر لاٶنج میں کھڑے ہر ذی روح پر ڈالی۔ ارحم کو دیکھ کر ایک پل کے لیۓ تیوری چڑھی اور پھر۔۔ ہاں پھر اس کی نگاہ اس لڑکی پر ٹک گٸ جو حجاب باندھے گردن جھکا کر بے ساختہ ابلتے آنسوٶں کو قابو کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اسے اتنی دور سے بھی نظر آرہا تھا کہ وہ سر سے پیر تک لرز رہی ہے۔ اگلے ہی لمحے اب وہ افسوس سے صاٸمہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ 

”ارحم تمہارے دوستوں کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے ہاٸ وے پر۔ انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔ دراصل دو تین گاڑیوں کا ایک ساتھ ٹکراٶ ہوا ہے تو معلوم نہیں اس میں تمہارے کتنے دوستوں کی ڈیڈ باڈیز ہیں۔۔“ 

اندر آکر اس نے انتہاٸ سکون کے ساتھ گویا دھماکہ کیا تھا۔ ارحم یکدم باہر کی جانب بھاگا۔ صاٸمہ نے بے یقینی سے معاذ کو دیکھا۔۔ 

”اور پھپھو، ابھی میں زاہد چچا کے گھر ہی سے آرہا ہوں، عباد انکل کہہ رہے تھے کہ ان کے کوٸ بھی کپڑے استری نہیں۔۔ میرے خیال سے آپ کو اپنی جانب توجہ ذرا کم کر کے ان کی طرف بھی دیکھنا چاہیۓ۔۔ بیچارے کہاں اب اس عمر میں اپنے کپڑے استری کرتے پھریں گے۔۔“ 

آخر میں انتہاٸ سادگی سے کہا تو صاٸمہ کی تیوری چڑھی۔ 

”تم ہمارے معاملات سے دور رہو معاذ۔۔“ 

ان کے جوابی وار پر وہ جیسے محظوظ ہوا تھا۔ ابرو ایک لمحے کو حیرت سے اوپر اٹھے۔۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ اسے پرواہ نہیں تھی کہ کتنے لوگ اسے بیک وقت دیکھ رہے ہیں۔۔ لوگ دیکھتے ہیں تو دیکھتے رہیں۔۔ 

”رٸیلی۔۔! اوکے۔۔ میں بالکل ایسا ہی کرونگا اگر جو آپ بھی لوگوں کے معاملات سے دور ہیں گی تو۔۔“ 

”یہ میرا اور رابیل کا مسٸلہ ہے تمہیں درمیان میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔“ 

رابیل نے پلٹ کر اب کے معاذ کو دیکھا تھا۔ اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکاۓ۔ اف آخر اتنا نڈر کیسے ہوسکتا تھا یہ انسان۔۔ اسے بے اختیار اس پر رشک آیا تھا۔ 

”اب آپ جا کر کپڑے استری کردیں نہیں تو وہ واش روم میں یونہی بیٹھے رہیں گے۔۔“ 

اس کے جواب پر لاٶنج میں لڑکیوں کی دبی دبی سی ہنسی گونجی تو صاٸمہ کا وجود پل میں تپ کر بھسم ہوگیا۔ ایک کڑوی نگاہ رابیل پر ڈالی اور دوسری قہر آلود نگاہ سے معاذ کو دیکھتیں وہ باہر کی جانب بڑھیں تو یکدم جیسے لاٶنج میں زندگی لوٹ آٸ۔ 

اس نے ہتھیلیوں سے آنسو رگڑے اور جیسے ہی پلٹنے لگی کسی کی آواز نے اس کے قدم ساکت کردیۓ۔ 

”کتنا کہا تھا میں نے تمہیں کہ یوں اپنے اس دوپٹے کے لیۓ رشتہ خراب مت کرو لیکن رابیل تم۔۔ تم نے خاک میں ملادی ہے اپنے باپ کی عزت۔۔ اب دیکھنا تم کہ تمہاری پھپھو کیا کرتی ہیں تمہارے ساتھ۔ خاندان بھر میں رسوا نہ کردیا تو اپنی ماں کا نام بدل دینا تم۔“ 

ان کے لہجے کا افسوس سن کر اس نے انہیں روکنا چاہا لیکن وہ نہیں رکیں۔۔ آنکھوں کے کنارے سے آنسو صاف کرتیں دوپٹہ ٹھیک سے لیۓ وہ بھی پھپھو کے پیچھے گٸ تھیں۔ آنسو روکنے کی وجہ سے اس کا حلق اب کے دکھنے لگا تھا۔ آنکھیں ضبط کے باعث گلابی سے رنگ میں ڈھل گٸیں۔۔ اندر ہی اندر خوف کی کٸ پرتوں نے بیک وقت جنم لیا تھا۔ کچھ ہی پل میں ہر ایک اسے اہانت اور تمسخرانہ دیکھ کر مسکراتا ہوا باہر کی جانب بڑھا تو اس سے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا عذاب ہوگیا۔ ان چند لمحوں میں کیا کچھ نہیں سہہ لیا تھا اس نے۔۔ طنز، حقارت، تمسخر۔۔ 

وہ پلٹی اور کمرے کی جانب بھاگ آٸ۔ اندر آ کر اس نے اپنے پیچھے دروازہ مقفل کرلیا تھا۔  بے تحاشہ کانپتے ہاتھوں کو چہرے پر رکھا۔۔ گرم گرم آنسو اس کی آنکھوں سے ابلنے لگے تھے۔ 

اِذ اَوَی الفِتیَةُ 

(اور جب پناہ لی ان نوجوانوں نے۔۔۔) 

اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب کی آیتیں اب کے بھرپور انداز سے جگمگا رہی تھی۔ دروازے سے لگ کر، سر جھکاۓ روتی رابیل کے کانوں میں وہ مدھم، پرسکون سی آواز گونجی تھی۔ 

اِلَی الکَھفِ 

(غار کی طرف۔۔) 

اس نے لرزتے ہاتھوں سے مسلسل بہتے آنسو صاف کیۓ۔ دل پر جمے زخم تکلیف دینے لگے۔ مگر پھر وہ بہتی آواز، اس کی سماعت میں اترنے لگی۔ اس کا سینہ جو کہ اس قدر بے عزتی پر تنگ ہونے لگا تھا، کھلنے لگا۔ 

فَقَالُوا 

(پس انہوں نے کہا۔۔۔) 

اس کے لرزتے دل کو ڈھارس سی ملی۔ بل کھاتی  لہروں کے درمیان اس کا ڈولتا دل سنبھلنے لگا۔ کیا کہا تھا نوجوانوں نے غار میں پناہ لینے کے بعد۔۔؟ اسے سننا تھا۔۔ اسے جاننا تھا کہ غار میں پناہ لینے کے بعد وہ کونسے الفاظ تھے جو کٸ دہاٸیوں پہلے دہراۓ گۓ تھے۔ وہ کونسے مبارک لفظ تھے، جنہیں اللہ نے اپنی کتاب کا حصہ بنا کر صدیوں تک کے لیۓ محفوظ کر دیا تھا۔ اس نے بے جان قدم اس جگمگاتی کتاب کی جانب اٹھاۓ۔ لیکن وہ ہاتھ بڑھا کر اس کا دروازہ نہ کھول سکی۔ وہ تو بس اس بہتی آواز کو سحر زدہ سی سنے جارہی تھی۔۔ 

رَبّنَآ اٰتِنَا مِن لّدُنکَ رَحمَةً 

(اے ہمارے رب! تو ہمیں دے اپنی طرف سے رحمت۔۔) 

اس نے اس نرم،  آواز کے پیچھے یہ لفظ میکانکی انداز میں دہراۓ تھے۔ ہاں اسے یہ لفظ دہرانے ہی تھے۔۔ اسے یہ دعا غار میں پناہ لینے کے بعد اپنے رب سے مانگنی ہی تھی۔ 

وّھَیِّی لَنَا 

(اور آسان کردے ہمارے لیۓ۔۔۔) 

اس کے لب بے آواز ہل رہے تھے۔ مگر ان بے آواز ہلتے لبوں کی صدا کہیں بہت اوپر تک سناٸ دینے لگی تھی۔ اس کے آس پاس رحمت کے فرشتے اکھٹے ہونے لگے۔ وہ رس گھول دینے والی مدھم آواز اب تک کہیں پیچھے سے سناٸ دے رہی تھی۔۔ 

مِن اَمرِنَا رَشَدًا 

(ہمارے کام میں بھلاٸ کا راستہ۔۔) سورہ کہف 

اس کے دل کا ہر بوجھ سرکنے لگا تھا۔ بہتی سانسوں کی روانی میں بے اختیار نمی سی گھلنے لگی۔ وہ ایک بار پھر سے اس کی رحمت، اس کی محبت اور اس کے اس قدر خیال رکھنے پر رورہی تھی۔ لان میں اک بوڑے درخت کا پتہ اسی سمے آنسو بن کر گرا۔ وہ بے ساختہ بار بار اس دعا کو دہرانے لگی۔ ان الفاظ کی مٹھاس آج بھی تازہ تھی۔۔ ہاں آج بھی۔۔ کٸ صدیوں بعد بھی وہ لفظ زندگی دیا کرتے تھے۔

”اے ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اور آسان کردے ہمارے لیۓ، ہمارے کام، بھلاٸ کا راستہ“

وہ اس آیت کی گردان کرتے کرتے اب کے اس تاریک، تنگ اور بھیانک غار کو روشن کرنے لگی تھی۔ اس کے سیاہ غار میں چاندنی پگھل کر گرنے لگی۔ باہر لاٶنج میں اب بہت کم لوگ تھے۔ کچھ مہندی میں جا چکے تھے، اور کچھ کی تیاریاں ابھی باقی تھیں۔ وہ ان سب سے بے نیاز مدھم آواز میں اس دعا کو پڑھے گٸ۔ اسے اس دعا کو پڑھنا ہی تھا۔۔ کیونکہ اس غار کے باہر تو اسے اندیشہ تھا کہ وہ اپنا ایمان کھودے گی۔ اس کا خاندان بھی عیش سے رہ رہا تھا۔۔ بھلا اسے کیا پڑی تھی اس غار میں پناہ لینے کی لیکن۔۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں کوٸ کسی کا نہیں ہوگا۔ اس دن صرف اللہ ہوگا اور انسان ہوگا۔۔ اسے اس دن کی تیاری کرنی تھی۔۔ اور اس دن کی تیاری کے لیۓ۔۔ اسے غار میں پناہ لینی ہی تھی۔۔ 

دور سے دیکھنے پر اب کہ بس یہی دکھاٸ دے رہا تھا کہ ایک لڑکی بیڈ پر گردن جھکاۓ بیٹھی زیرلب کچھ پڑھ رہی ہے۔ اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب جگمگا رہی ہے اور فرشتے اس غار کا احاطہ کیۓ آسمان تک پہنچ چکے ہیں۔۔ باہر کھڑے بوڑھے درخت سے پتے اب تک آنسوٶں کی صورت ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔ 

اور اس رات اسے نہیں یاد کہ وہ گھر کے وسط میں بنے ٹھنڈے زینوں پر کتنی ہی دیر بیٹھی رہی۔۔ زینے آدھے تاریکی میں ڈوبے ہوۓ تھے اور آدھے روشن تھے۔ وہ روشن حصے میں بیٹھی چہرہ گھٹنوں میں دیۓ گم صم سی بیٹھی تھی۔ 

”تم لوگوں کو خود اتنی اجازت دیتی ہو کہ وہ آٸیں اور تمہیں توڑ کر چلے جاٸیں۔۔“ 

کسی کی آواز پر اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔ زینوں کے بالکل دہانے پر وہ ابھی تک بھوری جیکٹ کو گردن تک بند کیۓ کھڑا تھا۔ 

”لوگوں کو ہر وقت اپنے اعمال کی وضاحت نہیں دیا کرتے۔ وہ پوچھیں تب بھی نہیں۔ ہاں یہ نا میں جواب دینا سیکھو۔ نہیں تو لوگ تمہیں اذیت دینے کا کوٸ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینگے۔۔“ 

وہ متورم آنکھوں سے اسے دیکھے گٸ۔ وہ دیکھنے میں جتنا روکھا لگتا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ ہاں اسے بڑے بڑے جملے بولنے نہیں آتے تھے۔ اسے شاید اپنی بات کم الفاظ میں سمجھانے کی عادت تھی۔۔ 

”مجھے لگتا ہے کہ اب یہ اذیت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ کبھی بھی نہیں“ 

معاذ نے گہرا سانس لے کر ٹھوڑی کھجاٸ اور کچن کی جانب بڑھا۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ اس کے سوال پر رک بھی گیا تھا۔۔ 

”ارحم کے دوست کیسے ہیں اب۔۔؟“  

اس نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی مگر جانے کیوں وہ اس غیروں کے جھرمٹ میں اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا۔ خشک اور بیک وقت نرم۔۔ 

”پتہ نہیں۔۔“

”لیکن تم نے ہی تو کہا تھا کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا ہاٸ وے پر۔۔ پھر اب کیسے ہیں وہ لوگ۔۔؟“ 

”میں نے تو صرف ایک حادثے کی بات کی تھی۔ پتہ نہیں اس میں اس کے دوست تھے بھی یا نہیں۔۔“ 

مزے سے کندھے اچکاۓ تو رابیل یکدم اٹھ کھڑی ہوٸ۔ بے یقینی سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔ 

”لیکن تم نے تو کہا تھا کہ۔۔۔“ 

”آٸندہ کبھی تمہیں اپنے دوستوں سے ملوانے کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں۔۔ بے غیرت۔۔“ 

ایک بار پھر اس نے سر جھٹک کر قدم کچن کی جانب بڑھاۓ تو وہ اس کے پیچھے ہی چلتی آٸ۔ سادہ سے شلوار قمیض میں اس کا سراپا دمک رہا تھا۔۔ 

”تم کیا کررہے ہو۔۔؟“ 

اس نے ایک نظر پلٹ کر رابیل کو دیکھا اور پھر بغیر کوٸ جواب دیۓ، جیکٹ کی آستینیں پیچھے کو چڑھاتا، کچن کی جانب متوجہ ہوا۔ چند پل یہاں وہاں کچھ تلاشا اور پین رکھ کر ہلکی آنچ پر تیل گرم ہونے کے لیۓ رکھا۔ اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ تیزی کے ساتھ کٹنگ بورڈ پر کھٹا کھٹ گوشت کاٹ رہے تھے۔ وہ بے یقینی سے اس کی پشت دیکھے گٸ۔ 

”تم کیا کررہے ہو معاذ۔۔۔؟“ 

”کچھ کھایا ہے تم نے۔۔؟“ 

اس نے پلٹے بغیر ہی استفسار کیا تھا۔۔ رابیل کا سر خود بخود نفی میں ہل گیا۔ ایک لمحے کو پلٹ کر اس نے رابیل کو دیکھا تھا۔۔ جانے کیسا بندہ تھا وہ۔ 

”تمہاری مدد کا شکریہ معاذ۔۔“ 

اس نے اس کی بات سن کر لاپرواہی سے کندھے اچکاۓ جیسے کہہ رہا ہو ”واٹ ایور“۔۔ رابیل کو لگا ابھی وہ اسے کہے گا کہ کوٸ بات نہیں، یہ تو میرا فرض تھا اور۔۔ اور میری جگہ کوٸ بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا لیکن اس نے صرف کندھے اچکاۓ تھے۔ اس کا انداز عجیب نہیں تھا۔۔ اس کا انداز بس مختلف تھا۔۔ 

اب کہ وہ فون پر شاید اپنے کسی ورکر سے باتیں کرتا تیزی سے مصالحے کو بھون رہا تھا۔ سارے کچن میں اشتہا انگیز سی مہک پھیل گٸ۔ رابیل کی بھوک یکدم ہی چمک اٹھی تھی۔۔ 

”فیصل سے کہو کہ تازہ سبزیاں لاۓ۔ اس طرح کھانے کا ذاٸقہ خراب نہیں ہوگا پھر۔۔“ 

اگلے پل اس نے رک کر دوسری جانب سے کچھ سنا اور پھر چند ہدایات دیتا وہ فون رکھ چکا تھا اب کہ۔ سارا پھیلاوا سمیٹ کر اس نے ایک جانب کیا اور پھر ڈش میں مصالحے دار سی اسپگیٹی نکالنے لگا۔ دور سے دیکھنے پر ہی وہ اتنی مزیدار لگ رہی تھی کہ رابیل کو سب کچھ بھول گیا۔ اسے بس ابھی کھانا، کھانا تھا۔ ایک بار پھر سے اس کا فون بجا تو اس نے فون کان سے لگاتے ہوۓ اسپگیٹی اس کے سامنے کچن میں لگے گول ٹیبل پر رکھی اور انگلی سے اس کی جانب اشارہ کیا۔۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ اسے کھالو۔۔ 

”فیصل مجھے لگیں گے کچھ دن یہاں، ابھی تمہیں ہی دیکھنا ہوگا چند دنوں تک ریسٹورینٹ۔۔ میں جلدی آنے کی کوشش کرونگا“ 

اگلے ہی لمحے اس نے فون رکھا تو رابیل اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ 

”تم کیا کرتے ہو معاذ۔۔۔؟“ 

”میرے دادا کی جاٸیداد سے نکلتا آدھا حصہ تو پھپھو ہتھیا چکی تھیں اسی لیۓ ہمارے حصے میں کوٸ لمبی چوڑی کمپنی نہیں آسکی۔۔ اور جو آسکا تھا اس سے بابا نے ایک ریسٹورینٹ کا کام شروع کیا تھا۔ میں ریسٹورینٹ اونر ہوں۔“

اس نے آستینیں کلاٸیوں پر برابر کیں اور ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے پرے کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔ رابی نے ایک لمحے کو پلٹ کر اسے جاتے دیکھا تھا۔۔ بہت دنوں بعد اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ خشک آنسوٶں کے نشان لیۓ وہ اب کے بہت رغبت سے اسپگیٹی کھا رہی تھی کیونکہ اسے آلو گوشت بالکل بھی نہیں پسند تھا۔۔

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form