Kahaf Episode 1-2

#do_not_copy_paste_without_my_permission

کہف

بقلم_رابعہ_خان

پہلی_قسط کا بقیہ حصہ 

چند ہی پل ڈھولکی میں بیٹھنے کے بعد جب اسے اپنے اوپر ہر ایک کی اکتاٸ ہوٸ نگاہ محسوس ہوٸ تو وہ زیادہ دیر وہاں نہ بیٹھ سکی۔ ماں سے نیند کا بہانہ کر کے وہ گھر چلی آٸ تھی۔ اس کی جگہ اب ایسی محفلوں میں ختم ہوچکی تھی اسے اندازہ تھا۔ ٹوٹتے دل کے ساتھ اس نے بمشکل خود پر ضبط رکھا اور وضو بنا کر اسٹڈی ٹیبل تک چلی آٸ۔ پڑھنے کے لیۓ لب وا کیۓ لیکن دو آنسو ٹپک کر قرآن کے صفحے میں جذب ہوگۓ، کھلے لب لرزنے لگے۔ وہ یونہی خالی خالی سی چند پل جگمگاتی آیات کو دیکھے گٸ۔۔ 

"میرا دل ٹوٹ رہا ہے اللہ۔۔ میں ٹوٹ رہی ہوں۔۔" 

آنسو پھسل کر رخسار پر چمکنے لگے۔ مگر اس نے پھر بھی اپنا سانس ہموار رکھنے کی کوشش کی۔ خود کو دلاسا دیا۔۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔ ایک دن تو سب اسے قبول کر ہی لیں گے۔۔ اسے بس صبر سے اس دن کا انتظار کرنا تھا۔۔ ہاں بس چند دن کا اور صبر۔۔ 

"میرے گھر والے مجھ پر زور ڈال رہے ہیں، خاندان والے مجھے قبول نہیں کررہے، لوگ مجھ سے بیزار ہورہے ہیں اللہ۔۔ لوگ مجھ سے اکتا کر منہ موڑ رہے ہیں۔۔" 

ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے تھے۔ دل پر جمے زخموں کے نشان بڑھنے لگے۔ ہر آن اس کا دل زخمہ ہوتا جارہا تھا۔ پھر بھی اس نے ہمت کر کے شیطان سے پناہ مانگی۔۔ آواز شدت جذبات کے باعث لرز رہی تھی۔۔ 

کیا میں یہ حجاب چھوڑ دوں۔۔؟ کیا میں یہ قرآن چھوڑدوں۔۔؟ کیا میں اللہ کو چھوڑدوں۔۔؟ 

اس نے ایک پل کو چہرہ اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا تھا۔ دل لمحوں میں سکڑ کر پھیلا۔۔ 

"اور کہو کہ اے پروردگار میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔" 

مومنون/ ٩٨

وہ ان الفاظ پر ساکت رہ گٸ تھی۔۔ 

"اور اے میرے پروردگار اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ موجود ہوں۔۔" 

اس نے بے ساختہ اپنے خیال پر استغفار پڑھا تھا۔ یہ خیالات شیطان کی جانب سے تھے۔۔ اسے ان سے پناہ مانگنی تھی۔ اسے ہر شر سے اللہ کی پناہ چاہیۓ تھی۔۔ 

"یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجاۓ تو کہے گا کہ اے رب مجھے دنیا میں واپس بھیج دے۔۔" 

مومنون /٩٩

اس کی لرزتی آواز ان آیات پر بار بار ٹوٹ رہی تھی۔ اسے دکھاٸ دے رہا تھا۔۔ اللہ اسے بتا رہا تھا کہ یہ اسکا ایک ہی موقع ہے۔۔ وہ دنیا میں دوبارہ آنے کے کیۓ گڑگڑاۓ گی لیکن وہ دوبارہ یہاں بھیجی نہیں جاۓ گی۔۔ ہاں کسی طویل قطار میں وہ بھی گھٹنوں کے بل بیٹھی اللہ سے بس ایک بار دوبارہ زندگی مانگے گی تاکہ اسے فرمانبرداری سے گزار سکے۔۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی سنسنا اٹھی تھی۔۔ 

"تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔۔" 

بے ساختہ اس کی ہچکی ابھری۔ آنسو بھل بھل پھسلنے گے۔ تکلیف رگ و پے میں پھیلنے لگی تھی۔۔ 

"ہرگز نہیں ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اسکے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور ان کے پیچھے برزخ ہے جہاں وہ دوبارہ اٹھاۓ جانے تک رہیں گے۔۔" 

مومنون/١٠٠ 

میں پناہ مانگتی ہوں شیطان سے اللہ۔۔ میں پناہ مانگتی ہوں اس کی سرگوشی سے۔۔ مجھے میرے خیالات پر نہ پکڑنا مالک۔۔ 

اس نے ایک لمحے کو رک کر معافی مانگی تھی۔ یہ قرآن تھا۔۔ فرقان تھا۔۔ حق و باطل میں فرق کرنے والا۔۔ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا۔۔ حق و باطل کو واضح کرنے والا۔۔ اسکے پڑھنے والے عام لوگ ہو ہی نہیں سکتے تھے۔۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کو جو بصیرت عطا کیا کرتا تھا اس کا ادراک کرنا ہی بہت مشکل تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے وجود میں سکون اترنے لگا۔۔ لرزتا دل سنبھلنے لگا۔۔ بھیگتی آنکھوں کے پار امید سی جگمگاٸ۔۔ 

"پھر جب صور پھونکا جاۓ گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔۔" 

مومنون/١٠١

اسے لگا تھا کہ اب وہ نہیں روۓ گی۔۔ مگر وہ ایک بار پھر سے روپڑی تھی۔ ہاں ایک دن ایسا بھی آۓ گا جب اس کے رشتے دار، اس کے عزیز اس کے قرابت دار اسے پہچاننے سے انکار کر دینگے۔ ایک دن ایسا بھی آۓ گا جب ماٸیں اپنے اولادوں کو بھول جاٸیں گی۔ کوٸ کسی کو یاد نہیں رکھے گا۔۔ ہاں ایک دن ایسا آۓ گا۔۔ ایک دن ایسا آنے والا تھا۔ ایسا دن۔۔ جس میں کوٸ کسی کا بوجھ نہیں اٹھاۓ گا۔ اس دن ہر نفس کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ایسے لوگ جو اسے اس بڑے دن میں بھول جاٸیں گے، ایسے لوگ جو اسے اس افراتفری میں پہچاننے تک سے انکار کردینگے، ایسے لوگ۔۔ ہاں ایسے لوگ۔۔ کیا وہ ان لوگوں کے لیۓ اللہ کو چھوڑنے لگی تھی۔۔ کیا اتنی کمزور دنیا کے لیۓ وہ اللہ کو چھوڑ دے گی۔۔!! 

اس کے اندر ڈھارس سی بندھنے لگی۔۔ قرآن اسے اٹھا رہا تھا۔۔ وہ گر گٸ تھی۔۔ پھسل گٸ تھی۔۔ تھک گٸ تھی مگر وہ اسے ہمت دلا رہا تھا۔۔ اسے اس کی کمزوریوں پر رسوا کیۓ بغیر وہ اسے خاموشی سے کھڑا کررہا تھا۔۔ کوٸ تھا جو آسمانوں کے پار اس کی جانب متوجہ تھا۔۔ کیا اب اسے کسی اور توجہ کی ضرورت باقی رہ گٸ تھی۔۔!! 

"تو جن کے پلڑے بھاری ہونگے وہ فلاح پانے والے ہیں۔" 

مومنون/١٠٢ 

اس کے زخم پانی بن کر بہنے لگے۔ وہ اس کی محبت میں چھم چھم رونے لگی تھی۔ ایک جانب وہ اگر سختی سے کلام کیا کرتا تھا تو عین اسی جانب وہ بندوں کو تھام کر انہیں دلاسا بھی دیا کرتا تھا۔۔ کوٸ اس جیسا آخر تھا ہی کب۔۔! 

اس نے آہستہ سے قرآن بند کیا اور چہرہ دونوں ہاتھوں میں گرا کر رونے لگی۔ اس کی بلند سسکیوں کی آواز باہر ٹھنڈے پڑے لاٶنج میں صاف سناٸ دے رہی تھی۔ معاذ جو اسی پہر زاہد چچا کے گھر جارہا تھا ان سسکیوں پر ٹھہر گیا۔ پھر ایک پل کو نگاہیں اس کے کمرے کے دروازے پر پھسلیں۔۔ اور اگلے ہی پل وہ سر ہلاتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔ پیچھے اس کی سسکیاں اب تک سناٸ دے رہی تھیں۔۔ 

"تم اقبال کی شادی سے خوش نہیں ہو۔۔؟" 

شزا جو اس کے کمرے میں کھڑی سنگھار آٸینے کے سامنے، تازہ کٹے بالوں پر برش پھیر رہی تھی گویا ہوٸ۔ اس نے ایک لمحے کو کتاب سے سر اٹھایا تھا۔ 

"نہیں تو۔۔ تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔؟" 

اسے شزا کا سوال سمجھ نہیں آیا تھا۔ سنگھار آٸینے میں نظر آتے اس کے عکس نے کندھے اچکاۓ تھے۔۔ 

"ویسے ہی۔۔ تم نہ تو کمرے سے باہر نکلتی ہو اور نہ ہی شادی کے کسی کام میں دلچسپی لیتی ہو تو مجھے لگا کہ شاید تمہیں اقبال کی شادی سے کوٸ مسٸلہ ہے۔" 

رابیل نے گہرا سانس لیا تھا۔۔ 

"خدا کے لیۓ اپنے اندازے اپنے پاس رکھو۔ پھپھو کی عادت سے واقف ہو نا تم۔ اس قسم کی کوٸ بھی بات اگر ان کے کان میں پڑ گٸ تو میرا پتہ تو صاف ہی ہو جاۓ گا۔۔" 

وہ اس کے جواب پر یکدم اس کی جانب پلٹی تھی۔۔ 

"یہی تو سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں میں تمہیں۔ کہ تم یہ سب کیا کررہی ہو۔۔؟ نا تو تم شادی کے کسی فنکشن میں دلچسپی لے رہی ہو اور نا ہی ارحم بھاٸ کو ٹاٸم دے رہی ہو۔ خاندان کی لڑکیاں باتیں کررہی ہیں تمہارے پیچھے کہ رابیل تو کسی کو منہ ہی نہیں لگاتی۔ ناک اتنی اونچی رکھتی ہے کہ اپنے منگیتر تک کو نہیں بخشا۔۔" 

شزا نے گویا اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا۔ اس نے چند پل اسے بے یقینی سے دیکھا۔۔ 

"لیکن۔۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔" 

"وہ تمہاری طرف سے نہیں ہے رابیل۔۔ لیکن ان کی طرف سے پورا ہے سب کچھ۔ تم کیوں اپنے سسرال کو ٹاٸم نہیں دے رہیں مجھے نہیں سمجھ آرہا۔ آخر سوچ کیا رہی ہو تم۔۔؟ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں۔۔؟ کچھ دن پہلے ارحم بھاٸ اقبال کی ڈھولکی پر مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ رابیل کو کیا ہوا ہے۔۔؟ مجھے اندازہ تھا کہ ان کا اشارہ کس جانب ہے لیکن میں نے بات ٹال دی۔۔ اصل میں کیا چاہتی ہو تم رابی۔۔؟؟" 

اس کے پیچھے اتنا سب چل رہا تھا اور وہ بے خبر بیٹھی اپنے اساٸنمٹنس بنا رہی تھی۔ یکدم اس کی پیشانی پر فکر چمکی۔ کتاب ایک جانب کو رکھ کر پوری طرح سے شزا کی جانب متوجہ ہوٸ۔ وہ اب پھر سے بالوں میں برش چلا رہی تھی۔ البتہ چہرہ اس نے رابیل کی جانب موڑ لیا تھا۔۔ 

"اب میں کیا کروں شزا۔۔؟ اگر ارحم نے اس بات کو محسوس کیا ہے تو یقیناً پھپھو نے بھی کیا ہوگا۔۔" 

"بالکل۔۔" 

شزا کے مہر ثبت کرنے پر اس نے گہرا سانس لیا۔ بہت کچھ ایک ساتھ اس کے اندر جھکڑ کی صورت گھومنے لگا تھا۔۔ 

"تو اب میں کیا کروں۔۔؟" 

"کیا کروں کیا مطلب۔۔؟ بھٸ باہر نکلو کمرے سے، شادی کے کاموں میں دلچسپی لو، لوگوں سے ملو جلو، ڈھولکیاں اٹینڈ کرو، ارحم بھاٸ اور پھپھو کو خاص ٹاٸم دو۔۔ تب جا کر زبانیں بند ہونگی خاندان والوں کی۔۔ اور پلیز رابی۔۔ اپنا یہ دوپٹہ مت لپیٹنا سر پر۔۔" 

آخر میں اس نے اکتا کر کہا تو رابیل کے اندر یکدم چھن سے کچھ ٹوٹا۔ اسے شزا کے آخری جملے سے بے حد تکلیف ہوٸ تھی۔۔ 

"لیکن میں حجاب کرنے لگی ہوں یہ بات تم بھی جانتی ہو اور ماں بابا کو بھی میں نے بتایا تھا اپنے فیصلے کے بارے میں۔۔" 

"تو کیا ہوا۔۔؟ پھپھو یا ان کا بیٹا تو اس بارے میں نہیں جانتے ناں۔ اور سچ پوچھو تو تماری زندگی کا اصل محور تو ارحم بھاٸ ہی ہیں۔ تمہیں اپنے آپ کو ویسا ہی ڈھالنا ہوگا جیسا وہ چاہیں گے۔" 

محور ارحم بھاٸ ہے۔!! اس نے ناسمجھی سے ایک لمحے کو شزا کی پشت دیکھی۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو کسی اترتی فجر میں اس نے اللہ سے کہا تھا کہ اب اس کی زندگی کا محور صرف وہی ہے۔ اب اس کی زندگی صرف اسی کے لیۓ ہے۔۔ ایسے میں یہ ارحم کہاں سے آگیا۔۔؟ 

"میری زندگی کا محور ارحم ہر گز نہیں ہے۔۔" 

اس کا لہجہ سخت نہیں تھا۔۔ لیکن اس میں جما اٹل سا تاثر شزا کو ٹھٹکا گیا تھا۔ 

"میں تمہاری بہن ہوں رابی۔۔ اور جتنا میں اس خاندان کو جانتی ہوں تم جیسی بھولی لڑکی نہیں جانتی ہوگی۔ بھلے ہی تم مجھ سے عمر میں بڑی ہو لیکن کچھ معاملات میں تم بالکل بیوقف ہو۔ اور میں تمہیں سمجھا رہی ہوں۔۔ کہ تمہیں اپنے فیصلوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔" 

"میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے شزا۔۔" 

اس نے بہت کوشش کی تھی اپنی آواز کو مضبوط رکھنے کی۔۔ لیکن کچھ تھا جو اس کی لرزش پر غالب آنے لگا تھا۔۔ 

"جو بھی کرو سوچ سمجھ کر کرنا۔ ان بیک ورڈ باتوں کے پیچھے اپنا بنا بنایا رشتہ خراب کرنا سراسر بیوقوفی ہے رابی۔ تمہیں اگر اپنا رشتہ بچانا ہے اور بابا کی عزت کو سنبھالنا ہے تو تمہیں پھپھو کی یا ان کے بیٹے کی بات ہر حال میں ماننی پڑے گی۔ تمہارے پاس اس کے علاوہ کوٸ چواٸس نہیں ہے۔۔" 

وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکلی تو اس نے سر بے ساختہ دونوں ہاتھوں میں گرالیا۔ آنسو آنکھوں سے ابلنے لگے لیکن اس نے گہرے گہرے سانس لے کر بہت سا نمیکن پانی حلق میں اتار لیا تھا۔ یہ تو سفر کا آغاز تھا۔۔ کیا اس کے آغاز میں ہی رونا شروع کردے گی وہ۔؟ اور اگر وہ آغاز ہی میں رو کر کمزور پڑ گٸ تو منزل تک کیسے پہنچے گی۔۔؟ کیا منزلوں تک ایسے پہنچا جاتا ہے۔۔؟ 

اس نے بے دلی سے کتاب ایک جانب کو کی اور بیڈ سے پیر نیچے اتارے۔ اسے ابھی کہ ابھی اپنی بات اللہ تک پہنچانی تھی۔۔ اسے ابھی کے ابھی نماز پڑھنی تھی۔ ہاں ابھی کہ ابھی۔۔ 

اگلے دن وہ تھکی تھکاٸ مدرسہ سے آٸ تو دیکھا گھر میں خوب چہل پہل ہورہی ہے۔ مہندی میں صرف ایک دن ہی باقی رہ گیا تھا اور اس طرح کی چہل پہل اب یقینی سے بات تھی۔ اس نے گردن یہاں وہاں گھما کر ماں کو تلاشا مگر وہ اسے کہیں نہیں دکھیں۔ کندھے پر ٹنگے بیگ کو اس نے اتار کر ہاتھ میں لیا اور پھر جیسے ہی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی لمحے بھر کو ٹھہر گٸ۔ زینوں کے اس پار بنے کمرے سے معاذ نکل رہا تھا اور اسے دیکھ کر ایک بار پھر ٹھٹک گیا تھا۔ یہ کمرہ اسے عارضی طور پر الاٹ کیا گیا تھا کیونکہ وہ شادی اٹینڈ کرنے آیا تھا۔۔ رابیل نے کوفت سے چہرہ پھیرا اور بنا کوٸ تاثر دیۓ، کمرے کی جانب بڑھ گٸ۔ 

جلدی سے بیگ بیڈ پر رکھا اور خود کو آٸینے میں دیکھا۔ چہرہ بالکل آٸینے کے قریب کرلیا۔ 

کیا اس کے چہرے پر کچھ لگا ہوا ہے۔۔؟ یا پھر وہ دن بدن بدصورت ہوتی جارہی ہے۔۔!؟

اس کے شفاف چہرے کے اطراف میں سیاہ حجاب بندھا تھا، نیچے سیاہ ہی عبایا اس کے قدموں تک کو چھو رہا تھا۔ ایک پل کو پیچھے ہو کر اس نے اپنا مکمل سراپا دیکھا۔۔ 

کیا وہ اس عبایا میں عجیب لگ رہی ہے۔؟ اگر وہ عجیب نہیں لگ رہی تو پھر وہ اسے دیکھ کر اب کہ دوسری بار کیوں ٹھٹکا تھا۔۔؟ 

"استغفراللہ۔۔"

کیا سوچ رہی ہوں میں یہ۔۔ اللہ نے مجھے اچھی شکل دی ہے اور اس جنگلی انسان کی وجہ سے میں خود پر شک کررہی ہوں۔۔ اف۔۔ پھر ایک دم یاد آیا کہ اس نے معاذ کو جنگلی کہہ دیا ہے۔۔ 

"سوری اللہ تعالیٰ۔ میں آٸندہ سے کسی کو بھی جنگلی نہیں کہوں گی۔۔" 

یہ اس کی بچپن کی عادت تھی۔ کوٸ اسے ناگوار گزرتا تھا تو وہ اسے جنگلی کے لقب سے ضرور نوازا کرتی تھی۔ اسے اپنی یہ عادت اب کہ بدل لینی چاہیۓ۔ اب جب کہ وہ قرآن پڑھنے لگی تھی۔ کیا ایسی ہوتی ہے قرآن کی طالبہ۔۔ کسی کو جنگلی بولنے والی۔۔ 

بیزار ہو کر اس نے عبایا اتارا اور پھر واش روم کی جانب بڑھ گٸ۔ واپس پلٹی تو اترتی شام کے چھ بج رہے تھے۔ کتھٸ بالوں کو تولیۓ سے جلدی جلدی خشک کیا اور پھر ڈراٸیر سے بال سکھاۓ۔ گیلے بالوں پر حجاب لپیٹنے کا سوچ کر ہی اسے الجھن ہوتی تھی۔ جاۓ نماز بچھا کر مغرب کی نماز اہتمام سے پڑھی اور پھر جب وہ فارغ ہو کر انگلیوں پر تسبیح گننے لگی تو اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوٸ۔۔ 

"آجاٸیں۔۔" 

اگلے ہی لمحے پھپھو دروازہ کھول کر اندر داخل ہورہی تھیں۔ 

"ارے پھپھو۔۔ کوٸ کام تھا تو مجھے بلا لیتیں۔۔" 

وہ آٹھ کر پاس چلی آٸ۔ 

"تم نہیں جاٶگی ڈھولکی میں۔۔؟" 

صاٸمہ نے مسکرا کر پوچھا تو وہ بھی مسکراٸ۔۔ 

"نہیں پھپھو۔۔ میں تھکی ہوٸ ہوں آج بہت زیادہ۔۔ جا نہیں پاٶنگی۔۔" 

"رابی میں دیکھ رہی ہوں تمہیں، تم دور دور رہنے لگی ہو سب سے۔ جب سب بیٹھے ہنسی مزاق کررہے ہوتے ہیں تم تب بھی وہاں نہیں ہوتی ہو۔ لڑکیوں کے ساتھ پارلر بھی نہیں جاتی ہو۔ کسی چیز میں انٹرسٹ ہی نہیں لیتی ہو بیٹا۔ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟" 

وہ اس کے لیۓ فکر مند تھیں لیکن کچھ تھا جو رابیل کو بے چین کررہا تھا۔ ان کی میٹھی زبان سے جانے کیوں حلق میں کانٹے اگنے لگے۔۔ 

"میں۔۔ ٹھیک ہوں پھپھو بس آجکل بزی رہتی ہوں۔۔" 

"تم بزی رہو ضرور رہو رابی، لیکن دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلو۔ اگر ایسا نہیں کرو گی تو کہیں بہت پیچھے رہ جاٶگی۔۔ دنیا اس اونٹوں کے زمانے سے کہیں بہت آگے بڑھ گٸ ہے ہوں۔۔" 

وہ آخر میں اس کا گال تھپتھپا کر باہر کی جانب ہولیں تو رابیل خالی خالی سی دروازے میں کھڑی رہ گٸ۔ وہ انہیں بتانا چاہتی تھی۔۔ انہیں کہنا چاہتی تھی کہ اکثر لوگ دین اور دنیا کو ساتھ رکھنے کے چکر میں اپنا دین کھو دیتے ہیں، اور آہستہ آہستہ اپنی دنیا ہی کو دین سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ انہیں یہ بھی نہ بتا سکی کہ یہ ڈھولکیا، یہ ناچ گانے کی محفلیں کیسے انسان کے اندر موجود پرہیزگاری کو کچل کر رکھ دیتی ہیں، کیسے انسان کے اندر موجود حیا کو ختم کردیتی ہیں۔ اور آخر میں ان سب کے ہاتھوں کیسے انسان ذلیل ہو کر ذلت کی موت مر جاتا ہے۔ 

بیڈ کی پشت سے سرٹکاۓ وہ گہری اداسی سے سوچ رہی تھی۔ 

وہ قرآن کی طالبہ تھی۔۔ اسے اپنا قرآن بہت عزیز تھا۔ وہ اپنے قرآن کی خلاف ورزی کرتی تو قرآن اس پر اپنے دروازے بند کرلیتا۔

لڑکیاں اسے طعنے دیتی تھیں، کہ وہ "بڈھی روح" بن گٸ ہے۔ خاندان والے اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے، بہت سوں کو اس نے استھزا کر کے سر جھٹکتے بھی دیکھا تھا۔ سب تکلیف دیتا تھا۔۔ سب کچھ۔۔ اس نے آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا۔۔ 

مگر وہ مطمٸن تھی۔۔ 

اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ وہ اسے اپنے پاس جنت میں گھر عطا کرے۔ اور جنت۔۔ جنت ایسے ہی نہیں مل جاتی۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔۔ 

اگلے دن اس کے مدرسہ کی چھٹی تھی اور وہ صبح ہی سے ماں کے ساتھ کچن میں لگی کام کروانے میں مصروف تھی۔ کام والی نے چھٹی کرلی تھی تو سارا کام اب انہی کے ذمے آگیا تھا۔ اسکی دونوں بہنیں کزنز کے ساتھ مال گٸ تھیں (عین وقت تک بازار کے چکر۔۔۔ ) اور آخر میں وہ ہی بچی تھی ان کا ہاتھ بٹانے کے لیۓ۔۔ 

اس نے آخری پلیٹ دھو کر ریک میں سجاٸ اور پھر پلٹ کر رامین کو دیکھا۔ وہ سالن کو دم پر رکھ کر ڈھکن برابر کررہی تھیں۔ 

"ماں اب تو کوٸ کام نہیں ناں۔۔؟" 

"ہاں بس ذرا سلاد بنا دو۔۔ باقی سارا کام تو ہوگیا ہے۔۔" 

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر ٹیبل پر رکھی تازہ سبزیوں کی جانب چلی آٸ۔ ابھی اس نے چھری اٹھاٸ ہی تھی کہ ارحم کچن میں داخل ہوا۔ جینز اور ٹی شرٹ پہنے، فریش سا۔۔ 

"ہیلو رابیل۔۔ مامی۔۔ مما کو دیکھا ہے آپ نے۔۔؟" 

"جی بیٹا وہ سامنے گٸ ہیں زاہد بھاٸ کے گھر، صبح ہی صبح زرتاشہ بھابھی بلانے آٸ تھیں انہیں۔۔" 

"اوہ۔۔" 

رابیل بھی اپنا ہاتھ روکے ارحم کو دیکھ رہی تھی۔۔ 

"چلیں ٹھیک ہے پھر۔۔" 

"کوٸ کام تھا بیٹا آپ کو۔۔؟" 

وہ پلٹنے لگا تو رامین نے پوچھ لیا۔ اب وہ ہونے والا داماد تھا اس گھر کا۔۔ اتنا پروٹوکول تو خیر بنتا ہی تھا۔۔ 

"جی مامی دراصل میرا کرتا شلوار استری نہیں ہے۔ مما کو کہنے آیا تھا کہ وہ استری کردیں لیکن خیر۔" 

"ہاں تو رابیل کردے گی ناں۔۔" 

رامین نے یکدم کہا تو اس کے ہاتھ سے چھری گرتے گرتے بچی۔ ارحم اب پر امید نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ اس نے بمشکل مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر ایک " ماں!!!!!" والی نگاہ رامین پر ڈالی۔ پھر اٹھ کر اس کے پیچھے چلی آٸ۔ اس کے کمرے میں کپڑے یہاں وہاں بکھرے ہوۓ تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر پہلے کپڑے سمیٹ کر ایک جانب کو رکھے اور پھر جیسے ہی پلٹی اسے دیکھتا پا کر رک گٸ۔ وہ ہاتھ باندھے دروازے میں ٹکا مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں یکدم بہت آکورڈ سی خاموشی پھیل گٸ تھی۔۔ 

"ہر وقت بزی رہتی ہو رابیل۔۔ مجھے تو موقع ہی نہیں ملتا تم سے بات کرنے کا۔۔ کتنا تنگ کرتی ہو تم مجھے ہاں۔۔" 

ایک شرارتی سی پرشکوہ نگاہ اس پر ڈالی تو رابیل بمشکل مسکراٸ۔۔ 

"ارحم آپ بتادیں کونسا کُرتا استری کرنا ہے۔ مجھے۔۔ اور بھی کام ہیں۔۔"

"ہوتے رہیں گے اور کام بھی پہلے یہ کرتا استری کردو میرا اور میرے ساتھ باتیں بھی کرو۔۔" 

اس نے آگے بڑھ کر استری اسٹینڈ پر کرتا رکھا اور پھر بالکل اس کے برابر آکھڑا ہوا۔۔ ان کے درمیان بس ذرا جتنا فاصلہ تھا۔ رابیل غیرمحسوس طریقے سے قدرے فاصلے پر ہوٸ تھی۔۔ 

"سو۔۔۔ تم کتنا پسند کرتی ہو مجھے۔۔؟" 

"جی۔۔!" 

اس نے یکدم ہی جھکا سر اٹھایا تو وہ اس کے گڑبڑانے پر بے ساختہ ہنس دیا۔ رابیل کو اس کا انداز ایک بار پھر ناگوار گزرا تھا۔

"مزاق کررہا تھا بابا۔۔ تم بتاٶ کہ کیا مجھے اتنا پسند کرتی ہو کہ میرے لیۓ خود کو بدل سکو۔۔؟" 

اس کے تیزی سے چلتے ہاتھ پل بھر کو رکے تھے۔ اس نے ناسمجھی سے سر اٹھا کر اس اونچے سے ہینڈسم بندے کو دیکھا۔۔ 

"کیا مطلب۔۔؟" 

"سوری ٹو سے رابی لیکن مجھے تمہارا یہ سر پر ہر وقت دوپٹہ لپیٹنا بالکل بھی نہیں پسند۔ بہت بیک ورڈ قسم کا لک آتا ہے۔ کیا تم میرے لیۓ اپنا یہ دوپٹہ چھوڑ سکتی ہو۔۔؟" 

استری بے ساختہ اس کے انگوٹھے پر آلگی تو وہ بلبلا کر پیچھے ہوٸ۔ وہ یکدم آگے بڑھا تھا۔ اس کے ہاتھ کو جیسے ہی تھامنا چاہا تو اس نے خوفزدہ ہو کر ہاتھ کمر کے پیچھے کرلیا۔ ارحم نے ناسمجھی سے دیکھا تھا اسے۔۔ 

"کیا ہوا رابیل۔۔ مجھے دیکھنے دو کیا ہوا ہے۔۔؟" 

اس نے ایک بار پھر ہاتھ آگے بڑھایا لیکن اب کے رابی بالکل دروازے سے جا لگی تھی۔ اس کا دل بے تحاشہ دھڑک رہا تھا اور تکلیف سے آنسو باہر گرنے کو بے تاب تھے۔ اسے لگا تھا کہ کم از کم ارحم اسے سمجھے گا۔ وہ اسے اس کے فیصلوں میں آزادی دے گا، وہ اسے کبھی ویسا محسوس نہیں کرواۓ گا جیسا لوگ اسے اب تک محسوس کرواتے ہوۓ آرہے تھے۔۔ لیکن ابھی۔۔ ارحم کی اس آخری بات نے جیسے اس کا دل ہی توڑ دیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس حجاب میں بیک ورڈ لگتی تھی۔۔ کیا یہی کہا تھا اس نے۔۔!! اس کی کتھٸ آنکھوں میں ضبط کے باوجود بھی نمی سی تیرنے لگی۔۔ انگوٹھے میں مچی جلن جیسے ہاتھ میں سرایت کرنے لگی تھی۔ اسی جلن سے بچنے کے لیۓ ہی تو اس نے یہ حجاب سر پر لپیٹا تھا۔۔ 

"آپ مجھے ایسے کیسے کہہ سکتے ہیں ارحم۔۔!" 

صدمے سے اس کے منہ سے یہی نکلا تھا بس۔ ارحم نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔ 

"میں نے ایسا کیا کہا ہے رابیل۔۔؟ تم کسی سے بھی پوچھ لو تم واقعی سب لڑکیوں کے درمیان بہت عجیب سی لگتی ہو اس دوپٹے میں۔ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے سر میں کوٸ بیماری ہے یا پھر تمہارے بال بدصورت ہیں جسے چھپانے کے لیۓ تمہیں اسے سر پر لینا پڑے۔ تم بہت خوبصورت ہو۔ اپنی خوبصورتی کو یوں ضاٸع مت کرو۔۔" 

اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔ تکلیف سے سینہ تنگ ہونے لگا۔۔ آنکھوں کی نمی میں گلابی سا رنگ گھلنے لگا۔ اسے لگا آج وہ اپنی ہی نظروں میں گر گٸ ہے۔ کس انسان سے امیدیں وابستہ کی تھیں اس نے۔۔! 

"مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی ارحم۔۔ مجھے لگا تھا کہ آپ مجھے سمجھیں گے۔۔ مجھے لگا تھا آپ مجھے سپورٹ کریں گے۔۔ لیکن آپ تو۔۔" 

"اوہ کم آن۔۔"

اس نے جیسے اس کی بات پر بہت بیزار ہو کر سر جھٹکا۔ 

"رابی۔۔ کم آن۔۔ تمہیں ہوا کیا ہے۔۔؟ اس طرح کیوں بی ہیو کررہی ہو یار۔۔؟ اس میں اتنا جذباتی ہونے والی کونسی بات ہے ہاں۔۔؟ مجھے لگا تمہیں اندازہ ہوگا کہ سب تمہارے بارے میں کیا سوچتے ہیں لیکن تم تو بالکل ہی بیوقوف ہو۔۔ کیا تمہیں واقعی نہیں پتہ کہ سب تمہارے اس۔۔" 

حقارت سے اس کے چہرے کے اطراف میں بندھے دوپٹے کی جانب اشارہ کیا۔۔ 

"اس دوپٹے کو کیسے دیکھتے ہیں۔۔؟" 

اس سے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا مشکل ہورہا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ جم کر کھڑی رہی۔۔ یہ وقت پیٹھ دکھا کر بھاگنے کا نہیں تھا۔۔ وہ وقت آگیا تھا کہ جب وہ اپنے ایمان کا ذکر دن کی روشنی میں کردیتی۔ 

"مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔۔" 

"واٹ۔۔!!" 

وہ جیسے اس کے جواب پر بھک سے اڑا۔۔ 

"دماغ تو خراب نہیں ہوگیا تمہارا۔۔! ایک کپڑے کے ٹکڑے کے لیۓ اب تم اپنے رشتوں کو خراب کروگی۔۔!" 

"یہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہے ارحم۔۔ یہ میرے رب کے حکم کا حصہ ہے اور آپ اسے ذلیل ہرگز بھی نہیں کرسکتے۔۔"

"نکل آٶ اس اونٹوں کے زمانے سے بی بی۔۔ یہاں پر اب دنیا بہت بدل گٸ ہے۔۔" 

"دنیا بدل گٸ ہے لیکن قرآن نہیں بدلا۔۔"۔

پتہ نہیں یوں دوبدو جواب دینے کی ہمت اس میں کہاں سے آگٸ تھی۔۔ شاید یہ ہمت اس پر آسمان سے اتر رہی تھی۔ ہاں۔۔ کوٸ تھا جو اس کی پشت پناہی کررہا تھا۔۔ وہ اسے یوں منجدھار میں چھوڑنے والا نہیں تھا۔۔ 

"تو تم اپنا یہ دوپٹہ نہیں چھوڑوگی۔۔؟"

اس نے جیسے حتمی سوال کیا تھا۔ 

"ضرور چھوڑدیتی میں اپنا حجاب۔ ضرور۔۔ اگر جو میں نے اسے آپ کے لیۓ اپنے سر پر لپیٹا ہوتا تو میں اسے ضرر چھوڑدیتی ارحم لیکن یہ حجاب میں نے آپ کے لیۓ نہیں لیا۔۔ اور جس کے لیۓ لیا ہے اس کا حکم میرے ہر جواز، ہر تاویل اور ہر عذر سے بڑا ہے۔۔ میں اس حجاب کو نہیں چھوڑونگی۔۔ کبھی بھی نہیں چھوڑونگی۔۔ !" 

ایک پل کو ارحم نے اسے افسوس سے دیکھا تھا۔۔ 

"میری سوچ سے بھی زیادہ بیوقوف لڑکی ہو تم رابیل۔۔" 

"جی میں بہت بیوقوف ہوں۔ عرب کے صحرا میں اسلام کی راہ پر چلنے والوں کو بھی ان کے اپنے بہت بیوقوف کہا کرتے تھے۔ طنز و تحقیر کے تیر ان کی ذات تک میں گاڑ دیا کرتے تھے وہ۔ لیکن انہوں نے اپنی روش ترک نہیں کی۔ میں بھی اپنی روش ترک نہیں کرونگی۔ کہتی رہے۔۔ ساری دنیا کہتی رہے مجھے بیوقوف۔۔ لیکن جو اللہ کے نزدیک عزت دار ہے اسے یہ دنیا بے عزت نہیں کرسکتی۔ میں اپنا حجاب نہیں چھوڑونگی۔ یہ بات آپ بھی سمجھ لیں اور اس خاندان کے ہر فرد کو بھی سمجھادیں۔ " 

"یہی۔۔۔ اسی وجہ سے زہر لگتے ہیں مجھے یہ مدرسے۔ ذرا لحظہ بھر کو رک کر اپنے آپ کو آٸینے میں دیکھو، اپنے رویے کو دیکھو۔۔ کہیں سے بھی پڑھی لکھی اور اکیسویں صدی کی لڑکی نہیں لگ رہی ہو تم ۔۔ ان مدرسے والوں نے تمہاری سوچ کو اتنا چھوٹا کردیا ہے کہ اب کسی جدت کی گنجاٸش ہی نہیں رہی۔ میں تمہیں کتنا بھی سمجھا لوں لیکن اب تم نہیں مانو گی کیونکہ تمہاری برین واشنگ کی گٸ ہے۔۔ تمہیں انتہا پسند بنایا جارہا ہے رابیل۔۔ اٹھو۔۔ جاگو۔۔ تم ایسی نہیں تھیں پہلے۔۔"

وہ بے یقینی کے ساتھ ساتھ گہرے دکھ کے زیر اثر اسے دیکھ رہی تھی۔ قرآن پڑھانے والوں کے بارے میں ارحم کے خیالات سن کر اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ وہ کیا سوچتا رہا تھا اس کے بارے میں اب تک۔۔ 

"آپ کو تھوڑی سی حیا کرنی چاہیۓ قرآن پڑھانے والوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہوۓ۔" 

"کیا۔۔!! اب تم ان سوکالڈ لوگوں کے لیۓ مجھے شرم دلاٶ گی۔۔!!"

وہ یکدم ہی ہتھے سے اکھڑ گیا تھا۔ رابیل نے آنسو رگڑے اور ایک لمحے کو افسوس سے اس کی جانب دیکھا۔۔ 

"جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔۔" 

اتنا کہا اور اس کےکمرے سے بھاگتی ہوٸ نکلی۔ آنسو بھل بھل پھسلتے اس کے دوپٹے میں جذب ہورہے تھے اور وہ ہانپتی کانپتی زینے اتر رہی تھی۔ یکایک کسی سے بری طرح ٹکراٸ۔ معاذ جو کوفت سے ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا اسے دیکھ کر یکدم رکا۔۔ وہ رورہی تھی۔۔ پلکوں پر اس قدر پانی لدا تھا کہ حد نہیں۔۔ 

"رابیل!!!! کیا ہوا ہے۔؟" 

اس نے حیران ہو کر پوچھا تھا مگر وہ جواب دیے بغیر ہی اپنے کمرے کی جانب بھاگ آٸ۔ اس کا دل ڈوب ڈوب کر ابھرنے لگا تھا۔۔ اور کسی انجانے سے خوف کے زیر اثر اس کا وجود سن پڑنے لگا تھا۔۔ معاذ نے لمحے بھر کو پلٹ کر اس کے کمرے کی جانب دیکھا اور پھر لاعلمی کے باعث کندھے جھٹکتا اپنے کمرے کی جانب چلا آیا۔۔ وہ اب تک دروازے سے لگ کر بیٹھی رورہی تھی۔ اس نے سن رکھا کہ تھا امیدیں انسان کو سب سے گہرے زخ دیا کرتی تھیں اور اس نے یہ آج دیکھ بھی لیا تھا۔ جس قدر امیدیں اس نے ارحم سے وابستہ کی تھیں اسی قدر اس نے بےرحمی کے چند جملوں میں اس کی امیدوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ دروازے سے لگی گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔ سب کچھ بگڑ رہا تھا۔ سب کچھ بگڑتا جارہا تھا۔۔ وہ ٹوٹ رہی تھی۔۔ وہ اس سب کو سنبھالتے سنبھالتے اب کے ہلکان ہونے لگی تھی۔۔ اسٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب صبح کی روشنی میں لمحے بھر کو چمک کر ماند ہوٸ۔۔ 

"اور لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان لے آٸیں گے اور آزماۓ نہ جاٸیں گے۔۔۔!!" 

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form