#do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
پہلی_قسط
اور نازل کیا خدا نے بہت سے انبیاء کو آسمانی کتابوں اور معجزات کے ساتھ۔۔کہ وہ لوگوں کو بلاٸیں نیکی کی جانب ۔۔ اور روکیں انہیں۔۔براٸ سے۔۔ بے شک وہ ہر شے پر قادر ہے۔۔ جو انسانوں کو پیدا کر کے زمین۔۔ میں پھیلانے والا ہے۔۔ اور جو انسانوں کو بہت سی قوتوں کے ساتھ۔۔
پیدا کرنے والا ہے۔۔ وہ ہی تو ہے جو قابلِ تعریف۔۔ بہت بلند ہے۔۔!
فجر کی پہلی اذان سے قبل ہی اس کے کمرے کی مدھم زرد سی بتی روشن تھی۔ اسٹڈی ٹیبل پر رکھا قرآن لیمپ کی روشنی میں جگمگا رہا تھا۔ اس نے آہستگی سے اس کے ورق الٹے، کمرے کا گہرا مگر پرسکون سا سکوت زخمی ہوا۔ الٹتے صفحوں کی آواز کے پار، قرآن سے پھوٹتی بہت سی روشنی اس کے چہرے، بال، کھال، روح اور جسم کو منور کررہی تھی۔ اس نے ایک جگہ رک کر شیطان سے پناہ مانگی اور پھر مدھر، نرم سی دھیمی آواز میں قرآن پڑھنا شروع کیا۔۔
"پھر کوٸ بستی ایسی نہ ہوٸ کہ ایمان لاتی تو اسے اس کا ایمان نفع دیتا، سواۓ یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لاٸ تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک ان کو (دنیاوی فواٸد سے) سے بہرہ مند رکھا"
(یونس:98/10)
مدھر سی آواز کمرے کی سیاہی میں گھلنے لگی۔ اسی پہر اس کی کھڑکی سے گرتی ٹھنڈی چاندنی کمرے کی فضا میں تحلیل ہونے لگی۔ اس نے اس کی موجودگی محسوس کر کے بھی سر نہیں اٹھایا۔۔ یونہی گردن ذرا جھکا کر مدھر آواز میں پڑھتی رہی۔
"اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے"
اس کی مسحور کن آواز صبح کی جامنی سی روشنی میں بکھرنے لگی تھی۔ رات بھر لوگوں کی سیاہ کاریوں کے باعث فضا میں جما گھٹن زدہ سا احساس اس کی آواز کے ساتھ دھلنے لگا۔
"تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجاٸیں۔؟"
(یونس:10/ 99)
اس کی جھکی آنکھوں کی خوبصورت پلکیں، رخساروں پر سجدہ ریز تھیں۔ سنجیدہ مگر نرم چہرہ بہت پرسکون دکھتا تھا۔ اگلی آیت پڑھتے اس کی آواز کی ہلکی سی لرزش کے باعث کمرے کی فضا جھنجھنا اٹھی تھی۔۔
"حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لاۓ اور جو لوگ بے عقل ہیں ان پر وہ (کفر و ذلت) کی نجاست ڈالتا ہے"
(یونس: 10/ 100)
"کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے؟ مگر جو ایمان نہیں رکھتے ان کے لیۓ نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔۔"
(یونس: 10/ 101)
اس کا نرم عربی لب و لہجہ، ساری فضا کو ساکن کیۓ ہوۓ تھا۔ کمرے میں بہتی اس کی آواز کے باعث خوشبو سی تحلیل ہونے لگی۔ ایسی خوشبو جو قرآن والوں کے رگ و پے سے اٹھا کرتی تھی۔ ایسی خوشبو جو ہر لمحہ، ہر آن اور ہر ساعت قرآن والوں کا احاطہ کیۓ ہوۓ ہوتی تھی۔
کچھ لمحوں بعد اس نے آہستہ سے قرآن کو بند کر کے چوما اور پھر اسے ایک جانب کو رکھ دیا۔ دعا کے لیۓ ہاتھ اٹھاۓ اور پھر چند لمحے دعا کرنے کے بعد وہ اسٹڈی ٹیبل سے اٹھ کھڑی ہوٸ۔ گہرے سبز رنگ کا دوپٹہ اب تک اس کے چہرے کے اطراف میں بندھا تھا۔ ٹیبل کے ساتھ ہی زمین پر جاۓ نماز بچھی تھی۔ وہ آہستگی سے اٹھ کر جاۓ نماز پر آکھڑی ہوٸ۔ فجر کی پہلی اذان کی دبی دبی سی آواز کمرے میں سناٸ دینے لگی تھی۔ اس نے اذان ختم ہونے کا انتظار کیا اور نیت باندھ لی۔۔
اس کے ہر پڑھے جانے والے لفظ کے عوض نیکی لکھی جانے لگی تھی۔ کیونکہ وہ، وہ تھی۔۔ جو پہلوں میں پہل کیا کرتی تھی۔۔۔
"اقبال کی مہندی اسی ہفتے ہے ناں۔۔؟"
ناشتے کی گول میز پر عابد صاحب کا پورا گھرانہ براجمان تھا۔ سربراہی کرسی پر عابد صاحب بیٹھے اخبار تہہ کر کے رکھ رہے تھے اور ان کے ساتھ ہی رامین بیٹھیں تینوں بیٹیوں کو لتاڑ رہی تھیں۔ ان کی صبح صبح کی ڈانٹ پھٹکار معمول کا کام تھا اسی لیۓ بچیاں اور شوہر صاحب اثر لیۓ بغیر ناشتے میں مشغول رہے۔۔
"جی بچے۔۔ اسی ہفتے ہے اس کی مہندی۔۔"
ایک نوالہ منہ میں رکھ کر نفاست سے چباتے ہوۓ انہوں نے جواب دیا۔ مانو ردا اور شزا کی تو بانچھیں ہی کھل گٸیں۔ بے داغ سے سفید کالج ڈریس میں وہ دونوں اونچی پونی ٹیل بناۓ کالج کے لیۓ تیار لگ رہی تھیں۔
"مہمان کب تک آٸیں گے عابد۔۔؟ ظاہر ہے سب مہمان اب زاہد بھاٸ کے گھر تو نہیں ٹھہریں گے ناں۔ کچھ کا انتظام تو یہاں بھی کرنا پڑے گا۔۔"
عابد کے سامنے رکھے کپ میں چاۓ انڈیلتے انہوں نے فکرمندی سے کہا تو عابد صاحب نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
" جی بیگم کچھ مہمان تو یہاں بھی رکیں گے، لیکن زیادہ بھیڑ نہیں ہوگی۔ سب کے گھر تو شہر ہی میں ہیں، بس صاٸمہ اور بڑے بھاٸ جان آٸیں گے۔ تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"
"ارحم بھاٸ بھی آٸیں گے۔۔؟"
ایک دم ردا نے بہت چہک کر سوال کیا تو رابیل کے حلق میں نوالہ اٹکا۔ اس نے بے اختیار پانی کا گلاس منہ کو لگایا تھا۔۔
"بالکل آۓ گا، بلکہ ہمارے ہی گھر ٹھہرے گا وہ۔ اس گھر کا ہونے والا داماد ہے۔ سارے ارمان پورے کرنے ہیں میں نے اس پر"
رامین کو اپنا اکلوتا داماد بہت پسند تھا۔ وہ صاٸمہ پھپھو کا بیٹا تھا اور رابیل کا پچھلے ایک سال سے منگیتر بھی۔ اسی لیۓ اسے ہونے والے دامادوں والا خاص پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ رابیل نے مسکرا کر ردا اور شزا کے شرارتی چہروں کو دیکھا تھا۔ وہ دونوں اس کی جڑواں بہنیں تھیں۔۔ اس سے ایک سال چھوٹیں۔۔
"بس اب خیالی پلاٶ پکانا بند کردو اور شرافت سے کالج جاٶ۔۔"
اس کے مسکراہٹ دباتے بہت جلے سے تبصرے پر دونوں نے بد مزہ ہو کر دیکھا تھا اسے۔ سیاہ عباۓ اور سیاہ ہی حجاب میں وہ اس اترتی صبح میں دمک رہی تھی۔ اس کی گہری کتھٸ سی آنکھوں میں نرم سی شرارت تھی اور لب بہت دھیمی مسکان لیۓ ہوۓ تھے ۔
"رابی تو ہمیشہ ایسے ہی کرتیں ہیں ہمارے ساتھ۔ جہاں ذرا سا موڈ اچھا ہوجاۓ وہیں پر اپنی جلی باتیں لے کر سارا موڈ خواب کردیتی ہیں۔۔"
"ٹیلنٹ ہے یہ بھی۔۔"
اس نے مسکرا کر جوس کا گلاس رکھا اور بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوٸ ۔۔
"رابیل۔۔ کب تک آٶگی تم۔۔؟"
"میں۔۔ کیوں۔۔ ؟ اپنے وقت پر ہی۔۔"
وہ جو جانے ہی لگی تھی رامین کے سوال پر رک گٸ۔
" بیٹا ذرا جلدی آجانا گھر۔ تمہارا مہندی کا ڈریس نہیں سلا ہے اب تک اور درزی کو ناپ بھی دینا ہے تمہارا۔ اور شزا مجھے بتا رہی تھی کہ تمہاری تیاری بھی ادھوری ہے شادی کی۔۔!"
اس نے کوفت سے گہرا سانس لیا۔۔
"ماں میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں آپ کو کہ میرے پاس فی الحال بازاروں کے چکر لگانے کا وقت نہیں ہے۔ آپ شزا کو لے جاٸیں اپنے ساتھ میرا اور اس کا ساٸیز بالکل ایک ہے۔ اور جوتا بھی اپنی پسند سے لے آٸیۓ گا۔ کیونکہ میرا اور ہم تینوں کے جوتے کا ساٸیز بھی ایک ہی ہے۔۔"
چٹکیوں میں مسٸلہ حل کیا تھا اس نے۔ رامین نے گہرا سانس لیا۔
"پھپھو آنے والی ہیں تمہاری۔۔ کچھ تو تیاری رکھو اپنی تم۔۔ لڑکیوں کو دیکھو سسرالیوں کے لیۓ کیا کیا جتن کرتی ہیں اور ایک تم ہو رابی۔۔"
اس کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔ کیا بحث پھر سے اسی طرف کو جارہی تھی جہاں اسے ہمیشہ سے تکلیف ہوتی تھی۔ ایک پل کو عابد نے بھی اسے چہرہ اٹھا کر دیکھا تھا۔۔
"میں۔۔ میں اور کیا تیاری کروں ماں۔۔؟ سب کچھ تو ہے میرے پاس۔۔"
"لیکن تمہارا یہ دوپٹہ۔۔ مجھے اس سے بہت الجھن ہوتی ہے۔ نماز قرآن تک تو سب ٹھیک ہے رابیل لیکن اس قدر شدت پسند ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟ پچھلے مہینے ہی تمہاری تصویر جب صاٸمہ آپی نے دیکھی تھی تو سب سے پہلے یہی پوچھا تھا کہ اس نے یہ دوپٹہ کیوں باندھ رکھا ہے سر پر۔۔ تب تو میں نے بات ٹال دی لیکن اب تم کیا کرو گی۔۔؟ اب کیسے جواب دو گی ان کے سوالوں کا۔۔؟"
صبح ہی صبح جانے کیوں اس کا دل ان باتوں سے عجیب ہونے لگا تھا۔ اس نے چند ہی مہینے پہلے انٹر کے امتحانات کے بعد کی چھٹیوں میں مدرسہ جانا شروع کیا تھا۔ تب وہ حجاب نہیں لیتی تھی مگر پچھلے مہینے سے وہ حجاب بھی لینے لگی تھی۔ اور اپنے گھر والوں کے ہر دفعہ کے ٹوکنے پر اب کے وہ انہیں جوابات دیتے دیتے تھکنے لگی تھی۔ اس نے انہیں بتا دیا تھا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔۔ بس۔۔ فل اسٹاپ۔۔ اس بات کے بعد بھلا کسی اور تاویل کی گنجاٸش رہ جاتی ہے۔۔؟ لیکن وہ تھے کہ سمجھتے ہی نہ تھے۔ اور کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کبھی نہیں سمجھتے۔۔
"ماں میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں آپ کو اور اب دوبارہ کہہ رہی ہوں کہ حجاب اب میرے ڈریس کوڈ کا حصہ ہے۔ میں نے اسے کسی بھی مقصد کے تحت لیا ہو لیکن اب میں اسے اپنے سر سے نہیں اتار سکتی۔ میں یہ نہیں کرسکتی ماں۔۔"
آخر میں جانے کیوں اس کی آواز لرز سی گٸ۔۔
"ہاں تو کیا ہوا اگر چھوڑ بھی دو۔ میں نے کتنی ہی لڑکیوں کو دیکھا ہے۔ وہ حجاب کیا نقاب تک لے کر دوبارہ سے اپنی نارمل روٹین پر آجاتی ہیں۔ ایک تم ہی اس قدر شدت پسند بنتی جارہی ہو۔۔"
ان کی بات پر اس کا دل کانپا۔ ایک دفعہ رب کا حکم اوڑھ لینے کے بعد کیا وہ اس کو اتار لینے پر قادر تھی۔؟ کیا وہ یہ کرسکتی تھی۔۔۔! کیا وہ لوگوں کی خوشی کی خاطر اللہ کو ناراض کرسکتی تھی۔ اس نے کمال ضبط سے روکے تھے اپنے آنسو۔۔
"ماں۔۔ میں نہیں جانتی کہ جو لڑکیاں حجاب لے کر چھوڑ دیتی ہیں وہ کیوں ایسا کرتی ہیں۔ شاید انہیں حجاب فیسینیٹ کرتا ہو یا کسی خاص وجہ کے تحت انہوں نے یہ خود پر اوڑھا ہو لیکن میں۔۔ ماں میں اسے صرف اللہ کے لیۓ اوڑھتی ہوں۔ اور میرے لیۓ اس وجہ سے بڑی اور کوٸ وجہ نہیں ہوسکتی۔۔"
"تو رابی تم کیوں اتنا ایکسٹریم پر جارہی ہو۔۔؟ کیا ہمارے خاندان میں کوٸ لیتا ہے یہ حجاب اور واٹ ایور۔۔ نہیں ناں۔ تمہیں بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلنا چاہیۓ نا کہ یوں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناٶ۔۔"
شزا کے اکتا کر کہنے پر اسے جانے کیوں بہت اندر تک تکلیف ہوٸ تھی۔ کتنی ہی بار پچھلے مہینے سے وہ اس موضوع پر ان کے ساتھ بحث کرچکی تھی۔۔ انہیں سمجھا چکی تھی۔۔ لیکن نہ جانے کیوں اس بحث کے آخر میں ہمیشہ اسکا دل زخمی ہو جایا کرتا تھا۔
"رابیل تم۔۔"
"تم جاٶ رابیل۔۔ دیر ہورہی ہے تمہیں۔۔"
عابد صاحب نے یکدم رامین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انہیں روکا اور اسے جانے کے لیۓ کہا۔ وہ بمشکل سراثبات میں ہلاتی پلٹی تھی۔ قدم لرز رہے تھے اور طلوع ہوٸ صبح اس کے آنسوٶں کی نمی سے بھیگنے لگی تھی۔ وہ کمزور نہیں تھی لیکن انہیں وضاحتیں دیتے دیتے اس کا وجود ہلکان ہونے لگا تھا۔ کچھ اس کی طبیعت حساس تھی اور کچھ اس کا مزاج بھی نازک تھا۔ ذرا سا کوٸ اس کے لباس پر کچھ کہہ جاتا تھا تو وہ بے چین ہوجاتی تھی۔ اور اب تو حال یہ تھا کہ اسے ہر وقت کے بحث و مباحثہ کا نشانہ بنایا جانے لگا تھا۔ وہ کیوں نہ اس رویے سے زخمی ہوتی۔۔
"کیا کرتی ہو تم۔ پتہ بھی ہے کہ کتنی حساس ہے وہ۔ چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر رو جاتی ہے پھر بھی ہر دفعہ کیا تمہارا اس بحث کو اٹھا لانا لازمی ہے۔۔!"
اس کے دور جاتے قدموں نے بھی عابد کے جملے کی بازگشت کو اس کی سماعت سے محفوظ نہیں رکھا تھا۔ لیکن ابھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کا مطلب تھا بہت سارا رونا۔۔ اور ان کے سامنے رو کر وہ کمزور ہرگز بھی نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔۔
"صاٸمہ آپی کی عادت کا پتہ نہیں ہے ابھی آپ کو عابد۔ انہیں اس طرح کی لڑکیاں بالکل نہیں پسند۔۔"
اس نے پتھریلی روش پر چل کر گیٹ عبور کیا اور گھر کا دروازہ پار کر کے باہر کی جانب بڑھ گٸ۔ صبح کی ٹھنڈی، خاموش سڑک پر اس کے بھیگتے رخسار چمک رہے تھے۔ اس نے اس بے داغ سے پانی کو بہنے دیا۔
کیا ہوا جو پھپھو کو ایسی لڑکیاں نہیں پسند تو۔ اس نے پھپھو سے تو شادی نہیں کرنی۔ اور جس سے کرنی ہے وہ ایک انتہاٸ سمجھدار اور اچھا سا انسان ہے۔ کھلے دل اور اچھی سوچ کا مالک۔۔ وہ اسے ضرورسمجھے گا۔ اس کی طے کردہ حدود کا احترام کرتے ہوۓ وہ ضرور اس سے اتفاق کرے گا۔ اور اگر اتفاق نہ بھی کرے تو وہ یوں اسے لوگوں کے درمیان رسوا نہیں کرے گا۔۔ ہاں وہ ایسا نہیں کرے گا۔۔
ٹھنڈی خاموش سڑک پر چلتے جانے کیوں اسکے دل کے بوجھ بے ساختہ ہی سرکنے لگے تھے۔۔
وہ ابھی ابھی مدرسہ سے آ کر صرف بیڈ پر بیٹھی ہی تھی کہ اسی پہر کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے چونک کر چہرہ اٹھایا۔
"رابیل۔۔ میں ہوں ارحم۔۔"
پرسوں ہی اقبال کی مہندی تھی اور مہمانوں کی آمد ان کے گھر شروع ہوچکی تھی۔ صرف ان کے ہی کیا ان کے عین سامنے بنے زاہد چچا کے بنگلے میں بھی خوب چہل پہل تھی۔ صاٸمہ پھپھو آج صبح ہی آٸ تھیں اور اس نے سلام دعا کے بعد مدرسے کی راہ لی تھی۔ اسی لیۓ اس کا صرف ان سے سامنہ ہی ہوا تھا۔ اور اب ارحم اسکے دروازے پر دستک دے کر اسے بلا رہا تھا۔۔
اس نے بے اختیار سنگھار آٸینے میں اپنا عکس دیکھا۔ کندھے سے قدرے نیچے کو گرتے اس کی آنکھوں کے ہم رنگ بال چہرے کے اطراف میں بکھرے تھے۔ ایک نظر اس نے بیڈ پر گرے دوپٹے پر ڈالی۔
ایک بار پھر دروازہ بجا تو اس کے خیالات کی بہتی رو ٹھہری۔ اس نے گہرا سانس لیا اور بیڈ پر بکھرا دوپٹہ اٹھایا۔ دروازے تک جاتے جاتے وہ اسے اپنے چہرے کے گرد لپیٹ چکی تھی۔ ایک بار پھر دستک ہوٸ تو اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے وہ کھڑا تھا۔
لاٸننگ والا کرتا زیب تن کۓ اپنے ازلی نرم سے انداز میں مسکراتا ہوا۔ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم۔۔!
"تم کیا کررہی ہو کمرے میں بیٹھ کر۔۔؟ ڈھولکی ہے چاچو کے گھر۔۔ تم نہیں چل رہیں۔۔؟"
اس نے بے اختیار تھوک نگلا۔ دل دھڑک رہا تھا اور ہونٹ آپس میں مس کرتے وہ عجیب سی ہچکچاہٹ کا شکار ہورہی تھی۔ ارحم نے اسے بغور دیکھا۔۔
"تم۔۔۔ نہیں چل رہیں۔۔؟"
"نہیں۔۔ وہ۔۔ ارحم آپ جاٸیں، میں۔۔ مجھے تھوڑا کام ہے۔۔۔"
"کیسا کام۔۔؟ "
"وہ۔۔ دراصل میں نے ابھی چند دن پہلے ہی ایک اسلامک انسٹٹیوٹ میں داخلہ لیا ہے۔ اب آپ تو جانتے ہیں وہاں کتنا کام ہوتا ہے۔ بس مجھے اساٸمنٹس بنا کر جمع کروانے ہیں اسی لیۓ نہیں جاسکتی ڈھولکی میں۔ آپ جاٸیے، ردا اور شزا دونوں جارہی ہیں۔۔ یقیناً آپ کو بور نہیں ہونے دیں گی۔۔"
ایک رسمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ کر اس نے بات ختم کی تھی۔ ارحم کے تاثرات یکدم عجیب سے رنگ میں ڈھلے۔
"تم جانتی ہو کہ تمہاری کمی کوٸ پوری نہیں کرسکتا۔۔"
رابیل کا دل یکدم زور سے دھڑکا۔ لیکن یہ سامنے والے کے رومانوی لہجے کے زیر اثر نہیں دھڑکا تھا۔ اس کا دل بے ساختہ خوف سے دھڑکا تھا۔ سٹڈی ٹیبل پر رکھی کتاب کی چند آیتیں لمحے بھر کو چمک کر ماند ہوٸ تھیں۔ اس نے دروازے کی چوکھٹ کو زور سے تھاما۔۔
"سوری ارحم میں نہیں آسکتی۔ آپ جاسکتے ہیں۔۔"
"لیکن۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ تم وہاں سے آ کر بھی بنا سکتی ہو اپنے اساٸنمنٹس۔۔"
واقعی۔۔ کیا وہ واقعی نہیں سمجھا تھا کہ وہ ڈھولکی میں کیوں نہیں جارہی۔۔؟ وہ سمجھا نہیں تھا یا پھر سمجھ کر بھی انجام بن رہا تھا اسے جواب دینے میں وقت لگا۔۔
"کام کچھ زیادہ ہے ارحم۔۔ میں سچ میں نہیں جاسکتی۔۔"
"تھوڑی دیر کے لیۓ بھی نہیں۔۔۔؟"
اس نے ایک پل کو رک کر اس قدر آس سے پوچھا کہ رابیل کو منع کرنا بہت ہی غیر مناسب لگا۔ کیا وہ چند پل کے لیۓ بھی نہیں جاسکتی۔۔ بس چند لمحوں کے لیۓ۔۔
اس نے لمحوں میں فیصلہ کر کے اثبات میں سر ہلایا تو ارحم کے چہرے پر جذبات کے رنگ ہی رنگ بکھر گۓ۔ وہ بے اختیار ذرا سا جھکا تو رابیل یکدم پیچھے کو ہٹی۔
"ارے ڈر کیوں رہی ہو تم۔ میں تو بس تمہیں قریب سے دیکھنا چاہ رہا تھا۔۔ دیٹس آل۔۔ اچھا اب جلدی سے آجاٶ میں ویٹ کررہا ہوں پھر ساتھ ہی چلیں گے۔۔"
ہنس کر بہت ہلکے پھلکے سے انداز میں کہا تو رابیل نے دھڑکتے دل کو بمشکل قابو کیا۔ اسے ارحم کا انداز بہت ناگوار گزرا تھا۔۔ بہت سے بھی زیادہ۔۔ جانے کیوں اس کے دل پر گرہیں لگنے لگیں۔ دروازہ بند کر کے بے دلی سے وارڈراب کی جانب بڑھتے اس کے اندر بیزاریت حد سے سوا ہونے لگی تھی۔۔۔۔
سیاہ اور سنہرے رنگ کا گھٹنوں سے نیچے کو لٹکتا فراک زیب تن کیۓ، سر پر سیاہ ہی حجاب اوڑھے وہ لاٶنج میں داخل ہوٸ تو وہاں صاٸمہ پھپھو اور رامین پہلے سے براجمان تھیں۔ اس نے ایک نظر پیچھے سے ان دونوں پر ڈالی۔۔ تیاری دیکھ کر لگتا تھا گویا بس ابھی وہ ڈھولکی کے لیۓ نکلنے ہی لگی ہوں لیکن کسی وجہ کے باعث انہیں رکنا پڑا ہو۔۔ اور پھر وجہ بھی اسے سامنے ہی نظر آگٸ۔
سامنے کے بڑے صوفے پر وہ بیٹھا تھا۔۔ لاپرواہی سے ٹھوڑی کھجاتا۔۔ انتہاٸ بیزار اور کوفت زدہ۔ وہ اس کے سوتیلے تایازاد کا بیٹا تھا۔۔ معاذ احمد۔۔ اس کے دادا نے دو شادیاں کی تھیں۔ بیک وقت دو شادیاں۔۔ پہلی بیوی سے بڑے تایا جان تھے جن کا اکلوتا سپوت ابھی لاٶنج میں بہت بیزاریت سے بیٹھا تھا اور دوسری بیوی سے صاٸمہ پھپھو کے بعد اس کے بابا عابد اور چچا زاہد جڑواں بھاٸ تھے۔
بڑے تایا جان کا ان سے رشتہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ دادی کے ساتھ شاٸستہ تاٸ کی پرانی چپقلش کے باعث وہ اپنے گھر سے دور ہوۓ تو پھر وہیں کے ہورہے۔ نہ ان کا یہاں پر زیادہ آنا جانا تھا اور نہ ہی بابا اور چچا ان کی جانب جانا پسند کرتے تھے۔ درمیان میں کوٸ ایسی خاص بات نہیں تھی لیکن دونوں جانب کی غیر دلچسپی کے باعث ان کے مراسم زیادہ نہ بڑھ سکے۔
رہا معاذ تو وہ ان کے یہاں بہت کم آتا جاتا تھا۔۔ اس کا رابطہ ان کے گھرانے سے نہ ہونے کے برابر تھا۔۔ اور کچھ اس کا اپنا مزاج بھی کھنچا کھنچا اور روکھا سا تھا کہ وہ ہر کسی کے ساتھ گھلتا ملتا نہیں تھا نہ ہی اسے لوگوں سے لمبی لمبی باتیں کرنے میں دلچسپی تھی۔ رابیل نے اسے ہمیشہ بہت کم بولتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔ زیادہ تر وہ خاموش ہی رہتا۔ کوٸ اس سے کچھ پوچھ لیتا تو وہ ان کی بات تحمل سے سن کر انہیں مختصر ترین جواب دیا کرتا تھا۔۔ آگے والا مزید سننا بھی چاہتا تب بھی وہ اپنا منہ دوبارہ نہیں کھولتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عابد اور زاہد دونوں میں سے کسی نے اس کے ساتھ روابط رکھنے میں دلچسپی نہیں لی تھی۔ وہ شروع ہی سے اپنے والدین کے ساتھ دور رہا تھا اور اب بھی وہ اسی روایت کو برقرار رکھے ہوۓ تھا۔ اسے ان سے مراسم بڑھانے کا کوٸ شوق نہیں تھا۔
اس نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور پھر سلام کرتی آگے بڑھ آٸ۔ سب کی گردنیں یکبارگی گھومی تھیں۔۔ بیزار سے معاذ نے بھی ایک پل کو سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ اور پھر لمحے بھر کے لیۓ وہ حیران رہ گیا۔۔ پھپھو تو اسے دیکھتے ہی نہال ہوگٸ تھیں۔ اٹھ کر اسے گلے سے لگایا اور پھر الگ ہوتے ہوۓ ماتھے پر پیار بھی کیا۔ وہ خواہ مخواہ اس والہانہ پن پر مسکرانے لگی۔ البتہ اس نے معاذ کا حیران ہونا محسوس کرلیا تھا۔
"کیسا ہے میرا بچہ۔۔۔؟ صبح سے ویٹ کررہی ہوں تمہارا۔ کہاں تھیں تم۔۔؟ کہاں بزی ہو آج کل۔۔؟؟"
"بس آپی اب کیا بتاٶں آپ کو۔ سارا سارا دن اپنے کمرے میں پتہ نہیں کونسی کتابیں پڑھ رہی ہوتی ہے یہ محترمہ۔۔ بلاٶ تب جا کر کہیں باہر نکلتی ہے اپنے کمرے سے۔۔"
"کیوں بھٸ۔۔ اتنا پڑھنے کی بھی کیا ضرورت ہے تمہیں اب۔۔؟"
وہ اسے ساتھ لپٹاۓ ہی صوفے پر بیٹھیں تو اس نے ایک پل کو مسکرا کر انہیں دیکھا۔۔
"پھپھو دراصل میں نے مدرسہ جواٸن کیا ہے۔"
"کیا جواٸن کیا ہے۔۔۔؟"
صاٸمہ کو لگا جیسے انہوں نے کچھ غلط سن لیا ہو۔
"مدرسہ پھپھو۔۔"
اس کے گال بے ساختہ گلابی ہوۓ تھے۔ کن انکھیوں سے اس نے معاذ کا چہرہ بھی دیکھا۔ وہ پہلو بدل رہا تھا۔۔ جانے کیوں۔۔
"مدرسہ جواٸن کرنے کی کیا ضرورت تھی بھلا تمہیں۔۔؟؟ اتنے کام ہیں کرنے کو دنیا میں اور تم اپنا ٹاٸم یہاں ضاٸع کررہی ہو۔ کوٸ کورس کیوں نہیں کرلیتیں۔۔؟ کسی انسٹرومینٹ کو بجانا سیکھو، کوٸ اور تخلیقی کام کرو۔۔ یہ تم کیا کرنے لگی ہو۔۔!"
انہیں ایک آنکھ نہیں بھایا تھا اس کا مدرسہ جانا۔ اس نے بمشکل حلق سے تھوک نگلا۔۔ سینہ تنگ ہونے لگا تھا۔۔ کیا اب انہیں بھی وضاحتیں دینی پڑینگی۔ یااللہ نہیں۔۔ وہ پہلے ہی ہلکان ہوچکی تھی ان سب کو سمجھاتے سمجھاتے۔۔
"پھپھو دراصل وہاں کا ماحول بہت اچھا ہے۔ ٹیچرز بھی بہت اچھے ہیں اور وہ لوگ قرآن بھی بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ بس اسی لیۓ جواٸن کیا میں نے بھی۔۔ اب وہیں مصروف رہتی ہوں۔۔"
"مصروف رہتی ہو یا پھر خود سے لاپرواہی برتتی ہو۔ اسکن کو دیکھو کس قدر خراب ہونے لگی ہے تمہاری۔ تم لڑکی ہو رابیل۔۔ اگر تم نے اپنا مکمل طور پر خیال نہیں رکھا تو وہ دن دور نہیں جب تم عین جوانی کے وقت میں بوڑھی نظر آنے لگو۔۔ ردا اور شزا بھی تو ہیں۔ چھوٹی ہیں تم سے، لیکن سیلف کیٸر کی وجہ سے کتنی کھلی کھلی سی لگتی ہیں۔ کچھ ان سے ہی اپنی پرواہ کرنا سیکھ لو۔۔"
اس کے گال ایک بار پھر سے گلابی ہوۓ تھے۔ دل کیا بس ابھی بھاگ جاۓ یہاں سے اٹھ کر۔ ہر کوٸ آخر ایک ہی بات کیوں کررہا تھا۔۔
"پھپھو میں رکھتی ہوں اپنا خیال۔۔"
اس کی منمناہٹ کسی نے سنی ہو یا نہ سنی ہو معاذ نے ضرور سن لی تھی۔ جبھی وہ دونوں ہاتھ باہم ملاتا آگے کو جھک کر بیٹھا۔ اب کے اس کا چہرہ واضح ہوا۔ سرمٸ آنکھوں کے کانچ بے حد پرکشش تھے۔ کھڑے نقوش اور آخری حد تک بیزار مزاج۔۔ بلاشبہ وہ بہت وجیہہ تھا۔ ارحم سے کہیں زیادہ وجیہہ اور ہینڈسم۔۔
"ارحم کی انٹرنشپ مکمل ہوگٸ پھپھو۔۔؟"
اس نے یکدم سوال کیا تو رابیل سمیت دونوں خواتین نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا۔ اچھا تو اسے بولنا آتا تھا۔
"جی بیٹا بس اب ہوچکی ہے مکمل، حال ہی میں اپنے پاپا کے ساتھ آفس جواٸن کیا ہے اس نے۔۔"
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر پے در پے پھپھو سے ارحم کے متعلق باتیں کرنے لگا، اس کے بزنس کے متعلق، اس کی عادت و اطوار کے متعلق۔۔ رابیل نے ایک پل کو حیران ہو کر پھپھو کی جانب دیکھا تھا جو کہ اب بالکل بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھیں۔ تو کیا معاذ نے اسے پھپھو کے سوالوں سے بچانے کے لیۓ بات کا آغاز کیا تھا۔۔ نہیں تو وہ، وہ تھا کہ ٹھیک سے کسی کو جواب بھی نہیں دیا کرتا تھا۔
اس نے ایک بار پھر نگاہ ان سب پر ڈالی اور غیر محسوس طریقے سے لاٶنج سے اٹھ آٸ۔ اب اسے ڈھولکی میں جانا تھا۔۔ خدایا۔ اس کا دل ہر شے سے اوبنے لگا تھا۔
