*چھٹا پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں۔
۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ۔
۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ۔
١۔(پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں درج ذیل باتیں ہیں
1-آیت نمبر 148 & 149 : لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الۡجَــهۡرَ۔۔۔کسی میں کوئی برائی دیکھو تو چرچا نہ کرو بلکہ تنہائی میں سمجھاؤ
جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔صحیح مسلم۔
مظلوم اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بتا سکتا ہے۔ساتھ ہی معاف کرنے کی تعلیم بھی دی گئی ہے ۔
2-آیت نمبر 152: تمام انبیاء پر ایمان لا نا ضروری ہے۔
واحدتِ ادیان صرف اُس وقت ہو سکتا ہے۔جب محمد ﷺ کو آخری نبی اور اُن کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا جائے۔
3۔آیت نمبر 155 & 156: یہود کی مذمت
انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی اور انکو زندہ آسمانوں پر اٹھایا
اور حضرت مریمؑ پر بہتان لگایا۔
4۔ آیت نمبر 159:
حضرت عیسیٰؑ کی وفات۔۔۔!
حضرت عیسیٰ ؑ محمد ﷺ کے امتی کی حیثیت سے دوبارہ دنیا میں آئیں گے طبعی موت فوت ہوں گےپھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جائیں گےبہت سے اہلِ کتاب اس وقت اسلام قبول کر لیں گے۔
5-آیت نمبر 164:
رسولوں کا ذکر۔
رسولوں کی تعداد کم وبیش 315 تک ہے ۔قرآنِ مجید میں 25 رسولوں کے نام پتے ملتے ہیں۔محمد ﷺ تک بے شمار نبی آئے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا۔
6۔ آیت نمبر 171: غلو نہ کرو
غلو کیا ہوتا ہے؟ کسی چیز کی تائید اور حمایت میں حد سے گزر جانا۔جیسے کسی انسان کو اللہ کے برابر یا اُس کے جیسی صفات کا مالک جاننا۔
جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکارہو کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔
7-آیت نمبر 172:
اللہ کی عبادت میں تکبر /عار محسوس نہ کرے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان والے ،عاجزی کرنے والے نرم ہوتے ہیں اُس مانوس اونٹ کی طرح اگر اُس کو چلایا جائے یا ہانکا جائے تو وہ چلتا ہےاور اگر چٹان پر بٹھا دیں تو بیٹھ جاتا ہے۔
*دین کا کوئی کام کرتے ہوئے عارمحسوس نہ کرنا۔جیسے دین پر تنہا عمل کرنا ، عار سمجھا جاتا ہے کوئی بھی تو نہیں کر رہا۔
8۔آیت نمبر 176:
بقیہ میراث کا ذکر
(دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں۔
(یا ایھاالذین امنو )یہ وہ سورت ہے جس میں سب سے زیادہ ایمان والوں کو پکارا گیا ہے (۱۶ دفعہ)
1-آیت نمبر 1:
وعدوں کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
عہد کو توڑنا منافقین کی نشانی ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو قوم عہد شکنی کرتی ہے اُس میں قتل و غارت پھیل جا تا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت نہیں۔اور اُس کا دین نہیں جس میں عہد کی پابندی نہیں۔
2۔آیت نمبر 2& 58: دین ِ کے شعار کا مذاق اڑانا بہت گناہ کا کام ہے ،
شعائر اللہ ، ہر وہ چیز جسے دیکھ کے اللہ کی یا د آئے، جیسے اذان ، مسجد بیت اللہ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو موذن کہتا ہے۔
نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے اور گناہوں کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم دیا جا رہاہے۔
3۔ آیت نمبر 3:
دین کی تکمیل اللہ کا احسان ہے۔
4۔آیت نمبر 6:
وضو کا طریقہ بتا یا گیا ہے۔نماز کے وقت وضو کر لیں ، پانی نہ ملے تو تیمم کرلیں۔وضو کے ذریعے اللہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔قیامت کے دن وضو کے اعضا چمک رہیں ہو ں گے۔ نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو اِ ن اعضا کے چمکنے کی وجہ سے پہچانیں گے۔
5-آیت نمبر 18:
اللہ کی محبت محض تمنا کرنے سے نہیں بلکہ اُن کاموں کے کرنے سے ملتی ہےجسے وہ پسند کرتا ہے۔
6-آیت نمبر 35: الوسیلہ ۔۔۔نماز اور قرآن سے تعلق اللہ سے قرب کا ذریعہ ہے۔اور جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
-آیت نمبر 43 & 42: حرام کھانےکی ممانعت
نبی ﷺ نے فرمایا وہ گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہو گاجو حرام اور شہوت خوری پر پلا بڑھا وہ جہنم کا زیادہ مستحق ہے۔
حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو)(اور وہ مال جو ناحق طریقے سے کمایا)
8-آیت نمبر 45: معاف کرنا قصاص سے بہتر ہے
جو بندہ کسی کے ظلم کو معاف کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی عزت بڑھا دے گا۔
9-آیت نمبر 47:
اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرنےوالے کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔جو لوگ
کتا ب اللہ کے مخالف فیصلہ کرتےہیں اُن میں فقر وفاقہ پھیل جاتا ہے۔اور جس قوم کے امام کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔
10-آیت نمبر 50: اسلام یا جاہلیت
اسلام سے ہٹ کر جو بھی طریقہ ہے وہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ہر کام اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کے طریقوں کے مطابق کرنا چاہیے۔
11-آیت نمبر51& 57: یہود و نصریٰ اور باقی کفار سے دوستی کی ممانعت ۔۔۔جو اُن کو دوست بنائے وہی ظالم ہے۔
12-آیت نمبر 54: اگر مسلمان اپنے دین سے پھر جائیں تو اللہ کیسے لوگ لائے گا۔
وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے، مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت،جہاد کرنے والے،بلا خوف و جھجک دین پر سختی سے عمل کرنے والے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ مال سب کودیتا ہے لیکن ایمان اُس کو دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے۔
13-آیت نمبر 64:
یہودیوں کا اللہ پر بہتان.
14-آیت نمبر 74:
نبی ﷺ نے فرمایا
استغفار کرو کیونکہ ندامت اور استغفار ہی گناہ سے توبہ ہے۔
15-آیت نمبر 75:
اس میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرتِ مریم ؑ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
*(چھٹے پارے کا خلاصہ مکمل ہوا)*
Tags
Summary Quran
