*ساتواں پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
سورۂ مائدہ (سورة نمبر5)کا بقیہ حصہ۔
سورۂ انعام (سورة نمبر6)ابتدائی حصہ۔
(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں درج ذیل باتیں ہیں:
*آیت نمبر 83: نجاشی اور اُس کے ساتھیوں کی تعریف
انہوں نے جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے قرآن سنا تو اُن کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
*آیت نمبر 85: ہانی بن یزید نے رسول اللہ ﷺ سے پو چھا کہ کون سی چیز جنت کو واجب کرتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عمدہ کلام اور کھانے کھلانے کو لازم پکڑ لو۔
*آیت نمبر 89: قسم کھانے کا تذکرہ
لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہےجھوٹی قسم قابلِ مؤاخذہ ہے ، اس کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
* آیت نمبر 90& 91: شراب اور جواکی حرمت
شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔ (رجس من عمل الشیطن)یہ سارے شیطانی کام ہے۔نماز اور اللہ کے ذکر سے روکنےوالے ہیں ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا شراب برائیوں کی جڑ ہے جس نے شراب پی اُس کی چالیس دن عبادت قبول نہیں ہوتی (مفہومِ حدیث)۔
شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔
*آیت نمبر 95: حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔
حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے
چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔
آیت نمبر 100: پاک اور ناپاک ،حلال اور حرام برابر نہیں چاہے ناپاک اور حرام کی کثرت بھلی لگتی ہو ۔
اس کے لیے ایک دعا بھی سکھائی گئی ہے
اللّٰہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک
آیت نمبر 101: غیر ضروری سوالات سے ممانعت۔
آیت نمبر 104: باپ دادا کی اندھی تقلید کی بجائے قرآن و سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔
*سورۃ مائدہ کی آخری آیات میں قیامت کا تذکرہ اور حضرت عیسیٰؑ سے سوالات و جوابات۔
قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری ہی عبادت کرنے کا کہا تھا الی آخرہ۔
(دوسرا حصہ) سورۂ انعام کے ابتدائی حصہ میں درج ذیل باتیں ہیں:
۔توحید
۔رسالت
۔ آخرت/قیامت
۔کا ئنات کی نشانیو ں پر غوروفکر کی دعوت
*آیت نمبر 1: سورۃ کا آغاز الحمد سے ہے ، الحمد لللہ کہنا زمین اور آسمان کو نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔
*آیت نمبر17: کوئی بھی تکلیف ،غم پریشانی ہو تو ہر حال میں ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے،کیونکہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔مشکلات کا حل استغفار میں ہے۔
*صحابہ کرامؓ کیا کیا کرتے تھے؟ صحابہؓ کا عمل یہ تھا کہ اگر انہیں جوتے کا تسمہ بھی چاہیے ہوتا تھا تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے.
*آیت نمبر 42: تکلیف انسان کو جنجھوڑنے کے لئے ہے تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کے آگ جھک جائے ۔
*آیت نمبر 44: نعمتوں کی کثر ت اور قلت دونوں ہی آزمائش ہیں
*آیت نمبر50 & 59: انبیاء کے پاس غیب کا علم نہیں ہوتا ۔ ان کے پاس صرف وہی علم ہے جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے۔غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے، وہی سب کچھ جانتا ہے۔
*غیب کی کنجیاں اُ سی کے پاس ہیں ۔اُس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو تا ،پتا بھی گرتا ہے تو اُس کے علم میں ہو تا ہے ۔ اس لئے ہر حال میں صرف اللہ سے مانگنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑی حیا والا ہے اسکو اس بات سے شرم آتی ہےکہ کوئی بندہ اس کے آگے ہاتھ پھیلائے اور اللہ اس کو خالی ہاتھ لٹا دے۔
*آیت نمبر 68: اللہ کی آیات میں بحث/اعتراض کرنے والی مجلسوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
رسالت:
*سورۃ انعام کے دسویں رکوع میں نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۴)حضرت نوح علیہ السلام ، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۸)حضرت لوط علیہ السلام۔
قیامت/آخرت:
* قیامت کے روز اللہ تعالٰی تمام انسانوں کو جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)
* روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)
*روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)
* اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب العزت کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)
*آخرت کا انکار کرنے والے خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ (آیت : ۳۱)
* دنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے ، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔ (آیت:۳۲).
ساتویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا*
Tags
Summary Quran
