*آٹھواں پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں دوحصے ہیں۔
سورة انعام کابقیہ حصہ۔
سورة اعراف کاابتداٸی حصہ۔
(پہلا حصہ) سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں درج باتیں ہیں:
تسلی رسول:
آیت 111:
اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اگر ہم فرشتے ان کے پاس بھیج دیں یا اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔
آیت 116: تعداد کا زیادہ ہونا حق کی دلیل نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک جنتی ہو گا اور باقی سب جہنمی ، جنتی فرقے کی نشانی آپ ﷺ نے بیان فرمائی "میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والاہو گا۔
آیت 118 & 119: جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لےکر زبح کیا جائے وہ کھا لو(بشرط کہ وہ جانور حلال ہو ) ۔ مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام جانور بھی کھایا جا سکتا ہے۔
آیت125: ہدایت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
آیت 126& 127& 128& 132: جنت دارالسلام جہاں سب رنج وغم اور تکالیف دور کر دی جائیں گی ، شیطان کی پیروی کرنے والوں کے لئے جہنم کا وعدہ ،ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا، سزا اور درجات ملیں گے۔اللہ کے نبی نے ایک لکیر کھنیچی اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے اور پھر اسکے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچی اور فرمایا کہ یہ مختلف راستے ہیں جن پر شیطان بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے۔
آیت 133: اللہ کی مہربانی
وہ ہمارے گناہوں پر فوری پکڑ نہیں کرتا، اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا
مشرکین کی چار حماقتیں:
یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:136)
فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:137)
چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:138)
چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:139)
دس وصیتیں:
آیت نمبر 151-153:
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے
ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائےاولاد کو قتل نہ کیا جائےبرائیوں سے اجتناب کیا جائے
ناحق قتل نہ کیا جائےیتیموں کا مال نہ کھایا جائےناپ تول پورا کیا جائے بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ چاہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔اللہ کا عہد وعدہ الست یعنی (عقیدہ توحید) دین ِ اسلام ہی صراطِ مستقیم ہے اسکی اتباع کی جائے۔
آیت 158: موت سے قبل توبہ کر لینی چاہیے موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔
آیت 160: نیکی اور برائی
ایک نیکی اجر دس گناہ، اورصرف نیت پر بھی اجرایک بُرائی اور اتنا ہی بدلہ اور توبہ کر لے تو برائی مٹا دی جائے گی۔
آیت 162: عبادت
مسلمان کا ہر کام سونا جاگنا ، کھانا کھانا،جینا ، مرنا، نماز ، قربانی ، معاملات ، حقوق العباد تجارت سے لیکر حکومتی معاملا ت چلانے تک سب عبادت ہے۔شرط یہ ہےکہ اللہ کی رضا اور محمدﷺ کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
آیت 164: دوسروں کے کہنے پہ گناہ نہ کرے آخرت میں کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بو جھ نہیں اٹھائے گا۔
(دوسرا حصہ)
سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں:
آیت 8:
میزان برحق ہے۔قیامت کے دن اعمال تولیں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:
(۱)قرآن کریم (۲)تمکین فی الارض (۳)انسانوں کی تخلیق (۴)انسان کو مسجود ملائکہ بنایا۔
چار ندائیں:
آیت 26& 27& 31&35
صرف اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ يَا بَنِي آدَمَ کہہ کر پکارا ہے۔ پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کی دو قسموں کو ابھی تک نہیں دیکھا۔اُن میں سے ایک وہ عورتیں جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی ،مائل ہونے والی اور دوسروں کو مائل کرنے والی، (مفہومِ حدیث)۔
اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو االلہ تعالیٰ نے نہیں کہا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔ چوتھی ندا میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کی ترغیب دی ہے
آیت 33: اللہ تعالیٰ نےفحاشی کے کاموں کو حرام کیا ہے،
مومن فحش گو ، طعنہ دینے والا ، لعنتیں اور گالی گلوچ کرنے والا نہیں ہو تا۔
آیت 44& 50:
جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ
جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے، مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔
ابنِ عباد سےپوچھا گیا کون سے اعمال افضل ہیں انہوں نے کہا پانی پلانا،کیا آپ نے جہنمیوں کو نہیں دیکھا کہ وہ اہلِ جنت سے فریاد کریں گے اورکہیں گے کہ ہم پر پانی ڈال دو ۔
آیت 55: دعا کا طریقہ
اکیلے میں ، ذلت و عاجزی اور اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اپنے رب سے معافی مانگیں۔
آیت 46: جنت اور دوزخ کے درمیان کچھ لوگ اعراف پر ہوگے۔
پانچ قوموں کے قصے(آیت 59، 73،65، 80، 85)
قوم نوح ،قوم عاد،قوم ثمود،قوم لوط ،قوم شعیب
ان قصوں کی حکمتیں: (۱)تسلی رسول (۲)اچھوں اور بروں کے انجام بتانا (۳)اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں (۴)رسالت کی دلیل کہ امی ہونے کے باوجود پچھلی قوموں کے قصے
بتا رہے ہیں (۵)انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت.
آٹھویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
