*نواں پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ
۔ سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ۔
سورۂ اعراف کے بقیہ حصے میں درج ذیل باتیں ہیں:
اس سپارے کا آغاز حضرت شعیب کی قوم سے ہے ۔جن پر زلزلے کا عذاب نازل کیا گیا۔حضرت شعیب کی قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی۔
آیت 94،95:
اللہ تعالیٰ نے ہر بستی میں کوئی نہ کوئی نبی بھیجا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور وہ قوم جس بُرائی میں مبتلا ہے اِس سے باز آجائے۔ خوشحالی اور بدحالی دونوں انسان کے لئے آزمائش ہیں۔
آیت 96:
اللہ کی رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے والی دو چیزیں ایمان اور تقویٰ ہیں۔
آیت 101:
معجزات دیکھ لینے کے بعد بھی جو قوم ایمان نہیں لاتی اُن کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے اور اللہ کا عذاب نازل ہو تا ہے۔
آیت 103-162:
حضرت موسیٰ ؑ، معجزات، فرعون ، جادوگر ، قومِ فرعون پر چھوٹے عذابوں (طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون کا عذاب( آیت 133)پر بھی ایمان نہ لانے کے بعد انہیں دریا میں غرق کر دیا گیا،
بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتوں اور اُن کی جہالت کا تفصیلی قصہ موجو د ہے۔
آیت 118&122:
جس پر جادو ہو اُس پر یہ آیا ت پڑھ کر دم کی جاسکتی ہیں۔
آیت 142:
موسیٰ ؑ کو کوہِ طور پر بلائے جانے کا ذکر۔
آیت 158:
رسول اللہ نے فرمایا پہلے انبیا خاص اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے لیکن مجھے تمام انسانوں کی ہدائیت کے لئے بھیجا گیا۔
#رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اُس کی ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اس اُمت کا کوئی بھی یہودی یا عیسائی جو میرے بارے میں سنے پھر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں وہ اُ س پر ایمان نہ لائے تو اُس کا ٹھکانا جہنم والوں میں سے ہو گا۔
آیت 163:
اُس قوم کا ذکر ہے جن کی ہفتے کے دن مچھلیاں نہ پکڑنے کا حکم دے کر آزمائش کی گئی۔
آیت 170:
نماز پڑھنے والوں اور قرآن پر عمل کرنے والوں کے اجر اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔
آیت172:
عہد الست کا ذکرہے۔سب روحوں سے اللہ کے رب ہونے کا اقرار لیا گیا تھا،کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟سب نے جواب دیا کیوں نہیں (آپ ہی ہمارے رب ہیں)۔
آیت179:
بہت سے جن اور انسان جہنم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ،جو دل ، کانوں اور آنکھوں سے کام لیتے ہوئے حق ( اللہ اور رسولﷺ) کو نہیں پہنچانتے
آیت 180:
اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں
حدیث میں ہے اللہ کے 99 نام ہیں جو ان کو یا د کرے وہ جنت میں داخل ہو گا
جو کوئی اللہ کے ناموں کے ساتھ دعا مانگے اُس کی دعا قبول ہوگی
آیت 187:
قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔
آیت 189: عورت کو مرد کے اطمینان اور سکون کے لئے پید ا کیا گیا۔
آیت 190-198: شرک کا بیان اور اللہ کے علاوہ کسی سے مانگنے کی ممانعت ، بلکہ جس سے مانگا جاتا ہے وہ بھی اللہ کے محتاج ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑا گنا ہے کسی کو اللہ کے برابر ٹھہرانا ہے۔
آیت 199: تین حکم (درگزر کرنا ، نیکی کا حکم دینا، جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا)
آیت 200: شیطان کوئی وسوسہ ڈالے یا کوئی بُرائی کاخیال دل میں آئے تو فورا (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم)پڑھنا چاہیے۔
آیت 204: جو اللہ کی رحمت چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ قرآن خاموشی سے سنے اور اس پر غور کرے۔
آیت 205: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا مانگا کروبے شک اللہ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا(مفہوم)
آیت 206: آیتِ سجدہ ہے(سجدہ تلاوت سنت ہے)
سجدہ تلاوت کی دعا
سجد وجھی للذی خلقہ، وشق سمعہ وبصرہ بحولہ وقوتہ، فتبارک اللہ احسن الخالقین
سورۂ انفال کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں:
غزوہ بدر اور مال غنیمت کا حکم۔
آیت 2-3: مومنین کی پانچ صفات یہ ہیں: (خشیت ،تلاوت ،توکل ،نماز، سخاوت )۔
آیت 28: مال اور اولاد اللہ کی اطاعت میں لگائیں تو نعمت اور اگر اُس کی یا د سے غافل کر دیں تو فتنہ ہے
آیت 33: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان جب تک اللہ سے استغفار کرتا ہے اُس وقت تک اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے
۔ چھ بار مومنین سے خطاب
آیت ۱۴ : اے ایمان والو! میدان جنگ میں کفار کے مقابلے سے پیٹھ نہ پھیرنا
آیت۲۰ : اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو
آیت۲۴ : اے ایمان والو! اللہ اور رسول جب کسی کام کے لیے بلائیں تو ان کا حکم قبول کرو
آیت۲۷ : اے ایمان والو! نہ اللہ اور رسول سے خیانت کرو نہ اپنی امانتوں میں
آیت۲۹ : اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھیں ممتاز کردے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا.
آیت۴۵ : اے ایمان والو! دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو۔
*نویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا*
Tags
Summary Quran
