Parents behavior towards kids


*والدین کا نامناسب رویہ*
*تحکمانہ اور آمرانہ رویہ اور بچوں کا ردعمل( بچوں کا دبنا ، یا بغاوت )*

*شاباشی نہ دینا ، انعام نہیں دیتے غلط ہے*

*حوصلہ افزائی کرنا۔ یہ فائدہ مند ہوگا۔*

*ماضی کی غلطیوں کو بچوں کے سامنے دہرانا ۔*
*والدین اور بچوں میں فاصلہ اور دوری۔ ہچکچاہٹ، باتیں نہ شئیر کرنا۔ عدم تعلق ۔۔۔۔۔ یہ سب ختم کرنا*

*بچوں کے ساتھ تعلق بنانا ، خاص کر والد کو تعلق بنانا ہے ۔ دوستانہ رویہ ہو مگر مقام اور مرتبہ کا خیال رکھا جاۓ۔*

نصیحت قبول کرنے میں بھی بچے رویے
قبول کرتے ہیں یا نفسیاتی دباؤ اور کشمکش کا شکار ہوتے ہیں۔

روکنے پر غصے میں آکر چیزیں پھینکنا، دروازہ بند کرنا ، اسے کیسے ختم کیا جاۓ۔۔۔۔ اس وقت والدین تحمل سے کام لیں، دھیمے لہجے کو اپنائیں۔ صبر کریں۔ اگنور کریں۔ اور بعد میں نارمل رویے سے روزمرہ کے کام کیجیے۔ جب بچے کا موڈ خوشگوار ہو تو پھر اس موضوع پر بات کی جاۓ ۔

ماں باپ کے غصے کے قابو پانے سے بچہ بھی یہی سیکھے گا۔

مار پیٹ کرنے والے بچہ ہے تو اسباب تلاش کیجیے۔ گھر کا ماحول ، ٹی وی، باہر کا ماحول چیک کیجیے۔ ایسے وقت میں حکمت سے کام لیجیے۔ مارنے والے اور مار کھانے والے دونوں بچوں سے مناسب انداز میں بات ہو۔ اور جس نے مارا ہو اس سے کسی اور مناسب وقت میں اس پر بات کی جاۓ۔

ضدی بچے۔ ممنوعات کا دائرہ کم کریں۔ ناگزیر وجوہات یا شرعی وجوہات پر اصولی سطح پر منع ہو۔

بچے کو اپنی اصلاح کی بھی فکر ہو۔ تنہائی میں بچوں سے بات ہو۔ دینی تنظیم سے وابستہ کیجیے۔ اس کا ماحول اچھا کیجیے۔

غصے کی وجوہات تلاش کیجیے۔ بھوک لگنا ، نیند کی کمی ، بچے کے احساسات کا نا سمجھنا ۔ اس کی نا کہی بات کو سمجھنا

ماں کو پتا ہونا چاہئیے کہ بچہ کیوں غصے میں ہے۔

روک ٹوک نہ کیجیے۔ وجہ بیان کی جاۓ ۔

موبائل کا استعمال والدین کم کیجیے۔ بچہ آپ سے سیکھے گا۔ والد سارے بچوں کے لنک اپنے پاس رکھیں اور چیک کریں۔

بچے کو دوسرے امور میں اتنا مصروف رکھیں کہ وہ اسکرین سے دور رہے۔

مغرب کے بعد موبائل کے استعمال پر پابندی ہو۔

والدین گھر میں ضروری کال لینڈ لائن سے کریں۔

نیٹ پر بچے بہت سی ممنوعہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں ۔ اس لیے چیک رکھیے اور اس کی شرعی دلیل بھی ہے۔ قوال اور حاکم کو اپنا حق استعمال کرنا چاہئیے۔ یہ پابندی عائد ہونی چاہئیے۔

گھر سے باہر وقت گزارتے ہین، گھر میں ایسا ماحول اور کام ہوں کہ اس کا دل گھر میں لگے۔ مکالمہ ہو ، دلچسپی گھر میں ہو۔

پڑھائی میں دل نہیں لگتا تو رجحان معلوم کیا جاۓ اور اس کی تعلیم دلوائی جاۓ۔ پڑھائی کمانے کے لیے ضروری نہیں۔

والدین حدف رکھتے ہیں کہ یہ بنے گا ، یہ ڈگری لے گا۔ یہ نہ کیجیے۔ بچہ نفسیاتی دباؤ میں آتا ہے۔ وہ جو کام جا حد تک کرے اسے قبول کیجیے۔ حدف ہو خود اپنا سیٹ کرے ۔۔۔ نہ کہ والدین ۔۔۔ انا کا مسئلہ نہ بنائیے۔

بچہ بھوکا ہوتا ہے ہمدردی، توجہ اور محبت کا۔

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form