*☝️اس پوسٹ پر غور کریں یہ ایک موضوع مَن گھڑت
اور باطل روایت ہے جسے لوگ قصداً شئیر Share کرنے پر گُناہ کبیرہ کا مُرتکب ہو رہیں ہیں*۔
پوسٹ میں مذکورہ طریقے سے چار رکعات نماز پڑھنے سے قضا نمازیں بالکل بھی ادا نہیں ہوتیں۔ بلکہ قضا نمازوں سے بری الذمہ ہونے کے لیے ان کی ادائیگی کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔
یہ ایک من گھڑت روایت ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا کہ یہ حدیث ہے، بہت بڑا گُناہ ہے۔
چنانچہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
*مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ*۔
جس نے قصداً ہماری جانب جھوٹی بات منسوب کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
(📚صحیح بخاری)
محدِّث کبیر ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ *موضوعات الکبری* میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت *یقینی طور پر مَن گھڑت اور باطل ہے* کیونکہ یہ مَن گھڑت روایت اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی شے سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔
*🔹 البتہ قضا نمازوں کے ادا کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے*۔👇
کہ اگر کسی شخص کے ذمہ بہت سی قضاء نمازیں ہوں اور اس کو اپنی فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو ایسے شخص کو چاہیے کہ بلوغت کے بعد سے اب تک کی فوت شدہ نمازوں کی محتاط اندازہ کےمطابق تعداد مقرر کر لے اور اس میں فرضوں کے ساتھ وتر بھی شامل کرے، سنتوں کی قضا نہیں.
پھر غالب گمان کے مطابق نماز کی جو بھی تعداد طے ہو جائے تو یہ تعداد کسی کاپی میں لکھ لے اور روزانہ ادا شدہ نمازیں کاپی میں سے کم کرتا جائے، یہاں تک کہ وہ تعداد پوری ہو جائے ، نیز اس کے ساتھ اپنے ورثاء کو بھی وصیت کر دے کہ اگر اسی دوران میرا انتقال ہو جائے تو ورثاء اس کاپی کے مطابق تہائی مال کی حد تک بقیہ نمازوں کا فدیہ ادا کر دیں۔
*قضاء نمازوں کی ادائیگی کی آسان صورت یہ ہے کہ*
ہر وقتی نماز کے ساتھ اس وقت کی کچھ قضاء نمازیں ادا کر لی جائیں۔ خواہ پہلے ہو یا بعد میں البتہ نماز مغرب کے بعد قضا بہتر ہے پہلے نہیں نیز قضاء نمازوں میں صرف فرائض کی ادائیگی کی جائے گی سنتوں کی قضا نہیں البتہ عشاء کے فرائض کے ساتھ وتر کی قضاء بھی ادا کرنا ہو گی۔
*🔹قضا نمازوں کی نیت کا طریقہ*
اور اگر قضا شدہ نمازوں کے دن اور تاریخ یاد نہ ہوں تو نیت اس طرح کر لیں کہ اس وقت کی (مثلاً فجر کی) جتنی نمازیں میرے ذمہ ہیں ان میں سے پہلی نماز کی قضا کرتا/کرتی ہوں، اسی طرح فجر کی ایک نماز کی قضاء کے بعد دوسری فجر کی نماز کی قضاء کرتے ہوئے یہی نیت کرلیا کریں اور باقی نمازوں کی قضاء میں بھی نیت کا یہی طریقہ ہے۔
*🔹مکروہ اوقات جسمیں کوئی بھی نماز پڑھنا منع ہے.*
1⃣ *سورج طلوع ہونے کے وقت:*
جب سورج طلوع ہونے لگتا ہے تو مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے جو کہ کم از کم دس منٹ تک رہتا ہے۔ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں طلوعِ آفتاب کا جو وقت لکھا ہوا ہوتا ہے اُس کے بعد سے کم از کم دس منٹ تک مکروہ وقت رہتا ہے۔ اس مکروہ وقت میں قضا نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
2⃣ *دوپہر کو سورج کے اِستوا کے وقت جسے عوام زوال کا وقت کہتے ہیں:*
سورج طلوع ہونے کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے تک پورے دن کا جتنا بھی وقت ہے ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان دونوں کے درمیانی حصے کو ’’نصف النہار عُرفی‘‘ یعنی آدھا دن کہتے ہیں، یہی وہ وقت ہوتا ہے جب سورج خطِّ اِستوا سے گزر رہا ہوتا ہے اور ہمارے سروں کے اوپر ہوتا ہے۔ جب سورج اس کیفیت سے گزر کر مغرب کی طرف ڈھلنے لگتا ہے تو اس کو زوال کہتے ہیں۔ شریعت کی نگاہ میں یہ نصف النہار عرفی (یعنی سورج کے استوا کا وقت) مکروہ اور ممنوع وقت کہلاتا ہے۔ چونکہ سورج تو استوا کے وقت ٹھہرتا نہیں بلکہ وہ اپنا سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہوتا ہے، اس لیے استوا کا یہ وقت بہت ہی مختصر ہوتا ہے جو کہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پورا ہو جاتا ہے، البتہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں جو زوال کا وقت لکھا ہوا ہوتا ہے اس سے چند منٹ پہلے اور چند منٹ بعد کے وقت کو مکروہ وقت شمار کرتے ہوئے اس میں نماز نہ پڑھی جائے، بعض اہل علم حضرات نے سہولت کے خاطر زوال کے وقت سے 5 منٹ پہلے اور 5 منٹ بعد احتیاط کرنے کی ترغیب دی ہے۔
اور بعض علماء آدھے گھنٹے تک ٹائم کا احتیاطاً بتاتے ہیں.
استوا کا یہ وقت موسمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے یعنی سردیوں اور گرمیوں میں.
آجکل اپریل کے اس مہینے میں مختلف شہروں جیسے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہروں میں 11:20 سے لیکر 12:10 تک یا جیسے سندھ اور بلوچستان میں 11:50 سے لیکر 12:30 تک رہتا ہے.
*یہاں یہ غلط فہمی دور رہے کہ دوپہر کو سورج کے زوال کا وقت مکروہ نہیں، بلکہ سورج کے استوا کا وقت مکروہ وقت کہلاتا ہے جس کی تفصیل بیان ہوچکی، شاید لوگوں کی سہولت کی خاطر استوا کی بجائے (زوال) کہہ دیا جاتا ہے۔*
اس تفصیل کے مطابق دوپہر کو سورج کے استوا کے وقت قضا نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
3⃣ *سورج ڈوبنے کے وقت:*
جب سورج ڈوبنے کا وقت آتا ہے تو سورج کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے، اس کی طرف دیکھنے سے نگاہوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا، یہاں سے مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے جو کہ تقریبًا 15 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں جو غروب ِآفتاب کا وقت لکھا ہوا ہوتا ہے اس سے تقریبًا 15 منٹ پہلے یہ مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے، اور یہ وقت ختم ہوجانے کے بعد مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے اس مکروہ وقت میں قضا نماز ادا کرنا جائز نہیں۔
Tags
Namazen