Quran for me Para 10


رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

*قرآن مجید* اور *ہم*

 بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔

تاکہ

ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں

 پارہ 10

.... *إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ*

*(سورة التوبه : 60*

صدقات صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل الفت دلائے گئے اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔ 

 *صدقات* سے مراد فرض زکوٰۃ ہے جو ہر صاحب نصاب پر سال میں ایک بار عائد ہوتی ہے۔ آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے زکوۃ کے مصارف بتائے ہیں۔ 

 *زکوٰۃ کے مصارف؟*

یعنی کون لوگ ہیں جن پر زکوۃ صرف کی جائے گی ۔۔۔ خرچ کی جائے گی

*یاد رکھیں:*

اللہ تعالی نے یہ مصارف خود بتائے ہیں کہ جن کو زکوۃ دی جائے گی۔۔۔ ہم اپنی مرضی سے کسی غیر مستحق کو زکوۃ نہیں دے سکتے اس معاملے میں احتیاط بہت ضروری ہے ۔۔ 

 ایک شخص نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر سوال کیا کہ مجھے کچھ دیا جائے فرمایا: صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالی نے کسی نبی یا غیر نبی کے حوالے نہیں کیا۔۔۔ بلکہ خود ہی *آٹھ مصارف* بھی مقرر کیے ہیں اگر تو ان آٹھ میں داخل ہے تو میں دے سکتا اور اگر تم ان آٹھ میں نہیں داخل تو میں نہیں دے سکتا (یعنی زکوۃ)

۔۔۔ *وہ آٹھ مصارف کون سے ہیں؟*

فقیر
مسکین
 زکوۃ جمع کرنے والے
دلوں کو جوڑنے/ملانے کے لیے
گردن چھڑانے میں/غلام آزاد کرنا
قرض دار
فی سبیل اللہ
مسافر 

فقراء :۔

زکوٰۃ لینے والوں میں سب سے *پہلا حق* فقراء کا ہے 

 *کون ہیں یہ فقراء؟*

انتہائی تنگدست۔۔۔ شدید غربت کا شکار۔۔۔ ایک ایسا شخص جسکے پاس اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ مال ہو اور نہ ہی کوئی کمائی کا ذریعہ۔۔۔ 
مساکین ۔۔۔۔۔

 *اور مسکین کون ہیں؟*
مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہے۔۔۔ مگر اس کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔۔۔وہ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کی مدد کا محتاج ہے اس کے چہرے، حال حلیہ، لباس، شکل سے اس کی مسکنت کا اندازہ ہوتا ہے مگر وہ گھر گھر جا کے لوگوں سے مانگتا نہیں ہے۔۔۔
وہ  کام کرتا ہے لیکن اس کی کمائی اس کی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔۔ 

عاملین ۔۔۔۔۔

 *عاملین زکوۃ میں لوگوں کا کون سا طبقہ شامل ہے؟*

وہ لوگ ہیں جو کہ زکوۃ کے مال پر مقرر ہیں۔۔۔ یہ اپنی مرضی سے زکوۃ جمع نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ طور پر  حکومت/یا کسی ادارے کی طرف سے انہیں مقرر کیا جاتا ہے ۔۔۔ 
تو زکوۃ کے مال سے ان کو ان کی تنخواہ دی جاسکتی ہے۔۔۔ اگرچہ یہ فقیر اور مسکین نہ بھی ہوں
دلوں کو جوڑنے کے لئے ۔۔

*اور کن کن لوگوں پر زکوۃ کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے؟؟*


 *دلوں کو باہم ملانے کے لیے لئے*۔۔۔ یعنی جن کے دل

الفت دلائے گئے
جوڑے گئے
باہم ملائے گئے
نرم کیے گئے

 *وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ* مطلب یہ کہ 
 دلوں میں اسلام کی محبت ڈالنے کے لیے
 دین کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کے لیے

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں زکوۃ غیر مسلموں کو بھی دی جاسکتی ہے؟؟

*عام اصول ہے کہ زکوۃ مسلمانوں اغنیاء سے لے جائے گی اور مسلمانوں فقراء کو ہی دی جائے گی* 
لیکن
 کسی غیر مسلم شخص کی ضروریات  پوری کر کے اس کے دل کو اسلام کے لیے نرم کیا جا سکتا ہے اور ایسے شخص کو  اسلام کی طرف لانے کے لیے زکوۃ کا مال دیا جا سکتا ہے

 نیو مسلم New Muslims پر زکوۃ کا مال دیا جا سکتا ہے۔۔ تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات اس سے پوری کریں اور واپس اپنے دین میں نہ پلٹیں ایک ایسا شخص جو اسلام کے خلاف بغض اور عداوت رکھتا ہوں اور اس کی عداوت سے دین کو نقصان پہنچ رہا ہو تو اس شخص کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے زکوۃ کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے

غلام آزاد کرنے والے ۔۔۔۔۔

 مزید کون لوگ ہیں جو زکوۃ کے مستحق ہیں؟؟ 

گردنیں چھڑوانے میں یعنی کے غلام کو آزاد کرنے میں میں

کسی جان کو غلامی سے آزاد کرنا یہ ایک بہت بڑی نیکی ہے۔۔۔اور یہ ایسا عمل ہے جو کہ جنت کے قریب کرنے والا ہے 

 آج کے دور میں یہ کیسے ممکن؟ 

آج کے دور میں *اغوا برائے تاوان* بچوں کو یاعورتوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے تو ان کو رہا کروانے کے لیے، اس مَد میں۔۔۔ ۔۔ زکوۃ سے دیا جا سکتا ہے
غارمین ۔۔۔۔۔

۔۔۔ *غارمین؟* یہ کون لوگ ہیں جن کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔۔۔۔؟

*مقروض۔۔۔۔*
ایسا شخص جو قرض کے بوجھ تلے پھنسا ہوا ہے تو کیا ہر طرح کے قرض کی ادائیگی زکوۃ سے کی جا سکتی ہے۔۔۔۔؟

نہیں بالکل نہیں

 دیکھا جائے کہ کس قسم کا قرضہ ہے اور  کس کام کے لیے قرضہ لیا گیا

*یاد رکھیں*

  زکوۃ سے مدد لی جا سکتی ہے اگر قرض

  ذاتی ہو 
جائز کام کے لیے لیا گیا ہو
غربت کی وجہ سے لیا گیا ہو
*لیکن*
 تجارتی قرض ۔۔۔ بِلا ضرورت۔۔۔ حرام کاموں کی تکمیل کے لئے۔۔۔ عیش و عشرت کے لئے۔۔۔۔ اسراف کے لئے تو ایسے مقروض کی زکوۃ سے مدد نہیں کی جائے گی

فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔

 *فی سبیل اللہ* یعنی اللہ کے راستے میں زکوۃ کا مال استعمال کیا جاسکتا ہے

فی سبیل اللہ کا مطلب
 اللہ کا راستہ یعنی *اللہ کا دین* کی سر بلندی کے لیے  اللہ کے دین کی خدمت کے لیے۔۔۔
دعوی کے لیے۔۔۔ 
دین کی اشاعت کے لیے۔۔
یہ سب کام فی سبیل اللہ ہیں۔۔۔ ان سب کاموں کے لئے مال کی ضرورت پڑتی ہے اور زکوۃ کے مال سے مدد لی جاسکتی ہے۔۔ 
مسافر ۔۔۔۔۔
  اور *مسافر* کو بھی زکوۃ دی جا سکتی ہے اگرچہ وہ اپنے ملک۔۔۔ اپنے گھر میں مالدار کیوں نہ ہو۔۔۔سفر میں اگر اس کا مال ختم ہو جائے۔۔۔ گم ہو جائے یا چوری ہو جائے تو وہ اپنی سفری ضروریات کے لیے زکوۃ کے سکتا۔۔

  *اللہ سے دعا ہے* زکوۃ کا مال ان کے اصل حقداروں تک ہی پہنچے۔۔۔اور ہم اپنی پوری کوشش کریں کہ ہم اپنی زکوۃ صرف مستحق لوگوں کو ہی دیں 

 *آمین یارب العالمین*

رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں اور ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا۔۔۔ اس بابرکت مہینے میں زکوۃ کی ادائیگی کو یقینی بنائیں!!!

*ان شاءاللہ تعالیٰ*   


رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form