Quran for me Para 12


رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

 *قرآن مجید* اور *ہم*

 بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔

تاکہ

ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں

پارہ 12

 *...... فَٱسۡتَغۡفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ*

( *سورة ھود: 61*

۔۔۔۔ پھر بخشش مانگو اس سے(اپنے رب سے) پھر توبہ کرو اس کی طرف  بے شک میرا رب بہت قریب ہے، جواب دینے والا ہے (دعائیں قبول کرنے والا) 

 
 رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے *استغفار* کو اپنے لئے لازم کر لیا اللہ تعالی اس کے لیے ہر تنگی سے ہر غم سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا" 
(سنن ابی داؤد)

 *استغفار* کیا ہے۔۔۔ ؟؟
 
بخشش کے طلب کرنا کہ اے اللہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔۔۔ اور ان پر پردہ ڈال دے اور ان گناہوں کے شر سے ہمیں بچا

*ابن القیم فرماتے ہیں* استغفار میں توبہ شامل ہے  اور توبہ میں استغفار شامل ہے

توبہ کیا ہے۔۔۔؟؟

گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا وعدہ کرنا ۔۔۔ یعنی ہم آئندہ گناہ کے شر میں پڑنے سے اللہ تعالی کی حفاظت چاہتے ہیں اور پختہ ارادہ کرتے ہیں کہ ہم آئندہ یہ گناہ نہ کریں گے

آیت کے اس حصے میں بخشش مانگنے اور توبہ کرنے پر ابھارا جا رہا ہے  اور ساتھ ساتھ  اللہ کی دو پیاری صفات کا ذکر کیا جارہا ہے

 *قَرِيبٌ مُّجِيبٌ*

اللہ تعالی قریب ہے۔۔ دور نہیں۔۔۔جب چاہے پکارو چپکے چپکے پکارو یا بلند آواز میں پکارو۔۔۔۔وہ سب کی دعائیں سنتا ہے اور قبول بھی کرتا ہے

 اللہ تعالیٰ *قَرِيبٌ* ہے: 
دعا کی قبولیت کے اعتبار سے
دعا کو سننے کے اعتبار سے 
اپنے علم کے اعتبار سے

جب بندے کو یقین ہو جاتا ہے کہ میرا رب قریب ہے ۔۔۔ دعائیں قبول کرنے والا ہے تو بندہ اتنی ہی محبت، توجہ اور یقین کے ساتھ دعائیں کرتا ہے اور کچھ نہ کچھ لے کر ہی لوٹتا ہے

 رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک کہ وہ کوئی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے بشرطیکہ جلدی بھی نہ کرے۔" پوچھا گیا کہ جلدی کیا ہے..؟؟  فرمایا: کہ وہ یوں نہ کہے کہ میں نے کئی بار دعا کی اور اس طرح وہ تھک ہار کر دعا کرنا چھوڑ دے۔

کیا کریں ۔۔۔؟؟

 رب کا قرب محسوس کیجئے اس طرح سے کہ وہ سنتا ہے۔۔۔ وہ دیکھتا ہے۔۔  وہ دلوں کے راز جانتا ہے۔۔۔ وہ ہماری ضروریات۔۔۔ ہمارے دکھوں، پریشانیوں۔۔۔۔ ہماری کوششوں۔۔۔ ہماری عبادات  سب کو جانتا ہے

 *جو سب جانتا ہے تو پھر اسی سے ہی مانگیں۔۔*

عام طور پر ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟

کسی مشکل کا شکار ہونے پر ہم بندوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔ 
نہیں
نہیں

 جو رب کو قریب پاتے ہیں وہ رب کی طرف ہی پلٹ کے جاتے ہیں۔۔۔ رب کے قرب کو محسوس کیجئے۔۔۔ اپنے رب سے خوب دعائیں کریں
عاجزی کے ساتھ
 گڑگڑا کر
اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے

 *اللہ تعالی ہر بھلائی دینے اور ہر تکلیف کو دور کرنے پر قادر ہے۔۔۔* کمی صرف ہمارے مانگنے میں۔۔۔۔ ہمارے اخلاص میں کمی ہے *تو دعا کیجئے۔۔۔۔!!!*

دعا انسان کو عزت دیتی ہے
اللہ کی محبت ۔۔ قرب ملتا ہے
اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے
دلوں کی بے چینی ۔۔ بے قراری۔۔۔بیماریاں۔۔ھم و غم ڈپریشن  دور ہوتا ہے وہاں سے رزق ملتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا ہے

 *کرنے کے کام*

 صلوة التوبہ کا اہتمام کیجئے۔۔۔ اپنے گناہوں کی بخشش طلب کیجیئے۔۔۔ استغفار کے لیے سحری کے بہترین اوقات سے فائدہ اُٹھائیں۔۔۔۔ صرف اور صرف اللہ سے مانگیں۔۔۔ اپنے آپ کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کر لیں۔۔  اللہ کا قرب محسوس کرتے ہوئے ۔۔۔ قبولیت کے اوقات میں دعا مانگتے رہیں اور بخشش طلب کرتے رہیں *اللہ تعالیٰ کو حیا آتی ہے کہ بندہ اس کے آگے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور وہ اسے خالی لوٹا دے*

رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ... رمضان دعاؤں کا مہینہ ہے۔۔۔ اللہ کے ساتھ چند گھڑیاں رات کی تنہائی میں گزاریں اور اپنے رب سے بخشش مانگتے رہیں اور  اس کے قرب کی لذت محسوس کیجئے !!!

*ان شاءاللہ تعالیٰ*   

رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form