*تیرھواں پارہ*
*خلاصہ۔*
(اس پارے کےتین حصے ہیں)۔
سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ۔
سورۂ رعد مکمل۔
سورۂ ابراہیم مکمل۔
سورۂ یوسف کے چند اہم نکات:
آیت 53:
نفس کی تین اقسام ہیں
نفس امَّارہ : جو گناہوں کا حکم دیتا ہے
نفس لوامہ : جو برائی پر ملامت کرتا ہے
نفس مطمئنہ : جب انسان توبہ کرلیتا ہے تو وہ نفس مطمئن ہو جاتی ہے
آیت 67: یعقوب ؑ کا اپنے بیٹوں کو الگ الگ دروازے سے داخل ہونے کا کہنا اس لئے تھا کہ اُن کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ ایک ساتھ داخل ہوں تو ہو سکتا ہے اُن کو نظر لگ جائے
رسول ؐ نے فرمایا نظر لگ جانا برحق ہے۔
نظر سے بچنے کے لیےکیا کیا جائے؟
صبح و شام کےمسنون اذکار حصن المسلم سے کریں ،نظر سے بچنے کی دعا پڑھنی چاہیے۔
آیت 83&86: یعقوب ؑ کا صبرِ جمیل اور اللہ سے مدد طلب کرنا۔
انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ،وأعلم من اللہ ما لا تعلمون
آپ ؐ نے فرمایا جس کو اپنے غم پریشان کردیں وہ میرے غموں کو یا دکر لے۔
آیت 88& 92: بدلے کا اختیار ہونے کے باوجود یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو معاف کردینے کا ذکر ہے ۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا درگزر کیا کرو اللہ تمہیں عزت عطا کرے گا رسول اللہ ؐ نے فرمایا جس نیکی کا بہت جلد اجر ملتا ہےرزق میں وسعت اور عمر دراز ہوتی ہے وہ صلہ رحمی ہے ۔
آیت 100: یوسف ؑ نے اپنے والدین کو اپنے پاس تخت پہ بٹھا لیا اور سب اُن کے آگے سجدے میں گِر گئےیہ سجدہ تعظیمی تھا پہلے زمانے میں یہ جائز لیکن اُمتِ محمدیہ میں یہ سجدہ جائز نہیں۔
آیت 101: اچھے خاتمے کی دعا
فاطر السموت والارض، انت ولیّٖ فی الدنیا والآخرۃ، توفنی مسلمًا والحقنی بالصٰلحین
سورۂ رعد کے اہم نکات :
آیت 1: قرآن کی حقانیت
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے، ان مخالفین کو چیلنج کرنے کے لیے جو قرآن کریم کو معاذ اللہ انسانی کاوش قرار دیتے ہیں۔
آیت 2-4، 7-18: توحیدکے دلائل
آسمانوں اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن، پہاڑوں اور نہروں ، غلہ جات اور مختلف رنگوں، ذائقوں اور خوشبوؤں والے پھلوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور موت اور زندگی ، نفع اور نقصان اس اکیلے کے ہاتھ میں ہے۔ حاملہ کے پیٹ سے واقف، پوشیدہ اور ظاہر کا عالم جاننے والاہے اللہ ہی نے انسانوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔
بجلیاں چمکاتا ، بادل اٹھاتا ، بادلوں کی گرج اُس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتی ہے
زمین و آسمان کی ہر چیز اُ سکے آگے سر تسلیم خم کرتی ہے۔
آیت 14: شرک کی مذمت اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا جواب نہیں دے سکتے۔
آیت 5: قیامت
مشرکوں کو تو اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مردہ ہڈیوں میں زندگی کیسے ڈالی جائے گی، جبکہ درحقیقت باعثِ تعجب بعث بعد الموت نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کا تعجب سے یہ کہنا باعث تعجب ہے
آیت 6: ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی رہنما اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے
آیت 37-43: رسالت کے بہترین دلائل موجود ہیں۔
آیت 18-22: مومن اور کافر برابر نہیں
متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات:
متقین کی آٹھ صفات: (۱)وفاداری (۲)صلہ رحمی (۳)خوف خدا (۴)خوف آخرت (۵)صبر (۶)نماز کی پابندی (۷)صدقہ (۸)برائی کا بدلہ اچھائی سے
آیت 23: سب نیک رشتے دار جنت میں اکٹھے ہوں گے(انشاءاللہ)۔
آیت 25: بدبخت لوگوں کی تین علامات:
(۱)وعدہ خلافی (۲)قطع رحمی (۳)فساد فی الارض
یہی لوگ اللہ کی لعنت اور آخرت میں عذاب کے حق دار ہیں۔
آیت 26: دنیا آخرت کے مقابلے میں متاع ِ قلیل ہے۔
آیت 28: دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔
حدیث میں آتا ہے جو رحمٰن کے ذکر سے غافل ہوتا ہے شیطان اُس پر مسلط ہو جاتا ہے۔
سورۂ ابراہیم کے اہم نکات :
آیت 112:
قرآن کی فضیلت،توحید کے دلائل،قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کے لئے تباہ کن عذاب کی وعید،رسالت کے دلائل،حضر ت موسیٰ ؑ اور اُن کی قوم کی آزمائش کا مختصر ذکرموجود ہے۔
قومِ نوح ،عاد اور ثموداور بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ کو معلوم ہے کے اپنے انبیا ء اور دعوتِ حق کو جھٹلانے کا ذکر موجودہے ۔ پچھلی قوموں کے مکذبین کے کچھ شبہات کا ذکر کیا گیا ہے: (۱)اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں شک۔ (۲)بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ (۳)تقلید آباء۔
ان شبہات کی تردید کی گئی ہے۔
آیت 7: شکر کرنے والوں کی نعمتوں میں اضافہ اور کفر کرنے والوں پر اللہ کا شدید عذاب ہوتا ہے
آیت 18: کافروں کے سب اعمال کی مثال راکھ سی ہے آخرت میں اُن کا کوئی حصہ نہیں۔
آیت 22: شیطان اپنے پیر وکاروں سے لاتعلقی ظاہر کرے گا۔
آیت 24-26: کلمہ طیبہ کی مثال پھل دار درخت سی ہے اور مومن کو اس سے تشبیع دی گئی ہے اور کلمہ خبیثہ کی مثال بدذات درخت سی ہے اور کافر اور منافق کو اس سے تشبیع دی گئی ہے
آیت 32-34:
تمام آسمانوں اور زمینوں کو اللہ نے بنایا ہے، اسی نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر انسانوں کے لیے زمین سے قسم قسم کے پھل نکالے اور پانی کی سواریوں اور نہروں کو انسانوں کے تابع کردیا اور سورج اور چاند اور رات اور دن کو انسانوں کے کام میں لگادیا، اس کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔
آیت 35-41: حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے رب سےچھ دعاؤں کا ذکر۔
امن ،بت پرستی سے حفاظت ،اقامتِ صلاۃ،دلوں کا میلان ،رزق ،مغفرت کی درخواست۔
آیت 40-41: بہترین دعا۔
آیت 42-51: کافروں کے جہنم کے عذاب میں جلنے اور اُن کے رب سے معافی طلب کرنے کا اور ایک مہلت اور دینے کا ذکر موجود ہے لیکن اُس وقت نہ مہلت دی جائے گی اور نہ توبہ قبول کی جائے گی۔اور اللہ زبردست انتقام لینے والا ہے ۔
آیت 52:
قرآن بلغ للناس ہے سب کے لئے۔
قرآن کے پیغام کو ہمیں آگے سے آگے پہنچانا ہے، تاکہ ہماری آخرت سنور جائے.
تیرھویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
