Summary Surah Yousaf


 *سورۃ یوسف* 
 *خلاصہ*
(ابتدائی حصہ بارھویں اور بقیہ حصہ تیرھویں سپارے میں ہے )
یہود نے نبی کریمؐ کا امتحان لینے کے لئے یوسفؑ کے قصے کے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے پورا واقعہ ایک ہی بار نازل فرما کر اپنے رسول کی تائید کی اور اسے بہترین قصہ قرار دیا۔
ﺗﻤﮩﯿﺪ :
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻗﺼﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﯽ ﺳﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﻮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﻗﺼﮧ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

قصہ یوسف کی حضرت محمدﷺ کی زندگی سے مشابہت۔
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ؑ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﺎﺑﮧ ﮨﮯ، ﺁﭖؑﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍٓﭖ ﺳﮯ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﮑﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ؑﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺁﭖ ؑ ﻏﺎﺭ ﺛﻮﺭ ﻣﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﮔﺌﮯ ﺍٓﭖؐ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮦ ﻭﺯﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺍٓﭖ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﮐﻢ ﺑﻨﮯ۔ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮐﺮ ﺁﺋﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﮔﺮﺩﻥ ﺟﮭﮑﺎﻟﯽ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : “ ﻻﺗﺜﺮﯾﺐ ﻋﻠﯿﻜﻢ ﺍﻟﯿﻮﻡ “
( ﺁﺝ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺘﺎﺏ ﻭ ﻣﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ‏)
ﺍٓﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ” ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﯾﻮﺳﻒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﻗﺼﮧٔ ﺣﻀﺮﺕ یوسفؑ :
 آیت 4-5:
حضرت یوسف ؑ نےخواب دیکھا کہ گیارہ ستارے ،سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں، یہ خواب انہوں نے اپنے والد کو سنایا، جواب میں ان کے والد نے کہا: بیٹا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا۔
خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔
اچھا خواب۔
نبی ﷺ نے فرمایا خواب کسی عالم یا خیر خواہ ہی سے بیان کیا جائے۔
شیطانی خواب (برے خواب ہوتے ہیں):
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین بار بائیں طرف تھتکار(تھوک) دے اور تعوذ پڑھے۔
تیسرا:
انسان کے اپنے خیالات ہوتے ہیں.
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب اچھا خواب دیکھو تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرو اور اسے اچھے لوگوں کو بتاؤ جن سے محبت کرتے ہو۔ اور جب برا خواب دیکھو تو یہ شیطان کی طرف سے ہے کسی کو نہ بتاؤ اور بائیں طرف تین بار تھوک دو اور اللہ تعالی کی پناہ مانگو پھر وہ خواب ضرر نہیں دے گا۔
متفق علیہ

آیت 720:
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻏﯿﺮﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺣﺴﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﺗﻔﺮﯾﺢ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ؑ ﮐﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ؑﮐﻮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍﺩﯾﺎ، جب یوسفؑ کے بھائیوں نے یعقوب ؑ کو آکر بتایا کہ یوسف ؑ کو بھیڑیے نے کھا لیا ہے، تو یعقوب ؑ نے "فصبرٌ جمیل" (ایسا صبر جس میں شکوہ شکایت نہیں ہوتا )کیا اور اللہ سے مدد طلب کی،
ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﮔﺰﺭﺍ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﻝ ﮈﺍﻻ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ؑﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ، ﻗﺎﻓﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺼﺮ ﺟﺎﮐﺮ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺎ، ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮ ﻧﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺎ،

آیت 21 & 22:
یوسف ؑ کو خواب کا علم ، قوتِ فیصلہ اور خواب کی تعبیر کا علم عطا کیا گیا۔

آیت 23-35:
ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻋﺰﯾﺰ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻓﺮﯾﻔﺘﮧ ﮨﻮﮔﺌﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﭨﮭﮑﺮﺍﺩﯼ، ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مرد کو کسی عورت نے بُرائی (زنا)کے لئے بلایا اور اُس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں وہ آخرت میں اللہ کے عرش کے سائے میں ہو گا۔ ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮ ﻧﮯ ﺑﺪﻧﺎﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﻟﻮﺍﺩﯾﺎ ایمان والے اللہ کی نافرمانی کی بجائے قید کو ترجیح دیتے ہیں (حضرت یوسف ؑ تقریبا نو سال قید رہے)
نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے مردوں کے لئے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں دیکھا۔
حدیث میں آتا ہے جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔
آیت 35-42:
قید میں بھی دعوتِ دین جاری رہی اور قیدیوں کو یوسفؑ نے خواب کی تعبیر بتلائی۔۔
 آیت 42 -52:
بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا کر بادشاہ کے مقرب بنے عزیزِ مصر کی بیوی نے اپنے جرم اور آپ ؑ کی پاکیزگی کا اعتراف کر لیا اور یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہتان اور قید سے نجات دے دی۔

آیت 55-100:
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﺰﺍﻧﮯ، ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﺎ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﻭﺯﯾﺮ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ، ﻣﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩﻭﭘﯿﺶ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻏﻠﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺼﺮ ﺁﺋﮯ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﻣﻼﻗﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﯾﻮﺳﻒ ﮨﻮﮞ، ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﻣﺼﺮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭیوں حضرت یوسف کے زمانہ میں بنی اسرائیل شام سے مصر آکر آباد ہو گئے۔
ﺑﺼﺎﺋﺮ ﻭ ﻋﺒﺮ ﺍﺯ ﻗﺼﮧٔ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ :
‏( ۱ ‏) ﻣصیبت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺍﺣﺖ ﮨﮯ۔ ‏( ۲ ‏) ﺣﺴﺪ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ۔ ‏( ۳ ‏) ﺍﭼﮭﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﮐﺎﻡ ﺍٓﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
 ( ۴ ‏) ﭘﺎﮐﺪﺍﻣﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮭﻼﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﮨﮯ۔
‏( ۵ ‏) ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﻼﻁ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ۔
( ۶ ‏) ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺍٓﺳﺎﻥ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
( ۷ ‏) ﻣﻌﺼﯿﺖ ﭘﺮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﻮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
‏( ۸ ‏) ﺩﺍﻋﯽ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ 
‏( ۹ ‏) ﻣﻮﺿﻊ ﺗﮩﻤﺖ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
 ‏( ۱۰ ‏) ﺟﻮ ﺣﻖ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺩﯼ : 
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ، ﺧﻮﺩ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ، ﻋﺰﯾﺰ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ، ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻧﮯ، ﻋﺰﯾﺰِ ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﻧﮯ۔
 *سورةیوسف ؑکا خلاصہ مکمل ہوا۔*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form