*چودھواں پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ حجر مکمل
۔ سورۂ نحل مکمل
سورۂ حجرکے اہم نکات۔
آیت 2: کفار کی آرزو (آخرت میں جب کفار مسلمانوں کو مزے میں اور خود کو عذاب میں دیکھیں گے تو تمنا کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوجاتے)
کافر کب کب یہ حسرت کریں گے؟
موت کے بعد ہر ہر لمحے مسلمانوں کے اچھے انجام تک پہنچتے ہوئے،بعض اہل ِ ایمان کو جہنم سے نبی ؐ کی شفاعت کے ساتھ نکالا جائے گا اُ س وقت یہ حسرت کریں گے۔
آیت 3: حسن بصری کہتے ہیں جب بندہ اپنی آرزو۔ؤں کو لمبی کرتا ہے تو اُس کے اعمال خراب ہو جاتے ہیں۔مومن آخرت بھلا کر دنیا حاصل نہیں کرتا
آیت 9: قرآن کی حفاظت
اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے (حفاظ کے ذریعے سے )
قیامت کی نشانی ہے کہ قیامت سے پہلے ہر جگہ سے قرآن اٹھا لیا جائے گا۔
آیت 25-44: انسان کی تخلیق (اللہ تعالیٰ نے انسان کو منی سے بنایا، فرشتوں کا مسجود بنایا، شیطان اپنے تکبر کی وجہ سے مردود ہوا، اس نے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھالی)شیطان اور اس کے پیروکاروں کے لئے جہنم کی وعید سنا دی گئی ، جہنم کے سات دروازے ہیں اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق ان دروازوں میں سے جائیں گے۔
اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ
جس میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا وہ جنت میں نہیں جائے گا (مفہومِ حدیث)۔
آیت 45-47: جنت کے آٹھ دروازے ہیں متقین سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر اس میں داخل ہوں گے بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے۔
آیت 51-79: حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت لوطؑ کے واقعات
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے آکر بیٹے کی خوشخبری دی، اس وقت ان کی اہلیہ بہت بوڑھی تھیں، بظاہر یہ ولادت کی عمر نہ تھی، اس لیے آپ کو بیٹے کی خوش خبری سن کر خوشی بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا، فرشتوں نے کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری سنا رہے ہیں آپ مایوس نہ ہوں، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا تو صرف گمراہوں کا کام ہے۔
فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری سنا کر حضرت لوط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر رات ہی کو اس بستی سے نکل جائیے، کیونکہ آپ کی بستی والے گناہوں کی سرکشی میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ان لوگوں کی جڑ صبح صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔
آیت 80-84: اصحاب الحجر۔
اصحاب الحجر ، ان سے مراد قوم ثمود ہے، یہ لوگ بھی ظلم اور زیادتی کی راہ پر چل نکلے تھے اور بار بار سمجھانے کے باوجود بت پرستی کو چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہورہے تھے، انھیں مختلف معجزات دکھائے گئے بالخصوص پہاڑی چٹان سے اونٹنی کی ولادت کا معجزہ جو کہ حقیقت میں کئی معجزوں کا مجموعہ تھا، اونٹنی کا چٹان سے برآمد ہونا، نکلتے ہی اس کی ولادت کا قریب ہونا، اس کی جسامت کا غیر معمولی بڑا ہونا، اس سے بہت زیادہ دودھ کا حاصل ہونا، لیکن ان بدبختوں نے اس معجزے کی کوئی قدر نہ کی، بجائے اس کے کہ وہ اسے دیکھ کر ایمان قبول کرلیتے انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا، چنانچہ وادی حجر والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آکر رہے
آیت 87: سورۃ فاتحہ کا ذکر ہے، بار بار دہرائی جانے والی سورت ، اس کا دم کرنا بھی حدیث سے ثابت ہے۔
آیت 88: دنیا (نعمتوں )کے لحاظ سے ہمیشہ اپنے سے نیچے دیکھنا چاہیےدنیا میں جو کچھ ہے آخرت کے مقابلے میں اُس کی کوئی حیثیت نہیں
آیت 97: دل کی گٹھن کا علاج ۔۔۔نماز اور تسبیح.
سورۂ نحل کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
سورۂ نحل میں نعمتوں کا ذکر ہے جو کائنا ت میں بکھری پڑی ہیں اور جن میں غوروفکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
آیت 3-19: توحید۔
اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا، انسان کو نطفے سے پیدا کیا، چوپائے پیدا کیے، جن میں مختلف منافع بھی ہیں اور وہ اپنے مالک کے لیے فخر و جمال کا باعث بھی ہوتے ہیں، گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کیے جو باربرداری کے کام آتے ہیں اور ان میں رونق اور زینت بھی ہوتی ہے۔ بارش وہی برساتا ہے، پھر اس بارش سے زیتون، کھجور، انگور اور دوسرے بہت سارے میوہ جات اور غلے وہی پیدا کرتا ہے۔ رات اور دن، سورج اور چاند کو اسی نے انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ دریاؤں سے تازہ گوشت اور زیور وہی مہیا کرتا ہے۔ سمندر میں جہاز اور کشتیاں اسی کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ اور بہت سی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ سب اسی لئے ہے کہ تم شکر گزار بنو۔اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کرسکتے۔اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
آیت 19-21: اللہ کے علاوہ یہ جس کو پکارتےہیں وہ تو خود مخلوق ہیں قبروں میں مردہ ہیں یہ تک نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائیں جائیں گے ۔
آیت 24-32: کافر قرآن کو فرسودہ کہانیاں کہتے ہیں اللہ پوچھے گا بتاؤ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن سے تم اہلِ حق سے جھگڑا کرتے تھےاب جاؤ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے
مومن قرآن کو بہترین چیز کہتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کی جنت بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کے لئے ،اُن کی خواہش کے مطابق ہر چیز ملے گا
آیت 43: کسی چیز کا علم نہ ہو تو اہلِ علم سے پوچھ لینا چاہیے
آیت 44: اللہ کے نبی نے قرآن پر عمل کرکے دکھا یا محمدؐ کی ذات کے بغیر قرآن کو سمجھنا اوراس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔
آیت 57: قریشِ مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بناتے اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے تھے (اللہ اس سے پاک ہے جو یہ کہتے ہیں) ہمارے لئے ہمیں اللہ بیٹا یا بیٹی جو بھی عطا کرے یہ اللہ کی تقسیم ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا مومن کے لئے تعجب ہے کہ اللہ اُس کے لئے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اُس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔
آیت 61: اگر اللہ ہمیں ہمارے گناہوں پر فورا پکڑتا تو روئے زمین پر کوئی انسان باقی نہ بچتا لیکن اللہ نے ایک وقت ِ مقرر تک مہلت دی ہوئی ہے۔
آیت 66-69: مویشیوں کے خالص دودھ ، کھجور کے درختوں ، انگور کی بیلوں ، شہد کی مکھی کہ اس کا نظام بہت عجیب ہوتا ہے، یہ اللہ کے حکم سے پہاڑوں اور درختوں میں اپنا چھتہ بناتی ہے، یہ مختلف قسم کے پھلوں کا رس چوستی ہے، پھر ان سے اللہ تعالیٰ شہد نکالتے ہیں، جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اس شہد میں اللہ نے انسانوں کی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے۔ان سب میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
مومن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے جو پاکیزہ چیز کھاتی ، پاکیزہ رس خارج کرتی اور جس پھول کی پتی پر بیٹھتی ہے نہ وہ ٹوٹتا ہے اور نہ وہ خراب ہوتا ہے
آپؐ نے فرمایا تین چیزیں واپس نہیں کرنی چاہیے تکیہ ، تیل ، خوشبو اور دودھ
رسول اللہ ؐ نے فرمایا شفا دینے والی چیزوں کو لازمی پکڑ لو ، قرآن اور شہد۔
آیت 74-75: دو بہترین مثالیں ،پہلی غلام اور آقا، اور دوسری نادان اور دانا شخص کی ہے کہ کیا یہ برابر ہوسکتے ہیں؟
آیت 80: گھروں کو سکون کی جگہ بنا یا ہے ۔۔۔
آیت 90: اس سورت کی آیت نمبر ۹۰ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے: عبادات اور معاملات میں عدل ، ہر ایک کے ساتھ اچھا سلوک اور قرابت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور واضح برائی ، منع کردہ کاموں اور ظلم کرنے سے روکا گیا ہے۔
آیت 92-93: اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بناؤ۔
آیت 97: آخرت میں اعمال کی قبولیت کے لئے ایمان(اللہ اور محمدؐپر ) شرط ہے۔
آیت 98: جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔
آیت 119-125: حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تعریف
حضرت ابراہیم علیہ السلام زندگی بھر توحیدِ خالص پر جمےرہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ملت کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ اللہ کی طرف بلائیں اور اس کی راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کریں۔ نیز آپ کو صبر کرنے اور تنگ دل نہ ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔
آیت 127-128: صبر ، تقویٰ اور احسان کرتے رہیں.
چودھویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
