Quran for me Para 13


رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

 *قرآن مجید* اور *ہم*

 بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔

تاکہ

ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں

13 پارہ

  *...... وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ*

 ( *سورة یوسف: 53*

میں خود کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا رب رحم کرے گا بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے 

  اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں عاجزی بہت پسند ہے۔ اس آیت میں بندے کی عاجزی کا اعتراف ہے۔۔۔ نفس تو بدی پر اکساتا ہے ۔۔ مگر اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے ۔۔ اس کی رحمت سے نفس پر قابو پاسکتے ہیں۔۔۔  

  *حقیقی مومن کون ہے۔۔؟؟*

 جو نیکی کا بڑے بڑے کام کر کے۔۔۔ برائیوں سے بچ کر ۔۔۔خود کو پاک نہیں کہتا بلکہ سارا کریڈٹ اپنے رب کو دیتا ہے کہ اسکی رحمت اور توفیق کی وجہ سے ہی سب ممکن ہوا ۔۔۔
*اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اپنے نفس اور خواہشات کا مقابلہ کرنے والے افضل مہاجرین ہیں*

 *رسول اکرم ﷺ  نے فرمایا:* "طاقتور وہ نہیں جو جسمانی طور پر غالب آ جائے بلکہ طاقتور وہ ہے جو اپنے نفس پر غالب آجائے
 
 *جب نفس کی خواہشات غالب آتیں ہیں تو ۔۔۔۔؟؟* 

 انسان نفس کی تسکین کے لیے غلط راستہ استعمال کرتا۔۔۔ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتا۔۔۔ دور تک بھٹک جاتا۔۔۔

*لیکن جس پر رب کی  رحمت ہو ۔۔۔۔*  وہ ان سب attraction  سے خود کو بچا لیتا ہے 

*انسان کا حال یہ ہے کہ*
 
 اپنی نفس کی خرابی کا علم ہے
خواہشات کا پتا بھی ہے
 جانتا ہے کہ غلط کر رہا ہے
روز خود کو ملامت کرتا ہے۔۔۔۔ "کہ دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ذلت اور خواری ہے" *اس کے باوجود۔۔۔۔* 
 انسان نفس کے ہاتھوں مجبور ہے ۔۔۔ خود سے ہار جاتا ہے ۔۔چیز سامنے آتی ہے تو بہک جاتا ہے*یہ شیطان ہے* جو کہ برائیوں اور برے کاموں کو خوش نما بنا کے دکھاتا ہے کہ انسان ان سے نکل نہیں پاتا

 *۔۔ ایسے میں انسان کیا کرے۔۔۔؟؟*

اللہ کو پکارے اپنے رب کے آگے روئے صرف اسی سے ہی مدد مانگے اپنی کمزوری کا اعتراف کرے کہ میں قابو نہیں پا رہا میری مدد کر۔۔۔۔ مجھے میرے نفس کے شر سے بچا۔۔۔ میرے گناہ معاف فرما۔۔ مجھ پر رحم فرما *اور پھر اسکے رب کا اذن ہوتا ۔۔۔ رب کی رحمت ہوتی۔۔۔* تو وہی چیز ہے جس سے وہ حرام خوشی حاصل کر رہا تھا۔۔۔  جس کے خیال سے وہ لذت پارہا تھا ۔۔۔۔ اس سے نفرت ہو جاتی ہے وہ بری لگنے لگ جاتی ہے
 *یاد رکھیں*
  کسی بھی گناہ سے توبہ کرنے کے بعد ضروری ہے کہ ہم اس گناہ کے خیال سے بھی بچیں۔۔۔ بلکہ اس سے نفرت کریں
 کسی حرام تعلق  میں پھنس گئے ہیں۔۔۔ اور نکلنا چاہتے ہیں تو ۔۔۔ رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ... اپنے روزے کو *خاص الخاص* بنائیں۔۔۔

  مگر کیسے.... ؟؟

صرف بھوکا پیاسا نہیں رہنا بلکہ اپنے تمام اعضاء کو بھی حرام سے بچائیں۔۔۔ خاص کے اپنے دل کو حرام خیالوں سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔۔۔ 

روزہ دار کے لیے خوشخبر ی ہے..  ہر دن کوئی نہ کوئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے  تو اس لئے اس ماہ میں خوب دعائیں کریں ۔۔۔ نہ صرف مانگنے کی چیزیں مانگیں بلکہ اپنے اندر کی برائیوں اور کمزوریوں کے شر سے بچنے کی دعائیں بھی کرتے  رہیں۔۔۔اور اپنے رب سے بخشش بھی مانگتے رہیں

 اللہ تعالی کی مدد سے ہی ان چیزوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔۔۔  وہی نفس کے شر اور برائی سے بچا سکتا ہے بیشک اللہ بہت غفور رحیم ہے

 *کرنے کے کام* 
 
 دعاؤوں کا اہتمام کیجیئے 

*اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِیْ تَقْوَاهَا وَزَکِّهَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاهَا أَنْتَ وَلِیُّهَا وَمَوْلَاهَا*
اے الله ! میرے نفس کو تقوی عطا کر اور اسے پاکیزہ بنا ،تو ہی بہتر ہے جو اس کو پا کیزہ بنا سکےتو ہی اس کا ولی اور مددگار ہے

*صبح و شام اس دعا کا اہتمام کیجیئے*

اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَةِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَّ مَلِیْکَهُ *اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ* وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَ شِرْکِهِ وَ اَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْءً اَوْ اَجُرَّهُ اِلٰی مُسْلِمٍ۔ 

اے الله! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز کا رب اور اس کا مالک ہے، *میں تیری پناه چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے* اور شیطان کے اور اس کے شرک کے شر سے اور یه که میں اپنی جان کو کسی برائی میں ملوث کروں یا کسی دوسرے مسلمان کو اس کی طرف مائل کروں۔

*آمین یارب العالمین*   


رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form