صدقۃ الفطر کا حکم
اللہ کے نبی محمدﷺ نے صدقہ فطر واجب کیا ہے جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ کی حدیث ہے:
سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر فرض کیا ہے۔ (بخاری 1503، مسلم 2276)
صدقہ فطر کن لوگوں پر:
یہ صدقہ ہر مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس ایک دن اور ایک رات سے زائد کی خوراک اپنے اور زیر کفالت لوگوں کے لیے ہو وہ اپنی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے اور ان لوگوں کی طرف سے بھی جن کا خرچ اس کے ذمے ہو جیسے بیوی، بچے اور والدین وغیرہ۔ (الموسوعۃ الفقہیہ 3/162)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہر چھوٹے بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے جن کی خوراک تمہارے ذمہ ہو صدقہ فطر کا حکم دیا ہے۔ (دارقطنی)
جمہور کے نزدیک ماہ رمضان کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے لہذا جو اس سے پہلے پیدا ہو اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کیا جائے گا۔ (توضیح الاحکام لابن بسام 3/76)
یاد رہے کہ صدقہ فطر اس پر بھی واجب ہے جو کہ کسی بیماری یا دیگر وجوہات کی بنا پر روزے نہ رکھ سکا ہو اور اسی طرح صدقہ فطر کے وجوب کے لیے نصاب زکوٰۃ کا مالک ہونا شرط نہیں ہے۔
صدقہ فطر کی مشروعیت:
نبی اکرمﷺ نے صدقہ فطر کی مشروعیت میں دو حکمتیںبیان کی ہیں:
۔ روزہ دار کی فضول اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے۔
۔ مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ۔
جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر روزہ دار کی بے کار اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے۔
صدقہ فطر کی مقدار:
زیر استعمال غلہ و اناج میں سے ایک صاع دیا جائے۔ موجودہ وقت کے حساب سے صاع کی مقدار میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے جس کا درمیانی راستہ موجودہ وزن کے مطابق تقریباً اڑھائی کلو گرام بنتا ہے۔ (واللہ اعلم)
صدقہ فطر کب دیا جائے:
صدقہ فطر عید کی نماز کو نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے صدقہ فطر کے متعلق حکم دیا کہ یہ نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا کرو۔ (بخاری 1509، مسلم 2285)
صدقہ فطر عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی دیا جا سکتا ہے۔
سیدنا نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ان لوگوں کو دیتے تھے جو اس کو قبول کرتے تھے اور وہ لوگ عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے۔ (بخاری 1511)
نبی کریمﷺ نے نماز سے پہلے ادا ہونے والے صدقہ کو صدقہ فطر قرار دیا ہے اور اس کے بعد ادا ہونے والے کو صرف صدقہ کہا ہےجیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابل قبول زکاۃ (صدقہ فطر) ہوگا اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔ (سنن ابو داؤد 1606)
صدقہ فطر کن لوگوں کو دیا جائے:
نبی کریمﷺ نے صدقہ غریب و مساکین کو دینے کا حکم دیا ہے جیساکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ صدقہ فطر غریب، فقیر اور مساکین کو دیا جائے۔ (سنن ابو داؤد، ابن ماجہ)
نبی اکرمﷺ عید الفطر کی نماز کے لیے جاتے وقت اور آتے وقت راستہ بدلا کرتے تھے اور بلند آواز میں یہ الفاظ پکارا کرتے تھے:
اَللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلهِ الْحَمْدُ (مصنف ابن أبي شيبة 5651)
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ہماری نجات کا سبب بنائے۔
آمین یا رب العالمین
Tags
Issues
