*پندرھواں پارہ*
*خلاصہ۔*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل۔
۔ سورۂ کہف) اگلے میسج میں بھیجی جائے گی۔
سورۂ بنی اسرائیل کے اہم نکات :
آیت 1: واقعہ معراج
معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ ہمارے آقا ؐ کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا وہاں آپ نے تمام انبیا کو نماز پڑھائی اور پھر وہاں سے ساتویں آسمان سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا ،اس سفر میں رسول اللہ ؐ نے جنت اور جہنم کے کچھ مشاہدات بھی کئے ،معراج پر نماز اور سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات عطا کی گئی،اور فرشتوں نے نبی اکرم ؐ کو کہا کہ آپ اپنی اُمت کو پچھنے (حجامہ ) لگوانے کا حکم دیں ، مختلف پیغمبروں سے ملاقات ہوئی۔سیدناابراہیم ؑ نےحضرت محمدؐ کو کہا کہ اپنی اُمت کو میر ا سلام کہیے گا اور ان کو بتانا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے، اس کا پانی میٹھا ہے اور وہ ایک چٹیل میدان ہے
سبحان اللہ، الحمد للہ، ولا الہٰ الا اللہ واللہ اکبر کہنا جنت میں ایک درخت لگادینا ہے۔
آیت 9: قرآن سب سے زیادہ سیدھا راستہ ہے۔
آیت 11: انسان شر ایسے مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم جلدبازی میں اپنے لیے ایسی دعا مانگ لیتے ہیں جو شر کا باعث بنتی ہے۔غصے کی حالت میں بھی اپنے مال اور اولاد کے لئے بددعا نہیں کرنی چاہیے آپ ؐ نے فرمایا اپنے آپ پر خیر ہی کی دعا کیا کرو بے شک فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں
آپ ؐ نے فرمایا کہ تین لوگوں کی دعا کی قبولیت میں کوئی شک نہیں
مظلوم
مسافر
باپ کا اپنے بیٹے کے لئے دعا کرنا ۔
انسان نیکیوں کی بجائے گناہوں میں زیادہ توانائیاں صرف کرتا ہے
آیت 18-19: جو آخرت کے مقابلے میں دنیا چاہتا ہے اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
اور جو آخرت چاہتا ہے اور اُس کے لئے کوشش کرتا ہے بشرط یہ کہ وہ مومن ہو اُن لوگوں کی قدر کی جائے گی۔
آیت 23-39: اسلامی آداب و اخلاق:
اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو،
قرآن میں پانچ دفعہ اللہ کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر ہے ،
بدنصیب ہے وہ شخص جس نے والدین کو بڑھاپے میں پا یا اور اُن کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کر لی (مفہومِ حدیث)
رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے،
بُرے کاموں میں تھوڑے پیسے خرچ کرنا بھی فضول خرچی ہے اور فضول خرچ شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تین باتیں پسند نہیں کرتا
فضول کی باتیں،
مال کو ضائع کرنا ،
لوگوں سے سوال کرنا (مانگنا)۔
رزق کا کشادہ یا تنگ ہونا اللہ کی طرف سے ہے تو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، سب جانداروں کا رزق اللہ کے ذمے ہے اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ
اللہ کے نبی نے فرمایانکاح کرو تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری اُمتوں پر فخر کروں گا (مفہومِ حدیث)۔
کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال میں ناجائز تصرف نہ کرو، وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، ناپ تول پورا پورا کیا کرو، جس چیز کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے کر دے۔
سب انسانی اعضا سے باز پرس ہوگی۔
زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
آیت 44: آسمان اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہے ۔
آیت 49-51: منکرینِ آخرت کہتے ہیں کہ ہم ہڈیاں اور خاک ہوکر کیسے زندہ ہوں گے ان سے کہو جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا تھا وہی زندہ کرے گا۔
آیت 53: اللہ کے نبی نے فرمایا کہ مومن کو چاہیے کہ نیک بات(سچی ، عدل والی ، دوسروں کو فائدہ دینے والی بات) کہے ورنہ خاموش رہے۔
آیت 61: اللہ کی طرف سے انسان کو تکریم دی گئی۔
آیت 78: قرآن کی تلاوت کا بہترین وقت صبح ہے ۔
#آپ ؐ نے فرمایا کہ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے صبح کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں ۔
آیت 79: تہجد اور مقام ِ محمود کا ذکر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تہجد کی نماز فرض کی گئی تھی اور ہم لوگوں کے لیے یہ نفلی عبادت ہے۔
کہ اللہ آسمان ِ دنیا پر آکر صدا لگاتے ہیں کہ کوئی ہے مانگنے والا میں اُ س کو عطا کرو کوئی ہے بخشش طلب کرنے والا میں اس کو بخش دوں کم از کم رمضان میں اس عبادت سے محروم نہ رہیں ۔
آیت 80-81: نئی بستی میں جائیں تو یہ دعا پڑھ لیں
*رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطٰنا نصیرًا۔
آیت 82: قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔
آیت 85: روح اللہ کا حکم ہے۔
آیت 88: انسان اور جن مل کر بھی قرآن جیسی کوئی چیز نہ لا سکیں گے۔
آیت 89-95: جو لوگ قرآن کے آ جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے تو کوئی اور بڑے سے بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گےاور آپ ؐ کہہ دیں کہ میں تو پیغام پہنچانے والے انسان کے سوا کچھ نہیں ہوں (کفار کے آپ ؐ کے انسان ہونے پر اعتراض کا جواب) اگر زمین پر فرشتے چل پھر رہے ہوتے تو ان کی طرف فرشتہ پیغمبر بن کر آتا
آیت 100-104: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ۔
آیت 106: قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی حکمت بیان ہوئی ہے۔
آیت 110: سب اچھے نام اللہ کے ہیں اور اللہ کو یا رحمٰن کہہ کر پکارو۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا اللہ کے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔
آیت 111: اللہ تعالیٰ کا شریک اور اولاد سے پاک ہونا،اہل ِ کتا ب (یہودیوں، عیسائیوں) اور قریش مکہ کا رد.
پندرھویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
