*سولھواں پارہ*
*خلاصہ۔*
اس پارے کے تین حصے ہیں:
۔ سورۂ کہف کا بقیہ حصہ۔
۔ سورۂ مریم مکمل۔
۔ سورۂ طٰہٰ مکمل
سورۂ کہف کے بقیہ حصےکے اہم نکات درج ذیل ہیں :
آیت 60-82: حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتے ہیں )چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انھیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس گاؤں والوں نے انھیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں مواقع پر خاموش نہ رہ سکے اور پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب آپ میرے ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی، فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ، جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انھیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے اللہ نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انھیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد اللہ کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔
آیت 83-98: ذوالقرنین کا قصہ۔
یہ بڑا زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہو جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ”یاجوج“ اور ”ماجوج“ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔
آیت 99-102: صور پھونکا جانا اور حشر میں انسانوں کا جمع ہونا اور اللہ کو چھوڑ کر بندوں کو اپنا کارساز بنانے اور کافروں کی ضیافت کے لئے جہنم کا ذکر ہے
آیت 103-106: اعمال ضائع ہونے کی وجہ
آخرت کے مقابلے میں دنیاوی مقاصدکے لئے کام کرنے والے ،
#اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم میں سب سے زیاد ہ شرکِ اصغر کا خوف آتا ہے شرکِ اصغر ریا کاری ہے رب کی آیات اور آخرت کے انکاری ان کے سب اعمال ضائع ہیں اور ان کا بدلہ جہنم ہے
آیت 109: اللہ تعالیٰ کے کام اور کمالات ،قدرت و حکمت لکھنے کے لئے اگر سمندر بھی روشنائی (Ink)بن جائے توبھی کم ہے۔
آیت 110: اے نبی ﷺ ان سے کہو میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہو بس میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔۔۔اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو.
سورۂ مریم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
آیت 2-15: حضرت زکریا ؑ کا قصہ
حضرت زکریا ؑ کے واقعے سے دعا مانگنےکے آداب بھی پتا چلتے ہیں یہاں پر حضرت زکریا ؑ کا اپنے رب سے چپکے چپکے غم کے اظہار کا ذکر ہے کہ انہوں نے بڑھاپے میں اللہ سے نیک اور صالح اولاد مانگی اور کہاکہ اے اللہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہایحیٰؑ کی بشارت ملی جو نرم ، پرہیز گار،حق شناس اور فرمانبردار تھے
آیت 16-33: حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔
بیت المقدس میں عبادت کے لئے حضرت مریم ؑ پردہ ڈال کر چھپ بیٹھی تھی فرشتہ آیا اور اُ س نے بیٹے کی بشارت ، حضرت مریم ؑ کا تعجب اور پریشان ہونا کہ مجھے تو کسی مرد نے نہیں چھوا۔پھر: بیٹا؟ فرشتے کا جواب رب کے لئے ایسا کرنا آسان ہے لڑکے کو لوگوں کے لئےنشانی بنائیں گے
حضرت عیسٰی ؑ کی پیدائش کا ذکر ۔۔۔
عورت کی اس حالت (زچگی ) میں کھجور اور پانی بہترین چیز ہے ،حضرت مریم کی بچے کو لے کر قوم کی طرف واپسی ، لوگوں کا حضرت مریمؑ پر بہتان ،حضرت عیسٰی ؑ کا گہوارے میں کلام ، کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ۔۔۔
آیت 34-36: اللہ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو پھر وہ ہوجاتا ہے حضرت عیسٰی ؑ نے کہا کہ وہ میرا اور تمہارا دونوں کارب ایک ہے پس اُسی کی بندگی کرو۔
آیت 41-50: قصہ حضرت ابراہیم ؑ
حضرت ابراہیم ؑایک صدیق انسان تھے انہوں نے اپنی قوم اور اپنے والد کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں کہ کہیں رحمٰن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں باپ کا نام آزر تھا اور وہ بت پرست تھا تو اُس نے سنگسار ہونے کی دھمکی دی اور پھر گھر سے نکال دیاحضرت ابراہیم ؑ کی خدا کے سوا بتوں سے برات اور وہاں سے روانگی اور پھر اللہ نے اسحاق اور یعقوب (پوتا)جیسی اولاد دی۔
آیت 51-53: قصہ حضرت ہارون ؑ اور حضرت موسیٰؑ۔
حضرت ہارون ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر ہے حضرت موسیٰ کوہِ طوراوررب سے گفتگو اور ہارون ؑ کو نبی بنانے کا ذکر ہے مجاہد کہتے ہیں ساتویں آسمان اور عرش کے درمیان ستر ہزار پردے ہیں اور موسیٰ کو اللہ نے اتنا قریب کیا کہ دونوں کے درمیان ایک پردہ رہ گیا۔۔۔
آیت 54-55: حضرت اسماعیل ؑ کا قصہ
حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ جو وعدے کے سچے، رب کے پسندیدہ اور رسول تھے، نمازا ور زکوۃ کاحکم دیتے ،
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہو جائیں اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی صورت میں ان کو مارو۔
آیت 56-57: حضرت ادریسؑ کا ذکر
حضرت ادریسؑ جو ایک سچے انسان اورنبی تھے اُن کا ذکر ہے
آیت 58: حضرت نوح ؑ کی کشتی اور حضرت ابراہیم ؑ کی نسل کا ذکر ہے
آیت 59: ابن ِ مسعود کہتے ہیں نماز کو ضائع کرنے سے مراد بہت تاخیر سے پڑھنا اور نماز چھوڑنا کفر ہے
آیت 60-63: جو توبہ کرکے نیک عمل کرنے لگے اُن کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنت ہے صبح وشام پہنچنے والا رزق ہے اور وہاں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے
آیت 71: تمام انسان جہنم سے گزریں گے اور پھر وہاں سے اپنے اعمال کے مطابق نکلیں گے۔
آیت 72-74: دنیا میں دولت ، مال وقوت اور دوسری نعمتیں کسی گروہ کو مل جانا حق کی دلیل نہیں
آیت 82-87: منکرین حق پر اللہ نے شیاطین چھوڑ رکھے ہیں تو یہ عذاب کے لئے بے تاب نہ ہوں وہ دن آنے والا ہے جب متقی رحمٰن کے مہمان اور مجرم پیاسے جانوروں کی طرح جہنم میں ڈالے جائیں گے اور کوئی سفارش نہ چلے گی سوائے اللہ جس کو اجازت دے
آیت 88-95: جو کہتے ہیں کہ رحمٰن نے بیٹا بنایا(یہودی اور عیسائی) قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ جائے زمین شق ہوجائے ، پہاڑ گر جائیں اور یہ سخت بیہودہ بات ہےجو یہ کہتے ہیں اور سب قیامت کے روز فردا فردا اُس کے سامنے حاضر ہوں گے۔
سورۂ طٰہٰ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
آیت 2-8
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لئے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ، یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جواللہ سے ڈرنے والا ہے۔
یہ نازل کیا گیا اُس رب کی طرف سے جو مخفی سے مخفی بات بھی جانتا ہےاُس کے لئے بہترین نام ہیں ۔
0آیت 9-96: حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی
باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی ، دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا، آپ سے ایک قبطی کا قتل ہونا لیکن اللہ کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، اللہ کی طرف سے آپ کو فرعون کے پاس جانے کا حکم
تو حضرت موسیٰ نے اللہ سے عرض کیا۔
رب اشرح لی صدری، ویسر لی امری، واحلل عقدۃً من لسانی، یفقہوا قولی۔ آیت 25-28 (یہ دعا ہمیں بھی کرنی چاہیے)
جب موسی علیہ السلام فرعون کے پاس جارہے تھے تو انہوں نے یہ دعا مانگی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ میرے لئے میرے بھائی کو میرا مددگار بنا دے۔" واجعل لی وزیرًا من اھلی" ۔آیت 29
تاکہ کام آسان ہو جائے۔
فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا اللہ کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکرا پن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طورپہاڑ سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔
آیت 44: نرم بات کرنی چاہیے
#رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو نرمی سے حصہ دیا گیا اُس کو خیر سے حصہ دیا گیااُ س کو دنیا اور آخرت سے نوازا گیا۔
آیت 100-112: حشر کے دن کے چند مناظر کا ذکر کیا گیا ہے ،قیامت کے دن صور پھونکے جانےاور لوگوں کا پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ آپس میں گفتگو کا ذکر ہے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا اس سے کچھ زائد رہے ہوں گے ،کوئی اکڑ نہ دکھا سکے گا سب رحمٰن کے آگے دب جائیں گے کوئی شفاعت کارگر نہ ہوگی سوائے رحمٰن اگر کسی کو اجازت دے ۔
آیت 114: علم میں اضافے کی دعا
رب زدنی علمًا
آیت 115-124: حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کا قصہ ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا ، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا اب یہ تمھارا اور تمھاری بیوی(اور تمام انسانوں ) کا دشمن ہے ، جنت میں رہو یہاں آرام ہی آرام ہے نہ تم بھوکے ہوتے ہو نہ ننگے ، نہ پیاسے ہوتے ہو نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتے ہو بس فلاں درخت کے قریب نہ جانا، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا کیا ، حضرت آدم و حواء علیہما السلام نے شجرِ ممنوع میں سے کچھ کھالیا ، اللہ نے انھیں جنت میں سے نکال دیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اللہ نے انھیں معاف فرمایا دیا۔
آیت 124: اللہ کے ذکر (درسِ نصیحت)سے منہ موڑنے والے کو چین نصیب نہ ہوگا اور قیامت کے روز اُسے اندھا اٹھائیں گے ۔
آیت 130: صبح(سورج طلوع ہونے سے پہلے ) و شام(سورج غروب ہونے سے پہلے) اور رات کے اوقات میں تسبیح بیان کرنے کا حکم ہے
جس نے جماعت سے فجرکی نمازپڑھی پھراللہ کے ذکرمیں مشغول رہایہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیاپھردورکعت نماز پڑھی ، تو اس کے لئےمکمل حج اور عمرے کے برابرثواب ہے۔(اشراق کے نوافل) ۔
آیت 131: اور جو شان و شوکت اور نعمتیں اللہ نے دوسرے لوگوں کو دے رکھی ہیں اُن کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھو یہ تو اُن کے لئے آزمائش ہیں
ہمیشہ دنیاوی لحاظ سے اپنے سے نیچے (نعمتوں کے اعتبار سے)لوگوں کو دیکھو اس سے شکر کا جذبہ پیدا ہوتاہے.
سولھواں پارہ کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
