Summary Para 17


 *سترھواں پارہ*
 *خلاصہ۔*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ انبیاء۔
۔ سورۂ حج ۔
سورۂ انبیاء کے اہم نکات:

آیت 1: بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور موت اور حساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے، لیکن اس ہولناک دن سے انسان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
…نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جنت تم سے تمہارے جوتوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس طرح آگ بھی

آیت 7: آپ ﷺ سے پہلے ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کے بھیجا ہے وہ کھاتے بھی تھے اور نہ ہمیشہ رہنے والے تھے

آیت 10-15: پچھلی قوموں پر عذاب اور اُن قوموں کے رویوں کا تذکرہ ہے

آیت 16: اللہ نے زمین وآسمان کو کھیل تماشا نہیں بنایا۔

آیت 19: زمین اور آسمان میں جو مخلوق ہے وہ اللہ کی ہے، اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں، وہ اللہ تعالی کی بندگی کرتے ہیں۔اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہوئے نہیں تھکتے

آیت 22-23: ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو کائنات کا نظام بگڑ جاتا
اللہ پاک ہے اور وہ عرش کا مالک ہےاوراپنے کاموں کا جواب دہ نہیں بلکہ سب اُسی کو جواب دہ ہیں۔

آیت 30: زمین اور آسمان کی پیدائش کے بارے میں بتایا گیا ہےکہ اللہ نے ہر چیز پانی سے پیدا کی ہےپہاڑ جما دئیے کشادہ راہیں بنا دی آسمان کو چھت بنا دیا رات ، دن ، سورج چاند پیدا کیاتو انکار کرنے والے نشانیوں کی طرف توجہ کیوں نہیں کرتے

آیت 34-35: کسی انسان کو ہمیشگی کے لئے پیدا نہیں کیا ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہےاور اچھے بُرے حالات تو آزمائش ہیں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز موت کو کثرت سے یاد کیا کرو

آیت 37: انسان بہت جلد باز ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔

آیت 44: خوشحالی اور سکون کا لمبا عرصہ انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہےاورانسان سمجھتا ہے سب بہت اچھا ہے

آیت 47: چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی سامنے آ جائے گا
جن نیکیوں /برائیوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں اُن کا بھی حساب ہوگا
یہ بول زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بہت بھاری ہوں گے
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ ایمان اور ثواب کی نیت سے اللہ کے راستے میں دئیے گئے گھوڑے کا کھانا پینا اور اس کا پیشاب سب کچھ اُس کے ترازو میں ہو گا

*رسالت کے ضمن میں بہت سے انبیائے کرام ؑ کا ذکر ہے:

آیت 48: حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ

آیت 51-73: حضرت ابراہیم ؑ کا اپنی قوم کورب کی طرف بلانا ، بتوں کی عبادت سے روکنے اور بتوں کوتوڑ دینے اور بدلے میں حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینک دینےکے واقعہ کا تفصیلی ذکر ہے
انہوں نے کہا: ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دو
اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم علیہ السلام پر۔

آیت 71 & 74: حضرت لوط ؑ کی قوم فاسق تھی (ہم جنس پرست)اِن پر اللہ کا عذاب اور حضرت لوطؑ صالح انسان تھے

آیت 72: اللہ نےحضرت ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ(پوتا) عطا کئے

آیت 76-77: نوح ؑ کی دعا کا قبول ہونا
تکلیف اور کرب میں پڑھنے والے یہ کلمات رسول اللہ ﷺ نے سکھائے ہیں
اللہ اللہ ربی لا اشرک به شیئاً
دوسری دعا:
لا اله الا اللہ العظیم الحلیم، لا اله الا اللہ رب العرش العظیم، لا اله الا اللہ رب السمٰوٰت، ورب الارض، ورب العرش الکریم۔

آیت 78-82: سلیمان ؑ اور داؤد ؑکا واقعہ.
کچھ بکریاں کھیت میں گھس گئیں تھی اور کھیت کو اجاڑ دیا تھا، وہ دونوں اس مقدمے پر فیصلہ کر رہے تھے۔
داؤد علیہ السلام نے کہا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں
اور سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ بکریاں کھیت والے کو دے دی جائیں لیکن اس وقت تک جب تک کھیت دوبارہ اسی پوزیشن پر نہ آجائے، کھیت والا بھی بکریوں سے جب تک فائدہ اٹھالے گا، پھر جب اسکا کھیت درست ہوجائے تو پھر اسکی بکریاں، بکریوں والوں کو لوٹادی جائیں
اور داؤدؑ کے لئے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیاتھا اور زرہ (لوہا ) بنا نے کی صنعت سکھا دی تھی اور سلیمانؑ کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا تھا اور بہت سے شیاطین کو ان کاتابع کر دیا تھا 

آیت 83: بیماری سے حضرت ایوب ؑ کی آزمائش
ان کو یہ بیماری 18 سال تک رہی تھی
ایوب علیہ السلام نے پھر یہ دعا کی(بیماری کی حالت میں پڑھنے کی دعا)
رب اَنی مسنی الضر وانت اَرحم الرحمین 
اللہ تعالیٰ نے انکی دعا قبول کی اور انکی تکلیف کو دور کردیا
حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی جس سے محبت کرتے ہیں اسے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں
بیماری سے بچنے کی دعا 
اللہ تعالیٰ جس شخص سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے 

آیت 85-86: حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت ادریس ؑ، حضرت ذی الکفل ؑ کی صابر اور صالح ہونے  کی صفت بیان کی گئی ہے 

آیت 87-88: حضرت یونس ؑ ، دعا اور نجات
نبی اکرم ﷺ نے فرما یا جو شخص کسی مصیبت میں ان الفاظ کے ساتھ رب کے سامنے دعا کرتا ہے تو اللہ وہ دعا ضرور سنتا اور قبول کرتا ہے 
لا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین (یہی حضرت یونس ؑ کی دعا تھی)آیت 89: 
حضرت زکریاؑ کی اولاد کے لئے دعا اور قبولیت 
رب لا تذرنی فرداً وانت خیر الوارثین
اور انہیں ایک وارث یحییٰ علیہ السلام عطا کئے۔

آیت 91: حضرت مریم کی پا کیزگی اور حضرت عیسیٰؑ کے عطا ہونے کا ذکر جو لوگوں کے لئے نشانی ہے۔

آیت 96-98: نیز قربِ قیامت میں یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ بلندی سے اتر رہے ہوں گے،نیز مشرکین اور ان کے اصنام قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے

آیت 107: نبی اکرم ﷺ کو دنیا کے لئے رحمت بنا 
کر بھیجا ہے۔
 
*سورۃ حج مکمل*
سورۂ حج کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

آیت 1: اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہےجب یہ آئے گا تو حاملہ کا حمل گر جائے گا اور دودھ پلانے والی بچے کی ماں دودھ پینے والے بچے سے غافل ہو جائے گی

آیت 4: دوست (لیڈر) کا انتخاب سوچ سمجھ کے کریں۔ 
اللہ کے نبی نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے  ہر آدمی یہ ضرور دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔ 

آیت 5: تخلیق انسان کے سات مراحل
(۱)مٹی (۲)منی (۳)خون کا لوتھڑا (۴)بوٹی (۵)بچہ (۶)جوان (۷)بوڑھا

آیت 8-9: تکبر کرنے والے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے

آیت 11: جو لوگ دنیاوی فائدے کے لئے  عبادت اور مشکل وقت میں پھر جاتے ہیں یہی لوگ خسارے میں ہیں 

آیت 17:  چھ مذاہب کا ذکر ہے
مسلمان ، یہودی ، صابی(ستارہ پرست) ، عیسائی ، مجوسی (سورج ، چاند اور آگ کا پجاری) ، مشرک(بت پرست)
ان کے درمیان اللہ آخرت میں  فیصلہ کردے گا ۔
No Religion acceptable to Allah other than Islam that’s why no religion greater than Islam.

آیت 18: اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل سجدوں کی کثرت ہے  ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے (سوائے جسے اللہ ذلیل و خوار کردے )
آپﷺ نے فرمایا تم پہ سب سے پہلے سجدہ لازم ہے اس کے ذریعے اللہ ایک درجہ بڑھا دیتا ہے اور ایک خطا معاف کر دیتا ہے. 

آیت 20: دوزخیوں پر عذاب کا ذکر۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب دوزخیوں کے سر پر گرم پانی ڈالا جائے گا تو گرم پانی پیٹ تک پہنچے گا اورپھر یہ پانی انگلیوں سے نکل آئے گا۔

آیت 23: جنتی لوگوں کا ذکر۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا
ان کے لئے سونے کے کنگن ہیں اور ریشم کا لباس ہے 
دنیا میں سونے اور ریشم کی مردوں کے لئے ممانعت ہے 

آیت 26-28: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان حج۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام نے جبل ابی قیس پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان کیا تھا ، یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا تھا۔
حضرت ابراہیمؑ کو خانہ کعبہ کی جگہ تجویز کی اس ہدایت کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرواور میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، قیام ورکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔
ایک عورت مسجد میں جھاڑو دیتی تھی ایک دن نظر نہ آئی آپ ﷺ کو اُس کی وفات کا پتا چلا تو آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے اُ س کی قبر پہ لے جاؤ اور آپ ﷺ نے نمازجنازہ پڑھی
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج اور عمرہ کیا کرو یہ فقرو فاقہ کو دور کرتاہے(مفہومِ حدیث)

آیت 34&37: ہر اُمت کے لئے قربانی کا ایک قائدہ مقرر کر دیاگیا ہے کہ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں ، ان جانوروں کا نہ تو گوشت اللہ کو پہنچتا ہے اور نہ ہی خون صرف اللہ کو ہمارا تقوی پہنچتا ہے۔

آیت 35: مؤمنوں کی چار صفات بیان کی گئی ہیں
 (۱)اللہ کا خوف ، (۲)مصائب پر صبر ، (۳)نماز کی پابندی ، (۴)نیک مصارف میں خرچ کرنا

آیت 39-40: یہ قتال ِ فی سبیل اللہ کے بارے میں اولین آیات ہیں جس میں صرف اُن لوگوں کو قتال کی  اجازت دی گئی ہے جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے   بعد میں سورۃ بقرہ کی آیت 190 تا 193 ، 216، 244، جن میں جنگ کا حکم(فرض) دے دیا گیا اللہ ان کی مدد ضرور کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ یعنی اس کے دین میں مددگار ہوں گے۔

آیت 41: آج بھی اگراللہ تعالیٰ کسی کو اقتدار دے تو اُسے یہ کام ضرور کرنے چاہییں
نماز قائم کرنی چاہیے،زکوۃ دینی چاہیے، نیکی کا حکم اور بُرانی سے روکنا چاہیے۔

آیت 42-45: نبی اکرمﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر آپ کو یہ جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے  انبیا ء کو جھٹلایا جا  چکاہے تو  پہلے اللہ نے انہیں مہلت دی پھر پکڑ لیا۔

آیت 58-59: جن لوگوں نے ہجرت کی ، جہاد کیا اور مارے گئے تو اللہ انہیں اچھا  رزق عطا کرے گا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے

آیت 60: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مظلوم کی بددعا سے بچوکیونکہ وہ بادلوں پر اٹھتی ہے  اللہ تعالیٰ فرماتےہیں کہ مجھے میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری مدد کروں گا اگر چہ تھوڑی دیر بعد ہی کیوں نہ ہو۔

آیت 65: اللہ تعالی ٰ نےجو کچھ زمین میں ہے سب کچھ  انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے جیسے کشتی جو سمندر میں چلتی ہے اور آسمان جو زمین پرگرنے نہیں دیا جاتا اور اسی نے زندگی دی، وہی موت دے گا اور وہ انسانوں پر بڑا رحیم ہے 

آیت67- 68: تم اپنے رب کی طرف دعوت دو اور اگر کوئی جھگڑے تو اُسے یہ کہہ دو”جو تم کر رہے ہو اللہ اُسے جانتا ہے “

آیت 70: ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور سب کچھ کتا ب میں درج ہے  (تقدیر)

آیت 73-74: جن معبودوں کی تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی پیدا نہیں کر سکتےبلکہ اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اُس سے واپس بھی نہیں لے سکتےلوگوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی  جیسا کہ اس کو پہچاننے کا حق ہے ۔

آیت77-78:  ایمان والوں کو اللہ کا حکم۔
 رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو اسی سے تم کو فلاح حاصل ہوگی اللہ کے راستے میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے قائم ہو جاؤ ابراہیم کی ملت پر  ، اللہ نے تمہار انام مسلم رکھا ہے پس نماز قائم کرو ، زکوۃ دو ، اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ بہت اچھا مولا اور مدد گار ہے.
سورة حج سترھویں پارے کا خلاصہ مکلمل ہوا۔

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form