Summary Para 25


 *پچیسواں پارہ*
 *خلاصہ۔*
*اس پارے میں کل پانچ حصے ہیں:*
*سورۂ حم السجدة*(بقیہ حصہ)
*سورۂ شوری*ٰ(مکمل)
*سورۂ زخرف* (مکمل)
*سورۂ دخان*(مکمل)
*سورۂ جا ثیہ*(مکمل)

حم السجدة کے بقیہ حصے میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ جیسے قیامت کا علم، شگوفے میں کیا ہے؟اس کا علم،حمل میں کیا ہے اور وضع حمل کب ہوگا ان تمام باتوں کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔


*_ سورۂ شوریٰ میں کئی باتیں ہیں:*

اللہ تعالیٰ تمام خزانوں کا مالک ہے
*له مقاليد السموات والارض يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر*
 اللہ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں بارش کا نزول، آسمان و زمین کی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، سمندر کی پیٹھ پر کشتیوں کا چلانا وغیرہ
اولاد دینے کی طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جسے چاہے صرف لڑکی دے جسے چاہے لڑکا دے جسے چاہے دونوں دے اور جسے چاہے بانجھ کر دے
*_ سورۂ زخرف میں بھی کئی باتوں کا بیان ہے:*

گز شتہ اقوام کی اپنے آباؤاجداد کی تقلید اوراپنے نبی کی تکذیب
 موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ
جنتیوں اور جہنمیوں کا بیان کہ یہ دونوں اپنے اپنے ٹھکانے میں کیسے زندگی گزار رہے ہوں گے۔

*_ سورۂ دخان میں کئی باتیں ہیں:*

 قرآن​ مجید کے نزول کا بیان
شب قدر کا تذکرہ کہ اس میں تمام مضبوط امر کافیصلہ ہوتا ہے۔
اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کہ نبوت کی نشانی دیکھنے کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے
اور کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا مجنون ہے۔
شجرة الزقوم کا بیان کہ یہ مجرموں کھانا ہوگا​۔

 *_ سورۂ جاثیہ میں بھی بہت سی باتیں ہیں:*

اللہ کی نشانیوں کا تذکرہ ہے کہ آسمان و زمین، انسان، جانور، رات ودن کا آنا جانا، بارش کا نزول اور ہواؤں کا چلنا اللہ کے قدرتِ​ کاملہ کی نشانی ہے۔
اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے والے قیامت کے دن فراموش کر دیے جائیں گے اور اللہ ان پر کوئی توجہ نہیں دے گا۔
 *پچیسویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form