*سلسلہ نصیحت و اصلاح*
*اے اللہ کے بندے اور بندیوں، تم سب نے رمضان المبارک میں بہت محنت سے سوت cotton سے دھاگہ تو بنا لیا لیکن اب اسے تار تار کبھی بھی نہ کرنا*.
خدارا اس بات پر خوب غور کریں.
کیا ہمارا ربّ ہمیں صرف خاص کسی ایک مہینے میں رزق دے کر باقی مہینوں میں ہمیں رزق دینا چھوڑ دیتا ہے؟
کیا وہ ذات ہمیں صرف خاص کسی ایک مہینے میں رہائش کی سہولت دے کر پھر 11 مہینوں کے لئیے ویران جنگل میں چھوڑ دیتا ہے؟
کیا ہمارا خالق مالک ہمیں صرف خاص کسی ایک مہینے میں صحت دے کر باقی 11 مہینوں میں مکمل طور پر معذور کر دیتا ہے؟
کیا ہمارا اللہ ہمیں صرف کسی خاص ایک مہینے میں زبان سے بولنے،آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کی طاقت اور نعمت دے کر باقی 11 مہینوں میں مکمل طور پر ان نعمتوں سے محروم کر دیتا ہے؟
*ہرگز ایسا نہیں!*۔
لہذا خوب سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ کہیں ہم اب کہیں رمضان المبارک کے مہینے کے بعد، اس عورت کی طرح نہ ہو جائیں جسکے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے کہ
*وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا*.
(سورة النحل آیت 92)
ترجمہ:-
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جانا جس نے اپنا سوت مضبوطی سے کاتنے(یعنی روئی سے دھاگہ بنانے) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ ڈالا۔
(اور خود ہی اپنی ساری محنت ضائع کر دی)۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک ایسی عورت کی مثال دیتے ہیں جس نے بڑی محنت سے دھاگہ بنایا اور اسے مضبوط بھی کر دیا،لیکن پھر بعد میں اپنی محنت پر پانی پھیر دیا اور وہ دھاگہ جو اُس نے اتنی محنت سے بنایا تھا، پھر اسے کاٹ کر اور توڑ کر اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے.
*ہم میں سے اکثر مسلمانوں نے ابھی ابھی چند دن پہلے رمضان المبارک میں کافی عبادات کیں، برے کاموں سے بھی دور رہے ہوں گے، اللہ تعالی کو جو اعمال پسند تھے وہ بھی کیے. لیکن اب اصل کرنے کا کام یہی ہے کہ رمضان المبارک کے بعد اپنی پرانی بری عادتوں پر یا گناہ کے کاموں پر لوٹ کر اپنی اس نیک اعمال کی محنت کو کبھی بھی ضائع نہ کریں*.
یہ ہمارے لئیے بہت افسوس کی بات ہے کہ صرف ایک مہینے کے لئیے خوب تلاوت کی لیکن اب قرآن کا نام بھی نہیں لیتے.
زبان کو خوب کنٹرول میں رکھا تھا لیکن اب غیبت، گالی گلوچ،جھوٹ دھوکہ دہی اور بدزبانی سے باز ہی نہیں آتے.
اپنی نگاہوں کی ایک مہینہ تک حفاظت کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن اب نگاہوں کی حفاظت کی پروا ہی نہیں،بلکہ آنکھوں کی زنا میں پھر سے مبتلا ہو گئے ہیں۔
حرام رزق سے اپنے آپکو بچائے رکھا لیکن اب حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں رکھتے۔
قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ارشاد ہے
*مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَـةِ فَلَـهٝ عَشْـرُ اَمْثَالِـهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَـةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَـهَا وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ.*
(سورہ انعام)
ترجمہ:-
جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا تو اس کو صرف ایک بدی کی سزا دی جائے گی اور ان پر کوئی ظلم نہیں ھو گا۔
یہاں اس آیت میں صاف طور پر ارشاد ہے کہ *نیکی لے کر آو گے تو مکمل اجر ملے گا*.
یعنی نیکی کرنے کے بعد اب اسے محفوظ رکھ کر اسی نیکی کو اپنے ساتھ اللہ کے حضور لے جانا یے، ایسا نہیں کہ ہم قصداً گناہ کرتے کرتے بغیر توبہ کے مر کر ان نیکیوں کو یہیں ضائع کر دیں کہ رمضان المبارک کے ایک مہینہ میں تو خوب تقوی اختیار کیا اور اسکے گذرتے ہی پھر سے اعمال بد میں مبتلا ہو گئے.
سورہ انعام کی اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ محنت کر کے جب نیکیاں کر لیں تو اب نیکیوں میں مزید اور بھی ترقی کرتے جائیں. ماحول سے یا نفسانی خواہشات سے متاثر ہو کر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر کے پھر ندامت اور پشیمانی کے بغیر ہی دنیا سے چلے جانا اپنی نیکیوں کو ضائع کرنا ہے.
*لہذا مکمل طور پر کوشش کریں کہ ہر قسم کے گناہ کبیرہ سے دور رہیں. دل میں بغض کینہ حسد نہ رکھیں، غیبت سے بچتے رہیں، تیز مزاجی اور بداخلاقی کی اصلاح کریں، رزق حلال کو ترجیح دیں رزق حرام سے دور رہیں، اگر کسی کا حق آپکے ذمے ہو تو حقدار کو اپنا حق دیں، قرآن پاک کی تلاوت روزانہ جاری رکھیں خواہ تھوڑی ہی ہو، اور پانچ وقت نماز خصوصاً نماز فجر کی ضرور پابندی کریں سُستی غفلت سے کبھی بھی کام نہ لیں*.
اللہ تعالٰی سوچنے سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے.آمین.
Tags
Hadith
