Advice series 02

*سلسلہ نصیحت و اصلاح*

*نیک اعمال کرنے اور گناہ سے دور رہنے پر کسی بھی انسان سے کوئی بھی سمجھوتہ Compromise نہ کریں، کہ آپ کسی انسان کو خوش کرنے کے لئیے نیک اعمال سے دور رہیں اور گناہ کا کوئی کام کریں، ایسا ہرگز نہ کریں*

اپنے نیک اعمال اپنی شرافت ایماندری اور دینی اصول پسندی
پر ماحول اور آزاد خیال معاشرے کے لوگوں سے کوئی سمجھوتہ Compromise نہ کریں کہ آپ بھی اُن جیسے بن کر حلال حرام، گُناہ ثواب، جائز ناجائز کی تمیز چھوڑ کر جو بھی دل میں آئے وہ کریں، *ایسا مزاج ہرگز نہ بنائیں۔* بلکہ اعلی اخلاق اپنا کر اپنے اللہ کی رضامندی کا خیال ہر جگہ اور ہر وقت رکھ کر ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نیک اعمال اور شرعی احکام پر عمل کر کے مزید ترقی کرتے جائیں۔کسی بھی آزاد خیال انسان سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں آپ کبھی بھی *اپنی دینداری، حیاء اور نیک اعمال پر احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔*
جب نفس و شیطان آپکو خوب کھینچ کھینچ کر گُناہوں پر آمادہ کر رہا ہوتا ہے ۔آپکے دوست یا رشتہ دار آپکو کسی گُناہ کی دعوت دیتے ہیں اور آپ اللہ کی رضا کی خاطر گُناہوں سے دُور رہتے ہیں نفس و شیطان کی باتوں کو ٹھکرا دیتے ہیں۔لوگ آپکی دینداری شرافت ایمانداری کیوجہ سے آپکو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں معاشرے میں مختلف موقعوں پر آپکو کوئی خاص توجہ نہیں دے رہا ہوتا اکثر آزاد خیال لوگ آپ کی دینداری اور دینی اصول پسندی کیوجہ سے آپ کو چھوڑ دیتے ہیں جگہ جگہ آپ کو رکاؤٹیں پیش آتی ہیں لیکن آپ پھر بھی صرف اپنے پیارے الله کی رضا کی خاطر اور روزِ قیامت میں الله تعالی کے رُوبرو حساب کتاب کے خوف سے اپنی دینداری اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ *آپ سے اپنے اعمال نامہ میں گُناہوں کا انبار برداشت نہیں ہوتا تو آخرت میں اللہ تعالی آپ کو کیا انعام دیں گے؟؟*۔

 سورہ اَلحاقہ کے اِن آیات پر غور کریں

*فَاَمَّا مَنْ اُوْتِـىَ كِتَابَهٝ بِيَمِيْنِهٖ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتَابِي*۔
جس شخص کا اعمال نامہ اسکے داہنے ہاتھ میں دیا جائیگا وہ تو
(خوشی کے مارے آس پاس والوں سے) کہے گا کہ میرا اعمال نامہ پڑھ لو۔

*اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ*۔
میرا(تو پہلے ہی سے) یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب کا سامنا کرنا ہو گا۔

(یعنی مجھے روزِ قیامت اور حساب کتاب کا یقین تھا کہ مجھے اپنی دینداری تقوی اور ایمانداری کیوجہ سے اللہ کامیاب فرمائے گا تو دنیا میں دینداری ایمانداری کی خاطر مُشقت برداشت کرنا اسی روز قیامت کی کامیابی کے لئیے ہی تھا)

*فَهُوَ فِىْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ※ فِىْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ※ قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ*۔

غرض وہ شخص من پسند عیش میں ھو گا۔اُس اونچی جنت میں جسکے پھل جھکے پڑ رھے ہوں گے۔

(کہ جس حالت میں چاہیں گے لے سکیں گے اور اسے کہا جائیگا کہ)

*كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيٓـئًا بِمَا اَسْلَفْتُـمْ فِى الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ*۔

اپنے اُن اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو جو تم نے گذرے ھوئے دنوں(یعنی دنیا) میں کئیے تھے۔

اللہ تعالی ہمیں دینی احکامات پر ثابت قدم رکھ کر اپنی رضا نصیب فرمائے۔آمین*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form