۔۔۔ *صدقةالفطر*۔۔۔
*صدقہ فطر کے مسائل*
۔۔۔ *صدقہ فطر فرض ہے*
۔۔۔ *صدقہ فطر کا مقصد روزے کی حالت میں سر زد ہونے والے گناہوں سے خود کو پاک کرنا ہے*
۔۔۔ *صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا*
۔۔۔ *صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں*
حضرت ابن عباسؓ اللہ سے روایت ہے کہ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے فرمایا صدقہ فطر، روزے دار کو بیہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لیے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض ہےجس نےعیدکی نماز سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ فطر ادا ہو گیا اور جس نے عید کی نماز کے بعد ادا کیا اس کا صدقہ فطر عام صدقہ شمارہو گا
(سنن ابن ماجہ 1480 )
*صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے، جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے*
*صدقہ فطر ہر مسلمان، غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹا، بڑا، روزہ دار ہو یا غیر روزہ دار، صاحب نصاب ہو یا نہ ہو سب پر فرض ہے*
حضرت ابن عمرؓ اللہ سے روایت ہے کہ آپﷺ اللہ نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جٙو،غلام، آزاد مردعورت ،چھوٹےبڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے
(متفق علیہ)
۔۔۔۔۔۔ *وضاحت*۔۔۔۔۔۔
۔۔جس شخص کے پاس ایک دن کی خوراک میسر نہ ہو وہ صدقہ فطر ادا کرنے سے مستثنیٰ ہے
{یعنی وہ نہ دے}
*صدقہ فطر غلہ کی صورت میں دینا افضل ہے*
گیہوں، چاول، جو، منقہ یا پنیر میں سے جو چیز۔۔زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے
حضرت ابو سعیدؓاللہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقہِ فطر ایک صاع غلہ یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع منقہ دیا کرتے تھے
(متفقہ علیہ )
لولو والمرجان رقم الحدیث 572
*صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا یے لیکن عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کیا جا سکتا ہے*
*صدقہ فطر گھر کے سر پرست کو گھر کے تمام افراد بیوی بچوں اور ملازمین کی طرف سے ادا کرنا چاہیے*
حضرت نافعؓ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتےاور عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے دیتے تھے۔
(رواہ البخاری )
باب صدقة الفطر
۔۔۔۔ *صٙدقةُالفطر*۔۔۔۔۔
Tags
Issues
